Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 54

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 54

” تمہارے شوہر نامدار کو پتہ چل جائے کہ میں تمہیں یہاں لے کے آیا ہوں تو شاید میری چٹنی بنا کے لوگوں میں بانٹ دے”
کاووس شاہ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا جبکہ اکاسمہ خاموش رہی۔ وہ چپ چاپ ایک کمرے سے دوسرے کمرے اور پھر لاؤنج میں آ، جا رہی تھی۔ اس کے ماتھے پہ پرسوچ لکیریں تھی جبکہ آنکھوں میں عجیب الجھن تھی۔
یہ وہی جگہ تھی جہاں ایک جوان لڑکی کی موت ہوئی تھی اور جس کی تحقیقات کے لئے، عاریز اور خیام ائے تھے اور پھر اچانک عاریز بدل گیا تھا یا یوں کہا جائے یہیں عاریز کی موت ہوئی تھی اور اس کا ماسک پہن کے، کوئی اور عاریز خان بن کے آیا تھا۔ اس نے جھرجھری لی۔ کاووس شاہ اس کے چہرے پہ اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا ۔
” اکاسمہ؟؟”

” ہمم ؟؟”
اکاسمہ دیوار کے سامنے کھڑی غور سے اسے دیکھ رہی تھی۔

” تم ٹھیک ہو؟؟”
کاووس شاہ کی آواز میں تشویش تھی ۔

” اس دیوار پہ کچھ نظر آ رہا ہے تمہیں؟؟”
اکاسمہ نے اس کے سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے، اپنا سوال کیا تھا۔ کاووس شاہ غور سے دیوار کو دیکھنے لگا۔ باقی دیواریں صاف تھی لیکن اس کمرے کی ایک دیوار، جو دروازے کے قریب تھی، اس پہ ہلکے دھبے تھے جیسے خون کے دھبے ہو۔ وہیں دیوار کے قریب فرش بھی سیاہ پڑ رہی تھی۔ کاووس شاہ اب اکاسمہ کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھنے لگا۔

” عاریز کے خون کے نشان ہیں ”
اکاسمہ نے آہستہ اواز میں کہا۔

” تم کیسے یقین سے کہہ سکتی ہو ؟؟”
کاووس کو دکھ ہو رہا تھا اس کے لئے۔

” بار بار میں ہر کمرے میں جا رہی ہوں لیکن میرا دل واپس مجھے یہیں آنے کو کہتا ہے۔ یہیں حملہ ۔۔۔۔۔ ہوا تھا عاریز پہ۔ مجھے یقین ہے ”
اکاسمہ کی آواز مبہم تھی۔ کاووس شاہ کچھ دیر خاموش رہا اور پھر بولنے کی کوشش کی۔
” اممم ٹھیک ہے، میں ٹیم سے کہتا ہوں کہ یہاں کی انویسٹیگیشن کریں۔ چلو چلتے ہیں ہم یہاں سے ”
کاووس شاہ نے اس کا بازو تھام کے، اسے لے جانے کی کوشش کی لیکن وہ رکی رہی۔ کاووس شاہ غور سے اسے دیکھنے لگا۔ اس کے چہرے پہ کوئی تاثر نہیں تھا لیکن آنکھوں میں سوگ نمایاں تھا۔
” تم بھی حکان کی طرح مجھ سے چھپا رہے ہو ناں کہ ۔۔۔۔ عاریز کا قاتل عفان ہے “

کاووس شاہ کے چہرے کا رنگ بدلا۔ وہ گڑبڑا گیا لیکن خاموش رہا۔

” میں جانتی ہوں، میں محسوس کر سکتی ہوں کہ عاریز کو عفان نے ہی مارا ہے۔ اور اب وہ حکان کو بھی مار دینا چاہتا ہے۔ میں عاریز کو نہیں بچا سکی لیکن اب ۔۔۔ میں حکان کو کیسے بچاؤں گی اس سے ”
اکاسمہ کی آواز بھرا گئی۔ کاووس شاہ نے اس کا بازو کھینچا۔
” اکاسمہ چلو یہاں سے ۔”

” میرے دل میں عجیب طوفان سا اٹھا ہوا ہے، بوجھ سا ہے جو میرے وجود کو کھائی میں دھکیل رہا ہے۔ خوف، غصہ، کچھ نہ کر پانے کا دکھ، مجھے سیال مادے کی طرح، اپنی لپیٹ میں لے کے، مجھے مکمل طور پہ کھوکھلا کر رہا ہے۔میں۔۔۔۔۔ کچھ کر کیوں نہیں پا رہی ۔۔۔”
آخر میں وہ زور سے چیخ پڑی۔ کاووس شاہ چونک کے، اس کے قریب ہوا۔
” اکاسمہ۔۔۔۔۔ “

اکاسمہ اسے سرخ آنکھوں سے گھورنے لگی۔
” عفان قاتل ہے عاریز خان کا ؟؟؟ “

کاووس شاہ لب بھینچ کے نظریں چرا گیا۔ جبکہ اکاسمہ کو لگا کہ اس کاپورا وجود بم دھماکے کے جیسے، پھٹ جائے گا۔ اس نے کاووس شاہ کا کالر جکڑ لیا۔
” بتاؤ؟؟”

کاووس اسے دیکھنے لگا۔اسے کندھوں سے تھام کے کہنے لگا۔
“اکاسمہ چلو یہاں سے پلیز”

” عفان قاتل ہے عاریز کا ؟؟”
اس نے پھر سے اپنا سوال دہرایا اور کاووس شاہ لب بھینچ گیا، بیچارگی سے اسے دیکھتا۔
” حکان نے منع کیا ہے تمہیں۔۔۔۔ “

” میں تمہاری بہن ہوں۔تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں۔ مجھے مت بتاؤ کہ کون کیا کہتا ہے، مجھے میرے سوال کا جواب چاہئے۔ اگر سچ نہیں بولو گے تو میں خود عفان کے پاس جا کے، اس سے پوچھوں گی۔”
اکاسمہ نے تیز لہجے میں، غصے سے کہا۔ کاووس شاہ نے مبہم انداز میں، اثبات میں سر ہلایا۔
“ہ۔۔۔۔ ہاں”

اکاسمہ کو لگا جیسے اس کے پیروں سے جان نکل رہی ہو، وہ بےجان سی ہو کے گرنے لگی جب کاووس شاہ نے اسے مضبوطی سے تھام لیا۔

” ک ۔۔۔ کیسے ؟؟ کیسے ؟؟ ک ۔۔۔۔ کیسے مارا ہوگا اسے ؟؟ ک۔۔۔ کیا عاریز کو پتہ بھی چلا ہوگا کہ اس کا قاتل عفان ہے ؟؟ ”
وہ سرخ آنکھوں سے دیوار کو دیکھنے لگی اور پھر فرش کو ۔

” اس۔۔۔۔ اسکی پیٹھ پہ چھرا گھونپا گیا تھا اور۔۔۔۔ اور پھر سامنے سے، اس کے سینے ۔۔۔۔تو ۔۔۔ تو عاریز نے دیکھ لیا ہوگا لیکن ۔۔۔۔ اسے ، اسے فرصت ہی نہیں ملی کہ ۔۔۔ وہ س۔۔۔ سب کو بتا سکے کہ عفان ۔۔۔۔ ”
وہ پھر سے گرنے لگی تھی جب کاووس شاہ نے اسے خود سے لگایا اور اس کی پیٹھ آہستہ سے سہلانے لگا۔
” اکاسمہ ہشش، ریلیکس ۔۔۔ “

” اس اتنی بڑی جگہ پہ، کوئی بھی نہیں تھا جو ۔۔۔ اس کی مدد کر سکے یا ج۔۔۔جس سے وہ مدد مانگ سکے، کس قدر بےیقینی سے مرا ہوگا وہ، کچھ کہنا چاہ رہا ہوگا،م ۔۔۔ مجھے خبردار کرنے کی کوشش کی ہوگی لیکن ۔۔۔۔ وہ اسی دکھ اور بےیقینی کے ساتھ مر گیا کہ اس کے بعد،میرا کیا ہوگا؟ آہ! کس قدر دردناک موت ہوئی ہوگی ۔۔۔ آہ ”
اکاسمہ نے بے دردی سے آہ بھری۔

” اکاسمہ چلتے ہیں اب پلیز، حکان پریشان ہو جائے گا ”
کاووس شاہ، اسے خود سے لگائے، وہاں سے لے جانے لگا۔

” ہ ۔۔۔۔ ہاں، حکان ، وہ ۔۔۔ وہ حکان کو مار ڈالے گا۔ م ۔۔۔ مجھے بچانا ہوگا اسے ”
وہ ٹوٹے لہجے میں کہتی، کاووس شاہ کے ساتھ وہاں سے جانے لگی۔
یہی وہ جگہ تھی جہاں عاریز کی غیریقینی موت ہوئی تھی لیکن بےحد دردناک موت ہوئی تھی اس کی۔ جس بےدردی سے اسے مارا گیا تھا، اس کے لیے ابھی تک عاریز خان کو انصاف نہیں ملا تھا لیکن اکاسمہ اب اسے انصاف دلانے کا طے کر چکی تھی چاہے اس انصاف کو دلانے کے لئے، اسے خود موت کے گہرے گڑھے میں نہ گرنا پڑ جائے وہ عاریز خان کو انصاف ضرور دلائے گی۔ وہ یہاں سے جاتے ہوئے، یہ فیصلہ خود سے کر چکی تھی۔

□□□■■■■■□□□□□□■■■□□□

” سر یہ نیوز دیکھی آپ نے ؟؟”
جو فائل پہ سائن کر رہا تھا جب کاشف نے جھجھکتے ہوئے موبائل اس کے سامنے کیا۔ ازمائر نے ابرو اُٹھا کے، ایک نظر موبائل پہ ڈالی۔

‘ مشہور بزنس مین ازمائر شاہ کی سابقہ بیوی، رخسار فاروقی کو،کل رات زہر دلا کے مار دیا گیا ہے۔ تفتیش کے بعد پتہ چلا ہے پولیس ڈیپارٹمنٹ کو، کہ زہر اتنا طاقتور تھا کہ رخسار فاروقی کے پورے جسم کو بوسیدہ بنا چکا ہے لیکن پولیس افسران کے مطابق انویسٹیگیشن اب بھی چل رہی ہے اور انشاءاللہ بہت جلد مزید نتائج سامنے آئیں گے’

” سر، رخسار فاروقی کو مار دیا گیا ہے ”
کاشف کی بات پہ، آزمائر نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔ اسے مسفرہ کے الفاظ اچانک سے یاد آئے تھے۔

‘ از۔۔۔۔ مائر۔ میں اپنے محبوب کو نقصان کبھی نہیں پہنچاؤں گی کیونکہ میں محبت کرتی ہوں اس سے۔ لیکن اس عورت کو میں جہنم کی آگ سے بدتر سزا دوں گی۔ کیونکہ اُس کی جرات کو نیست و نابود کر دوں گی میں، جو میرے شوہر، میرے محبوب کے قریب بھی آئے۔ ‘

اسے یاد آیا کہ اس نے کئی کتابیں پڑھی تھی مسفرہ کی، جو کریمنل بیسڈ تھی اور جس میں مسفرہ نے کرائم کو بےحد بھیانک انداز میں لکھا تھا۔ اس وقت تو وہ مسفرہ کے لکھائی کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکا تھا لیکن آج اسے جھرجھری سی محسوس ہوئی تھئ جب اس کے دماغ میں یہ خیال آیا کہ رخسار فاروقی کو مسفرہ نے قتل کیا ہوگا۔ کیا واقع ؟؟ مسفرہ نے ؟؟

” ہمممم، ٹھیک ہے، یہ فائل لو اور جاؤ ”
ازمائر نے مکمل طور پہ اسے نظرانداز کردیا۔ کاشف سر اثبات میں ہلاتا آفس سے باہر نکل گیا تب ازمائر نے تیزی سے لیپ ٹاپ آن کیا تاکہ وہ مسفرہ کو دیکھ سکے۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ مسفرہ اپنی سیٹ پہ بیٹھی ہوئی تھی، اور بےحد پرسکون انداز میں سامنے بیٹھے مریض سے بات کر رہی تھی۔ وہ غور سے دیکھنے لگا۔ مسفرہ کے چہرے پہ سکون تھا۔ جیسے اسے کسی بات کی خبر نہ ہو، پھر اسے دھیان آیا کہ وہ ایک سائیکیٹریسٹ ہے اور ایک سائیکیٹریسٹ جانتی ہے کہ کیسے اپنے جذبات پہ قابو رکھنا ہے۔ وہ لب بھینچ گیا۔ آنکھیں چھوٹی کر کے، کچھ سوچتا، وہ اسکرین کو گھورتا رہا یہاں تک کہ مریض، مسفرہ سے رخصت لے کے چلا گیا۔ مسفرہ اپنا موبائل اٹھا کے دیکھنے لگی۔
اس کے موبائل اسکرین پہ، وہی خبر نظر آ رہی تھی جو کچھ دیر پہلے کاشف نے اسے دکھائی تھی۔ وہ اب مزید غور سے، مسفرہ کی حرکات دیکھنے لگا۔ مسفرہ نے اپنی کنپٹی سہلائی، کچھ سوچتے ہوئے، اس نے موبائل پہ دوسری اسکرین آن کی جہاں ازمائر شاہ نظر آ رہا تھا جو بےحد غور سے لیپ ٹاپ اسکرین کو دیکھ رہا تھا۔ وہ چونکنا ہو گیا کیونکہ مسفرہ اپنے موبائل اسکرین پہ، اس کے آفس میں موجود کیمرے کی آنکھ سے، اسے دیکھ رہی تھی۔ شاید وہ یہ دیکھنا چاہ رہی تھی کہ ازمائر شاہ پہ، اس خبر نے کیا اثر کیا ہوگا؟ وہ دل ہی دل میں ہنسنے لگا لیکن چہرے پہ سنجیدگی ہی رکھی۔
کتنی عجیب بات تھئ۔ دونوں کو ایکدوسرے سے محبت ہوئی۔ دونوں کی رضامندی سے شادی ہوئی اور اب وہ دونوں ہی اس مقام پر پہنچ چکے تھے کہ دونوں ایکدوسرے پہ چپکے نظر رکھے ہوئے تھے۔ کیا ہر رشتے کا یہی انجام ہوتا ہے ؟؟ شک ؟؟ بدگمانی؟؟
ازمائر شاہ نے تلخی سے سوچا۔
ایک عورت نے، اس کے ہی بھائی کے ساتھ مل کے، اس سے خیانت کا مرتکب ہوئی اور دوسری عورت، اس کے پیٹھ پیچھے، اسی کی پیٹھ پہ چھرا گھونپنے کا انتظام کیے ہوئی ہے۔
کیا یہی ہوتی ہے عورت ؟؟
کیا یہی ہے عورت کا اصل روپ ؟؟

پہلے مسفرہ نے اُس سے محبت کی، اسے بھی مسفرہ سے محبت ہوئی اور پھر یہ انجام ؟؟؟
محبت کا انجام ؟؟
تلخی سے سوچتے ہوئے، اس نے گہرا سانس لیا اور لیپ ٹاپ بند کر دیا کہ اس کا دل جیسے بیزار سا ہو گیا تھا اس محبت نام کے رشتے سے۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ سب بند کر دے، اس عورت کے سامنے جائے اور اس سے حساب مانگے اس بات کا، کہ وہ، اس سے چھپ کے، اسی کے آفس میں، کیمرہ لگانے کی جرات کیسے کر سکتی ہے؟ اس سے پوچھے کہ کیا وہ اس قدر گھٹیا سمجھتی ہے اسے؟ کہ وہ ہر عورت ہے بستر پہ جائے گا یا ہر عورت کو اپنے آفس کے ٹیبل پہ لٹائے گا ؟؟
اسے سوچ کے ہی گھن محسوس ہوئی۔ وہ اب ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا کہ مسفرہ کے ساتھ بیٹھ کے، بات کر کے، اس کی سوچ کو بدلے یا اسے تسلی دے کہ وہ غلط شک کر رہی ہے، وہ ایسا نہیں ہے۔ نہیں، وہ ایسا کچھ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ مسفرہ اس پہ شک کرتی ہے تو یہ اس کی غلطی ہے، اور اب اپنی ہی غلطی کی سزا بھی بھگتے گی۔اگر اس نے رخسار کا قتل کیا ہے، اگر وہ قاتل ہے تو ازمائر شاہ اسے بلکل نہیں بچائے گا بلکہ وہ صرف ایک تماشائی کے طور پہ بیٹھ کے، تماشا دیکھے گا کہ پکڑ کیسے ہوتی ہے ؟ اور کیسے مسفرہ سزا کے دلدل میں دھنستی ہے ؟
اس کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ ابھر کے معدوم ہوئی۔
‘ محبت، تو مکمل طور پہ محبت، لیکن محبت میں دراڑ آجائے تو مکمل طور پہ نفرت، نہ ایک انچ کم، نہ ایک انچ زیادہ’

□□□□□□□■■■■■■■□□□□□□

اپنے کلینک آفس میں بیٹھی مسفرہ نے لب بھینچے، موبائل اسکرین کو گھورا۔ اسے ازمائر شاہ کے چہرے پہ عجیب افسردگی نظر ائی۔ تو کیا وہ اداس تھا؟؟ رخسار فاروقی کی موت نے اس پہ اثر ڈالا تھا؟؟ اسے برا لگ رہا تھا؟؟

” افففف”
اپنی ہی سوچوں سے گھبرا کے، اس نے موبائل سائیڈ پہ رکھا اور اپنی کنپٹی دبانے لگی۔ اس کے وجود میں سکوت سا تھا۔۔ اس خبر نے نہ اسے بوکھلا دیا تھا، نہ برا لگا تھا اور نہ کوئی خوشی ہوئی تھی۔ عجیب یاسیت سی چھائی تھی اس کے وجود میں، جسے کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔
ازمائر شاہ سے محبت کی تھی اس نے، اس قدر محبت کہ اسے، اس شخص میں اپنا وہ تخیلاتی کردار نظر آنے لگا تھا جسے لکھتے ہوئے، اسے نادانستگی میں محبت ہو گئی تھئ۔ عجیب بات ہے ناں کہ مصنفہ کو، اپنے ہی لکھے کردار سے محبت ہو جائے اور پھر وہی کردار، حقیقی زندگی میں اس کے سامنے آ کھڑا ہو تو ؟؟ اسے حقیقت میں محبت ہو جاتی ہے لیکن کیا ہوا ؟؟ وہ شخص اپنی سابقہ بیوی کے لئے، پھر تڑپنے لگا اور مسفرہ کے لئے یہ مشکل امر تھا کہ وہ اپنے محبوب کو، دوسری عورت کے لئے تڑپتا ہوا دیکھے۔
وہ آج بھی ازمائر شاہ سے محبت کرتی ہے لیکن ۔۔۔ ان کے بیچ اب قربت نہیں رہی بلکہ ایک خلا سی آ گئی ہے جو دونوں کو ایکدوسرے سے دور کر رہی ہے اور وہ دونوں اکتانے لگے ہیں ایکدوسرے سے۔
اس نے موبائل اٹھایا اور ایک کال ملائی۔
” رخسار فاروقی کی موت سے متعلق ساری معلومات اکٹھی کر کے مجھے سینڈ کرو۔ ”
کال ختم کر کے، اس نے موبائل ٹیبل پہ رکھا اور خود بےدلی سے اٹھ کے، کمرے میں ٹہلنے لگی کہ دل پہ بوجھ سا تھا، ازمائر شاہ کا افسردہ چہرہ بار بار یاد کر کے، وہ مایوسی کا شکار ہو رہی تھی۔ تبھی اپنی بےچینی کو زائل کرنے کے لئے، وہ آفس میں ہی ٹہلنے لگی۔ اپنی کنپٹی سہلاتے، اس نے کانپتے ہاتھ سے، انٹر کام پہ، اپنے لئے بلیک کافی منگوائی تا کہ اپنے اندر کی تلخی کو، وہ اس تلخ بلیک کافی سے کم کر سکے۔
وہ ایک سائیکیٹریسٹ تھی جو مریضوں کا علاج کرتی تھئ لیکن اب کبھی کبھی اسے محسوس ہونے لگاا تھا کہ جیسے اسے خود علاج کی ضرورت ہے ۔ اس کے چہرے پہ تلخ مسکراہٹ ائی۔
‘ رخسار فاروقی مر چکی ہے ‘

□□□□□□■■■■■■□□□□□□□

چوبیس گھنٹوں کے اندر پورے میڈیا، انٹرنیٹ، نیوز، اخبار اور ہر پلیٹ فارم پہ یہ بات پھیل گئی کہ پرازکیوٹر عاریز خان کا مرڈر کیس ری اوپن ہو رہا ہے۔ اور کچھ شواہد ملے ہیں جن کی بنیاد پہ کیس کو دوبارہ سے، از سر نو کھولا جائے گا۔

عاریز خان کو آج تک انصاف نہیں ملا تھا۔ اس کی خاموش موت نے جیسے سب میں تہلکہ سا مچا دیا تھا لیکن پھر خاموشی سے دب بھی گیا اور وہیں ایک چبھن سی رہ گئی تھی اکاسمہ کے دل میں، کہ وہ عاریز خان کو انصاف دلانے میں کمزور رہی ہے لیکن آج وہ یہ ثابت کر چکی تھی کہ عاریز خان کی موت کو خاموشی سے دبائے رکھ کے، قاتلوں سے ڈر کے، خاموش رہ کے، وہ اپنے وکالت کے عہدے کو ہی گالی دی رہی ہے۔ وہ نہ ڈرتی ہے اور نہ خوفزدہ ہے ۔ وہ عاریز خان کے قاتل تک پہنچ چکی ہے بس اسے گریبان سے پکڑ کر کے،منہ کے بل گرانا باقی ہے

” میم اکاسمہ، عاریز خان کا مرڈر کیس ری ااوپن کر کے آپ کیا دکھانا چاہتی ہے کہ آپ قاتل سے خوفزدہ نہیں ہے ؟؟”

” کیا حکان ملک کو معلوم ہے کہ آپ اپنے سابقہ شوہر کے مرڈر کیس کو ری اوپن کر کے، اسے انصاف دلانا چاہتی ہے ؟””

” میم اکاسمہ، تو اسے ہم کیا سمجھے؟؟ یہ کہ آپ اب بھی عاریز خان سے محبت کرتی ہے اور اسے نہیں بھولی ؟”

” عاریز خان سے محبت کا ثبوت؟؟”

” حکان ملک کے لیے افسوس ہو رہا ہے، کیا واقع اکاسمہ حیات ابھی تک عاریز خان کو نہیں بھولی”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” اتنے سارے سوال ایک ساتھ؟؟ مجھے یاد رکھنے میں مشکل پیش ا رہی ہے لیکن میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ ہماری عوام چاہے جتنی بھی اتفاق نہ رکھنے والی قوم ہو اگر بات کسی کے رشتے یا کسی کی عزت اچھالنے پہ آئے تو پوری قوم متحد ہو جاتی ہے۔ جہاں تک میرے اور حکان ملک کی بات ہے تو سرعام کہنے میں مجھے بلکلل بھئ عار محسوس نہیں ہوگی کہ میں حکان ملک سے بےپناہ محبت کرتی ہوں اور ہم دونوں ایکدوسرے کو بےپناہ چاہتے ہیں۔ میرا کوئی بھی قدم ایسا نہیں ہے جو کبھی بھی حکان کے خلاف جائے، میں ایک بیوی پہلے ہوں اور لائیر بعد میں۔
عاریز خان، ایک پرازیکیوٹر، جس نے ملک کے لئے اور آپ سب کے لئے، اینفیکٹ ہم سب کے لئے بہت سے ایسے کام کیے جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے ملک کی حفاظت کے لیے لیے بہت سے اقدام کیے اور جس وقت ان کی موت بھی واقع ہوئی یا یوں کہا جائے کہ جب انہیں قتل کیا گیا تب بھی وہ اپنے مشن پہ تھے۔ ایک پندرہ سال کی بچی کا بےرحمی سے مرڈر کیاگیا تھا جس کی انویسٹیگیشن کے لئے وہ گئے تھے لیکن وہیں ان کی خاموش موت ہوئی۔ کیا آپ سب کو نہیں لگتا کہ ان کی خاموش موت کو، خاموشی کے ساتھ دفنا کے رکھنا، ان کے ساتھ ناانصافی ہے ؟؟ قاتل کو کھلے عام چھوڑ دینا ناانصافی ہے ؟؟
عاریز خان آپ جیسا ہی ایک شخص تھا، جسے، ان کی فیملی نے بہت محبت سے بڑا کیا۔ ایک باپ جو برسوں سے اس بات کا منتظر تھا کہ اس کا بیٹا ایک دن پرازیکیوٹر کی سیٹ سنبھالے گا لیکن اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن اس کا بیٹا خاموش موت کی آغوش میں سو جائے گا اور کوئی اس کے مرڈر کیس کو ااوپن کر کے یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کرے گا کہ قاتل ہے کون ؟؟ اور اگر آج میں ری ااوپن کر رہی ہوں تو بجائے عاریز خان کا ساتھ دینے کے، آپ سب میرے اور حکان کے رشتے کو ڈسکس کر رہے ہیں۔کیا اس سب کے لئے آپ یہاں اکٹھے ہوئے ہیں تاکہ آپ کو اپنے اخبار، اپنے چینل، اپنے سائٹس کے لئے، مصالحہ دار ہیڈ لائنز مل سکے۔ افسوس!!!
آج اگر عاریز خان ہے تو کل آپ بھی ہو سکتے ہین، آپ کا بھائی، آپ کا شوہر، آپ کا بیٹا، بہن، بیوی کوئی بھی ہو سکتا ہے تب آپ ہی ہوتے ہیں جو یہ ہیڈ لائنز دیتے ہیں کہ حکومت بکواس ہین۔ پولیس نااہل ہیں۔ وکلاء کو پیسے ہڑپنے ہیں۔۔۔ کچھ اچھا نہیں بول سکتے تو خدارا، غلط بکواس کر کے، دوسروں کا دل نہ توڑے، دوسروں کی زندگی برباد نہ کرے۔
اور یہ بات میں اس قاتل سے کہنا چاہوں گی کہ میں مکمل تیاری کے ساتھ، یہ کیس ری اوپن کر رہی ہوں۔ میں نہ خوفزدہ ہوں،نہ مجھے خوف ہے۔ چیلنج کرتی ہوں کہ میں قاتل کو سامنے لاؤں گی اور عاریزخان کو انصاف دلاؤں گی۔ “

حکان جو خاموشی کے ساتھ، بےحد غور سے لیپ ٹاپ اسکرین پہ، اکاسمہ کو دیکھنے میں محو تھا جب اس کی گردن میں دو نرم بازو حائل ہوئے اور نرم لبوں کا کومل سا احساس، اسکی گردن پہ ہوا۔
” کیا دیکھ رہے ہو اتنے غور سے ؟؟ کیا تم بھی وہی سوچ رہے ہو جو باقی سب سوچ رہے ہیں؟؟”
اس نے سرگوشی کی۔

” میں اپنی بیوی کو دیکھ رہا ہوں کہ کس قدر نڈر ہے ”
حکان نے مبہم انداز میں کہا۔ اکاسمہ مسکراتے ہوئے، اس کے قریب صوفے پہ آئی اور لیپ ٹاپ سائیڈ پہ رکھ کے، اس کی گود میں بیٹھ کے، اس کی گردن میں بازو حائل کر کے، اسے دیکھنے لگی۔
“اپنی بیوی کو لائیو دیکھو جو اتنی خوبصورت ہے اور تمہاری دسترس میں ہے ”
حکان خاموش رہاجبکہ اس کے لبوں پہ مبہم مسکراہٹ تھی۔

” کیا کاووس شاہ زیادہ اہم ہے مجھ سے اکاسمہ ؟؟”
حکان بےحد سنجیدہ تھا۔
” کیا اسے تم سے ملوا کے، میں نے غلط کیا؟؟ تم مجھ سے چھپ کے، مجھے آگاہ کیے بنا، اس کے ساتھ وہاں گئی ؟ “

” نہیں حکان، وہ مجھے لے کے نہیں گیا بلکہ میں خود اسے لے کے گئی تھی اور اس نے مجھے، تمہارے ڈر کی وجہ سے کچھ نہیں بتایا بلکہ مجھے خود یہ اندازہ ہوا کہ عفان ہی قاتل ہے۔ ”
اکاسمہ اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے بھر کے کہنے لگی۔ حکان لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔
” اکاسمہ، عفان بہت خطرناک ہے۔ وہ ایک نہیں، کئی جانوں کا قاتل ہے۔ تم اسکی نہ بہن ہو اور نہ تم سے کوئی رشتہ ہے اس کا۔ وہ بہت ظالم ہے۔ تمہیں ختم کرنے میں وہ ایک لمحہ بھی نہیں لگائے گا اور نہ سوچے گا۔ میں نے تمہیں ہر لمحہ، ہر سیکنڈ، ہر برائی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے ہمیشہ۔ جانتی ہو ناں اکاسمہ، کہ تم میرے لئے کیا معنی رکھتی ہو ؟؟ آٹھ سال خاموش محبت میں جلتا رہا، اور پھر جب تم میرا نصیب نہیں تھی تب بھی تم میرے لیے اہم رہی ہمیشہ۔ تمہاری حفاظت میری اولیت رہی۔ اور پھر تم میرا نصیب بنی، تم جان گئی ہوگی کہ کس قدر شدت سے چاہتا ہوں تمہیں۔ اکاسمہ مجھ میں تمہیں کھونے کی سکت نہیں ہے۔ میں ختم ہو جاؤں گا، مر جاؤں گا۔ ”
حکان کی آنکھیں سرخی مائل ہو رہی تھی۔ اکاسمہ اسے دیکھے گئی۔ اس کی آنکھوں میں نمی کی جھلک نمایاں تھی۔

” حکان ۔۔۔۔ مجھے کچھ نہیں ہوگا اور نہ تمہیں کچھ ہوگا۔ “

” ہر انسان کی ایک کمزور رگ ہوتی ہے اکاسمہ۔ اور میرا کمزور رگ تم ہو۔ جو میرے شہ رگ سے بھی زیادہ حساس ہے۔ میں واقع میں مر جاؤں گا اکاسمہ۔۔ میری سانسیں تم سے بندھی ہے، میں تمہیں کھونے کی سکت نہیں رکھتا۔ کیوں کر رہی ہو یہ سب ؟؟ مجھے تمہیں عفان سے محفوظ رکھنا ہے۔ مت کرو پلیز”
اس کی آواز بھرا گئی جب اکاسمہ نے شدت سے اسے گلے لگایا۔ حکان نے اسی شدت سے، اس کے نازک وجود کو خود میں سمیٹ لیا جیسے وہ اپنے اس عمل سے خود کو یہ تسلی دینے کی کوشش کر رہا ہو کہ اکاسمہ اس کی بانہوں میں محفوظ ہے۔
اس کی محبت میں جو شدت تھی، اس سے اکاسمہ واقف تھی۔ اس کی قربت میں بتائے لمحوں میں، وہ ہر لمحہ جان چکی تھی کہ حکان کی محبت میں کس قدر تپش، کس قدر شدت ہے اکاسمہ کے لئے۔
جس طرح سے، بنا کسی مقصد کے، حکان نے ہمیشہ اس کی مدد کی تھی اور اب بھی وہ جس طرح سے، اکاسمہ کے لئے پناہ گاہ بنا ہوا تھا۔ وہ سب جانتی تھی، سب سمجھتی تھی اوور سب محسوس کرتی تھی۔ اس نے آنکھیں موند لیں۔ حکان کی دھڑکنیں سنتے ہوئے، اس کی سانسیں محسوس کرتے ہوئے، وہ پرسکون ہو رہی تھی۔ اُسے حکان ملک سے بےپناہ محبت تھی اور یہ بات اپنے ہر عمل سے ثابت کرنے میں اسے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی تھی۔

□□□□■■■■□□□□□□

عفان زور سے چیخا تھا کہ ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے گردن کی رگیں پھٹ جائے گی۔
” یہ تم بہت غلط کر رہی ہو اکاسمہ۔ بہت غلط۔ تم مجھے نہیں پکڑ پاؤ گی ۔ میں حکان کو بھی ختم کر دوں گا۔۔۔ تم نہیں کر سکتی ایسا ”
وہ چلا رہا تھا جب اندھیرے کمرے سے ایک عورت پرسکون انداز میں وہاں آ کر، اسے دیکھنے لگی۔ وہ زرناب درانی تھی۔ شیطان پرست عورت، جو شیطان کی پرستش کرتی تھی۔ جس نے اپنی سالوں کی محنت سے، خود کی شیطان کی دنیا میں شامل کر لیا تھا۔ وہ سرد مسکراتی آنکھوں سے عفان کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے سیاہ لمبے بال اس کی پشت پہ بکھرے ہوئے تھے، سرد آنکھوں میں کاجل لگا ہوا تھا جبکہ چہرہ کسی شیطان کی مورت سے کم نہ تھا۔
” عفان ۔۔۔”
اس کی آواز گونجی تو عفان رک کے اسے دیکھنے لگا۔ اس کے چہرےکی کرختگی تھوڑی نرم پڑنے لگی۔
” ماں۔۔۔۔ “

●●●□□□■■■●●□■■

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *