The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 28
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 28
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 28
رپورٹ دیکھ کے، وہ سائیڈ پہ رکھ چکا تھا اور اب اپنے سامنے بیٹھی درمکنوں کو دیکھ رہا تھا جو اسے ہی سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی لیکن اس نے نظریں چرائی تھی شاید اس وقت وہ کسی حقیقت کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
” کافی بنا کے لاؤں تمہارے لئے خیام ؟؟”
درمکنوں کے پوچھنے پہ خیام سر نفی میں ہلا گیا تھا۔
” اکاسمہ کی فکر ہو رہی ہے مجھے۔ اس کی جان کو خطرہ ہے ”
” تو کال کروں اسے، اور اسے الرٹ کر دو، بتا دو سب ”
درمکنوں کی بات پہ وہ سر دونوں ہاتھوں میں تھام گیا ۔
” افففف، ابھی بتا دوں؟؟؟ صحیح کہہ رہی ہو ”
موبائل اٹھا کے، وہ اکاسمہ کو کال کرنے ہی والا تھا جب طیب اندر آیا تھا۔
” سر کال آئی ہے، ایک باڈی ملی ہے جس کی شناخت ہونے میں، وہاں کے لوگوں کو دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ”
” کہاں؟؟”
خیام کے سوال پہ اس نے کندھے اچکائے تھے۔
” جنگلات میں ملی ہے جو یہاں سے کافی فاصلے پہ ہیں۔ اور اس بار باڈی کسی عورت کی نہیں بلکہ ایک مرد کی ہے”
خیام چونکا تھا۔ اس نے اچھنبے سے طیب اور پھر درمکنوں کو دیکھا تھا۔
” ہمممم، ٹیم تیار کرو جلدی ”
” اوکے سر”
طیب بہت نکلا تو خیام بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
” یہ نہیں ہو سکتا در، ”
اس کے پاؤں لڑکھڑائے تھے لیکن خود کو سنبھالتے وہ تیزی موبائل پہ ٹیکسٹ لکھ کے، اکاسمہ کو سینڈ کر چکا تھا اور خود تیزی سے باہر نکل گیا کہ اسے اپنی ٹیم کے ساتھ جلد سے جلد، جائے وقوعہ پہ پہنچنا تھا۔
《《《《《《《□□□□□□》》》》》》
ٹیکسی میں بیٹھی اکاسمہ باہر دیکھ رہی تھی۔ ٹیکسی مختلف سڑکوں سے ہوتی جا رہی تھی ۔ اسے کورٹ جانا تھا اور لبنی کو بھی یہی کہہ کے وہ نکلی تھی جبکہ حکان صبح صبح ہی کسی کام کے سلسلے میں باہر گیا تھا۔ ورنہ شاید وہ اسے گھر سے نکلنے ہی نہ دیتا۔ اچانک کسی خیال کے تحت، اس نے ڈرائیور کو گھر کا ایڈریس بتایا جب اس کے موبائل پہ میسج کی ٹون بجی تھی جو کہ خیام کی طرف سے تھی۔ اس نے تیزی سے ٹیکسٹ اوپن کیا لیکن موبائل سوئچ آف ہو گیا تھا۔
” اوہ شٹ، بھائی آپ کے پاس چارجر ہے ؟؟”
وہ ڈرائیور سے پوچھنے لگی۔ رات سے ہی اس نے موبائل چارج پہ نہیں لگایا تھا اور نتیجہ یہی نکلنا تھا۔
” نہیں میم صاب ”
” ہمممم ”
موبائل دوبارہ سے بیگ میں ڈال کے، وہ پھر سے شیشے کے پار، باہر دیکھنے لگی۔ ٹیکسی گھر کے سامنے رکی تو گہرا سانس لیتی، وہ ٹیکسی کو پیمنٹ کر کے، باہر نکلی۔ سامنے اپنے گھر کو دیکھا اور خود کو آمادہ کیا تا کہ وہ اس گھر کے اندر جا سکے۔ جو پہلے ایک گھر ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ گھر ایک مکان بن گیا ۔ آسیب زدہ مکان !!!
جہاں عاریز خان تو رہتا تھا اکاسمہ کے ساتھ لیکن ایسے لگتا جیسے کوئی بھوت کا بسیرا ہو چکا ہو اس شخص پہ۔
سر جھٹک کے وہ آگے بڑھی کہ حالات جو بھی ہو، اسے تو سامنا کرنا ہی تھا۔ ڈپلیکیٹ چابی سے، دروازہ کھول کے، وہ اندر آئی تو اسے عاریز خان صوفے پہ ہی نیم دراز نظر آیا۔ اکاسمہ پہ نظر پڑی تو وہ تیزی سے اٹھ کے، اس کے قریب آیا اور اسے بانہوں کے گھیرے میں لے کے، سکون بھرا سانس بھر کے، کہنے لگا۔
” کہاں تھی اکاسمہ، جانتی ہو کتنا مس کیا تمہیں میں نے، جانتی ہو ناں”
وہ اکاسمہ کا چہرہ، ہاتھوں کے پیالے میں بھر کے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا جبکہ اکاسمہ مسکرانے کی کوشش کرنے لگی۔ اس کی آنکھیں نم ہونے لگی ۔ یہ شخص کس قدر بدل گیا تھا ۔۔ جیسے کوئی آسیب چڑھ گیا ہو اس شخص کو۔ عاریز خان نے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے اور پھر اکاسمہ کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” رو کیوں رہی ہو اکاسمہ ؟؟ ایم سوری ، معاف کردو پلیز ، اب نہیں ہوگا ایسا کچھ بھی ”
اکاسمہ نے بنا کچھ کہے، سر اثبات میں ہلایا تھا جبکہ عاریز اس کا ہاتھ تھام کے، اسے صوفے پہ بٹھا کے، اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔
” میں کافی بنا کے لاتا ہوں، دونوں فریش ہو جائے گیں۔ ”
” ہمممم ۔۔۔ ”
عاریز نے جھک کے، اس کا بیگ ہاتھ میں لیتے، اسے مسکراتے ہوئے دیکھا۔
” میں یہ روم میں رکھ دیتا ہوں، تم ارام سے، ریلیکس ہو کے بیٹھو ”
ساتھ ہی، اکاسمہ کے چہرے پہ ہاتھ رکھ کے، اس کے ماتھے پہ لب رکھ کے، دور ہوا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ اکاسمہ کی نظریں اس کا پیچھا کر رہی تھی۔ عاریز تم کیوں بدل گئے ہو ؟؟ ڈرنے لگی ہوں تم سے میں۔
وہ سوچنے لگی جبکہ کچن میں کھڑا عاریز خان، زیر لب مسکراتا، اپنے لئے اور اکاسمہ کے لئے کافی بنا رہا تھا۔ اس نے ایک نظر لاؤنج میں بیٹھی اکاسمہ پہ ڈالی، جو صوفے کی پشت پہ سر رکھ کے، آنکھیں موندے ہوئی تھی اور پھر مسکراتی آنکھیں کافی کے کپ پہ مرکوز ہوئی تھی۔ اکاسمہ کے کپ میں، وہ ہاتھ میں لی ہوئی چھوٹی بوتل کھول کے، اس میں وہ مواد انڈیلنے لگا۔
وہ زیر لب مسکرا رہا تھا۔
” اکاسمہ تم صرف میری ہو۔ صرف میری ”
خود سے کہتا، وہ دونوں کافی کے کپ لیے، لاؤنج کی طرف آیا تھا۔
《《《《《《■■■■■■■》》》》》
” عجیب بےچینی ہے آج، صبح سے خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن ایسے لگ رہا ہے جیسے، میرا گلا گھونٹا جا رہا ہو ”
عفان نے بےچینی سے اپنی شرٹ کا اوپری بٹن کھولتے کہا جبکہ عندلیب پریشان نظروں سے، اسے دیکھ رہی تھی
” کام کا پریشر زیادہ ہے کل سے، شاید اس لئے۔ میں کافی بنا کے لاؤں آپ کے لئے۔ ”
” ہممم، نہیں ”
وہ اپنی کنپٹی سہلانے لگا۔ وہ پھر سے موبائل اٹھا کے کال ملانے لگا لیکن نمبر اب بھی آف جا رہا تھا۔ اپنی آنکھیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے مسلتا، وہ موبائل پھر سے میز پہ رکھ چکا تھا۔
” ڈاکٹر عفان ؟”
عندلیب جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ پریشانی سے پکار اٹھی۔ عفان اسے دیکھنے لگا۔
” اکاسمہ کا نمبر آف جا رہا ہے۔ افففف مجھے اس کے گھر جانا ہوگا ۔۔ بےچینی ہو رہی ہے ۔ بار بار اکاسمہ کا خیال آ رہا ہے ۔ ”
وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تو عندلیب بھی کھڑی ہو گئی۔ اس کے دل میں بھی گھبراہٹ سے ہونے لگی۔اکاسمہ تو اس کی مسیحا تھی۔
” میں بھی چلوں آپ کے ساتھ ؟؟”
عندلیب کے پوچھنے پہ، عفان نے ایک نظر اسے دیکھا اور سر اثبات میں ہلاتا، پہلے اسے راستہ دیا اور پھر خود کمرے سے باہر نکل گیا۔
《《《《《□□□□□□》》》》》
” جانے کیسے دیا آپ نے اکاسمہ کو مام؟؟ مجھے انفارم ہی کر دیتی، کہاں ڈھونڈوں اسے میں اب؟؟”
اس کے لہجے میں پریشانی اور فکر تھی ۔
” ڈیم اٹ ”
وہ تیزی سے اپنا موبائل کھول کے دیکھنے لگا۔
” ایم سوری بیٹا، میرا دھیان نہیں رہا بیٹا”
لبنی پریشانی سے اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھنے لگی۔
” اس کی جان کو خطرہ ہے مام، اس کا موبائل بھی آف ہے صبح سے، کیا کروں اب میں ”
وہ پریشان سا موبائل پہ کچھ چیک کرنے لگا۔ بےحد غور سے وہ موبائل اسکرین کو دیکھ رہا تھا لیکن اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔ اپنی کنپٹی سہلاتا، وہ تیزی سے باہر نکل گیا جبکہ لبنی نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھ لیا تھا کہ وہ تو غلط کر ہی چکی تھی لیکن اللہ کرے کہ اکاسمہ کے ساتھ کچھ غلط نہ ہوا۔ اس کی جان اور عزت محفوظ رہے۔
حکان پریشان سا گاڑی میں بیٹھ گیا۔ شام کے سائے دھندلے سے پھیل رہے تھے۔ اسے جلد سے جلد اکاسمہ تک پہنچنا تھا۔ دل لرز رہا تھا جبکہ دماغ کی شریانیں پھٹنے کے قریب تھی جب اکاسمہ کے ساتھ کچھ برا ہو جانے کا خیال، اس کے دماغ میں منڈلانے لگا۔ وہ لب بھینچے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا اور بار بار اپنا موبائل بھی چیک کر رہا تھا۔
” گاڈ، ڈیم اٹ۔۔۔ یا اللہ اکاسمہ کے ساتھ کچھ غلط نہ ہو، پلیز میرے اللہ، پلیز ”
بےساختہ اس نے اسٹیئرنگ پہ ہاتھ مارا تھا زور سے۔ بالوں میں انگلیاں چلائی تھی جب اسے خیام کی کال موصول ہوئی تھی۔
《《《《《《《□□□□□》》》》》》
یہ جنگلات کا علاقہ تھا۔ جہاں ملگجا سا اندھیرا تھا ۔ وہاں کچھ لوگ پہلے سے ہی موجود تھے۔ ایک باڈی بھی ان کے سامنے پڑی ہوئی تھی۔ جس کی شناخت وہاں موجود لوگوں نے ابھی تک نہیں کی تھی لیکن وہ سب پولیس کے آنے کا انتظار کر رہے تھے ۔ خیام اپنی ٹیم کے ساتھ جیسے ہی وہاں پہنچی تو گاڑی سے اترتے ہوئے، وہ لڑکھڑا سا گیا تھا جب طیب نے آگے بڑھ کے، اسے سنبھالا
” سر ۔۔۔!!!!”
خیام نے ہاتھ اٹھا کے، اثبات میں سر ہلایا۔
” ب ۔۔۔ باڈی کہاں ہے ؟؟”
صبح، جب سے اس نے رپورٹ دیکھی تھی تب سے اس کے دل میں ہول سے اٹھ رہے تھے ۔ وہ رپورٹ عاریز خان کی تھی ہی نہیں۔ جب اس بلڈ ٹیسٹ کو عاریز خان کے بلڈ ٹیسٹ سے میچ کیا گیا تو دونوں مختلف تھی۔ عاریز خان کے چہرے میں، وہ بہروپیا کون تھا؟ اس نے اکاسمہ کو کال کرنا چاہی لیکن نہ ہو پائی تو اس نے اکاسمہ کے لئے میسج رکھا کہ وہ گھر جانے کی کوشش نہ کرے بلکل بھی اور اس عاریز خان کے بہروپیا سے دور رہے۔ لیکن شاید دیر ہو گئی تھی کیونکہ اکاسمہ کو وہ اپنے چنگل میں پھنسا چکا تھا۔
وہاں موجود لوگ راستہ بنانے لگے جبکہ خیام سن ہوتے دماغ کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا کہ اگر وہ عاریز ہوا تو ؟؟ وہ باڈی عاریز کی ہوئی تو ؟؟ اور پھر وہ رک گیا، طیب نے آگے بڑھ کے باڈی کو چیک کیا، شناخت ہو گئی تھی، وہ لب بھینچے خیام کو دیکھنے لگا اور اپنے کیرئیر کے اتنے سالوں میں،پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ خیام ایک ڈیڈ باڈی دیکھ کے، نیچے گرا تھا۔ گھٹنوں کے بل وہ اس باڈی کے قریب گر کے، اب غور سے دھندلی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ شاید یقین کر لینا چاہتا تھا کہ طیب کی آنکھیں جھوٹ بول رہی ہے، وہ عاریز خان نہیں ہے، وہ عاریز خان نہیں ہو سکتا۔ وہ کیسے سب کو چھوڑ کے، یوں یہاں پڑا رہ سکتا ہے؟؟ کیسے اپنی اکاسمہ کو چھوڑ کے۔۔۔۔۔!!!
اکاسمہ !!! اکاسمہ !!!
خیام کو اچانک خیال آیا تھا۔ وہ کانپتے ہاتھوں تیزی سے موبائل نکال کے، اکاسمہ کو کال کرنا چاہتا تھا۔ لرزتی انگلیاں بمشکل موبائل کو تھامے ہوئی تھی ۔ ابھی تک اکاسمہ کی کال بھی تو نہیں آئی تھی اسے۔ موبائل آف ۔؟؟ تو اکاسمہ نے اس کا میسج ہی نہیں دیکھا؟؟؟ اپنے سینے کو مسلتے، وہ لڑکھڑا کے اٹھتا گاڑی کی طرف گیا، طیب بھی، ٹیم کو اشارہ کرتا، اس کے ساتھ ہی گاڑی تک آیا جب اچانک خیام چلایا تھا اور ہاتھ گاڑی پہ زور سے ماری تھی۔
” سر ؟؟”
خیام، طیب کو دیکھنے لگا۔
” یہ ۔۔۔۔ سب ، ح۔۔۔ حکان ”
وہ اب تیزی سے حکان کو کال کر رہا تھا جب حکان نے کال ریسیو کی تو وہ بس اتنا کی بول سکا۔
” اکاسمہ ۔۔۔۔۔ ”
اور وہاں حکان کے اوسان خطا ہوئے تھے لیکن یہاں خیام نے ایک بار پھر مڑ کے، اپنے جگری دوست کی بےجان باڈی کو، نم ہوتی آنکھوں سے دیکھا تھا جسے اس کی ٹیم، بےحد احتیاط کے ساتھ، رکھ رہی تھی۔ باڈی بوسیدہ ہو چکی تھی۔ نہ جانے کتنے دنوں سے وہ، وہاں پڑی ہوئی تھی۔ دل میں درد سا جگا تھا اور وہ زور سے چیخا تھا۔
” عاریز ۔۔۔۔۔”
اس کے ساتھ گزرے سارے لمحے ایک ایک کر کے، اس کی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح چلنے لگے اور اب ؟؟؟ اب وہ بےجان باڈی اس قدر بوسیدہ ہو گئی تھی کہ اس کے ساتھ احتیاط برتا جا رہا تھا کہ کہیں اس باڈی کے ٹکڑے ایکدوسرے سے الگ ہو کے، گر نہ جائے۔
طیب نے نم آنکھوں سے خیام کو دیکھا تھا، اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا جبکہ خیام اچانک روتے روتے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
” اسے تو اب نہیں چھوڑنا میں نے ۔۔۔ ”
وہ جبڑے بھینچے تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھا تھا جبکہ طیب بھی اس کے ساتھ ہی گاڑی میں بیٹھ گیا تھا۔
《《《《《《《¤¤¤¤¤》》》》》》》》
ہوش کی دنیا میں آتے، اکاسمہ نے دھیرے دھیرے اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی تھی۔ پہلے سب دھندلا سا تھا لیکن جب سب واضح نظر آنے لگا تو وہ تیزی سے اٹھ بیٹھی۔ وہ بیڈ پہ پڑی ہوئی تھی جسے دلہن کی طرح سجایا گیا تھا، کمرے کو بھی بےحد خوبصورت انداز میں سجایا گیا تھا۔ ہر طرف کینڈلز تھے۔ پھول تھے، خوشبوؤں میں بسا کمرا۔ نظر سامنے اس شخص پہ اٹھی جو پیٹھ موڑے، نہ جانے کیا کر رہا تھا۔
” ک ۔۔۔ کون ؟؟”
جبکہ وہ شخص مڑا، عاریز خان کو اپنے سامنے دیکھ کے، وہ چونکی تھی۔ وہ شخص زیر لب مسکراتا، بیڈ کے قریب آ رہا تھا جبکہ اکاسمہ کا دل جیسے کوئی مٹھی میں بھینچ رہا تھا۔ وہ عاریز خان نہیں تھا۔ عاریز اس کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کا دل نہیں مانتا کہ وہ عاریز خان ہو۔ تو کون ہے یہ ؟؟
” وہیں رہو تم، ”
وہ کانپتی آواز میں چلائی تھی لیکن وہ نہیں رکا بلکہ بیڈ کے قریب آیا ۔ اکاسمہ بدک کے، بیڈ کے دوسری طرف اتر کے، خوفزدہ آنکھوں سے، اسے دیکھنے لگی۔ نہیں!! یہ عاریز خان نہیں ہے۔
” کون ہو تم ؟؟”
” تمہارا عاریز ”
وہ مسکرایا تھا جبکہ اکاسمہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
” تم عاریز نہیں ہو ”
اس شخص کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔ ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ لے جا کے، اس نے آہستگی سے، اپنی جلد رگڑی تھی۔ اکاسمہ پھٹی آنکھوں سے، اسے دیکھ رہی تھی جبکہ اس نے وہ اسکن اچانک سے اتار دی تھی۔ وہ بس ایک ماسک تھا اور اس ماسک کے پیچھے سے برآمد ہونے چہرے نے، اکاسمہ کو ساکت کر دیا تھا۔
” عدیل حیات کہتے ہیں مجھے ”
وہ مسکراتے چہرے کے ساتھ کہہ رہا تھا جبکہ اکاسمہ لڑکھڑا کے پیچھے ہوئی تھی۔ وہ یک ٹک اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔
” ع ۔۔۔۔ عاریزززز”
اس کے لب نیم وا ہوئے تھے جبکہ عدیل حیات ہنسنے لگا۔
“مر گیا وہ اور رہ گئے میں اور تم ”
اکاسمہ کا دل جیسے گہری کھائی میں گرا تھا۔ اس میں ہلنے کی سکت نہ بچی تھی۔ وہ شاک کی کیفیت میں اپنے قریب آتے اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔ نہ وہ انکار کر رہی تھی، نہ روک رہی تھی اسے۔عاریز مر گیا ؟؟ وہ بس اس ایک جملے کی گونج کو سن رہی تھی۔ باقی سب خاموش تھے، اردگرد سب خاموش!!!
ہوش تو تب آیا جب اسے عدیل حیات کے ہاتھ، اپنی پشت پہ رینگتے محسوس ہوئے، اس کے لب اکاسمہ کی گردن چھو رہے تھے جب وہ جیسے ہوش میں آئی تھی اور کرنٹ کھا کے پیچھے ہوئی تھی اس سے۔وہ اکاسمہ تھی، نڈر اکاسمہ، اسے ہار نہیں ماننا۔
” پیچھے ہٹو دماغی مریض۔ دور ہٹو مجھ سے ”
خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرواتی اکاسمہ چلائی تھی جبکہ وہ ہنسنے لگا۔
” محبت ہو تم میری، جنون ہو تم میری۔۔۔ اکاسمہ سمجھ کیوں نہیں آتی تمہیں ”
” میں میرڈ ہوں۔۔۔ کیا بکواس کر رہے ہو تم ”
اکاسمہ اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگی جو اس وقت، اس نیم تاریک کمرے میں، ایک دماغی مریض ہی لگ رہا تھا جس سے اکاسمہ کو خوف بھی محسوس ہو رہا تھا لیکن اپنے حواسوں پہ قابو پانے کی کوشش کرتی، وہ خود کو اس کی قید سے آزاد کرنے کا راستہ بھی ڈھونڈ رہی تھی .
” تو ؟؟؟ تو کیا ہوا اکاسمہ ۔۔۔۔ دیکھو، وہ مر گیا،مار دیا میں نے اسے، قسم لے لو، کوئی نہیں ہے ہمارے بیچ ”
وہ تیزی سے قریب ہوتا، اکاسمہ کو کندھوں سے تھام گیا جبکہ اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” میں سب سے لڑ لوں گا، پوری دنیا سے۔ ت ۔۔۔ تمہیں ڈر لگ رہا ہے اس پرازیکیوٹر سے، میں نے اسے بھی قتل کر دیا، بس تم میری ہو جاؤ، صرف میری۔۔۔ بہت محبت کرتا ہوں تم سے، دیوانگی کی حد تک۔ میرا جنون کیوں نہیں دیکھ پا رہی ؟”
اس کی انگلیاں لمحہ لمحہ، اکاسمہ کے بازوؤں میں پیوست ہو رہی تھی جبکہ اس کی سانسیں وہ اپنے چہرے پہ محسوس کرتی، خوفزدہ ہونے لگی ۔ وہ بےحد قریب تھا اکاسمہ کے، جبکہ اکاسمہ بمشکل اپنی سانسوں کو روکے ہوئی تھی۔ جب اسے محسوس ہونے لگا کہ اس شخص کی انگلیاں، اب اس کی کمر پہ رینگ رہی ہے اور وہ تیزی سے، اپنی ٹانگ اسے رسید کرتی، خود پیچھے ہوئے تھی۔ وہ درد سے بلبلاتا پیچھے ہوا تھا اور اکاسمہ کو وہاں سے بھاگنے کا موقع نظر آنے لگا تبھی وہ مڑ کے، تیزی سے دروازے کی طرف بڑھنے لگی جب پیچھے سے، اس کے بالوں سے جکڑ کے، وہ شخص اسے کھینچتا ہوا پیچھے لے گیا تھا۔ وہ درد اور خوف سے چیخ ہی پڑی تھی۔
” بلڈی بچ ۔۔۔ ”
وہ دھاڑا تھا اور اسے بالوں سے کھینچ کے اتنی زور سے دھکا دیا تھا کہ وہ دیوار سے جا لگی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ حرکت کرتی، عدیل حیات اسے دیوار سے پن کر چکا تھا اور خود اس پہ جھکا، اس کی وحشت زدہ آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” مجھے دھوکا بلکل نہیں پسند، یہ بات تمہیں جان لینی چاہئے اب۔ محبت کرتا ہوں تم سے، تم سے زبردستی کرتا اچھا نہیں لگوں گا اب ۔ “۔
اس کے لب سرگوشی میں اکاسمہ کے کان کی لو پہ رینگ رہے تھے۔
” اپنا آپ مجھے سونپ دو۔ میں تمہیں درد نہیں دینا چاہتا۔ تمہیں اپنا لینا چاہتا ہوں بس۔ یہ ہمارا سیکریٹ ریلیشن شپ ہوگا۔ جو صرف ہمارے بیچ ہوگا ۔ میں۔۔۔۔۔۔۔ تم ”
وہ اب اکاسمہ کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جبکہ اس کی سرگوشیاں، اکاسمہ کو خود میں کسی سیال مادے کی مانند اترتا محسوس ہو رہی تھی۔
” میں بیوی ہوں عاریز خان کی ۔۔۔ دیکھو تم میری بات سنو ۔۔۔۔ م ۔۔۔۔ میں د ۔۔۔۔ دیکھو۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ ”
” آہہہہہ دیکھ ہی تو رہا ہوں ”
اس کی بیباک نظریں اب اس کی آنکھوں سے، اس کے لبوں، اس کی گردن اور گردن سے نیچے تک جاتی، اب پھر سے ان لبوں پہ رکی تھی جبکہ اکاسمہ کو اپنا حلق خشک ہوتا محسوس ہونے لگا تھا۔ وہ کسرتی بدن کا مالک، مضبوط انسان تھا جبکہ اکاسمہ اس کا کیا مقابلہ کرتی۔ یہ سوچ کے ہی، اس کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے تھے۔
” تم رو کیوں رہی ہو اکاسمہ ؟”
وہ بےچین ہوا تھا ۔ تڑپ ہی تو گیا تھا ان آنکھوں میں آنسو دیکھ کے۔
” نہیں۔ ”
وہ اپنے لبوں سے، اس کی آنکھوں کو چومنے لگا جبکہ اکاسمہ مکمل دیوار سے جا لگی تھی۔ اس کے لب کانپنے لگے تھے جب وہ اکاسمہ کے لبوں پہ جھکا تھا اور اکاسمہ نے اس کے کندھوں پہ اپنے ناخنوں سے وار کیا تھا وہ بلبلا کے پیچھے ہوا اور بیباک نظروں سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا جبکہ اکاسمہ دیوار میں گھس رہی تھی کہ کہیں سے، وہ اسی دیوار کے بیچ غائب ہو جائے ۔
” یہ بیڈ روم دیکھ رہی ہو، تمہارے لئے سجایا ہے ۔ یہ شیمپین، یہ بیڈ، وہ نائٹی، یہ میوزک، یہ ڈم لائٹ، سب ہمارے لئے ہی تو ہیں تا کہ ہم اپنی خوبصورت رات بسر کر سکے یہاں اور تم مجھے اپنے قریب نہیں آنے دے رہی۔ یہ کیسی محبت ہے اکاسمہ۔ ”
” میں تم سے محبت نہیں کرتی، سائیکو ہو تم ، مجرم ہو، انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے سائیکو مریض ۔۔۔ ”
اکاسمہ زور سے چلائی تھی ۔
” ہاں تو سب تمہارے لئے ہی کیا ہے ۔ تمہیں پانے کے لئے اکاسمہ ۔۔۔۔”
وہ اکاسمہ کی طرف قدم بڑھانے لگا ۔
” میرے قریب مت آؤ، وہیں رکو ”
اکاسمہ چلائی تھی اور ساتھ ہی، دیوار سے لگی، وہ قدم لیتی، اس سے دور ہوئی۔
” کب تک قریب نہیں آنے دو گی اکاسمہ۔۔۔۔ یہ رات تو ہماری ہے۔ ہمارے قربت، ہمارے سنگت کی رات۔۔۔ پلیز اکاسمہ مجھے مکمل کردو اج، میری تکمیل کر دو آج۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔”
وہ کہہ رہا تھا اور پھر سے اس کے قریب آنے لگا۔
” میرے قریب مت آؤ، وہیں رہو ”
وہ چیخی تھی لیکن وہ شخص پھر سے قریب آ کے، اس پہ حاوی ہوا تھا۔ وہ اس کی شرٹ کو پھاڑنے کی کوشش کرنے لگا، خود کو اس کی گرفت سے بچانے کی کوشش میں، اکاسمہ کی شرٹ کا ایک حصہ پھٹ کے، نیچے اس کے قدموں میں گرا تھا اور وہ بھیگی آنکھوں میں خوف لیے، اس شخص کو دیکھنے لگی جو اس پہ حاوی ہوتا، اس کی فرار کے راستے مسدود کر چکا تھا۔
” تم صرف میری ہو اکاسمہ، صرف میری “
《《《《《《《□□□□□□》》》》》
