Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 56

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 56

ازمائر کی ساری بات سن کے، حکان ابرو اچکا کے اسے دیکھنے لگا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس نفسیاتی مرد کی دو شادیاں ہوئی کیسی؟ اس شخص کو یہ تک پتہ نہیں کہ محبت کو دکھایا کیسے جاتا ہے ؟؟ اپنی بیوی سے محبت کیسے کی جاتی ہے؟ اوپر سے بیوی شک کر رہی ہے تو یہ دشمنی پہ اتر آیا؟؟ مطلب کچھ بھی !!!

” کچھ کہو گے بھی ؟؟ یا گھورتے رہو گے ؟؟”
ازماائر جھنجھلایا ہوا تھا۔

” میں یہ سوچ رہا ہوں کہ تم جیسے مرد کی دو شادیاں کیسے ہوئی اور یہ کہ تم یہ تک نہیں جانتے کی بیوی سے محبت کیسے کئی جاتی ہے ؟؟ بیوی کا دل کیسے جیتا جاتا ہے ؟؟؟ بیوی کو بس تمہارے نام کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ نکاح کے دو بول کی ۔ عورت تم سے تحفظ چاہتی ہے، محبت چاہتی ہے اور تم تو اس قدر خشک مزاج ہو کہ تمہیں رومینس کی الف بے تک نہیں پتہ اور پھر بھی دو عورتیں تمہارے لئے پاگل تھیں۔ اوپر سے اگر مسفرہ تم پہ شک کر رہی ہے تو بجائے کہ اس کا شک دور کرو، اسے یقین دلاؤ اپنا، اپنی محبت کا، لیکن تم کیا کر رہے ہو ؟؟ تم اس سے جھگڑ رہے ہو ایک ایسی بکواس عورت کے لئے، جس میں تمہیں کوئی دلچسپی نہیں لیکن تم صرف اس لئے کہ مسفرہ کو اذیت پہنچے، ہر وہ بکواس کرتے ہو اور پھر کہتے ہو کہ ایسا کیا ہو گیا جو مسفرہ کو یہ لگنے لگا ہے کہ تم اس سے محبت نہیں کرتے یا تمہیں اس سے محبت نہیں رہی۔ ازمائر بیوی کو گفٹس دئے جاتے ہین۔ سرپرائز کیا جاتا ہے، وقت نکالا جاتا ہے بیوی کے لئے، اس کے ساتھ وقت گزارا جاتا ہے، واک پر جایا جاتا ہے، مووی دیکھی جاتی ہے، اس سے محبت کا اظہار کیا جاتا ہے، الفاظ سے، عمل سے۔ ”
حکان اسے کسی لو گرو کی طرح سمجھا رہا تھا۔ ۔

” یہ سب ؟؟”
ازمائر اپنی کنپٹی سہلانے لگا۔

” نہیں آتا تو بیٹھ کے سرچ کرو، اسٹڈی کرو۔ یہ جاننے کی کوشش کرو کہ اگر تمہیں مسفرہ سے محبت ہے تو کیسے اسے یہ احساس دلاؤ کہ وہ تمہاری محبت کو محسوس کرے۔ کیا تمہیں یاد ہے جب میرا اور اکاسمہ کا نکاح ہوا تھا۔ وہ کیسی تھی؟؟ وہ خوفزدہ تھی، لیکن وہ پناہ اور تحفظ مجھ میں ہی پاتی تھی۔ کیونکہ میں اسے یہ احساس دلا چکا تھا کہ میری محبت ہی ہماری تکمیل ہے۔ اگر وہ مجھ سے ناراض بھی رہتی تھی تو بھی وہ مجھ پہ یقین رکھتی تھی اور اب تم دیکھ لو کہ اکاسمہ کس قدر بدل چکی ہے۔ ازمائر صرف محبت ہے، یہ کہنا کافی نہیں ہوتا، ایک مرد ہونے کے ناطے محبت کا یقین دلانا بھی ضروری ہے۔ مسفرہ تم سے محبت کرتی ہے اور تم یہ جانتے ہو کہ وہ محبت کرتی ہے تم سے، لیکن کیا یہ محبت تاعمر یونہی برقرار رہے گی۔ ماں لیتے ہیں کہ وہ آخری سانس تک تم سے ہی محبت کرتی رہے گی لیکن وہ تم سے دور ہو جائے گی اور اس قدر دور ہو جائے گی کہ تمہارے لئے اسے ڈھونڈنا مشکل ہو جائے گا۔ ابھی بھی وقت تمہارے ہاتھ میں ہے۔ مسفرہ کو اپنی محبت کا یقین دلاؤ۔ اور یہ اب تم پہ ہے کہ تم مسفرہ کو اپنی محبت کا یقین دلانے کے لئے کیا کرو گے “

ازمائر خاموشی سے اسے سن رہا تھا جب حکان کے موبائل پہ کال آنے لگی۔ کال عباس کی طرف سے تھی۔

” سر، کورٹ سے باہر نکلتے ہوئے اکاسمہ میم ایک عورت سے ٹکرائی تھی لیکن جب میم اکاسمہ گاڑی میں بیٹھ گئی تو اس عورت کے چہرے پہ عجیب سی مسکراہٹ آئی۔ جسے دیکھ کے، میں نے اس کا پیچھا کیا ۔ وہ کوئی زرناب درانی ہے اور وہ ایک ہوٹل چلا رہی ہے لیکن میم اکاسمہ کے ساتھ اس کا کیا تعلق بنتا ہے ۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے میرے لئے۔ “

حکان کے ماتھے پہ بل پڑ گئے۔
” اس زرناب درانی پہ نظر رکھو اور اس کی تصویر مجھے بھی سینڈ کرو۔ “

” اوکے سر”
عباس نے کال بند کرنے کے بعد، زرناب درانی کی تصویر، حکان کو بھیج دی۔ حکان نے اکاسمہ کو کال کی۔
” کہاں ہو میری جان ؟؟”

” میں، عندلیب سے ملنے آئی تھی اور اب دوبارہ سے کورٹ جا رہی ہوں کیونکہ آج میرا بزی شیڈول ہے ۔ ”
اکاسمہ مسکراتے ہوئے اسے بتانے لگی۔

” لنچ ساتھ کرے گیں۔ میں 12 تک لینے آ رہا ہوں تمہیں ”
حکان نے اپنی کنپٹی سہلاتے کہا۔

” اوکے، مائی ہینڈسم حکان۔۔ لو یو ”
اکاسمہ کی آنکھیں تک مسکرا رہی تھی حکان سے بات کرتے ہوئے۔
” لو یو میری جان ”
حکان کال بند کر کے کچھ سوچنے لگا جب نظریں ازمائر پہ گئی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ ۔

” کیا ؟؟”
حکان نے سوالیہ انداز میں کندھے اچکائے جبکہ ازمائر نے نفی میں سر ہلایا۔
” یہ زرناب درانی کون ہے ؟؟”

” نہیں معلوم، ایک مشکل سے نکلے نہیں ہوتے کہ دوسرا مشکل آ جاتا ہے۔ ابھی عفان اور اس کے پیچھے موجود افراد تک پہنچے نہیں تھے ہم کہ یہ زرناب درانی آ گئی اور سمجھ نہیں آتی کہ جو بھی نیا کھاتا کھلتا ہے، اس کا تعلق اکاسمہ سے کیسے ہو جاتا ہے ”
حکان پریشان تھا۔

” اکاسمہ سے ؟؟ ”
ازمائر کی سوالیہ نظریں اس پہ تھی۔

” ہاں یار۔ میں چلتا ہوں پھر۔ مجھے اکاسمہ سے مل کے، خود کو یہ تسلی بھی دینی ہے کہ وہ safe ہے۔ ”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تو ازمائر بھی کھڑے ہو کے اسے پریشان نظروں سے دیکھنے لگا۔
” ایک قابل اعتماد بندہ ہے میری نظر میں۔ تم کہو تو اکاسمہ کی safety کے لیے بھیج دوں اسے تمہارے پاس۔ ؟؟” ۔
ازمائر کے کہنے پہ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
” عباس کو میں نے ہی مقرر کیا ہے اکاسمہ کے لئے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اکاسمہ ہی کیوں؟؟ اس کو جتنا safe رکھنے کی کوشش کرتا ہوں اتنا ہی اکاسمہ کے گرد پرابلمز بڑھتی ہے۔ نہ جانے کب یہ پرابلمز ختم ہوگی ” ۔
حکان کے چہرے پہ تفکر تھا۔ ازمائر نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
” سب ٹھیک ہو جائے گا انشاءاللہ۔ ”
” انشاءاللہ ۔ “

دونوں ایکدوسرے سے الوداع کرتے اپنی گاڑیوں کی طرف بڑھ گئے۔ ازمائر نے گاڑی اسٹارٹ کرنے سے پہلے گہرا سانس لیا۔ مسفرہ کے بارے میں سوچتے ہوئے، اس نے موبائل اٹھایا اور کاشف کو کال کی۔
” میرے لئے کوئی سائٹ یا ایپ ڈھونڈ دو۔ جس میں اپنی بیوی سے محبت کرنے اور اسے خوش رکھنے سے متعلق باتیں ہو”

” جی سر ؟؟؟”
کاشف حیران ہوا جبکہ ازمائر کال ڈسکنیکٹ کرتا، اب گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔

□□□□□■■■■■□□□□□□

حکان وہاں سے نکل کے، اپنے مین افس کی طرف روانہ ہوا لیکن جیسے ہی وہ وہاں پہنچا تو اس کا سامنا کاووس شاہ سے ہوا۔ غصہ اس کے اندر بھرنے لگا تو سرد آنکھوں سے، اسے دیکھتا، لب بھینچے وہ قریب پہنچا اور اس کا بازو جکڑ کے، اسے سائیڈ پہ لے گیا۔ اسے زوردار گھونسا رسید کرتا وہ غصے سے اب کاووس شاہ کو گھور رہا تھا۔ کاووس شاہ نے اپنی ناک کو چھوا جس سے خون بہہ رہا تھا۔

” تم سے کہا بھی تھا کہ اکاسمہ کی حفاظت میری first priority ہے پھر بھی تم نے اسے وہیں لا کھڑا کیا جہاں سے اسے بچایا تھا میں نے۔ ”
حکان دانت پیستے غرایا۔ کاووس شاہ اسے دیکھنے لگا۔
” کیا مطلب ؟؟”
” بکواس بند کرو ۔ ”
حکان لب بھینچے اسے گھورنے لگا۔
” جانتے کیا ہو تم اکاسمہ کے متعلق؟؟ اس کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا ہے کیا تم جانتے ہو ؟؟؟ عاریز خان کو موت کے گھاٹ اتار کے، عاریز خان نقاب اوڑھ کے، وہی شخص اکاسمہ کو عاریز خان بن کے دھوکا دیتا رہا۔ وہ تو اکاسمہ سمجھدار تھی۔ تبھی وہ جان گئی اس شخص کو۔جانتے ہو موت کے منہ سے نکال کے لایا ہوں میں اسے، بار بار، ہر بار اکاسمہ ہی کیوں اس سب کا شکار ہوتی ہے، ہر بار اکاسمہ پہ نیا وار۔ میں سب ٹھیک کر چکا تھا لیکن تم نے، تم نے پھر سے اسے دلدل میں پھنسایا ہے۔ تم بھائی ہو یا آستین کا سانپ کاووس شاہ”
حکان غرایا جبکہ کاووس شاہ شرمندہ نظر آنے لگا۔
” ایم سوری حکان، میں بس اکاسمہ کی مدد ۔۔۔ “

” یہ مدد نہیں تھی کاووس شااہ۔مدد کرنی ہے اکاسمہ کی تو جاؤ اور زرناب درانی کا پتہ لگاؤ کہ کون ہے ؟؟”
حکان اسے تنبیہی انداز میں کہتا آگے بڑھنے لگا

” زرناب درانی ہوں ہے ؟؟”
کاووس شاہ نے سوال کیا۔

” جا کے پتہ لگاؤ کہ کون ہے اور یہ ٹشو لو، بلڈ صاف کرو ”
حکان اس کی طرف ٹشو باکس پھینکتا، وہاں سے لمبے ڈگ بھرتا جا رہا تھا جبکہ کاووس شاہ، جس نے بمشکل ٹشو باکس کیچ کیا، اب ٹشو سے اپنی ناک کے خون کو صاف کرتا، زرناب درانی کے بارے میں سوچنے لگا۔ حکان نے پوری بات بھی نہیں بتائی اور اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی دوبارہ سے کوئی سوال کرنے کی۔ اس بار شاید ناک ہی توڑ دیتا۔

□□□□□□□■■■■■□□□□□□□

وہ خاموشی لیپ ٹاپ اسکرین کو گھور رہا تھا جہاں مسفرہ اپنے کلینک میں موجود، مریضوں کو دیکھ رہی تھی۔ وہ بےحد سنجیدگی کے ساتھ، مریض کی باتیں سن رہی تھی۔وہ مریض ایک جوان لڑکی تھی جو شاید اٹھارہ سال کے لگ بھگ ہوگی۔ جب اچانک اسے اسکرین پہ کاشف نظر آیا جو ان کے آفس کے ماتحتوں کے ساتھ، اندر آ رہا تھا کچھ ہی سیکنڈ میں وہ کلینک آفس، خوبصورت پھولوں کے بوکے سے بھر گیا۔ مسفرہ یہ سب حیرت سے دیکھتی کھڑی ہوئی۔ جب اس کی ٹیبل پہ چاکلیٹس رکھے گئے جو دنیا بھر کے مشہور چاکلیٹس میں سے تھے۔
” یہ سب کیا ہے کاشف؟؟”
وہ حیرت سے پوچھنے لگی جبکہ کاشف مسکرانے لگا۔
” یہ سب، سر کی طرف سے ہیں آپ کے لئے میم”

” کیوں؟؟” ۔
وہ سرد لہجے میں پوچھنے لگی۔ جب کاشف نے ایک بڑا سا پیکٹ اس کے سامنے ٹیبل پہ رکھا۔
” یہ ؟؟”
وہ سوالیہ نظروں سے کاشف کو دیکھتی، پیکٹ کھولنے لگئ۔

‘ To My Beautiful Beloved Wife, ‘

‘ سوری کرنے کی پہلی کوشش ہے یہ۔ ضروری نہیں ہے کہ تم اتنی جلدی مان جاؤ۔ تم مجھے بار بار ازما سکتی ہو، میں انتظار کروں گا اس دن کہ تم مکمل مجھے میری تمام کوتاہیوں سمیت معاف کردو اور اس دن تک میں کوشش کرتا رہوں گا۔ امید ہے کہ تمہارا دل نرم پڑ جائے گا۔ تب تک کے لئے، یہ میری طرف سے تمہیں منانے کی پہلی کوشش۔ ‘

” او مائی گاڈ، ڈاکٹر مسفرہ اپ کے ہزبینڈ، آپ سے اتنی محبت کرتے ہیں۔ یہ سب آپ کے لئے۔اوہ یہ میری فیورٹ چاکلیٹس ہیں۔۔ ”
اٹھارہ سالہ مریضہ، سب دیکھ کے، حسرت بھرے انداز میں خوشی کو اظہار کر رہی تھی جبکہ مسفرہ نے آنکھیں گھمائی۔
” تم رکھ لو یہ۔”

” اوہ بلکل نہیں۔ یہ آپ کے لئے محبت بھرا گفٹ ہیں۔ ”
اس نے جلدی سے انکار کیا۔
کاشف اپنے ماتحتوں کے ساتھ جانے لگا۔
” میں چلتا ہوں میم۔ “

باہر نکل کے، اس نے ازمائر شاہ کو کال کیا۔
” سب آپ کی مرضی کے مطابق ہوا ہے “

” ہمممم”
وہ جو لیپ ٹاپ پہ، مسفرہ کو دیکھنے میں محو تھا ۔بس ہنکارا بھر کے، کال بند کردی۔ جبکہ نظریں مسلسل اسکرین پہ نظر آتی مسفرہ پہ تھی جو سر پکڑ کے بیٹھی اپنے کلینک کی حالت دیکھ رہی تھی۔ اس نے ملازموں کو بلایا اور ساری چیزیں ہٹانے لگی۔
” ڈاکٹر صاحبہ انہیں کہاں رکھنا ہے ؟؟”

” باہر پھینک ۔۔۔۔ نہیں، یہیں سائیڈ پہ جگہ بنا کے رکھ دو۔ ”
مسفرہ لاکھ ناراض اور غصہ سہی، لیکن وہ اب بھی محبت کرتی تھی اپنے اس محبوب سے۔ جسے وہ ہرجائی محبوب کا نام دے چکی تھی۔ وہ کیسے یہ سب باہر پھینک سکتی تھی۔ وہ پھر سے پیپر پہ لکھے الفاظ پڑھنے لگی۔ اپنی کنپٹی سہلاتی، وہ ٹیبل پہ رکھے چاکلیٹس کو دیکھنے لگی۔

‘ تمہیں کیا پسند ہیں؟؟ سویٹس میں؟؟’
اس کے ذہن میں ازمائر کی آواز گونجنے لگی۔

‘ بہت ساری چاکلیٹس، چاکلیٹس اور مزید چاکلیٹس ‘
اس کی کھلکلاہٹ گونجی۔ بےاختیاری میں اس کے لبوں پہ مسکراہٹ آئی اور پھر سر جھٹک کے تیزی سے روک بھی لیا۔ لیکن اچانک اسے احساس ہوا کہ اسے قے آ جائے گی۔ اس نے سر جھٹکا لیکن یہ حالت مزید ابتر ہوئی تو وہ تیزی سے اٹھ کے، واشروم کی طرف بھاگی جبکہ اسے لیپ ٹاپ پہ دیکھتا ہوا ازمائر شاہ پریشان سا ہوا اور تیزی سے ایک نمبر ملانے لگا جو کہ مسفرہ کی خاص نرس تھی اور وہ مسفرہ کی بااعتماد ااور قابل بھروسہ نرس تھی جسے ایک وقت ازمائر نے مسفرہ کے لئے معین کیا تھاا۔ اس کا نام عائزہ تھا۔
” یس سر؟؟”

” جلدی سے جا کے دیکھو، مسفرہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ”
ازمائر نے پریشان آواز میں کہا۔
” اوکے سر”
عائزہ تیزی سے مسفرہ کے آفس کی طرف بڑھ گئی۔ وہ اززمائر شاہ کی بھی قابل اعتماد فرد تھی۔ مسفرہ کے آفس میں کیمرے لگانے میں اسی نے مدد کی تھی اور آزمائر کی ہدایات کے مطابق وہ مسفرہ کا بےحد خیال رکھنے والی، اس کے کھانے پینے، کافی پینے کی اوقات کا خیال رکھنے والی نرس تھی۔

□□□□□□■■■■■■□□□□□□□

” کافی وقت کے پابند ہو فیاض حیات “

فیاض حیات، جو کلفٹن سائیڈ کے اس اوپن ایریا ریسٹورنٹ میں بیٹھے، اپنے ایک کلائنٹ کا انتظار کر رہے تھے۔ جس نے کال کر کے، فیاض حیات سے ملنے کو کہا تھا کیونکہ ایک کیس کے سلسلے میں وہ کچھ مشورہ چاہتا تھا جب ایک عورت کی آواز پہ چونک کے سر اٹھایا اور ان کی آنکھوں میں حیرانی در آئی تھی۔ اتنے سالوں بعد، اس عورت کو اپنے سامنے دیکھ کے، وہ حیران ہوئے تھے۔
‘ زرناب درانی’
ان کے ذہن میں یہ نام چمکا تھا جبکہ سامنے کھڑی وہ عورت مسکرا کے، اپنے لمبے کھلے بالوں کو، ہاتھ کی انگلیوں سے سنوارتی، بڑی نزاکت سے، ان کے سامنے بیٹھی تھئ۔ ۔
” بلکل صحیح اندازہ لگایا۔ زرناب درانی ہوں میں۔ “

فیاض حیات نے لب بھینچ لیے۔
” تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟؟ میں یہاں کسی اور سے۔۔۔۔”

” جانتی ہوں۔ کیونکہ میں ہی ہوں وہ، جس نے تمہیں یہاں بلایا ہے ”
زرناب نے مسکرا کے کہا۔جبکہ فیاض حیات اٹھنے لگے۔
” میں ہی چلا جاتا ہوں پھر یہاں سے “

اچانک زرناب نے، ان کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کے، انہیں روکا۔
” بیٹھ جاؤ فیاض، میں کچھ باتیں کرنی آئی ہوں۔ چلی جاؤں گی ”
زرناب نے نرمی سے مسکراتے ہوئے کہا۔فیاض حیات اپنا ہاتھ، اس کے ہاتھ کی گرفت سے چھڑا کے، واپس بیٹھ گئے جبکہ زرناب نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اپنے بالوں میں نرمی سے انگلیاں چلاتی، وہ اب فیاض حیات کو دیکھ رہی تھی۔
” تم تو مزید ہینڈسم ہو گئے ہو فیاض۔ جیسے ان گزرے سالوں نے، تمہیں مزید سنوارا ہو ”
وہ کھوئے ہوئے انداز میں بات کر رہی تھی۔ فیاض حیات لب بھینچے خاموش رہے۔
” اور ان گزرے سالوں میں، ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا کہ میں نے تم سے محبت نہ کی ہو “

” زرناب، کیوں ملنا چاہتی تھی تم مجھ سے ؟”
فیاض نے بےحد تحمل سے سوال کیا ۔ زرناب مسکرا کے، دور سے پانی کی لہروں کو دیکھنے لگی۔ کچھ دیر دیکھنے کے بعد، اس کی نظریں پھر سے فیاض پہ رک گئی۔ ۔
” میری محبت قبول کر لو فیاض، میں آج بھی باولی ہوں تمہارے لئے۔ سب چھوڑ دو اور میرے پاس آ جاؤ۔ “

” بکواس بند کرو زرناب، مجھے نہ کبھی تم سے محبت تھئ اور نہ کبھی ہو سکتی ہے۔ ”
فیاض نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

” مجھے بستر پہ لے جاتے یہ تو نہیں کہا تھا۔ ”
زرناب نے سرد آنکھوں سے، انہیں دیکھتے ہوئے کہا۔

” مجھے نہیں یاد، کہ میں کبھی تمہارے قریب بھی ہوا ہوں زرناب۔ ”
فیاض نے بےرخی سے جواب دیا۔

” تم نشے میں تھے، تمہیں کیسے یاد ہو سکتا ہے ”
زرناب کی آنکھیں مزید گہری ہوئی۔

” زرناب ان سب ماضی کی باتوں کو دہرانے کا مطلب ؟؟ تم مکمل طور پہ غائب یو چکی تھی لیکن میں یہ نہیں جانتا تھا کہ تم سالوں تک چھپ کے تماشا دیکھ رہی تھی کہ کب اپنا بیٹا بھیج کے، میری پرسکون زندگی کو بربادی کے دہانے پہ لے آؤ۔ ”
فیاض کی بات پہ،زرناب ہنسنے لگی۔

” ہاں کاووس شاہ تو بلکل تم پہ گیا ہے۔ جیسے تمہاری کاربن کاپی ہو۔اور تمہاری بیٹی اکاسمہ پہ۔ “

اکاسمہ کے نام پہ، فیاض چونکے تھے اور زرناب کو گھورنے لگے۔
” میری بیٹی کا نام اپنے زبان پہ بھی مت لانا تم۔ “

” نام ہی تو لیا ہے، اتنا بھڑک کیوں رہے ہو فیاض”
زرناب نے کندھے اچکائے۔

” کیوں آئی ہو زرناب ؟؟”
فیاض نے سرد لہجے میں سوال کیا جبکہ زرناب نے مسکرا کے اپنے بیگ سے، ایک پیکٹ نکالا جس میں کچھ بال رکھے ہوئے تھے اور پھر فیاض حیات کو دیکھنے لگی۔
” جانتے ہو یہ کس کے بال ہیں؟؟”

فیاض حیات ناسمجھی سے اسے دیکھ رہے تھے۔

” کئی سال گزر گئے فیاض۔ تمہیں برباد کرنے کے لئے، کئی کام کیے میں نے، ایک ایک کر کے، آہستہ اہستہ، کہ تمہیں خبر بھی نہیں ہوئی کہ کیا ہو رہا ہے لیکن تم سب کو ختم کرتی گئی میں۔ تمہیں لگا کہ یہ تمہارا نصیب ہے یا پھر یہ سب تمہارے رب کی طرف سے ہیں لیکن دراصل وہ سب شیطان کی طرف سے تھا اور وہ شیطان میں ہوں۔زرناب درانی ۔ تمہاری پیاری بیٹی اکاسمہ کو میں تمہاری آنکھوں کے سامنے، بےحد آہستگی سے،ختم کرتی جاؤں گی اور تم صرف تماشا دیکھنا۔ اپنی بیٹی کو ختم ہونے کا تماشا۔ کالا جادو یا شیطان پرستی کا نام سنا ہے ؟؟”،
فیاض حیات مکمل لرز ہی گئے۔
” تمہاری بیٹی اس پیکٹ میں ہے۔ میری دسترس میں۔ میں نے تم سے کیا مانگا تھا ؟؟ محبت، تمہارا ساتھ، ہماری شادی، ایک خوبصورت زندگی تمہارے ساتھ اور تم نے مجھے دھتکار دیا۔ میں تو ہو گئی برباد، تمہاری محبت میں۔ لیکن تم جانتے نہیں ہو کہ عورت دھتکار کبھی برداشت نہیں کرتی۔ اتنے سالوں سے، تمہارے دھتکار کا جواب ہی دیتی آ رہی ہوں۔ بارز، عفان، عاریز، یہ سب میرے ہاتھ کے مہرے تھے۔ اکاسمہ پہ کئی وار کیے لیکن ہر بار وہ بچ جاتی، حکان ملک، دماغی مریض، اسے بچا لیتا لیکن اس بار تو ایسا وار کیا ہے کہ اکاسمہ کو کوئی میرے چنگل سے نہیں بچا سکتا۔ تم اور وہ دماغی مریض بس تماشا ہی دیکھو اب ۔ ”
وہ اس وقت بےحد سفاک لگ رہی تھی جبکہ فیاض حیات لرز ہی گئے۔ انہوں نے جھپٹتے ہوئے، وہ پیکٹ اس کے ہاتھ سے چھیننے کی کوشش کی لیکن زرناب ان کا ہاتھ دھتکار کے کھڑی ہوئی اور مسکرانے لگی۔
” آہ، فیاض تم ہار گئے۔ ایک باپ کی حیثیت سے تم مکمل ہار گئے۔ تمہاری بیٹی میری مٹھی میں ہوگی اب۔ زرناب درانی کی مٹھی میں ”
وہ اپنا بیگ اٹھا کے جانے لگی جبکہ فیاض حیات کانپتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھے لیکن جیسے ٹانگوں کی سکت ہی ختم ہو چکی تھی ۔ وہ دھڑام سے نیچے گرے۔ آس پاس اکا دکا لوگ بیٹھے ہوئے تھے، تیزی سے ان کے قریب آئے اور انہیں اٹھنے میں مدد دی۔
” سر، آپ ٹھیک ہے ؟؟”

” م ۔۔۔ میری بیٹی، میری ۔۔۔ ا۔۔۔۔ کاسمہ۔۔۔۔ میری بچی ”
ان کی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔ کانپتے ہاتھوں سے، وہ اپنا موبائل لے کے، کال کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ آنکھیں دھندلا رہی تھی جیسے رونا چاہ رہے ہو۔ کیسے بچائے اپنی بیٹی کو؟؟ کیسے؟؟ ان کے ماضی کی سیاہی، ان کی بیٹی پہ کیوں پڑے۔

” آپ اکاسمہ کے والد ہیں؟؟”
کسی نے اچانک پوچھا تھا جبکہ وہ روتے ہوئے، ہر ایک کو دیکھنے لگے۔
” میری بچی کو بچا لو، میری اکاسمہ کو بچا لو۔ ک ۔۔ کال ۔۔۔ کال نہیں کر پا رہا میں اپنی بچی کو ”
وہ کسی بچے کی طرح اس وقت لگ رہے تھے۔ جو بھیڑ میں اپنے ماں باپ سے بچھڑ گیا ہو اور اب ہر ایک کو بھیگی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔

” میں کرتا ہوں کال سر۔ ”
ایک لڑکے نے موبائل ان کے ہاتھ سے لیا اور اکاسمہ کا نمبر ڈھونڈ کے کال کرنے لگا۔ رنگ جانے پہ، اسنے موبائل فیاض کو دیا جو کانپتے ہاتھ سے کان سے لگا چکے تھے۔ ان کا دل گھبرا رہا تھا۔ دھڑکن کانپ رہی تھئ لیکن اکاسمہ نے کال نہیں اٹھایا۔
” ن ۔۔ نہیں۔۔۔ میری بچی نہیں”
وہ تیزی سے اٹھ کے چلنے کی کوشش کرنے لگے۔
” سر، میں اپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔ آپ میرے ساتھ چلیے”
کسی نے کہا لیکن وہ سن کہاں رہے تھے۔ وہ چلتے جا رہے تھے۔
” یااللہ، اے میرے رب،اے پروردگار دو جہان، اے میرے مالک۔۔۔ میری بچی کی حفاظت فرما۔ میں اپنی بچی کو تیری پناہ میں دیتا ہوں میرے اللہ۔ میری بچی کی حفاظت فرما۔ ”
وہ چلتے جا رہے تھے اور دعا کرتے جا رہے تھے۔ بیشک وہ ایک باپ تھا جو اپنی بیٹی کی حفاظت کے لئے، اپنے رب کے آگے جھک رہا تھا۔ اپنی بچی کے لئے پناہ مانگ رہا تھا۔ ۔
” یا اللہ میری بچی کو اپنے حفظ و امان میں رکھ۔ میری بچی کو شیطان مردود سے محفوظ فرما۔میرے مولا، میری مدد فرما، میری بچی کی مدد فرما۔ “

□□□□□■■■■■■□□□□□□

اس نے گھڑی پہ نظر ڈالی۔۔ رات کے آٹھ بج رہے تھے۔ حکان بس پہنچنے والا تھا۔ وہ کچن میں کھڑی کھانا بنا رہی تھئ۔ پاس پڑا اس کا موبائل سائلنٹ پہ تھا۔ حکان کی شوخ باتوں کو یاد کرتی، اس کے لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ تھی جب اچانک اسے اپنی گردن پہ درد کا احساس ہوا جیسے کچھ چھبویا جا رہا ہو۔ وہ کراہ کے، ٹیبل پہ ہاتھ رکھ کے، دوسرے ہاتھ سے اپنا گردن سہلانے لگی۔ اس کے ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی جیسے چھبن اسی طرف جا رہی ہو۔ سر میں اچانک درد کا احساس بڑھنے لگا جیسے اس کے بال جڑ سے اکھڑ رہے ہو۔
” مجھے کیا ہو رہا ہے یااللہ ”
اپنے گردن کو سہلاتی، اس نے بار بار اپنے سر جھٹکا۔ دھندلاہٹ میں اسے اچانک محسوس ہونے لگا جیسے کوئی سیاہ دھواں اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔اس نے سر جھٹک کے دیکھنے کی کوشش کی۔ دھندلاہٹ تھی اس کہ آنکھوں میں۔ وہ دیکھنے کی کوشش کر تو رہی تھی لیکن سر درد اسے کچھ کرنے نہیں دے رہا تھا۔ اچانک دروازے پہ بیل بجی اور وہ چونک کے دروازے کی طرف دیکھنے لگی۔کوئی جیسے بیل پہ ہاتھ رکھ کے بھول گیا تھا اور پھر دروازہ شدت سے بجنے لگا جیسے کوئی دروازے کو پیٹ رہا ہو۔

□□□□□□□■■■■■■□□□□□□

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *