The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 59 2nd Last
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 59 2nd Last
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 59 Second Last
” میری بیٹی تھی پندرہ سال کی۔ بہت پیاری ، بہت خوبصورت ۔ تمہاری طرح ہی تھی لیکن وہ شکار بنی تھی۔ پہلے اسے دھوکے سے اپنا اعتماد دلایا ۔ پھر اس کا ریپ کیا، ایک بار نہیں ۔۔۔ دن میں کئی کئی بار۔ ایک مرد نہیں، اس جیسے بہت سے مردوں نے کیا اور پھر اس کی ویڈیو بنائی گئی۔ انٹرنیٹ کے اس سیاہ دنیا میں اپلوڈ ہوئی جہاں انسانی کاروبار ہوتا ہے۔ اس کے جسم کے ہر حصے کو کاٹ کاٹ کے لائیو کھایا ان ۔۔۔۔۔۔ سب نے ۔ ”
زرناب درانی کہہ رہی تھی جبکہ اکاسمہ کو محسوس ہوا کہ وہ قے کر دے گی۔ اس نے بمشکل خود کو قے کرنے سے روکا۔ زرناب درانی کی سرخ آنکھیں اس پہ تھی۔جن میں نفرت تھی ، غصہ تھا ۔ اکاسمہ نے اپنے وجود میں کپکپاہٹ سی محسوس کی ۔
” جانتی ہو کہ شکاری کون تھا ؟؟ “
اکاسمہ بنا کچھ کہے اسے دیکھ رہی تھی۔
” فیاض حیات، وجدان ملک، شازم خان اور فاروقی ۔۔۔۔ ”
زرناب درانی نے نفرت سے یہ تمام نام لیے اور اکاسمہ کی آنکھوں میں حیرت در آئی ۔ اس نے آہستگی سے نفی میں سر ہلایا ۔
” ب۔۔۔۔بابا ؟؟؟ م۔۔۔ میرے بابا اس قدر سفاک نہیں ہو سکتے۔ تم جھوٹ بول رہی ہو ”
اکاسمہ نے اسے گھورتے ہوئے غصے سے جواب دیا جبکہ زرناب کی آنکھوں میں نفرت کے شعلے دہکے۔
” تم سب اسی باپ کے بچے ہو جو دوسروں کے بچیوں کی عزت پامال کرتے ہیں ۔ اور سب کے سامنے شرافت کا چولہ پہن کے شرفاء کی لسٹ میں آتے ہیں ۔ یہ دیکھو “
ایک ویڈیو چلنے لگی جو نہ جانے کب کی تھی لیکن واقعی وہاں وہ سب شرفاء بیٹھے ہوئے تھے۔ہنس رہے تھے۔ مستی کر رہے تھے۔شراب پی رہے تھے اور وہاں ، اس سے بھی چھوٹی عمر کی لڑکیاں تھیں جو نیم برہنہ تھی اور ان کی دسترس میں تھی۔
اکاسمہ ساکت بھیگی آنکھوں سے وہ سب دیکھ رہی تھی۔ فیاض حیات، جو ہمیشہ سے اس کے لئے قابلِ احترام تھے۔ جسے وہ بابا کہتی تھی۔ جو اس کے لئے inspiration تھا۔ اج اپنے اسی بابا کو وہ ذلالت کی پستی میں دیکھ رہی تھی۔
” اور اب ۔۔۔۔ ”
زرناب درانی نے قریب آ کے ، اس کے بالوں کی لٹوں کو پیچھے کیا۔
” اسی بابا کی بیٹی، قربانی دے گی۔ اپنے باپ کے لیے تمام گناہوں کی قربانی ۔ لائیو ۔۔۔۔ جسے دنیا دیکھے گی۔”
اکاسمہ کو کچھ محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا۔وہ بھیگی آنکھوں سے اس ویڈیو کو دیکھ رہی تھی جہاں فیاض حیات کی حقیقت موجود تھی۔
” لائیو ویڈیو اوپن کرو ”
زرناب درانی نے حکم دیا ۔ کیمرہ آن ہوا جہاں سے اکاسمہ کو لائیو دکھایا جارہا تھا۔
” تو ۔۔۔۔ سوالات کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ یہ جو لڑکی نظر آ رہی ہے ۔اس کا نام اکاسمہ حیات۔ شیطان الشیطان کی بیٹی ۔۔۔۔۔۔ ”
وہ قہقہہ لگانے لگی۔
” آج اس کی قربانی کا لمحہ آ پہنچا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کہاں سے شروع کریں ؟؟؟ اس کا لائیو ریپ دیکھنا چاہے گیں ؟؟ اس کی لائیو نیوڈز ؟؟ یا پھر اس کو کٹتا ہوا ؟؟ امممم اس کو زندہ کاٹ کاٹ کے کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے یا پھر ۔۔۔۔ ”
اس نے اپنے لمبے ناخن اکاسمہ کے چہرے پہ پھیرے۔
” ہر طرح سے انجوائے کرایا جائے ؟؟؟ ریپ سے لے کے کٹنے تک کا سفر ۔۔۔۔کبھی بھائی اور بہن کا وہ لمحہ دیکھا ہے جس میں شیطان غالب آ جاتا ہے دونوں کے بیچ ۔۔۔ اور پھر وہیں بھائی، بہن ایک دوسرے کے ساتھ وحشیوں کی طرح چمٹ جاتے ہیں ۔۔۔ان کے بیچ کی شرم و حیا ختم ہو جاتی ہے ”
زرناب کہتے ہوئے سامنے دیکھنے لگی ۔
” چلو چھوڑو ۔۔۔۔ تمہیں کوئی اور عیش کرواتی ہوں ۔۔۔ابھی بہت لمبی رات ہے اور بلکل ویسے ہی وقت بھی بہت ہیں ۔ ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیاض حیات لائیو شو دیکھ رہے تھے۔ اپنی بیٹی کو اس کرسی پہ بندھے دیکھ کے، ان کا پورا وجود دہل گیا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں دوسری لڑکیوں کو ایسے ہی بٹھا کے، ان سے زندگی اور موت کا کھیل جاتا تھا آج وہیں، اسی جگہ ان کی بیٹی تھی ۔ اس کا پورا جسم کانپنے لگا ۔ اس نے تیزی سے موبائل اٹھایا اور کانپتے ہوئے حکان کو کال کرنے لگا۔
“ہیلو ۔۔۔ ہیلو حکان میری بیٹی کو بچالو۔۔۔۔ میری بیٹی ۔۔۔۔ان کے قبضے میں ہیں ۔۔۔۔وہ لائیو آئے ہیں ۔۔میری بیٹی کو وہ زندہ کاٹ دے گیں ۔ میری بچی کو بچاؤ ۔۔۔ “
حکان نے تیزی سے موبائل پہ لائیو شو کے لنک پہ کلک کیا اور اس کا وجود ساکت ہو گیا۔ اس کی بیوی، اس کی محبت، اس شیطانی عورت کے قبضے میں تھی جو اس شیطانی دنیا پہ قابض تھی۔
” لیپ ٹاپ آن کرو جلدی ۔ ۔ ہمیں اس جگہ کو ہیک کرنا ہے ۔”
حکان نے کانپتی آواز میں کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” زرناب درانی مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم کیا کرنا چاہتی ہو میرے ساتھ ۔ یہ لائیو چل رہا ہے تو اچھا ہے کہ میرے باپ کو بھی یہ احساس ہو کہ دوسروں کی بیٹیوں سے کھیلنے والے کی اپنی بیٹی کے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے لیکن ۔۔۔۔ میرے وجود میں ایک ننھا سا وجود پل رہا ہے جو میرے ہی وجود کا حصہ ہے ۔۔ اگر تمہارے دل میں اب بھی ایک ماں کا دل ہے جو اپنی بیٹی کے ساتھ ہوئی زیادتی پہ تڑپ رہا ہے تو تم سے میری ریکوئسٹ ہے کہ پلیز میرے بچے کو کچھ نہ ہو ۔۔۔۔ مجھ سے میرے ماں کہلانے کا حق مت چھینو پلیز ”
اکاسمہ کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے ۔ جبکہ لیپ ٹاپ پہ چلتی حکان ملک کی انگلیاں ایک لمحے کے لئے کانپ گئی۔ اس کی اکاسمہ پریگننٹ تھی ۔ اس کے وجود میں ایک ننھا سا وجود پنپ رہا تھا جو ان دونوں کے محبت کی نشانی تھی۔ اس کے آنسو بہنے لگے ۔ وہ اکاسمہ کو بچا لے گا ان سے۔
زرناب رک کے اکاسمہ کو دیکھنے لگی ۔
“تم جھوٹ بول رہی ہو۔ اپنے باپ کی طرح جھوٹی ہو “
” اگر تم نے میرے متعلق سرچ کیا ہے، معلومات اکھٹی کی ہیں تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں کیسی انسان ہوں ۔ میں جھوٹ نہیں بول سکتی کبھی بھی۔ مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا لیکن میں ۔۔۔۔ اس ننھے وجود کو کھونا نہیں چاہتی ۔
تم جانتی ہو کہ میں وکیل ہوں۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں تمہیں انصاف دلاؤں گی زرناب درانی ۔ ”
اسکی بات پہ زرناب درانی پاگلوں کی طرح ہنسنے لگی ۔
” انصاف ۔۔۔۔۔ ؟؟؟ انصاف آج تک ملا ہی کس کو ہے ؟؟ میتی بیٹی کو ملا ؟؟؟ کسی کی بھی بیٹی کو ملا ؟؟ نہ اس ملک میں ایسا کوئی قانون ہے اور نہ پوری دنیا میں ۔۔۔۔ کچھ دیکھنا چاہو گی ؟؟”
آخر میں زرناب اپنی شیطانی آنکھوں سے اسے دیکھتی، رازدارانہ انداز میں اکاسمہ کے قریب ہوئی۔ اکاسمہ کی سپاٹ نظریں اس پہ تھی ۔۔۔ زرناب نے ایک ہاتھ کے اشارے سے، اپنے ماتحت کو متوجہ کرایا اور پھر چاروں طرف مزید لائٹس آن ہوئی۔ اکاسمہ کی آنکھیں حیرت سے باہر نکل آئی ۔ اسے لگا جیسے وہ مزید سانس نہیں لے پائے گی۔
وہاں انسانی ڈھانچوں، آدھی اتری ہوئی انسانی جسم سے، اس کی کھال۔۔۔ خون میں لت پت، نیم جان وجود۔۔ بچوں سے لے کے، جوان تک ۔ اس اچانک قے آئی جسے نگلنے کی کوشش میں وہ کھانسنے لگی ۔ زرناب اسے دیکھ رہی تھی ۔ جھک کے، اس کے پیٹ پہ ہاتھ پھیرا۔
” مجھے پسند ہے وہ ننھے وجود، جنہوں نے ابھی ماں کے پیٹ میں ٹھیک سے جگہ بھی نہیں بنائی۔ ”
اکاسمہ اس کے الفاظ سے اندر تک کانپ گئی۔ یہ کیسی دنیا تھی ؟؟ یہ کیسے لوگ تھے ؟؟ کن شیطانوں کے بیچ تھی وہ اس وقت؟؟
” شیطان کو خوش کرنے کے لئے، انہی ننھے بچوں کی گردن کاٹ کے، قربانی دی جاتی ہے اس سیاہ دنیا میں ۔۔۔ ”
اکاسمہ نے نفرت سے، اسے دیکھتے ہوئے خود کو جھٹکا دیا تا کہ خود کو آزاد کرا سکے لیکن بےسود۔ وہ زرناب کو دیکھتی نفرت سے پھنکاری۔
” کیا فرق ہے تم میں اور فیاض حیات میں ؟؟ اگر فیاض حیات، وجدان ملک، شازم خان یا اس جیسے بہت سے شیطان، جو اس دنیا میں سیاہ کاروبار کرتے ہیں ۔۔۔ جو عیاشی کرتے ہیں۔۔ لڑکیوں کو اپنی عیاشی کی سولی چڑھاتے ہیں تو تم کیا کرتی ہو زرناب درانی ؟؟ شیطان پرست ہی ہو تم سب ۔۔۔ ایک ہی لائن میں کھڑے ہو سب ۔۔۔
اگر وہ سب، لڑکیوں کی خرید وفروخت کرتے ہیں۔۔۔ زنا کرتے ہیں ۔۔۔ ڈارک ویب پہ تمام گندگیوں کو اپلوڈ کرتے ہیں ۔ لڑکیوں کے جسم سے کھیلتے ہیں تو تم کیا کرتی ہو زرناب درانی ؟؟ اپنی بیٹی کا بدلہ تم ان سب سے نہیں لے رہی بلکہ ہر اس لڑکی سے لے رہی ہو جو تمہاری بیٹی کے عمر میں ہیں یا چھوٹی ہے ۔۔۔
وہ شیطان پرست ہیں تو تم ژندہ شیطان ہو۔
وہ انسانی گوشت کھاتے ہیں تو تم بھی انسانی گوشت ہی کھاتی ہو ۔
وہ جوان لڑکے اور لڑکیوں کا جسم نوچتے ہیں تو تم بھی ان کی روح کھینچتی ہو۔۔۔
تم سب ایک جیسے ناسور ہو ۔ ۔۔۔ ”
” بکواس بند کرو ”
زرناب نے زور سے، اس کے چہرے پہ تھپڑ مارا کہ اکاسمہ کی روح کانپ گئی لیکن گہرا سانس لیتی وہ پھر سے زرناب درانی کو دیکھنے لگی۔
” میں شیطانوں سے نہیں ڈرتی زرناب درانی ”
” اب ڈرو گی۔۔۔ ”
زرناب نے کہتے ہوئے، اس کے پیٹ پہ ہاتھ رکھا ۔ اکاسمہ نے کانپتی آنکھوں سے اسے دیکھا جبکہ وہ شیطانی مسکراہٹ سجائے اکاسمہ کے مزید قریب ہوئی۔
” تمہارا یہ بچہ، اب میرا ہے اکاسمہ حکان ملک ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” زرناب، ہمارے نیٹ ورک کو ہیک کر لیا گیا ہے ”
زرناب کے ہاتھ اکاسمہ کے پیٹ پہ رک گئے جب قاسم کی آواز ابھری۔ وہ مسکرانے لگی ۔
” ضرور اکاسمہ کا وہی پاگل عاشق ہی ہوگا۔ آنے دو اسے بھی۔ اب مزہ آئے گا ”
اکاسمہ کے کان کی لو پہ سرگوشی کی اور پھر اپنا ہاتھ، اکاسمہ کے سر پہ رکھا۔ آنکھیں تاریک ہونے لگی اور وہ زیر لب عجیب الفاظ کا ورد کرنے لگی ۔ پورے ماحول میں عجیب بھاری پن سا اترنے لگا اور سب عجیب آوازیں نکالنے لگے۔
اکاسمہ اپنے سر کو جھٹکا دیتی، کرسی سمیت پیچھے گری۔ زرناب نے سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھا اور پھر چلائی۔
” میرے شیطانی عمل کو تم نے برباد کر دیا لڑکی۔ اور اب تمہاری اور تمہارے اس بچے کی قربانی، میں اپنے ہاتھوں سے دوں گی اکاسمہ حکان ملک ۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی میں بیٹھا حکان ملک پاگل ہو رہا تھا۔ اس نے کتنی کوشش کی اکاسمہ کو ہر برائی سے بچانے کی اور اس کی ذرا سی غفلت، اکاسمہ کو اس نہج پہ لے آئی کہ وہ اکاسمہ تک پہنچ نہیں پا رہا،بلکہ اپنی آنکھوں کے سامنے، وہ اکاسمہ کو اس شیطان کی دسترس میں دیکھ رہا ہے ۔ اس کا دل، اس کے سینے میں دبوچا جا رہا تھا اور وہ پاگلوں کی طرح رونے لگا۔
اسکے ماتحت، عباس نے گاڑی کی اسپیڈ مزید تیز کر دی۔ اس سے، اپنے مالک کی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔ اس کی بیوی، اس کی محبت، شیطان کی دسترس میں تھی اور اسے اپنی آنکھوں کے سامنے ختم ہوتا دیکھ رہا تھا اس کا باس۔
” اکاسمہ میں آ رہا ہوں ۔ میں تمہیں بچا لوں گا۔ میرا وعدہ ہے تم سے۔میں تمہیں بچا لوں گا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے کال آنے لگی۔ کال کاووس شاہ کی تھی۔ اس نے موبائل کان سے لگایا کہ اس وقت آپس میں لڑنے کا وقت نہیں تھا ۔
” ہیلو ”
اس کی بھرائی ہوئی، بھاری آواز گاڑی کی فضا میں گونجی ۔
” حکان۔۔۔ جو لوکیشن تمہیں بھیجی ہے میں نے۔ اسے فالو کرو۔ اس نیٹ ورک پہ ہم عرصے سے کام کر رہے تھے۔ ہم بس پہنچ رہے ہیں ۔۔۔ قریب ہیں ہم ۔”
حکان نے بنا کچھ کہے کال بند کی اور لوکیشن کو دیکھنے لگا اور پھر عباس کو دکھاتا، وہ دوبارہ سے لیپ ٹاپ پہ کام کرنے لگا ۔ جہاں بہت سے کامنٹس تھے کہ
‘ ویڈیو کہاں گئی ؟؟’
‘ کچھ نظر کیوں نہیں آ رہا ؟؟’
‘ اوف، ہمیں اس مارش میلو کو کٹتے دیکھنا تھا ‘
‘ میں تو اسکرین کے پیچھے سےہی، اسے محسوس کر رہا تھا’
‘ ویڈیو ان کرو ۔ ‘
‘ کپڑے اتارو اس کے ۔’
‘ کہاں ہو ؟؟’
‘ اکیلے خود انجوائے کرو گی یا ہمیں بھی انجوائے کراؤ گی ؟؟’
‘ ارے کچھ نظر نہیں آ رہا ۔ مجھے اسکا جسم دیکھنا تھا مخملی جسم ‘
اس جیسے بہت سے کامنٹس۔ حکان ملک نے دانت پیستے، بھڑکتے دماغ کے ساتھ وہ سب پڑھا۔
وہ ان کا نیٹ ورک ہیک کر کے، تمام کیمرے آف، ویورز کے لئے آف کر چکا تھا۔ اب کوئی بھی انہیں دیکھ نہیں پا رہا تھا لیکن حکان اب بھی وہاں کا ماحول دیکھ رہا تھا۔
اس کی آنکھوں میں خوف پھیلنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکاسمہ کو، اسکے بالوں سے کھینچ کے، کرسی سمیت گھسیٹت رہی تھی۔ کھنچاؤ اتنا سخت تھا کہ اکاسمہ کو لگا کہ اس کے سر کی کھال جیسے الگ ہو رہی ہے۔ زمین پہ پڑے خون میں، اس کا جسم لت پت ہو چکا تھا۔تیز بدبو ، اس کے نتھنوں میں گھس رہی تھی کہ اسے قے محسوس ہو رہی تھی۔
اس کے چیخوں سے پورا ماحول گونج رہا تھا جبکہ زرناب درانی ہنس رہی تھی۔
” کیمرے ٹھیک کیوں نہیں ہو رہے ؟؟ میں چاہتی ہوں کہ فیاض حیات خود اپنی آنکھوں سے، اپنی بیٹی کا حال دیکھے۔ کال کرو اس کتے کو “
ویڈیو کال ہوئی اور فیاض حیات اپنی بیٹی کی حالت دیکھ کے تڑپ سا گیا۔ جبکہ زرناب چلا رہی تھی۔
” یہ دیکھو فیاض حیات ۔ تمہاری بیٹی ۔۔۔۔ پہچان نہیں پا رہے؟؟ اتنی دگرگوں حالت ہو چکی ہے اس کی۔ یہ وہ تمام گندگی اور خون ہیں ۔۔۔ ان لٹکے ہوئے نیم جان انسانوں کو ، جو تمہاری بیٹی کے جسم سے لگ چکا ہے “
” میری بیٹی کو چھوڑ دو زرناب ۔ تمہارا حساب کتاب مجھ سے ہے۔میری بیٹی کو چھوڑ دو ”
فیاض حیات رونے لگا جبکہ زرناب نفرت سے پھنکاری۔
” میری بیٹی کو کتیا بنا کے ، عیاشی کی تھی تم سب نے ۔ وہ بھی روئی تھی، چلائی تھی لیکن تم سب ہنستے رہے ۔ آج اپنی بیٹی کو کتیا بنتے دیکھو گے تم ۔۔۔ ”
اس نے زور سے، اکاسمہ کے پیٹ پہ، لات ماری کہ اکاسمہ اس قدر زور سے چیخی کہ وہاں موجود تمام چمگاڈر پھڑپھڑانے لگے۔ اکاسمہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے دنیا گھومتی محسوس ہوئی۔
“کتیا بنو ۔۔۔۔ بن کتیا “
اسے بالوں سے جکڑ کے، زرناب درانی نے ایک اور لات، اس کے پیٹ پہ ماری ۔ اس بار لگا جیسے سانس لینا مشکل ہو رہا ہے۔
” اب دیکھو فیاض حیات ۔۔۔ تمہارے لئے سرپرائز ہے ۔۔۔ عفان ۔۔۔۔ عفان “
وہ چلائی اور نہ جانے کہاں سے عفان وہاں آیا ۔ فیاض حیات کا دل دہلا جبکہ زرناب درانی مسکرانے لگی۔
” عفان یہاں آؤ ۔۔۔۔۔ میرے پاس آؤ ۔۔۔۔دیکھو تمہارے لئے کھلونا لائی ہوں میں “
عفان قدم قدم آگے بڑھ رہا تھا۔
” عفان نہیں ۔۔۔۔ عفان وہ تمہاری بہن ہے۔۔۔ تمہاری بہن اکاسمہ ۔۔۔ اسے بچاؤ ۔۔۔ پلیز اپنی بہن کو بچاؤ ”
فیاض حیات چلانے لگا جبکہ زرناب نے عفان کو دیکھا ۔
” نہیں ہے وہ تمہاری بہن۔۔۔۔ یہ کھلونا ہے۔تمہاری ماں نے تمہارے لئے خریدا ہے۔ آؤ، قریب آؤ۔۔۔۔ ”
عفان نے اکاسمہ کی طرف دیکھا۔ جو گندگی میں اٹی ہوئی تھی۔ اس کی درد بھری آنکھیں عفان پہ تھی۔ بمشکل سانس لیتی، وہ درد سے کراہ رہی تھی۔
” ع ۔۔۔۔۔ عفا۔۔۔۔ن ، میری مدد۔۔۔۔۔ کرو ”
اکاسمہ نے بمشکل کہنے کی کوشش کی ۔ زرناب نے خاموشی سے، ایک چاقو، عفان کے ہاتھ میں دیا۔
“عیش کرو عفان۔۔۔۔۔ تم جانتے ہو ناں کہ تمہیں کیا کرنا ہے ؟؟”
عفان خاموشی سے چاقو ہاتھ میں لیے، اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔ جو درد سے کراہ رہی تھی۔
” عفا۔..۔ن ، میں …. اکا….سمہ، تمہاری بہن ۔۔۔ میری …… مدد کرو …. پلیز “
عفان اس کی طرف جھکا۔
” ن… نہیں ، میں…. اکاسمہ ہوں ۔ کیا تمہیں یاد ہے ؟؟ میں تمہاری بہن ہوں۔ یاد کرو ”
اکاسمہ بار بار کہنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ زرناب درانی گردن اکرائے نیچے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔
” عیش کرو عفان… اس کے کپڑے اتارو … تمہیں آزادی ہے… جو بھی کرو ۔۔۔ نوچ کے کھا لو “
عفان، اکاسمہ کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا جبکہ اکاسمہ کی آنکھیں رو رہی تھی۔ اس کی بھیگی آنکھوں میں منت تھی۔ بھائی پہ مان تھا اسے۔ کہ وہ کبھی بھی اپنی بہن کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔
” عفان …. پلیز ”
اس نے بھرائی آواز میں کہا ۔
عفان کے ذہن میں کچھ لمحے نمودار ہو رہے تھے آگے پیچھے ۔ فلش بیک سے چل رہے تھے۔ اکاسمہ کے مسکراتے چہرے کا عکس ۔۔ گھر، ملکہ ، بارز ، اکاسمہ ۔۔۔۔
” عفان ۔۔۔۔”
زرناب کی آواز گونجی لیکن بلکل اچانک اس کی دہشتناک چیخ فضا میں گونجی کیونکہ عفان وہ چاقو ، زرناب کے پیٹ میں گھونپ چکا تھا۔ سیال مادہ، اس کے پیٹ سے بہنے لگا ۔ عفان نے اس کی گردن کو ہاتھ میں جکڑا اور اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔
” اکاسمہ میری بہن ہے ۔ شیطان عورت، تمہاری شیطانیت بس یہی تک تھی۔ “
چاروں طرف سے، زرناب کے ماتحت، عفان کی طرف لپکے لیکن اچانک دروازے کھلے اور چاروں طرف سے، کاووس شاہ اپنے بندوں کے ساتھ اندر آیا ۔ حکان ملک اور عباس بھی تیزی سے اندر آئے ۔
زرناب درانی ،عفان کو دھکا دیتے ہوئے چلائی۔
” مار ڈالو اس لڑکی کو “
اس سے پہلے کہ اکاسمہ پہ حملہ ہوتا، عفان اس کے سامنے ڈھال بن گیا اور جو گولیاں اکاسمہ پہ چلنے تھی۔ وہ گولیاں عفان نے اپنے سینے میں اتار لی۔ کاووس شاہ کے بندوں نے اس شخص پہ گولیاں چلائی۔
” عفان ۔۔۔۔۔”
اکاسمہ چیخی کیونکہ زرناب، اس کی ٹانگ پہ زور سے چاقو مار کے اسے زخمی کر چکی تھی ۔ حکان بھاگتا ہوا اس کے قریب آیا ۔ عباس، زرناب پہ حملہ کر کے ، اسے قابو کر چکا تھا لیکن حکان کے قریب آنے تک، اکاسمہ درد برداشت کرتے بے ہوش ہو چکی تھی۔ حکان اس کے خون سے رنگے وجود کو بانہوں میں بھرتا چلایا۔ نرمی سے اس کے گال سہلائے ۔
” اکاسمہ ؟؟؟ اکاسمہ ؟؟؟ آنکھیں کھولو یار ۔۔۔”
اس کے ٹانگ کی جلد کھل چکی تھی۔ عباس، اس کی مدد کرتا، اکاسمہ کی رسیاں کھولنے لگا جبکہ حکان، اکاسمہ کو بانہوں میں بھر کے تیزی سے باہر کی طرف بھاگا۔
کاووس شاہ اپنے بندوں کے ساتھ اس جگہ کو گھیر چکا تھا۔
” عباس، حکان کے ساتھ جاؤ اور ساتھ میں دو گارڈز بھی لے کے جاؤ ۔۔۔ ہری آپ ”
حکم کی تعمیل ہوئی تو کاووس شاہ نے، قریب آ کے، عفان کو چیک کیا۔ سانسیں اب بھی چل رہی تھی۔
” عفان کو ہاسپٹل لے کے جاؤ ۔۔۔ جلدی ، وہ زندہ ہے ”
” اوکے سر ۔۔۔ “
زرناب درانی مر چکی تھی جبکہ اس کے ماتحت، کچھ گرفتار ہوئے اور کچھ مارے گئے۔ وہ جگہ جہاں شیطان کی پرستش ہوتی۔ بچوں کو قربانی کی بھینٹ چڑھایا جاتا تا کہ شیطان کو خوش کیا جا سکے۔ وہاں اب خاموشی تھی ۔ مکمل سکوت ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ حکان کی گاڑی ہاسپٹل پہنچتی، ہاسپٹل کو اطلاع کر دیا گیا تھا تبھی ان کے پہنچتے ہی، ڈاکٹر اور نرسز وہاں موجود تھے۔ اکاسمہ کو احتیاط سے، اسٹریچر پہ لٹایا گیا۔ آکسیجن ماسک لگایا جبکہ اس کے زخموں پہ، فورا ابتدائی امداد دی گئی ۔
” مس کیرج ہوا ہے ان کو ۔۔۔ جلدی چلو ۔۔۔ خون زیادہ بہہ چکا ہے پیشنٹ کا”
اکاسمہ کو لے جایا جا رہا تھا جبکہ حکان شل ہوتے دماغ کے ساتھ، ہاسپٹل کی طرف بڑھ رہا تھا جب فیاض حیات کی گاڑی وہاں پہنچی اور فیاض حیات اور ملکہ گاڑی سے باہر نکلیں ۔حکان انہیں دیکھ چکا تھا تبھی وہیں رہا اور سرد نظروں سے انہیں دیکھنے لگا ۔
” اکاسمہ کہاں ہے ؟؟”
” اپ اندر نہیں جا سکتے ۔ اکاسمہ سے دور رہیں ”
حکان نے سرد آواز میں کہا جبکہ فیاض حیات ناسمجھنے والے انداز میں حکان کو دیکھنے لگا ۔
” بیٹا، یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ اکاسمہ میری بیٹی ہے”
” میری اکاسمہ کسی قاتل اور زانی کی بیٹی نہیں ہے ۔ عباس ۔۔۔۔۔ ”
اس نے عباس کو حکم دیا اور عباس نے آگے بڑھ کے، فیاض حیات کو بازو سے جکڑ کے پیچھے کھینچا۔ ملکہ جو بےبسی سے بھیگی آنکھوں سے ،حکان کو دیکھ رہی تھی ۔ حکان نے ادب سے انہیں راستہ دیا تا کہ وہ اندر جا سکے ۔ ملکہ نے مڑ کے فیاض حیات کو دیکھا۔
” کاش یہ حقیقت آشکار ہونے سے پہلے، تمہارے موت کی خبر آتی مجھے۔ بیوہ بن جانا گوارا تھا لیکن ایک زانی اور قاتل کی بیوی کہلانا، ناقابلِ برداشت ہے فیاض حیات”
وہ تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گئی۔
” تم سے تمام حساب کتاب ہوگی ۔ عباس، کاووس شاہ کو کال کرو اور تمام شرفاء کے نام جو لیے گئے ہیں اس ڈارک ویب کے کیس میں۔ ان تمام کو گرفتار کروانے کا حکم دو ۔۔۔۔ ”
یہ کہہ کے وہ ہاسپٹل کی طرف بڑھ گیا جبکہ عباس، موبائل نکال کے، کاووس شاہ کو کال کرنے لگا لیکن اسی لمحے، فیاض حیات نے اس دھکا دیا اور خود روڈ کی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔
عباس بھی اس کے پیچھے بھاگنے لگا ۔ ایک گاڑی وہاں سے گزری۔ سیاہ شیشے نیچے ہوئے اور گولی چلی جو سیدھا فیاض حیات کے ماتھے پہ جا لگی اور وہ وہیں گر گیا۔ سیاہ شیشے دوبارہ اوپر ہوئے اور گاڑی تیزی سے آگے بڑھ کے غائب ہو گئی۔
یہ، وہ بڑی ٹیم تھی جو ایک بڑی نیٹ ورک کے ذریعے کنٹرول ہو رہی تھی۔ اس بڑے نیٹ ورک کا بادشاہ کون تھا ؟؟؟ کوئی نہیں جانتا تھا لیکن یہ بات واضح تھی کہ اس بڑے نیٹ ورک کو ختم کر دینا کسی کے بس میں نہیں تھی۔ کیونکہ اس ڈارک ویب میں، پوری دنیا کے سیاستدان، بلینرز شامل تھے۔ وہ تمام لوگ اس سیاہ دنیا کا حصہ تھے۔ جنہیں کوئی بھی نہیں ختم کر سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن بعد :
اکاسمہ کومہ میں تھی اور ابھی تک اسے ہوش نہیں آیا تھا۔
عفان بےحد زخمی تھا اور اس کی جان خطرے سے باہر نہیں آئی تھی ابھی ۔
وجدان ملک اور شازم خان گرفتار ہو چکے تھے جبکہ فاروقی نے خودکشی کر لی تھی ۔
حکان ملک، لب بھینچے بیٹھا، اپنے سامنے بکھرے ان فائلز کو دیکھ رہا تھا جو ایک گمنام شخص کے ذریعے اسے بھیجی گئی تھی ۔
کاووس شاہ ہر فائل کو کھول کے دیکھتا اور پھر حکان کے سامنے رکھتا جاتا ۔ آزمائر شاہ بھی ان کے ساتھ بیٹھا، حکان کو دیکھ رہا تھا ۔ خیام وہیں بیٹھا، ہر رپورٹ، ہر فائل کو کمپیوٹر ڈیٹا میں پہنچا کے، چیک کر رہا تھا ۔
عجیب نام سامنے آ رہے تھے اور عجیب کہانیاں سامنے آ رہی تھی ۔ ہر کہانی اس قدر دہشتناک تھی کہ روح کانپ جائے۔
حکان اچانک اپنی جگہ سے اٹھا اور لمبے ڈگ بھرتا باہر کی طرف جانے لگا۔
” حکان ۔۔۔ ”
کاووس شاہ نے اس کے پیچھے جانا چاہا لیکن ازمائر شاہ نے اسے روک دیا ۔
” وہ جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے “
” نقصان نہ پہنچا دے خود کو ”
کاووس شاہ کو فکر ہو رہی تھی لیکن آزمائر شاہ اسے زیادہ جانتا تھا ۔
” وہ حساب کتاب کرنے جا رہا ہے ۔ ”
آزمائر نے آہستگی سے جواب دیا جبکہ اس کی پرسوچ نظریں دروازے پہ تھی جہاں سے حکان گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکان مضبوط قدم جماتا ، اس نیم تاریک کمرے میں گیا جہاں وجدان ملک کو رکھا گیا تھا۔ وجدان ملک نے اسے اندر آتے دیکھا۔ دو دن میں ہی اس کے چہرے کی رنگت کمزور پڑ گئی تھی۔ حکان اسے سرد نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔قریب آ کے، اس نے زور سے میز پہ ہاتھ مارا اور وجدان ملک کو نفرت سے دیکھنے لگا۔
” بلیک منی، چھوٹی بچیوں کے ساتھ زنا، انسانی جسم کا کاروبار، فحاش موویز بنانا، ڈارک ویب پہ اپنے نیٹ ورک چلانا، لڑکے لڑکیوں کو ورغلانا اور آخر میں، انہیں یا خودکشی پہ مجبور کرنا یا اپنے گندے کاموں کے لئے استعمال کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب اوقات تھی آپ کی ”
نفرت سے گنوا رہا تھا حکان اور آخر میں زور سے میز پہ ہاتھ مارا کہ وجدان ملک اچھل پڑا۔ وہ تو واقف تھا حکان کے غصے سے لیکن آج اس کی آنکھوں میں غصہ، نفرت، انتقام اور عجیب جنون تھا اس کی آنکھوں میں ۔
” میری بیوی کومہ میں ہے۔ موت اور زندگی کے بیچ ہے اس کی جان ۔ میرا بچہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا ۔ جانتے ہیں کیوں ؟؟ کیونکہ میں اور میری بیوی ان مردوں کی اولاد ہیں جن کا تعلق اس سیاہ دنیا سے ہیں جہاں انسانوں کے جسم سے، احساسات سے کھیلا جاتا ہے ۔ جہاں شیطان رہتے ہیں ۔۔۔۔
کس قدر نیچ ذات کے نکلے ہم۔۔۔۔اس قدر نیچ ؟؟؟
کیا نہیں تھا آپ کے پاس ؟؟ کس چیز کی کمی تھی ؟؟ دولت، شہرت سب تو تھا آپ کے پاس ۔۔۔ لیکن حرام نہیں مل رہا تھا تو سوچا ہوگا کہ حرام میں بھی منہ مار لیا جائے “
” شٹ اپ حکان۔۔۔ دماغ خراب کر رہے ہو میرا۔ میں تمہارا باپ ہوں ”
وجدان ملک نے اسے تنبیہ کرنی چاہی ۔
” اسی بات کا تو افسوس ہے کہ میں آپ کی اولاد ہوں ۔۔۔کاش ایک فقیر کا بیٹا ہوتا میں، لیکن ایٹ لیسٹ اس کا ماضی اور حال تو سیاہ نہ ہوتا۔ ”
حکان ملک نے سرد لہجے میں جواب دیا جبکہ وجدان ملک لب بھینچ گیا۔ نظریں چراتے وہ دوسری طرف دیکھنے لگا ۔
” ڈیم اٹ ”
زور سے میز کو لات مارتا وہ باہر نکل گیا ۔ ازمائر جو باہر اس کا منتظر تھا، تیزی سے قریب آیا ۔
” حکان ۔۔۔۔ ”
آزمائر کا سہارا ملتے ہی، حکان کو لگا کہ وہ ٹوٹ رہا ہے ۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔ آزمائر اسے لیے باہر آ گیا ۔ باہر آ کے اس نے ایک دو گہری سانسیں لیں اور ایکدم چلایا۔ آزمائر اسے لب بھینچے دیکھ رہا تھا۔ اس کا یہ دوست، اس کے برے وقت میں، اس کا ساتھ دیتا رہا تھا اور اب اس کی باری تھی کہ حکان کا ساتھ دے۔
” چلو یہاں سے حکان”
آزمائر اسے تھامے گاڑی کی طرف بڑھ گیا جبکہ وہ ٹوٹا بکھرا سا ازمائرکے ساتھ جا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاسپٹل کوریڈور میں وہ چل رہا تھا ۔ ازمائر بھی اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ جب سامنے سے مسفرہ آتی ہوئی نظر آئی۔ وہ اکاسمہ کو دیکھنے یہاں آئی تھی۔
” اکاسمہ کو ہوش آ چکا ہے ”
اس کا کہنا تھا کہ حکان کے قدم تیز ہوئے اور وہ تقریباً بھاگنے لگا۔ ازمائر نے اداس آنکھوں سے اپنے دوست کو دیکھا۔ مسفرہ نے اسکے بازو پہ ہاتھ رکھا تو آزمائر نے اس کی طرف دیکھا اور نرمی سے اسے بانہوں میں بھر لیا ۔
” کیسی طبیعت ہے اب تمہاری ؟؟”
” ٹھیک ہوں ۔۔ ”
مسفرہ نے نرم لہجے میں جواب دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکان کمرے میں پہنچا تو ملکہ پہلے سے ہی وہاں موجود تھی۔ حکان پہ نظر پڑی تو ہلکی مسکراہٹ کے، اکاسمہ کے سر پہ ہاتھ پھیر کے باہر نکل گئی۔ حکان جو سانس روکے کھڑا اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا، بےحس و بےحرکت۔ اکاسمہ اسے دیکھتے ہی اچانک رونے لگی ۔ حکان نے تیزی سے آگے بڑھ کے، اسے احتیاط سے بانہوں میں بھر کے ، اس کا ہاتھ تھام لیا۔
” حکان…. حکان…. میرا بچہ “
حکان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے نرمی سے اکاسمہ کو بیڈ پہ لٹایا، اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر کے، اس کے نقش نقش پہ اپنے لب رکھنے لگا ۔
” میری جان ، حیات من… اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں کبھی خود کو معاف نہ کرتا۔ ایم سوری ، پلیز معاف کر دو مجھے کہ میں تمہاری حفاظت نہ کر پایا ۔ میں تم سے ناراض ہوا، تمہاری فکر نہیں کی، مجھے معاف کر دو پلیز “
اکاسمہ اس کے چہرے کے قریب سے دیکھ رہی تھی۔ وہ رو رہا تھا۔ وہ اکاسمہ کے لئے رو رہا تھا۔ وہ اکاسمہ کے لئے بے چین تھا۔ اکاسمہ نے اس کے چہرے پہ اپنا ہاتھ رکھا ۔
” ہشششششش ، ایسےمت کہو…. ”
حکان نے اس کے ماتھے پہ لب رکھے۔
” اب مزید نہیں رونا تم نے اکاسمہ۔ تم ابھی جاگی ہو، ابھی بھی تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہوئی۔ مجھ میں مزید ہمت نہیں ہے کہ تمہیں کھو سکوں اکاسمہ ۔ آئی لو یو ۔۔۔۔ آئی لو یو سو مچ ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکان کمرے سے باہر نکلا تو ملکہ اسے دیکھنے لگی۔
” اکاسمہ سو رہی ہے ”
حکان نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا ۔
” ہم اکاسمہ کو کیا کہے گیں ؟؟ اس کے بعد کیا ہوگا ؟؟ ”
ملکہ کے چہرے پہ تشویش تھی ۔
” اکاسمہ ہوش میں آ چکی ہے ۔یہی کافی ہے میرے لئے فی الحال ۔ اس کے بعد کیا ہوگا کچھ نہیں جانتا میں۔ ”
حکان تھکا تھکا سا وہیں بیٹھ گیا۔
” فیاض کا سیاہ رخ اتنا بھیانک ہے اور پھر اس کی موت….. میں اپنے بچوں کی حفاظت نہ کر پائی اس شخص کو جان نہ پائی۔ عفان ابھی تک ہوش میں نہیں آیا ۔”
ملکہ کی آواز رندھی ہوئی تھی۔ مسفرہ نے آگے بڑھ کے انہیں تسلی دی جبکہ حکان آزمائر کو دیکھنے لگا ۔
” مبارک ہو، اکاسمہ کو ہوش ا چکا یے۔ اب باقی سب نمٹانا آسان ہے ہمارے لئے۔ “
اسی وقت کاووس شاہ بھی وہاں پہنچ گیا۔ ملکہ نے نفرت بھری نظروں سے اسے دیکھا ۔
” تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے یہ سب ۔۔۔تم یہاں اب کیا بدبختی لے کے آئے ہو ہمارے لئے ۔ میری بیٹی اور بیٹا، اس وقت تمہاری وجہ سے ہاسپٹل میں ہیں ”
کاووس کے چہرے پہ سایہ سا گزرا۔ ملکہ نے اس کی طرف لپکنا چاہا لیکن حکان نے بیچ میں ہی روک دیا ۔
” کاووس شاہ آپ کا ہی بیٹا ہے آنٹی ۔ ”
” یہ اس شیطان عورت کا بیٹا ہے۔ میرا بیٹا نہیں ہو سکتا ۔”
ملکہ چلائی ۔ کاووس شاہ نے لب بھینچ لیے ۔ جبکہ حکان کو لگا کہ سب حقیقت بتا دینی چاہیے ۔
” آپ کا حقیقی بیٹا کاووس شاہ ہے ۔ جسے ہاسپٹل میں ایکسچینج کر دیا گیا تھا ۔ وہ عورت آپ کا بیٹا کڈنپ کر کے، اپنا بیٹا رکھ گئی تھی۔ عفان ….. زرناب درانی کا بیٹا ہے ۔ بائیولوجیکل بیٹا اور کاووس شاہ …”
وہ سائیڈ پہ ہو کے کاووس شاہ کو دیکھنے لگا جبکہ ملکہ حیرت سے سامنے کھڑے کاووس شاہ دیکھ رہی تھی۔
” ڈی این اے رپورٹ کے مطابق، کاووس شاہ آپ کا ہی بیٹا ہے ۔ جب ہم نے فیاض حیات، کاووس شاہ اور اکاسمہ کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے تو ان کے ڈی این اے ایک دوسرے سے مکمل میچ کر رہے تھے لیکن جب عفان کا کروایا چیک، تو وہ بلکل بھی میچ نہیں ہو رہا تھا۔ اکاسمہ جانتی ہے کہ کاووس شاہ اس کا اصل بھائی ہے ”
ملکہ اچانک زمین پہ گرنے لگی لیکن حکان نے انہیں تھام کے بنچ پہ بٹھایا۔ ملکہ یک ٹک کاووس شاہ کو دیکھ رہی تھی۔ یہ کیا ہو رہا تھا ؟؟ اور کون سے دکھ دیکھنے باقی تھے ؟؟ اور کیا کیا سننا باقی تھا ؟؟
حکان سے نظر ملتے ہی، کاووس شاہ نے اس کے اشارے پہ، قدم آگے بڑھائے ۔ قدم قدم چلتا، وہ ملکہ کے سامنے رکا اور گھٹنوں کے بل، ان کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
” ماں ۔۔۔۔”
ملکہ نے روتے ہوئے اسے خود سے لگایا ۔
” ایک ماں کیسے اپنے بیٹے کو نہ پہچان پائی۔ کیسے میں اپنے بچے کو نہ پہچان پائی۔ میں کیسی ماں ہوں.. تم بار بار سامنے آتے رہے اور میں بار بار تمہیں دھتکارتی رہی۔ میرا بچہ، میرا بچہ ۔”
حکان اور آزمائر نے ایک دوسرے کو پُرسکون نظروں سے دیکھا۔ یہ مشکل بھی حل ہو چکی تھی ۔ اور اب ؟؟؟ عفان ….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ جسم پہ لگا زخم بھر رہا تھا لیکن۔ روح پہ لگا زخم بھرنے میں وقت لے رہا تھا۔ اس رات کا لمحہ لمحہ، اس کی آنکھوں میں ایسے زندہ تھا جیسے کل ہی یہ حادثہ ہوا ہو۔
وہ گھر آ چکی تھی اور حکان ہر طرح سے اس کا خیال رکھ رہا تھا ۔ وہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی اسے خود سے دور نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔ یہاں تک کہ اپنا آفس بھی گھر میں بنا لیا تھا ۔ اگر کبھی باہر جاتا تو باہر دروازے پہ عباس 24 گھنٹوں تک موجود ہوتا۔ گھر کے ہر کونے میں کیمرہ لگا ہوا تھا۔ جسے وہ ہر پانچ منٹ بعد چیک کرتا۔
لوگ کہتے کہ حکان پاگل ہو چکا ہے لیکن کوئی حکان سے پوچھے کہ آٹھ سال جس سے محبت کی۔ لمحہ لمحہ جس کی محبت میں جلتا رہا ۔ سانس سے بھی زیادہ جسے ضروری سمجھا ۔وہ اس ہستی کو کیسے کھونے کی ہمت رکھ سکتا تھا۔
ایسی محبتیں کبھی کبھی ہی جنم لیتی ہے ۔
” میری حسین بیگم کے لئے ڈنر حاضر ہے ”
حکان کھانے کی ٹرے لیے کمرے میں آیا ۔ بیڈ پہ نیم دراز اکاسمہ چونک کے اسے دیکھنے لگی۔ حکان اس کی آنکھوں میں موجود وحشت کو دیکھ چکا تھا ۔ اکاسمہ ان لمحوں سے باہر نہیں آئی تھی ابھی تک۔ اگر اس کے بس میں ہوتا تو کوئی ایسا علاج کرتا کہ اکاسمہ کے ذہن سے، اس رات کا سب باہر نکال دیں ۔
اس نے جھک کے، اکاسمہ کے لبوں پہ اپنے لب رکھ کے، گہری سانس لی اور آنکھیں کھول کے اسے دیکھنے لگا ۔
” حیات من ۔۔۔ “
اکاسمہ ہلکا سا مسکرائی۔ ٹانگ سمیٹنی چاہی لیکن درد کی ٹیس اٹھی اور وہ کراہ کے رہ گئی۔ حکان نے بےساختہ اس کی طرف جھکا اور اس کی زخمی ٹانگ کو نرمی سے سہلاتا، اس پہ جھک کے اپنے لب رکھے۔ اکاسمہ نے حیران آنکھوں سے اسے دیکھا ۔
” حکان ……”
حکان سر اٹھا کے اسے دیکھنے لگا۔ اس کی بینڈج میں بند زخمی ٹانگ کو اپنی گود میں رکھا اور اس کے پاؤں کو نرمی سے سہلاتا ، اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھیں نم تھی۔
“تمہارا ہر درد کاش میں خود پہ لے سکوں اکاسمہ”
اس نے بوجھل لہجے میں کہا ۔ اکاسمہ حیران ہوئی ۔
” حکان، یہ محبت سے بھی زیادہ ہے ”
” پتہ نہیں ۔ میں بس یہ جانتا ہوں کہ میں جنون کی حد تک تم پہ خود کو ہار چکا ہوں ۔ تم مجھ میں ہو اور میں بےبس ہوں اس معاملے میں۔ تمہیں کھونے کی سکت نہیں اکاسمہ ۔ کاش میں اس دن تم سے ناراض نہ ہوتا۔ یہ کاش میرے لئے ، ٹراما بن چکا ہے ۔ ”
حکان بوجھل لہجے میں کہتا اسے دیکھ رہا تھا۔
” یہ سب نصیب میں تھا اور ہو گیا۔ اس میں بار بار خود کو قصوروار مت ٹھہراؤ حکان۔ میں ٹھیک ہوں اب ”
اکاسمہ نرمی سے کہہ رہی تھی۔ حکان ہلکا سا مسکرانے لگا۔
” جانتا ہوں لیکن …… میں وہ الفاظ کہاں سے لاؤں تمہیں یہ محسوس کرانے کے لئے کہ میں تم سے کس قدر شدت سے محبت کرتا ہوں اکاسمہ”
اکاسمہ کی دھڑکنیں منتشر سی ہوئی۔ اس کے گالوں پہ تپش سی پھیلی جب وہ حکان کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ اس کی شدتوں کا اکاسمہ کو پتہ تھا کہ وہ کس قدر محبت کرتا ہے، وہ اپنے ہر عمل سے ظاہر کر چکا ہے اکاسمہ کو، کہ اس کے چاہنے میں ، اس کی قربت میں کس قدر شدت ہے اکاسمہ کے لئے لیکن اس قدر ۔۔۔۔۔
آگے بڑھ کے ، اس نے حکان کے چہرے پہ ہاتھ رکھا اور اس کے لبوں پہ، اپنی سانسوں سے محبت رقم کی۔ حکان نے اسے نرمی سے بانہوں میں بھر لیا ۔ دونوں کی سانسیں الجھی تو دونوں کو سکون سا اترتا محسوس ہوا وجود میں ۔
شاید بہت دنوں سے، دونوں کے بیچ، ایسے لمس کا تبادلہ نہیں ہوا تھا تبھی عجیب بھاری پن سا آ گیا تھا دونوں کے بیچ۔ لیکن آج ، اس لمحے، اکاسمہ نے اس کے وجود میں جامد ہوئے ہر احساس کو جیسے پھر سے نئی روح، نئی زندگی بخش دی۔
وہ جیسے پھر سے جی اٹھا ۔ اکاسمہ مدہوش آنکھوں سے حکان کو دیکھنے لگی ۔
” آئی مسڈ یو حکان …”
“آئی مسڈ یو اکاسمہ ”
دونوں نے جیسے اعتراف سا کر لیا کہ ایک دوسرے کے وجود کے بنا دونوں کچھ بھی نہیں ہے۔
” مجھے جلدی سے ٹھیک کر دو حکان…. کیونکہ میں واقعی تمہیں مس کر رہی ہوں ”
حکان کی آنکھوں میں خوشگوار سی حیرانی آئی تھی۔
” کیا یہ ممکن ہے کہ کھانے کے بعد، مجھے اپنی بانہوں میں سمیٹ لو آج رات ۔ کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ عرصہ ہو گیا ہے مجھے تمہاری بانہوں کے بنا نیند نہیں آئی حکان ”
حکان جو پریشان تھا ۔ جس کے اعصاب بھاری ہو رہے تھے ان دنوں ۔ اس لمحے ، اکاسمہ کے الفاظ ، اکاسمہ کی آنکھیں ، اکاسمہ کے انداز، اسے سکون بخش رہے تھے ۔ وہ پُرسکون ہو رہا تھا جیسے وجود کا بھاری پن ختم ہو رہا ہے اور وہ ہلکا محسوس کر رہا ہو خود کو۔
وہ ڈر رہا تھا کہ اکاسمہ اس سے غصہ ہوگی، اس سے ناراض ہوگی یا پھر شاید اسے کبھی دوبارہ سے قبول نہیں کرے گی لیکن آج ….. اسے یقین ہو گیا کہ محبت کی شدتوں میں اس قدر طاقت تھی کہ وہ اکاسمہ کو ہمیشہ کے لئے خود میں جذب کر چکا ہے۔
اور….. آج رات وہ ایک دوسرے کی بانہوں میں سو رہے تھے۔ ایک دوسرے کی خوشبو کو محسوس کرتے ہوئے ، ایک دوسرے کی قربت میں پُرسکون اور مدہوش ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
