Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 44

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 44

صبح اس کی آنکھ کھلی تو دھندلا دھندلا سا، اسے حکان اپنی ٹائی باندھتا نظر آیا۔ گہرا سانس لیتی، وہ مکمل آنکھیں کھول کے، اسے دیکھنے لگی۔ جو سفید شرٹ اور کریم کلر کے پینٹ میں ملبوس، اپنی ٹائی باندھ رہا تھا۔ اس کے بال سلیقے سے بنے ہوئے تھے جبکہ چہرے پہ پرکشش سی مسکراہٹ تھی، ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے رات کے حسین لمحوں کی جھلک، اس کی آنکھوں میں، عکس کی مانند چھا گئی ہو۔
کروٹ لیتی، اکاسمہ مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔ وہ شخص اس کا محرم تھا، جو اب اس کا من پسند شخص بن چکا تھا۔ اس کی قربت میں بتائے حسین لمحوں کی داستان، اس کے نازک وجود پہ جابجا بکھری ہوئی تھی۔ وہ اب بھی حکان کے وجود کی خوشبو، خود میں محسوس کر پا رہی تھی۔
اچانک حکان نے اس کی طرف دیکھا تھا، دونوں کی نظریں ملی اور اکاسمہ کی دھڑکنیں پل بھر میں معدوم ہو کے بکھری تھی۔ حکان کی آنکھوں میں جاذبیت سی اتری تھی اور وہ زیر لب مسکراتا، اکاسمہ کے قریب آ کے، اس پہ جھکا تھا۔
” گڈ مارننگ لو ”
اس کے ماتھے، اپنے لب رکھ کے، گہرا سانس لیتا، وہ اب اکاسمہ کی بوجھل آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
” تم میں تو اب بھی میرے وجود کی خوشبو موجود ہے، اممم دیکھنے دو کیسی لگ رہی ہو ”
شرارتی آنکھوں سے، اکاسمہ کو دیکھتا، وہ اس کے نازک وجود سے کمفرٹر ہٹانے کی ایکٹنگ کرنے لگا جب اکاسمہ نے دونوں ہاتھوں سے، کمفرٹر اپنے وجود کے گرد مضبوطی سے جکڑ کے، اسے شاکی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔
” بلکل بھی نہیں۔ پیچھے ہٹو”
” اوکی”
اس کی گردن پہ جھک کے، اپنی سانسیں بکھیرتا، وہ پیچھے ہوا تھا اور مڑنے لگا جب اکاسمہ نے تیزی سے اس کی ٹائی تھام کے، اسے ہلکا سا اپنی طرف کھینچ گئی جبکہ خود اٹھ کے بیٹھ گئی۔
” کہاں جا رہے ہو ؟؟”
” میں ایک کیس کے سلسلے میں جا رہا ہوں تو اس لئے تم آرام کرو، آفس بلکل بھی نہیں انا، آج کمپلیٹ ریسٹ کرنا گھر پہ رہ کے۔ ”
اس کے بکھرے بال، شہادت کی انگلی سے سنوارتا، وہ گھمبیر آنکھوں سے، اسے حفظ کر رہا تھا جبکہ اکاسمہ اس کے ٹائی کی ناٹ ٹھیک کرنے لگی۔
” اور جب تمہیں مس کرنے لگوں تب کیا کروں ؟؟”
” تب ۔۔۔۔ !!”
اس کے کندھے کی جلد پہ لب رکھ کے، وہ اکاسمہ کو محبت بھرے انداز میں دیکھنے لگا۔
” مجھے اپنی خوبصورت سی تصویر واٹس ایپ کر لینا اور میں بھاگا چلا آؤں گا تمہارے پاس ”
اس کے سادہ سے الفاظ پہ بھی، اکاسمہ کی دھڑکنیں گہرائی میں ڈوب کے ابھری تھی جبکہ چہرے پہ ہزاروں خوبصورت رنگ بکھرے تھے۔
” اب میں جاؤں؟؟”
اکاسمہ نے اس کی سوالیہ آنکھوں میں دیکھا۔ دل نے شہادت دی کہ نہیں، لیکن پھر نظروں کا رخ لبوں کی طرف ہوا اور اس نے جھک کے حکان کے لبوں کے کنارے پہ لب رکھ کے، آنکھیں موند کے، اسے خود میں جذب کیا اور پھر آنکھیں کھول کے اسے دیکھنے لگی۔
” ہاں ۔ ”
حکان نے ڈوبتے دل کے ساتھ اپنی محبت کو دیکھا تھا جو اب اس کی روح میں اترتا کے، اس کے وجود کی تکمیل کر چکی تھی۔
” اپنا خیال رکھنا ”
اس کے لبوں کو جوابی طور پہ، چھوتا وہ اٹھ کے جا چکا ۔ جب دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تب اکاسمہ بھی انگڑائی لیتی، سلوٹوں بھرے بیڈ شیٹ کو دیکھنے لگی جہاں اس کے اور حکان کے محبت بھرے لمحوں کی داستان رقم تھی، نرمی سے سلوٹوں بھرے بیڈ شیٹ پہ ہاتھ پھیرتی، وہ جیسے حکان کو اپنی روح میں محسوس کر رہی تھی، اور پھرمسکراتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
” تم سے لمحہ بھر کی دوری بھی عذاب جاں ہے اب۔ ”
وہ شاور لے کے، تیار ہو کے، آفس جانے کا ارادہ رکھتی تھی۔ اسے یہاں اس گھر میں آرام کی نہیں بلکہ وہاں حکان کے قریب سکون کی ضرورت تھی اب ۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

رخسار پھر سے اس کے کلینک آئی تھی اور اس کے سامنے بیٹھی، مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے مسفرہ اسے سپاٹ نظروں سے دیکھنے میں محو تھی۔ اس کے ذہن کے پردے پہ کل کے لمحے اجاگر ہوئے جب ازمائر نے اس سے کہا کہ رخسار نے اسے اپنی نیم برہنہ تصویر بھیجی ہے۔

مطلب، سامنے بیٹھی یہ عورت، جو اس کے شوہر کی ایکس وائف ہے، اب اس کے شوہر کو اپنی نیم برہنہ تصاویر بھیج کے، یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ مسز مسفرہ ازمائر سے، اس کا شوہر چھین لے گی۔ اس کے لب طنزیہ انداز میں مسکرائے تھے اور پھر سر جھٹک کے، وہ ابرو اچکاتی، سامنے رکھے بوٹ بک کے پیج پہ، کچھ لکھنے لگی اور پھر وہ پیج اس نے، نوٹ بک سے پھاڑ کے، رخسار کی طرف بڑھایا تھا۔

” تمہیں کچھ زیادہ شوق ہے مجھ سے اپنا علاج کروانے کا۔ تو یہ لو، یہ میڈیسنز ہیں، انہیں ٹائم پہ لینا ہوگا تمہیں اور ہر ویک کو، تمہیں یہاں آنا ہوگا”
رخسار نے مسکراتے ہوئے، وہ چٹ مسفرہ کے ہاتھ سے کھینچی تھی۔
” کس دن ؟؟”
” Thursday”
مسفرہ نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا تھا جبکہ رخسار مسکراتی، اٹھ کھڑی ہوئی لیکن پھر کچھ سوچتی، وہ ٹیبل پہ ہاتھ رکھ کے، مسفرہ کی طرف جھک کے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” کلینک یا ۔۔۔۔۔۔ گھر ؟؟”
مسفرہ کا چہرہ تاثرات سے مکمل عاری تھا۔
” میں گھر پہ پیشنٹس چیک نہیں کرتی۔ ”
رخسار ہنسنے لگی۔
” اوہ !!! ویسے۔۔۔۔ ”
اس نے ہاتھ بڑھا کے مسفرہ کی نازک گردن کو چھوا۔
” nice hickeys
ازمائر بھی ناں، اسے اپنی بیوی کی گردن پہ، اپنے محبت بھرے پرتشدد نشان چھوڑنا، بہت پسند ہے ”
رخسار بال جھٹک کے کہتی مسکرانے لگی جبکہ مسفرہ نے لب بھینچ لیے لیکن اس کا چہرہ اب بھی تاثرات سے عاری ہی تھا۔

” have a good day Rukhsar Farooqi”

رخسار ہنستے ہوئے پیچھے ہوئی۔
” bye !! ”
انکھ ویک کرتی وہ مڑی اور دروازے کی طرف بڑھی جبکہ مسفرہ نے اپنا موبائل اٹھا کے نمبر ملایا اور کان سے لگا کے، وہ سرد نظروں سے بند دروازے کو دیکھنے لگی جہاں سے ابھی رخسار باہر گئی تھی۔
” رخسار فاروقی، تمہارے پاس ہی آ رہی ہے، باقی تم جانتے ہو کہ تم نے کیا کرنا ہے ”
کال بند کر کے، وہ اب آرام دہ انداز میں بیٹھ کے، آنکھیں موند گئی۔

رخسار فاروقی!!!
تمہاری شخصیت اب میری مٹھی میں ہے۔
” ahh!! You are really Irritating “

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

دروازے پہ دستک ہوئی۔

” کم ان ”
حکان ملک جو بےحد غور سے لیپ ٹاپ اسکرین کو دیکھ رہا تھا۔ بنا نظر اٹھائے جواب دیتا ہے لیکن منٹ بھی نہیں گزرا تھا جب اچانک اسے اپنی پشت سے، کان کی لو پر گرم سانسوں کا لمس محسوس ہوا، وہ مڑ کے دیکھنا چاہتا تھا لیکن اسے روک دیا گیا۔

” کپ میں ہی کافی ٹھیک ہے یا لبوں سے گھونٹ بھرنا چاہو گے ؟؟”
یہ نرم سرگوشی، لبوں کو مبہم سا لمس، وہ خود کو مزید روک نہ پایا۔
” ڈیم اٹ اکاسمہ ”
وہ تیزی سے سیٹ سمیت مڑ کے، اکاسمہ کو اپنی گود میں بٹھا کے، اسے بانہوں میں بھر چکا تھا۔

” oops, stop provoking me Hakkan Malik “

اکاسمہ اسی کے انداز میں مسکرانے لگی
” shut up … ”
حکان بیتابی سے کہتا، اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا جبکہ اس کے مضبوط ہاتھ، اکاسمہ کی پشت پہ گستاخیاں بکھیر رہے تھے۔
وہ اس قدر تھکن محسوس کر رہا تھا کہ ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کا دماغ مسلسل کام سے جم سا گیا ہے لیکن اکاسمہ کی اچانک آمد نے، اس کے مبہم لمس نے، اس کی سرگوشی نے، جیسے اسے سکون سا بخش دیا تھا۔
اس کے لبوں کو نرمی سے چھوڑتا، وہ اب اکاسمہ کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جہاں ہلکی ہلکی سی سرخی یہ بتا رہی تھی کہ حکان کا شدت بھرا لمس، اسے مدہوش سا کر چکا ہے۔
” تم سے کہا تھا میں نے کہ آرام کرو ویسے ۔ ”
” تو ؟؟ تمہیں میرے یہاں آنے کی کوئی خوشی نہیں ہوئی ؟؟”
وہ پلکیں جھپکا کے سوال کر رہی تھی جبکہ حکان ہارٹ بیٹ مس کرتا، محسوس کر رہا تھا۔
” آنکھوں سے قتل کرنے کا ارادہ رکھتی ہو آج مجھے ؟”
اکاسمہ نے اس کی ٹائی کو نزاکت سے تھامتے،کھینچا تھا۔
” اوہہم، یہ قاتل اور مقتول کا شوق نہیں رکھتی میں…. میں تو بس چاہتی ہوں کہ مل بیٹھ کے، کیس ڈسکس کر لیتے ہیں ”
” کون سا کیس ؟؟”
حکان کی سوالیہ آنکھیں، اسے نظر بھر کے دیکھ رہی تھی جبکہ اکاسمہ جو اس کی گود میں بیٹھی ہوئی تھی، پیچھے ٹیبل سے ٹیک لگا کے، اب ابرو اچکا کے اسے دیکھ رہی تھی۔ حکان سمجھتے ہوئے، زیر لب مسکرانے لگا۔
اچانک دروازہ کھلا اور ایرسا اندر آئی لیکن دونوں کو دیکھ کے، وہ ٹھٹھک کے رک گئی تھی اور حیران آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھنے لگی جبکہ اکاسمہ نے لب بھینچ لیے تھے۔ حکان کی گود سے اتر کے، وہ اب سرد نظروں سے ایرسا کو دیکھ رہی تھی جو اب بھی حکان کو حیران آنکھوں سے دیکھنے میں محو تھی جبکہ حکان کنپٹی سہلاتا، اکاسمہ کو دیکھتا اب ایرسا کو دیکھ رہا تھا۔
” ایم ایکسٹریملی سوری۔ مجھے آئیڈیا نہیں تھا کہ تم دونوں ایسے آفس میں۔۔۔”
ایرسا چونک کے، معذرت کرنے لگی۔
” تبھی کہتے ہیں کہ ہزبینڈ وائف کے آفس میں ناک کر کے انا چاہیے ”
اکاسمہ کا انداز سرد تھا۔ ایرسا چونک کے اسے دیکھنے لگی۔
” تمہارا آفس تو وہاں سامنے ہے ناں اکاسمہ !!!”
” تو ؟؟ یہ میرے ہزبینڈ کا آفس ہے تو سامنے والے آفس سے یہاں آنے میں کون سا سیکنڈ لگتا ہے ؟”
اکاسمہ کو ایرسا نام کی اس عورت سے عجیب کراہیت سے محسوس ہو رہی تھی۔ حکان کھڑا ہوتا، اکاسمہ کی کمر کے گرد، بازو پھیلاتا، اسے اپنے قریب کر چکا تھا۔ ایرسا نے حکان کی اس حرکت کو، بغض بھری نظروں سے دیکھا اور پھر مسکرا کے اکاسمہ کو دیکھنے لگی۔
” آئندہ خیال رکھوں گی۔ سوری ”
لہجہ جس قدر نرم تھا، اکاسمہ کو اسی قدر، اس سے چڑ محسوس ہو رہی تھی۔
” اٹس اوکے ایرسا، کوئی کام تھا کیا ؟؟”
حکان اس ڈر سے کہ کہیں بحث نہ بڑھ جائے، تیزی سے پوچھنے لگا۔
” ارے نہیں حکان، مجھے ایسے نہیں آنا چاہیے تھا، اکاسمہ کو بہت برا لگا اور مجھے بھی بہت برا محسوس ہو رہا ہے، اکاسمہ تمہاری بیوی ہے تو مجھے پرائیویسی کا خیال رکھنا چاہئے تم دونوں کی۔ میں بعد میں آ جاؤں گی”
اکاسمہ نے آنکھیں گھمائی تھی۔ ایرسا باہر نکلی تو اکاسمہ اسے گھورنے لگی۔
” کیا ہوا ؟؟”
حکان سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ سر جھٹک گئی۔
” مجھے بھوک لگی تو لنچ کرنے چلتے ہیں ”
یہ کہہ کے، وہ حکان سے پہلے ہی آگے بڑھ گئی جبکہ حکان اپنا موبائل اٹھاتا، اس کے پیچھے تیزی سے دروازے تک آیا اور پھر دونوں ایک ساتھ ہی، آفس سے باہر نکلے تھے۔ ایرسا اب بھی کوریڈور میں کھڑی، خیام سے کوئی بات کر رہی تھی۔ دونوں پہ نظر پڑی تو رک کے، انہیں دیکھنے لگی۔ اسے یاد ہی نہیں رہا کہ وہ کیا بات کر رہی تھی۔ خیام بھی ان دونوں کو دیکھنے لگا جب اس کی نظر اکاسمہ کے چہرے پہ گئی جہاں ایرسا کو دیکھتے ہوئے،ناپسندیدگی کا اظہار تھا جبکہ آنکھیں بےانتہا سرد تھی۔
خیام چونکا تھا ۔ وہ پھر سے ایرسا کو دیکھنے لگا جو معصوم نظر آنے کی کوشش کرتی، خیام کو دیکھ کے، سر جھکا گئی۔ وہ پھر سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا جو اب حکان کے ساتھ باہر جا چکی تھی۔
” اکاسمہ کو برا لگا جب میں حکان کے آفس میں بنا ناک کے گئی۔ وہ دونوں ایکچوئیلی اپنے مومنٹس انجوائے کر رہے تھے۔ مجھے نہیں جانا چاہئے تھا۔ ”
ایرسا کی آواز پہ خیام اسے دیکھنے لگا۔
” میں نے سوری بھی کیا لیکن شاید اکاسمہ کو میں پسند نہیں آئی زیادہ ”
وہ مزید بولی۔ خیام سر جھٹک گیا۔
” میں اپ کی فائل چیک کر کے، بات کرتا ہوں آپ سے ”
خیام دوسری طرف چلا گیا جبکہ ایرسا لب بھینچ کے، سامنے دروازے کو دیکھنے لگی۔ جہاں سے حکان اور اکاسمہ باہر گئے تھے۔

!♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

ڈنگ!!
کی آواز کے ساتھ ہی، کمپیوٹر کیبورڈ پہ انگلیاں چلاتی مسفرہ رک گئی تھی، ابرو اچکا کے اس نے گھڑی پہ ٹائم دیکھا۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ میسج ٹون کی آواز، ازمائر کے موبائل سے آئی تھی۔
اس نے کن انکھیوں سے دیکھنے کی کوشش کی۔ موبائل اسکرین کو دیکھتے ہوئے، ازمائر کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے۔ لب بھینچے وہ موبائل سائیڈ پہ رکھنے کا سوچ رہا تھا جب کال آنے لگی۔ ٹیبل پہ پڑے پین کو مسفرہ نے اٹھا کے، مضبوطی سے پکڑ لیا تھا جبکہ نظریں مسلسل ازمائر پہ تھی۔
وہ ایک مصنفہ تھی، ایک سائیکیٹریسٹ تھی۔ تبھی اس میں یہ کوالٹی تھی کہ لوگوں کے چہرے دیکھ کے، وہ ان کے جذبات پڑھ لیا کرتی تھی۔ ازمائر نے موبائل سائلنٹ پہ کر کے، سائیڈ پہ رکھ دیا تھا جب نظر مسفرہ پہ گئی جو بےحد پرسکون انداز میں لیپ ٹاپ پہ لکھنے میں مصروف تھی۔
مسفرہ جانتی تھی کہ وہ اسے ہی دیکھ رہا ہے، اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی لیکن چہرہ پرسکون ہی رکھا تھا اس نے۔ وہ ازمائر کو ازمانا چاہتی تھی۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ اس مرد میں کتنی وفا ہے یا شاید یوں کہا جائے کہ وہ جاننا چاہتی تھی کہ کیا اس کے زندگی میں شامل اس مرد میں بیوفائی کا عنصر موجود ہے یا نہیں۔
” تمہارا فون مسلسل بج رہا ہے ازمائر ”
مسفرہ مڑ کے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ کندھے اچکاتا کافی پینے لگا۔
” زیادہ ضروری نہیں ہے ”
” ہمممم !!”

‘ مسئلے کا حل بلاک کرنا بھی ہوتا ہے ازمائر شاہ، لیکن شاید تم یہ حل ازمانا نہیں چاہتے ‘

مسفرہ نے طنزیہ انداز میں سوچا جبکہ نظریں ٹیبل پہ رکھے، مسلسل بجتے موبائل پہ منڈلا رہی تھی۔

‘ رخسار فاروقی، تمہیں مجھ سے الجھنا نہیں چاہئے تھا، شاید تم مجھے جانتی نہیں ہو میں نہ صرف ایک سائیکیٹریسٹ ہوں بلکہ ایک مصنفہ بھی ہوں اور کسی بھی واقعے کو تشکیل دینے میں، میرا دماغ مہارت رکھتا ہے ‘

وہ تلخی سے سوچتی سر جھٹک گئی۔

■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■

” اففف ڈیم اٹ، ڈیم اٹ۔۔۔۔ مجھے ایسے کیوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میرے باڈی پہ چیونٹیاں رینگ رہی ہو ؟؟ آہ!!! ”
وہ زور سے چیخی تھی۔ اس کے وجود میں حرارت بڑھتی جا رہی تھی اور اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اگر اسے ازمائر کی قربت نہ ملی تو وہ مفلوج ہو جائے گی۔ اس نے تیزی سے کپڑے اتار کے، اپنی ویڈیو بنا کے، ازمائر شاہ کو بھیجی تھی۔ وہ شاید اس شخص کو لبھانا چاہتی تھی تاکہ وہ بےچین ہو کے، اس کے پاس آئے لیکن اس نے اپنی برہنہ ویڈیو سینڈ کی، اپنی تصویریں سینڈ کی اور پھر وہ کال کرنے لگی۔ لیکن ازمائر اسے نظرانداز کر رہا تھا۔
وہ زور سے چیختی اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام گئی۔ اس نے یہ میڈیسنز سرچ کی تھی۔ یہ سب ذہنی سکون کے لئے تھا لیکن اسے ہو کیا رہا تھا۔ جب میڈیسنز ہی ٹھیک ہیں تو اسے کیا ہو رہا ہے۔
اس نےتیزی سے شاور کے نیچے جا کے، ٹھنڈا پانی کھول دیا اور آنکھیں بند کر کے، اس کے نیچے کھڑی رہی۔ اس کا دماغ بھاری ہو رہا تھا اور ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ دماغی طور پہ مفلوج ہو جائے گی۔
اس کے موبائل پہ کال آ رہی تھی وہ تیزی سے باہر نکل کے، لاؤنج کی طرف بھاگی تھی اور موبائل کان سے لگا کے بےچین آواز میں ” ہیلو ” کہا۔
” رخسار فاروقی ۔۔۔۔ ”
اجنبی اواز،لیکن بھاری لہجہ۔ جو دل کی گہرائیوں میں اتر جائے۔
” ک ۔۔۔ کون ؟؟”
وہ سر تھام کے وہیں کھڑی رہی۔
” اس اینگل سے تم بہت بھیانک حد تک خوبصورت لگ رہی ہو ”
بھاری لہجہ اس کے کانوں میں اترا اور وہ تیزی سے ادھر ادھر دیکھتی، اپنے گرد ہاتھ لپیٹ گئی۔
” ک ۔۔ کیا مطلب ؟؟ کون ہو تم ؟؟”
” مجنوں، دیوانہ یا پھر addiction ”
اس کی بھاری آواز میں مزید گہرائی محسوس ہو رہی تھی۔
” میں کب سے تمہیں دیکھ رہا ہوں، ہر اینگل سے اپنی ویڈیو بناتی، تصویریں بناتی نہ جانے تم کس قدر میرے دل میں اتر چکی ہو، اس ایک گھنٹے میں کہ ۔۔۔۔ ”
وہ کہہ رہا تھا جبکہ رخسار خوفزدہ آنکھوں سے چاروں طرف دیکھتی، تیزی سے فون پھینک کے، اپنا ڈریس پہننے لگی۔ وہ خوف سے کانپ رہی تھی جبکہ اس کا ذہن ماؤف ہو رہا تھا۔

کون تھا یہ ؟؟

کال دوبارہ آنے لگی۔ رخسار نے ڈرتے ڈرتے موبائل کو دیکھا اور پھر کانپتے ہاتھوں سے جھک کے، موبائل اٹھا کے کان سے لگایا۔
” رخسار ۔۔۔۔ ”
” تم۔۔۔ تمہیں میرا نام کیسے پتہ چلا ؟؟ اور میرا نمبر ؟”
وہ اب سامنے بالکونی کے دروازے کو دیکھ رہی تھی جہاں جالی کے سفید پردے لہرا رہے تھے۔
” تم addiction بن گئی ہو میرے لئے رخسار فاروقی اور میرے لئے اگر کوئی addiction بنتا ہے تو اس کا پتہ لگانا میرے لیے کوئی مشکل کی بات نہیں ہوتی۔ ”
رخسار کانپتے دل کے ساتھ قدم بڑھاتی بالکونی کی طرف جا رہی تھی۔
” کیا تم دیکھ چکی ہو کہ میں کہاں سے تمہیں دیکھ پا رہا تھا۔؟؟”
وہ کہہ رہا تھا۔ رخسار کے چلتے قدم رک گئے۔
” میں کافی دنوں بعد اپنے اپارٹمنٹ آیا اج، موڈ بھی اف تھا لیکن تمہیں دیکھ کے، جیسے سکون سا اتر رہا ہے میرے وجود میں۔ یا نہیں شاید، عجیب آگ سی بھڑک رہی ہے میرے وجود میں، جو مجھے تمہارے قریب آنے کے لئے اکسا رہی ہے اور میں اس جھلستے وجود میں ہی سکون محسوس کر رہا ہوں رخسار فاروقی ”
رخسار نے تیزی سے آگے بڑھ کے بالکونی کا دروازہ کھول دیا اور ادھر ادھر دیکھتی وہ اب سامنے بلڈنگ کو دیکھ رہی تھی جہاں بلکل سامنے اپارٹمنٹ کے گلاس وال کے سامنے ایک بلند قامت شخص کھڑا تھا۔ باہر اندھیرا ہونے کی وجہ سے، وہ ٹھیک سے دیکھ نہیں پا رہی تھی۔

‘ ایک اجنبی شخص، جو ایک گھنٹے کے اندر اندر میرا نام، میرا فون نمبر پتہ کر سکتا ہے تو وہ کوئی عام آدمی نہیں ہو سکتا، وہ بےحد خطرناک بھی ہو سکتا ہے جو کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ کچھ بھی !!’

اس سوچ کے ساتھ ہی، وہ تیزی سے پیچھے مڑ کے، بالکونی کا دروازہ بند کر کے، سفید نٹ کے پردے کھینچ کے، لاؤنج کی لائٹ تک آف کر گئی تھی۔ موبائل بھی اس نے صوفے پہ پھینک دیا تھا اور خود صوفے کے پیچھے جا کے بیٹھ گئی تھی۔ مزید کوئی کال نہیں آئی اب۔

■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■

” گڈ مارننگ لائیر اکاسمہ حکان ملک ”
وہ جو تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف جا رہی تھی جب مردانہ آواز پہ رک کے، مڑی اور اپنے سامنے کھڑے اس اجنبی شخص کو دیکھنے لگی جو پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے، اسے دیکھ رہا تھا۔
” کاووس شاہ کہتے ہیں مجھے ”
اس نے اپنا تعارف کروایا تھا۔ اکاسمہ نے ابرو اچکا کے، اسے ناگوار نظروں سے سر تا پیر دیکھا اور پھر مڑ کے جانے لگی جب کاووس شاہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
” بھائی ہوں میں تمہارا، اور چاہتا ہوں کہ اپنے تمام بہن بھائیوں سے، اپنا رشتہ بہترین انداز میں استوار کر سکوں۔ ”
” دماغ ٹھکانے ہے تمہارا؟؟ بہت دعا کی تھی کہ تم سے سامنا نہ ہو میرا لیکن بدقسمتی دیکھو میری کہ تم سے سامنا ہو گیا۔ ”
اکاسمہ کی آواز تیز تھی جبکہ آنکھوں میں ناگواری تھی۔
” اس قدر بھی نفرت کے قابل نہیں ہوں میں اکاسمہ، میں تم تینوں کی طرح ہی، فیاض حیات کا بیٹا ہوں بلکہ بڑا بیٹا ہوں، تم میری چھوٹی بہن ۔۔۔۔ ”
اس کی آواز میں منت تھی لیکن اکاسمہ نے اس کی بات کاٹ دی۔
” بکواس بند کرو تم، مجھے تمہاری فضول گوئیاں نہیں سننی، تم فیاض حیات کے بیٹے ہوگے لیکن مجھ سے اپنا تعلق بنانے کی کوشش بھی مت کرنا۔ ”
وہ کہہ کے آگے بڑھی جب کاووس شاہ پھر سے اس کے سامنے آ گیا۔
” نفرت نہیں کرو مجھ سے پلیز اکاسمہ، میں ہمیشہ سے چاہتا تھا کہ میری کوئی چھوٹی بہن ہو اور آج۔۔۔۔۔”

” دور رہو میری بیٹی سے ”
اچانک ملکہ کی آواز آئی تھی اور ساتھ ہی کاووس شاہ کو دھکا دیا تھا۔ وہ لڑکھڑایا تھا لیکن پھر سنبھل کے حیران آنکھوں سے، ملکہ کو دیکھنے لگا۔
” سیکنڈ مام ۔۔۔۔ میں”
” شٹ آپ۔۔۔ ”
ملکہ انگلی اٹھا کے اسے وارن کرنے لگی۔
” یہ آپ کے گھر کے پاس کیا کر رہا ہے امی ؟؟ ”
ملکہ نے اکاسمہ کو ہاتھ بڑھا کے، ساتھ لگایا۔
” یہ ذلیل انسان ہمیں جینے کہاں دے سکتا ہے۔ ”
پھر وہ کاووس شاہ کو دیکھنے لگی۔
” میرے بچوں سے دور رہو کاووس شاہ۔ خاص طور پہ میری بیٹی سے۔ ”
” میں بھی آپ کی طرح ہی پیار کرتا ہوں اکاسمہ کو، بڑا بھائی ہونے کے ناطے میں کبھی اکاسمہ پہ آنچ نہیں دینا چاہتا ۔ اکاسمہ مجھ سے ڈرو نہیں پلیز ”
وہ بےحد نرمی سے بات کر رہا تھا جبکہ اکاسمہ نے منہ بنا کے آنکھیں گھمائی تھی۔
” میں تم سے کیوں ڈروں گی کاووس شاہ؟؟ ”
کاووس شاہ لب بھینچ گیا جبکہ ملکہ، اکاسمہ کو لیے آگے بڑھنے لگی۔
” گھر چلو اکاسمہ، عفان خود چھوڑ دے گا تمہیں گھر یا پھر حکان آ جائے گا ”
” نہیں امی، مجھے بہت ضروری کام سے جانا ہے۔ میں اس جیسے دو ٹکے کے آدمی سے نہیں ڈرتی۔ آپ پلیز گھر جائیے ۔۔ ”
اکاسمہ نے رکتے ہوئے کہا جبکہ ملکہ پریشان نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ اچانک ان کی گاڑی کے پاس ایک اور گاڑی آ رہی اور عباس تیزی سے گاڑی سے باہر نکل کے، ان کے قریب آیا تھا۔
” اسلام علیکم، ایم سوری میم۔۔ آپ یہاں اکیلی کیوں آئی ہے اگر حکان سر کو پتہ چل گیا تو مجھ پہ بےحد غصہ ہونگے۔ ”
” کچھ نہیں کہے گا حکان، امی آپ اندر جائیے ۔ یہ عباس ہے، حکان کے لئے کام کرتا ہے۔ میں چلتی ہوں “

عباس سرد نظروں سے، کاووس شاہ کو گھور رہا تھا جبکہ کاووس شاہ لب بھینچے نظریں پھیر گیا اور پھر ان دونوں کے جانے کے بعد بھی، وہ دیر تک وہاں کھڑا رہا جب تک کہ دونوں گاڑیاں اس کی آنکھوں سے اوجھل نہ ہو گئی۔
اس کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے۔ یہ فیملی تو اسے قبول ہی نہیں کر رہی تھی اور فیاض حیات بھی زچ ہو چکا تھا۔ اس کے چہرے پہ مبہم مسکراہٹ ابھری۔ وہ موبائل نکال کے کسی کو کال کرنے لگا اور ساتھ ہی لمبے ڈگ بھرتا، گاڑی کی طرف بڑھنے لگا۔

□□□□□□□□□□□□□□□□□□□

وہ جلدی میں آفس سے نکل رہا تھا جب ایرسا بلکل اچانک پیکڈ کافی ہاتھ میں لیے اس کے سامنے آئی اور کافی اس کی طرف بڑھا دیا۔ حکان رک کے اسے دیکھنے لگا جبکہ وہ مسکرا رہی تھی۔
” کام بہت زیادہ کر لیا تم نے اج، کافی پیو، فریش ہو کے گھر جاؤ تا کہ اکاسمہ کے ساتھ بہترین وقت گزار سکو۔”

حکان نے مسکراتے ہوئے کافی اس کے ہاتھ سے لے لی اور اس کے خلوص بھرے انداز نے، اس کے دماغ کو ہلکا سا کر دیا۔
” تھینک یو ایرسا، ایکچوئیلی۔۔۔”
” اٹس اوکے،میں جانتی ہوں کہ اکاسمہ تم سے بےحد محبت کرتی ہے اور مجھے ناپسند ”
اپنی بات کہہ کے وہ ہنسنے لگی۔
” ایسا نہیں ہے ایرسا، ”
حکان کو سمجھ نہیں آئی کہ کیسے بات کرے لیکن ایرسا نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکا دیے۔
” مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جانتی ہوں کہ اکاسمہ کی محبت تمہارے لیے خالص ہے۔ چلو دیر ہو جائے گی تمہیں۔۔۔ گڈ نائٹ ”
ایرسا کے مسکراتے چہرے کو دیکھتے ہوئے وہ مڑا اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اس نے کافی کا گھونٹ لیا اور ایرسا کے چہرے پہ پراسرار سی مسکراہٹ بکھر گئی۔
وہ اس کافی میں کیا ملا چکی تھی، یہ سوچ کے ہی اس کی آنکھیں چمکنے لگی اور پھر موبائل کان سے لگا کے وہ کہہ رہی تھی۔
” پہلا قدم اٹھ چکا ہے باس “

اس کی چمکتی آنکھیں، گاڑی میں بیٹھے حکان پہ تھی جو اب گاڑی ڈرائیو کرتا آگے بڑھا چکا تھا۔

■■■■■■■■■■■■■■■■■■■

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *