Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 02

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 2

اکاسمہ حیات حیران آنکھوں سے اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی جس کے الفاظ پورے کورٹ میں اس کے لئے جگ ہنسائی کی وجہ بن رہے تھے۔ وہ لب بھینچے عندلیب کو غلط بیانی کرتے دیکھ رہی تھی اور پھر اس کی نظر جاوید پہ گئی جو مسکرا کے آنکھ ونک کر گیا تھا ، نظریں اب جج پہ تھی جو جاوید کے حق میں فیصلہ دے رہا تھا ، مطلب ایک سفاک شخص جو ایک معصوم لڑکی کی زندگی برباد کر گیا ، وہ اب آزادی سے سینہ تان کے کراچی کی سڑکوں پہ پھرے گا اور وہ معصوم لڑکی جس کا آدھا چہرہ جھلس چکا تھا وہ بھیگی آنکھوں سے صرف تماشا دیکھے گی اور اپنی موت کا انتظار کرے گی ۔ وہ خاموشی سے اپنی فائلز اٹھا کے باہر جانے لگی ، دماغ سن ہو چکا تھا، اسے کیس ہارنے کا دکھ نہ تھا لیکن اسے دکھ اور غصہ اس لڑکی کے کمزور پڑ جانے کا تھا جو اپنا کیس شروع ہونے سے پہلے ہی ہار گئی تھی ۔
” آداب وکیل صاحبہ ۔ ”
کورٹ کے باہر جاوید مسکراتا اس کے سامنے آ کے آداب بجا لانے کے انداز میں سر خم کیا تھا جبکہ اکاسمہ لب بھینچے اس شخص کو گھور رہی تھی اور وہ مسکرانے لگا ۔
” اتنا غصہ وکیلوں کی صحت کے لئے مضر ہوتا ہے میڈم جی اور ہم تو پھر بےقصور لوگ ہیں جی ۔ جج صاحب نے بھی آزادی کا پروانہ سنا دیا ہمیں۔۔ ”
اکاسمہ ابرو اچکائے سرد نظروں سے اسے دیکھتی اپنے ہاتھ میں موجود پانی کا بوتل کھولنے لگی ، جاوید اور اس کے ساتھ کھڑا اس کا بھائی عادل مسکراتی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہے تھے ، جب اکاسمہ نے جھٹکے سے پانی کا بوتل اس کے منہ پہ پھینکا تھا۔ جاوید پہلے گھبرا کے پیچھے ہوا تھا اور پھر لب بھینچے وہ کڑی نظروں سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا جو پانی اس کے منہ پہ پھینک کے اب خالی بوتل نیچے پھینک چکی تھی۔
” بازی تو اب شروع ہوئی ہے ۔۔۔ تھری ، ٹو ، ون ۔۔۔۔ ”
ہاتھ کی انگلیوں سے چٹکی بجاتی وہ اس کے پہلو سے ہوتی آگے بڑھ گئی تھی جبکہ کورٹ کے اندر جاتے عاریز شازم خان نے رک کے ، نظر بھر کے اس وکیل کو دیکھا تھا جو پہلی ہی نظر میں اسے بےحد بہادر لگی تھی ۔ ابرو اچکا کے اس کے انداز کو سراہتا وہ اندر جا چکا تھا جبکہ اکاسمہ تیز قدم اٹھاتی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی جب اسے رکنا پڑا کیونکہ وہاں عندلیب کھڑی تھی جو بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اکاسمہ بنا اسے کچھ کہے اپنی گاڑی کی طرف بڑھی تھی ۔
” میرے بہن بھائی کو قتل کی دھمکی دے گیا تھا اس کا بھائی ۔ ”
اس کی بھرائی آواز ابھری تھی، اکاسمہ رک کے اسے دیکھنے لگی ۔
” میرے پاس ہے ہی کیا اب کھونے کے لئے ؟؟ لیکن میں اپنی ماں اور دو چھوٹے بہن بھائی کو نہیں کھو سکتی ،اب اتنی ہمت نہیں ہے مجھ میں۔ ”
اکاسمہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی جبکہ وہ نظریں جھکا گئی ۔
” معاف کر دیں میم ۔ ”
ٹوٹے بکھرے لہجے میں کہتی وہ جانے لگی جبکہ اکاسمہ اب بھی خاموش تھی لیکن دل میں طوفان کا سمندر بپھرا پڑا تھا۔
” خوفزدہ ہو کے اپنا بیان بدل لیا اور اس شخص کو ڈھیل دے دی کہ وہ کچھ بھی کرتا پھرے ، اس شہر کو پوچھنے والا ہے ہی کون ؟ ”
عندلیب رک کے اسے دیکھنے لگی ۔
” آپ کے جتنی نہ دولت ہے میرے پاس نہ رتبہ اور نہ اتنی بہادر ہوں میں۔ ”
آنسو اس کا جھلسا ہوا چہرہ بھگو رہے تھے ۔
” انصاف نہیں چاہئے تمہیں اپنے لئے ؟؟”
اکاسمہ کی آواز سپاٹ تھی جبکہ عندلیب نے سر جھٹکا تھا اس کے چہرے پہ ناامیدی کے سائے تھے ۔
” نہیں۔۔ ”
پست آواز میں کہتی وہ منہ موڑ کے جا رہی تھی جبکہ گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑی اکاسمہ اسے جاتا دیکھتی رہی جو جھکے کندھوں کے ساتھ چلتی جا رہی تھی۔انصاف کسے نہیں چاہئے ہوتا ؟؟ سزا کون نہیں دلوانا چاہتا اپنے گنہگار کو ؟؟ لیکن بعض دفعہ ہار جاتا ہے انسان ، اپنوں کے لئے جو اسے بےحد عزیز ہوتے ہیں۔ اس کی نظر پھر سے جاوید کی طرف گئی جو مسکراتی آنکھوں سے اسے ہی دیکھتا روڈ کی طرف جا رہا تھا ، اکاسمہ لب بھینچے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
” اکاسمہ سب ٹھیک ہے؟؟”
خیام نہ جانے کہاں سے آیا تھا بوتل کے جن کی طرح ۔ سر جھٹک کے وہ خیام کو دیکھنے لگی ۔
” ہمممم ، مجھے جج سے ملنا ہے ”
“کیوں ؟؟”
لیکن اس کا سوال نظرانداز کرتی وہ خیام کی طرف دیکھتی آگے بڑھی تھی اور خیام نے بھی اس کے ساتھ ہی قدم آگے بڑھائے تھے ۔
” پاکستان لاء کی ڈان اب کیا کرنے جا رہی ہے ؟”
” اس ایسڈ کی دکان کو میں ہائی کورٹ میں کھینچوں گی ”
دانت پیستے کہتی وہ خیام کے ساتھ تیز قدم اٹھاتی اندر آئی تھی، جب عاریز کی نظر پھر سے اس پہ پڑی تھی جس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔
” اکاسمہ وہ لڑکی اپنا بیان دے چکی ہے ۔ ”
خیام اسے سمجھا رہا تھا جب اکاسمہ نے رک اسے بھرپور گھوری سے نوازا تھا ۔
” تم آ رہے ہو کہ نہیں؟؟”
وہ مسکین سی شکل بنا کے اثبات میں سر ہلانے لگا جب نظر عاریز پہ گئی ۔
” گڈ آفٹر نون Prosecutor ”
اکاسمہ اندر جا چکی تھی جبکہ خیام وہیں رک گیا تھا۔
” گڈ مارننگ کیا ہوا ہے ؟؟”
عاریز کا اشارہ اکاسمہ کی طرف تھا ۔
” مت پوچھیں بھائی پاکستان لاء کی ڈان ہے ۔ ”
خیام ابھی کہہ رہا تھا جب اکاسمہ پھر سے باہر آئی تھی ۔
” آفیسر خیام۔۔ ”
اور وہ تیزی سے سنبھلتا اس کے پیچھے ہی جج کے کمرے میں داخل ہوا تھا جبکہ عاریز زیر لب مسکرا پڑا تھا کہ پہلی ملاقات میں وہ لڑکی اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کر گئی تھی ۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” کچھ نہیں کہا؟؟ ایک لفظ بھی نہیں؟؟”
خیام حیرت سے اپنے سامنے بیٹھی اسوہ کو دیکھ رہا تھا جبکہ وہ کندھے اچکا گئی ۔
” نو سر ، میں نے کئی سوال کیے وہ خاموشی سے مجھے دیکھتی رہی اور پھر اٹھ کے چلی گئی جیسے کوئی بھوت ہو ”
خیام لب بھینچ گیا۔
” عجیب لڑکی ہے ، ایک گھنٹے تک میرا دماغ کھاتی رہی اور پھر چلی بھی گئی ۔ ”
اسوہ خاموش ہی رہی ، جب طیب اندر آیا تھا
“سر ایک مرڈر کیس کی انویسٹیگیشن کے لئے جانا ہے ابھی ابھی اطلاع ملی ہے ۔ ”
” ہممم ”
اثبات میں سر ہلاتا وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا جبکہ طیب اس کے ساتھ چلتا تفصیلات بھی بتا رہا تھا ۔
” ایک عورت کا مرڈر کیا گیا ہے جو ہاؤس وائف بھی ہے اور کسی تیز دھار آلے سے اس کی گردن کو چیر دیا گیا ہے ۔ ”
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ چکے تھے ۔
” اس سے پہلے آپ کو یاد ہو سر ، ایک مرڈر ہوا تھا جو ایک مرد اور عورت کا تھا ، جس انداز سے ان دونوں کا قتل ہوا تھا اسی انداز سے ان دونوں کا بھی قتل ہوا ہے ”
وہ جیسے ہی گاڑی سے اترا تو وہاں موجود پولیس انسپکٹر جمال اسے بتانے لگا ۔
” کیا مطلب ؟؟ قاتل ایک ہی ہے ؟؟”
” سر لگ تو یہی رہا ہے کیونکہ قتل کرنے کا انداز وہی ہے اور ساتھ میں اسے عورت کی تصویر بھی پڑی ملی ہے جس پہ لاسٹ ٹائم کی طرح گردن پہ ریڈ لائن کھینچی گئی ہے اور جس کے پیچھے لکھا ہوا ہے ۔ خط قرمز ”
اس تصویر کو دیکھتا خیام اب اس باڈی کو دیکھ رہا تھا۔ جس پہ واقع وہی نشانات تھے جو پہلے ہوئے قتل کے جسموں پہ تھے ۔
” ہزبینڈ کہاں ہے ؟؟”
وہ اس باڈی کو بغور دیکھتا پوچھ رہا تھا۔
” سر وہ ہیں۔ ”
جمال کے اشارہ کرنے پہ خیام سامنے دیکھنے لگا جہاں وہ شخص سر ہاتھوں پہ گرائے بیٹھا ہوا تھا ۔
” کیا پروگریس ہے ؟”
عاریز خان کی آواز پہ خیام چونک کے کھڑا ہوا تھا جو ابھی ابھی وہاں پہنچا تھا۔ جب خیام نے وہ تصویر اس کے ہاتھ میں دے دی ۔
” قاتل ایک ہی لگ رہا ہے ”
” باڈی کو پوسٹ مارٹم کے لئے لے کے جاؤ اور باقی ٹیم پورے ائیریا کی انویسٹیگیشن کریں۔ جو جو ، جہاں جہاں غیر معمولی بات نظر آئے، پوائنٹ کرتے جائیں ۔ ”
وہ جانچتی نظروں سے پورے گھر کا جائزہ لیتا اپنی ٹیم کو آرڈر دے رہا تھا۔
” اوکے سر۔ ”
ٹیم اپنے کام میں لگ گئی تھی جبکہ عاریز ، خیام کو دیکھنے لگا ۔
” وہ ہزبینڈ ہے اس عورت کا ۔ ”
اس کے دیکھنے پہ خیام بتانے لگا ۔
” ہممم ”
سر اثبات میں ہلاتا وہ خیام کے ساتھ اس شخص کی طرف بڑھا تھا جو ابھی تک حیران و پریشان بیٹھا اس سب کو دیکھ رہا تھا ۔ خیام اور عاریز کے قریب آنے پہ وہ شخص اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
” پتہ چلا سر کس نے کیا ہے میری بیوی کا قتل ؟؟”
عاریز اپنی زیرک نگاہوں سے اس لاؤنج کے کونوں کھدروں کو دیکھ رہا تھا ، بےحد باریکی سے لاؤنج اور پھر لاؤنج سے ملحق کچن اور پھر اوپر جاتی سیڑھیاں اور لاؤنج سے ملحق گلاس وال جو گھر کے پچھلی طرف لان کی طرف کھلتا تھا جبکہ خیام اس شخص سے سوالات کر رہا تھا۔
” اوپر کتنے رومز ہیں؟؟”
اچانک عاریز نے سوال کیا تھا۔
” سر چار کمرے ہیں۔ جن میں تین بیڈ رومز جبکہ ایک اسٹڈی روم ہے ”
اس شخص نے جواب دیا تھا اور عاریز ایک گہری نظر خیام پہ ڈالتا باہر لان کی طرف مڑا تھا جبکہ وہ شخص خاموشی سے اپنے ٹوٹتے بکھرتے گھر کو دیکھ رہا تھا۔ خیام بھی اس کے پیچھے ہی آیا تھا۔
” لاؤنج میں ہیڈن کیمرہ لگا ہوا ہے اور باہر بھی ”
لان کے چاروں اطراف نظر دوڑاتا عاریز کہہ رہا تھا۔
” ہممم وہ کہہ رہا ہے کہ کافی ٹائم سے ڈس ایبل ہے ”
خیام کے کہنے پہ اس نے ایک گہری نظر خیام پہ ڈالی تھی۔
” اتنے بڑے گھر کا مالک ہو کے تمہیں لگتا ہے کہ یہاں کے ہیڈن کیمرے کو لمبے عرصے تک ڈس ایبل رکھا جائے گا ؟؟”
خیام کی آنکھوں میں سوچوں کا تسلسل بنتا گیا جبکہ عاریز کی نظر نیچے پڑے انگوٹھی پہ پڑی تو اپنے پینٹ پاکٹ سے گلوز نکال کے پہننے لگا اور جھک کے وہ انگوٹھی اٹھا کے قریب سے دیکھنے لگا ۔
” پورے سی سی ٹی وی فوٹیج کی ساری انفارمیشن اکھٹی کرو ”
خیام اپنے ہاتھ میں موجود چھوٹے سے پیکٹ میں وہ انگوٹھی لے چکا تھا۔
” یہ شخص کچھ چھپا رہا ہے ۔ ”
خیام سر اثبات میں ہلاتا پیچھے مڑ کے دیکھنے لگا جہاں وہ شخص سائیڈ پہ بیٹھا سب دیکھ رہا تھا ۔چہرے پہ پریشانیوں کا جال بچھا ہوا تھا اور پھر نظر اٹھا کے لاؤنج میں لگے ہیڈن کیمرا کو دیکھا تھا جب عاریز اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے ، اس کے ساتھ اندر آیا تھا۔
” مسٹر اجمل آپ کو کچھ ٹائم کے لئے اس گھر سے کہیں اور شفٹ ہونا پڑے گا ۔ ”
عاریز کے سنجیدگی سے کہنے پہ وہ گڑبڑا گیا ۔
” کیوں سر ؟؟”
وہ جلدی سے کھڑا ہو گیا تھا۔
“کیونکہ انڈر انویسٹیگیشن ہیں یہ گھر اور جب تک ہماری انویسٹیگیشن کمپلیٹ نہیں ہوتی، یہاں کی کسی بھی چیز کو ہاتھ لگانا ممنوع ہے۔”
اپنی بات کہہ کے وہ رکا نہیں تھا بلکہ کچن کی طرف بڑھا تھا جہاں یہ قتل ہوا تھا، خیام بھی ادھر ادھر دیکھتا اس کے پیچھے ہی آیا تھا جبکہ وہ شخص اجمل ان دونوں کو دیکھ رہا تھا جو ہر جگہ اور ہر چیز کو پوائنٹ آؤٹ کر رہے تھے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” آ گئی ہماری وکیل صاحبہ اور بہت ہی زیادہ غصے میں ”
لاؤنج میں بیٹھا عفان ایک شرارتی نظر اس پہ ڈال کے کہنے لگا جبکہ وہ غصے سے سرخ پڑتی اسے گھورنے لگی ۔ ساتھ ہی بارز بیٹھا گیم کھیل رہا تھا ۔
” ایک زبردست قسم کی چیخ مارتی اور انہیں ایسی ہی گھورتی تو قسمے مجال کسی کی جو تمہیں غصہ دلائے۔ ”
وہ پھر سے کہہ رہا تھا ۔
” تم اپنے ہاسپٹل پہ توجہ دو ۔ ”
منہ بنا کے کہتی وہ وہیں صوفے پہ بیٹھ گئی جب ملکہ اندر آئی تھی۔
” آ گئی ، میں کھانا لگاتی ہوں۔ ”
” بھوک نہیں ہے ”
چہرہ اترا ہوا تھا جب فیاض حیات بھی وہیں آئے تھے اور اپنی بیٹی کا اترا چہرہ دیکھنے لگے ۔
” کیا ہوا ہے اج میری بیٹی کو ؟”
اکاسمہ کچھ دیر خاموش رہی اور جب بولی تو آواز میں غصہ تھا۔
” میں اس قانون کے لئے کام کر رہی ہوں ابو ، جو سب انسانوں کے لیے ایک جیسا نہیں ہے ، جس کے کئی روپ اور کئی چہرے ہیں، کئی رنگ ہیں، جو امیر غریب کے لئے ایک جیسا نہیں ہے ، جو طاقتور اور کمزور کے لئے ایک جیسا نہیں ہے ، میں ایسے قانون کے لئے کام کر رہی ہوں۔ کین یو امیجن ”
فیاض حیات لب بھینچے اپنی بیٹی کو دیکھ رہے تھے جس کی آنکھوں میں غصہ تھا لیکن چہرے پہ کرب تھا ۔
” ایک لڑکی کو بھرے بازار میں، ہم جیسے ہی انسانوں کے بیچ تیزاب پھینک دیا جاتا ہے ، اس کے کپڑے پھاڑ دئیے جاتے ہیں اور ان سب کے ایک بیچ سے صرف ایک ہی شخص آگے آتا ہے اس لڑکی کے زخمی وجود کو ڈھانپنے۔ وہ لڑکی اپنے جھلست ہوئے چہرے کی جلن اپنے پورے وجود میں محسوس کرتی ہے ، وہ چلاتی ہے لیکن وہ جلن بڑھتی جاتی ہے اور پھر وہ خود کو مرر میں دیکھتی ہے ، پہلے حیران ہوتی ہے ، پھر اسے vomit فیل ہوتا ہے اپنے چہرے سے ، ڈر جاتی ہے ، خوفزدہ ہو جاتی ہے اس نئے چہرے سے اور پھر وہ چیختی ہے ، چلاتی ہے ۔ اپنے آدھے چہرے کو دیکھنے سے خوفزدہ ہو کے وہ چلاتی ہے ، اس کی ماں گھر کے سارے شیشے چھپا دیتی ہے اور پھر وہ اپنے لئے انصاف چاہتی ہے ، کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے لیکن ابو اسے پھر سے خوفزدہ کر دیا جاتا ہے ، اس بار اس کے چہرے سے نہیں بلکہ ”
اس نے گہرا سانس لیا تھا۔
” انسانوں کے لئے اپنوں کا ڈر کس قدر بھیانک ہے ابو ، بےحد بھیانک، وہ لڑکی بھی خوفزدہ ہو جاتی ہے اور انصاف مانگنا چھوڑ دیتی ہے ۔ اس ملک کے قانون کے آگے ایک کمزور لڑکی ہار جاتی ہے اور وہ ہار جاتی ہے ابو ”
آنسو اس کی انکھ سے چھلکے تھے ، ایک ہی تو شخصیت تھی پوری دنیا میں ، جن کے سامنے وہ اپنے آنسو بہا پاتی تھی اور وہ تھے فیاض حیات۔ انہوں نے اپنی بہادر بیٹی کے سر پہ ہاتھ رکھا تھا۔
” بس یہی ؟؟ اتنی سی ہمت ؟؟ میری بیٹی تو بہادر ہے ، بہت بہادر ۔ زندگی سے اگر رشتے نکل جائیں تو ہم کس قدر نامکمل اور ادھورے ہو جائیں اسی طرح ان رشتوں سے جڑے لفظ زندگی سے نکل جائیں تو زندگی کتنی بدمزہ کھوکھلی اور سنسان سی ہو جائے۔ کیونکہ لفظوں کا ذائقہ بھی ہوتا ہے اور احساس بھی۔ کچھ لفظ میٹھے ہوتے ہیں۔ کچھ کڑوے اور کچھ پُرتاثیر … کچھ الفاظ ایسے بھی ہوتے ہیں جو آپ کو اپنے حصار میں لے لیتے ہیں ۔ وہ لڑکی کمزور اس قانون کے سامنے پڑی لیکن اپنے رشتوں کے آگے وہ مضبوط چٹان بن کے کھڑی ہوئی ہے کیونکہ وہ اپنے رشتوں کو سمیٹنا چاہتی ہے ، ان کے لئے ڈھال بن کے ان کو سمیٹ چکی ہے وہ ۔ ”
اکاسمہ خاموشی سے انہیں سن رہی تھی۔
” تم میری مضبوط، بہادر بیٹی ہو اکاسمہ بچے ، اگر گرنے لگو تو اپنے قدم روکو ، اگر گر جاؤ تو اٹھو، پھر سے گری تو پھر سے اٹھو، قدم روکو لیکن کھبی پیچھے مت لو قدم ۔ یہ ابو تمہارے ہمیشہ تمہارے ساتھ ہے ، جب جب قدم اٹھاؤ اور لگے قدم ڈگمگا رہے ہیں تو اپنی پشت پہ وہ سہارا محسوس کرو گی جسے ابو کہتے ہیں۔ ”
اکاسمہ رو پڑی تھی اور ان کے سینے پہ اپنا سر رکھ دیا تھا ۔ ملکہ کی آنکھیں بھی بھرا گئی تھی جبکہ عفان محبت بھری نظروں سے اپنی بہادر بہن کو دیکھ رہا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

مجھے اپنے ناول کے اس کیریکٹر سے عشق ہو گیا ہے اسماہ ”
وہ کھوئے کھوئے انداز میں کہہ رہی تھی جبکہ اسماہ تاسف بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
” مسفرہ وہ صرف تمہارے ناول کا ایک کیریکٹر ہے جو تمہاری اپنی تخلیق کردہ ہے۔ ”
جبکہ مسفرہ کا انداز اب بھی کھویا ہوا سا تھا۔
” اور وہ کیریکٹر مجھ میں سانس لے رہا ہے ”
” تم یوں کرو کہ لکھنا چھوڑ دو مسفرہ ”
اسماہ ہاتھ جھاڑتی اسے مفت کا مشورہ دے گئی تھی ۔
” نہیں چھوڑ سکتی اسماہ ، کچھ تو ہے ، کوئی تو بات ہے اس کیریکٹر میں ، جو عجیب بےچینی ہو رہی ہے مجھے ، جیسے کچھ تو ہے جو مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہے ”
مسفرہ بےحد الجھی ہوئی اور بےچین تھی ۔
” تمہارا تصور ہے یہ مسفرہ ، بہت زیادہ لکھنے سے تم مطمئن نہیں ہو پا رہی تبھی ۔۔ ”
اسماہ اسے دیکھتی کہہ رہی تھی جبکہ وہ نفی میں سر ہلانے لگی ۔
” مجھے اس کیریکٹر میں سانسیں ڈالنی ہے ، اس کیریکٹر کو سوچنا آسان ہے لیکن اس کو الفاظ دینا بےحد مشکل، اسماہ تمہیں کیا لگتا ہے کہ جیلوں میں جتنے بھی لوگ ہیں جو اپنے مجرم ہونے کی سزا کاٹ رہے ہیں، کیا وہ سب گنہگار ہیں۔ ”
وہ پرسوچ نظروں سے اسے دیکھتی کہہ رہی تھی جبکہ اسماہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” نہیں اسماہ ، وہ سب گنہگار نہیں ہوتے ، ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنے پہ لگے ہوئے الزام کے تحت سزا کاٹ رہے ہوتے ہیں، اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا۔ ”
وہ بےچین سی ہو کے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور اپنی رائٹنگ ٹیبل کی طرف بڑھی تھی جبکہ اس کا ذہن بہت سے سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا ، دل بےطرح دھڑک رہا تھا ، اسے کچھ نیا لکھنا تھا ، بلکل مختلف ، وہ اپنے الفاظ کو پیراہن دینا چاہ رہی تھی، کسی بھی طرح ۔۔۔۔
” م ۔۔۔ مجھے ان کے بارے میں لکھنا ہے ”
” کن کے بارے میں ؟؟”
اسماہ پریشان سی اس کے قریب آئی تھی جبکہ مسفرہ اسے دیکھنے لگی ۔
” ان جیل کی سیلوں میں اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا پانے والے انسانوں کو لکھنا ہے ، انہیں زبان دینا چاہتی ہوں میں، الفاظ دینا چاہتی ہوں۔ ”
” کیوں مسفرہ ؟؟ تم کچھ بھی لکھ سکتی ہو ۔ ان کے بارے میں لکھنے سے کیا ملے گا تمہیں؟؟”
اسماہ نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا جبکہ وہ ہاتھ جھٹک گئی تھی۔
” کیونکہ میرے بابا کو بھی پھانسی کے پھندے پہ جھوٹے الزام کے تحت لے جایا گیا تھا، ان پہ الزامات جھوٹ تھے لیکن ان کی موت ایک تلخ حقیقت ہے جسے میں بند اور کھلی آنکھوں سے دیکھتی ہوں۔ تلخ حقیقت ”
اس کی آنکھیں بھیگ چکی تھی ، اسماہ نے اسے خود سے لگایا تھا، گہرا سانس لیتی وہ مسفرہ کے بال سہلانے لگی کہ وہ کرب آج بھی اس کے وجود میں زندہ تھا ۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆

یہ سیل کا منظر تھا جہاں بہت سے قیدی اپنے جرم کی سزا کاٹتے یہاں رہ رہے تھے ، یہ گھر بن گیا تھا ان کے لئے جیسے ۔ ان میں کچھ مجرم تھے لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو مجرم نہیں تھے بلکہ دوسرے کے کیے کی سزا کاٹ رہے تھے ۔ جبکہ وہ شخص بکھرے بالوں کے ساتھ ایک کونے میں دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا اپنی سوچوں میں گم تھا ، ہلکی ہلکی ڈاڑھی اس کے وجیہہ چہرے پہ جچ رہی تھی لیکن اس کی وجاہت ہی شاید اس کی سزا بن گیا تھا اور وہ مجرم بن کے اس سیل میں قید تھا ، پچھلے چار سال سے وہ اپنی سزا کاٹ رہا تھا لیکن کیوں؟؟ اس کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ بکھری تھی۔
” بھائی آ جاؤ ، چائے پی لیتے ہیں۔”
کوئی اسے بلا رہا تھا اور وہ بنا کچھ کہے اپنی جگہ سے اٹھ کے ان کی طرف آ رہا تھا، ان کے ساتھ ٹیبل کے گرد رکھی کرسیوں میں سے ایک پہ بیٹھا تھا اور وہ لڑکا اس کی طرف چائے اور بسکٹ رکھتا اب اپنے ساتھی کے ساتھ لڈو کھیل رہا تھا۔ جبکہ باقی دو کوئی اخبار پڑھ رہے تھے ۔ ایک شخص نماز پڑھ کے ابھی آیا تھا اور ان کے پاس بیٹھ کے گہرا سانس لیتا کہنے لگا ۔
” اللہ ہم سب پہ رحم کریں اور ہماری مدد فرمائے ”
” امین ۔ ”
سب بہ یک زبان کہنے لگے جبکہ وہ شخص اب بھی خاموش تھا ۔ سردار نام کا وہ شخص اسے دیکھنے لگا ۔
” تم نے آمین نہیں کہا بیٹا؟؟”
سر جھٹک کے وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ سردار کو دیکھنے لگا۔
” آمین۔ ”
” اللہ کی ذات مہربان ہے بیٹا، وہ تمہاری عبادتیں دیکھ رہا ہے ، وہ تمہاری دعائیں سن رہا ہے بس کن کی دیر ہے ۔ ”
سردار کہہ رہا تھا جبکہ وہ شخص پھر سے چائے کے کپ کو خاموشی سے دیکھنے لگا ۔
‘ یہ شخص مجھے ، مجھ سے فزیکل ریلیشن بنا رہا تھا، میری باڈی دیکھو۔’
اور پھر گولی چلی تھی اور سب بدل گیا تھا ۔
14 اکتوبر 2020 ، وہ سیاہ تاریخ جو اس کی ذات کو بھی سیاہ بنا گیا ۔ جو اپنی سیاہی سے اس شخص کو بھی مکمل سیاہ و تاریک کر گیا تھا اور تین سال سے وہ اس سیاہی میں جی رہا تھا ، پہلے وہ وکیل کرنے کی بھی کوشش کرتا رہا، کیس کو ری اوپن کرنے کی بھی کوشش کی لیکن جب کوئی مثبت جواب نہ آیا تو اس نے یہ کوشش ہی چھوڑ دی اور اس کو اپنے نصیب کا لکھا کہہ کے وہ اب خاموش ہو گیا تھا اور اس زندگی کو جی رہا تھا ۔

☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *