The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 01
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 01
خط قرمز
The Red Line
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 1
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” وکیل صاحبہ لگتا ہے ایسڈ کی کچھ بوندیں آپ کو بھی چاہیے ”
یہ جاوید تھا جسے کورٹ میں لے جایا جا رہا تھا، اور اس ایسڈ وکٹم عندلیب کا کیس لائیر اکاسمہ حیات ہینڈل کر رہی تھی، تبھی رک کے ابرو اچکا کے اس نے ایک کڑی نظر اس پہ ڈالی تھی۔
” میرے اگینسٹ کیس لڑے گی آپ؟؟ بڑی ہمت ہے ، واہ”
وہ پھر سے ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا۔
” اچھا تو وہ ایسڈ کی دکان تم ہو ، دیدار بھی نصیب ہو گیا ”
اکاسمہ حیات بظاہر نارمل انداز میں لیکن دانت پیستی کہہ رہی تھی، جواب میں وہ ہنس پڑا تھا۔
” اسے یہاں کھڑا کر کے کون سا تماشا لگا رہے ہو تم لوگ ؟؟ لے کے جاؤ ”
یہ آفیسر خیام تھا جو ابھی ابھی پہنچا تھا۔ وہ لوگ جاوید کو کورٹ کے اندر لے جانے لگے جبکہ خیام اس کی طرف آیا تھا۔
” کریمینل کیسز میں الجھنے کا بہت زیادہ ہی شوق ہے تمہیں ”
اکاسمہ نے آنکھیں گھمائی تھی۔
” تم اب شروع مت ہو پلیز ”
خیام پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے اسے مسکراتی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔
” فیملی بیسڈ کیسز بھی ہوتی ہے ، ضروری ہے جو اپنی جان خطرے میں ڈالو ؟”
اکاسمہ کندھے اچکاتی آگے بڑھی تھی۔
” am getting late .. ”
جبکہ خیام گہرا سانس لیتا اس لڑکی کو جاتا دیکھنے لگا جو تھی تو نازک سی ، لیکن انداز کسی ولن اور ڈان سے کم نہ تھے اس کے ۔
” پاکستان لاء کی ڈان ”
وہ زیر لب بڑبڑایا تھا اور پھر سر جھٹک کے وہ بھی کورٹ کی طرف بڑھا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” یہ آپ کا روم اور یہ آپ کی سیٹ ۔
Congratulations Prosecutor عاریز شازم خان۔ ”
سینئیر پرازیکیوٹر جیلان پاشا اس کی طرف دیکھتے مسکرا کے کہہ رہے تھے اور وہ جس کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ وہ اس سیٹ پہ ایک دن خود براجمان ہو ، آج یوں خواہش کے پوری ہو جانے پہ اس نے مسکراتی آنکھوں سے سیٹ کو دیکھا تھا اور پھر گہرا سانس لیتا وہ جیلان پاشا کو دیکھنے لگا۔
” تھینک یو سر ۔ ”
” بیسٹ آف لک ینگ مین ”
اس کا کندھا تھپتھپاتے جیلان پاشا ایک گہری نظر اس پہ ڈال کے کمرے سے باہر گئے تھے جبکہ عاریز شازم خان کی مسکراتی آنکھیں اپنے اس آفس روم کا جائزہ لے رہی تھی ۔ اس کا خواب حقیقت بنا تھا اس کے لئے ۔ جس خواب کو وہ برسوں سے دیکھ رہے تھے اور آج یوں تکمیل ہو پائی ہے۔ اس کے موبائل پہ کال آنے لگی جو شازم خان کی تھی، جو اس ملک کے بہترین قابل وکیلوں میں شمار ہوتے تھے۔
” ہیلو ڈیڈ ۔۔ ”
” مبارک ہو بیٹا، بہت زیادہ مبارک ہو ”
ان کی آواز خوشی سے بھرائی ہوئی تھی، عاریز مسکرا رہا تھا اپنے ڈیڈ کے مسکراتے چہرے کو تصور کر کے ہی ۔
” تھینک یو ڈیڈ ۔ ”
” مجھے خوشی ہے کہ میرا بیٹا اس سیٹ پہ ہے جس کی اسے خواہش تھی ہمیشہ سے”
عاریز مسکرا رہا تھا۔
” آپ کی دعاؤں سے ہیں ڈیڈ ”
شازم خان کے چہرے پہ پدرانہ مسکراہٹ آئی تھی اپنے بیٹے کے لئے، لیکن سامنے بیٹھی اکاسمہ انہیں ہی دیکھ رہی تھی ناراض آنکھوں سے اور وہ سرد آہ بھر کے رہ گئے ۔
” میں ایک کیس میں الجھا ہوا ہوں، انشاءاللہ شام کو مل کے سیلیبریٹ کریں گے ”
شازم خان ساتھ ساتھ لب بھینچے اپنے سامنے بیٹھی اکاسمہ کو بھی دیکھ رہے تھے ۔
” اوکے ڈیڈ۔ ”
کال ڈسکنیکٹ کر کے وہ اب مکمل اکاسمہ کی طرف متوجہ ہوئے تھے جو ایک سال ان کے ساتھ ہی کام کرتی آ رہی تھی ۔
” یہ جو کیس ہینڈل کر رہی ہے آپ عندلیب کا ، جانتی بھی ہے کتنا رسک ہے اس میں ”
اکاسمہ فائل سے سر اٹھا کے انہیں دیکھنے لگی جو نہایت سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے ۔
” لائیر بننے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے سر ، کہ آپ بےقصور اور بےگناہ لوگوں کی ہیلپ کریں، ان کا کیس لڑے ”
” آپ ابھی نیو ہے اکاسمہ ، کریمینل کیسز میں الجھ کے ۔۔۔ ”
وہ ابھی بات کر رہے تھے جب اکاسمہ پھر شاکی نظروں سے انہیں دیکھنے لگی اور وہ بات ادھوری چھوڑ گئے ۔
” آپ نے اور آفیسر خیام نے میرے اگینسٹ محاذ کھول لیا ہے کیا؟؟ ایک سال سے زیادہ ٹائم ہو گیا ہے مجھے اور میں وہ کیس ہینڈل کروں گی جس میں مجھے لگے گا کہ میں کر سکتی ہوں، مجھ سے نہیں ہینڈل ہوتے فیملی بیسڈ کیسز، ان میں نہ رسک ہے اور نہ ہی ایڈونچر، آپ جیسے انسان میرے ساتھ ہیں مجھے بیسٹ سکھانے والے ”
اس کی بات پہ شازم ہلکا سا مسکرائے تھے۔
” اوکے ، میں آپ کے ساتھ ہوں بیٹا۔ ہمیں آپ جیسی ہی ہونہار اور بہادر وکیلوں کی ضرورت ہے جو اس سوسائٹی کےسامنے ڈٹ کے کھڑے ہو لیکن ایڈونچر کے نام پہ، خود کسی ایڈونچر میں نہ پھنس جانا بیٹا ”
اکاسمہ مسکرانے لگی جبکہ وہ مزید کہنے لگے ۔
” میرا بیٹا عاریز خان آج اس کا فرسٹ ڈے ہیں پرازیکیوٹر عاریز خان اور مجھے اج اپنے بیٹے پہ فخر محسوس ہو رہا ہے ۔ ”
ان کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی، وہ اکثر اپنی اس اسسٹنٹ سے باتیں شئیر کرتے رہتے تھے اور اکاسمہ بھی مسکرا کے انہیں سنتی تھی۔
” مبارک ہو آپ کو سر ۔ ”
” تھینک یو بیٹا۔ ”
انہوں نے سر جھٹکا تھا اور اکاسمہ حیات مسکرا دی تھی کہ باپ ایسے ہی تو ہوتے ہیں۔ نرم مزاج اور مہربان سے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
یہ کراچی شہر کے ایک چھوٹے سے علاقے کا منظر تھا جہاں اس چھوٹے سے گھر میں وہ معصوم لڑکی جس کا نام عندلیب تھا ، جس کے چہرے پہ ایسڈ پھینک کے اس کی خوبصورتی کو ختم کر کے زاویہ بدل دیا گیا تھا اس کے چہرے کا ، اپنی ماں عافیہ اور چھوٹے بھائی اکرم اور چھوٹی بہن حمنہ کے ساتھ رہتی تھی ، شام کے آٹھ بج رہے تھے جب دروازے پہ بنا رکے دستک شروع ہوئی تھی، وہ سب ایکدوسرے کا چہرہ تکنے لگے لیکن دستک مزید بڑھ گئی تھی، عندلیب اپنی جگہ سے اٹھ کے ، دوپٹہ سر پہ ٹھیک کرتی دروازے تک گئی تھی اور جیسے ہی دروازہ کھولا تو ایک شخص اس کے ماتھے ریوالور رکھے اسے لیے اندر آیا تھا جبکہ ایک لڑکی بھی اندر آ کے دروازہ بند کر کے وہیں کھڑی ہو گئی ۔
” بہت شوق ہے تمہیں کیس کرنے کا اور عدالت کے چکر لگا کے میرے بھائی کو وہاں گھسیٹنے کا ”
وہ سب خوفزدہ ہو گئے تھے جبکہ اس کے بہن بھائی چیخنے لگے ۔
” میں تم سے نہیں ڈرتی اور نہ تمہارے اس بھائی سے ”
عندلیب اپنے ڈر کو تھپکی دیتی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کہہ رہی تھی۔
” ایسا ہے ؟؟ ڈرنا تو تجھے پڑے گا ”
اس شخص عادل کی آنکھوں میں عجیب چمک آئی تھی ، اس کا دوپٹہ کھینچ کے نیچے پھینکتے اس نے ریوالور کا رخ ان دو بچوں کی طرف کیا تھا اور وہ مزید ڈر کے چیخنے لگے۔ جبکہ اپنے دونوں ہاتھوں سے خود کو ڈھانپتی عندلیب خوفزدہ آنکھوں سے اپنے بہن بھائی کی طرف بڑھی تھی۔
” اگر کورٹ میں ہمارے اگینسٹ کچھ بھی کہا تو کچھ نہیں بچے گا تمہارے پاس ”
وہ تیز نظروں سے ان سب کو گھورتا چلایا تھا جبکہ عندلیب اپنے بہن بھائی کے آگے ڈٹ کے کھڑی ہوتی اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ ان سب پہ ایک تیز نظر ڈالتا مڑا تھا اور اس لڑکی نمرا کے ساتھ گھر سے باہر نکلا تھا ۔ عندلیب نے تیزی سے آگے بڑھ کے دروازے لاک کر دیا اور خود دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کے نیچے بیٹھتی گئی ، آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب تھا، جبکہ عافیہ ان دو بچوں کو خود سے لگا کے وہیں بیٹھ گئی تھی۔ اپنی جوان بیٹی کی بربادی کا صدمہ کم تھا کہ اب اس کے دو بچوں کی جان خطرے میں پڑ گئی تھی۔ اور عندلیب پھر سے ابھی اس لمحے اس ایسڈ کی جلن کو اپنے پورے وجود میں محسوس کرنے لگی جب پہلی بار اس کے چہرے پہ اس ایسڈ کو پھینکا گیا تھا اور وہ چیخ رہی تھی، چلا رہی تھی، ٹھنڈے پانی کے چھینٹے منہ پہ مار رہی تھی لیکن جلن بڑھتی جا رہی تھی ایسے کہ جیسے آگ کے الاؤ میں جھلس رہی ہو وہ ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شایان شان انداز میں چلتا ہوا وہ شخص اس آفیشل پارٹی میں آ رہا تھا، وہ کوئی عام آدمی نہیں تھا ، ملک کا نامور اور مغرور وکیل وجدان ملک تھا جو وکالت کے عہدے پہ فائز ہونے کے باوجود ، بلیک ورلڈ جیسے گھناؤنے جرائم میں بھی ملوث تھا جس کا شاید کسی کو علم نہیں تھا ۔
” ملک کا مشہور لائیر ہوں میں، میرے آگے کسی کی نہیں چل سکتی ، میرے پاس پیسہ ہے ، بینک بیلنس ہیں، شہرت ہے ، کیا نہیں ہے میرے پاس ”
وہ اپنے مغرور انداز میں کہہ رہا تھا جبکہ وہاں موجود شازم خان اور دراب ملک نے بےحد کوفت سے اس شخص کو دیکھا تھا۔
” مشہور زمانہ تو اپنے ہائی فیس کی وجہ سے ہیں یہ شخص اور اکڑ دیکھو اس کی ”
شازم خان نے مسکرا کے سر جھٹکا تھا۔
” خون مت جلاؤ اپنا ، یہ ان لوگوں میں سے ہے جسے بڑی بڑی چھوڑنے کی بیماری ہوتی ہے ”
” ایک تو ہمارے پیشے میں rivals سے بہت سامنا رہتا ہے ”
وجدان ملک ہنستے ہوئے پھر سے کہہ رہا تھا جبکہ دراب ملک نے دانت کچکچائے تھے ۔
” ہم پہ ہی فائرنگ بازی ۔ ”
شازم خان سر جھٹک کے دوسری طرف دیکھنے لگے جہاں رپورٹرز ان کے قریب آئے تھے۔
” آپ کو مبارکباد دیتے ہیں شازم سر ، عاریز شازم خان کی کامیابی کے لئے ۔ ”
اور وہ فخر سے مسکرا دیے تھے ، ان کا بیٹا ہمیشہ سے ان کے لئے فخر کا باعث ہی رہا تھا ۔
” تھینک یو۔ ”
” یہ عاریز کی بات کر رہے ہیں ؟؟ کیا کیا ہے اس نے ؟؟”
وجدان ملک وہاں کسی سے پوچھ رہے تھے جبکہ وہ مسکرا کے بتانے لگا ۔
” عاریز شازم خان Prosecutor کی پوسٹ کے لئے سیلیکٹ ہو گئے ہیں۔ ”
” اووووو ۔۔ ”
وجدان ملک مسکراتی آنکھوں سے شازم خان کو دیکھنے لگا اور پھر کچھ سوچتا ان کی طرف بڑھا تھا ۔
” بھئی ہماری طرف سے بھی مبارکباد قبول کیجئے شازم خان ، آخر کو عاریز ہمارا بھی بیٹا ہے ”
لائم لائٹ کا حصہ بننا کوئی وجدان ملک سے سیکھے جبکہ شازم خان مسکرائے تھے۔
” تھینک یو ۔ ”
لیکن اندر سے اس کا دل سلگ رہا تھا کہ عاریز کی ایج کا بیٹا اس کا بھی تھا لیکن وہ کہہ بھی فیلڈ میں نہ آیا کہ جس کے ذریعے وہ قابل افتخار بن سکے اپنے باپ کے لئے ۔ بیٹے کا خیال آتے ہی اس کے لب بھینچ گئے تھے لیکن یہاں کسی پہ ظاہر نہیں کروانا چاہتا تھا وہ ، تبھی بناوٹی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے وہ سب کو دیکھنے لگا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆
“مرد کے دِل میں دُوسری عورت کی ، اور عورت کی الماری میں نئے سُوٹ کی گُنجائش ہمیشہ رہتی ہے! ۔”
وہ کب سے دونوں ٹانگیں ٹیبل پہ چڑھائے کھوئے کھوئے انداز میں کہہ رہی تھی جبکہ آفیسر خیام بیزار نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جس کی عمر 26 کے لگ بھگ تھی ، گندمی چہرے پہ بڑی بڑی آنکھیں کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔
” آپ میرڈ ہے ؟؟”
رات کے نو بج رہے تھے، نیند کا غلبہ بھی تھا اور یہ محترمہ نہ جانے کیا ڈسکس کرنا چاہ رہی تھی۔
” نہیں۔ ”
اس نے یک لفظی جواب دیا تھا۔
” تو پھر مرد کے دل کا کیسے پتہ ؟؟”
خیام کی سوالیہ نظروں کے جواب میں وہ مسکرائی تھی۔
” کچی عمریں کافی ہوتی ہے کسی بھی قسم کے تجربے کے لئے ۔ ”
وہ اب بھی مسکرا رہی تھی جبکہ خیام نے گہرا سانس لیتے اپنی کنپٹی سہلائی تھی۔
” کیوں آئی ہے آپ مس ؟؟”
” مسفرہ نام ہے میرا ”
اطمینان بھرا جواب آیا تھا۔
” دیکھئے رات کے نو بج رہے ہیں، آپ اپنے گھر جائیے اور مجھے بھی اپنے گھر جانا ہے پلیز ”
خیام اپنی سیٹ سے اٹھتے ہوئے جھنجھلایا تھا۔
” میرا کوئی گھر نہیں ہے ”
وہ اب بھی ویسے ہی بیٹھی ہوئی تھی ، خیام نے رک کے اسے دیکھا تھا۔
” بھوت ووت تو نہیں ہو ناں تم ؟؟”
” وہی ہوں ”
نظریں اٹھا کے وہ خیام کو دیکھنے لگی۔
” ڈائن ”
خیام کو لگا جیسے اس کی آنکھوں کا رنگ بھی بدل رہا ہو ، پہلے اسے آنکھیں سیاہ لگی تھی اب سرمئی لگ رہی تھی۔ وہ ٹیبل پہ دونوں ہاتھ رکھ کے ، اس کی طرف جھکتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا جبکہ وہ بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھ رہی تھی۔
” میں ایک خوبصورت ڈائن ہوں، ایک خیال ، ایک دھوکہ ”
خیام سیدھا ہوتا ہاتھ جوڑ کے اسے دیکھتا ٹیبل کے پیچھے سے نکلا تھا۔
” مجھے گھر جانا ہے محترمہ، اٹھئیے آپ گھر جائیے پلیز ”
ساتھ ہی گلاس وال سے باہر دیکھنے لگا جہاں سب اپنی ڈیوٹی دینے میں لگے ہوئے تھے ۔
” میں مرڈر کر چکی ہوں ”
وہ رکا تھا، مسفرہ کا لہجہ اب بھی بےتاثر تھا ۔
” مجھے لگتا ہے کوئی سستا نشہ کر کے آئی ہے آپ ”
خیام نے اس کا مذاق ہی بنایا تھا لیکن اس کا چہرہ بےتاثر تھا۔
” میں نے اسے سمندر میں پھینک دیا مرڈر کرنے کے بعد ۔ ”
وہ اب بھی کہہ رہی تھی ۔
” اچھا پھر ؟؟”
خیام نے آنکھیں گھمائی تھی۔
” پھر میں یہاں آ گئی ”
خیام نے ایک نظر اسے دیکھا تھا اور پھر سر جھٹک کے وہ دروازہ کھول کے اپنے آفس روم سے باہر نکل کے اسوہ کے پاس آیا تھا۔
” یار پلیز اس لڑکی کو دیکھ لو ۔ مجھے بہت ضروری کام سے جانا ہے ”
وہ ایک نظر شیشے کے پار اس لڑکی کو دیکھتا کہنے لگا جو اس کے آفس میں براجمان تھی اور پھر تھکی تھکی سی سانس خارج کی تھی ۔
” اوکے سر ”
اسوہ اثبات میں سر ہلاتی اس کے آفس روم کی طرف بڑھی تھی جبکہ خیام مڑ کے باہر کی طرف بڑھ گیا تھا کہ اسے ایک ضروری کیس کے سلسلے میں جانا تھا اور اس کا ٹائم یہ لڑکی مسفرہ ضائع کر رہی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” پوری دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور میرا بیٹا وہیں کا وہیں پڑا ہوا ہے ”
وجدان ملک جب سے پارٹی سے آئے تھے اپنے بیٹے حکان ملک پہ گرج رہے تھے جبکہ وہ لیپ ٹاپ چھوڑ کے اپنے باپ کو دیکھنے لگا۔ ۔
” جب سے پارٹی سے آئے ہیں ایک ہی بات کیے جا رہے ہیں ۔ سن چکا ہوں میں کہ عاریز شازم خان Prosecutor بن چکا ہے ، اور اس کے ڈیڈ بہت فخر محسوس کر رہے ہیں۔
Please dad say something new . ”
وجدان ملک کو اس کے انداز سے مزید تپنے لگا اور ساتھ ہی وہ لبنی کو دیکھنے لگا ۔
” دیکھ رہی ہو تم اپنے بیٹے کو ؟؟ یہ چال چلن ہیں اس کے ، میری کیوں سنے ؟؟ کیوں سنے یہ بندہ میری ”
وہ گرج رہے تھے جبکہ حکان اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کے خود بھی کھڑا ہو چکا تھا۔
” گڈ نائٹ ”
وہ جانے لگا جب وجدان ملک کی آواز پہ اسے رکنا پڑا۔
” کہاں جا رہے ہو تم ؟؟ میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی ”
” رات کے گیارہ ہو رہے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ سو جانا چاہیئے، نیکسٹ ڈوز کل صبح بریک فاسٹ میں۔ ”
وہ کہتا سیڑھیاں چڑھنے لگا جبکہ وجدان ملک کا عتاب اب لبنی پہ گرنے والا تھا ، تبھی اس کی طرف مڑا تھا وہ ۔
” تمہاری ڈیل کا نتیجہ ہے یہ ، اگر میری بات مان کے ایبارشن کروا لیتی تو ایسے دل نہ جلتا میرا ، دن رات اسے دیکھ کے ، پچھتاوے ڈس رہے ہیں مجھے اب ”
” کیا کر رہے ہو ، چپ رہو وہ سن لے گا ، بیٹا ہے تمہارا ”
لبنی سیڑھیوں کی طرف دیکھتی پریشانی سے کہنے لگی ۔
” نہیں چاہئے مجھے یہ بیٹا، موت کی خبر ملے اس کی تو قسم سے سب سے زیادہ میں خوش ہونگا ”
وہ چلایا تھا۔
” بس کر دیں وجدان ، اللہ نہ کریں کیسی باتیں کر رہے ہو ”
لبنی کو غصہ آیا تھا جبکہ وہ کندھے اچکا گیا ۔
” وہی جو سن رہی ہو ۔ ”
وجدان ملک کی زبان کو لگام لگانے والا شاید ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ لبنی لب بھینچ گئی ، سخت نظروں سے اس مغرور شخص کو دیکھتی وہ نظریں پھیر گئی تھی ۔ سر جھٹک کے وہ آگے بڑھی تھی ۔
” کہاں جا رہی ہو تم اب ؟؟”
لہجہ اور الفاظ اب بھی سخت تھے ، لبنی سرد نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔
” اپنے روم میں۔۔ ”
دانت پیستی اس نے ہر لفظ پہ زور دیا تھا۔
” میرے لئے چائے کا کہہ کے اپنے روم میں جاؤ ”
پرسکون انداز میں صوفے پہ پھیل کے بیٹھتا وہ اپنا موبائل دیکھنے لگا جبکہ لبنی اسے سرد نظروں سے دیکھتی کچن کی طرف بڑھ گئی کہ ملازمہ سے چائے بنانے کا کہے ۔ اس شخص کے منہ لگنا اسے ہمیشہ تکلیف کا باعث ہی بنتا تھا۔ لیکن لا حول ولا قوۃ پڑھنے کے سوا وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
