The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 15
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 15
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 15
” در کا میسج آیا ہے، مجھے فورا جانا ہے، تم انجوائے کرو اپنی یہ حسین ملاقات، پھر ملاقات ہوتی ہے، ایک بار پھر بیسٹ آف لک ۔”
خیام مسکرا کے کہتا، انکھ ونک کر گیا تھا۔ وہ تینوں گاڑی سے اتر چکے تھے۔ شازم خان گیٹ کی طرف بڑھے تھے جبکہ خیام رکا تو عاریز کو بھی رکنا پڑا۔
” کوئی پرابلم تو نہیں ہے ؟”
عاریز اسے غور سے دیکھتا پوچھ رہا تھا جبکہ وہ ہنستے ہوئے کندھے اچکا گیا ۔
” نہیں یار، میری یاد آ رہی ہوگی اسے ۔۔ چلو بائے ”
” چابی لو گاڑی کی۔ ”
عاریز نے گاڑی کی چابی اس کی طرف بڑھائی تھی۔
” اور تم ؟؟”
خیام کی حیران آنکھوں میں دیکھتا وہ مسکرایا تھا۔
” میرا یہاں رات رکنے کا ارادہ ہے ”
عاریز کی بات پہ خیام ہنس پڑا تھا اور چابی لے کے وہ گاڑی میں بیٹھ گیا تھا۔ گاڑی روڈ پہ ڈالتے ہی اس نے کال ملائی تھی۔
” کراچی سے باہر جانے والی ہر فلائٹ پہ پابندی لگانے کے آرڈرز جاری کر دو۔ جلدی ”
کال ڈسکنیکٹ کرتا وہ گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا۔ یہسن آتے ہوئے وہ درمکنوں کا میسج پڑھ چکا تھا لیکن عاریز اور اکاسمہ سے اس لئے جھوٹ بولا کہ ان کے اسپیشل مومنٹس وہ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا جبکہ خود کا رخ اب درمکنوں کے بنگلے کی طرف تھا ۔ اسے جلد سے جلد وہاں پہنچنا تھا اور درمکنوں کو ان کی قید سے رہائی دلانی تھی
○○○○○●●●●●●●●○○○○○○
لاؤنج میں بیٹھے سب خوش گپیوں میں مصروف تھے، دونوں دوست فیاض حیات اور شازم خان ایسے پرانی یادیں تازہ کر رہے تھے جیسے ان کے بیچ تو کوئی تلخ واقعہ ہوا ہی نہ ہو۔ بارز بھی ایک صوفے پہ بیٹھا، مضطرب سا اپنا موبائل دیکھ رہا تھا، ملکہ کچن میں ڈنر لگانے کا کہہ کے وہیں آ کے بیٹھ گئی تھی جبکہ عفان ابھی نہیں آیا تھا گھر۔ اکاسمہ بھی سائیڈ صوفے پہ بیٹھی کن انکھیوں سے عاریز خان کو دیکھ رہی تھی جو نہایت سنجیدگی سے فیاض حیات کے ساتھ کچھ ڈسکس کر رہا تھا۔ اکاسمہ زیر لب مسکراتی موبائل میں کچھ لکھنے لگی اور پھر سینڈ کر کے، اس نے موبائل گود میں رکھ لیا تھا۔
موبائل وائبریٹ ہونے پہ عاریز چونکا تھا اور کھول کے میسج دیکھنے لگا۔
” ہئی یو مسٹر Prosecutor، اتنا ہینڈسم بن کے، اپنی کاغذی بیوی کے گھر آنے کی کیا تک بنتی ہے اب ؟”
میسج پڑھ کے، اس نے بلکل اچانک ایک حیران نظر اکاسمہ پہ ڈالی تھی اور پھر کچھ لکھنے لگا۔
” اپنی کاغذی بیوی کی سانسیں اپنی سانسوں میں اتار چکا ہوں، اب بات کاغذی سے آگے بڑھ گئی ہے مسز اکاسمہ عاریز خان،”
موبائل سائیڈ پہ رکھ کے، وہ اب فیاض حیات کو دیکھنے لگا جبکہ حسیات ساری اکاسمہ پہ تھی جو میسج پڑھ کے، اب اسے ہی گھور رہی تھی۔
کھانے کا دور چلا تو سب ڈنر کرنے کے لئے ڈائیننگ روم میں آئے تھے۔ ہنسی کے ماحول میں ڈنر ہوا تھا ان کا، جب عاریز خان نے سب پہ نظر ڈال کے اچانک سے اکاسمہ کو دیکھا تھا۔
” اکاسمہ، آج ہم نے جو کیس ڈسکس کرنا تھا، کل اس کی پہلی پیشی ہے تو آپ نے فائل تیار کر لی ؟؟”
عاریز پر سے نظریں ہوتی، اب سب کی نظریں اکاسمہ پہ ٹھہر گئی تھی جبکہ وہ چونک کے سب کو دیکھتی، اب عاریز کو دیکھنے لگی۔
” ابھی رہتا ہے ”
” آپ کو بنانی چاہئے تھی، کل کورٹ میں اپ کی تیاری فل فارم میں ہونی چاہئے ”
عاریز نے پھر سے کہا تھا جبکہ چہرہ بےحد سنجیدگی لیے ہوئے تھا۔
” ہممم ۔۔۔ ہاں ”
اس سے بات نہیں بن پا رہی تھی اور اوپر سے سب کی نظروں کا مرکز بھی اس وقت وہی بنی ہوئی تھی۔
” کیسا کیس ہے عاریز ؟؟”
شازم خان پوچھنے لگے۔
” اگر بہت امپورٹنٹ ہے تو آپ یہیں پہ ورک کر لو اس کیس پہ، اکاسمہ بیٹا اسٹڈی میں جا کے آپ دونوں ورک کر لو اپنے کیس پہ ”
فیاض حیات، اکاسمہ کی طرف دیکھتے کہہ رہے تھے جبکہ وہ مسکرا بھی نہ پائی ۔
” جی بابا”
اپنی جگہ سے اٹھتی، اس نے بھرپور گھوری دی تھی عاریز خان کو اور پھر ہلکا سا مسکرائی تھی۔
” آئیے پلیز ”
جبکہ عاریز خان سب سے ایکسکیوز کرتا، صوفے سے اٹھتا اکاسمہ کے ساتھ سیڑھیوں کی طرف بڑھا تھا۔ اوپر تک عاریز جان شریف بنا رہا لیکن جیسے اوپری منزل پہ پہنچے عاریز نے اس کی کمر سے، کھینچ کے اسے خود سے لگایا تھا۔ اکاسمہ بوکھلا کے سیڑھیوں کی طرف دیکھنے لگی۔
” کیا کر رہے ہو عاریز ؟ ”
” تمہارا بیڈ روم ؟؟”
اس کے پوچھنے پہ، اکاسمہ حیران آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
” اسٹڈی؟”
” ہشششششش، تکلف سے باتیں بہت ہو گئی، اب تھوڑا باتیں ہمارے انداز میں بھی ہو ”
اپنی بات کہہ کے، اس نے آنکھ ونک کی تھی جبکہ اکاسمہ نے حیرت سے اسے دیکھا تھا یہ شخص تو آج کچھ زیادہ ہی بدلا ہوا لگ رہا تھا۔
” سرکار آج بدلے بدلے سے نظر آ رہے ہیں ”
عاریز ہنس پڑا تھا جبکہ اکاسمہ اسے گھورنے لگی۔
” زور سے مت ہنسو ”
” تمہارا بیڈ روم ؟”
اس نے پھر سے اپنا سوال پوچھا تھا۔
” تمہارے پیچھے ”
اکاسمہ نے لب دانتوں تلے دباتے مسکرا کے کہا تھا جبکہ عاریز پیچھے دیکھنے لگا، اکاسمہ نے آگے بڑھ کے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو کے اسے دیکھتی آگے بڑھی تھی۔
” اند آؤ، یہ ہے میرا بیڈ روم۔ ”
عاریز نے اندر آ کے دروازہ بند کیا تھا اور زیر لب مسکراتا، اسے پشت سے، اپنی بانہوں کے گھیرے میں لے چکا تھا جبکہ اکاسمہ ابھی حیران ہوتی، جب عاریز اس کے کندھے پہ لب رکھ کے، اسے مزید حیران کر گیا تھا کہ دھڑکتے دل کے ساتھ، وہ اس لمس پہ پل بھر کے لئے ساکت ہو گئی تھی۔
” ع ۔۔۔۔ عاریز ۔۔۔ ”
” ہممم ؟؟”
ہنکارا بھرتا، وہ اپنی ٹھوڑی اب اکاسمہ کے کندھے پہ ٹکا چکا تھا۔
” ک ۔۔۔ کوئی آ جائے گا ”
” نیچے سب کو پتہ ہے کہ ہزبینڈ اور وائف کی پرائیویسی میں نو ڈسٹربنس ”
عاریز کی بات پہ وہ چونک کے مڑی تھی اور اسے گھورنے لگی۔
” ابھی رخصتی نہیں ہوئی ”
” تم چاہو تو ابھی ارینج کروا دیتا ہوں ”
عاریز کے انداز اسے آج بدلے ہوئے نظر آ رہے تھے تبھی اس کی پلکیں پل بھر کے لئے لرز کے رہ گئی تھی جبکہ عاریز زیر لب مسکراتا اسے دیکھ رہا تھا۔
” کچھ پی کے تو نہیں آئے ناں آج؟؟”
” تمہیں بن پیے ہی بہک سا گیا ہوں، آگے کی کچھ خبر نہیں ابھی مجھے ”
عاریز کی بات پہ اس نے اپنی امڈتی مسکراہٹ روکی تھی۔
” ایک Prosecutor ہو کے بھی تم اتنے رومینٹک ”
وہ اپنے لب دانتوں تلے دباتی کہہ رہی تھی جبکہ عاریز نے اس کی گردن میں موجود نازک سی چین کو شہادت کی انگلی سے تھام کے اسے اپنی طرف کھینچا تھا اور وہ بھی کھنچتی چلی گئی کہ دونوں کے چہرے ایکدوسرے سے ٹھکرائے تھے اور سانسیں مدغم ہوئی تھی۔
” تو کیا رومینس جسٹ آپ جیسی ایک لائیر ہی کر سکتی ہے ”
ہاتھ کی پشت کا سفر گال سے ہوتا گردن اور گردن سے ہوتا کندھے تک جا رہا تھا جبکہ گھمبیر آنکھوں میں محبت کے لو دیتے جذبے تھے ۔
” نہیں مجھے لگا تھا کہ رومینس کرتے ہوئے بھی تمہیں شاید ہر طرف مرڈر کیسز ہی نظر آئے ”
اس کی آنکھوں میں شرارت تھی جبکہ عاریز نے اسے خود میں بھینچا تھا اور اس کی گردن پہ اپنی شہادت کی انگلی پھیرنے لگا ۔
” ایک Prosecutor اپنی لائیر وائف کا مرڈر کر کے خود بھاگ گیا۔ ”
” ناٹ بیڈ ، اور پھر وہ لائیر وائف بچ گئی اینڈ اپنے ہی Prosecutor ہزبینڈ پہ کیس کر دیا مسٹر عاریز شازم خان ”
وہ آنکھ ونک کر گئی تھی اور جھٹکے سے عاریز نے اس کی سانسوں میں اپنی سانسیں الجھائی تھی لیکن کچھ ہی لمحوں میں سانسیں معدوم پڑنے لگی تو ان لبوں کو آزادی بخشتا، وہ زیر لب مسکرانے لگا جبکہ اکاسمہ آنکھیں موندے، اپنی سانس بحال کر رہی تھی۔
” کیس کے سلجھتے ہی، میں کورٹ کے آرڈرز کا انتظار نہیں کروں گا، ”
اکاسمہ بند آنکھیں کھول کے، اسے دیکھنے لگی۔
” Prosecutor۔۔۔
اپنا فیصلہ سنا کے، اپنے جیت کا جشن ہی منائے گا بنا کسی روک ٹوک کے ”
اس نے مزید کہا جبکہ اکاسمہ آنکھوں میں شرارت لیے اسے دیکھ رہی تھی۔
” لائیر جج کا فیصلہ بھی سننا چاہے گی تبھی کوئی ڈیسژن لے پائے گی”
عاریز زیر لب مسکراتا اسے گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
” کیس پم آپس میں سولو کر ہی چکے ہیں، یہ بس کچھ معاملات ہیں جو judiciary ہماری نمٹا رہی ہے ”
اکاسمہ بےساختہ ہنس پڑی تھی جبکہ عاریز بھی ہنسنے لگا۔
” ہئی یو مسٹر Prosecutor۔۔ یہ لائیر اپنی مرضی کے فیصلے سناتی یے ”
” Prosecutor۔۔۔
آپ کو اپنی صفائی دینے کا حق دیتا ہے ”
اس کے بال نرمی سے سنوارتا وہ کہنے لگا ۔
” لیکن اس Prosecutor کو ناامید کرنے کی غلطی مت کیجئیے گا ملکہ ڈان، evidence کو بدلنے میں مہارت رکھتا ہے ”
اکاسمہ نے آبرو اچکا کے،تعریفی انداز میں اسے سر تا پیر دیکھا تھا ۔
” یہاں آپ evidence بدلے گیں اور وہاں میں پورا کیس الٹ دوں گی ”
” مطلب لائیر ٹھکر کی ملی ہے، مقابلہ سخت ہے ”
عاریز نے بھی داد دیتی نظروں سے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ کندھے اچکا گئی تھی۔
” مقابل لائیر اکاسمہ حیات ہے ”
” وہاٹ ”
وہ چونکا تھا جبکہ اکاسمہ اس سے دور ہو کے ہنسنے لگی لیکن عاریز اس کا بازو تھام کے، اسے کھینچ کے اپنے قریب کر چکا تھا۔
” مسز اکاسمہ عاریز خان ”
وہ عاریز کے سینے سے لگی، اسے دیکھنے لگی جبکہ اس کے تصحیح کرنے پہ، اس کے لبوں پہ مسکراہٹ بکھری تھی۔
” court is adjourned ”
آنکھ ونک کر کے کہتی، وہ عاریز کو دھکا دیتی پیچھے ہوئی تھی۔
” اکاسمہ ”
لہجے میں خوشگوار تھی جبکہ وہ لب دانتوں تلے دباتی دروازے کی طرف بڑھی تھی کہ عاریز کی گستاخیاں، اس کی دھڑکنیں منتشر کر گئی تھی۔
○○○○○●●●●●●●●○○○○●●
” You are under arrest ”
وہ جو ایئرپورٹ میں موجود تھا اور تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا جب اچانک کچھ پولیس اہلکار نے اس کا راستہ روکا تھا اور وہ لب بھینچے غصے سے ان کو دیکھ رہا تھا۔
” کس بل بوتے پہ تم لوگ مجھے گرفتار کر رہے ہیں۔ لگتا ہے تم جانتے نہیں ہو مجھے کہ میں کون ہوں ”
وہ تیز اواز میں غرایا تھا ۔
” فاروق ملک کے بیٹے شہزاد ملک ہو تم اور سارہ نام کی ایک لڑکی کے وحشیانہ انداز میں تشدد اور قتل کرنے میں ملوث ہونے کے لئے تمہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ اب آ گئی سمجھ ؟ یا اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ کا استعمال کروں؟”
طیب نے بھی لب بھینچے سرد آواز میں کہا تھا جبکہ وہ باری باری وہاں موجود پولیس اہلکاروں کو دیکھنے لگا اور پھر نظر چرا کے وہ پیچھے مڑ کے بھاگنے کی سوچنے لگا لیکن طیب نے آگے بڑھ کے اسے پکڑ لیا تھا ۔
” لگاؤ ہتھکڑی ”
شہزاد کو سختی سے جکڑے وہ تیز لہجے میں اپنے اہلکار سے کہنے لگا جبکہ شہزاد خود کو اس کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگا۔
” چھوڑو مجھے، لیو می، میں ڈیڈ سے تم سب کی شکایت کروں گا اب ڈیڈ ہی تم سب کو سزا دے گیں۔۔ لیو می ”
” شٹ اپ ”
طیب نے اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے آگے کی طرف دھکیلا تھا جبکہ وہ پولیس اہلکار کے ساتھ جھنجھلاتا خود کو چھڑانے کی تگ و دو کرتا آگے بڑھ رہا تھا ۔
▪︎▪︎¤¤□□■■□□¤¤▪︎▪︎
وہ مسکرا کے آئینے کے سامنے کھڑا خود کو دیکھ رہا تھا۔ ایک بار پھر سے وہ پولیس اور قانون کو حیران کر چکا تھا۔ جسے اس شہر کی پولیس مرا ہوا تصور کر رہی تھی یا پھر یہ سوچ رہی تھی کہ موت دے چکے ہیں وہ قاتل اب بھی زندہ تھا اور ثبوت ان دو کال گرلز کے موت کی صورت میں دے چکا تھا، جس کے دل کے مقام پہ عین وسط میں کٹ لگا کے لکھ چکا تھا ” خط قرمز ” اور ساتھ ہی ایک پیپر ان دو باڈیز کے ماتھے پہ کیل کے ساتھ ہی ٹانکا گیا تھا جس پہ لکھا تھا ۔
” موت ابھی زندہ ہیں ”
اب وہ آہستگی سے اپنے چہرے پہ لگا ماسک ہٹا رہا تھا اور اب ان آنکھوں میں جنونیت تھی، درندگی تھی اور چہرے پہ پراسرار سی مسکراہٹ تھی۔
” عاریز خان the Prosecutor اور مسز اکاسمہ عاریز خان the great lawyer مجھے ڈھونڈو اب اور انصاف دلاؤ اپنے شہریوں کو ”
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، جو چیز سامنے آئی تھی وہ خیام کے لیے اور وہاں موجود پولیس آفیسرز کو حیرت میں ڈال گیا تھا۔ جو شخص اس رات پمی کے ہاتھوں مرا تھا، وہ صابرالدین ہی تھا، Body examination کے دوران، در مکنوں کو کچھ عجیب سا محسوس ہوا تھا، اس کے چہرے سے نیچے، ٹھوڑی کے قریب جلد کھردری محسوس ہوئی تھی اسے اور جب غور سے دیکھا تو وہ اسکن تھی جسے اس چہرے پہ چڑھایا گیا تھا، وہ پن کی مدد سے، اس اسکن کو کھرچ کے، اب انگلیوں کی مدد سے، اس اسکن کو کھینچنے لگی اور اس کی آنکھیں حیران ہوئی تھی جب اس اسکن کے پیچھے دوسری اسکن نظر آئی تھی جو صابرالدین کی تھی۔ اس نے تیزی سے خیام کو کال کیا تھا اور یوں پوری پولیس ڈیپارٹمنٹ اس خیال سے پرسکون ہو چکی تھی کہ صابرالدین مر چکا ہے۔ لیکن وہ زندہ تھا اور مسکرا کے خود کو آئینے میں دیکھتا شاباشی بھی دے رہا تھا۔
○○○○●●●●●●○○○○●○
” گڈ مارننگ ازمائر شاہ ”
پھولوں کا بوکے لیے وہ اس کے دروازے پہ کھڑی تھی جبکہ ازمائر خوشگوار حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” کیا ہوا؟؟ ”
مسفرہ خوشدلی سے پوچھ رہی تھی جبکہ وہ سر جھٹک کے مسکرایا تھا۔
” میں توقع نہیں کر رہا تھا کہ آپ آئیے گی۔ پلیز آئیے ”
مسفرہ اسے بوکے تھماتی مسکراتی اندر آئی تھی جبکہ ازمائر بھی دروازہ بند کرتا اس کے پیچھے ہی آنے لگا ۔
” آپ کا گھر تو بہت خوبصورت ہے ”
وہ ستائشی نظریں چاروں اطراف دوڑاتی کہہ رہی تھی جبکہ ازمائر ٹیبل پہ مسفرہ کا لایا ہوا بوکے رکھتا مسکرا دیا تھا۔
” تھینک یو ، آپ پلیز بیٹھئیے یہاں ”
اسے صوفے کی طرف اشارہ کرتا وہ مسکرا دیا تھا، مسفرہ صوفے پہ بیٹھ چکی تھی۔
” میں اپنے لئے کافی بنا رہا تھا آپ کے لئے بھی بنا کے ابھی آتا ہوں۔ ”
مسفرہ نے کندھے اچکائے تھے جبکہ وہ اپنے لاؤنج کے اوپن کچن کی طرف بڑھا تھا جبکہ مسفرہ مسکراتی آنکھوں سے اس کی پشت دیکھ رہی تھی۔ اس شخص میں مسفرہ کو پہلے دن سے ہی کشش محسوس ہوئی تھی اور اب یہ کشش ایک خاص احساس میں بدلنے لگی تھی، ایسا احساس جسے نام دینے سے بھی وہ ڈر رہی تھی لیکن وہ اس احساس کو خود میں لمحہ لمحہ پنپتا محسوس کر رہی تھی۔ وہ مڑا تھا اور اسی تیزی سے مسفرہ نے نظریں چرائی تھی۔
” کافی بھی ریڈی ہیں اور ساتھ میں کچھ اسنیکس بھی ۔ ”
وہ کہتا اس کے سامنے ٹیبل پہ ٹرے رکھتا کہہ رہا تھا جبکہ مسفرہ مسکرائی تھی ۔
” اممم تو اچھے ٹائم پہ انٹری ہوئی ہے میری، آپ کے ہاتھ کی بنی کافی اور اسنیکس کھانے کو مل گئے ”
ازمائر ہنس پڑا تھا جبکہ مسفرہ نے نظر بھر کے اس شخص کی ہنسی دیکھی تھی ۔
‘ یہی تو ہے وہ شخص، وہ کیریکٹر، جس سے مجھے عشق ہوا ہے، میرے ناول کا کیریکٹر ‘
دل نے بےساختہ اعتراف کیا تھا اور اچانک سے دھڑکنوں کے ساتھ ساتھ اس کی پلکیں بھی لرز کے جھکی تھی لیکن خود کو سنبھالتی وہ کافی کا کپ اٹھا کے لبوں سے لگا چکی تھی کہ چہرے کا رنگ متغیر ہوتا محسوس ہوا تھا اسے اور اپنے چہرے کے ان رنگوں کو وہ کافی کے کپ سے اڑتے بھاپ کے پیچھے چھپانا چاہتی تھی جبکہ ازمائر اس کی کیفیت سے بےخبر کافی کا کپ اٹھا کے ساتھ ہی اسنیک بھی اٹھا چکا تھا ۔
” اپ بھی لیں پلیز ”
” جی ۔۔ ”
وہ مسکرانے کی کوشش کرتی ہاتھ بڑھا کے اسے کن انکھیوں سے دیکھنے لگی، دل کے تار تھے کہ اپنی ساز الاپے جا رہے تھے لیکن وہ بیچارگی سے، دل کی خواہشوں کو تھپکی دیتی، خود کے احساسات سے نظریں چرا رہی تھی۔
” کیا ہو رہا ہے آج کل ؟؟”
ازمائر کے اچانک سوال پہ وہ چونکی تھی۔
” میں؟؟”
” جی بلکل آپ ”
ازمائر نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا تھا جبکہ وہ نظریں چرا کے مسکرانے لگی۔
” ایک کیریکٹر کو لکھ رہی ہوں، میری کہانی کا کردار ہے لیکن اب لگ رہا ہے کہ جیسے ”
بات ادھوری چھوڑ کے وہ اب ازمائر کو دیکھ رہی تھی۔
” وہ میری زندگی کا کردار بننے لگا ہو ”
ازمائر نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا تھا جبکہ مسفرہ کا دل پل بھر کے لئے ٹھہر کے، یہ ضد کرنے لگا کہ اپنی ہر خواہش کا اظہار کر دیں، لیکن خود کا مان بھی رکھنا تھا ۔ تبھی ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
” آپ اکیلے سوتے ہیں یہاں؟”
اچانک سے سوال کر کے، اب اچانک سے پچھتانے بھی لگی تھی وہ ۔
” جی۔۔۔ ”
ازمائر نے معصومیت سے جواب دیا تھا جبکہ وہ شرمندہ سی ہوگئی تھی ۔
” م ۔۔۔ میرا مطلب ہے ۔۔م ۔۔۔ میں چلتی ہوں اب ”
وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی
” اتنی جلدی؟؟ ”
ازمائر حیران آنکھوں سے اسے دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ مسفرہ کو لگا ان آنکھوں میں ڈوبنے کے لئے، لمحہ بھی نہیں لگے گا اسے۔
” واشروم، میرا مطلب تھا کہ ۔۔۔ ”
دل نے جانے سے انکار کر دیا تو بہانہ بھی نہیں سوجھ رہا تھا جبکہ ازمائر نے دائیں طرف ہاتھ اٹھا کے اسے اشارہ کیا تھا۔
” اس طرف۔۔۔”
وہ لب کاٹتی دائیں طرف دیکھنے لگی اور پھر اسے دیکھتی، وہ صوفے پر سے اپنا بیگ اٹھانے لگی۔
” گھر جانا تھا مجھے، نہیں کلینک ”
” آپ ٹھیک ہے مسفرہ ؟؟”
ازمائر کی آنکھوں میں تشویش تھی جبکہ وہ مسکرا کے کندھے اچکا گئی
” بلکل ٹھیک ہوں، میں بس چلتی ہوں ”
ازمائر اب بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا جبکہ وہ تیزی سے نظریں چرا کے باہر نکلی تھی کہ جب تک وہ ازمائر کے سامنے کھڑی رہتی، تب تک کوئی نہ کوئی غلطی اس سے ہونی تھی جبکہ زیر لب مسکراتا ازمائر بند دروازے کو دیکھنے لگا جہاں سے ابھی ابھی مسفرہ گئی تھی ۔
☆☆☆☆●●●●●☆☆☆☆☆
