Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 11

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 11

” صابرالدین کہاں ہے ؟؟”
خیام آج نیوز کے آفس آیا تھا اور وہاں کے ہیڈ شرجیل ملک سے وہ صابرالدین کا پوچھ رہا تھا کیونکہ ان کا پہلا شک صابرالدین پہ ہی گیا تھا۔
” آفیسر وہ تو آج نہیں آئے اور شام کو بھی جلدی چلے گئے تھے کل ۔ ”
شرجیل کی بات پہ خیام نے لب بھینچے ادھر ادھر دیکھا تھا ۔
” کچھ ہوا ہے آفیسر؟؟”
وہ پھر پوچھ رہا تھا جبکہ خیام پرسوچ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
” اس کا ایڈریس اور فون نمبر ؟؟”
” ابھی دیتا ہوں آپ کو ”
شرجیل ملک نے انٹرکام پہ اپنے سیکرٹری کو اندر بلایا ۔
” یس سر ؟؟”
وہ اندر آئی تھی۔
” آفیسر خیام کو صابرالدین کی ساری ڈیٹیلز چاہیئے تو ان کی ہیلپ کر دیں۔ ”
شرجیل خیام کی طرف اشارہ کرتا اس سے کہہ رہا تھا۔
” اوکے سر ۔ ”
وہ اب خیام کو دیکھ رہی تھی۔
” آئیے سر ۔ ”
خیام اس کے ساتھ کمرے سے باہر نکلا تھا ۔ نمبر اور ایڈریس لے کے وہ تیزی سے آفس سے باہر نکلا تھا اور نمبر اپنے ساتھ چلتے طیب کو دینے لگا ۔
” نمبر کو ٹریس کرو اور پوری انفارمیشن دو مجھے ۔ ”
” اوکے سر ۔ ”
وہ نمبر لے کے تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھا تھا جبکہ خیام موبائل کان سے لگائے اپنی گاڑی کا دروازہ کھولنے لگا ۔
” عاریز کہاں ہو ؟؟ ”
” ریڈ لائٹ ایریا ”
عاریز نے مختصر جواب دیا تھا جبکہ نظریں اس پروسٹیچوٹ کو ڈھونڈ رہی تھی جو کچھ دن پہلے پولیس اسٹیشن آئی تھی۔
” کیوں؟؟”
خیام گاڑی اسٹارٹ کرتا اچھنبے سے پوچھنے لگا۔
” اس پروسٹیچوٹ لڑکی کو ڈھونڈنے، جو اس کے چنگل سے بچ نکلی تھی۔ ”
عاریز اب بھی لب بھینچے چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔
” میں بھی صابرالدین کا ایڈریس لے چکا ہوں اور اب وہیں جا رہا ہوں۔ ”
خیام کی بات سن کے عاریز کال ڈسکنیکٹ کر چکا تھا، لب بھینچے خستہ آنکھوں سے اس نے چاروں طرف دیکھا تھا، وہاں سب موجود تھے لیکن جس کی اسے تلاش تھی وہ عاریز کو کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ کچھ ہی لمحوں میں اسے محسوس ہونے لگا تھا جیسے اس کا وجود جواب دے چکا تھا، تھکے تھکے وجود کو زبردستی کھینچتے وہ آگے بڑھ رہا تھا۔ دماغ بہت سی الجھی سوچوں کا آماجگاہ بن چکا تھا۔ دل میں ایک خوف سا بیٹھ چکا تھا، اکاسمہ کو کھو دینے کا خوف ، اس تک نہ پہنچ پانے کا خوف ۔ دل نے بےاختیار اس کے ٹھیک ہونے کی دعا کی تھی ۔ چلتے چلتے تھکن بڑھنے لگی اس کے اٹھتے قدموں میں، تو وہیں گرا تھا، ہاتھ کی مٹھی بنا کے، اپنے منہ پہ رکھتا، وہ رونے لگا کہ اس کے گرد ہزار سوچیں جنم لے رہی تھی۔ بار بار ہر برے خیال کو جھٹکنے کی کوشش کرتا، وہ گہرے سانس لینے کی کوشش کر رہا تھا۔

☆☆☆▪︎▪︎▪︎¤¤¤▪︎☆☆☆☆☆

” کیسے باپ ہیں آپ ؟؟ بیٹی کو گھر سے نکال دیا ، کہاں بھٹک رہی ہوگی میری بچی ۔ ”
ملکہ رو رہی تھی جبکہ فیاض حیات لب بھینچے ، خود پہ ضبط کے بندھن باندھے بیٹھے ہوئے تھے ۔
” موبائل آف جا رہا ہے اکاسمہ کا ، کہاں ہوگی میری بچی ”
” بس کر دیجئیے ملکہ اور یہ رونے کا شغل کہیں اور جا کے فرمائیے ، جس کے ساتھ یہ گناہ کر چکی ہے آپ کی بچی ، اسی کے پاس ہوگی ۔”
فیاض حیات کے انداز پہ ملکہ پل بھر کے لئے تھم گئی تھی اور انہیں دیکھنے لگی۔
” گناہ نہیں کیا میری بیٹی نے ، حلال حرام کا فرق جانتی ہے وہ ، نکاح کیا ہے اس نے ”
تیز لہجے میں کہہ کے وہ رخ ہی موڑ گئی اور موبائل پہ عاریز خان کا نمبر ڈائل کرنے لگی جو ان کے پاس اکاسمہ نے ہی سیو کیا تھا کہ کھبی ضرورت ہو تو عاریز یا خیام کو کال کر سکتی ہے ۔
” ہیلو ۔ ”
دوسری طرف سے عاریز کی بوجھل آواز ابھری تھی ۔
” ہ ۔۔ ہیلو بیٹا، میں اکاسمہ کی مما بات کر رہی ہوں ”
ملکہ کی آواز پہ عاریز نے اپنے لب بھینچ کے خود پہ ضبط کرنے کی کوشش کی تھی ۔
” بیٹا اکاسمہ آپ کے پاس ہے ؟؟”
فیاض حیات نے گھور کے اپنی بیوی کو دیکھا تھا اور اٹھ کے اپنے کمرے کی طرف جانے لگے ، جب ملکہ کی چیخ پہ وہ پھر سے مڑے تھے اور ملکہ کا سفید پڑتا چہرہ دیکھ کے وہ ان کے قریب آئے تھے ، موبائل ان کے ہاتھ سے چھوٹ کے گر چکا تھا جبکہ وہ خود آنکھوں میں وحشت لیے کانپ رہی تھی۔
” کیا ہوا ہے ملکہ ؟؟”
ملکہ آنکھوں میں وحشت لیے انہیں دیکھ رہی تھی، فیاض حیات نے نیچے گرا موبائل اٹھا کے کان سے لگایا تھا لیکن کال ڈسکنیکٹ ہو چکی تھی، وہ اب اپنی بیوی کو دیکھ رہے تھے ۔
” آ ۔۔۔ آپ کی وجہ سے ہوا ہے سب ، میری بیٹی کھو گئی یے ، کہیں نہیں ہے میری اکاسمہ ، آپ کی وجہ سے ہوا سب ”
وہ چیخی تھی اور ان کا کالر پکڑ لیا تھا جبکہ فیاض حیات کا دل جیسے ڈوب ہی تو گیا تھا ، ان کی بیوی کیا کہہ رہی تھی۔ وہ تیزی سے خیام کو کال کرنے لگے ۔
” اکاسمہ کہاں ہے ؟؟ تم نے ہمیشہ ریسپانسیبلٹی لی تھی اس کی ، کہاں یے وہ اب؟؟”
ان کی آواز کانپ رہی تھی۔
” انکل وہ ، ہم بس پہنچ رہے ہیں اکاسمہ تک ”
خیام نے پریشان لہجے میں جواب دیا تھا جس سے ان کی ہمت مزید جواب دے گئی ۔
” کہاں ہے اکاسمہ ؟”
وہ تقریبا چلائے تھے ۔
” کڈنیپ ہو چکی ہے اکاسمہ ”
اس نے آہستگی سے جواب دیا تھا اور فیاض حیات کے ہاتھ سے موبائل گرا تھا اور وہ خود سر تھام کے بیٹھ گئے تھے ۔ ان کی لاڈلی بیٹی ان کی وجہ سے گم ہو چکی ہے ، اگر وہ اپنی بیٹی کو بےگھر نہ کرتے تو شاید یہ سب بھی نہ ہوتا ۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

بھوک اور پیاس سے نڈھال وہ دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ، جب دروازہ کھلا تھا اور صابرالدین اندر آیا تھا ، چہرے پہ خفیف سی مسکراہٹ تھی جسے اکاسمہ نے نفرت سے دیکھا تھا۔ وہ چلتے اکاسمہ کے قریب ہی آ بیٹھا تھا جبکہ اکاسمہ خود میں سمٹتی اس سے دور ہوتی ، دیوار سے جا لگی تھی اور صابرالدین مسکرا پڑا تھا ۔
” جانتا ہوں ان چھوئی کلی ہو ، ان دوسری عورتوں کی طرح استعمال نہیں ہوئی بار بار ”
اکاسمہ کو اس کے الفاظ سے کراہیت سی محسوس ہوئی تھی جبکہ وہ گہری نظروں سے اس کو دیکھ رہا تھا ۔
” نازک سی ہو ، تبھی بےحد نزاکت برت رہا ہوں، تمہیں بھوک پیاس سے نڈھال کر کے ، تمہیں بےحد تھکا کے ہی اپنا مقصد پورا کروں گا ۔ جانتی ہو کیا چاہتا ہوں تم سے ؟؟”
اس کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ تھی ۔
” تمہارا مرڈر کرنے میں مجھے زیادہ مزہ آئے گا مائی ڈئیر لائیر اکاسمہ ”
وہ سیریل کلر زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ سرسراتی سرگوشی میں کہہ رہا تھا جبکہ اکاسمہ نفرت بھری آنکھوں سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی ۔
” پہلے ریپ اور پھر مرڈر ۔ ”
اکاسمہ اس پہ تھوک گئی تھی ۔
” تمہارے سادہ چہرے کے پیچھے چھپے اس سیاہ چہرے کو میں دیکھ چکی تھی ، کتنی گندگی ہے تمہارے اندر اور کس قدر غلیظ ہو تم، یہ جان کے مجھے بلکل بھی حیرت نہیں ہوئی ، غلاظت کا ڈھیر ”
” اے چپ ”
صابرالدین اس کا چہرہ مٹھی میں دبوچ کے چلایا تھا کہ اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی۔
” غلاظت کا ڈھیر تو تم عورتیں ہو، گناہ ہو تم عورتیں، حرام کی کمائی ہیں تم عورتوں کی، کوئی جسم بیچتی ہے ، کوئی شوہر کو دھوکا دیتی ہے تو کوئی خدا کو، یہ میرا شہر ہے، میرا شہر کراچی، جسے میں صاف کر دوں گا تم جیسی غلیظ عورتوں سے ۔ ”
وہ اکاسمہ کی آنکھوں میں دیکھتا چلا رہا تھا، ایک پل کے لئے اکاسمہ خوف سے کانپ گئی تھی لیکن اگلے لمحے خود کو تسلی دینے لگی کہ اسے اب ہوش و حواس میں رہ کے اس شخص کا مقابلہ کرنا تھا ، وہ خاموش رہی تھی اب کے، جبکہ وہ مسکرانے لگا ۔
” تم بےحد خوبصورت ہو اکاسمہ ”
اس کا ہاتھ اب اکاسمہ کی گردن پہ جا رہا تھا اور وہ سانس روکے صابرالدین کے اس عمل کو دیکھ رہی تھی۔
” میں پہلا مرد ہوں گا جو تمہیں چھوؤں گا اور تمہیں بےحد اچھا محسوس ہوگا ۔ ”
اکاسمہ نے اس کے ہاتھ جھٹکے سے ہٹائے تھے جب صابرالدین نے اس کی گردن دبوچی تھی ۔
” آئندہ میرا ہاتھ جھٹکنے کی کوشش بھی نہیں کرنا، میں ظالم نہیں بننا چاہتا تمہارے لئے ”
اکاسمہ کسمسا کے رہ گئی اور پھر صابرالدین اس کی گردن چھوڑ کے پیچھے ہوا تھا ۔
” بس تھوڑا اور ، جب نڈھال ہو جاؤ مکمل ، تب تمہاری خواہش پوری کروں گا میں، جانتا ہوں کتنا تڑپ رہی ہوگی تم میری قربت کے لئے، ہے ناں؟”
اکاسمہ خاموشی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی، اپنے حواس قائم رکھتی وہ کوئی حرکت بھی نہیں کر رہی تھی اور پھر وہ اٹھ کے کمرے سے نکل گیا تھا ، اکاسمہ نے اپنی روکی ہوئی سانس خارج کی تھی۔ اس کے حواسوں پہ خوف چھا رہا تھا لیکن وہ خود کو خوف کے اس گھٹن سے باہر نکالنے کوشش کرتی ادھر ادھر دیکھنے لگی، وہاں سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا اسے، صرف ایک روشندان تھا اس نیم تاریک کمرے میں، جہاں سے ہلکی ہلکی روشنی آ رہی تھی ۔ تھک کے اس نے سر کی پشت دیوار سے لگا کے آنکھیں موند لی تھی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دن سے شام اور شام سے رات ہو رہی تھی لیکن اس قدر ڈھونڈنے کے باوجود بھی کوئی سرا ہاتھ نہ آیا تھا کہ جس سے اکاسمہ کا پتہ لگا سکتے۔ گاڑی ایک ویران سڑک پر روک کے عاریز تیزی سے باہر نکلا تھا کہ دم گھٹ رہا تھا اور دل کانپ رہا تھا، اکاسمہ اس کی منکوحہ، وہ عورت جو اس کی محبت بن چکی ہے، جو اسے خود سے بھی زیادہ عزیز ہو چکی تھی، وہ غائب ہے، کہیں نہیں ہے، کہاں ڈھونڈے اسے ؟ کوئی سرا؟ کوئی سراغ؟ کچھ بھی نہیں تھا جو اسے اکاسمہ تک پہنچا سکتا ۔ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا وہ چاروں طرف دیکھ رہا تھا ، آنکھوں میں نمی کا تاثر نمایاں تھا، سینے کو ہاتھ سے مسلتا وہ لب بھینچے اپنے امڈتے آنسوؤں کو روک رہا تھا ۔
” اکاسمہ کہاں ہو تم ، کہاں ڈھونڈوں میں تمہیں؟؟ کہاں؟؟ کوئی سرا ؟؟ کوئی تو نشانی ملے جہاں تمہیں مل سکوں میں، کہاں؟؟”
وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھام کے وہیں گھٹنوں کے بل گرا تھا۔ ذہن عجیب سوچوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ کون تھا وہ ؟؟ سیریل کلر یا کوئی اور ؟؟ اکاسمہ کو اغوا کرنے کا مقصد کیا تھا اس کا ؟؟ گہرا سانس لیتا وہ سر جھٹک کے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔ کچھ تو ہے جہاں اس کا ذہن نہیں پہنچ پا رہا تھا لیکن اسے اس نقطے تک پہنچنا تھا تبھی اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنا تمرکز متوازن کر سکے ۔ تیزی سے گاڑی کا ڈور کھول کے بیٹھ کے اس نے گاڑی اسٹارٹ کر دی تھی۔ ساتھ ہی اس نے خیام کو کال کی تھی۔
” ہیلو عاریز ”
” کہاں ہو ؟؟ ”
عاریز نے سڑک پہ نظر دوڑاتے پوچھا تھا ۔
” پولیس اسٹیشن ”
خیام کے جواب پہ اس نے ہنکارا بھرا تھا۔
” اج کی ساری اکھٹی کی ہوئی رپورٹس کو اکھٹا کر کے رکھو ، میں پہنچ رہا ہوں ابھی ، کوئی کلیو ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پوشیدہ رہ گئی ہے ۔ ”
” اوکے عاریز ۔ ”
کال ڈسکنیکٹ کرتا عاریز گہرا سانس لیتا، اپنی آنکھوں کو ہاتھ کی انگلیوں سے مسلنے لگا۔
” میں تمہیں ڈھونڈ لوں گا اکاسمہ۔ ”
اپنے کمزور پڑتے اعصاب کو سنبھالتے اس نے خود سے مضبوط لہجے میں کہنے کی کوشش کی تھی ۔

☆☆☆☆☆★☆☆☆☆☆☆

اس کی دنیا اندھیر ہو چکی تھی، اس کی پوری زندگی کو جلا کے راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا تھا۔ اسے انصاف تو نہیں ملا تھا لیکن اس کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کی پوری زندگی کو بھی ریپ وکٹم بنا دیا گیا تھا۔
” میری دنیا اندھیر کر کے رکھ دی تو نے ، میرے کو انصاف نہ ملا، میرے کو انصاف نہ ملا، میں خود دوں گی اپنے کو انصاف، میرے کو معلوم کہ کیسے انصاف ملے گی میرے کو۔ ”
دانت پیستی وہ خود سے کہہ رہی تھی، اپنے بکھرے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹتی وہ لڑکھڑاتے قدموں اٹھ کھڑی ہوئی تھی، اس کے گندمی چہرے پہ انتقام کی آگ جل رہی تھی ، وہ ان آنکھوں کو پہنچانتی تھی جو اس رات اس نے بےحد قریب سے دیکھی تھی، ان آنکھوں کی وحشت، درندگی اب تک اسے یاد تھی۔
” میں پہچان لے گی تیرے کو ، میں ضرور ضرور پہچانے گی تیرے کو۔ ”
دانت پیستی کہتی وہ اس راکھ کے ڈھیر سے گزر کے آگے بڑھ رہی تھی، اس بستی کا کوئی بھی انسان اس کے قریب نہیں آیا تھا، نہ اس کی طرف مدد کے لئے ہاتھ بڑھایا تھا، سب نظریں چرا رہے تھے جیسے اس کو جانتے ہی نہ ہو، فائر بریگیڈ نے آ کے اگ بجھائی تھی لیکن تب جب سب راکھ کا ڈھیر بن چکا تھا اور اس وجود کی طرف کسی نے نگاہ غلط بھی نہ ڈالی تھی، نہ اس کے زخموں کا کسی نے پوچھا تھا جو آگ سے اپنی ماں اور بہنوں کو بچانے کی خاطر لگا تھا، نہ کسی نے تسلی کے دو بول بولے تھے اس کے پاس رک کے اور نہ کسی نے اس کے کندھے پہ اپنا مہربان ہاتھ رکھا تھا کیونکہ وہ مکمل انسان نہیں تھا، بلکہ وہ تیسری مخلوق تھی جس کو کوئی دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا اور اب وہی تیسری مخلوق خود اپنے لئے انصاف ڈھونڈنے نکلی تھی ۔

☆☆☆☆☆★☆☆☆★☆☆☆☆

” و۔۔۔وجدان یہ سب کیا ہے ؟؟”
رخسار فاروقی خوفزدہ آنکھوں سمیت چلائی تھی جبکہ وجدان ملک اچھنبے سے اسے دیکھنے لگا۔
” چیخ کیوں رہی ہو ؟ کیا ہوا ہے ؟؟”
جبکہ رخسار نے اپنا موبائل اس کے ہاتھ میں دیا تھا اور خود منہ پہ ہاتھ رکھ کے، بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ وجدان ملک کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی۔ اس نے حیرت سے پہلے رخسار کو دیکھا تھا اور پھر نظریں موبائل اسکرین پہ آ رکی تھی۔
” یہ سب ؟؟”
وہ رخسار کی ویڈیو تھی جس میں اسے زندہ قبر میں ڈالا جا رہا تھا جبکہ ساتھ میں آکسیجن ماسک رکھا گیا تھا تاکہ مٹی کے نیچے اس کی سانس بند نہ ہو پائے اور جو شخص اس کا ساتھ دے رہا تھا وہ حسام شاہ تھا، ازمائر شاہ کابھائی، جس کے ساتھ رخسار کے جنسی تعلقات تھے لیکن یہ ویڈیو کس نے بنائی ہے ؟؟ وہ یہی سوچتی رہی ۔ دوسری ویڈیو اس کی اور حسام شاہ کی تھی، جس میں دونوں اپنی حدیں پار کرتے ہوئے، ایک اپنے شوہر کو دھوکا دے رہا تھا تو دوسرا اپنے ہی بھائی کو۔
” یہ ۔۔۔ یہ و ۔۔۔ ویڈیو، و۔۔۔ وہاں تو کوئی کیمرہ نہیں تھا تو یہ ویڈیو ”
” تم حسام شاہ کے ساتھ فزیکل تھی رخسار؟؟ مجھے یقین نہیں آ رہا ”
وجدان ملک موبائل صوفے پہ پھینکتا اسے دیکھ رہا تھا جبکہ رخسار رونا بھول کے، اسے لب بھینچے دیکھ رہی تھی جب بلکل اچانک وجدان ملک ہنسنے لگا تھا۔
” کیا چیز ہو تم، سب کو دستیاب تھی بس ہمیں ہی نہ ملی تم”
” شٹ آپ ”
وہ غرائی تھی جبکہ وجدان ملک رک کے اسے دیکھنے لگا۔
” تم اس پوزیشن میں نہیں ہو رخسار، کہ مجھ پہ غراؤ”
وجدان ملک کے دانت پیسنے پہ، وہ خاموش ہو کے ادھر ادھر دیکھنے لگی جب اس کے موبائل پہ پھر سے میسج آیا تھا اور وہ تیزی سے لپکی تھی موبائل لینے جبکہ بھنویں اچکائے وجدان ملک اسے دیکھ رہا تھا اور رخسار کے چہرے پہ خوف پھیلنے لگا تھا ۔۔
” یہ ۔۔۔ یہ ”
موبائل اس کے ہاتھ سے گرنے لگا تھا جسے وجدان ملک نے تیزی سے آگے بڑھ کے تھاما تھا اور ویڈیو دیکھنے لگا جس میں رخسار بلیک منی ٹرانسفر کے لئے، ایک بلیک ماسک والے شخص سے بات کر رہی تھی جبکہ وہ سر تھام کے وہیں بیٹھ گئی کیونکہ اس کی ٹانگیں جواب دینے لگی جب وجدان ملک نے وہ وائس نوٹ اوپن کیا تھا اور ایک بھاری اواز گونجی تھی۔
” رخسار فاروقی آہ، وجدان ملک کو بھی پھنسانے کا وقت ابھی نہیں آیا، اس سے کہو تیار رہے ”
وجدان ملک نے تیزی سے موبائل صوفے پہ پھینکا تھا اور گھبرائے انداز میں رخسار کو دیکھنے لگا۔
” یہ کیا بکواس ہے؟”
لہجے میں خوف بھری غراہٹ تھی جبکہ رخسار رک کے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
” ک ۔۔۔ کون پھنسا رہا ہے مجھے، کون ہے یہ؟ مجھے یہاں نہیں رکنا”
وہ تیزی سے باہر کی طرف جانے لگا جب رخسار نے اسے روکا تھا۔
” کہاں جا رہے ہو”
اس نے تیزی سے وجدان کا بازو جھپٹا تھا جبکہ وجدان نے اپنا بازو اس کی گرفت سے چھڑا کے، اسے دھکا دیا تھا۔
” پیچھے رہو تم، میں تمہیں نہیں جانتا، خود تو پھنسو گی، ساتھ میں مجھے بھی پھنساؤ گی۔ مجھ سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے”
وہ تیزی سے باہر نکلا تھا جبکہ رخسار خوفزدہ آنکھوں سے چاروں طرف دیکھنے لگی، اسے اس گھر کے درودیوار سے بھی خوف محسوس ہو رہا تھا۔ کوئی تھا جو اس کی زندگی ہیک کر رہا تھا لیکن کون ؟؟

☆☆☆☆☆☆☆▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆☆☆☆

” میں یہ سب نہیں کر سکتا ، میں یہ سب نہیں کر پا رہا ، یہ ۔۔۔ یہ مجھے ختم کر رہا ہے، یہ سب ۔۔ ”
وہ روتے ہوئے دونوں سر ہاتھوں میں تھام چکا تھا اور پھوٹ پھوٹ کے رو رہا تھا۔ وہاں موجود رابی نام کی لڑکی بھی خود کو دونوں بازوؤں سے ڈھانپتی کانپ رہی تھی۔
” م ۔۔۔میں ک ۔۔ کیسے یہاں پہنچی ؟؟ میں ک ۔۔ کیسے خود کو نکالوں اس، اس ڈارک ویب کی دنیا سے باہر، اگر میری ویڈیو میری فیملی تک پہنچ گئی تو ؟؟ ”
آنکھوں میں آنسو لیے وہ ایک ہی نقطے کو گھور رہی تھی جبکہ عمر نظریں چراتا اسے دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا، وہ تو خود سے بھی نظریں نہیں ملا پا رہا تھا یہ سب کرنے کے بعد۔ اس کی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح چلنے لگے تھے وہ مناظر، جب وہ رابی کے کمرے میں آیا تھا، کانپتے ہاتھوں رابی نے کھڑکیوں پہ پردے گرائے تھے ، کمرے میں سرخ رنگ کی روشنی پھیلی تھی، کمپیوٹر اپنے سسٹم کے مطابق روشن ہوا تھا۔ وہ بھیگی اور سہمی آنکھوں سے اپنے مقابل کھڑے عمر کو دیکھ رہی تھی جو لب بھینچے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
” you can save yourself by following my orders. ”
دونوں نے ڈرتے ڈرتے اس کمپیوٹر کی طرف دیکھا تھا۔ آنکھوں میں آس تھی رابی کے، لیکن وقت بہت آگے نکل چکا تھا ان کے ہاتھ سے ۔
” come on let’s have fun but remember your act should be according to our rules. ”
بھاری اواز پھر سے گونجی تھی۔ وہ پھر سے عمر کو دیکھنے لگی۔ کمرے میں میوزک پلیئر آن ہو چکا تھا۔ عمر قدم اٹھاتا اس کے قریب ہوا تھا اور ہاتھ میں موجود ٹیبلٹ اس کی طرف بڑھائی تھی ۔ کانپتے ہاتھوں سے ٹیبلٹ اس کے ہاتھ سے لیتی وہ اپنی زبان پہ رکھ کے نگلنے کی کوشش کرنے لگی اور ویسے ہی عمر نے وہ ٹیبلٹ نگلنے کی کوشش کی تھی اور پھر سکینڈز کا کھیل تھا۔ وہ ایکدوسرے کے وجود سے لپٹ چکے تھے اور پھر ان کراہیت بھرے لمحوں کا آغاز ہوا تھا جو کمپیوٹر کی آنکھ میں محفوظ ہو رہا تھا ۔
” ایم سوری رابی ۔ ”
عمر کی آواز پہ رابی اپنی سوچوں سے باہر نکلی تھی اور بھیگی خوفزدہ آنکھوں سے عمر کو دیکھنے لگی۔
” ایم سوری رابی ، آئی پرامس یو ، کل کو کچھ بھی ہوا میں تمہارا ہاتھ نہیں چھوڑوں گا، آئی پرامس یو ۔ ”
بارز اپنے بال نوچنے لگا تھا ۔ نشہ اس کے حواسوں پہ چھا رہا تھا، پورے وجود میں نشہ سرایت کرتا اس کے حواس سلب کر رہا تھا۔ انس کے چلانے پہ سب نے تیزی سے اوپر کی طرف دیکھا تھا جہاں اسفر اس دس منزلہ عمارت کے اوپری منزل پہ کھڑا نیچے دیکھ رہا تھا ۔ وہ رو رہا تھا ۔
” اسفر کیا کر رہا ہے تو ؟ نیچے آ ”
عمر اپنی جگہ سے اٹھ کے تیزی سے آگے بڑھا تھا ۔
” نہیں۔۔۔ تم سب بھی مارے جاؤ گیں۔ ایسے ہی سب ختم کر دئیے جاؤ گیں۔ ”
وہ چلایا تھا ۔آواز بمشکل سنائی دے رہی تھی لیکن وہ سننے کی کوشش کر رہے تھے ۔
” عمر ۔۔ عمر پلیز ک ۔۔۔ کچھ کرو ”
رابی حواس باختہ سی رونے لگی تھی ۔ عمر کے کندھے سے لگی وہ خوفزدہ آنکھوں سے اوپر اسفر کو دیکھ رہی تھی۔ اپنا سینہ مسلتا، بمشکل سانس لیتا بارز بھی قریب آیا تھا ۔
” ا ۔۔۔ اس ۔۔۔ اسفر ن ۔۔۔ نیچے آؤ۔ ”
وہ سانس ہموار کرتے بمشکل کہنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ انس بھی رونے لگا ۔
” اسفر پلیز نیچے آؤ۔۔ ایسے مت کرو یار پلیز ”
وہ نفی میں سر ہلاتے رو رہا تھا ۔
” ہم غلط تھے ، ہم غلط ہیں، ہم سب غلط ہیں۔میں۔۔۔ میں غلط تھا ، ہمارے پیرنٹس کی آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے بچے ہیں ہم ، تبھی تو ہم مصیبت میں گرفتار ہو چکے ہیں، ماڈرن بننے کے چکر میں ہم تباہ ہو رہے ہیں ۔۔۔ لیکن۔۔۔ لیکن اب بس ، اب بس ہو گیا ۔ میں یہ کھیل نہیں کھیل سکتا مزید ۔ میں، میں نہیں کر سکتا۔ تم سب بھی مار دئیے جاؤ گیں یا پھر اپنے کیے ہوئے گناہ کے پاتال میں دھنستے جاؤ گیں۔۔ م ۔۔ مجھے معاف کردو۔۔ ”
وہ روتے ہوئے چلا چلا کے کہہ رہا تھا ۔
” نہیں اسفر پلیز نہیں۔۔۔ ”
عمر اپنی تھوک نگلتا کہہ رہا تھا ۔
” یار روک اسے عمر ۔۔ کچھ کر ”
انس رو پڑا تھا ۔ عمر تیزی سے عمارت کی طرف بھاگا تھا لیکن اب دیر ہو چکی تھی شاید، کیونکہ وہ تھک ماندہ اٹھارہ سال کا وجود دس منزلہ عمارت سے نیچے گرا تھا اور ساتھ ہی ان سب کی چیخ بھی ایک ساتھ نکلی تھی ۔

☆☆☆☆☆☆●●●●●●☆☆☆☆

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *