Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 57

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 57

اچانک دروازہ کھلا اور دو نفوس تیزی سے اندر آئے۔ اس نے مسکرا کے دونوں کو دیکھا اور دھڑام سے نیچے گر گئی۔ جب ہوش آیا تو حکان اور فیاض کو اپنے قریب بیٹھے پایا۔ اسے اب درد نہیں ہو رہا تھا۔ وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔
” کیا ہوا تھا مجھے؟؟”

” لیٹی رہو اکاسمہ”
حکان نے دوبارہ اسے لیٹنے میں مدد دی۔

” میں ٹھیک ہوں۔ بابا آپ کب آئے؟؟”
اکاسمہ حیرانی سے فیاض حیات کو دیکھنے لگی جن کا رنگ مکمل سفید پڑ چکا تھا۔ وہ مسکرانے لگے۔
” مجھے اپنی بچی کی یاد ستا رہی تھی۔ تب ہی میں جلدی سے آ گیا۔ ”
فیاض اس کے چہرے پہ ہاتھ پھیرتے کہہ رہے تھے جبکہ وہ پریشان نظروں سے فیاض اور حکان کو دیکھنے لگی۔
” بابا کیا ہوا ہے ؟؟ امی ٹھیک ہے ؟؟ بارز ٹھیک ہے ؟؟ آپ رو رہے ہیں؟؟ حکان کیا ہوا ہے ؟؟”
وہ اب پریشانی سے حکان کو دیکھنے لگی، ساتھ ہی فیاض حیات کا ہاتھ بھی تھام لیا۔
” سب ٹھیک ہیں میرا بچہ۔ بس میں اپنی بچی کو بہت یاد کر رہا تھا۔ اپنی صحت کا خیال رکھو میرا بچہ، اپنا خیال رکھو اور یہ ۔۔۔ ”
وہ اپنی جیب سے، ایک لاکٹ نکال کے، اسے پہنانے لگے۔
” یہ ہمیشہ پہنے رکھو۔ اس میں قرآنی آیات ہیں جو تمہیں ہر بلا اور مصیبت سے محفوظ رکھے گی “

” تھینک یو بابا، لیکن میں تو ٹھیک ہوں”
اکاسمہ اب بھی ناسمجھی سے دونوں کو دیکھ رہی تھئ۔

” اللہ کا شکر ہے کہ میری بچی ٹھیک ہے۔ اللہ تمہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے میری جان ”
فیاض نرمی سے کہہ رہے تھے جبکہ اکاسمہ کا دل گھبرانے لگا۔ اچانک کیا ہوا تھا؟؟ اسے درد ہونے لگا تھا، وہ بےہوش ہو گئی اور اب ؟؟ اس نے گھڑی پہ نظر ڈالی۔رات کے بارہ بج رہے تھے۔ وہ اتنی دیر بےہوش رہی تھی۔
” آپ دونوں مجھے ڈرا رہے ہو۔ مجھے کیا ہوا تھا ؟؟ میں۔۔۔ ”
اس نے سر تھام لیا۔ حکان نے آگے بڑھ کے، اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھے۔
” بس تھوڑا سا چکر آ گیا تھا۔ اب تم ٹھیک ہو اکاسمہ۔ بابا تم سے ملنے آئے تھے تو پریشانی میں یہیں رک گئے ۔ اور کیا بات ہو سکتی ہے۔ تمہیں بھوک لگ رہی ہوگی میں کھانا نکالتا ہوں۔ مل کے کھاتے ہیں ہم تینوں ”
وہ نرمی سے کہہ کے، اب فیاض حیات کو دیکھنے لگا۔
” آپ اکاسمہ کے ساتھ لاؤنج میں آئیے میں تب تک کھانا لگاتا ہوں ۔”
اکاسمہ کو واقع بھوک لگ رہی تھئ۔ تبھی حکان کے جانے کے بعد، وہ بھی فیاض کے ساتھ جانے لگی ۔
” ااس لاکٹ کو خود سے الگ مت کرنا اکاسمہ، وعدہ کرو ”
کمرے سے نکلنے سے پہلے، فیاض رک کے اسے دیکھنے لگے۔ اکاسمہ نے حیرانی سے انہیں دیکھا لیکن کچھ کہے بنا،خاموشی سے سر ہلایا تاکہ اپنے والد کو مطمئن کر سکے کہ وہ جو کہہ رہے ہیں وہی کرے گی۔

□□□□□■■■■■■□□□□□□

” طبیعت کیسی ہے اب ؟”

شاور لے کے باہر نکلی اور سیڑھیاں اترنے کا ارادہ رکھتی وہ اپنے گیلے بالوں میں انگلیاں چلاتی آگے بڑھی جب اسے رکنا پڑا۔آنکھوں میں حیرانی در آئی۔ اس کے قدموں کے قریب سیڑھیوں سرخ گلاب کے پتیوں کی بوچھاڑ کی گئی تھی جو نیچے لاؤنج تک جا رہی تھی۔ مسفرہ لب بھینچے، سر جھٹک کے، نیچے اترنے لگی جیسے ہی نیچے پہہنچی، لاؤنج میں ہلکا میوزک چلنے لگا۔ پہلے تو چونکی اور پھر گہرا سانس لیتی کچن کی طرف بڑھی، اسے پانی پینا تھا لیکن راستے میں اسے رکنا پڑا، کیونکہ ڈائننگ ٹیبل پہ مزیدار کھانا سجا ہوا رکھا گیا تھا کہ دیکھتے ہی اس کی بھوک جاگنے لگی۔ جب نظر پاس کھڑے ازمائر پہ گئی تو لب بھینچ کے،، آنکھیں گھماتی، وہ آگے بڑھی جب ازمائر اس کے سامنے آ گیا۔
” طبیعت کیسی ہے اب ؟؟”

” کیوں؟؟ مجھے کیا ہوا تھا ؟؟”
مسفرہ ابرو اچکا کے پوچھنے لگی جبکہ ازمائر اپنا ماتھا سہلانے لگا۔
” تمہیں آج وومیٹنگ ہوئی تھی تو اس لئے ۔۔۔۔ “

” ہاں یاد ایا، تمہارے بھیجے گئے چاکلیٹس اور پھول دیکھ کے،متلی ہوئی تھئ مجھے ۔”
طنزیہ انداز میں کہتی وہ آگے بڑھی اور پھر رک کے اسے دیکھنے لگی۔۔
” ان پھولوں کو لے جا کے، رخسار فاروقی کے قبر پہ پھینک دو۔ اسے ان کی ضرورت ہیں زیادہ۔ میرے ہاتھوں میں تو ہتھکڑیاں ہی اچھی لگتی ہے کیونکہ میں ایک قاتل ہوں ” ۔
ازمائر لب بھینچ گیا جبکہ مسفرہ رخ موڑ کے کچن کی طرف بڑھ گئی۔ ایک گلاس ٹھنڈا پانی پی کے، اب وہ ریفریجریٹر سے کھانا نکال کے، اپنے لئے گرم کرنے لگی۔ ازمائر وہیں، اس کے پیچھے ایا۔
” کھانا ٹیبل پہ موجود ہیں مسفرہ۔ باسی کھانا کیوں گرم کر رہی ہو ؟؟”
ازمائر نے بےبسی سے کہا جبکہ مسفرہ خاموش رہی اور اپنا کام کرتی رہی۔
” مسفرہ میں کچھ کہہ رہا ہوں ”
ازمائر نے دوبارہ سے کہا۔اس بار وہ قریب ایا۔
” ہاں سن رہی ہوں ”
مسفرہ نے روکھے انداز میں جواب دیتے ہوئے، برنر جلایا جب ازمائر نے ہاتھ آگے بڑھا کے بند کر دیا۔
” کیا بدتمیزی ہے آزمائر شاہ”
مسفرہ اسے سرد جھنجھلائی نظروں سے دیکھنے لگی۔
” مسفرہ کھانا ٹیبل پہ موجود ہیں۔ چلو ساتھ میں کھاتے ہیں ”
ازمائر نے اس کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی جسے مسفرہ نے جھٹک دیا۔
” کیا پتہ، اس میں زہر ملا دیا ہو۔ ”
ازمائر رک کے، اسے حیرت سے دیکھنے لگاا۔
” میں تمہیں زہر دوں گا ؟؟”
جبکہ مسفرہ رخ موڑ کے، پھر سے برنر جلانے لگی۔
” مسفرہ میں اتنا گھٹیا ہوں کیا ؟؟”
ازمائر نے دوبارہ سے کہا۔ آواز میں عجیب یاسیت چھائی ہوئی تھئ۔ مسفرہ سر جھٹک کے اسے دیکھنے لگی۔
” مجھے کھانا ہی نہیں کھانا۔تم کھاؤ سب ”
یہ کہہ کے وہ کچن سے باہر نکلی، ایک سرد نظر کھانے سے سجے ہوئے ٹیبل پہ ڈالی اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔ کمرے میں آ کے، اس نے زور سے دروازہ بند کیا اور اپنے بھوکے پیٹ کا سوچ کے، بیڈ پہ ڈھے گئی۔ اسے سب پہ غصہ آ رہا تھا، ہر چیز پہ غصہ آ رہا تھا، خود پہ غصہ آ رہا تھا ۔ ایک تو نہ جانے ان دنوں اسے بھوک کیوں اتنی زیادہ لگتی تھی کہ ایسے لگتا اگر اُس نے کچھ نہیں کھایا تو شاید گر کے بےہوش ہو جائے۔ گہرا سانس لیتی، وہ آنکھیں موند گئی۔
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا جب نیم غنودگی میں اسے بھوک محسوس ہونے لگی۔ آنکھیں کھول کے، وہ ایک دو سیکنڈ تو چھت کو دیکھنے لگی۔ اپنی جگہ سے اٹھی تو اسے محسوس ہوا کہ اس نے جو شال اپنے گرد لیا تھا، وہ پاس سوئے ازمائر کے بازو کے نیچے دبا ہوا ہے۔ غصہ اس کے اندر امڈا لیکن شال وہیں چھوڑ کے، وہ بیڈ سے نیچے اتری کہ بھوک نے اس کا دماغ تک جیسے ماؤف کر دیا تھا۔
کمرے سے نکل کے، وہ آہستگی سے چلتی، کچن میں آئی اور ریفریجریٹر کھول کے، وہ کل کا بچا ہوا کھانا گرم کرنے کا ارادہ رکھتی تھی، جسے شام کو ازمائر نے گرم ہی نہیں کرنے دیا۔ لیکن وہاں ایسا کوئی کھانا نہیں تھا اور اگر تھا، تو وہی کھانا موجود تھا جو وہ ساتھ لے کے آیا تھا شام کو اور جو ٹیبل پہ سجی ہوئی تھی۔ اس نے غصے سے کھانے کو گھورا لیکن بھوک سے نڈھال ہوتی، وہ وہی کھانا نکال کے،گرم کرنے لگی۔ جب تک کھانا گرم ہونے لگا تب تک مسفرہ اپنا موبائل چیک کرنے لگی جبکہ سیڑھیوں پہ کھڑے ازمائر کے لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
مسفرہ کے جاگنے سے، وہ بھی جاگ گیا تھا اور کچھ سوچتا، اس کے پیچھے ہی آیا لیکن مسفرہ کو کھانا گرم کرتے ہوئے دیکھ کے، وہ وہیں سیڑھیوں پہ رک گیا۔ اس کے لبوں پہ دھیمی مسکان تھی۔

■■■■■■□□□□□□■■■■■■■

وہ عورت چیخ پڑی تھی۔ غصے کی وجہ سے، وہ اپنے بال نوچنے لگی۔ ایک بار پھر سے، اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
” کیوں؟؟ آخر کیوں؟؟”

سامنے رکھا بھاری ڈیکوریشن پیس اٹھا کے، اس نے سامنے لگے قد آدم آئینے کو دے مارا۔ چھناکے کی آواز سے، شیشہ ٹوٹ کے، زمین پہ بکھر گیا ۔
” وہ لڑکی، ہر بار اسے حکان ملک بچا لیتا ہے لیکن اب مجھے کچھ اور عمل کرنا ہوگا۔ مجھے حکان ملک کو ختم کر کے، اکاسمہ تک پہنچنا ہے اب ۔ مجھے فیاض حیات سے بدلہ لینا ہے لیکن اسے میں نقصان نہیں پہنچاؤں گی بلکہ اس کے سامنے، اس سے متعلق ہر شخص کو ختم کر دوں گی۔ فیاض حیات اپنی آنکھوں سے، اپنی بیوی، اپنے بچوں کو ختم ہوتا دیکھے گا اور پھر وہ تنہا رہ جائے گا تب میرے پاس آنے کے سوا، اس کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں ہوگا اور پھر میں اسے اپنی مرضی سے اپناؤں گی۔ اس سے عشق کروں گی اور اپنے برسوں کی تشنگی کو سیراب کروں گی۔ اسے میں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی کیونکہ میں اس سے محبت کرتی ہوں۔ بےانتہا محبت۔ جوگن ہوں میں فیاض حیات کی ۔۔۔ ”
وہ مسکرا رہی تھی جبکہ اس کی آنکھیں بےحد سرد تھی کہ جیسے پتھر کی بن چکی ہو وہ سرد آنکھیں۔ بےرحم آنکھیں۔
کمرے سے نکل کے، وہ اب عفان کو دیکھ رہی تھی جو اپنا ماتھا سہلاتا، موبائل دیکھ رہا تھا۔ زرناب درانی نے لب بھینچے اپنے بیٹے کو دیکھا ۔
” جاؤ اور اس حکان ملک کو موت کے گھاٹ اتارو۔۔ یہاں بیٹھ کے، ماتھا پیٹنے سے تمہیں کچھ نہیں ملے گا عفان ۔۔ ”
عفان چونک کے اسے دیکھنے لگا جس کے چہرے پہ غصے اور نفرت کا اظہار تھا۔ عفان بنا کچھ کہے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ جیسے حواس میں نہیں تھا۔کسی کٹھ پتلی کی طرح وہاں سے نکل کے چلا گیا جبکہ زرناب درانی مٹھیاں بھینچ کے دانت پیسنے لگی ۔

” فیاض حیات۔۔۔۔ اب تمہاری بیٹی کی بربادی میرے لئے ضد بن چکی ہے ”

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اکاسمہ اور حکان جیسے ہی گاڑی سے نیچے اترے تو حکان کو محسوس ہوا کہ دو آدمی ، جو سفید شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوس تھے، ان کے قریب آئے ۔ حکان نے احتیاط سے اکاسمہ کو بانہوں کے گھیرے میں لے کے، اپنے قریب کیا اور ان دونوں کو گھورنے لگا جو نظریں چرا رہے تھے۔

” گڈ مارننگ سر ۔۔۔ گڈ مارننگ میم ”
دونوں نے مؤدب انداز میں سلام کیا لیکن حکان کی تیوری ابھی بھی چڑھی ہوئی تھی۔

” ہم کاووس شاہ کے قابلِ اعتماد آدمی ہیں ۔ ہمیں سر نے میم کی حفاظت کے لئے تعین کیا ہے “

حکان نے مٹھیاں بھینچ لیں۔۔
” کس سے پوچھ کے تعین کیا ہیں ۔ میں شوہر ہوں تمہاری میم کا اور مجھے ان کی حفاظت کرنا آتا ہے ۔ اسلئے جاؤ یہاں سے”

” کاووس سر ناراض ہو جائے گیں ہم سے ”
ان میں سے ایک نے جواب دیا۔ اکاسمہ نے حکان کا ہاتھ تھام کے ، اسے پُرسکون رہنے کا اشارہ کیا۔
” ٹھیک ہے ، آپ دونوں فی الحال یہیں رہیں ۔”
ساتھ میں حکان کو دیکھنے لگی ۔
” اندر چلتے ہیں پلیز ”
حکان سر جھٹک کے، اس کے ساتھ آگے بڑھ گیا ۔
” یہ کاووس شاہ زیادہ اچھل رہا ہے، اس کا کچھ کرنا پڑے گا “

” کیا ہوگیا ہے حکان، وہ بھائی ہے میرا۔ حفاظت کرنے کی کوشش کر رہا ہے اپنی بہن کی۔تو کرنے دو۔ تمہیں کیوں غصہ آ رہا ہے ”
اکاسمہ نے نرمی سے کہنے کی کوشش کی ۔
” پتہ نہیں ۔ ”
وہ ہاتھ چھڑا کے آفس کی طرف بڑھ گیا جبکہ اکاسمہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی ۔ حکان اس قدر غصے میں کیوں تھا۔
” اکاسمہ ۔۔۔۔۔ ”
جانی پہچانی آواز پہ، اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی اور وہ تیزی سے مڑ کے پیچھے دیکھنے لگی جہاں عفان کھڑا اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔ اکاسمہ کو لگا کہ اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی ہو یا جیسے اس کے دل کو کسی نوکیلی چیز سے، پھاڑ کے رکھ دیا گیا ہو۔ گہرا سانس لیتی، وہ خود کو نارمل ظاہر کرنے کی کوشش کرنے لگی۔

” عفان ۔۔۔۔”
اسنے بمشکل اپنی آواز کو نارمل رکھا ۔

” مجھے تم سے کام تھا ۔ کہیں باہر چلتے ہیں ؟”
عفان نے اس کے قریب آتے کہا ۔ اکاسمہ نے بے اختیار نظریں پھیر کے، حکان کے آفس کی طرف دیکھا جس کا دروازہ بند تھا اور پھر عفان کو۔ جو اس کے قریب پہنچ چکا تھا۔ اکاسمہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہوئی کہ اسے محسوس ہوا جیسے سامنے کھڑے عفان کے جسم سے خون کی بو آ رہی ہو ۔
وہ عاریز خان کا قاتل تھا۔ اس شخص کا، جو بےحد قابل پراسیکیوٹر تھا۔ جس نے اپنے کیرئر کا آغاز حال میں کیا تھا لیکن اس شخص سے، آگے بڑھنے کے تمام مواقع چھین لیے گئے۔ وہ شخص بےدردی سے مارا گیا تھا اور اکاسمہ کو اب لگتا تھا کہ عاریز خان کے موت کی زمہ دار وہ خود ہے۔ اگر وہ نہ ہوتی عاریز خان کی زندگی میں۔ تو شاید وہ ژندہ ہوتا آج ۔ وہ اکاسمہ کی وجہ سے، موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا لیکن ۔۔۔۔ اکاسمہ میں ایسا کیا ہے ؟؟ کہ سب اسے ہی مارنے کی کوشش کر رہے ہیں ؟؟ سب اس کے گرد ہی دائرہ تنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ؟؟ کیوں ؟؟
وہ خاموشی سے سوچتی رہی۔ جب عفان کی آواز پہ وہ پھر سے چونکی۔
” کیا سوچ رہی ہو اکاسمہ ؟؟ بھائی کے ساتھ نہیں جانا چاہو گی ؟؟ ”
” ہاں ، بھائی۔۔۔ ہاں، کیوں نہیں ۔ لیکن دوسرے دروازے سے چلتے ہیں ۔ ”
اکاسمہ کہہ کے تیزی سے مڑی۔

” یہاں سے کیوں نہیں ؟؟”
عفان کے سوال پہ وہ اپنی کنپٹی سہلاتی مڑی ۔
” کیونکہ یہاں حکان ملک کے باڈی گارڈ ہمیں ساتھ دیکھے گیں تو سوال بھی کرے گیں، پیچھا بھی اور ہمیں آرام سے بیٹھ کے بات کرنے بھی نہیں دے گیں ”
” ہمممم ۔۔۔ ٹھیک ہے ”
وہ دونوں آگے پیچھے دروازے کی طرف بڑھے ۔ باہر نکل کے، اکاسمہ نے چہرے پہ ماسک لگایا اور عفان کے ساتھ چلنے لگی۔ وہ عفان کے ساتھ جانا چاہتی تھی۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ اس نے کیوں عاریز خان کو مارا ؟۔ کیا دشمنی ہے اس کی اکاسمہ سے ؟؟ کون ہے وہ ؟؟ اس کی اصل حقیقت کیا ہے ؟؟
اسے سب جاننا تھا ۔ وہ جانتی تھی کہ اسے احتیاط سے کام لینا ہوگا کہ عفان کو شک بھی نہ ہو اور اسے جاننے کا موقع مل جائے۔ وہ خاموشی سے عفان کی گاڑی میں بیٹھ گئی اور دوسری طرف سے عفان نے آ کے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔ ایک گہری نظر اکاسمہ پہ ڈالی جو انجان بنی، اسے دیکھ کے مسکرانے لگی۔ عفان نے نظریں چرائی اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔ اکاسمہ نے دھڑکتے دل کو تسلی دی۔ خود کو پُرسکون رہنے کی تلقین کرتی ، وہ سامنے روڈ کو دیکھنے لگی ۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” پریگننسی ٹیسٹ ٹیوب ” ہاتھ میں لیے، وہ پریشانی سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں نم ہونے لگی۔ وہ حاملہ کیسے ہو سکتی ہے ؟؟ ایک ایسے شخص کا بچہ ، اس کی کوکھ میں پل رہا تھا جس سے وہ تو محبت کرتی تھی لیکن وہ شخص اس سے محبت بلکل بھی نہیں کرتا تھا۔۔ جو اپنی سابقہ بیوی سے، ناجائز تعلقات بھی رکھتا تھا۔ کچھ بھی ہو اسے اس بچے کو ختم کرنا تھا ۔ وہ اس منجدھار میں مزید نہیں ڈوبنا چاہتی تھی۔
گہرا سانس لے کے، اس نے وہ ٹیسٹ ٹیوب، باتھروم کے کبرڈ میں چھپا دیا اور اپنے آنسو پیتی، چہرے پہ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار کے، وہ باتھروم سے باہر ائی۔ سامنا ازمائر سے ہوا جو اس کی سرخ ہوتی آنکھوں کو غور سے دیکھ رہا تھا ۔ اکاسمہ نے لب بھینچے رخ پھیر لیا اور آگے بڑھ گئی۔
” میں آفس جارہا ہوں، تمہیں بھی ڈراپ کر دیتا ہوں ”
ازمائر کی آواز نے جیسے اس کے حواس پہ وار کیا ہو تبھی بنا مڑے سرد لہجے میں جواب دیا۔
” کوئی ضرورت نہیں ۔ “

” ساتھ میں، ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ۔تمہیں بار بار وومیٹنگ ہو رہی ہے ۔ تم پریگننٹ تو نہیں ۔۔۔۔ “

اچانک مسفرہ کے ہاتھ سے، اسکا بیگ گر گیا۔ ازمائر کے الفاظ ادھورے رہ گئے جب مسفرہ تیزی سے مڑ کے ، ہذیانی انداز چیخ پڑی۔
” اللہ نہ کرے کہ تم جیسے زانی سے میرا کوئی بچہ ہو ازمائر شاہ “

آزمائر شاہ ساکت پڑ گیا ۔وہ حیرت سے سامنے کھڑی مسفرہ کو دیکھنے لگا جو نفرت بھری آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
” اگر ہوا بھی تو، اس بچے کو ختم کر دوں گی۔ تمہاری گندگی اپنے وجود میں پلنے کبھی نہیں دو گی میں “

وہ مسلسل چیخنے کے بعد، اب ہانپنے لگی تھی ۔ اس کی سانس ناہموار ہو رہی تھی۔ خود کو نارمل کرنے کے لئے، اس نے صوفے کا سہارا لینا چاہا لیکن اس کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا اور وہ چکرا کے نیچے گرنے لگی تھی جب آزمائر نے تیزی سے آگے بڑھ کے اسے بازوؤں میں بھر لیا ۔
” مسفرہ۔۔۔ ”
لیکن وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو کے، آنکھیں موند چکی تھی۔ اس کے چہرے کا رنگ سفید پڑ چکا تھا جبکہ سانسیں بھی دھیمی پڑ چکی تھی۔ وہ مسفرہ کو بانہوں میں اٹھا کے تیزی سے آگے بڑھ گیا تا کہ اسے ہاسپٹل لے جا سکے ۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اس نے کانپتے ہاتھوں سے رپورٹ چیک کیا اور بار بار چیک کیا۔ اس کے آنکھوں کی پتلیاں بھی کانپ رہی تھی۔ ارسام فاروقی اس کا والد تھا لیکن اس کے گناہوں کے اس قدر ثبوت تھے کہ ان میں ایک اور اضافہ بھی ہو چکا تھا۔ وہ اب مزید خاموش نہیں رہ سکتی تھی۔ اب اگر وہ خاموش رہتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ خود گناہوں کے دلدل میں پھنس چکی ہے اور گنہگار کا ساتھ دے رہی ہے۔ اس نے لب بھینچ لیے اور گہرا سانس لیا ۔ خود کو پُرسکون کیا لیکن پھر بھی دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور ہاتھ کانپ رہے تھے۔
وہ فائلز ہاتھ میں لیے، اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ بھاری قدموں کو گھسیٹتی وہ دروازے تک پہنچی، دروازہ کھول کے وہ باہر نکلی تو نظریں باہر کھڑے خیام سے ٹکرائی اور پھر لوٹ آئی ۔ خیام خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا جب وہ من من قدموں سے چلتی، اسکے سامنے کھڑی ہوئی۔ ہاتھ میں پکڑے تمام فائلز خیام کی طرف بڑھائے۔
” یہ۔۔۔۔ یہ ارسام فاروق کے لیے گئے تمام گناہوں کے۔۔۔۔۔ ثبوت ہیں اور وجدان ملک اور ہارون خان کے وہ ثبوت، جس سے پتہ چلتا ہے کہ رخسار فاروقی کے قتل کیس میں ملوث ہیں۔ ”
خیام نے در مکنوں کو دیکھا اور پھر فائلز تھام لیں۔ وہ در مکنوں کی حالت کو سمجھ سکتا تھا۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگا جب در مکنوں نظریں چرا کے مڑی ہی تھی کہ اس کے قدم لڑکھڑا گئے۔ خیام نے عجلت میں آگے بڑھ کے اس کا بازو تھام لیا۔
” در ۔۔۔” ۔

” میں ۔۔۔۔ میں ٹھیک ہوں”
در مکنوں کی آواز بےحد آہستہ تھی کہ بمشکل سنائی دے رہی تھی۔

“۔کہیں بیٹھ کے بات کریں در ؟؟”
خیام پریشان نظروں سے، اس کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھ رہا تھا جبکہ در مکنوں نے نفی میں سر ہلایا۔
” میں کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتی ہوں۔ ”
” در ۔۔۔ ”
” میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ ”
اپنا بازو نرمی سے، خیام کے ہاتھ سے چھڑاتی وہ مڑی لیکن چند قدم چل کے، وہ پھر سے مڑ کے خیام کو دیکھنے لگی ۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔
” کیوں ؟؟ میں ہی کیوں ؟؟ اس پوری دنیا میں ، میں ہی کیوں ؟؟ “

” در۔۔۔۔ ”
خیام نے آگے بڑھ کے اس کندھوں سے تھام لیا۔
” آؤ یہاں بیٹھتے ہیں ”
در مکنوں کو لیے، وہ صوفے کی طرف بڑھا اور اسے صوفے پہ بٹھا کے، خود بھی قریب بیٹھ گیا۔
” در ریلیکس ۔۔۔۔ اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے جو تم خود کو مورد الزام ٹھہراؤ ۔ “

در مکنوں اسے دیکھنے لگی۔ ۔
” میرا قصور اتنا ہے کہ مجھے اس شخص کی بیٹی بنا دیا گیا جو معصوم اور بیگناہ انسانوں کے خون سے رنگا ہوا ہے ۔ جو اس قدر گناہ کر چکا ہے کہ اس کے لئے شاید سزائے موت بھی ناکافی ہوگی۔کاش ۔۔۔۔میں ایک جھونپڑی میں پیدا ہوئی ہوتی ۔ میرا باپ بےحد غریب ہوتا لیکن قاتل نہ ہوتا۔ اس فائل میں تو ۔۔۔۔ اتنے گناہ ثبت ہیں ارسام فاروق کے، کہ تسبیح کے دانوں میں بھی گنتی کی جائے تو کم پڑ جائے۔ اپنے ہی باپ کو گناہوں کے کٹہرے میں دیکھنا کس قدر مشکل ہے یہ کوئی مجھ سے، میرے دل سے پوچھے”
وہ رونے لگی جبکہ خیام نے لب بھینچ لیے۔

” کاش میں ارسام فاروق کی بیٹی نہ ہوتی۔ “

خیام نے اچانک چونک کے اسے دیکھا ۔ اس کی آنکھوں میں الجھن بڑھنے لگی ۔

‘ خیام، میری ایک نہیں دو بیٹیاں تھیں ۔۔ یہ بات میں نے آج تک کسی کو نہیں بتائی۔ ملکہ نے بھی یہ بات اپنے دل میں دفن کر دی ہے۔ آج تک اس نے یاد نہیں کیا، اس بات کو نہیں چھیڑا لیکن آج دل میں عجیب درد سا اٹھ رہا ہے تبھی تم سے شئیر کر رہا ہوں کہ میری ایک بیٹی غائب ہو چکی ہے۔ میں سالوں سے ڈھونڈ رہا ہوں اسے لیکن وہ مل نہیں رہی۔ ‘

اس کے ذہن میں اچانک فیاض حیات کے الفاظ گونجے۔

°°°°°°°°°°°°

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *