The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 58
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 58
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 58
اکاسمہ اپنے آفس میں نہیں تھی۔ پورے آفس میں نظر دوڑا کے، حکان باہر آیا اور اردگرد نظر ڈالتا وہ آگے بڑھ گیا۔ اس کے خوبصورت سنجیدہ ماتھے پہ، سوچوں کی لکیریں نمایاں تھی۔ وہ تب غصے میں تھا اور اکاسمہ کا ہاتھ جھٹک کے اپنے آفس آیا تھا لیکن جب اسے احساس ہوا تو وہ اکاسمہ کو دیکھنے اس کے آفس آیا لیکن وہ آفس میں نہیں تھی۔
” اکاسمہ کو دیکھا ہے ؟؟”
اس نے ورکر سے پوچھا لیکن اس نے کندھے اچکائے ۔
” اکاسمہ میم تو صبح سے نہیں نظر آئی “
لب بھینچ کے وہ باہر کی جانب بڑھ گیا جہاں عباس سیڑھیاں چڑھتا اوپر آ رہا تھا۔ حکان کو دیکھ کے وہ رک گیا ۔
” گڈ آفٹر نون سر “
” ہمم، اکاسمہ کو دیکھا تم نے ؟؟”
حکان نے اس سے پوچھ کے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں ۔جہاں کاووس شاہ کے خاص بندے بھی کھڑے تھے۔
” اکاسمہ میم نہیں ہے ؟؟”
عباس نے حیرت سے سوال کرتے نیچے دیکھنا شروع کیا۔ حکان تیزی سے سیڑھیاں اترتا، کاووس شاہ کے بندوں کے قریب گیا وہ تینوں بھی الرٹ ہو کے، حکان ملک کو دیکھنے لگیں ۔
” اکاسمہ کہاں ہے ؟؟”
” اکاسمہ میم ؟؟؟ ہم تو صبح سے یہیں ہیں۔ میم اکاسمہ تو باہر نہیں ائی۔ آپ کے ساتھ ہی اندر گئی تھی۔ ”
ایک گارڈ نے لاعلمی کا اظہار کرتے کہا۔عباس بھی نیچے پہنچ چکا تھا۔ حکان نے ایک نظر عباس کو دیکھا اور پھر تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا کورٹ کی طرف بھاگا ۔۔۔
پینٹ پاکٹ سے موبائل نکال کے، وہ اکاسمہ کے نمبر پہ کال کرنے لگا۔ رنگ جا رہی تھی لیکن ریسیو نہیں ہوئی۔ اس نے دوبارہ کال ملائی۔ اب کے بھی کال ریسیو نہیں ہوئی۔
” اکاسمہ پک اپ دا کال ۔۔۔ ”
تیسری اور چوتھی بار بھی کال ریسیو نہیں ہوئی۔
” ڈیم اٹ، اکاسمہ یہاں سے گئی اور کسی نے دیکھا تک نہیں ۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے ”
وہ زور سے چلایا۔
” سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرو ۔۔۔
تم ۔۔۔ اکاسمہ کا فون نمبر ٹریس کرو۔۔۔
تم ۔۔۔ خیام کو کال کرو..”
” اوکے سر”
” اوکے سر ”
“اوکے سر”
سب اپنے کام کی طرف بڑھ گئے ۔ حکان اپنی کنپٹی سہلاتا عباس کو اشارہ کرتے آگے بڑھا
” کاووس شاہ کو کال کرو ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” سر یہ دیکھیں ۔۔ ”
حکان تیزی سے کمپیوٹر کی طرف بڑھا لیکن سامنے کا منظر دیکھ کے، اس کے دماغ کی شریانیں جیسے پھٹنے لگی ۔ اکاسمہ، عفان کے ساتھ دوسرے دروازے سے باہر جا رہی تھی۔
” سر میم اکاسمہ کے موبائل کی لوکیشن اورنگی ٹاؤن شو ہو رہی ہے ”
دوسری طرف سے آواز ائی۔ حکان نے اچھنبے سے پیچھے دیکھا ۔ اس کا ذہن جیسے ماؤف ہو رہا تھا۔ وہ کیسے بھول گیا تھا کہ اکاسمہ کی حفاظت اس کی پہلی زمہ داری یے۔ وہ کیسے بھول سکتا تھا ؟؟ کیسے اس کا ہاتھ جھٹک کے، وہ آگے بڑھ گیا۔ ۔
” حکان ۔۔۔ ”
کاووس شاہ کی آواز پہ وہ غائب دماغی سے اسے دیکھنے لگا اور پھر اس کی آنکھوں میں الاؤ دہکا تھا وہ غصے سے جبڑے بھینچے اس کی طرف بڑھا۔
” سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے “
اس نے زور سے ایک مکہ کاووس شاہ کے منہ پہ رسید کیا ۔ اسکی ناک سے خون بہنے لگا ۔وہاں موجود سب پریشان نظروں سے ان دونوں کو دیکھنے لگا ۔
“تم سے کہا تھا کہ اکاسمہ کو ان سب سے دور رکھنا ہے ، تم سے کہا تھا کہ اکاسمہ کو کم پروفائل رکھنا ہے۔ اس کی جان کو خطرہ ہے۔ اگر اکاسمہ کو کچھ ہوا تو کاووس شاہ تمہیں ژندہ درگور کروں گا میں ۔ ”
اسے زور سے دھکا دیتے، وہ عجلت میں باہر کیطرف گیا ۔کاووس شاہ بھی تیزی سے اس کے پیچھے بھاگا ۔
” تم کیوں آ رہے ہو ؟؟”
حکان نے سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے گھورا۔
” اکاسمہ میری بھی بہن ہے ”
کاووس شاہ نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا جبکہ حکان نے اسے سینے پہ زور سے دھکا دے کے پیچھے کیا۔ شہادت کی انگلی اٹھا کے ، اسے سخت نظروں سے گھورا۔
” دور رہو تم ہم سب سے ”
یہ کہہ کے وہ چلا گیا ۔ کاووس شاہ نے گہرا سانس لے کے اسے جاتے دیکھا جب اس کا خاص آدمی قریب آیا ۔
” اپنی ٹیم سے کہو کہ اپنی انویسٹیگیشن شروع کریں۔’
” اوکے سر ”
وہ مؤدب انداز میں کہتا، کال ملانے لگا جبکہ کاووس شاہ لمبے ڈگ بھرتا ، اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا۔اسے اپنی بہن کو بچانا تھا ۔چاہے حکان کچھ بھی کہے لیکن اکاسمہ اس کی بہن ہے اور یہ حقیقت مٹ نہیں سکتی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
اسے ہوش آیا تو آہستہ آہستہ آنکھیں کھول کے وہ کمرے کا جائزہ لینے لگی جب نظریں ازمائر پہ رک گئی جو اس کے قریب، اس پہ ہلکا سا خم ہو کے، اسے مسکرا کے دیکھ رہا تھا۔ اس کی حیران آنکھوں میں اچانک سرد مہری در آئی اور ماتھے پہ بل ڈال لیے ۔
” میں یہاں کیوں ہوں ”
وہ اٹھنے لگی جب ازمائر نے اسے اٹھنے سے روکتے کہا۔
” آرام کرو مسفرہ “
مسفرہ اسے دیکھنے لگی۔ کس قدر قریب تھا وہ مسفرہ کے، کس قدر محبت تھی ان گہری نگاہوں میں مسفرہ کے لئے، کس قدر بےپناہ محبت ہوئی تھی اسے ان گہری نگاہوں سے۔ وہ تیزی سے نظریں چرا گئی۔ آزمائر نے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور بے ساختہ مسفرہ کی آنکھیں بھر ائی۔
” تھینک یو مسفرہ ۔۔۔ اتنی بڑی خوشخبری دینے کے لئے۔ ”
آزمائر نے مبہم سرگوشی کی ۔ مسفرہ نے لب بھینچ لیے ۔
” زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے آزمائر شاہ۔ بہت جلد یہ خوشخبری ختم ہونے والی ہے ”
سرد سرگوشی پہ ازمائر نے چونک کے مسفرہ کی آنکھوں میں دیکھا جہاں بےحد نفرت تھی ۔ آزمائر کے ماتھے پہ بل پڑ گئے وہ ناسمجھی سے مسفرہ کو دیکھنے لگا ۔
” کیا مطلب مسفرہ ؟ “
” میں ایبارشن کروا رہی ہوں ”
مسفرہ کے دو ٹوک انداز پہ ازمائر کی آنکھوں میں بےیقینی در آئی ۔
” اپنے بچے کو ختم کر دو گی ؟؟”
” تمہارا خون بھی شامل ہے، کیسے رکھ سکتی ہوں تمہارے بچے کو ”
مسفرہ نے دانت پیستے ہر لفظ پہ زور دیا۔
” وہ تمہارا بھی بچہ ہے مسفرہ ۔ہم دونوں کا ہیں ”
آزمائر نے نرمی سے کہتے، اس کے بال سہلائے۔
” اسی بات کا تو افسوس ہے ”
مسفرہ نے اس کا ہاتھ جھٹکتے کہا۔ آزمائر کی آنکھیں گہری اور تاریک ہوگئی۔
” اسی بات کا افسوس ہے کہ میں ایک گندے آدمی سے محبت کر بیٹھی ، ایک گندے آدمی کو اپنا آپ دے بیٹھی کہ اس کی گندگی میرے وجود میں پلنے۔۔۔۔۔”
” مسفرہ ۔۔۔۔ ”
ازمائر کی آواز اتنی اونچی ہوئی کہ ایک لمحے کو مسفرہ بھی لرز گئی۔ دروازے پہ دستک ہوئی اور دونوں دروازے کی طرف دیکھنے لگے جہاں سے سکینہ اندر آ رہی تھی۔ ازمائر سیدھا ہوکے انہیں دیکھنے لگا۔
” اسلام علیکم آنٹی “
” وعلیکم السلام میرا بیٹا ، جیتے رہو ۔ ”
سکینہ کو اپنے داماد سے محبت تھی۔ایک تو ان کا داماد خوبصورت بہت تھا اور دوسرا دل کوبہت اچھا تھا ۔ جب وہ کچھ ہفتے پہلے بیمار ہوئی تو آزمائر نے انہیں، مسفرہ سے کچھ بھی کہنے سے منع کیا تھا اور ان کا علاج بھی کروایا تھا کراچی کے بےحد مشہور ہاسپٹل سے ۔ ان کے گردوں نے کام کرنا بند کردیا تھا لیکن اب سب نارمل تھا ۔
سکینہ اب مسفرہ کو دیکھتی ، اسکے قریب آئی ۔
” کیسی ہو مسفرہ ؟؟ “
مسفرہ نے آنکھیں گھمائی۔ ازمائر کو میرا بیٹا اور اسے مسفرہ ۔
” ٹھیک ہوں ”
اسنے دھیمی آواز میں جواب دیا۔ ازمائر نے ایک نظر اسے دیکھا ۔ مسفرہ کی نظریں بھی اس سے ملی اور پھر ازمائر نے فوراً نظریں پھیری اور سر جھٹک کے باہر نکل گیا ۔مسفرہ کی آنکھوں نے اس کا پیچھا کیا لیکن خاموش رہی۔
” ہائے میرا نواسہ آنے والا ہے ۔ میں بہت خوش ہوں “
مسفرہ نے انہیں دیکھا۔
” بڑی محبت ہے آپ کو آزمائر سے اور میں آپ کی بیٹی ہوں مجھ سے کوئی محبت نہیں ۔”
” ارے تم اور ازمائر الگ ہو کیا؟؟ دونوں میرے بچے ہو”
سکینہ نے اسے ڈپٹتے کہا۔
” تبھی اسے میرا بیٹا کہا اور مجھے بس مسفرہ کیسی ہو”
مسفرہ نے منہ بنایا۔ سکینہ مسکرانے لگی۔
” پاگل لڑکی ۔ آزمایر تمہارا شوہر ہے لیکن میرے لئے داماد سے بڑھ کے ہیں ۔اسنے میرے لئے وہ سب کیاہے کہ اگر میرا سگا بیٹا بھی ہوتا تو شاید نہ کرتا وہ سب “
” ایسا کیا کر دیا ہے اس نے ؟؟”
مسفرہ ، اپنی ماں کے چہرے پہ ازمائر کے لئے اتنی محبت نہیں دیکھ سکتی تھی۔ سکینہ نے سر جھٹکا۔
” میں کچھ ہفتے بیمار ہوئی تھی۔ میرے گردے فیل ہو گئے تھے۔ تب میرے لئے زندگی کی امید ختم ہو چکی تھی۔ میں نے تمہیں کال کرنا چاہا لیکن بے دھیانی میں کال ازمائر کو چلی گئی اور اس نے مجھے تمہیں کچھ بھی بتانے سے منع کیا اور خود میرے پاس ایا۔ بہترین ہاسپٹل سے۔ میرا علاج کروایا ۔ روز میری طبیعت پوچھنے آتا اور رات دیر تک وہیں رکا رہتا جب تک میں سو نہ جاتی۔ بیٹا ہے وہ میرا۔ ”
سکینہ کہہ رہی تھی اور مسفرہ حیرانی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
” یہ کب کی بات ہے ؟؟”
” ایک مہینے پہلے کی۔ جب میں نے تم سے جھوٹ بولا تھا کہ میں اسلام آباد ہوں تب میں یہاں تھی اور زیر علاج تھی۔ وہ اکثر مجھے کہتا کہ مسفرہ مجھ پہ شک کرتی ہے کہ میں لیٹ کیوں گھر آتا ہوں “
اسےیاد آیا کہ کچھ ہفتے پہلے ازمائر کا یہ معمول بن چکا تھا کہ وہ دیر سے گھر آتا رات کو اور آتے ہی سو جاتا۔ تو وہ اسکی ماں کے علاج کے لئے سرگرداں تھا اور وہ کیا سوچ رہی تھی۔ اس نے چونک سکینہ کو دیکھا ۔
” وہ تو اپنی سابقہ بیوی سے ملنے جاتا تھا ۔”
” یہ بات اس نے خودکہی ؟؟ یا تم نے خود سوچ لیا ”
سکینہ کے سوال پہ، مسفرہ لب کاٹنے لگی ۔
” بیٹا، وہ مرد ہے ۔ تم جانتی ہو کہ وہ کتنے سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہا وہ بھی ایک عورت کی بدکرداری اور بے وفائی کی وجہ سے تو کیاوہ مرد چاہے گا کہ پھر سے اسی عورت کے ساتھ تعلق میں آئے جو اسکی بربادی کا سبب بنا ہو؟؟”
مسفرہ خاموش رہی۔
” ایک بدکردار مرد بھی اس عورت کو دوسری مرتبہ نہ اپنائے اور ازمائر تو ایک باکردار مرد ہے، وہ کیوں اسے دوبارہ اپنانا چاہے گا؟؟”
سکینہ اسے سمجھا رہی تھی جبکہ وہ خاموشی سے انہیں سن رہی تھی۔
” اب تو تم دونوں ماں باپ بننے والے ہو۔ ننھا سا وجود تمہاری کوکھ میں پل رہا یے۔ جس قدر تم دونوں محبت سے رہو گے، جتنی محبت تم دونوں کے بیچ ہوگی ۔ بچہ اتنا ہی صحتمند اور ذہین اس دنیا میں آئے گا۔ اللہ تم دونوں کو حفظ و امان میں رکھے اور تم دونوں کے بیچ ہمیشہ محبت رہے”
سکینہ اپنی دھن میں کہہ رہی تھی جبکہ مسفرہ خاموشی سے اپنی سوچوں میں ڈوب گئی۔ وہ کہاں غلط تھی اور کہاں صحیح۔
اسے آزمائر کا وہ چہرہ یاد آیا جب مسفرہ کے آخری الفاظ پہ اس نے تاریک ہوتی آنکھوں سے اسے تنبیہہ کرتے دیکھا تھا۔ اسے بے چینی ہونےلگی اور نظریں بے ساختہ دروازے پہ گئی۔ جہاں سے نرس اندر آ رہی تھی۔
” مسٹر آزمایر نے کھانا بھیجا ہے آپ دونوں کے لئے “
” خود آزمائر کہاں ہے ؟؟”
سکینہ نے ٹرالی دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
” وہ تو چلے گئے ۔ ”
نرس نے عام سے انداز میں کہا اور خود باہر چلی گئی جبکہ مسفرہ کی آنکھوں میں اداسی سی چھا گئی۔ وہ اداس آنکھوں سے دروازے کو دیکھے گئی جبکہ سکینہ اس کے لئے کھانا نکالنے لگی لیکن اسے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ کھانا اس کے گلے سے اتر نہیں پائے گا۔ اسے آزمایر کو دیکھنا تھا ۔ اس کی آنکھیں جیسے بلکل اچانک ازمائر کو دیکھنے کے لئے ترسنے لگی لیکن وہ جو غلطی کر چکی تھی اس کا ازالہ مشکل تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا جب اس کی آنکھ کھلی۔ دل میں عجیب بے چینی تھی جیسے اس کا دل رک جائے گا جیسے سانس رک جائے گی۔ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی، کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ ازمائر بھی نہیں تھا۔ اسے لگا تھا کہ شاید رات کے کسی پہر وہ ا جائے گا لیکن وہ نہیں آیا تھا ۔ لب کاٹتی، وہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھ چکی تو دل بے اختیار ازمائر شاہ کے بےپناہ محبت کی خواہش کرنے لگی ۔
اس نے ہاتھ بڑھا کے اپنا موبائل اٹھایا، ازمائر کو کال کرتی، وہ اپنے تیزی سے دھڑکتے دل کو تسلی دینے کی کوشش کرنے لگی لیکن دل تھا کہ بے اختیار ہوتا جا رہا تھا۔
” مسفرہ ۔۔۔”
بھاری سرگوشی گونجی اور مسفرہ بے اختیار رونے لگی ۔
” از۔۔۔۔ مائر”
اس نے روتے روتے ازمائر کا نام لیا اور پھر سے رونے لگی ۔ اس کے پل بندھے آنسو ، اتنے دنوں کی ذہنی تھکن، ازمائر کے متعلق شکوک و شبہات اور غلط فہمی جیسے ان آنسوؤں کے ساتھ بہہ رہی تھی۔ اس کے رونے کی آواز بلند سے بلند تر ہو رہی تھی ۔
” میں ابھی آ رہا ہوں مسفرہ ”
آزمائر کے یہ الفاظ، اس کے کانوں میں پگھل سے گئے۔ وہ بنا کہے سمجھ گیا تھا مسفرہ کے دل کی بات۔ مسفرہ کے احساسات وہ بنا کچھ سنے سمجھ گیا تھا اور مسفرہ ۔۔۔۔ وہ اس شخص کو غلط سمجھ رہی تھی۔ موبائل اس کے کان پہ تھا جہاں سے آزمائر کے سانسوں کو وہ سن رہی تھی اور بلکل اچانک کمرے کا دروازہ کھلا ۔ ازمائر اس کے روبرو تھا۔
مسفرہ نے بنا کچھ سوچے، سمجھے موبائل نیچے بیڈ پہ گرا کے، اپنی بانہیں اس کی طرف وا کر دی۔ ازمائر نے تیزی سے آگے بڑھ کے اسے بانہوں میں بھر لیا ۔ سکون سا مسفرہ کو اپنے وجود میں اترتا محسوس ہوا۔ آنسو ابھی بھی تھے آنکھوں میں، لیکن بلکتے وجود کو قرار سا آ گیا تھا ۔
” میں باہر ہی تھا مسفرہ ”
آزمائر نے سرگوشی کی۔
” مجھے لگا ۔۔۔ کہ تم چلے گئے ہو ”
مسفرہ نے بھیگی سرگوشی کی ۔ ازمائر کے لبوں پہ ہلکی مسکراہٹ آئی۔
” میں برا ہوں، بدکردار اور زانی۔ مجھے واقع چلے جانا چاہیے تھا”
مسفرہ نے تڑپ کے اسے دیکھا جس کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ تھی اور آنکھیں اداس تھی۔ وہ بے ساختہ شرمندہ سی ہو گئی۔ نظریں چراتی وہ لب کاٹنے لگی۔
” ایم سوری ازمائر، میں نے تمہیں ہرٹ کیا ۔ ایم سوری پلیز ”
وہ پھر سے رونے لگی۔
” ارے یار ۔۔۔ ”
ازمائر نے اسے پھر سے بانہوں میں بھر لیا ۔
” میں ہرٹ نہیں ہوں اب ۔ پلیز رونا نہیں ہے اب میری جان۔ ہماری ننھی سی جان پہ برس اثر پڑے گا۔وہ سوچے گا کہ یا تو میں برا ہوں جو تمہیں رلا رہا ہوں یا پھر یہ کہ، اس کے مام ڈیڈ دونوں ہی اچھے نہیں ہیں۔ لڑتے رہتے ہیں ۔”
آزمائر کے شرارت بھرے الفاظ پہ، وہ زیر لب مسکرانے لگی۔
” ڈیڈ اچھے ہیں بس مام بری ہے جو تنگ کرتی ہے ڈیڈ کو ”
آزمائر اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر کے، مسکرا کے اسے دیکھنے لگا ۔
“۔ یہ تو آپ نے صحیح فرمایا”
” ازمائرررر۔۔۔۔۔”
مسفرہ کی آنکھوں میں بےیقینی اور ناراضگی کی جھلک تھی لیکن آزمائر نے اسی لمحے، اس کے لبوں کو، اپنے لبوں سے قید کر لیا اور اب کے مسفرہ کی آنکھوں میں، حیرانی، جھجھک اور سکون کی جھلک تھی۔ وہ بھی ازمائر کے گرمجوش لمس پہ، ساتھ دینے لگی ۔ ناراضی کے بادل چھٹ چکے تھے اور اب سکون اور محبت کی بارش تھی اس کمرے میں موجود، ان دو نفوس پہ۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
اس کی آنکھیں کھلی تو خود کو ایک تاریک کمرے میں پایا۔ ذہن بیدار ہونے کی جستجو کرنے لگا تو اسے یاد آیا کہ وہ عفان کے ساتھ ریسٹورنٹ آئی تھی جہاں اسے، عفان سے بات کرنی تھی۔ کھانے کا آرڈر دیا تھا۔ کھانا کھانے کے کچھ دیر بعد، اسے عجیب محسوس ہونے لگا۔ آنکھوں کے سامنے دھندلاہٹ ہونے لگی اور پھر دماغ مفلوج ہونے لگا اور پھر ۔۔۔۔ تاریکی!!!
ہلنے پہ محسوس ہوا کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ وہ خود کرسی پہ ہے جبکہ دونوں ہاتھ کرسی کی پشت سے بندھے ہیں اور اس کے پاؤں ۔۔۔ وہ ہلنے کی کوشش کرنے لگی لیکن اسے احساس ہوا کہ اسکے پاؤں کے نیچے کچھ گیلا گیلا سا محسوس ہو رہا ہے۔ ذہن مزید بیدار ہوا تو اسے عجیب بدبو سی محسوس ہونے لگی جسے سونگھنا ناقابل برداشت ہو رہا تھا اس کے لئے ۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ اگر یہ بدبو ختم نہ ہوئی تو شاید وہ قے کر دے ۔
” عفان۔۔۔۔۔۔ ”
وہ اچانک سے چلائی لیکن عجیب پڑپڑاہٹ کی آواز سنائی دی اور پھر خاموشی ۔ اسے خوف سا محسوس ہوا ۔ ایک تو تاریکی کہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا اور یہ بدبو ۔۔۔
” عفان ۔۔۔۔”
اس نے دوبارہ سے آواز دی۔ اچانک لائٹ آن ہوئی اور وہ تاریکی میں ڈوبا کمرہ، اب نیم تاریک سا ہوا۔ روشنی تھی لیکن ملگجا سا۔ آنکھیں دیکھنے کے قابل ہوئی تو پہلی نظر ہر طرف بنے، مکڑی کے جالوں پہ گئی، جہاں سیاہ رنگ کے مکڑی بھی موجود تھے۔ اس نے تیزی سے نظریں گھمائی، دیواروں پہ رنگ اترے ہوئے تھے، دائیں طرف تین لٹکے ہوئے چیل تھے، جن سے خون ٹپک ٹپک کے بہہ رہا تھا ۔ اکاسمہ کو لگا کہ وہ اب مزید سانس نہیں لے پائے گی۔۔ نظر نیچے گئی تو فرش پہ خون بکھرا ہوا تھا ۔ اس نے تیزی سے اپنے پاؤں سمیٹنے چاہے۔ لیکن وہ یہ نہیں کر سکتی تھی۔وہ چیخنا چاہتی تھی، وہ اس وقت بس چیخنا چاہتی تھی لیکن آواز جیسے گلے میں دفن ہو چکی تھی ۔
” عفان۔۔۔۔۔ ”
وہ اس بار زور سے چیخی کہ ارد گرد موجود سارے چمگاڈر پھڑپھڑانے لگے ۔۔۔۔ وہاں عجیب خوفناک ماحول بن گیا تھا۔۔۔ دل دہلا دینے والا خوف ۔
” شیطانوں کی دنیا میں ، تمہارا خوش آمدید ہے اکاسمہ حیات ”
ایک خوفناک آواز چیرتی ہوئی وہاں گونجی۔ وہ دیکھنے کی کوشش کرنے لگی جب اس کے سامنے لمبے بالوں والی، زرناب درانی آ کھڑی ہوئی۔ وہ حیرت سے اس عورت کو دیکھنے لگی ۔ اس نے شاید کہیں اس عورت کو دیکھاتھا لیکن کہاں ؟؟؟؟
” میں تمہاری ماں ہوں زرناب درانی۔۔۔۔۔ ”
اکاسمہ نے حیرت سے اسے سر تا پا دیکھا جبکہ وہ مسکراتی آنکھوں سے اکاسمہ کو دیکھ رہی تھی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°
