Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 29

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 29

بلکل اچانک، کسی نے اس درندے کو، اکاسمہ کے وجود سے کھینچ کے، ایسے دور پھینکا تھا کہ اس درندے کے ناخن، اکاسمہ کے کندھے کی جلد چیر گئے تھے۔ وہ تڑپ کے چیخی تھی۔ وہ درندہ پاس جلتے آگ کے شعلوں میں جا گرا تھا۔ وہ چلایا تھا جبکہ اکاسمہ متواتر چیختی جا رہی تھی۔ اپنے نیم برہنہ وجود کو دو ہاتھوں سے ڈھانپنے کی کوشش کرتی، وہ چیخ رہی تھی۔ عجیب سوز پنہاں تھا اس کی چیخوں میں۔ غم، غصہ، خوف، بےاعتباری، درد، سوگ !!!
اچانک کہیں سے، گولیاں چلی تھی جو اس درندے کے وجود کو چیرنے لگی اور وہ خون میں، وہیں آگ میں جھلستا، نیچے زمین بوس ہواتھا۔ حکان نے حیرت سے چاروں طرف دیکھا لیکن پھر تیزی سے آگے بڑھ کے، اپنا کوٹ اتار کے، اکاسمہ کے وجود کو ڈھانپ لیا تھا۔
” ہشششششش، اکاسمہ ریلیکس، سب ٹھیک ہے، دیکھو سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔ ہئی اکاسمہ ”
حکان ملک اس کے سامنے کسی شیلڈ کی طرح کھڑا تھا کہ اگر اکاسمہ بھی ان گولیوں کا نشانہ بننے لگے تو وہ گولیاں حکان کو ہی لگے۔ آہستگی سے اسے لیے، دیوار کے دوسری طرف گیا جو ذرا اندر کو دھنسا ہوا تھا اور یہاں سے وہ آسانی سے، کسی کی نظر میں نہیں آ سکتے، نرمی سے اس کے کندھے کو، دونوں ہاتھوں سے سہلایا تھا، وہ اب گہرے سانس لینے لگی، اس کا لرزتا وجود، حکان کی نظروں سے پوشیدہ نہیں تھا۔ خیام بھی اپنی ٹیم کے ساتھ پہنچ گیا تھا۔ وہیں کھڑے اس نے تشکر بھری نگاہوں سے حکان کو دیکھا تھا اور پھر اکاسمہ کو۔ جو اسے ہی خوفزدہ آنکھوں سے، دیکھ رہی تھی۔ ان آنکھوں میں امید اور ناامیدی تھی۔ اس کے لب کانپے تھے اور پھر نیم وا ہوئے تھے۔
” ع۔۔۔۔۔ ع۔۔۔ اریز!!!!”
خیام کی آنکھیں بھیگی تھی اور نفی میں سر ہلاتے، اس نے لب بھینچ لیے تھے۔ اکاسمہ کی آنکھیں پہلے حیران ہوئی، ان آنکھوں میں خوف ابھرا، ناامیدی کی تہہ جم گئی اور پھر وہ چیخ کے دیوار سے جا لگی تھی۔ خیام نے تیزی سے آگے بڑھ کے، اسے خود سے لگایا تھا۔ کندھا ملتے ہی، وہ چلا چلا کے رونے لگی جبکہ خیام نے لب بھینچے، آتش دان کے قریب پڑے، اس مردہ وجود کو دیکھا تھا اور پھر حکان کو، جو اب نظریں چرا کے دوسری طرف دیکھنے لگا۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

سب ختم ہو گیا تھا، ایسے جیسے، سب ساکن ہو گیا ہو۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے آنکھیں چرا رہا تھا۔ اکاسمہ سے کوئی بھول کے بھی، آنکھیں نہیں ملاتا تھا کہ ان آنکھوں کے سوگ کو سہنا محال ہی تھا سب کے لئے۔ رسم و رسوم کے مطابق، نماز جنازہ ادا کی گئی۔ تابوت کو قبر میں اتارا گیا۔ خیام کو سب دھندلا سا لگنے لگا۔ اپنی آنکھوں کی نمی صاف کرتے، اس نے دائیں طرف دیکھا تو بارز کو ایک طرف جاتے دیکھا، دور کوئی شخص سیاہ لباس میں کھڑا، جیسے بارز کا منتظر تھا۔
سر جھٹکتے، اس نے دوبارہ دیکھنے کی کوشش کی، وہ بارز ہی تھا جو کسی سیاہ لباس پہنے شخص کے قریب جا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے تعاقب میں، حکان نے بھی دیکھا تھا۔ دونوں کی نظریں ایکدوسرے سے ملی اور پھر خیام تیزی سے، بارز کی طرف چلنے لگا۔
خیام کے اس کی طرف چلتے ہی، کچھ لمحے بعد، بارز رکا تھا اور پھر وہ سیاہ لباس میں موجود شخص، جھاڑیوں کے پیچھے اوجھل ہوا تھا جبکہ بارز، پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے، ادھر ادھر پاؤں مارتا، مڑ کے خیام کو دیکھنے لگا۔ خیام لب بھینچے رک چکا تھا لیکن کچھ خیال آنے پہ، وہ تیزی سے اس طرف بھاگا تھا جہاں سے وہ سیاہ لباس میں موجود شخص، غائب ہوا تھا۔
” ن ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ نہیں ”
بارز خوفزدہ ہو کے چلایا تھا جب عفان کی نظر، بارز ہہ پڑی اور وہ تیزی سے بارز کی طرف بڑھا۔
” شٹ، ”
خیام کو وہ شخص کہیں نظر نہ آیا تو کمر پہ دونوں ہاتھ رکھ کے، وہیں رک گیا اور مڑ کے بارز اور عفان کو دیکھنے لگا۔
” کیا ہوا ؟؟”
عفان کے سوال پہ اس نے کندھے اچکائے تھے۔
” عاریز خان قاتل ابھی بھی زندہ ہے شاید ”
پھر وہ بارز کو دیکھنے لگا اور اس کے قریب آیا۔ بارز نے نظریں چرائی تھی، خیام کے یوں غور سے دیکھنے پہ۔
” کون تھا وہ ؟؟”
” ک ۔۔۔ کون ؟؟”
وہ نظریں چراتے، رخ بھی موڑنے لگا۔
” وہی، جس سے ملنے جا رہے تھے تم ۔ کون تھا وہ ؟؟”
خیام استفسار کرنے لگا۔
” ک ۔۔۔ کوئی نہیں ”
وہ رخ موڑ چکا تھا۔ خیام نے عفان کی طرف دیکھا جو ابھی سنجیدگی سے، بارز کو دیکھ رہا تھا۔ خیام نے بنا کچھ کہے، بارز کا کندھا سہلایا، جس سے وہ ڈر کے، عفان کے پیچھے چھپ گیا۔ خیام سر جھٹک کے، سامنے دیکھنے لگا جہاں دعا ہو رہی تھی۔
” چلتے ہیں ”
یہ کہہ کے وہ آگے بڑھا جبکہ عفان، خود سے لگے بارز کو لیے، خیام کے پیچھے ہی آنے لگا لیکن خیام کو پکا یقین ہو چکا تھا کہ جو آئے دن، سیریل کلر کے نام پہ، جن لوگوں کو، موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ وہ تو بس کٹھ پتلے ہیں۔ اصل بندہ تھا کوئی اور ہے، جو ان سب کو کنٹرول کر رہا ہے، لیکن کون ؟؟؟

《《《《《《《《》》》》》》》》

عاریز شازم خان، کے نام کا کتبہ لگا ہوا تھا جسے وہ بار بار دیکھ رہی تھی، پڑھ رہی تھی، زیر لب نام دہرا رہی تھی، ہاتھ پھیر رہی تھی اس نام پہ، لیکن بےسود، جانے والے نے، کہاں واپس آنا ہوتا ہے۔ بھیگی آنکھیں اب مٹی کو دیکھ رہی تھی، جس مٹی کے تلے دب کے، وہ شخص ہمیشہ کے لئے، اس سے رخ پھیر گیا تھا۔ خاموش آنسوؤں نے سسکی سی لی اور پھر ہچکیاں سی بندھ گئی۔
” عاریز، عاریز ۔۔۔۔۔۔ یہ سب ؟؟؟ کیسے مجھے چھوڑ گئے تم یہاں؟؟ اس سب کے بیچ ؟؟ میں، اب کیسے جی پاؤں گی عاریز؟؟ کیسے ؟؟ ”
فاصلے پہ، درخت کے قریب بیٹھا حکان اسے نم آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ کون تھا وہ شخص؟؟ جو اس کی جان کا دشمن بن بیٹھا تھا؟؟ جو خود تو کہیں چھپا بیٹھا تھا لیکن اس کے مرید، کٹھ پتلیوں کی طرح، اس کے اشارے پر ناچتے، اکاسمہ کو ہر طرح کا نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے ۔ آخر کیوں ؟؟ اکاسمہ ہی کیوں ؟؟ دنیا میں انسانوں کی کمی تو نہیں؟؟ یا پھر یوں کہا جائے کہ اس کراچی میں تو انسانوں کی کمی نہیں، پھر اکاسمہ ہی کیوں؟؟
عدیل حیات؟؟ عاریز خان کے ماسک، کے پیچھے چھپا، عدیل حیات؟؟ اسے یاد آیا کہ وہ ایک رپورٹر تھا۔ خیام نے بتایا کہ یہ وہ تھا، جو اکاسمہ اور عاریز کی شادی کے فنکشن پہ، اکاسمہ کے لئے، زہرالود پھولوں کا بوکے لایا تھا۔ تو ؟؟؟ وہ خود کو عدیل حیات کیوں بتا رہا تھا ؟؟ معلومات اکٹھا کرنے پہ، پتہ چلا کہ اس کا نام آذر رحمان تھا۔ تو یہ عدیل حیات؟؟؟
اس کی نظریں اب بھی اکاسمہ تھی جبکہ اس کی حسیات چاروں طرف گھوم رہی تھی۔ اکاسمہ وہیں سر رکھے، خاموش آنسو بہاتی، نرمی سے اس قبر کی مٹی پہ ہاتھ پھیر رہی تھی۔ خیام کو اس اصل قاتل کی کھوج تک پہنچنا تھا، تبھی وہ حکان کو، اکاسمہ کے حفاظت کی ذمہ داری سونپ گیا تھا۔ عفان کو بھی گھر پہ، تمام رسومات کی ادائیگی کے فرائض انجام دینے تھے۔ اکاسمہ کی ذہنی حالت اس قدر ابتر تھی کہ وہ زبردستی یہاں آئی تھی۔ اس کی جان کو اب بھی خطرہ تھا۔بارز سے ملنے والا وہ شخص، نہ جانے کون تھا ؟؟ یہی لگ رہا تھا کہ خطرہ اب بھی ہے، وہ خطرناک قاتل ابھی بھی زندہ ہے۔

《《《《《《《《《》》》》》》》》

” آپ کو اپنے ہزبینڈ کے مرڈر کیس میں گرفتار کیا جا رہا ہے ۔”
اچانک جیسے بم پھوڑا گیا ہو اس گھر کے مکینوں پہ۔ وہ ساکت آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑی پولیس کو دیکھ رہی تھی جبکہ عفان چلایا تھا۔
” کیا بکواس ہے یہ ؟؟ میری بہن اپنے ہزبینڈ کا کیوں مرڈر کرے گی ؟؟”
پولیس نے اس کی طرف سرد آنکھوں سے دیکھا تھا۔
” تمیز سے بات کریں ڈاکٹر عفان۔ ”
پھر اس نے لیڈی کانسٹیبل کی طرف اشارہ کیا تھا۔
” اریسٹ ہر ”
لیڈی کانسٹیبل، اکاسمہ کی طرف بڑھنے لگی جبکہ وہ ملکہ سے لگ گئی تھی۔
” مما، روکے انہیں، میں نے کچھ نہیں کیا ۔ بابا ۔۔۔”
وہ خوفزدہ آنکھوں سے سب کو دیکھ رہی تھی۔ جب فیاض حیات آگے بڑھے تھے۔
” کس بل بوتے پہ آپ میری بیٹی کو اریسٹ کر رہے ہیں؟؟ پیچھے ہٹئیے ”
وہ اپنی بیٹی کی دگرگوں حالت دیکھ رہے تھے اور اب یہ نئی افتاد نے، جیسے کوئی بم ہی پھوڑ دیا گیا ہو اس گھر پہ۔
” آپ کی بیٹی نے دو قتل کیے ہیں۔ایک تو اپنے ہزبینڈ کا اور دوسرا عدیل حیات نام کے رپورٹر کا۔ ”
” ن ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ میں نے ، بابا میں نے کچھ نہیں کیا ”
وہ رونے لگی۔ ملکہ بھی رو رہی تھی اپنی بیٹی کی حالت پہ۔ فیاض حیات اسے خود سے لگائے، پولیس کو سرد آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
” میری بیٹی نے کچھ نہیں کیا۔ ہاتھ نہیں لگائے گا کوئی میری بیٹی کو۔ پیشہ ور وکیل ہے میری بیٹی۔ ایسے گھٹیا کام کیوں کرے گی ؟”
فیاض حیات کی آواز میں دھاڑ کی کیفیت تھی۔ لیڈی کانسٹیبل رک چکی تھی جبکہ اس پولیس آفیسر نے لب بھینچ لیے تھے۔
” فیاض صاحب ہم زبردستی کرنے کے قائل نہیں ہیں لیکن آپ ہمیں مجبور کر رہے ہیں۔ ”
” میں اپنی بیٹی کے لئے، ڈھال کی صورت ہی کھڑا رہوں گا۔ ”
انہوں نے، ان میں سے کسی کو بھی اکاسمہ کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ ایک بار وہ اکاسمہ کو تنہا چھوڑنے کی غلطی کر چکے تھے لیکن اب مزید وہ یہ غلطی کبھی نہیں دہرانا چاہتے تھے۔
” آپ خود ایک جج رہ چکے ہیں۔ آپ قانون کو ہاتھ میں لے رہے ہیں ”
” تو ؟؟؟ ”
پولیس آفیسر اور لیڈی کانسٹیبل خاموشی سے ان کو دیکھنے لگے۔
” آپ کی بیٹی کو تو جانا ہی ہوگا پولیس اسٹیشن، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ ہم زبردستی کرتے اب اچھے نہیں لگے گیں، باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔”
” تمیز سے بات کریں۔۔۔ ”
عفان غصے سے آگے بڑھا تھا لیکن فیاض حیات نے ہاتھ بڑھا کے، اسے روک لیا تھا اور پھر پولیس آفیسر کو دیکھنے لگے۔
” میں خود چلتا ہوں اپنی بیٹی کے ساتھ ۔ ہاتھ مت لگانا کوئی میری بیٹی کو ”
پولیس آفیسر نے آنکھیں گھمائی تھی جبکہ اکاسمہ اپنے بابا کو بھیگی خوفزدہ آنکھوں سے دیکھنے لگی۔
” کچھ نہیں ہوتا میرا بچہ، میں چلتا ہوں آپ کے ساتھ، ہم ایک ساتھ واپس گھر آئیے گیں۔ ”
” میری بیٹی بےگناہ ہے۔ ”
ملکہ کے رونے میں شدت آ گئی تھی۔
” بابا آپ۔۔۔ ”
عفان نے کچھ کہنا چاہا لیکن فیاض حیات نے اسے روک لیا۔
” اپنی ماں اور بھائی کا خیال رکھو میرے آنے تک ”
عفان نے مٹھیاں بھینچ لی جبکہ فیاض حیات اپنی بیٹی کے ساتھ آگے بڑھے تھے۔ پولیس آفیسر اور لیڈی کانسٹیبل بھی ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ یہ سب دیکھ کے ملکہ کا دل ڈوب گیا تھا ۔ یہ کون سے عذاب تھے جو ان کی بیٹی پہ نازل ہو رہے تھے۔ وہ چکرا کے، دل پہ ہاتھ رکھے صوفے پہ ڈھے گئی۔
” امی ۔۔۔۔”
عفان تیزی سے ان کے قریب آیا تھا۔
” میری بچی، عفان۔۔۔۔ میری بچی “

《《《《《《《《《》》》》》》》》

” کس بل بوتے پہ یہ بکواس کر رہے ہیں اپ ؟؟”
خیام لب بھینچے سرد آنکھوں سے، اپنے سامنے موجود پولیس افیسر جہانگیر کو دیکھ رہا تھا جبکہ وہ اپنی کنپٹی سہلانے لگا۔
” سر جی، ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ اسی نے قتل کیا ہے اپنے شوہر کا ”
” تمیز سے ۔۔۔ لائیر اکاسمہ عاریز خان ہیں۔ ”
خیام نے ہاتھ سامنے ٹیبل پہ زور سے مارتے کہا تھا جبکہ جہانگیر چونک کے پیچھے ہوا تھا ۔
” عاریز خان تو رہے نہیں سر ”
اکاسمہ نے آنکھیں میچ لی تھی کہ دل اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب کے ابھرا تھا۔
” شٹ اپ ”
خیام کی سرد آواز گونجی تھی ۔
” کیا ہو رہا ہے یہاں؟؟”
بھاری اواز پہ، سب مڑ کے پیچھے دیکھنے لگا جبکہ خیام نے سر سے پاؤں تک اس آنے والے کو دیکھا تھا۔ جہانگیر تیزی سے اٹھ کے، سلوٹ کرتا کھڑا ہوا تھا۔
” اسلام علیکم سر ”
خیام نے آبرو اچکا کے، اپنے افیسر جہانگیر کو دیکھا تھا اور پھر سے سامنے والے کو۔
” سر، ہم اکاسمہ۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے لائیر اکاسمہ کو لے آئے ہیں۔”
اس شخص کی نظریں اب اکاسمہ پہ رکی تھی جب اچانک خیام اس کے سامنے آ رکا کہ وہ شخص اب اکاسمہ کو نہیں بلکہ خیام کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے لبوں پہ عجیب سی مسکراہٹ آئی تھی ۔
” افیسر خیام ”
” آپ کی تعریف ؟؟”
خیام نے بنا ہچکچاہٹ سوال کیا تھا۔
” آپ انہیں نہیں جانتے سر جی ۔۔۔۔ یہ ”
جہانگیر تیزی سے آگے بڑھتا کہنے لگا۔
” شٹ اپ ”
خیام نے بھرپور گھوری دی تھی اسے کہ وہ چپ ہو کے پیچھے ہوا تھا وہ اب پھر سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ رہا تھا۔
” میں سینئیر پرازیکیوٹر آذر خان ہوں اور مجھے پرازیکیوٹر عاریز خان کے مرڈر کیس کے سلسلے میں تفتیش کرنے ے کے لئے کہا گیا ہے ”
خیام نے آبرو اچکائے تھے۔
” آپ یہاں کب آئے؟؟”
” کل ہی ۔۔۔ ”
اس نے بھاری اواز میں کہا تھا۔
” کس بیس پہ، اپ میم اکاسمہ کو یہاں لائے ہیں؟؟؟ کہ وہ اپنے ہزبینڈ کا مرڈر کر چکی ہے ؟؟”
اکاسمہ کے ہاتھ کی گرفت، کرسی کے ہینڈل پہ سخت ہوئی تھی جبکہ آذر خان، خیام کے بغل شٹ جھانکنے کی کوشش کرتا، اکاسمہ کو دیکھنا چاہتا تھا جب خیام مزید جم کے کھڑا ہوا۔
” آفیسر خیام، آپ ایک پولیس آفیسر ہے اور غالبا آپ کے مقابل ایک سینئر پرازیکیوٹر کھڑا ہے تو میرا رتبہ آپ کے رتبے سے اونچا ہے اس لئے بہتر ہوگا کہ آپ میرے معاملات میں دخل اندازی نہ کریں اور مجھے میم اکاسمہ سے بات کرنے دیں ”
خیام لب بھینچ گیا جبکہ آذر خان آگے بڑھا اور جہانگیر نے تیزی سے اپنی سیٹ افر کرتے، سائیڈ پہ ہو گیا تھا اور اب آذر خان، سیٹ پہ بیٹھا اکاسمہ کے متورم چہرے کو دیکھ رہا تھا جبکہ اکاسمہ لب بھینچے دوسری طرف دیکھنے لگی۔
” جی تو مس اکاسمہ، کیوں مرڈر کیا آپ نے اپنے ہزبینڈ عاریز خان کا؟؟”
اس اچانک کیے گئے سوال پہ، اکاسمہ اپنے آنسوؤں کو پیتی، آذر خان کو دیکھنے لگی۔
” میں اپنے ہزبینڈ کا مرڈر کیوں کروں گی ؟”
بنا ڈرے، اس نے سپاٹ لہجے میں پوچھا تھا۔
” یہ تو آپ کو پتہ ہوگا۔ میں تو وہاں تھا نہیں ”
خیام مٹھیاں بھینچ گیا کہ اپنی اس کزن سے وہ بےحد محبت کرتا تھا اور اس پہ آنچ تک آنے نہیں دیتا اور اس وقت یہ آذر خان، اسے زچ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
” چاقو کا استعمال زیادہ کیا یا ریوالور کا ؟؟ ”
وہ پھر سوال کر رہا تھا جبکہ اکاسمہ کی آنکھیں بھر ائی۔ اس ذکر پہ ایسے لگ رہا تھا جیسے اس کے وجود کا سارا خون نچوڑ دیا گیا ہو۔
” میں عاریز سے محبت کرتی تھی۔ میں کیوں قتل کروں گی اپنے عاریز کو”
اسکی اواز بھرا گئی کہ یہ ذکر ہی گراں گزر رہا تھا ۔
” قتل کرنے کے بعد، کون کہتا ہے کہ ہاں میں نے قتل کیا ہے۔ ”
آذر خان ہاتھ ٹھوڑی پہ ٹکائے کہہ رہا تھا جبکہ اکاسمہ کچھ کہے بنا، سر جھکا کے بمشکل آنسوؤں کو روکنے لگی۔
” پرازیکیوٹر۔۔۔۔ ”
خیام جو کہنے جا رہا تھا۔ آذر خان نے ٹوک دیا۔
” سینئیر پرازیکیوٹر ”
خیام نے لب بھینچ لیے تھے۔
” سینئیر پرازیکیوٹر آذر خان، لائیر اکاسمہ اور پرازیکیوٹر عاریز خان کے بیچ ریلیشن ہمیشہ سے محبت بھرا رہا ہے ”
” کیوں آپ ان کے بیچ میں تھے؟؟ ”
” کیا کہہ رہے ہیں اپ؟؟ سوچ سمجھ کے بات کریں۔ میری بیٹی کے متعلق بات ہو رہی ہے ”
فیاض حیات کی سرد اواز پہ آذر خان چونکا تھا ۔
” سوری سر۔ آپ تو میرے لئے قابل احترام شخصیت ہیں۔سوری ”
” گڈ ایوننگ۔۔۔۔ ایم شیور ایم ناٹ لیٹ ”
حکان یونیفارم میں موجود، دروازے پہ کھڑا سب کو دیکھ رہا تھا اور پھر سپاٹ چہرے کے ساتھ، آگے بڑھ کے، وہ ایک فائل آذر خان کے سامنے رکھ گیا تھا۔
” یہ کیا ہے ؟؟”
” حکان ملک، میں لائیر اکاسمہ میم کا لائیر ہوں اور یہ فائل ہیں ان کی۔ اس فائل کے مطابق، آپ کسی بھی شک کی بنیاد پہ یا پھر کسی بھی انویسٹیگشن کے تحت، بنا کسی بھی پروف کے،نہ میم اکاسمہ کو یہاں بلانے کا حق رکھتے ہیں۔نہ ان کے گھر جا کے، انہیں حراست میں لینے کا حق رکھتے ہیں اور نہ ہی میم اکاسمہ کو نظر بند رکھنے کا حق رکھتے ہیں اور نہ ہی ۔۔۔۔۔ یہ جو آپ یوں سامنے بیٹھ کر، میری کلائنٹ سے ایسے سوال پوچھ کے، انہیں حراس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس کا بھی حق نہیں رکھتے ۔اب آپ یہ کہے گیں کہ میں سینئیر پرازیکیوٹر آذر خان ہوں۔ ایک لائیر ہو کے، تم مجھ سے سوال کرنے کا حق نہیں رکھتے تو بتا دیتا ہوں کہ میں سینئیر لائیر وجدان ملک کا بیٹا حکان ملک ہوں۔ دوسری بات کہ میں اپنی کلائنٹ سے متعلق ہر اعتراض کرنے کا حق رکھتا ہوں اور تیسری اور سب سے امپورٹنٹ بات ۔۔۔۔۔ جوڈیشری سید فیضان شاہ، کی اجازت سے میں یہ فائل آپ کے سامنے رکھنے کی گستاخی کر چکا ہوں ۔ تو پلیز ”
خیام زیر لب مسکرایا تھا۔ فیاض حیات بھی اسے ہی دیکھ رہے تھے جبکہ حکان ملک، سب کو مسکراتی آنکھوں سے دیکھتا، اب اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا جو حیران بھیگی آنکھوں سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔کیا تھا یہ شخص؟؟ کون تھا یہ شخص ؟؟ جو ہمیشہ اسے ہر مصیبت سے بچانے پہنچا ہوتا، بنا اسے اواز دیے،بنا کسی سوال جواب کے۔ وہ بس حاضر ہوتا۔
” اممممم ۔۔۔۔ ”
آذر خان کی اواز پہ، حکان ملک اسے آبرو اچکا کے دیکھنے لگا ۔
” کچھ زیادہ ہی کانفیڈنت ہیں آپ لائیر حکان ملک۔ ”
“تھینک یو ۔۔۔ ”
اس نے فورا جواب دیا تھا جبکہ آذر خان نے اکاسمہ کی طرف دیکھا تھا جو لب بھینچے نظریں جھکا گئی تھی۔
” آپ مجھ سے سوال کر سکتے ہیں میری کلائنٹ سے متعلق۔ ”
حکان نے تیزی سے کہا تھا جب آذر خان کے آبرو تن گئے تھے۔
” قانون جانتا ہوں میں ”
وہ فائل بند کرتا، حکان ملک کی طرف بڑھا چکا تھا۔ جسے وہ تھامتا، خیام ملک کی طرف دیکھتا انکھ ونک کر گیا تھا جبکہ آذر خان غصے سے کھڑا ہوتا، ان سے پہلے ہی وہاں سے جانے لگا۔ جہانگیر اب مسکراتے ہوئے حکان ملک کو دیکھنے لگا۔
” چائے، کافی ؟؟ سر جی ؟؟”
” اپنا کام دھیان سے کرو تم ۔۔ ”
انگلی اٹھا کے، اسے وارن کرتا، وہ اس وقت وہی حکان ملک بن چکا تھا ۔ جو اسے ہونا چاہئے۔ سرد اور سفاک۔ جہانگیر نظریں چراتے تیزی سے پیچھے ہوا تھا۔
” سوری سر۔ ”
“یہ وجدان ملک جیسے شخص کا بیٹا، اتنا obedient اور loyal کیسے ؟؟”
باہر جاتے ہوئے، فیاض حیات، خیام سے پوچھنے لگے جبکہ خیام نے کندھے اچکا کے، صرف مسکرانے پہ اکتفا کیا تھا۔ کہ حکان ملک جو تھا، وہ صرف وہی جانتا تھا۔اس کی شناخت پوشیدہ تھی سب سے۔

《《《《《《》《》》》》》《《《》》

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *