The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 41
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 41
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 41
گاڑی سے اتر کے، وہ گہرا سانس لیتی، سیڑھیاں چڑھتی، کورٹ میں داخل ہوئی تھی۔ وہ ہر روز یہاں آتی تھی۔ ہر روز حکان کے ساتھ ہی، یہاں داخل ہو کے اندر جاتی تھی لیکن کبھی بھی ایسا نہیں ہوا تھا جیسے آج ہو رہا تھا۔ کبھی بھی یوں نہیں ہوا تھا کہ دل کی دھڑکنیں مدھم پڑ کے تیز ہوئی ہو جیسے آج ہو رہی تھی، ہر قدم کے اٹھتے ہی، اسے بےچینی محسوس ہو رہی تھی۔
شاید اس لئے کیونکہ آج پہلی بار اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ بار بار عاریز کا حوالہ دے کے، اس کا دل توڑنے کا سبب بنتی رہی تھی یا پھر اس سے پہلے وہ کبھی یوں نظرانداز نہیں ہوئی تھی جیسے آج صبح، حکان اسے اگنور کر گیا تھا یا پھر شاید اس لئے کہ، وہ حکان کے اس رویے کی عادی نہیں رہی تھی۔
دروازے کے قریب پہنچ کے، وہ رکی اور لب کاٹتی دروازے کو دیکھنے لگی جس کے دوسری طرف وہ شخص تھا، جس کا، آج کا رویہ اسکی بےچینی کا سبب بنا تھا۔ وہ بھی تو ناراض سا گیا تھا گھر سے۔ اب کچھ تو کرنا بنتا تھا، اتنا وہ اکاسمہ کے لیے کر چکا تھا تو اس کا بھی فرض تھا کہ اس کی ناراضگی کو، اپنے کچھ اچھے الفاظ سے ختم کر دے۔
دروازہ کھول کے وہ اندر داخل ہوئی تھی لیکن اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئی جب اس نے حکان کے ہنستے ہوئے چہرے کو دیکھا اور اس سے بھی زیادہ حیرانی ہوئی جب اس کی نظر، وہاں بیٹھی ایک خوبصورت لڑکی پہ گئی۔ جو ہلکے میک اپ کے ساتھ، اپنے گھنگھریالے بال، کندھے پہ ڈالے، ہنسی روک کے، اکاسمہ کو دیکھنے لگی۔ جبکہ اکاسمہ لب بھینچے اب حکان کو دیکھ رہی تھی جو اپنی جگہ سے اٹھ کے، تیزی سے اس کے قریب آیا تھا۔
” اکاسمہ تم ٹھیک ہو ؟؟”
نہ جانے کیوں، حکان کو یوں ہنستا دیکھ کے، اکاسمہ کا چہرہ لتے کی طرح سفید پڑ چکا تھا جسے حکان دیکھ کے، پریشان سا اس کے قریب آیا تھا۔
” ہمممم ۔۔۔ ”
وہ اب بھی بنا کچھ کہے، ناگواری سے حکان کو دیکھ رہی تھی۔ اس کہ ناراضگی کا سوچتے، وہ تقریبا اپنے حواس کھو بیٹھی تھی اور اسے دیکھو کیسے ہنس رہا ہے ۔ وہ عورت بھی کھڑی ہو کے، ان دونوں کو دیکھ رہی تھی جب اکاسمہ کی نظر اس پر گئی تو حکان کو ان دونوں کے تعارف کا اچانک سے خیال آیا تھا۔
” اوہ، ایرسا شی از مائی وائف اکاسمہ اور اکاسمہ یہ ایرسا ہے، ہم کچھ ٹائم تک امریکہ میں ایک ساتھ کام کرتے آئے ہیں۔ ”
” تو تم ہو دا گریٹ حکان ملک کی وائف۔۔۔۔ نائس ٹو میٹ یو ”
اس نے مسکرا کے مصافحے کے لئے، ہاتھ بڑھایا جبکہ اکاسمہ کا دل بےساختہ چاہنے لگا کہ اس کے منہ پہ بول دے۔
‘ مجھے بلکل تم سے مل کے خوشی نہیں ہوئی، اب دفعہ ہو جاؤ یہاں سے ‘
لیکن ہاتھ ملا کے، اس نے بس ہنکارا ہی بھرا تھا۔
” میں چلتی ہوں، مجھے ضروری کام ہے ”
وہ حکان کو دیکھے بنا مڑ کے جانے لگی جبکہ حکان کو لگا کہ وہ اب بھی اسے اہمیت نہیں دیتی، دل پہ یاسیت سی چھا گئی لیکن وہ خاموش رہا۔
” لگتا ہے تمہاری وائف کو میں زیادہ پسند نہیں آئی ”
ایرسا نے بلکل اچانک کہا جبکہ حکان سر جھٹک گیا۔ وہ اب اسے کیا بتاتا کہ وہ خود ہی نہیں پسند اکاسمہ کو، مجبوری کا رشتہ نبھا رہی ہے وہ ۔
لیکن وہ خاموش رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر نکل کے اکاسمہ نے لب بھینچ لیے، اس کے ماتھے پہ بل پڑے ہوئے تھے جبکہ آنکھوں میں غصے کی جھلک تھی۔ اب یہ کون سا نمونہ آ گئی تھی ان کے بیچ ۔ تو ذرا سا بات پہ، اب حکان اسے نطرانداز کر کے، کسی دوسری عورت سے رشتہ بنا رہا ہے۔
وہ مڑی تھی تا کہ اندر جا کے، حکان کو جھنجھوڑ کے باتیں سنائے لیکن بےسود ہی تھا۔ تبھی سر جھٹک کے، وہ تیز قدم اٹھاتی وہاں سے جانے لگی جبکہ موبائل نکال کے، وہ مسفرہ کو کال کرنے لگی ۔
” کیا تم فری ہو؟؟ میں تمہارے پاس آنا چاہ رہی تھی۔ ”
” بلکل فری ہوں، جلدی سے آ جاؤ ”
مسفرہ کی بات پہ، وہ تیزی سے باہر نکلی تھی اور دس منٹ بعد، وہ اپنے تمام مسائل سمیت، مسفرہ کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی جبکہ اداس آنکھیں سامنے رکھے کافی کے کپ کو گھور رہی تھی اور مسفرہ مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” تمہیں یہ کیوں لگتا ہے کہ حکان تمہیں پسند نہیں کرتا ؟؟”
اکاسمہ اسے ناراضگی سے دیکھنے لگی۔
” بتا تو دیا کہ اج کیسے وہ اس منحوس، چھچھوری عورت سے ہنس ہنس کے بات کر رہا تھا اور یہاں میرا دل جل رہا تھا ”
” کیا تم جانتی ہو کہ حکان آٹھ سال سے تم سے محبت میں گرفتار ہے ؟؟”
مسفرہ کے سوال پہ، اکاسمہ رک کے اسے دیکھنے لگی۔
” تو کیا آٹھ سال بعد، وہ محبت اس مرد کو ملی ہو تو وہ اس محبت کو کسی دوسری عورت کے لئے ضائع کرے گا ؟؟”
اکاسمہ کی آنکھوں میں الجھن تھی۔
” کیا کہہ رہی ہو ؟؟”
” مجھے ازمائر نے بتایا تھا۔ جس دن تم دونوں کا نکاح ہو رہا تھا تب ازمائر نے بتایا کہ حکان کا تم۔سے ہو رہا ہے اور تم وہی ہو جس کو وہ آٹھ سال سے محبت کرتا آ رہا ہے۔ خاموش محبت ”
مسفرہ نے مسکراتے ہوئے اسے بتایا جبکہ وہ اب بھی الجھن میں تھی۔
” مجھے بلکل بھی نہیں یقین اس شخص پہ، ایسا ہوتا تو اس منحوس عورت سے یوں ہنس ہنس کے بات نہ کر رہا ہوتا آج ”
مسفرہ ہنسنے لگی۔
” تو کیا وہ اسے بھی بتا دیتا کہ میری بیوی مجھ سے محبت نہیں کرتی اور نہ میری محبت کو سمجھتی ہے تو پلیز مجھے بانہوں میں بھر لو ”
آخری جملہ اس نے شرارت میں کہا تھا جبکہ اکاسمہ ناراضگی سے اسے دیکھنے لگی۔
“مذاق کر رہی ہوں۔ دیکھو اکاسمہ جتنا میں نے جانا ہے اور جتنا میں نے سنا ہے ۔ حکان بہت مغرور اور بدتمیز ٹائپ کا انسان ہے۔ وجدان ملک نے ہمیشہ اسے حقیر سمجھا ہے تبھی وہ بدلحاظ بھی ہے ۔ وہ اپنے خول میں رہنے والا انسان ہے جو صرف اپنی جاب کو امپورٹنس دیتا ہے لیکن تم سے رویہ اس کا بلکل الگ ہے۔ یاد کرو اکاسمہ، ہر مشکل وقت میں، اس نے تمہارا ساتھ دیا ہے۔ میں یہ صرف اس لئے بتا رہی ہوں کیونکہ وہ اور ازمائر بہترین دوست ہے اور میں نے اکثر دیکھا ہے اور جانتی بھی ہوں۔ وہ تم سے محبت کرتا ہے اکاسمہ تو تم خود سوچو، تم بار بار اس کے سامنے، عاریز کا نام لو گی تو اسے کیسے محسوس ہوگا؟؟ نکاح مجبوری میں نہیں ہوتے اکاسمہ۔ یہ بےحد خوبصورت احساس ہے جو خوش قسمت انسانوں کو نصیب ہوتا ہے۔
تم پہ ہر مصیبت آئی اور تب تب حکان تمہارے ساتھ تھا اور اب ۔۔ حکان سے منسوب ہونے کے بعد، کبھی کوئی خطرہ تمہارے قریب بھی آیا ہے ؟؟ یا کسی نے تمہیں کڈنپ کرنے یا قتل کرنے کی جرات کی ہے ؟؟ نہیں!! کیونکہ حکان ملک نے تمہارے ارد گرد ایک خول سا بنا دیا ہے جسے کراس کرنے کی ہمت نہیں کسی میں۔ ”
اکاسمہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ جو وہ کہہ رہی تھی بلکل صحیح کہہ رہی تھی۔
” یہ نکاح، حکان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے کبھی تم نے جاننے کی کوشش کی ؟؟ نہیں کی ناں؟؟ وہ تمہیں اگنور کر رہا ہے، بنا کوئی سخت لفظ کہے، وہ صرف اگنور کر رہا ہے تو تمہیں برا لگ رہا ہے تو سوچو جب وہ تمہارے الفاظ سنتا ہے تو اسے کیا محسوس ہوتا ہے جب تم اس نکاح کو مجبوری کا رشتہ کہتی ہو۔ ”
اکاسمہ اپنے لب کاٹنے لگی۔
” اکاسمہ محبت اور خوش قسمتی بار بار دروازے پہ دستک نہیں دیتی لیکن جب دستک دے تو آگے بڑھ کے، اسے تھام لو۔ عاریز تمہاری زندگی میں موجود ایک ماضی بن چکا ہے اب ۔ لیکن حکان تمہارا حال ہے ۔ ہم حال میں جیتے ہیں اکاسمہ، ماضی اور مستقبل میں نہیں۔ ”
اکاسمہ اپنی کنپٹی سہلانے لگی۔
” کافی پیو تاکہ انرجی آئے تم میں۔۔۔ بہنا منزلیں طے کرنی ہے آپ نے ابھی۔۔ ناراض بندے کو منانا ہے آپ نے ”
مسفرہ ہنسنے لگی جبکہ اکاسمہ کا منہ بن گیا۔
“کوئی نہیں، میں اس سے ناراض ہوں، وہ کیسے کسی اور لڑکی سے ہنس کے بات کر سکتا ہے ”
مسفرہ کی ہنسی بےساختہ تھی۔
” یااللہ۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہاں سے نکلتے ہی، اسے عفان کی کال آئی تھی جو بےحد غصے میں تھا۔ اکاسمہ بس گہری سانس بھر کے رہ گئی۔
” عفان ریلیکس، غصہ کرنے سے ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آنا۔ میں نہیں جانتی کہ ایسا کیا کیا ہے ماضی میں انہوں نے، جو ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی مجرم ہمارا ہی رشتہ دار نکل آتا ہے۔ ”
وہ کلینک کے دروازے پہ کھڑی تھی جبکہ گاڑی کے قریب کھڑا عباس اسے نظر آ رہا تھا جو اس قدر ایکٹو تھا کہ ایک لمحے کے لئے بھی اس نے غفلت برت کے، نظر ادھر ادھر نہیں کی تھی۔ وہ گہرا سانس بھر کے رہ گئی۔
وہ شخص خود، اپنی پرانی محبوبہ سے ہنسی مذاق کر رہا ہے اور میرے لئے باڈی گارڈ رکھا ہے ۔۔
ہونہہ!! آٹھ سال سے محبت !!
اس نے جل کے سوچا اور گاڑی کی طرف چلنے لگی۔
” مجھے اس بات پہ حیرت ہو رہی ہے کہ وہ شخص جو بھی کہتا ہے، ڈیڈ اس کی ہر بات کو نظرانداز کر کے، خاموشی سے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ ”
عفان کہہ رہا تھا۔
” عفان میری بات سنو، تو خود کو غصہ دلانے کی بجائے، ہوش و حواس سے کام لو اور یہ جاننے کی کوشش کرو کہ وہ کون ہے ؟؟ اور اس کا یہاں آنے کا مقصد کیا ہے ؟”
وہ گاڑی کے قریب پہنچی جبکہ گاڑی کا دروازہ کھولتے عباس کے کان کھڑے ہو گئے تھے۔
وہ گاڑی میں بیٹھ چکی تو عباس بھی دوسری طرف سے، ڈرائیونگ سیٹ پہ جا کے بیٹھ گیا اور گاڑی اسٹارٹ کر کے، وہ لب بھینچے اکاسمہ کو بھی سن رہا تھا۔
” میں گھر نہیں جاؤں گی دوبارہ۔ مجھے وحشت ہوتی ہے اور اب جب تم۔کہہ رہے ہو کہ وہ شخص بھی وہاں آ کے رہ رہا ہے تو مجھے اب بلکل نہیں جانا۔ ”
” جانا بھی مت۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ اس کاووس شاہ کی حقیقت معلوم کروں ”
عفان کا لہجہ سوچوں میں ڈوبا ہوا سا لگ رہا تھا۔
” ٹھیک ہے تم معلوم کر لو اس کاووس شاہ کی حقیقت۔ اسے بےنقاب کر کے ہی رہنا ہے اب ”
وہ کال بند کر چکی تو عباس پوچھنے لگا۔
” میم کہاں جانا ہے اپ کو ؟؟”
وہ چونکی تھی۔ اسے کہاں جانا تھا ؟؟ کورٹ نہیں جائے گی وہ، پھر سے اسے غصہ آئے گا اس عورت کو دیکھ کے،۔
” سی سائیڈ ۔۔۔ ”
عباس کی آنکھوں میں حیرانی آئی تھی لیکن اچانک اکاسمہ کی آنکھوں میں چمک آئی تھی۔
” یہاں سپر مارکیٹ سے پانی لے کے آؤ میرے لئے۔ ”
” اوکے میم ۔ ”
عباس گاڑی روک کے سپر مارکیٹ گیا تو اکاسمہ نیچے اتر کے، ڈرائیونگ سیٹ پہ آ بیٹھی اور عباس کے آنے سے پہلے ہی، وہ گاڑی ڈرائیو کر چکی تھی۔
وہ تھک چکی تھی۔ اسے ہر چیز سے، ہر شخص سے بھاری پن محسوس ہو رہا تھا ۔ وہ بس چلی جانا چاہتی تھی۔ اکیلی محسوس کرنا چاہتی تھی خود کو۔ عباس کا ہونا بھی جیسے اس کے حواس کو مزید بھاری پن دے رہا تھا ۔
یہاں عباس جیسے ہی باہر آیا۔ گاڑی غائب تھی۔ اس نے تیزی سے حکان کو کال کی۔
” حکان سر، میم گاڑی لے کے اکیلی جا چکی ہے ”
” وہاٹ؟؟ تم کہاں تھے ؟ ”
حکان چلایا تھا۔
“میم نے مجھے سپر مارکیٹ سے پانی لانے کو کہا اور جیسے ہی میں گیا ۔۔۔ تو”
عباس کی بات پہ اس نے تیزی سے کال کاٹ دی اور موبائل پہ اکاسمہ کی لوکیشن ٹریس کرنے لگا۔
” ڈیم اٹ ۔۔۔۔۔ اکاسمہ کیوں کر رہی ہو ایسا۔۔”
وہ تیزی سے اٹھ کے،باہر کی طرف بھاگا تھا۔ اسے جلد سے جلد اکاسمہ تک پہنچنا تھا۔ وہ اکاسمہ کے معاملے میں کوئی رسک نہیں لے سکتا تھا۔
●●●●●●●●●●●●●●○○○○○●●●●●●●●
اسکے موبائل پہ کال آنے لگی جسے اس نے ابرو چڑھا کے دیکھا ۔ کال حکان کی طرف سے تھی۔ اچانک اس کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی۔
” اور کرو تم ایرسا سے ہنس ہنس کے باتیں ”
لب بھینچتی وہ کال کو اگنور کر گئی تھی جب کچھ دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ ایک گاڑی اس کا پیچھا کر رہی ہے۔ وہ پہچان گئی تھی گاڑی کو، تبھی مسکراتی آنکھوں سے، اس نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی تھی جبکہ پیچھے گاڑی میں موجود حکان کے کنپٹیاں سلگنے لگی۔
اکاسمہ کیا کرنا چاہ رہی ہے ؟ اور کیوں کرنا چاہ رہی ہے ایسا؟
وہ لب بھینچ گیا۔ لیکن وہ بھی تو حکان ملک ہی تھا۔
زیرک آنکھیں رکھنے والا ایکزاکیوشنر، خطرناک ہیکر اور ہوش و حواس رکھنے والا قابل وکیل ۔
اس نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی تھی کہ وہ اب اکاسمہ کی گاڑی تک پہنچ گیا تھا۔ اکاسمہ گاڑی چلاتے ہوئے، اسے گھورنے لگی۔
” اکاسمہ اسٹاپ دا کار ”
جبکہ اکاسمہ اسے مڈل فنگر دکھاتی، منہ پھیر گئی تھی۔ حکان کو پہلے حیرت ہوئی اور پھر لب بھینچ لیے ۔
” اکاسمہ ۔۔
Stop the Damn car ”
وہ پھر سے چلایا تھا لیکن اس کا سامنا آج چیلنجنگ اکاسمہ سے ہوا تھا اور تبھی اپنی گاڑی کی اسپیڈ بڑھا کے، وہ گاڑی کچھ فاصلے پہ، اکاسمہ کی گاڑی کے سامنے لے آیا تھا۔ مجبور ہو کے، اکاسمہ کو بھی اسپیڈ کم کر کے، گاڑی روکنی پڑی ورنہ دونوں گاڑیاں آپس میں ٹکرا جاتی۔
حکان گاڑی سے نکل کے، تیزی سے اس کی گاڑی کے قریب آیا تھا۔ اکاسمہ لب بھینچے اسے غصے سے گھور رہی تھی ۔
” کرنا کیا چاہتی ہو تم اکاسمہ ؟؟”
حکان سنجیدہ نظروں سے، اسے دیکھتا پوچھ رہا تھا جبکہ اکاسمہ کی آنکھوں میں غصہ نمایاں تھا۔
” کیوں اکاسمہ؟؟”
” کیونکہ مجھے سب سے نفرت ہو رہی ہے اس وقت ”
وہ کہہ کے اب سامنے دیکھنے لگی جبکہ حکان کے دل ڈوب سا گیا تھا۔ اس کے چہرے پہ سایہ سا گزرا تھا۔
” مجھ سے بھی؟؟ ”
ٹوٹے سے لہجے میں سوال کیا گیا جبکہ وہ لب بھینچے خاموش رہی۔ حکان گہرا سانس لیتا کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔
” مجھ سے نفرت کی کوشش میں، خود کو موت کے منہ میں مت دھکیلو اکاسمہ پلیز ۔۔۔۔”
اکاسمہ اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ بےبسی سے کندھے اچکا گیا۔
” میں۔۔۔۔۔ نہیں سہہ پاؤں گا ”
اکاسمہ کی آنکھوں میں حیرانی آئی تھی۔
‘ حکان آٹھ سال سے، تم سے محبت کرتا آ رہا ہے، خاموش محبت ‘
اس کے کانوں میں، مسفرہ کی آواز گونجی جبکہ آنکھیں مسلسل حکان کی آنکھوں میں موجود نمی کو دیکھ رہی تھی۔ حکان کال کرنے لگا۔
” عباس میں لوکیشن سینڈ کر رہا ہوں، آ کے کار لے جاؤ۔ اکاسمہ میرے ساتھ جا رہی ہے ”
یہ کہہ کے، وہ کال ختم کر کے، اب اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا جو خاموشی سے گاڑی سے نیچے اتر رہی تھی۔ بنا حکان کی طرف دیکھے، وہ اس کے گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی جبکہ حکان جو اس لمحے رونا چاہتا تھا، لب بھینچ کے، خود پہ کنٹرول کرتا، اس کے پیچھے چلنے لگا۔
گاڑی میں دونوں خاموش تھے۔ اکاسمہ باہر دیکھ رہی تھی جبکہ گاڑی ڈرائیو کرتا حکان، ہر منٹ بعد، اس پہ نظر ڈال رہا تھا۔
” ایم سوری ۔۔۔ ”
بھاری بوجھل آواز گاڑی کی فضا میں گونجی تھی۔ اکاسمہ نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا، اس کے چہرے پہ افسردگی تھی اور پھر سر جھٹک کے، وہ گاڑی کا شیشہ نیچے کر کے، سر رکھ کے،باہر دیکھنے لگی۔ ہلکی ہلکی چلتی ہوائیں، اس کے چہرے کو چھو رہی تھی جس سے، اس کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔ حکان اسے دیکھنے لگا۔
کتنی عجیب بات تھی کہ اس کی ہوتے ہوئے بھی، وہ اس کی نہیں تھی۔ اس لمحے وہ خود کو خوش قسمت اور بدقسمت، دونوں محسوس کر رہا تھا۔
○○○○○○○○○○●●●●●●●○○○○○○○
” تمہارے اس خبطی دوست کے ساتھ مسئلہ کیا ہے آخر؟؟”
کافی کا کپ ازمائر کے ہاتھ میں تھماتی، مسفرہ نے ابرو اچکا کے کہا تھا جبکہ ازمائر اسے م⁹
نظروں سے دیکھنے لگا ۔
” کیوں؟؟ کیا ہوا ہے ؟؟ کیا کیا ہے میرے خبطی دوست نے ؟؟”
” آج اکاسمہ آئی تھی میرے کلینک۔ بتا رہی تھی کہ تمہارا وہ خبطی دوست اگنور کرتا ہے میری دوست کو ”
مسفرہ آخر میں اسے گھورنے لگی جیسے وہ خبطی دوست، ازمائر خود ہو۔
” ہاں تو تمہاری وہ مغرور سی دوست بھی تو تنگ کرتی ہے میرے خبطی دوست کو، اب اگر میرا خبطی دوست، تمہاری اس مغرور دوست کو تنگ کر رہا ہے تو سہہ نہیں پا رہی”
مسفرہ اسے گھورنے لگی۔
” گھور تو ایسے رہی ہو جیسے وہ خبطی آدمی میں ہی ہوں ”
ازمائر نے آنکھیں گھمائی تھی اور کافی پینے لگا
” دوست تو تمہارا ہی ہے ”
مسفرہ نے منہ بنایا تھا۔
” اچھا تو اکاسمہ تمہارے کلینک، حکان کی شکایت کرنے آئی تھی اور تم نے بھی خوب شکایتیں کی ہوگی، مزید اسے بھڑکایا ہوگا۔ ”
ازمائر اسے گھورنے لگا۔
” ہاں ۔۔ اس جیسے بدتمیز، مغرور، خبطی اور بدلحاظ آدمی سے بدلہ لینے کا یہی وقت تھا۔ ”
مسفرہ نے کندھے اچکائے۔
” وہ تو میں بھی ہوں”
ازمائر نے ابرو اچکائے۔
” تھے، اب میں سدھار چکی ہوں تمہیں۔ یاد ہے جیل میں فرسٹ ٹائم میں تم سے ملنے آئی تو منہ کیسا سوجھا ہوا تھا تمہارا۔ کیوں آئی ہے اپ؟؟ کیا جاننا چاہتی ہے آپ؟؟ ”
مسفرہ نے اسے کاپی کرنے کی کوشش کی تھی اور تب ازمائر کپ سائیڈ پہ رکھ کے، اس کے قریب آیا تھا
” مسفرہ ۔۔۔ ”
جبکہ مسفرہ اس کے بازوؤں کے گھیرے میں ہنسنے لگی۔ ازمائر نے مسکراتے ہوئے، اس کے گال پہ لب رکھ کے، اب اس کی آنکھوں میں دیکھتا، اس کے بال سنوارنے لگا۔
” عورت کی محبت، مرد کو بدل دیتی ہے، سنوار دیتی ہے۔ تمہاری محبت نے مجھے اس قدر سنوارا ہے کہ مجھے خود سے محبت ہو گئی ہے مسفرہ ۔۔۔ تھینک یو ”
مسفرہ اس کی خوبصورت، محبت بھری آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” یو ویلکم مائی ڈئیر ہزبینڈ۔”
ازمائر مسکراتی آنکھوں سے، اس کے مسکراتے لبوں کو دیکھ رہا تھا۔ ان نگاہوں نے، مسفرہ کی دھڑکنیں بےترتیب کر دی تھی۔
” میں نے تمہیں اکثر اپنی تنہائی میں، اپنے لفظوں میں لکھا ہے، اپنے قلم کی نوک سے، بارہا تمہارا نام لکھ لکھ کے، اسے حفظ کیا ہے۔ مجھے اس مغرور شخص سے بےپناہ محبت ہو گئی تھی اور مجھے یوں لگنے لگا کہ میرے لکھے کردار میں جیسے روح پھونک دی گئی ہو اور تمہاری صورت میں، وہ میرے مقابل آ کھڑا ہوا ہو ”
مسفرہ کھوئے کھوئے انداز میں کہنے لگی جب ازمائر اس کے لبوں پہ جھکا تھا اور مبہم سرگوشی کرنے لگا۔
” اور میں نے ان الفاظ کو بار بار تمہارے لبوں سے چن کے، اپنی سانسوں میں شامل کیا ہے ”
مسفرہ مسکرانے لگی۔ وہ ان خوبصورت آنکھوں پہ، لاکھوں بار مر چکی تھی۔ ازمائر کی آنکھیں اسے بےپناہ پسند تھی۔ بےشمار بار وہ ان آنکھوں پہ الفاظ لکھ چکی تھی۔
” جانتا ہوں میری آنکھیں تمہیں پسند ہے مسفرہ ”
وہ اچانک کہنے لگا۔
” ایسا کیا ہے میری آنکھوں میں جو ۔۔۔۔ ”
وہ بات ادھوری چھوڑ گیا۔
” ان میں، میں اپنا عکس دیکھتی ہوں ازمائر ”
ازمائر کی آنکھوں میں حیرانی ابھر کے معدوم ہوئی تھی اور پھر وہ آنکھیں مسکرانے لگی۔
” اور تم مکمل میرے وجود میں بسی ہو مسفرہ ”
ان لبوں پہ مبہم سرگوشی کرتا، ازمائر اب ان لبوں پہ جھکا، اس کی سانسوں میں، اپنی بےچین سانسیں الجھانے لگا جبکہ مسفرہ آنکھیں موند کے، ازمائر کو اپنا آپ سپرد کر گئی۔
●●●●●●●○○○○○○○●●●●●●●●
” حکان ملک سرپرائز۔۔
میرے پاس تمہاری خوبصورت وائفی کا ای میل ہے۔ امیجن اگر میں اسے یہ ای میل کر دوں کہ تمہارا ہزبینڈ پاگل ہے۔ دماغی مریض ہے۔ دو شخصیتوں کا شکار حیوان ہے تو ؟؟؟
اممم لیٹ می گیس۔۔۔ چھوڑ دے گی تمہیں۔ ویسے وجدان ملک بھی بڑا کمینہ ہے مطلب ۔۔۔۔ اپنے ہی بیٹے کے سیکریٹس کون بتاتا ہے دوسروں کو لیکن کیا کرے تم تو ہو ہی بدنصیب ۔۔۔۔ تو کیا خیال ہے ؟؟ کیا کر رہی ہے تمہاری وائفی ؟؟”
لیپ ٹاپ پہ کام کرتے ہوئے، اسے ایک ایمیل ریسیو ہوئی تھی۔ اس نے تیزی سے نظر اٹھا کے اکاسمہ کو دیکھا تھا جو کچن میں برتن دھو رہی تھی۔ اس نے بالوں کی اونچی پونی ٹیل بنائی تھی جو کام کرتے ہوئے، اوپر نیچے ہوتے بار بار ہل رہی تھی۔ اسے گھٹن کا احساس ہونے لگا جیسے ہوا تنگ ہو رہی ہو۔
اگر اکاسمہ کو پتہ چل گیا تو ؟؟ اگر اس کی حقیقت جان لینے کے بعد، وہ اسے چھوڑ کر چلی گئی تو ؟؟ وہ مر جائے گا!! اس کا دم گھٹ جائے گا!! وہ مکمل پاگل ہو جائے گا!!
اپنے سینے کو ہاتھ سے مسلتا، وہ لیپ ٹاپ سائیڈ پہ رکھ چکا تھا۔ اسے اپنی کیفیت کی سمجھ آ رہی تھی۔ اس پہ خوف طاری ہو رہا تھا۔ اسے ہر چیز، ہر احساس، انجان سا محسوس ہونے لگا۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگا۔ اپنے کانپتے ہاتھوں کو دیکھتا، وہ تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
اس کے دماغ میں شور برپا تھا۔ وہ چیخنا چاہتا تھا، اندر کے گھٹن کو باہر نکال دینا چاہتا تھا لیکن اس کی نظر اکاسمہ پہ گئی،
نہیں!! کبھی نہیں!! وہ اس عورت کو کبھی خوفزدہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ عورت محبت ہے اس کی۔
اپنے بھاری ہوتے سر کو سنبھالے، وہ تیزی سے اپنے بیڈ روم کی طرف گیا۔ وہ خوفزدہ تھا، اس پہ خوف طاری ہو رہا تھا۔ اس کا دماغ مختلف الفاظ کے مکالموں سے پھٹنے لگا۔
کانپتے ہاتھوں اس نے الماری کا لاک کھولنے کی کوشش کی، جہاں اس کے میڈیسنز تھے۔ وہ قیدی ہوتا جا رہا تھا ان میڈیسنز کا۔ لیکن اس کی طبیعت اس قدر بگڑ رہی تھی کہ وہ پاسورڈ ہی بھول گیا تھا اور بلکل اچانک وہ چیخا تھا۔
اکاسمہ جو چائے کپ میں ڈال رہی تھی۔ حکان کی چیخ سن کے، بےساختہ سب چھوڑ کے، اس کے بیڈ روم کی طرف بھاگی تھی لیکن اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئی جب اس نے دیکھا کہ حکان چلاتے ہوئے، بار بار الماری کا پاسورڈ ڈال رہا، لیکن وہ ناکام ہو رہا تھا، اس کے دونوں ہاتھ، اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا جبکہ بلکل اچانک وہ اپنا سر الماری پہ مارنے لگا۔
” حکان ۔۔۔۔۔”
اکاسمہ تیزی سے اس کے قریب ائی لیکن حکان مڑ کے، دیوار سے لگ کے، اسے خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں وحشت تھی، خوف تھا۔ نم آنکھیں سرخ ہو رہی تھی۔
” ن ۔۔۔ نہیں اکاسمہ، میرے ۔۔۔۔۔ قریب مت آؤ، د۔۔۔۔ دور رہو مجھ سے ۔۔۔۔ میں تمہیں نقصان پہنچا دوں گا ۔۔۔ میں تمہیں نقصان پہنچانا نہیں چاہتا ”
لیکن اکاسمہ اسے کہاں سن رہی تھی۔ وہ تیزی سے قریب آ کے، اس کے دونوں ہاتھ تھام چکی تھی۔
” حکان ۔۔۔ حکان ریلیکس ۔۔۔۔ میری بات سنو حکان ۔۔۔۔ ”
” جاؤ یہاں سے ”
اس نے چیختے ہوئے اکاسمہ کے ہاتھ جھٹکے تھے۔ اپنا توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے، اکاسمہ پیچھے جا گری تھی۔
” اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔ ن ۔۔ نہیں۔۔۔۔ اکاسمہ ”
وہ بمشکل اکاسمہ تک آتا، اسے اٹھنے میں مدد دینے لگا۔
” جاؤ یہاں سے، پ۔۔۔ پلیز جاؤ یہاں سے۔۔۔ جاؤ۔۔۔۔ جاؤ ۔۔۔ میں تمہیں نقصان نہیں پہنچانا چاہتا ۔۔”
وہ چلاتے ہوئے، اسے کمرے سے باہر نکال چکا تھا اور دروازہ بھی لاک کر دیا تھا۔ اکاسمہ بوکھلائی سی، بیڈ روم کا دروازہ بجانے لگی۔
” حکان دروازہ کھولو، حکان ۔۔۔۔۔ حکان ”
لیکن دروازے کے پیچھے سے توڑ پھوڑ کی آواز آئی تھی اور پھر اس کے دم گھٹنے تو کبھی چلانے کی آواز آنے لگی۔
وہ حکان کی یہ حالت پہلی بار دیکھ رہی تھی لیکن وہ جانتی تھی کہ اسے کیا کرنا ہے ؟؟ وہ صدمے کے زیر اثر ہے، لیکن اکاسمہ نے کبھی اس بارے میں کہیں پڑھا ہوا تھا۔ اسے نفسیات سے متعلق کتابیں پڑھنا ہمیشہ پسند تھی اور تبھی وہ حکان سے خوفزدہ نہیں تھی، وہ صرف حکان کو تحفظ کا احساس دینا چاہتی تھی۔
” کیز ۔۔۔ ہاں کیز ”
اسے یاد آیا کہ لبنی نے اس رات کیز اپنے بیگ سے نکال، دروازہ کھول کے، ساتھ والے ٹیبل کے دراز میں رکھ دی تھی۔ وہ تیزی سے قریب جا کے، کیز نکال لائی تھی اور دھڑکتے دل، کانپتے ہاتھوں دروازہ کھولنے لگی۔ جیسے ہی دروازہ کھول کے، وہ اندر داخل ہوئی، اسے حکان بیڈ کے دوسری طرف، دیوار کے قریب، کانپتا ہوا بیٹھا نظر آیا، جیسے بلی کا بچہ، خوفزدہ ہو کے، آنکھیں بند کر کے، ایک کونے میں چھپ کے بیٹھ جاتا ہے۔
وہ تیزی سے، اس کے قریب گئی۔ اس کا ہاتھ زخمی تھی۔
” حکان ۔۔۔۔”
اکاسمہ کی نرم آواز سن کے، وہ گھٹنوں میں دیا سر اٹھا کے اسے دیکھنے لگا۔ وہ اس عورت سے محبت کرتا ہے، بےحد، بےپناہ محبت، بےبسی کی حد تک چاہتا ہے وہ اس عورت کو۔
اکاسمہ اس کے لئے پریشان ہو رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں محبت، پریشانی وہ دیکھ رہا تھا۔ وہ کانپ رہا تھا اب بھی، لیکن اکاسمہ کا اس کے قریب موجود ہونا، اسے بےبس کر رہا تھا۔
کیا وہ چھوڑ دے گی اسے ؟؟ کیا وہ نفرت کرے گی اس سے ؟؟
” نفرت کرتی ہو نا مجھ سے؟؟ میں برا ہوں، میں بیمار ہوں، اس لئے نفرت کرتی ہو مجھ سے؟؟ چھوڑ کے چلی جاؤ گی ؟؟ ہے ناں اکاسمہ؟؟لیکن۔۔۔۔ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔۔۔ ب ۔۔ بہت زیادہ محبت!! جس کی کوئی حد، کوئی مرز نہیں ہے۔ ل ۔۔۔ لیکن نفرت کرتی ہو مجھ سے ؟؟؟ ہے ناں؟؟”
کس قدر خوف تھا اس کے لہجے میں۔ اکاسمہ اس کے وجود کی کپکپاہٹ محسوس کر رہی تھی۔ تبھی آگے بڑھ کے، اس نے حکان کو بانہوں میں بھر لیا تھا۔ وہ حیران ہوا تھا۔ اس کا بھاری وجود، اکاسمہ کی نازک بانہوں کے گھیرے میں تھی جبکہ وہ سرگوشی کر رہی تھی۔
” نہیں حکان، میں تم سے نفرت نہیں کرتی، میں تم سے محبت کرتی ہوں، میں تمہیں کہیں چھوڑ کے نہیں جا رہی، میں یہیں ہوں تمہارے پاس، تمہارے قریب کیونکہ میں تم سے بےحد محبت کرتی ہوں”
اکاسمہ کی اواز بھیگنے لگی لیکن وہ بار بار مدھم سرگوشی کرتی رہی۔ دوسروں کو سزا دینے والا مضبوط حکان ملک، اس وقت کوئی خوفزدہ بچہ لگ رہا تھا جو اکاسمہ کو کھو دینے سے ڈر رہا تھا، جو اس کی نفرت سے ڈر رہا تھا اور جو اس کے چلے جانے سے ڈر رہا تھا۔
●●●●●●●●●●●○○○○○○○○●●●●●●●
