The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 45
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 45
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 45
گھر میں داخل ہوتے ہی، اس کی نظر کچن میں کھڑے حکان پہ پڑی ۔ وہ پشت کیے کھڑا تھا اور نہ جانے کیا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اکاسمہ مسکراتی، آہستہ روی سے چلتی، کچن میں جا کے، اس کی پشت سے لگ کے، دونوں ہاتھ، اس کے وجود کے گرد باندھ کے، مسکرانے لگی
” کیا کر رہے ہو ؟”
حکان چونکا اور آبرو اچکا کے اسے محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔
” میں اپنی وائفی کے لئے انرجی ڈرنک بنا رہا ہوں ”
اکاسمہ کی نظر کچن کاؤنٹر پہ رکھے دو بڑے گلاسز پہ گئی۔ جس میں وہ شیک نکال رہا تھا۔ دیکھنے پہ ہی پتہ چل رہا تھا کہ کتنا ہیوی شیک ہوگا ۔
” تم مجھے موٹی بنا دینا چاہتے ہو کیا ؟؟ ”
حکان زیر لب مسکراتا گلاس اسے تھما کے، اس کو کمر سے تھام کے اپنے قریب کر چکا تھا۔
” وہ تو میرے بڑے نیک ارادے ہیں تمہیں موٹی بنا دینے کے لئے ”
اکاسمہ کے گال سرخ ہونے لگے اس کی بات پہ، جبکہ شرمیلی گھوری اسے دیتی وہ ناراضگی سے، منہ بنا گئی
” تنگ کرو گے مجھے اب تم ؟”
حکان نے جھک کے، اس کے لبوں پہ لب رکھ کے گہرا سانس لیا اور پھر مسکرانے لگا۔
” محبت کروں گا، بےپناہ محبت ”
اکاسمہ لب دانتوں تلے دبا کے مسکرانے لگی۔ دھڑکنیں اس ایک جملے پہ ہی بےلگام ہوئی تھی ۔
” اممم، تو کیسی رہی ملاقات اپنی مام سے تمہاری ؟؟”
وہ شیک کے گھونٹ بھرتا سوال کرنے لگا
” ٹھیک ہی تھا۔ ”
وہ مڑ کے اپنے بال باندھنے لگی جب اس کی پشت پہ اچانک حکان نے، ٹیبل پہ مضبوطی سے ہاتھ رکھ کے، سہارا لیا تھا کہ اس کے دماغ عجیب سا شور برپا ہوا تھا اچانک، لیکن سر جھٹک کے، وہ خود کو پھر سے ہوش دلانے کی کوشش کرنے لگا۔
” مزے کا ہے ”
اکاسمہ شیک کے گھونٹ لیتی، اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ اپنی کنپٹی سہلاتا، مسکرانے کی کوشش کرتا، اپنی کیفیت اکاسمہ سے چھپانے کی کوشش کرنے لگا۔
” تھینک یو۔ ”
” آج کوئی ڈنر نہیں ہوگا، اتنا ہیوی شیک پی لینے کے بعد۔ ”
اکاسمہ مسکرانے لگی۔
” اممم ۔۔۔ ”
وہ بس اتنا ہی کہہ سکا۔
” میں شاور لے لوں، بہت تھکاوٹ سی ہے مجھے ”
اکاسمہ یہ کہہ کے، کچن سے نکل کے بیڈ روم کی طرف بڑھنے لگی جبکہ حکان سر تھام کے، وہیں کچن میں نیچے بیٹھ چکا تھا۔
اسے کیا ہو رہا تھا ؟؟
آج اس نے میڈیسن بھئ نہیں لی تھی کیونکہ وہ خود ہی محسوس کر رہا تھا کہ ٹھیک ہو رہا ہے۔
لیکن اس وقت اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کی طبیعت مزید بگڑ رہی ہے۔
وہ بمشکل کچن کے دراز تک گیا اور اپنی ٹیبلٹس لے کے، پانی کے ساتھ لینے لگا اور اب خود کو پرسکون کرنے کے لئے، وہ کچھ دیر وہیں اسٹول پہ بیٹھ گیا تاکہ اپنی اس کیفیت پہ وہ قابو پا سکے۔ جو بلکل اچانک اس کے وجود میں پھیلتا محسوس ہو رہا تھا۔ □□□□□□□□□□□□□
شاور لے کے اکاسمہ باہر نکلی تو حکان بیڈ پہ آنکھیں موندے نیم دراز تھا۔ اکاسمہ زیر لب مسکراتی، اس کے قریب آ کے، بیڈ پہ، اس کے قریب ہی، اس کے کندھے پہ سر رکھ کے لیے گئی جبکہ اپنا ہاتھ حکان کے سینے پہ رکھ دیا۔
حکان نظر بھر کے اسے دیکھتا مسکرانے لگا۔ اس نے بلیک اسٹریپس والی نائٹی پہنی تھی۔ جس سے اس کی دودھیا جلد شفاف اور خوبصورت نظر آ رہی تھی۔ چونکہ وہ ابھی ابھی شاور لے کے آئی تھی تو اس کے بالوں کی نمی، حکان کو سکون بخش رہی تھی جبکہ اس کے وجود سے اٹھتی دلکش مہک، اسے مدہوش سا کر رہی تھی۔
گہرا سانس لیتا، وہ اکاسمہ کو بانہوں میں بھرتا، کروٹ لیتا، اس کے نازک وجود پہ، بادل کی طرح چھا گیا تھا۔ اکاسمہ مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
” کس قدر خوبصورت ہو تم اکاسمہ، بےحد، بےپناہ ”
وہ بھاری سرگوشی کر رہا تھا جبکہ اس کے لب، اکاسمہ کے نقوش کو سراہنے میں محو ہو گئے۔ اکاسمہ اس کے ہر لمس پہ، مدہوش ہوتی، آنکھیں موند گئی۔
یہ واضح تھا کہ حکان اس سے محبت کرتا تھا پچھلے آٹھ سالوں سے، لیکن وہ بھی حکان سے محبت کرنے لگی تھی اور یہ ادراک ہی اس کے لئے بےحد خوبصورت تھا اور پھر کل رات کے حسین لمحوں نے، جیسے اس رشتے کو تکمیل کر دیا تھا۔
اچانک حکان نے بےچین ہو کے، کراہ کے، اس کے کندھے پہ سر رکھ دیا تھا۔ اکاسمہ نے چونک کے آنکھیں کھولی اور اسے دیکھنے لگی۔
” حکان ؟؟”
حکان اسے دیکھنے کی کوشش کرنے لگا جو پریشان نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” میرے دماغ میں شور برپا ہے ا۔۔۔۔ کاسمہ۔ مجھے خوف محسوس ہو رہا ہے۔۔۔ میں۔۔۔۔ ”
وہ تیزی سے اکاسمہ سے دور ہوا۔
” میں ۔۔۔۔۔ تمہیں نقصان پہنچا دوں گا ۔ ”
اکاسمہ حیرت سے اسے دیکھتی، اٹھ بیٹھی اور تیزی سے اسے روکتی، خود اس کے قریب ہو کے، اسے بانہوں میں بھر لیا تھا۔
” ایسا کچھ نہیں ہے، یہ تمہارا وہم ہے۔ ”
” اکاسمہ۔۔۔۔”
حکان اس کی نازک بانہوں کے پناہگاہ میں پرسکون سا ہوا تھا ۔
” ہشش، کچھ مت سوچو ۔۔۔ ”
اکاسمہ نے سرگوشی کی تھی۔
حکان سوچنے لگا، کیا تھی وہ ؟؟
وہ خوفزدہ نہیں ہوتی اس سے؟؟
اسے چھوڑ کے پیچھے نہیں ہوتی؟؟
اس سے دور نہیں ہوتی ؟؟
بلکہ اسے جب بھی دورہ پڑتا ہے تو اکاسمہ مزید اس کے قریب ہو کے، اسے بانہوں میں بھر کے، خود میں جذب کر لیتی ہے۔
” تم خوفزدہ نہیں ہو مجھ سے ؟؟”
حکان اچانک اسے دیکھنے لگا جبکہ اکاسمہ پرسکون نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” کیا مجھے تم سے خوفزدہ ہونا چاہئے؟؟”
اس سوال پہ حکان لب کاٹنے لگا۔
” دو شخصیتوں کا شکار، ایک مریض شخص ہوں میں۔ اور ایسے افراد کسی کو بھی نقصان پہنچانے سے نہیں کتراتے۔ اگر میں۔۔۔۔ ”
” تم کیا ؟؟”
اکاسمہ اسے دیکھ رہی تھی۔ کس قدر پرسکون تھی وہ آنکھیں؟؟ حکان اچھنبے سے اسے دیکھنے لگا۔
” تمہاری آنکھیں کس قدر پرسکون ہے اکاسمہ، میرے وجود کا خوف زائل ہو رہا ہے، تمہاری آنکھیں مجھے سکون سا بخش رہی ہے۔ تم خوفزدہ نہیں ہو، تم مجھ سے خوفزدہ نہیں ہو، با۔۔۔۔قیوں کی طرح تم ۔۔۔۔ مجھ سے۔۔۔۔ خوفزدہ نہیں ہو”
اکاسمہ اس کے مزید قریب ہو کے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” کیونکہ میں وہ ہوں جس سے تمہیں بےپناہ محبت ہے اور تم وہ ہو جس سے میں بےپناہ محبت کرتی ہوں۔ تمہاری پناہ گاہ یہاں ہیں، مجھ میں، میری بانہوں میں، میرے وجود میں۔ تم مریض نہیں ہو حکان۔”
اس نے حکان کی گردن میں، اپنے بازو حائل کر دیے تھے۔ وہ دونوں اس قدر قریب تھے کہ اس کی سانسیں، حکان کے چہرے کو نرمی سے چھو رہی تھی۔
” تم بس خاص ہو، بےحد خاص شخص۔ اور ہر کہانی کا مرکزی کردار، کوئی خاص شخص ہی ہوتا ہے، کوئی غیر معمولی انسان ۔ کبھی دیکھا ہے کہ کسی عام اور معمولی شخص کی کہانی لکھی گئی ہو؟؟
کیا کبھی کسی کہانی کے مرکزی کردار کو معمولی اور عام دکھایا گیا ہے ؟؟
نہیں!! کیونکہ مرکزی کردار ہر کہانی کا، ایک خاص شخص ہی ہوتا ہے۔ تمہاری کہانی میں مرکزی کردار تم ہو، تم بادشاہ ہو اس کہانی میں اور باقی لوگ، جو خوفزدہ ہیں تم سے، وہ تمہاری رعایا ہے۔ جو تم تک پہنچ تو سکتے نہیں ہیں اور خوفزدہ ہونے کا ڈھونگ رچا کے، خود کو یہ تسلی دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ تم کوئی خوفزدہ کرنے والی چیز ہو لیکن تم سے منسلک تمہاری ملکہ جانتی ہے کہ تم وہ مرکزی کردار ہو جس تک کسی کی رسائی نہیں ہے۔ تو ۔۔۔۔۔۔۔ ”
اکاسمہ نے اسے بیڈ پہ دھکا دیا تھا اور وہ پیچھے جا گرا تھا جبکہ اکاسمہ اس کے سینے پہ دونوں ہاتھ باندھ کے، اس پہ ٹھوڑی رکھ کے، محبت بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
” تو اس مرکزی کردار کو میں تھوڑا مزید سنوار دینا چاہتی ہوں۔ تھوڑا رومینس، تھوڑی مدہوشی، تھوڑی محبت، تھوڑے مبہم سے لمس اور گستاخی بھری سرگوشیاں۔۔۔۔”
” تم مجھے provoke کرنے کی کوشش کر رہی ہو ؟؟”
حکان نے حیران آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ سب بھول کے، اب لمحوں میں قید ہو رہا تھا۔
” کیا تم ہو رہے ہو ؟؟؟ provoke ”
اکاسمہ کی آنکھوں میں شرارت تھی۔
” you … !!!”
حکان اسے مکمل بانہوں میں کھینچ کے، اس پہ جھکا تھا جبکہ وہ اس کی بانہوں میں، خود کو اسے سونپ کے، ہنسنے لگی کہ وہ حکان کو ان بھیانک لمحوں کی قید سے آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ □□□□□□□□□□□□□□□□□
ازمائر ابھی آفس پہنچا تھا۔ اپنے روم میں داخل ہو کے، وہ اپنی سیٹ پہ بیٹھ کے، لیپ ٹاپ کھولنے لگا جب اچانک اسے اپنی ٹانگ پہ کچھ رینگتا محسوس ہوا اور اس نے چونک کے نیچے دیکھا لیکن اسے سیٹ سمیت پیچھے ہونا پڑا ۔
” what the … ”
وہ ششدر ہوتا تقریبا چیخا تھا جبکہ اس کی ٹیبل کے نیچے موجود رخسار آنکھ ونک کرتی مسکرانے لگی۔
” تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟؟”
اس کی آواز میں ناگواری اور حیرانی تھی۔
” میں ایکچوئیلی ۔۔۔۔۔”
وہ بولتے ہوئے ٹیبل کے نیچے سے باہر نکلنے والی تھی جس اچانک دروازے پہ ناک ہوا اور صفدر اندر آیا۔ ازمائر سیٹ سمیت تیزی سے آگے ہوا اور رخسار پھر سے ٹیبل کے نیچے ہی بیٹھ گئی۔ گلا صاف کرتا، ازمائر اب صفدر کو دیکھ رہا تھا جبکہ فائل کھول کے، ٹیبل پہ رکھ کے، اسے ڈیٹیلز بتانے لگا۔
رخسار کی انگلیاں اس کی ٹانگ پہ رینگ رہی تھی جس سے، ازمائر کی توجہ بھٹک رہی تھی لیکن وہ صفدر کے سامنے کچھ کر نہیں پا رہا تھا۔
رخسار کی انگلیوں کا سفر آہستہ آہستہ اوپر کی طرف جا رہا تھا اور اچانک ازمائر زور سے کھانستا، اپنی کنپٹی سہلانے لگا۔ صفدر نے اچھنبے سے اسے دیکھا۔
” سر آڑ یو اوکے ؟؟”
” نو ۔۔۔ آئی مین یس، یس ۔۔ تم یہ فائل یہاں رکھ دو اور جا کے باقی کام کرو، میں دیکھتا ہوں ”
ازمائر نے بمشکل کہتے، اسے دیکھا تھا جبکہ صفدر اسے اچھنبے سے دیکھتا، سر ہلاتا آفس سے باہر نکلا۔ افس سے باہر آتے ہی، بالکونی کے قریب جاتا، وہ ایک نمبر ڈائل کرنے لگا۔
” وہ، ازمائر سر کے آفس میں ہے۔ ”
کال منقطع کر کے وہ اپنی سیٹ پہ جا کے بیٹھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” تم کیا کر رہی ہو رخسار، باہر نکلو یہاں سے ”
ازمائر دانت پیستے غرایا جبکہ رخسار ادا سے اپنے بال جھٹکتی، باہر نکلی اور سنبھلنے کی کوشش میں ازمائر شاہ پہ جا گری۔ جس سے اس کے لب ازمائر کی گردن سے ٹکرائے تھے۔ ازمائر جھنجھلا کے اسے پیچھے کر چکا تھا۔
” کیا کر رہی ہو تم رخسار؟؟؟ تم یہاں کیوں آئی ہو ؟؟”
ازمائر جھنجھلاہٹ بھری آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ جو اس کی ٹیبل پہ چڑھ کے بیٹھ چکی تھی اور ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے، اسے دیکھنے لگی۔ چست جینز سے اس کے ٹانگوں کی ساخت، واضح طور پہ نظر آ رہی تھی جبکہ وہ ٹانگیں ہلاتی ازمائر کو دیکھ رہی تھی۔
” رات کو میرے میسجز کا ریپلائی کیوں نہیں دیا ازمائر ؟؟”
ازمائر کو اس کے رات والے میسجز یاد آئے، اس نے اپنی ویڈیو اور تصاویر بھیجی تھی۔ اس نے اپنے لب بھینچ کے، اسے دھکا دیتے ہوئے ٹیبل سے نیچے اتارا۔
” میں حسام شاہ نہیں ہوں رخسار فاروقی کہ تم مجھے اپنی نازیبا تصویریں بھیج کے، مجھے بہکانے کی کوشش کرو گی۔ تم میرے لئے صرف ایک بیہودہ عورت ہو جو اپنے نفسانی خواہشات کی تسکین کے لئے میرے ہی بھائی کے بیڈ پہ کئی بار گئی اور اسی کے ساتھ مل کے، مجھے اپنے جھوٹے قتل کے الزام میں جیل بھیجا گیا۔ میں بھولا نہیں ہوں اس لئے ۔۔۔۔ ”
رخسار جو اسے سن رہی تھی، اسکی ٹائی تھام کے، اس کے قریب ہوئی تھی۔
” ایسے مت کہو،میں بےوقوف تھی ازمائر شاہ، مجھے معاف کر دو۔ مجھے تم پسند ہو، مجھے بس تمہاری چاہ رہتی ہے۔ پلیز مجھے سمجھنے کی کوشش کرو تم ۔۔۔”
وہ ازمائر کی شرٹ کے بٹن کھولنا چاہتی تھی جب ازمائر نے اسے خود سے دھکا دے کے دور کیا اور اس کے منہ پہ تھپڑ مارا۔
” دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔ رائٹ ناؤ ”
ازمائر تقریبا دھاڑا تھا جبکہ رخسار اسے شاکی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی دھاڑ سن کے، صفدر تیزی سے اندر آیا تھا۔ رخسار کی بکھری بکھری حالت دیکھ کے، وہ حیران سا رک گیا جب ازمائر نے سرخ ہوتی آنکھوں سے صفدر کی طرف دیکھا۔
” باہر کا راستہ دکھاؤ اس عورت کو اور آئندہ یہ میرے افس میں نظر نہ آئے ”
صفدر آگے بڑھا جبکہ رخسار نے اسے ہاتھ اٹھا کر روک دیا اور پھر ازمائر کو دیکھنے لگی۔
” کوئی بات نہیں۔ آج میں نے اپنے کپڑے خود اتارے ہیں، کل تم خود آ کے میرے کپڑے اتارو گے۔ آئی پرامس یو ازما۔۔۔۔۔”
” تم ایسے نہیں سنو گی ۔۔۔”
ازمائر جارحانہ انداز میں، اس کی طرف بڑھتا، اسکا بازو دبوچ کے، اسے آفس کے دروازے تک لایا، دروازہ کھول کے، اسے باہر دھکیل دیا۔
” گیٹ۔۔۔۔ لاسٹ ”
اس کی دھاڑ پہ وہاں موجود اس کے ملازم گردن موڑ موڑ کے دیکھنے لگے جبکہ ازمائر زور سے دروازہ بند کر گیا ۔
” باہر نکالو اس عورت کو اور اگر مجھے دوبارہ وہ یہاں نظر آئی تو میں تمہیں۔۔۔۔۔”
وہ اپنی بات بھی مکمل نہ کر پایا جب آفس کا دروازہ کھول کے، رخسار پھر سے اندر ائی۔ صفدر اسے منہ کھولے دیکھنے لگا جبکہ ازمائر بھی حیران ہوا اس کی ڈھٹائی پہ لیکن وہ لب بھینچ گیا۔
” آج رات میں تمہارے گھر پہ ہی گزاروں گی۔ اٹس آ چیلنج۔ کیونکہ ضد بن چکے ہو اب، روک کے دکھاؤ ”
یہ کہہ کے وہ وہاں سے چلی گئی جبکہ ازمائر اپنی کنپٹی سہلاتا صفدر کو دیکھنے لگا۔ وہ نظریں چراتا باہر نکل گیا۔
■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■
” اتنے ہیوی ڈوز یوز کر رہی ہو اس کے لئے۔ اس کے پاگل ہونے کے چانسز زیادہ ہیں مسفرہ “
پروفیسر حماد اسے دیکھتا کہہ رہا تھا جبکہ وہ لب بھینچے سامنے دیوار کو دیکھ رہی تھی جیسے ایک ہی نقطے کو گھور رہی ہو۔
” وہ پاگل بنے یا مر جائے، مجھے فرق نہیں پڑتا۔ ازمائر شاہ سے میں محبت کرتی ہوں اور بےپناہ محبت کرتی ہوں۔ وہ عورت میری آنکھوں کے سامنے، میرے شوہر کو اپنی ویڈیوز سینڈ کرتی ہے تو کیا لگتا ہے ؟؟ مرد کو بہکنے میں کتنا وقت لگے سکتا ہے ؟؟ جب وہ عورت اس مرد کی بیوی بھی رہ چکی ہو ”
” مسفرہ، کیا معلوم ازمائر کو اس میں دلچسپی ہی نہ ہو ”
پروفیسر حماد نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
” دلچسپی۔۔؟؟ اممم ”
وہ اب سپاٹ نظروں سے پروفیسر حماد کو دیکھ رہی تھی۔
” تو وہ رخسار فاروقی کا نمبر کیوں بلاک نہیں کر رہا؟؟ مجھے دیکھنی ہے ازمائر شاہ کی آخری حد کیا ہے؟ کیا وہ بہک جائے گا ؟؟ کیا وہ بیوفائی کا مرتکب ہو جائے گا ؟ جتنی زیادہ ڈوز لے گی رخسار فاروقی ان میڈیسنز کی، اتنی ہی وہ بےباک ہوتی جائے گی، اور جب وہ بےباک ہو کے، ازمائر شاہ کے قریب جائے گی تبھی میں جان سکوں گی کہ ازمائر شاہ بہک کے بیوفائی کا مرتکب ہوتا ہے یا ۔۔۔۔ ”
اس کی آنکھیں اب سرد انداز میں مسکرا رہی تھی۔
” میں یہ کرنا نہیں چاہ رہی تھی لیکن ازمائر شاہ ہر بار اس کی بےباک ویڈیوز دیکھتا ہے اور اسے بلاک کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ تو ایک بیوی ہونے کے ناطے کیا مجھے شک میں نہیں پڑنا چاہئے ؟؟ کیا مجھے اپنے شوہر کو نہیں آزمانا چاہئے ؟؟”
” یہ بہت خطرناک ہے مسفرہ، اگر ۔۔۔۔ اگر وہ آزمائش میں پورا نہ اترا تو ؟؟”
حماد سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” آپ کو کیا لگتا ہے پروفیسر؟؟ ایک سائیکیٹریسٹ کے پاس کیسے ہتھکنڈے موجود ہیں جو وہ سزا کے طور پہ استعمال کر سکتی ہے ؟؟”
مسفرہ کی سوالیہ نظروں میں چھپی، اس کی نیت کو جان کے، حماد کانپ سا گیا۔ اس کی آنکھوں میں حیرانی آئی اور پھر وہ لب بھینچ کے، گہرا سانس لیتا نظریں پھیر گیا۔
مسفرہ کیا سوچ رہی تھی اور کیا کرنے جا رہی تھی۔۔
ایک قابل سائیکیٹریسٹ اور سائکولوجی ڈپارٹمنٹ کا پروفیسر ہونے کے ناطے وہ سمجھ گیا تھا لیکن یہ کھیل بےحد خطرناک تھا۔ جسے مسفرہ کھیل رہی تھی۔ وہ جوا کھیل رہی تھی جس میں آگے کا علم تو وہ رکھتا تھا لیکن کیا سب پلان کے مطابق ہوگا یا نہیں؟؟ یہ وہ نہیں جانتا تھا یہاں تک کہ مسفرہ بھی نہیں جانتی تھی۔
■■■■■■■■■■■■■■■
وہ جب اپنے آفس میں آئی تو اسے اپنی ٹیبل پہ ایک پیکٹ رکھا ملا۔ اس نے ہاتھ میں موجود اپنا بیگ سائیڈ پہ رکھتے، اچھنبے سے ٹیبل پہ رکھے اس پیکٹ کو دیکھا تھا۔ ہاتھ بڑھا کے اس نے وہ پیکٹ اٹھایا۔
جب سے اس کا اور حکان کا نکاح ہوا تھا تب سے وہ دیکھ رہی تھی کہ اب اسے تنگ کرنے کی کوشش ختم ہو چکی ہے اس لئے اس کا خوف بھی مٹ چکا تھا کیونکہ حکان کی بیوی کو تنگ کرنے کی ہمت کوئی نہیں رکھتا، اتنا تو وہ جان گئی تھی۔
ماتھے پہ بل ڈالے اس نے پیکٹ کھولا تو کچھ تصویریں برآمد ہوئی اس پیکٹ سے، جنہیں دیکھ کے، اس کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی۔
وہ حکان ملک تھا، جس نے بلیک ماسک پہن رکھا تھا لیکن اس کی سرد آنکھوں میں دہشت تھی۔
دوسری تصویر میں وہ خون سے لتھڑا ہوا تھا۔
تیسری میں وہ کسی کو مار رہا تھا۔
چوتھی میں وہ کسی کا سینہ چیر رہا تھا۔
ایسی بہت سی تصاویر۔
وہ حیرت سے دیکھے گئی۔ دل کانپ اٹھا تو ہاتھ بھی کانپنے لگے۔
‘ حکان ملک ؟؟ کون ہو تم ؟؟ ‘
اس کے موبائل پر میسج آیا جسے وہ کھول کے دیکھنے لگی۔
[ کیا تم جانتی ہو کہ عاریز خان کا قاتل کون ہے ؟؟]
اس نے حیرت سے وہ میسج دیکھا تھا۔
[ عاریز خان کے قبر کے قریب ہی، تمہیں ثبوت ملے گا ]
وہ تیزی سے آفس سے نکل کے، سامنے والے آفس کا دروازہ کھول کے اندر گئی۔ جہاں ایرسا کافی لیے موجود تھی۔ زور سے دروازہ کھلنے پہ، اس نے چونک کے اکاسمہ کو دیکھا۔ ٹیبل پہ کافی رکھتے، اس کے ہاتھ کانپے تھے۔
” آؤٹ ۔۔۔۔ ”
اس نے اس قدر بدتمیزی سے دو ٹوک انداز میں کہا کہ حکان کی آنکھوں میں بھی حیرانی آئی تھی۔ وہ لب بھینچے، ایک نظر حکان کو دیکھتی، دروازے کی طرف بڑھنے لگی۔
” کافی بھی لے کے جاؤ یہاں سے “
اکاسمہ کی تیز آواز پہ رک کے، اس نے تیز نظروں سے اکاسمہ کو دیکھا تھا لیکن اکاسمہ نے ابرو اچکا کے، کافی کی طرف اشارہ کیا۔ ایرسا نے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ لی۔ یہ عورت اسے اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ کافی کا کپ اٹھا کے وہ تیزی سے باہر نکل گئی
” اکاسمہ ایسے بات نہیں کرنی چاہیئے تھی تمہیں۔۔۔ وہ یہاں جاب کرتی ہے، وہ تو بس کافی ۔۔۔۔ “
حکان کا جملہ ادھورا رہ گیا جب اکاسمہ نے تیز نظروں سے اسے گھورا۔ قریب آ کے، وہ ہاتھ میں موجود ایک ایک تصویر اس کے سامنے رکھتی گئی جنہیں حکان لب بھینچے دیکھ رہا تھا۔
آخر میں اکاسمہ نے ٹیبل پہ اپنی مخروطی انگلیاں بجائی۔ حکان سر اٹھا کے اسے دیکھنے لگا۔
” کون ہو تم حکان ملک ؟؟”
اس کی آنکھیں سرد اور سوالیہ تھی جبکہ حکان خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” میں تمہیں پہچان کیوں نہیں پا رہی ؟؟ تم ہو کون حکان ملک ؟؟ تم دونوں شخصیتوں کے نہیں بلکہ تم کئی شخصیتوں کا شکار لگتے ہو مجھے۔ وکیل ہونا بھی عام سی بات ہے اور ہیکر ہونا بھی عام سی بات ہے۔ ایسی کیا خاصیت ہے تم میں، کہ تمہیں پہچاننے کا کوئی پہلو مل نہیں رہا مجھے ؟؟؟”
حکان اب بھی خاموش تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایسا تاثر تھا جیسے وہ کچھ بتانا ہی نہ چاہ رہا ہو۔
اکاسمہ کو اس کے یوں دیکھنے سے کوفت ہو رہی تھی لیکن اسے جواب چاہئے تھا۔ وہ دل میں سوالات کا بوجھ لیے نہیں جی سکتی تھی۔
” مجھے ایسے دیکھنا بند کر دو حکان ۔ ”
” مجھے مکمل جان لینے کے بعد کیا تم مجھے چھوڑ دو گی اکاسمہ ؟؟ ”
یہ کیسا سوال تھا؟؟ اکاسمہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔ یہ شخص جب سے ملا تھا اس سے، مکمل پہیلی کے جیسا تھا اس کے لئے۔
خول پہ خول ۔۔۔
ہر شخصیت کے پیچھے چھپی دوسری شخصیت۔
” کون ہو تم ۔۔۔۔ حکان ملک ؟”
اس نے بمشکل اپنا سوال دہرایا تھا لیکن اس کی آنکھیں گہری اور تاریک ہو رہی تھی۔ مقابل کا کیا جواب ہوگا ؟؟ اس کا ٹیبل پہ رکھا ہاتھ ہلکا سا کانپا تھا لیکن وہ مضبوط بنی کھڑی، اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ جواب کی منتظر۔
” بلکل ٹھیک انداز لگایا ہے تم نے، میں کوئی عام انسان نہی ہوں لیکن جس طرح سے ان تصویروں میں تمہیں دکھایا جا رہا ہے، میں اتنا بھی ظالم نہیں ہوں ”
یہ کہہ کے وہ اٹھ کھڑا ہوا جبکہ اکاسمہ سیدھی ہو کے، اب بھی اسے دیکھ رہی تھی۔
” میں ایکزاکیوشنر حکان ملک ہوں اور امریکا کی ایک ٹیم کے لئے کام کرتا ہوں۔ میرا کام برائی کو چیر پھاڑ کے ختم کرنا ہے۔ ”
اس نے آہستہ آہستہ بھاری آواز میں بتایا۔ اکاسمہ کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی لیکن اندر سے وہ پرسکون بھی ہوئی کہ وہ کوئی غیر قانونی کام نہیں کرتا۔
” میری شناخت سیکرٹ ہے اور یہاں لوگوں کے بیچ رہتے ہوئے، میں اپنی شناخت کو اجاگر نہیں کرنا چاہتا۔ کیونکہ سیکرٹ ایجنٹ، سیکرٹ ہی ہوتا ہے۔ میرے دشمن بھی بہت سے ہیں۔۔ جو مجھ پہ وار کرنے کے لئے سرگرداں رہتے ہیں اور یہ تصویریں بھی انہی میں سے کسی نے یہ سوچ کے بھیج دی ہوگی تاکہ تمہیں میرےخلاف کر سکے۔ لیکن ۔۔۔۔۔ میں قانون کے انڈر کام کر رہا ہوں۔۔۔ میں کوئی غیر قانونی شخص۔۔۔۔۔ ”
اس کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی جب اکاسمہ نے اسے گلے لگا لیا۔ حکان ملک لب بھینچ گیا جبکہ اکاسمہ کو بانہوں میں بھر کے، وہ خاموش رہا۔
اکاسمہ اس سے سچ سن کے پرسکون سی ہوئی تھی۔ وہ یہ تصویریں دیکھ کے شاید بہت زیادہ سوچ رہی تھی۔ اس کے دماغ میں عاریز خان کے قتل سے متعلق ثبوت چل رہے تھے۔ وہ خوفزدہ تھی۔ وہ بےحد خوفزدہ تھی۔
لیکن اب وہ پرسکون تھی۔ اسے اب عاریز خان کی قبر پہ جانا تھا یہ دیکھنے کے، کہ کون سا ثبوت رکھا گیا ہے وہاں۔
