The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 43
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 43
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 43
حکان ملک کی آنکھیں سنجیدگی سے اپنے سامنے کھڑے عباس کو دیکھ رہا تھا جبکہ عباس نے نظریں جھکا کے، اپنی کنپٹی سہلائی تھی۔
” سر، ٹرسٹ می!!! میم کے ساتھ میں بھی موجود تھا۔ وجدان ملک کچھ نہیں کر سکتا تھا اور مجھے میم نے آپ کو بتانے سے منع کیا تھا لیکن مجھے لگا کہ آپ کو بتانا چاہئے تو میں نے ویڈیو سینڈ کر دی۔ سر آپ ویڈیو تو دیکھ ہی رہے ہیں۔ پرفیکٹ ہے آپ کے لئے میم ۔۔۔۔۔۔ ا۔۔۔۔۔کاسمہ۔۔”
جب اس نے دیکھا کہ حکان نے ابرو اچکائے ہیں تو وہ بات ہی ادھوری چھوڑ کے چپ ہو گیا۔
” ٹھیک ہے، جاؤ تم ”
عباس آفس سے باہر نکلا تھا جبکہ حکان خاموشی سے، اب دوبارہ ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں اکاسمہ، وجدان ملک کو دھمکی دی رہی ہے ۔ وہ اکاسمہ کا چہرہ نہیں دیکھ پا رہا تھا کیونکہ ویڈیو پیچھے سے بنا گئی تھی لیکن وجدان ملک کا خوفزدہ چہرہ دیکھ کے، اس کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی۔
وہ نہ جانے کتنی دفعہ یہ ویڈیو دیکھ چکا تھا اور ہر بار دیکھنے پہ، وہ نئے سرے سے، اکاسمہ کی محبت میں خود کو دوبارہ سے گرفتار ہوتا محسوس کرتا۔
اپنی کنپٹی سہلاتا، وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اسے اب گھر پہنچنا تھا کیونکہ اکاسمہ گھر پہ تھی اور یہاں بیٹھ کے، وہ اسے مس نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ اس کے پاس جا کے، اسے محسوس کرنا چاہتا تھا۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
ملکہ جیسے ہی وہاں سے نکلی تو سامنا کاووس شاہ سے ہوا جو مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” ارے وہاٹ آ پلیزنٹ سرپرائز، ڈیڈ آپ کو بہت مس کر رہےتھے۔ اچھا ہوا آپ آ گئی سیکنڈ مام”
ملکہ نے گھور کے اسے دیکھا تھا جب اچانک فیاض قریب آئے تھے۔
” تم جاؤ اپنے روم میں ”
جبکہ وہ فیاض کو مکمل نظرانداز کر گیا تھا۔
” بارز نہیں آیا؟؟”
وہ ادھر ادھر نظریں دوڑاتا اب ملکہ کو دیکھ رہا تھا۔
” کیسے چھوڑ کے آگئی آپ اسے، اکیلا ہوگا وہاں، اگر کچھ گڑبڑ ہو گئی۔ جوان بیٹا ہے ۔ اتنی لاپرواہ کیسے ہو سکتی ہے آپ سیکنڈ مام ”
” اسٹاپ کالنگ می سیکنڈ مام ۔۔۔ اور دوسری بات تم مجھے دھمکی دے رہے ہو ؟؟”
ملکہ کانپ ہی گئی تھی یہ دیکھ کے، کہ مقابل کھڑا یہ شخص اسے، اس کی اولاد کی دھمکی دے رہا ہے
” ارے کیسی باتیں کر رہی ہے آپ؟؟ میں کیوں دھمکی دوں گا ؟؟ میں تو زمانے کی اونچ نیچ کا بتا رہا ہوں ”
کاووس شاہ مسکراتی آنکھوں سے ملکہ کو دیکھ کے کہہ رہا تھا۔ جب فیاض قریب آئے تھے ۔
” کاووس جاؤ اپنے روم میں ”
ان کی آواز سخت تھی جبکہ کاووس شاہ ڈرنے کی ایکٹنگ کرتا پیچھے ہوا تھا۔
” اوہ ڈیڈ، میں ڈر گیا سیریسلی۔ میں چلتا ہوں اپنے روم میں۔ پھر ملاقات ہوتی ہے ”
وہ کندھے اچکاتا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا جبکہ ملکہ شاکی نظروں سے فیاض کو دیکھنے لگی جو بےبس نظر آ رہے تھے۔
” مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی فیاض۔ پہلے وہ سیریل کلر تمہارا بیٹا ہونے کا دعویدار تھا اور اب یہ ۔ شیم آن یو، بدنصیب تھی میں، جو مجھے تم ملے ”
” ملکہ پلیز ۔۔۔۔۔ میری ۔۔۔”
ملکہ سر جھٹک کے چلی گئی جبکہ فیاض کندھے جھکائے یونہی کھڑے رہے۔ ماضی کی جھلک ان کے ذہن کے پردے پر ابھری تھی۔
ایک نازک سی عورت، جو بےتحاشا ہنس رہی تھی اور فیاض ملک، اس کے حسن میں مگن، گناہ کی سیڑھی پہ پہلا قدم رکھ رہا تھا۔
انہوں نے جھرجھری لے کے، سر جھٹکا تھا۔ یہ کیا ہو گیا تھا کہ نہ اولاد ساتھ تھی اور نہ ہی بیوی۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
شاور ٹاول اپنے گرد لپیٹے، وہ گنگناتے ہوئے باتھروم سے باہر نکلی تھی۔ اپنی سوچوں میں مگن اس کی نظر کمرے میں آتے حکان پہ پڑی تھی، جو اچانک رک چکا تھا جبکہ اس کے ہاتھ میں موجود شرٹ پھسل کی نیچے گر گئی تھی اور آنکھوں میں خوشگوار حیرت لیے وہ اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا، جس کے گیلے بال اس کے کندھے پہ پڑے ہوئے تھے جبکہ اس کے کندھے اور گردن سے پانی کی ننھی بوندیں پھسلتی، ٹاول میں جذب ہو رہی تھی۔ اس کی نازک سفید پنڈلیاں، اس کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی جبکہ بیتاب دھڑکنیں، اس کے قریب جانے، اس کی خوشبو سے معطر ہونے کی خواہش کر رہی تھی۔
اکاسمہ لب کاٹتی، نظریں چرا گئی۔ اسے لگا تھا کہ حکان ابھی گھر نہیں آیا تو وہ پرسکون سی شاور لے کر، باتھروم سے نکل کے، بیڈ پہ رکھے اپنی شرٹ اور ٹراوزر، لینے کا ارادہ رکھتی تھی۔ وہ پھر سے حکان کو دیکھنے لگی جو اب بھی بت بنا، آنکھوں میں خوشگوار حیرت لیے اسے دیکھ رہا تھا۔ اکاسمہ کے گال، ان نگاہوں کی تپش سے دہکنے لگے تھے اور گلابی مائل ہو چکے تھے۔ وہ پھر سے حکان کو دیکھ کے، مسکرانے کی کوشش کرتی ہے اور حکان کو لگا کہ جیسے اس کی یہ ہلکی سی مسکراہٹ اسے اپنے قریب آنے کی دعوت دے رہی ہو۔
مدہوش سا ہوتا، وہ اکاسمہ کے قریب آنے لگا جبکہ اکاسمہ کے دل کی دھڑکنیں فل اسپیڈ میں بھاگنے لگی تھی۔
” م ۔۔۔ میرا ڈریس وہاں۔۔۔”
اس نے تیزی سے بیڈ کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اس سچویشن میں اسے بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسا ردعمل ظاہر کرے۔ ایک طرف تو دل، مقابل کھڑے شخص کی مدہوش گھمبیر نگاہوں سے بہکنے لگا تھا تو دوسری طرف وہ اس شخص کے قریب آنے پہ بوکھلا سی گئی تھی۔
حکان نے اس کے ہاتھ کے اشارے پہ بیڈ کی طرف دیکھا، جہاں اکاسمہ کے کپڑے تھے۔ وہ اکاسمہ کی شرٹ اٹھا کے، اس کے قریب آیا تھا۔ وہ ڈھیلی ڈھالی سی شرٹ تھی، اس کی پلکیں کبھی گرتی تو کبھی اٹھتی۔ اس کا نازک وجود آہستہ آہستہ کانپنے بھی لگا تھا جب قریب آ کے حکان نے اسے شرٹ پہنائی، اس کے ہاتھ کا لمس، اکاسمہ کو اپنی گردن اور کندھے پہ محسوس ہوا، اس کے ہاتھ کانپے تھے اور شرٹ کے نیچے، اس کا ٹاول نیچے، اسکے قدموں میں گرا تھا جبکہ اس کی ڈھیلی ڈھالی، لمبی شرٹ میں، اس کا نازک وجود پہلے ہی چھپ چکا تھا۔
اس نے تیزی سے آنکھیں بند کر لی تھی جبکہ حکان جھک کے، اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے گہرا سانس
لیتا پیچھے ہوا تھا۔ اکاسمہ اسے حیران آنکھوں سے دیکھنے لگی۔
” میں کافی بنا رہا ہوں، جلدی آ جانا ”
حکان کہتے ہوئے، لب کاٹتا اسے دیکھنے لگا۔ سانس کو روکے ہوئے، اس نے نظر بھر کے، اکاسمہ کو دیکھا تھا اور پھر تیزی سے، کمرے سے باہر نکلا تھا۔
کافی بناتے ہوئے اس کے چہرے پہ خوشگوار مسکراہٹ تھی۔ اکاسمہ کا ٹاول میں موجود حسین سراپا بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا اور وہ بار بار مسکرا رہا تھا۔ وجود میں گرمی کا احساس بڑھنے لگا لیکن وہ اس احساس کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اکاسمہ پہ نظر پڑی تو ہلکا سا مسکراتے ہوئے اس نے کافی کا کپ اس کی طرف بڑھایا تھا جسے اکاسمہ نے مسکرا کے تھام لیا۔
” مجھے معلوم نہیں تھا تم آج جلدی آ گئے ”
اکاسمہ کہنے کی کوشش کرتی، کافی کا شپ لینے لگی جبکہ حکان اسے گہری نگاہوں سے زیر لب مسکراتا دیکھ رہا تھا۔
” بتایا بھی نہیں کال کر کے۔ ”
اکاسمہ نے پھر سے کہنے کی کوشش کی۔
” بتا دیتا تو اتنا دلکش لمحہ مس کر دیتا ”
حکان نے اچانک بوجھل لہجے میں کہا جب اکاسمہ کی حیران آنکھیں اس کی طرف اٹھی تو وہ اپنا سر کھجانے لگا۔
” تم آج وجدان ملک کے آفس گئی تھی ”
بات کو بدلتا، وہ صوفے کی طرف بڑھا جبکہ اکاسمہ اس کی پشت گھورنے لگی۔
” عباس کے پیٹ میں چوہے ہیں جو وہ بات نہیں رکھ سکتا ”
” وہ میرے لئے کام کرتا ہے تو مجھے ہی بتائے گا۔ ”
حکان صوفے پہ بیٹھ کے، اسے ابرو اچکا کے دیکھنے لگا جبکہ اکاسمہ منہ بنا کے، بال جھٹک گئی۔
” تھینک یو ”
حکان نے گہری نظروں سے اسے دیکھتے، بوجھل لہجے میں کہا۔ اکاسمہ چونک کے اسے دیکھنے لگی۔
” مجھ سے اتنی محبت کرنے کے لئے ”
اس نے کندھے اچکائے تھے۔
” تم سے پوچھ کے محبت نہیں کی میں نے تم سے۔ ”
وہ منہ بسور کے کہتی، صوفے پہ جا کے بیٹھ گئی تھی۔
” میں تم سے محبت، اپنے لئے کرتی ہوں حکان ملک ”
حکان بےزبان ہو گیا۔
” میں خوش قسمت ہوں ”
اکاسمہ اسے دیکھنے لگی۔ وہ شخص کو کھونا نہیں چاہتی۔ وہ اس شخص کو اداس ہوتا بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ وہ اس شخص کو خاموش بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ اففف!! تو کیا چاہتی ہے وہ ؟؟
محبت!!
اس کے لبوں پہ اس لفظ کو سوچتے ہی، مسکراہٹ بکھری تھی۔
” مجھے بھی ہیک کرنا سکھاؤ ”
” تم نے کسے ہیک کرنا ہے ؟؟”
حکان نے مسکراتے ہوئے سوال کیا۔
” تمہیں!!”
اکاسمہ نے بلکل اچانک کہا تھا۔ حکان کو اس جواب کی توقع نہیں تھی۔ آنکھوں میں پھر سے وہی سراپا ابھرا تھا، ٹاول میں موجود، گیلا وجود!!
” مجھے ہیک کرنے کے اور بھی طریقے ہیں۔”
” تو سکھاؤ ”
اکاسمہ کی آنکھوں میں شرارت تھی جبکہ حکان جو چونکا تھا اب اس کی شرارت سمجھ کے، اسے گھورنے لگا۔
” Don’t try to provoke me Akasma “
اس دھمکی بھرے انداز پہ اکاسمہ نے مسکراتے ہوئے کافی کا گھونٹ لیا تھا۔
” ڈنر میں کیا بناؤں ؟؟”
وہ اب اپنی ٹانگیں ٹیبل پہ رکھ کے، سوال کر رہی تھی۔ اس کے ٹراوزر سے، اس کی سفید پنڈلیاں حسین نظارہ پیش کر رہی تھی جبکہ اس کے پاؤں کے ناخنوں پہ، سرخ رنگ کی نیل پالش بےحد دلکش لگ رہی تھی۔
” جان بوجھ کے کر رہی ہو یہ سب ؟؟”
حکان اسے گھورنے لگا۔ وہ چاہتا تو ابھی بھی وہ اکاسمہ کو مکمل اپنا لیتا۔ اس کے اکسانے کا اچھے سے جواب دینا جانتا تھا وہ ۔ لیکن وہ چاہتا تھا کہ وہ مکمل ٹھیک ہو جائے۔ اپنے میڈیسنز کا کورس مکمل کر لیں تا کہ اسے آگے جا کے، میڈیسنز کا سہارا نہ لینا پڑے اور تب وہ اکاسمہ کو مکمل اپنانے کے لئے تیار ہوگا لیکن یہاں تو اکاسمہ اپنی حرکتوں سے، اسے اکسانے پہ آمادہ نظر آ رہی تھی اور وہ ہر بار خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں پریشان سا ہو رہا تھا۔
” اپنی مرضی سے بنا لیتی ہوں۔۔۔ نہ بتاؤ ”
وہ منہ بنا کے، ٹانگیں نیچے کر کے، اٹھ کھڑی ہوئی جبکہ سیدھا راستہ چھوڑ کے، وہ حکان کے قریب سے گزر کے، کچن کی طرف جانے لگی۔ جب بلکل اچانک حکان نے اس کا ہاتھ تھام کے، اسے اپنی طرف کھینچا، وہ کھنچتی ہوئی، اس کی گود میں بیٹھ کے، اس کے سینے سے جا لگی۔
” اکاسمہ، مت کرو پلیز ۔۔۔
Stop provoking me ”
اس نے مبہم سرگوشی کرتے، اسے بانہوں میں بھر لیا تھا جبکہ اکاسمہ جو اسے اکسا رہی تھی، اب بوکھلا کے کانپنے لگی۔
” میں۔۔۔۔ ڈ ۔۔۔ نر بنانے جا رہی ہوں حکان”
اس نے کہنے کی کوشش کی۔ حکان اسے بانہوں میں لیے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” کیا بنا رہی ہو ڈنر میں؟؟”
اکاسمہ کی آنکھوں میں شرارت ابھری تھی جب بلکل اچانک حکان نے ابرو اچکا کے اسے روکا تھا۔
” ڈونٹ، ڈونٹ اکاسمہ ”
اکاسمہ کھلکھلا کے ہنسنے لگی جب حکان نے بےساختہ اس کی ہنسی کو، اپنے لبوں پہ چن لیا لیکن اچانک کسی خیال کے تحت وہ بےساختہ رک کے پیچھے ہوا تھا۔
” پلیز اکاسمہ ڈونٹ ۔۔۔۔ ”
اکاسمہ جو اسے گھور رہی تھی۔ منہ بنا کے، جھٹکے سے اس کی گود سے نیچے اتر کے دور ہوئی تھی ۔
” اوکے حکان ملک۔
Am not provoking you .. “
وہ غصے میں کچن کی طرف بڑھ گئی۔
” شٹ!!! اکاسمہ ۔۔۔”
وہ اٹھ کے اکاسمہ کے پیچھے آیا تھا۔ اسے کمر سے تھام کے، سینے سے لگاتے، اس کی گردن پہ لب رکھ کے، اس کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارا تھا۔
” اکاسمہ ایم سوری”
” کیا واقع تم آٹھ سال سے مجھ سے محبت کرتے آ رہے ہو حکان ؟؟ ”
حکان چونکا تھا۔
” مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کچھ ہو ۔ سب جھوٹ ہی بول
رہے ہیں مجھ سے شاید۔ کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ تم مجھے دھکا دیتے ہو ”
حکان نے اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا اور اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” ایسا بلکل نہیں ہے اکاسمہ۔ ”
اس نے اکاسمہ کے دونوں پہ گالوں پہ اپنے لب رکھ کے، اسے محبت بھرا لمس دیا تھا۔
” میں تمہیں دھکا کیوں دوں گا ؟؟ میں بس ٹھیک ہونا چاہتا ہوں اکاسمہ، میں۔۔۔ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا اکاسمہ۔۔۔ میں تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا”
اس نے نرمی سے، اکاسمہ کہ آنکھوں پہ اپنے لبوں کا لمس بکھیرا تھا۔
” آٹھ سال کی میری محبت کوئی معمولی احساس نہیں ہے کہ میں اسے اپنی بیماری کے نذر کر دوں ”
اکاسمہ کو دکھ سا ہوا تھا۔ وہ تو بس حکان کو تنگ کر رہی تھی تا کہ اس کے ٹھیک ہونے میں، وہ مددگار ثابت ہو۔ وہ بس اسے سکون، امید اور محبت دینا چاہتی تھی لیکن وہ سنجیدہ ہو گیا تھا۔
اکاسمہ نے نرمی سے، اس کے چہرے کو دونوں ہاتھ کے پیالے میں بھرا تھا۔
” ہششش، میں جانتی ہوں۔ میں بس تمہیں تنگ کر رہی تھی حکان۔ میں نہیں جانتی تھی کہ میرے مذاق کو تم سیریس لو گے۔ ”
حکان کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر اسے بانہوں میں بھر لیا تھا ۔ اکاسمہ نے بھی اس کے مضبوط وجود کے گرد، اپنے محبت بھرے بازو لپیٹ دیے تھے کہ اس شخص کی قربت اس کے لئے سکون کا باعث تھی۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
” وہ آج کی چھٹانک بھر کی وکیل، مجھے دھمکی دیتی ہے، مجھے، وجدان ملک کو۔ وہ مجھے شاید اچھی طرح سے جانتی نہیں ہے۔ چیونٹی کی طرح مسل دوں گا میں اسے ”
وجدان ملک غصے میں ادھر ادھر ٹہل رہا تھا جبکہ صوفے پہ بیٹھی، رخسار اسے مسکراتی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
” وہ حکان ملک کی بیوی ہے، چیونٹی کی طرح اسے مسلنا آسان نہیں ہے۔ حکان ملک تمہیں برباد کر دے گا ”
وجدان ملک چلاتا ہوا، صوفے کو لات مارتا، سامنے دیوار کو گھورنے لگا۔
” وہ پاگل، دماغی مریض۔ دونوں کو ختم کر دوں گا ”
رخسار ہنسنے لگی۔
” تو تمہیں یہ لگتا ہے کہ تم اپنے بیٹے کو ہرا سکتے ہو ؟؟ وجدان ملک، تمہارا بیٹا کوئی عام آدمی نہیں ہے کہ تمہاری پہنچ ہو اس تک۔ وہ امریکا گورنمنٹ کے ساتھ کام کرتا ہے، اس کے ساکھ بہت مضبوط ہے۔ انٹرنیشنل لیول کا ایکزاکیوشنر اور ہیکر، تم اسے کیا ختم کرو گے، وہ تمہیں نیست و نابود کر دے گا۔ ”
” بکواس بند کرو، لگتا ہے تمہاری نظر اب میرے بیٹے پہ ہے ”
وجدان ملک اسے غصے سے گھورنے لگا جبکہ وہ کھلکھلا کے ہنس پڑی۔
” کون سی عورت نہیں چاہے گی کہ اس کی پہنچ حکان ملک تک نہ ہو۔ کسی ایک عورت کا نام لو اور میں بھی تو ایک عورت ہوں ”
وجدان ملک نے اس کی گردن،ہاتھ کی مٹھی میں جکڑ لی تھی اور غصے سے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” بکواس نہیں، اب کوئی بکواس نہیں رخسار فاروقی۔ مجھ پہ تم اسے ترجیح دینے کی غلطی مت کرنا”
رخسار نے ٹانگ مار کے، اسے خود سے دور دھکیلا تھا اور مسکراتی آنکھوں میں طنز لیے اسے دیکھنے لگی۔
” ہمت ہے تم میں، تو مجھے پھر سے ہاتھ لگا کے دیکھو۔ نکلو میرے گھر سے ابھی کے ابھی اور پھر یہاں آنے کی غلطی مت کرنا۔ ”
وجدان جو اس کی ٹانگ کے لگے ضرب سے بلبلاتا، کھڑا تھا۔ اسے حیران آنکھوں سے دیکھنے لگا۔
” تم مجھے نکل جانے کا کہہ رہی ہو رخسار ؟؟”
” ہاں نکلو، دفع ہو جاؤ۔ ورنہ مکمل ناکارہ بنا دوں گی تمہیں۔ گیٹ لاسٹ ”
اسے باہر کا راستہ دکھاتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی جبکہ وجدان ملک اسے غصے سے گھورتا، باہر نکلا ۔ رخسار دروازہ لاک کرتی اب ٹیبل پر سے اپنا موبائل اٹھا چکی تھی۔ اپنی ٹاپ کا اسٹریپ، کندھے سے نیچے کر کے، اپنے آدھے سے زیادہ جسم کی نمائش کرتی، وہ سیلفی لے کے، اب وہ تصویر، ازمائر شاہ کے واٹس ایپ پہ سینڈ کر چکی تھی۔
اس کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی جبکہ آنکھوں میں سرشاری۔ وہ ازمائر شاہ کو شاید پھر سے حاصل کر لینے کا خواب دیکھ رہی تھی۔
“[ شاید تمہیں مسفرہ وہ نہ دے سکے، جو میرے پاس ہیں ازمائر شاہ ]
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
ازمائر شاہ جو اسٹڈی میں بیٹھا، آفس کے کچھ دستاویزات چیک کر رہا تھا جب اس کے موبائل پہ میسج بپ بجی تھی۔ مصروف سے انداز میں، وہ موبائل کھول کے، واٹس ایپ دیکھنے لگا۔ نمبر نیا تھا لیکن جو تصویر بھیجی گئی تھی وہ رخسار فاروقی کی تھی۔
اس کے ماتھے پہ بل پڑ گئے جب اس نے تصویر اور میسج کو دیکھا۔ لب بھینچے اس نے میسج ڈیلیٹ کر دیا اور موبائل سائیڈ پہ رکھ کے، وہ پھر سے اپنا کام کرنے لگا لیکن نظر پھر سے موبائل پہ گئی تو غصے کی لہر اس کے وجود میں ڈور اٹھی۔ رخسار اسے میسج کر کے، اب کیا کرنا چاہ رہی ہے۔
سر جھٹک کے، وہ گہرا سانس لیتا، دونوں ہاتھوں سے اپنی پیشانی مسلنے لگا۔ پھر کچھ سوچتا وہ اسٹڈی سے باہر نکل کے لاؤنج میں آیا تھا اور نظر کچن کی طرف گئی جہاں مسفرہ ڈنر تیار کر رہی تھی۔ زیر لب مسکراتا وہ کچن میں آیا اور مسفرہ کو کمر سے تھام کے خود سے لگا گیا ۔
مسفرہ پہلے چونکی اور پھر مسکرانے لگی۔
” کام ختم ہو گیا مسٹر ازمائر شاہ کا ؟”
” اممم نہیں، تھک گیا تو سوچا تھکن اتارا جائے ”
اسکی گردن میں، اپنا چہرہ چھپائے وہ کہہ رہا تھا جبکہ مسفرہ مسکرانے لگی۔
” کافی بناؤں؟؟”
” اممم، میں بنا لیتا ہوں، تم ویسے بھی ڈنر بنا رہی ہو ”
وہ مسفرہ سے الگ ہو کے،کافی میکر کی طرف گیا اور کافی بنانے کی تیاری کرنے لگا۔
” رخسار فاروقی آئی تھی آج میرے کلینک دوبارہ ”
اچانک مسفرہ نے کہا اور کافی بناتے ہوئے، ازمائر کے ہاتھ کانپے تھے لیکن خود پہ کنٹرول کرتا، وہ لاپرواہی سے پوچھنے لگا۔
” اچھا ؟؟ کیوں؟؟”
” پتہ نہیں، ہمیشہ یہی کہتی ہے کہ جیل میں عورتوں کے ساتھ وقت گزار کے، اسے محسوس ہو رہا ہے کہ وہ سائیکو بن چکی ہے تو مجھ سے اپنا علاج کروانا چاہتی ہے ”
مسفرہ کے جواب پہ، اس نے ہنکارا بھرا ۔
” کیوں؟؟ کراچی میں سائیکٹریسٹ کی کمی ہے کیا ؟؟”
مسفرہ خاموش رہی جب ازمائر نے مڑ کے اسے دیکھا۔
” کیا ہوا؟؟ کیا سوچ رہی ہو ؟؟”
“مجھے لگتا ہے کہ اس کا کوئی خاص مقصد ہے۔ وہ میرے پیچھے ہی کیوں پڑ گئی ہے، کیا وہ میرے ذریعے پھر سے تمہارے قریب آنے کی کوشش کر رہی ہے ؟؟”
ازمائر کا دل کانپا تھا۔ اس کے ذہن کے پردے پہ، رخسار کے کچھ دیر پہلے کیے میسج کا عکس ابھرا تھا۔ لب بھینچے وہ گہری سوچ میں تھا جب اچانک مسفرہ کی آواز پہ وہ چونکا جو اس کے قریب کھڑی تھی۔
” دھیان کہاں ہے تمہارا ازمائر؟؟ کافی بن چکی ہے۔ ”
ازمائر چونک کے کافی کو دیکھنے لگا اور پھر مسفرہ کو۔
” اسے منع کردو ”
” ہاں میں منع کر چکی ہوں لیکن تمہارا دھیان کہاں ہے ؟؟”
مسفرہ کافی کے کپس، ٹیبل پہ اس کے اور اپنے سامنے رکھنے لگی۔
” اس نے مجھے اپنی Pic بھیجی ہے half naked ”
مسفرہ نے نظر اٹھا کے اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرانی اور پھر ناگواری ابھری تھی۔
” تم نے دیکھ لی ؟؟”
عجیب انداز اور عجیب سوال۔
“نہیں، میں نے ڈیلیٹ کر دی تھی ”
ازمائر سر جھٹک کے اپنی کافی کا کپ اٹھانے لگا۔
” پہلے دیکھ کے۔۔۔۔ ”
ازمائر اسے اچھنبے سے دیکھنے لگا جو سرد آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” ایک نظر دیکھ کے ڈیلیٹ کر دی تھی ۔ مجھے آئیڈیا نہیں تھا کہ اس کا میسج ہوگا ”
” اممم۔۔۔۔۔۔ ، کافی کیسی بنی ہے ؟؟”
اس نے اچانک سوال کیا جبکہ وہ کندھے اچکا گیا۔
” اچھی ہے ”
” امم، آج سپر مارکیٹ سے لی تھی ٹرائی کرنے کے لئے، کل مزید بھی لوں گی جب اتنی اچھی ہے تو ”
ازمائر اسے دیکھنے لگا جو اب پرسکون چہرے کے ساتھ کافی پی رہی تھی۔ کچھ دیر پہلے جو آنکھیں سرد تھی اس کی، اب وہاں عجیب سکون سا تھا۔ وہ پہلے حیران ہوا اور پھر کچھ سوچتا سر جھٹک گیا۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
” انٹرنیٹ پہ کسی نے لکھا تھا کہ جب ذہن پریشان ہو تو بہترین راہ حل رومینس ہے ”
اکاسمہ مسکراہٹ دباتی، سنجیدگی سے کہتی، کن انکھیوں سے حکان کو دیکھنے لگی جو کوئی رپورٹ تیار کر رہا تھا لیکن چونک کے وہ اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔
” میڈیسنز تو بس اپنا کام کرتی ہے، سکون تو رومینس میں ہے اور اگر آپ بیوی والے ہیں تو پھر کیا ہی بات ہے، آپ تو خوش قسمت ترین مرد ہے کہ آپ کے ذہنی سکون کے لئے، آپ کی بیوی ۔۔۔۔۔ آہ !!”
وہ اچانک بات ادھوری چھوڑ کے حکان کو دیکھنے لگی جو اس کے قریب صوفے پہ آ بیٹھا تھا ۔
” کیا کر رہے ہو حکان،ڈرا دیا”
وہ ناراضگی سے حکان کو دیکھنے لگی۔
” اور کیا کہہ رہا ہے انٹرنیٹ، پڑھو ”
اکاسمہ آنکھیں گھماتی، موبائل اس کے ہاتھ میں دیتی، خود آرام دہ انداز میں صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کے بیٹھ گئی۔
” آہم آہم، تو یہ گوگل کرتی رہتی ہو آج کل ۔”
حکان ہنستے ہوئے وہ آرٹیکل پڑھنے لگا جبکہ اکاسمہ نے کندھے اچکائے۔
” مجھے کوئی شوق نہیں، بس سامنے آ گیا تو سوچا تم سے شئیر کردوں “
” تو کیا خیال ہے پریکٹیکلی شئیر کرنے کے متعلق ؟؟”
وہ اکاسمہ کے ساتھ لگ کے، اس کے کان میں سرگوشی کی۔ اکاسمہ ادھر ادھر دیکھنے لگی جبکہ دھڑکنیں بےترتیب ہونے لگی۔
” میں نے تو بس آرٹیکل شئیر کیا ۔ خاص طور سے تمہیں تھوڑی کہا میں نے ”
وہ اٹھنے لگی جب حکان نے اسے کھینچ کے بانہوں میں بھر لیا۔
” رہو یہیں۔۔۔ ”
” ک ۔۔۔کیوں؟؟”
اس کی نزدیکی پہ، وہ مزید بوکھلا گئی ۔
” کیونکہ میں سوچ رہا تھا کہ آرٹیکل کو پریکٹیکل فارم دیا جائے ”
وہ اپنی مسکراہٹ دباتا، شرارتی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا جب اکاسمہ نے اس کی طرف نظر کرم کیا تو ان شرارت بھری آنکھوں سے بوکھلا کے، وہ پیچھے ہونے کی کوشش کرنے لگی۔
” بات تو بلکل صحیح ہے۔ رومینس میں ہی تو سکون ہے، میں کیوں بھاگ رہا ہوں تم سے اکاسمہ۔ مجھے بھاگنا نہیں چاہیے ۔ ہے ناں ”
وہ کہہ رہا تھا جبکہ اکاسمہ یہ جاننے کی کوشش کر رہی تھی کہ کیا وہ سنجیدہ ہے ؟؟ یا اپنی رائے دے رہاہے۔
” ایسے کیوں دیکھ رہی ہو ؟؟ تمہیں نہیں لگتا کہ میں ادھورا مرد ہوں؟؟”
اس کے سوال پہ اکاسمہ کی آنکھوں میں الجھن ابھری۔
” ایسے کیوں کہہ رہے ہو حکان ؟؟”
” ادھورا ہی تو ہوں، دو شخصیتوں کا شکار، ادھورا مرد ۔ ”
اس کی آنکھوں اور چہرے پہ کرب تھا۔
” اگر میں ہوتی ایسی تو ؟؟ کیا تم مجھے خود سے دور کرنے کی کوشش کرتے ؟؟”
اکاسمہ کے سوال پہ، وہ گھبرا سا گیا۔
” کبھی نہیں اکاسمہ، اور میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ تمہیں کوئی بھی پرابلم ہو کبھی ”
اکاسمہ نے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا اور مسکراتی آنکھوں میں محبت لیے اسے دیکھنے لگی۔
” نکاح بےحد خوبصورت رشتہ ہے حکان۔ دو اجنبیوں ، دو مخالف انسانوں کے بیچ محبت کا حسین اور مضبوط بندھن۔ ہاں میں مانتی ہوں کہ مجھے شروع میں تم پہ غصہ تھا لیکن میں سنبھل گئی کیونکہ میں جان گئی اور سمجھ گئی کہ نکاح کوئی جوا نہیں ہے کہ اسے اپنی مرضی سے کھیل لو اور اپنی مرضی سے رونڈ دو۔ مقابل آپ کے جو ہے وہ کون ہے ؟؟ اس کی کیا فیلنگز ہیں؟؟ یہ بھی تو جان لینے چاہئے۔
حکان میں نکاح کا مطلب جان چکی ہوں اور اس کی اہمیت بھی اور یہ بھی کہ ضروری نہیں،انسان ماضی میں جیے۔ محبت کو ایک موقع اور دینا چاہیے۔ میں جان گئی کہ میں تم سے محبت کرنے لگی ہوں کیونکہ میں محبت پہ یقین کرنا چاہتی ہوں۔۔میں محبت میں جینا چاہتی ہوں۔ محبت لینا اور دینا چاہتی ہوں۔ تمہاری محبت اس قدر خوبصورت ہے حکان، کہ میں بار بار،ہر بار نئے سرے سے، تم سے محبت کر لینا چاہتی ہوں ”
حکان مبہوت سا اسے دیکھ رہا تھا جبکہ اکاسمہ مسکرانے لگی۔
” میرے آٹھ سال کی محبت ایک طرف، لیکن یہ لمحہ ہر احساس پہ بھاری ہے جب تم یوں بار بار اپنی محبت کا اعتراف کرتی ہو۔ دل چاہتا ہے کہ تمہیں سنتا جاؤں اور تمہارے ہر حرف کو اپنے لبوں سے چن کے، اپنی سانسوں میں ہمیشہ کے لئے ایسے مقید کر لوں کہ اس کا میری روح سے وہ گہرا سا تعلق بن جائے کہ اگر روح نکلے تو ان الفاظ کو ادھورا پن محسوس ہو اور اگر وہ الفاظ رہائی پانے کی کوشش کریں تو روح میں ادھورا پن محسوس ہو۔”
اکاسمہ مسکراتی آنکھوں سے، اسے دیکھ رہی تھی۔ ہاتھ بڑھا کے نرمی سے، اس کا چہرہ چھونے لگی جب بلکل اچانک حکان اس کے لبوں کو قید کرتا، اسے خود میں بھینچ گیا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے آج کوئی حد نہیں، آج کوئی قید نہیں، آج کوئی روک نہیں۔
وہ مکمل ہونا چاہتا تھا آج۔ آج وہ خود کو معطر کر لینا چاہتا تھا اکاسمہ کی خوشبو سے اور مکمل جذب ہونا چاہتا تھا اکاسمہ میں، کہ تمام فاصلے سمٹ جائے اور ان کے بیچ، انچ برابر بھی فاصلہ نہ رہے۔
اسے بانہوں میں اٹھائے وہ بیڈ روم کی طرف گیا۔ اسے بیڈ پہ بٹھا کے، اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ مسکرایا تھا۔
” میں آتا ہوں ”
اس کے ماتھے پہ لب رکھ کے، وہ تیزی سے پیچھے ہوتا کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ اکاسمہ جو کب سے سانس روکے بیٹھی ہوئی تھی۔ گہرا سانس لیتی خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ یہ پہلا لمحہ تھا اس کی زندگی میں اور وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی اپنی حالت ۔
کنفیوز تھی؟؟؟ گھبراہٹ تھی؟؟؟ کیا تھا ؟؟؟
وہ سوچنے لگی۔ وہ ہی تھی جو حکان کو اکسا رہی تھی اور اب وہ ہی کانپ رہی تھی۔
اپنی شادی کے دو ماہ وہ عاریز خان کے ساتھ رہی تھی لیکن ان کے بیچ کبھی کوئی ایسا بندھن نہ بندھ پایا تھا۔ ان کی زندگی میں مشکلات ہی اتنی تھی کہ ان کو کبھی یہ موقع ہی نہ مل سکا کہ وہ اپنے حسین لمحے گزار سکے۔ اس رشتے کی شروعات ایک کاغذی نکاح سے ہوئی تھی اور وہ کاغذی ہی رہا ہمیشہ۔ وہ نہ ایکدوسرے کے قریب آئے اور نہ انہیں کوئی موقع ملا۔
آہٹ پہ اس نے نظریں اٹھا کے حکان کو دیکھا تھا جو دروازہ بند کرتا، اس کے قریب آ رہا تھا جبکہ وہ بیڈ پر بیٹھی، اسے قریب آتا دیکھ رہی تھی۔ اپنے خشک ہوتے حلق کو تر کرتی، وہ ادھر ادھر دیکھتی، پھر سے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ اس کے قریب جھکا، مسکراتی آنکھوں سے، اسے دیکھ رہا تھا۔ ان نظروں کی تپش سے، اکاسمہ کو اپنے گال سمیت، پورا وجود دہکتا ہوا محسوس ہونے لگا لیکن جب وہ مزید قریب ہوا تو اکاسمہ نے آنکھیں بند کر کے سرگوشی کی تھی۔
” be gentle please “
حکان رک کے، اس کی بند پلکوں کو دیکھنے لگا۔ زیر لب مسکراتا، شہادت کی انگلی سے، اس کے بکھرے بال سنوارنے لگا۔
” اتنی کنفیوز کیوں ہو رہی ہو تم اکاسمہ ؟؟”
اس کی مبہم سرگوشی میں کیے گئے سوال پہ، اکاسمہ نے آنکھیں کھول کے اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھنے میں محو تھا اور پھر تیزی سے پلکیں جھکا دی تھی۔ دل کی دھڑکنیں بےترتیب ہونے لگی کہ سانس لینا بھی دشوار لگنے لگا تھا۔
” اکاسمہ ۔۔۔۔ ہیی ”
حکان کنفیوز ہوتا، اسے پریشان نظروں سے دیکھ رہا تھا جو اپنے لب کاٹ رہی تھی۔
” میں، میرا مطلب ہے کہ کبھی ایسا نہیں ہوا ۔۔۔۔۔ ک۔۔۔ کبھی بھی ۔۔۔۔ یہ پہلی بار ہے کہ ۔۔۔۔ ”
وہ اب پریشان نظروں سے حکان کو دیکھنے لگی۔
” پہلے کبھی ایسے ۔۔۔۔ یوں، اتنے قریب نہیں ہوئی کسی کے میں ۔۔۔۔ ”
وہ بات ادھوری چھوڑ کے پلکیں جھکا گئی جبکہ حکان کچھ دیر اس کی لرزتی پلکوں کو دیکھتا رہا اور جب وہ بات کی تہہ تک پہنچا تو اس کی آنکھوں میں حیرانی ابھری تھی۔ اس نے خوشگوار حیرت سے، اکاسمہ کو سر سے پاؤں تک دیکھا تھا۔
وہ خالص تھی!!! وہ پہلا شخص تھا اس کی زندگی میں جو اسے اپنے وجود سے تکمیل کر دے گا، جو اس کے ساتھ حسین یادیں بنائے گا، جو اس کے نازک وجود کے ہر کونے پہ، اپنی محبت، اپنی بےچینیاں، اپنی شدتیں بکھیرے گا۔
تو کیا اس کی پاک محبت کا ثمر اللہ تعالٰی نے اس قدر خوبصورت رکھا تھا۔ وہ سوچ کے ہی مسکرا دیا ۔ ابرو اچکا کے، اس نے ایک گہری گھمبیر نظر، اکاسمہ کی جھکی پلکوں پہ ڈالی تھی۔ زیر لب مسکراتا، وہ اس کے کان کی لو پہ جھکا تھا۔
” I’ll be gentle Akasma !!”
اکاسمہ نے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا تھا اور پھر تیزی سے جھکا بھی دی تھی جبکہ حکان اس وقت اس اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا جو اس کے لیے بلکل نئی تھی۔ اس کا یہ حسین روپ وہ پہلی بار دیکھ رہا تھا جو اسے مدہوش سا کر رہا تھا کہ وہ بہکنے ہی لگا ان لمحوں میں۔ تبھی گہرا سانس لیتا وہ اکاسمہ پہ جھکا تھا۔
” ڈیم اٹ اکاسمہ،
Stop provoking me ”
اس سے پہلے اکاسمہ کچھ کہہ پاتی، وہ اس کے تمام الفاظ اپنی سانسوں میں اتار کے، اپنی اور اس کی سانسیں ایکدوسرے میں محو کر چکا تھا۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
