The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 55
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 55
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 55
” چیخ کیوں رہے ہو تم ؟ میں یہاں کام کر رہی تھی۔میرا ورد ادھورا رہ گیا “
زرناب کی آواز سرد تھئ جبکہ عفان خاموش رہا۔
” ایک عام سی لڑکی کے لئے تم اس قدر انرجی ضائع کر رہے ہو؟ چیخ رہے ہو؟ وہ ہے کیا چیز ؟؟ ایک عام انسان ۔ اور تم ایک شیطان کے بیٹے ہو۔ میرے بیٹے ہو۔ تمہیں آج تک کوئی نہیں پکڑ پایا تو اب ایک عام سی لڑکی تمہارا کیا بگاڑ لے گی عفان درانی۔ “
” میں اسے نقصان نہیں پہننچانا چاہتا ماں۔ لیکن عاریز خان کا مرڈر کیس ری اوپن کر کے، وہ میرے خلاف جا رہی ہے ”
عفان جھنجھلایا ہوا تھا۔
” تو کیا ہوا ؟؟ کیا اسے تم پہ شک ہے ؟؟ کیا اس کے ہاتھ تمہارے گریبان تک پہنچ چکے ہیں؟؟ چیخو مت۔ تمہاری ماں زندہ ہے ابھی۔ اس پورے خاندان کو اپنی مٹھی میں کرنے کی ہمت رکھتی ہے تمہاری ماں۔ بےوقوفوں کی طرح مت چلاؤ اور آرام سے بیٹھ کے تماشا دیکھو۔ پولیس اسٹیشن جاؤ اور اپنی مری ہوئی بیوی کے رپورٹس لو۔ اگر تم نہیں جاؤ گے تو سب تم پہ شک کرے گیں۔ اپنی مردہ بیوی کے لئے تھوڑی sympathy۔۔۔ تھوڑا دکھ شو کرو۔ ایٹ لیسٹ، انہیں لگے کہ تم دکھی ہو۔آخر کو، اس کے پیٹ میں تمہارا ہی بچہ تھا۔ میرا پوتا۔ جسے شیطان بننا تھا لیکن وہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی مر گیا۔ جاؤ عفان، اور پرسکون ہو کے جاؤ۔”
عفان لب بھینچ گیا اور پھر گہرا سانس لیتا، وہ وہاں سے باہر نکل گیا۔ زرناب اسے جاتا دیکھ رہی تھی اور پھر اس کے چہرے پہ، سرد شیطانی مسکراہٹ بکھر گئی۔ اس کی دسترس شیطانوں کی دنیا میں تھی۔ اسے کسی چیز کا خوف نہیں تھا۔
” فیاض حیات، تم نے مجھے انکار کیا تھا، مجھے دھتکارا تھا۔ مجھ پہ تھوک کے چلےگئے تھے لیکن شاید تمہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ جب عورت بدلہ لینے پہ آئے تو وہ اپنی پوری طاقت لگا دیتی ہے اور پھر بازی کو پلٹنے میں دیر نہیں لگتی۔ عفان، میرا بیٹا ہے جو میرے شیطانی اثر سے، ایک ایسا مہرہ بن چکاہے کہ میں ہر چال چلوں بازی کا اختتام تم پہ ہی ہوگا۔ اب تمہاری بیٹی کو اپنی دسترس میں کرتی ہوں۔ میں زرناب درانی ہوں۔ شیطانوں کے دنیا کی ملکہ ۔۔۔۔ ”
وہ زور زور سے ہنسنے لگی جبکہ اس اندھیرے کمرے سے، عجیب پھڑپھڑاہٹ اور ورد کی بےہنگم آوازیں آنے لگی۔
□□□□□□■■■■■■□□□□□□
” گڈ مارننگ در ۔۔ ”
در مکنوں، جو رپورٹس ترتیب دینے میں مصروف تھی۔ خیام کی اچانک آمد پہ چونکی اور مسکرانے لگی۔
” گڈ مارننگ، کافی عرصے بعد ملاقات ہورہی ہے۔ “
” امممم، مجھے مس کیا؟؟”
خیام کا انداز شرارتی تھا۔
” بلکل نہیں۔ ”
درمکنوں مسکراتے ہوئے فائل اس کے سامنے رکھنے لگی۔
” یہ لو، تمہاری اور اکاسمہ کے مرضی کی رپورٹس تیار ہیں “
” ارے واہ، عندلیب کی فائل ہیں۔”
خیام فائل کھول کے دیکھنے لگا اور پھر تعریفی نظروں سے درمکنوں کو دیکھا۔ ۔
” رپورٹس تو بڑی جاندار بنائی ہیں۔۔ شک کی گنجائش ہی نہیں۔ “
” رخسار فاروقی کی رپورٹس شام تک مل جائے گی۔ اس کی باڈی مسلسل زہر دیتے رہنے کی وجہ سے بوسیدہ ہو چکی ہے۔ رپورٹس بننے میں وقت لگے گا۔ ”
درمکنوں نے کہاجبکہ خیام سر اثبات میں ہلانے لگا۔
” ویسے عجیب بات ہے کہ رخسار فاروقی کی اچانک موت کیسے ہوئی؟ کس نے دیا ہوگا اسے زہر، اتنی بڑی مقدار میں۔ کئی مردوں کے بستر کی زینت تھی وہ۔ “
” اس سے چھٹکارا پانے کے لئے ہی کیا ہوگا۔ ایسی عورتوں کے پاس تو، ہر مرد کے کے پوشیدہ راز بھی ہوتے ہیں۔ ”
درمکنوں نے تھکن بھرے انداز میں کہا ۔ خیام اسے غور سے دیکھنے لگا۔
” ارسام فاروقی کا بھی تو ۔۔۔۔ ”
خیام بات ادھوری چھوڑ گیا۔ درمکنوں لب بھینچ گئی۔
۔” سوری میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں تھا”
” ایسی کوئی بات نہیں خیام، میں جانتی ہوں کہ تم کیا کہنا چاہ رہے ہو۔ رپورٹس آ جائے تو میں خود اپنے والد کے فنگر پرنٹس لاؤں لاؤں گی اور میچ کرواؤں گی۔مجھے فرق نہیں پڑتا اگر میرا والد قانون کی گرفت میں بھی آ جائے۔اپنے عہدے کا غلط استعمال کر کے، وہ بہت سے غیرقانونی کاموں میں ملوث رہا ہے اور اب تو وقت آ جانا چاہئے کہ انہیں اپنے ہر غلط کام کی سزا ملے۔ ”
درمکنوں کی آواز سپاٹ تھی لیکن خیام اس کی آواز میں پنہاں دکھ کو محسوس کر سکتا تھا۔ چاہے وہ کتنی بھی بہادر کیوں نہ ہو لیکن جس کی بات ہو رہی تھی وہ درمکنوں کا باپ تھا۔ ایک بیٹی کے لئے یہ سب سے زیادہ مشکل امر ہے کہ اپنے باپ کے سیاہ کرتوتوں کو وہ جانتی ہو اور اسے قانون کے شکنجے میں بھی دیکھنا چاہتی ہو۔
□□□□□□■■■■■■□□□□□
” یہ عورت مر تو گئی لیکن اپنے پیچھے بہت سے راز چھوڑ گئی۔ اس کے ہر مرد سے تعلقات تھے اب سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کا اصل قاتل ہے کون ؟؟ آئینے میں بھی دیکھتے ہوئے ڈر لگتا ہے مجھے کہ کہیں آئینہ ہی مجھے قاتل نہ ٹھہرا دے”
وجدان ملک جھنجھلائے ہوئے انداز میں کہہ رہا تھا۔ ہارون گردیزی اور ارسام فاروق ہنسنے لگیں۔
” بھئ ہم تو بس اپنے بستر رنگین کرتے تھے اسکی قربت میں۔ ہمیں اسکے موت سے کیا لینا دینا “
” رپورٹس بن رہی ہے اس کے ڈیڈ باڈی کے۔اگر اس کی باڈی میں ہمارے ۔۔۔۔۔ اسپ*** ملتے ہیں تو؟؟ تو سوچو کیا ہوگا۔ ہم سب سے تحقیق ہوگی۔ ”
وجدان ملک نے ایک اہم نکتہ اٹھایا تھا جبکہ وہ دونوں ہنسنے لگے
” تو تمہارا مطلب ہے کہ اسکی رپورٹس آجائے اور اس کی باڈی میں، بقول تمہارے، ہمارے اسپ*** ہوئے تو پولیس ہم سب کی ایک ایک کر کے، ہمارے باڈی اور اسپ** کی تحقیقات کرے گی۔ کم آن وجدان، تم پاگل ہو گئے ہو یا بڈھے ہوگئے ہو ”
ہارون گردیزی نے اسکا مذاق اڑایا ۔ وجدان ملک ماتھے پہ بل ڈالے خاموش رہا۔
” ویسے، اسے زہر دیا کس نے ہوگا ؟؟ وہ بھی اتنی زیادہ مقدار میں۔کہ وہ بوسیدہ ہو چکی ہے۔ ”
فاروق کے چہرے پہ سوچ کی لکیریں تھی۔ ہارون نے کندھے اچکائے۔
” ہم سادہ سے مرد، بس اس کی قربت کے لمحات کو انجوائے کرتے تھے۔ہمیں کیا دشمنی اس سے، کہ اسے موت دے”
” کہیں یہ ازمائر شاہ تو نہیں؟؟ یا پھر اس کی بیوی؟؟ رخسار نے خود بتایا تھا کہ اسے لے کے، دونوں میاں بیوی کے درمیان کافی مسائل چل رہے ہیں اور یہ کہ وہ ازمائر کو حاصل کرنا چاہتی ہے مسفرہ سے۔”
وجدان کی آنکھوں میں چمک تھی جبکہ وہ دونوں کندھے اچکا گئے۔
” ازمائر شاہ امیر بزنس ٹائیکون بن چکاہے۔ ایک خوبصورت بیوی ہے جو ایک ماہر سائیکیٹریسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ، مشہور ناول نگار بھی ہے۔ ازمائر شاہ کو کیا پڑی ہے کہ اپنی بیوی کو چھوڑ کے، استعمال ہوئی عورت کو استعمال کرے۔ وہ تو بس ہم غریبوں کے لئے مال غنیمت تھئ ”
فاروق نے کہا۔
” وہ بھئ چھین لی گئی افسوس”
ہارون نے افسوس کرتے ہوئے آہ بھری جبکہ وجدان اور فاروق ہنسنے لگے۔ وہ کافی دیر تک بات کرتے رہے لیکن کسی نتیجے پہ نہ پہنچ پائے اور اب انہیں بس اس خبر کا انتظار تھا جسکے ذریعے انہیں رپورٹس کا پتہ چلے اور یہ پتہ چل سکے کہ پولیس کیا اقدام کر رہی ہے۔
□□□□□□□■■■■■■■□□□□□
” ساری رات گھر نہیں آئے تم، کیا اس قدر افسوس میں تھے تم اپنی سابقہ بیوی کی موت پہ۔ ”
وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا، پیچھے سے مسفرہ کی طنزیہ آواز ابھری۔ ازمائر کے لبوں پہ مبہم مسکراہٹ اابھری۔ مڑ کے سنجیدگی سے وہ مسفرہ کو دیکھنے لگا۔
” تمہیں پرسکون نیند آئی ہوگی آج رات “
مسفرہ نے آنکھیں گھمائیں۔ ۔
” گندگی جب دفع ہو جائے تو نیند آ ہی جاتی ہے، پرسکون سی نیند “
ازمائر کی آنکھوں میں طنز کا تاثر ابھرا۔
” ویری گڈ” ۔
وہ سر جھٹک کے آگے بڑھا جب مسفرہ نے اس کا بازو تھام کے اسے روکا۔ ازمائر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
” مجھ سے محبت ختم ہو چکی ہے ؟؟”
ازمائر ساکت سا اسے دیکھنے لگا۔ اس کے دل کی دھڑکن ابھر کے معدوم ہوئی لیکن خود کو سنبھال بھی لیا اس نے۔
” مجھے تم میں کچھ خاص دلچسپی نہیں رہی ”
اس کا ہاتھ، اپنے بازو سے ہٹا کے، وہ آگے بڑھا جب مسفرہ اس کی پشت سے لگ گئی۔
” ازمائر میں تمہاری بیوی ہوں۔ہماری رضامندی سے شادی ہوئی تھئ ہماری۔ تم محبت کرتے تھے مجھ سے تو پھر ۔۔۔۔ “
ازمائر نے لب بھینچ لیے۔ مسفرہ کی نازک بانہیں، اس کے وجود کے گرد لپٹی ہوئی تھی اور اس کا نازک سراپا، ازمائر کی پشت سے ایسے لگا ہوا تھا کہ اس کا کومل سا لمس، ازمائر کو اپنے وجود کی گہرائیوں میں محسوس ہو رہا تھا۔ ویسے بھی ان دنوں، ان کے بیچ کافی خلا سا آ گیا تھا۔وہ جیسے دور ہو گئے تھے ایکدوسرے سے۔ اور اب یوں اچانک، مسفرہ کی نزدیکی، اس کے دہ میں ہلچل سی مچا رہی تھی لیکن وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا۔ اس کمزور لمحے کے زیراثر نہیں آنا چاہتا تھا۔ تبھی جھٹکے سے، اسے خود سے الگ کرتا وہ دور ہوا اور مڑ کے اسے دیکھنے لگا۔
” ہاں ہوئی تھئ تم سے محبت لیکن تمہارے ایک عمل نے سب برباد کر دیا۔ میرا دل،میری روح، میرے احساسات سرد پڑ گئے تمہارے لیے “
” میرے عمل نے ؟؟ میں نے ایسا کیا کر دیا ہے ازمائر شاہ ؟؟ کہ تم مجھ سے سرد پڑ گئے ہو ؟”
مسفرہ کے ماتھے پہ بل پڑ گئے اور وہ ناگواری سے اسے دیکھنے لگی۔ ۔۔
” تم مجھ پہ شک کرنے کی غلطی کر چکی ہو مسفرہ۔ اور یہ بات مجھے اس قدر متاثر کر گئی ہے کہ مجھے تم میں اب دلچسپی نہیں رہی۔ ”
ازمائر نے واضح الفاظ میں کہا۔
” اوہ، تبھی اپنی سابقہ بیوی کے پیچھے دم ہلاتے ہوئے چلنے لگے”
مسفرہ نے ناگواری سے اسے دیکھا۔ازمائر کی آنکھیں سرخ ہوئی اسکی بات سے۔
” تم مجھے کتا کہہ رہی ہو ؟ “
مسفرہ خاموش رہی۔ جب ازمائر نے اس کا بازو کھینچ کے، اسے جھٹکا دیا۔ ۔
” بکواس کرنے کی ہمت بھی کیسے ہوئی تمہیں مسفرہ۔ میں کتا
ہوں؟؟”
” چھوڑو مجھے ازمائر۔ پاگل ہو کیا ؟”
مسفرہ کو اپنے بازو میں درد کا احساس ہوا۔ تبھی اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔ جبکہ ازمائر نے گرفت مزید سخت کر دی۔
” نہیں چھوڑ رہا تمہارا بازو۔ کیا کر لو گی ؟؟” ۔
” تم واقع میں کتا بننے کی کوشش کر رہے ہو ازمائر شاہ”
مسفرہ نے بنا خوف کے، اسکی آنکھوں میں جھانک کے کہا۔
” تو ؟؟ مجھے بھی قتل کر دو گی جیسے تم نے رخسار کا قتل کیا۔ بےحد خاموشی کے ساتھ ” ۔
ازمائر نے سرد آنکھوں سے، اسے دیکھتے ہوئے کہا جبکہ مسفرہ جدوجہد چھوڑ کے، اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔
قتل ؟؟ اس نے کیا ہے ؟؟ یہ کیا کہہ رہا ہے ازمائر شاہ ؟؟
” کاش وہ میرے ہی ہاتھوں قتل ہوتی۔ میں اس کے گھٹ گھٹ کے مرنے کا تماشا دیکھتی ”
مسفرہ نفرت سے پھنکارتی، ازمائر کو دھکا دے کے، خود پیچھے ہوئی جبکہ ازمائر دو قدم پیچھے ہٹتا، اسے ہی دیکھ رہا تھا جبکہ مسفرہ کی آنکھوں میں شدید نفرت تھی۔
” میں نے تم سے محبت کی ازمائر شاہ۔ تب محبت کی جب تم جیل کی سلاخوں کے پیچھے، اس اندھیرے میں تھے جہاں تم تک کسی کی رسائی نہیں تھئ۔ جہاں کوئی تمہیں جانتا نہیں تھا۔تمہارا نام، تمہاری شخصیت، سب تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ مجھے تم سے محبت ہوئی تھی ازمائر شاہ۔ بےحد محبت۔ تم تو شاید جانتے بھی نہیں تھے لیکن میرا دل، میرے احساسات، میرا مکمل وجود، تمہاری محبت میں مکمل برباد ہو چکا تھا اور تم نے کیا کیا؟؟ تم نے کیا کیا ؟؟ اپنی سابقہ بیوی کے ساتھ دوبارہ سے آنے کا سوچنے لگے۔ مجھ سے دور ہونے لگے، مجھ سے جھوٹ بولنے لگے، مجھ سے نفرت کرنے لگے کیا میں محسوس نہیں کر سکتی ؟؟ وہ میرے پاس آئی علاج کے لئے، میرا دل چاہا کہ اُسے ایسی دوا دوں کہ وہ گھٹ گھٹ کے مر جائے لیکن میں رک گئی کہ مجھے تمہاری حد دیکھنی تھئ ازمائر شاہ۔ میرے لئے کوئی رخسار فاروقی اہمیت نہیں رکھتی۔ میرے لئے ازمائر شاہ اہم ہے۔ مجھے ازمائر شاہ کی حد دیکھنی تھی۔ میرے شوہر کی سابقہ بیوی، طلاق کے بعد بھی،میرے شوہر کو اپنی گھٹیا ننگی تصویریں بھیجتی تھی اور میرا شوہر، ہر بار میسج دیکھ کے، اسے بلاک کرنے کی ہمت تک نہیں رکھتا تھا۔ اتنے کم ہمت تھے یا بےباک ہو چکے تھے تم ازمائر شاہ ؟” ۔
ازمائر شاہ اسے گھور رہا تھا۔
” میرا رخسار فاروقی سے کوئی جسمانی تعلق نہیں رہا کبھی۔ “
مسفرہ ہنسنے لگی۔ اس قدر ہنسی کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
” تم مجھے اپنا دشمن سمجھنے لگے ہو ازمائر شاہ اور میں۔۔۔۔ میں ”
وہ رک کے دونوں ہاتھوں سے اپنے آنسو صاف کرنے لگی اور پھر ازمائر کے قریب آ کے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” میں۔۔۔ تم سے ۔۔۔ آج بھی محبت کرتی ہوں ازمائر شاہ۔ تم نے مجھے اپنا دشمن سمجھ لیا، تم میرے دشمن بن گئے لیکن میں آج بھی اسی لمحے میں جی رہی ہوں۔ اسی بند تاریک کمرے کے، اس لمحے میں، جب میرے مقابل پہلی بار ازمائر شاہ آ کھڑا ہوا تھا اور مجھے اس سے محبت ہو گئی تھی لیکن ازمائر شاہ کو مجھ سے محبت نہیں ہوئی اور نہ مجھ سے محبت ہے اور نہ کبھی ہوگی۔ ”
ازمائر شاہ سانس روک کے لب بھینچ گیا۔ محبت نہیں ہے ؟؟ کیا واقع اسے مسفرہ سے محبت نہیں ہے ؟؟ اس نے بھی محبت کی ہے ؟ اسے بھی محبت ہوئی تھی تو ایسا کیوں کہہ رہی ہے ؟
مسفرہ گہرا سانس لیتی، خود کو سنبھالتی، اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرتی پیچھے ہوئی کہ مزید سکت نہیں رہی تھی کھڑے رہنے کی۔ ازمائر کی گہری نظریں اس پہ تھی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ کیا اسے رخسار میں دلچسپی تھی ؟؟ نہیں، ہرگز نہیں۔
تو پھر وہ جیے مرے یا اس کی قاتل مسفرہ ہو تو اسے کیا فرق پڑتا ہے ۔ وہ چاہتا کیا ہے مسفرہ سے ؟؟ ابھی کیا کہا مسفرہ نے ۔۔ سچ ہی تو کہا ہے اس نے۔ اگر میں مخلص ہوتا مسفرہ سے، اگر میری محبت میں طاقت ہوتی تو میں بلاک کر دیتا اسے۔ لیکن میں۔۔۔۔ تو کیا میری ہی محبت میں نہ طاقت ہے، نہ سچائی۔ وہ اب مسفرہ کی پشت دیکھ رہا تھا۔
” مسفرہ، میں نے کبھی تمہیں اپنا دشمن۔۔۔۔ “
” محبت کرتی ہوں تم سے آج بھی، ڈیم اٹ ”
وہ چیختی ہوئی مڑی۔ ازمائر شاہ ساکت ہو گیا۔
” لیکن تم مجھ سے محبت نہیں کرتے۔ اور ثبوت چاہئے تو سنو۔ اگر مجھ سے محبت ہوتی تو جب رخسار نے گھٹیا تصویریں بھیجی تھی اپنی، اسے بلاک کر دیتے۔ مجھے بلڈنگ کی سب سے اونچی منزل پہ لے جا کے، مجھے ڈرانے کی کوشش نہ کرتے۔ میرا دشمن بن کے مجھ پ نظر نہ رکھتے۔ مجھے قاتل نہ سمجھتے ۔”
” نظر تو تم نے بھی رکھی ہوئی ہے مجھ پہ مسفرہ ۔۔۔ ”
ازمائر نے سختی سے کہا
” ہاں رکھی ہے کیونکہ مجھے تم پہ یقین نہیں رہا۔ تم پہ شک کرتی ہوں اور اس لئے کرتی ہوں شک، کیونکہ تم نے خود مواقع فراہم کیے ہیں مجھے۔ اور کچھ نہ کہنے کے لئے ہیں اور نہ سننے کے لئے۔ اس لئے میں بیڈ روم میں سونے جا رہی ہوں۔”
ہر لفظ پہ زور دے کے کہا گیا اور پھر سر جھٹک کے وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔ سیڑھیاں چڑھتی وہ اپنے کمرے میں آ گئی۔ ازمائر وہیں کھڑا رہا۔ یہ کیا ہو چکا تھا ؟ یہ کیا ہو رہا تھا ؟؟ مسفرہ اسے غلط سمجھ رہی ہے یا وہ خود بےانتہا برا انسان ہے؟؟
مسفرہ محبت کرتی ہے تو ؟؟ کیا میں محبت نہیں کرتا؟؟ کیا مجھے محبت نہیں ہوئی ؟؟ شاید نہیں ہوئی ؟؟ شاید میں جانتا بھی نہیں کہ محبت ہوتی کیا ہے اور کرتے کیسے ہیں؟؟
اس کا موبائل جو وائبریشن موڈ میں تھا، بزززززز کی آواز سے بجنے لگا۔ کال،کاشف کی طرف سے تھئ۔ اس نے موبائل کان سے لگایا۔
” سر، مسفرہ میم نے ابھی کال کیا ہے کہ تمام کیمرے آپ کے آفس سے ہٹا دیے جائے۔ کیا کروں؟؟”
” جیسا کہہ رہی ہے، ویسا ہی کرو ”
کال بند کر کے، اس کی نظر اوپر گئی۔ بیڈ روم کا دروازہ بند تھا۔ وہ وہیں صوفے پہ بیٹھ کے، دیر تک اس بند دروازے کو دیکھتا رہا اور اپنے بارے میں سوچتا رہا کہ ایسا کیا ہو چکا ہے جو مسفرہ کو لگتا ہے کہ اسسے کبھی مسفرہ سے محبت نہیں ہوئی۔ اس نے موبائل اٹھایا اور حکان کو کال کرنے لگا ۔ کافی دیر بعد کال ریسیو ہوئی۔
” ہیلو ”
اسکی ہشاش بشاش آواز سن کے، ازمائر نے اپنے لب کاٹے۔
” حکان آج مل سکتے ہیں کیا؟؟”
” بلکل مل سکتے ہیں ”
حکان نے مسکرا کر کہا۔
” تو میں آدھے گھنٹے تک تمہیں لینے ا رہا ہوں ”
یہ کہہ کے، وہ اپنی جگہ سے اُٹھا اور باہر کی طرف چل پڑا۔ اس کے باہر جاتے ہی، بیڈ روم کا دروازہ کھلا اور لب بھینچے مسفرہ، باہر ائی۔ شکایت بھری نظروں سے وہ دیر تک بند دروازے کو دیکھتی رہی جہاں سے ازمائر باہر گیا تھا۔ اسے دکھ ہو رہا تھا کیونکہ وہ اس شخص سے پہلی اور بےپناہ محبت کر بیٹھی تھی مگر اس شخص کو کبھی قدر کرنا نہیں ایا۔ اس کا پورا وجود تاسف سے بھر چکا تھا۔
□□□□■□□□□□□□□□□
” کہاں جا رہے ہو ؟؟”
اکاسمہ اچانک پوچھنے لگی۔ حکان نے اسے بانہوں میں بھر لیا اور گہرا سانس لیتا، اس کی خوشبو خود میں اتارنے لگا۔ ۔
” بیس منٹ اب بھی ہے ہمارے پاس ” ۔
اس کی بھاری سرگوشی پہ اکاسمہ نے اپنے دل کی دنیا میں ہلچل سی محسوس کی تھی۔ وہ اس شخص سے بےپناہ محبت کرتی تھئ۔ شاید اس لئے کہ حکان کی محبت میں طاقت ہی اتنی تھی کہ وہ مکمل حکان کے عشق میں محو ہو چکی تھی۔
” مائی ڈئیر ہزبینڈ، آفس ہے یہ میرا۔ “
حکان نے مسکراتے ہوئے، اس کے لبوں پہ اپنی انگلی پھیری۔
” آفس تو رومینس کے لیے ہی ہوتا ہے۔ اتنا نہیں پتہ، بڑی معصوم ہو تم ۔۔۔ “
” حکان، تنگ کر رہے ہو ”
اکاسمہ نے منہ بسور لیا تھا جبکہ حکان مسکرانے لگا۔
” اچھا سنو، آج رات وہی ریڈ۔۔۔۔ “
اکاسمہ اسے گھورنے لگی تبھی وہ بات ادھوری چھوڑ کے مسکرانے لگا۔ اور اکاسمہ کو خود میں بھینچ لیا۔ اس کے گال پہ لب رکھ کے اس نے سرگوشی کی۔
” میری جان ہو تم اکاسمہ، تمہیں تنگ نہیں کر رہا، بس تم ۔۔۔۔ ”
حکان اب اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر کے، اسے دیکھنے لگا۔
” تمہیں جب دیکھتا ہوں، تمہیں جب سوچتا ہوں، تمہین جب محسوس کرتا ہوں، تم جب میری بانہوں میں ہوتی ہے، میرے دل کا دماغ خراب ہو جاتا ہے۔ ”
اکاسمہ جو اسے غور سے دیکھ رہی تھی اور اچانک ہنسنے لگی۔ حکان نے اس کے کھلکھلاتے لبوں پہ لب رکھ کے، آنکھیں موند لی۔ اکاسمہ کے نازک وجود کے گرد، اُس کے بازوؤں کا گھیرا مزید تنگ ہوا۔
” اففف اکاسمہ بہت محبت کرتا ہوں تم سے۔ بہت سارا ” ۔
وہ بھاری سرگوشی کرتا جیسے اکاسمہ کی جان لے رہا تھا۔ اکاسمہ نے اس کی ٹائی کھینچ کے، اس کی آنکھوں میں، شرمیلی نظروں سے دیکھا۔
” میں بھی تم سے بےحد محبت کرتی ہوں حکان ملک ۔ “
” اچھا، کل کا گفٹ کیسا لگا ؟؟”
حکان کے سوال پہ، اس کی آنکھوں میں، کل کے گفٹ کا عکس ابھرا تو شرم سے اس کے گال دہکنے لگے۔
” حکان پیچھے ہٹو”
” اچھا سوری، ویسے خوبصورت تو بہت لگ رہی تھی اس میں۔۔۔ ”
وہ پھر سے اسے چھیڑنے لگا۔
” حکان ۔۔۔۔ ”
اکاسمہ نے اسے گھورنے کی کوشش کی جب حکان کا موبائل بجنے لگا۔ کال ازمائر کی تھی۔ اس نے کان سے لگا کے، ” آ رہا ہوں ” کہہ کے موبائل پینٹ پاکٹ میں رکھا اور اپنی بانہوں میں موجود اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔
” میں چلتا ہوں اب ۔ بٹ آئی لو یو مائی بیوٹی فل کیٹ”
اکاسمہ کے چہرے پہ شرمیلی سی مسکراہٹ تھی۔ حکان کے لئے یہ انوکھا احساس تھا۔ جب دونوں بیڈ روم میں ہوتے تو ان کے حسین لمحات میں، اکاسمہ اس کی قربت میں، اسے اپنی محبت سے مدہوش سا کر دیتی لیکن بعد میں، ہر بار حکان کے یاد دلانے پہ، اس کی آنکھیں شرمیلی سی بن جاتئ۔
اس نے اکاسمہ کے لبوں پہ آخری بار بوسہ دیا اور اس سے الگ ہوتا آفس سے باہر نکل گیا جبکہ اکاسمہ مسکراتی نظروں سے اسے جاتا دیکھنے لگی۔ وہ جا چکا تو وہ بھی اپنی سیٹ پہ آ کے بیٹھ گئی۔ اس کے چہرے پہ کئ خوبصورت رنگ تھے، آنکھیں مسکرا رہی تھی اور لبوں پہ دھیمی مسکان تھی۔
اچانک اسے کچھ یاد آیا اور وہ تیزی سے اٹھ کے، اپنا بیگ سنبھالتی، آفس سے باہر نکل گئی۔ اسے عندلیب سے ملنے جانا تھا۔ تبھی تیز تیز قدموں سے چلتی وہ کورٹ سے باہر نکلی اور سیڑھیاں اتر کے اپنی گاڑی کی طرف جا رہی تھی جب اچانک ایک عورت بہت زور سے، اس سے ٹکرا گئی۔
وہ عورت، زرناب درانی تھی۔ جو کب سے فاصلے پہ کھڑی، ااس کے باہر آنے کی منتظر تھی۔ جیسے ہی اکاسمہ آتی دکھائی دی، وہ بھی چوکنا ہو گئی اور قریب آ کے، زبردستی اکاسمہ سے ٹکرا گئی۔ اکاسمہ جلدی میں تھی تبھی اس نے بھی زیادہ دھیان نہیں دیا۔ اس نے جان بوجھ کے اپنا ہاتھ اکاسمہ کے بالوں میں پھنسا کے کھینچا کہ اس کی انگلی میں موجود بڑی انگوٹھئ، اکاسمہ کے بالوں میں پھنس گئی اور اس کے کئی بال ٹوٹ کے، اس انگوٹھی میں پھنس گئے۔ اکاسمہ کراہ کے رہ گئی۔ ۔
” ایم سوری ۔۔۔ ایم سوری بیٹا، میں بہت پریشان تھی تو مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کیسے تم سے ٹکرا گئی۔ تم ۔۔۔ ٹھیک تو ہو ؟”
زرناب جلدی میں معذرت کرنے لگی۔ اکاسمہ کے چہرے پہ درد کے آثار دیکھ کے، وہ مزید شرمندہ ہوئی ۔۔ ۔
” اوہ، میرا ہاتھ تمہارے بالوں میں الجھ گیا تھا۔ایم ایکسٹریملی سوری۔۔۔۔ “
اکاسمہ کو ایک تو جلدی تھئ، دوسرا وہ کافی محتاط ہو چکی تھی ااسلئے اجنبیوں سے جلدی گھل مل نہیں جاتی تھی۔
” اٹس اوکے ”
کہہ کے، وہ تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔ زرناب اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ وہ گاڑی میں بیٹھ کے، آگے بڑھ گئی۔ تب زرناب نے اپنے ہاتھ میں موجود ان چند بالوں کو دیکھا جو اکاسمہ کے تھے اور اب اس کی دسترس میں تھے جن پہ شیطانی عمل کر کے، وہ اکاسمہ کو گھیرنے والی تھی۔ عفان کے بعد، اب باری اکاسمہ کی تھی شاید۔
□□□□□□□■■■■□□□□□□
