The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 51
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 51
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 51
ملکہ خاموشی سے بیٹھی فیاض حیات کے پژمردہ چہرے کو دیکھ رہی تھی جبکہ فیاض ملک کبھی اسے دیکھتے تو کبھی نظریں چرا لیتے۔ وہ شاید خود میں ہمت مجتمع نہیں کر پا رہے تھے ملکہ کی نظروں سے نظریں ملانے کی۔ ملکہ نے آخر گہری سانس لی اور سر جھٹک گئی ۔
” اس عمر میں اٹھارہ سالہ نوجوان لڑکے کی حرکت کرنی چاہئے تھا کیا تمہیں فیاض ملک ؟؟”
فیاض حیات چونک کے ملکہ کو دیکھنے لگے جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی اور پھر لب بھینچے آنکھیں موند گئے۔ ان کے چہرے پہ کرب کے آثار نمایاں تھے۔
” مجھے معاف کردو ملکہ۔ میں تم سے نظریں ملانے کے قابل بھی نہیں ہوں۔ “
” شرمندہ ہو فیاض ملک؟؟”
ملکہ کی سرد آواز گونجی۔ فیاض حیات نے خاموشی سے اٹھنے کی کوشش کی جب ملکہ اٹھ کے، ان کے قریب آئی اور انہیں روک دیا۔
” ڈاکٹر نے منع کیا ہے تمہیں اٹھنے سے۔ لیٹے رہو”
فیاض حیات اسے اپنے بےحد قریب دیکھ رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے بہت عرصے بعد وہ اس چہرے کو دیکھ رہے ہو۔ جس چہرے سے انہوں نے بار بار محبت کی تھی اور آج بھی کرتے ہیں۔ وہ چہرہ اتنے عرصہ بعد، اس قدر قریب تھا کہ وہ ہاتھ بڑھا کے چھو بھی سکتے تھے ۔ تبھی ہلکی مسکراہٹ ان کے چہرے پہ آئی۔
” تم آج بھی بےحد خوبصورت ہے، ایسا لگ رہا ہے جیسے مجھے دوبارہ سے زندگی مل گئی ہو تمہیں اپنے اس قدر قریب دیکھ کے۔ “
ملکہ نے لب بھینچے انہیں سخت نظروں سے گھورا۔
” جب گناہ کر رہے تھے تب یہ چہرہ نظر نہیں آیا تھا ؟”
فیاض حیات ساکت رہ گئے۔ آنکھوں میں شرمندگی سی چھا گئی ۔ نظریں چرا کے، گہرا سانس لیتے وہ دیوار کو دیکھنے لگے۔ جب دروازے پہ دستک ہوئی اور اکاسمہ اندر آئی۔
” اسلام علیکم ”
ملکہ سر جھٹک کے صوفے پہ جا کے بیٹھ گئی جبکہ اکاسمہ بیڈ کے قریب آئی ۔ اس کے چہرے پہ نرم مسکراہٹ تھی۔ ۔
” کیسے ہیں آپ بابا ؟؟ “
” ٹھیک ہوں بیٹا”
اس وقت وہ پھر سے شرمندہ ہو رہے تھے شاید اپنی
بیٹی سے ۔
” ڈاکٹر بتا رہے تھے کہ آپ بہت جلدی صحتیاب ہو کے گھر جائے گیں ”
اکاسمہ بےحد نرمی سے بات کر رہی تھی۔
” گھر؟؟”
فیاض کے لب سرگوشی میں ہلے جبکہ نظریں بےساختہ ملکہ پہ گئی جو اپنا موبائل دیکھ رہی تھی۔ دروازے پہ دستک ہوئی اور ساتھ ہی کاووس شاہ اندر آیا۔
” السلام علیکم “
اس کے ہاتھ میں پھولوں کا بوکے اور فروٹس کا پیکٹ تھا۔ وہ ان تینوں پہ نظر ڈال کے مسکراتا ہوا قریب آ رہا تھا۔ اکاسمہ آج پہلی بار بےحد غور سے، اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کے نقوش فیاض حیات اور خود اس سے ملتے تھے۔ ساتھ ہی دروازے سے حکان بھی اندر آیا تھا ۔ اس پہ نظر جاتے ہی اکاسمہ کی دھڑکن بےحد اچانک ابھر کے معدوم ہوئی۔ اکاسمہ کی طرف مسکرا کے نظر ڈالتا، وہ فیاض حیات کے قریب آیا۔
کاووس شاہ اور حکان ملک دونوں ساتھ کھڑے ایسے بات کر رہے تھے جیسے ان میں بہت دوستانہ تعلقات ہو۔ اکاسمہ کی آنکھوں میں حیرت کا عنصر نمایاں ہوا ۔ وہ غور سے دونوں کو دیکھنے لگی۔
‘ ان دونوں کی دوستی کب ہوئی ؟؟’
وہ سوچنے لگی۔ کاووس شاہ کی مسکراتی نظریں اکاسمہ سے جا ملیں اور اکاسمہ نظریں چراتی دوسری طرف دیکھنے لگی۔ کاووس شاہ کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
” مسڈ یو ۔۔”
اچانک اکاسمہ کے قریب سرگوشی ہوئی جو حکان نے سب سے نظر بچا کے کی۔ اکاسمہ مسکراتی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
” مس می ایون مور ۔۔ “
” مام کیسی ہیں آپ؟؟”
کاووس شاہ اب ملکہ سے پوچھ رہا تھا۔ ملکہ نے لب بھینچے سر اثبات میں ہلایا۔
” ٹھیک ہوں۔ “
کاووس شاہ کے چہرے پہ بےحد نرم مسکراہٹ تھی۔ اکاسمہ اب بھی کاووس شاہ کو دیکھ رہی تھی جبکہ ملکہ نے عجیب نظروں سے، اسے دیکھا۔ دل میں بےچینی کی لہر سی دوڑی۔ عجیب ممتا بھری کشش سی محسوس ہوئی انہیں اس لمحے لیکن وہ سر جھٹک گئی۔ کاووس شاہ مسکرا کے اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔
” تم ٹھیک ہو اکاسمہ؟”
اکاسمہ منہ کھول کچھ کہنے والی تھی لیکن کاووس شاہ کی نرم آنکھیں دیکھ کے، لب بھینچ کے خاموش ہوگئی اور سر ہلا کے حکان کو دیکھنے لگی جبکہ وہ کندھے اچکا گیا۔
“مجھے بات کرنی ہے تم سے، باہر “
حکان سمجھ گیا تبھی بنا کسی بحث کے، اکاسمہ کے ساتھ باہر نکل گیا۔ باہر نکل کے، اکاسمہ اسے گھورنے لگی جبکہ حکان اپنی کنپٹی سہلاتا اسے دیکھنے لگا۔
” کیا چھپا رہے ہو تم مجھ سے حکان ملک؟”
” میں کیا چھپاؤں گا تم سے میری جان ؟”
حکان ہلکا سا مسکرا کے، اس کے قریب ہوا جبکہ اکاسمہ کا چہرہ ابھی سپاٹ تھا
” اس شخص سے تمہارا کیا تعلق بن گیا ہے ؟؟ کیا تم بھول گئے کہ اسی نے تمہاری قبر بنائی تھی”
” کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ میری قبر بنائے جان من ”
حکان نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔ جبکہ اکاسمہ اب بھی اسے سنجیدگی سے گھور رہی تھی جبکہ حکان آہ بھر کے رہ گیا۔ وہ اب سنجیدگی سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔
” کیا تم نے خود اسے دیکھا کہ وہ میری قبر کھود رہا ہے ؟؟”
اکاسمہ خاموش رہی۔
” اکاسمہ بعض دفعہ ہم جو دیکھ رہے ہوتے ہیں ویسا نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ ہماری آنکھیں ہی، ہمیں دھوکہ دے جاتی ہے۔ کاووس شاہ ایک سیکریٹ ایجنٹ ہے جو بڑے عہدے پہ فائز ہونے کے ساتھ ساتھ، ہماری ٹیم کے ساتھ ایک نئے پروجیکٹ پہ کام کر رہا ہے ”
حکان نے نرمی سے بتایا لیکن اکاسمہ اب بھی اسے لب بھینچے دیکھ رہی تھی۔
” کون سا نیا پروجیکٹ؟؟”
” ہے ایک پروجیکٹ”
حکان نظریں پھیر کے گلاس وال سے باہر دیکھنے لگا۔
” مجھ سے کیوں چھپا رہے ہو ؟؟”
اکاسمہ کی آنکھوں میں شکایت تھی۔ حکان اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا۔
” سیریل کلر سے متعلق ہے “
” ہمممم ۔۔ ”
اکاسمہ نے ناراضگی سے نظریں پھیر لیں جب حکان نے ہاتھ بڑھا کے، نرمی سے اس کے بالوں کی بکھری لٹیں سلجھانے لگا۔ اکاسمہ اب اسے دیکھنے لگی۔
” شوہر پہ شک نہیں کرتے ہیں۔ گناہ کبیرہ ہے یہ، جس کی کوئی تلافی نہیں ”
وہ اتنی سنجیدگی سے کہہ رہا تھا کہ اکاسمہ ایک لمحے کو چونکی اور پھر اسے گھورنے لگی جبکہ حکان زیر لب مسکرانے لگا۔
” آج رات کے لئے کوئی اسپیشل پلان رکھ لیتے ہیں اب تو میں ٹھیک ہو رہا ہوں “
اکاسمہ مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھتی، اس کے قریب ہوئی کہ حکان کے دل دھڑکن لمحہ بھر میں ہی بیتاب ہو گئی۔ اس کے کان کی لو پہ اپنی سانسیں بکھیرتی، اکاسمہ نے یک لفظی جواب دیا۔
” نہیں۔۔”
اور حکان جو کچھ شرارتی سا سننے کے موڈ میں تھا، اسے ایسا محسوس ہوا جیسے سرد پانی کی بوتل اس پہ انڈیل دی گئی ہو۔ اکاسمہ اب مسکراتے ہوئے پرسکون سی پیچھے ہوئی۔ اس کی ٹائی کھینچ کے وہ مسکرائی۔
” میرے پیچھے مت آنا۔ “
اس کے چہرے پہ اپنی سانسیں چھوڑتی، سر جھٹک کے، وہ مڑ کے جانے لگی جبکہ حکان نہ سمجھنے والے انداز میں اس کی پشت گھورتا رہا۔ اگلے سیکنڈ میں اسے سمجھ آیا کہ عورت جب کوئی منفی بات کرتی ہے تو اس کا مطلب مثبت ہوتا ہے۔
‘ مت آنا ‘ مطلب یہ ہوا کہ ۔۔۔ ‘ ضرور آنا ‘ ۔
وہ زیر لب مسکراتا، تیز تیز قدموں سے چلتا، اس کے قریب پہنچا اور اس کی کمر کے گرد بازو رکھتا، وہ ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ اکاسمہ زیر لب مسکرائی اور پھر نظریں اٹھا کے اسے گھورنے لگی۔
” میں نے کہا تھا کہ ۔۔۔ “
“میں سن چکا ہوں۔ ”
حکان نے اس کی بات کاٹ دی۔ اکاسمہ مزید اس کے قریب ہو کے، اس سے لگ گئی کہ اس شخص میں، اکاسمہ کا سکون تھا۔
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
” عفان ۔۔۔ ”
عندلیب کی مدھم آواز پہ، عفان نظر اٹھا کے اسے دیکھنے لگا جبکہ وہ بوکھلا کے نظریں جھکا گئی۔
” بولو، سن رہا ہوں ”
اس کی بھاری آواز نے مزید عندلیب کو خائف سا کر دیا۔ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
” مجھے گھر جانا تھا تو کیا ۔۔۔۔”
” جاؤ ”
اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی، مختصر جواب ملا تھا اسے۔ عندلیب اس شخص کو دیکھتی رہ گئی جو کبھی اس سے محبت کرتا تھا، اسے پوجتا تھا اور اب اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا تھا۔ بلکہ وہ اب عندلیب کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی، اپنے ہی کاموں میں مصروف رہتا، عجیب لوگوں سے ملنا ہوتا اس کا، عجیب فون کالز، عجیب باتیں۔ وہ خائف سی ہو گئی تھی اب عفان سے۔
” جا کیوں نہیں رہی تم ؟؟”
عفان کی بھاری آواز پہ وہ اچانک چونکی۔ اور تیزی سے سر ہلا کے، کمرے سے باہر نکل گئی ۔ تیزی سے دھڑکتے دل کو تسلی دیتی، وہ گہرا سانس لیتی، کوریڈور سے گزرنے لگی۔ اسے اکاسمہ سے ملنا تھا۔ وہ ملنا چاہتی تھی اس سے، اسے بتانا چاہتی تھی عفان کی بدلی ہوئی شخصیت کے بارے میں۔ ہاسپٹل کے احاطے سے باہر نکل کے، اس نے اپنے موبائل پہ ایک نمبر ڈائل کیا۔
” ہیلو”
دوسری طرف سے اکاسمہ کی آواز ابھری تو عندلیب کی دھڑکنیں مزید تیز ہو گئی۔
” ا ۔۔۔ اکاسمہ میم ”
عندلیب کی کانپتی آواز نے اکاسمہ کو چونکایا تھا۔
” عندلیب؟ تم ٹھیک ہو ؟”
” م۔۔۔ مجھے ملنا ہے آپ سے، ”
عندلیب نے عجلت میں کہا
” ہاں، آ جاؤ۔ آفس میں ہوں میں ”
اکاسمہ کی بات سن کے، عندلیب نے تیزی سے کال بند کی اور کانپتی ٹانگوں کو گھسیٹتی آگے بڑھ گئی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا کر رہی ہے ؟؟ صحیح کر رہی ہے یا غلط؟؟ عفان تو اکاسمہ کا بھائی ہے، وہ اس کی بات کا یقین کرے گی کہ نہیں؟ لیکن اسے بات کرنی ہی تھی۔ اسے یقین تھا کہ اکاسمہ اس کی بات سنے گی۔ کیونکہ وہ، وہی لائیر اکاسمہ حیات تھی جو ہمیشہ سچ کا ساتھ دیتی ہے اور یہی وجہ تھی کہ اگلے بیس منٹ میں اکاسمہ کے آفس میں، اس کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی ۔ جو اس نے محسوس کیا تھا، جو وہ عفان کے متعلق ان دنوں محسوس کر چکی تھی، سن چکی تھی اور دیکھ چکی تھی۔ اکاسمہ خاموش بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔ عندلیب نے دھڑکتے دل کے ساتھ نظریں جھکائی۔
” اکاسمہ میم، میں جانتی ہوں کہ عفان آپ کا بھائی ہے، میں آپ اور ان کے بیچ کوئی اختلاف نہیں ڈالنا چاہتی لیکن مجھے اب ڈر لگ رہا ہے۔ مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ وہ مجھ میں دلچسپی رکھتے ہیں یا نہیں لیکن ۔۔۔ مجھے آپ کی فکر ہے، مجھے نہیں معلوم کہ کیا سچ ہے یا کیا جھوٹ لیکن ۔۔۔۔ ”
وہ خاموش ہو کے لب کاٹنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا اور بےاختیار ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ اکاسمہ کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔ وہ ساکت دھڑکن کے ساتھ تھوڑا جھکی تھی۔
” کیا ؟؟ آگے کہو عندلیب؟ “
عندلیب کی پلکیں لرزنے لگی۔
” م۔۔۔۔ میں پہلے آنا چاہتی تھی آپ کے پاس،، جب مجھے پہلی بار شک ہوا تھا لیکن میں منتظر تھی اپنے شک کو یقین میں بدلنے کے لئے۔ ع۔۔۔۔۔ عار۔۔۔ یز سر سے متعلق ۔۔۔ “
اکاسمہ کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے جبکہ ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے تپش اس کے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہو۔
” ک ۔۔۔ کیا ؟؟ کیا سنا تم نے ؟؟”
” میں نے نادانستہ طور پہ ان کی باتیں سن لی تھی اس دن۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے عاریز سر سے بہت ناراض ہو عفان، بےحد سخت الفاظ میں وہ ذکر کر رہے تھے عاریز سر کا “
” کب ؟؟ کب سنی تم نے یہ باتیں؟؟”
اکاسمہ اپنی جگہ سے اٹھ کے، اس کے قریب آ کے بیٹھ گئی۔
” ایک مہینہ پہلے اور پھر پچھلے ہفتے۔ ”
عندلیب نے آہستہ آواز میں بتایا۔
” پہلے مجھے لگا کہ میری غلط فہمی ہے، شاید میں نے غلط سن لیا ہے لیکن عفان کے بدلے رویے سے پریشان ہو کے، میں اکثر یہ جاننے کی کوشش کرتی کہ وہ کیوں ایسا کر رہے ہیں میرے ساتھ تو میں کبھی کبھی چپکے سے ان کی باتیں سن لیتی کہ شاید کسی دوسری لڑکی کا معاملہ ہے۔ کبھی فون پہ بات کرتے ہوئے تو کبھی جب کوئی ان سے ملنے آتا۔ اسی لئے پچھلے ہفتے بھی جب وہ اپنے اسی دوست سے بات کر رہے تھے تو میں نے سن لیا تھا۔ عاریز سر سے متعلق تھا ۔ عفان کے الفاظ سے نفرت ظاہر ہو رہی تھی عاریز سر کے لیے اور پھر ۔۔۔۔ حکان ملک کا بھی ذکر ہوا ۔۔ ”
وہ خاموش ہوئی۔
” کیا ذکر؟؟ ”
اکاسمہ نے ڈوبتے دل کے ساتھ سوال کیا۔
” عفان بےحد نفرت کرتے ہیں حکان ملک سے۔۔ اسقدر نفرت کہ جب وہ اپنی نفرت کا اظہار کر رہے تھے تو ان کے الفاظ سے مجھے خوف محسوس ہونے لگا۔ “
اکاسمہ جیسے سن ہو گئی۔ وہ یک ٹک عندلیب کو دیکھ رہی تھی۔ عفان کی شخصیت میں بدلاو تو اسے بھی محسوس ہوا تھا لیکن اس قدر بھیانک بدلاو، کہ عندلیب کے الفاظ سے، اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔
” میں سچ کہہ رہی ہوں اکاسمہ میم، میری بات کا یقین کرے۔ مجھے اپنی زندگی کی کوئی خبر نہیں ہے کیونکہ اگر عفان کو پتہ چلے تو شاید مجھے موت کے گھاٹ اتار دے لیکن مجھے اپنی فیملی اور آپ کی فکر ہے۔ اس لئے میرے بعد، اکاسمہ میم میری فیملی کی حفاظت کیجئیے گا پلیز۔ میری آپ سے درخواست ہے ”
عندلیب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
” تم ایسے کیوں بات کر رہی ہو عندلیب؟؟ یہ موت؟؟ زندگی ؟؟”
اکاسمہ جو سوچ رہی تھی، سمجھ رہی تھی وہ شاید نہ سوچنا چاہتی تھی اور نہ سمجھنا۔ عندلیب کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے جبکہ ان میں خوف کا عالم تھا۔
” عفان کو جیسے بدل دیا گیا ہو کسی اور سے۔ تبھی میں اس قدر یقین سے بات کر رہی ہوں۔ میں ان کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی ۔ میں نے عفان کی آنکھوں میں غصہ دیکھا ہے، اپنے سے متعلق لاپرواہی دیکھی ہے۔ میں ان کی آنکھوں میں چبھ رہی ہوں جیسے۔ ایک ناکارہ بوجھ۔ میں ۔۔۔ مجھے کچھ اور بھی کہنا ہے ”
وہ ہچکچا رہی تھی۔ جبکہ اکاسمہ غور سے اسے دیکھنے لگی۔
” کہو عندلیب، میں سن رہی ہوں “
” مجھے عفان کے ساتھ رہتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے۔ میں شاید کسی دن مر جاؤں اور کسی کو خبر بھی نہ ہو۔ اس گھر میں مجھے کئی بار کرنٹ لگا، کئی دفعہ کھانا پکاتے ہوئے، میرے کپڑوں یا دوپٹے پہ آگ لگی ہے، واشرروم میں پھسلی ہوں میں۔ اس گھر میں جیسے میرے لئے موت کا کنواں کھود دیا گیا ہو لیکن میں۔۔۔۔ میں نہ خود کو بچا پا رہی ہوں اور نہ ہی۔۔۔ ”
وہ بھیگی نظریں جھکا گئی جبکہ اکاسمہ نے پریشانی سے، اس کے پیٹ پہ رکھے، اس کے کانپتے ہاتھ کو دیکھا اور وہ لرز گئی۔
” تم ۔۔۔۔ پریگننٹ ہو عندلیب؟”
عندلیب نے بھیگی پلکیں اٹھا کے اکاسمہ کو دیکھا۔
” ہم دونوں کی جان خطرے میں ہیں۔۔۔ “
وہ بلکل اچانک رونے لگی ۔
” عفان کو معلوم ہے ؟؟”
” میں نے نہیں بتایا لیکن میرے خیال سے، ان کے علم میں ہے یہ بات۔ تبھی اس گھر کو میرے لئے موت کا میدان بنایا جا رہا ہے۔۔۔ ب ۔۔۔ بہت چھوٹا ہے میرا بچہ۔۔۔ مر جائے گا کیا ؟؟ ”
وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ اکاسمہ نے تیزی سے اسے گلے لگایا۔
” ہشش، کچھ نہیں ہوگا۔ میں تم دونوں کو کچھ نہیں ہونے دوں گی۔۔ ہشش”
اکاسمہ نرمی سے اس کی پیٹھ سہانے لگی جبکہ اس کی خوبصورت آنکھوں میں سوچ کی پرچھائیاں تھیں۔ عفان ؟؟ کیا ہو گیا تھا؟ کون بن گیا تھا وہ؟؟ کیا وہ اس کا بھائی نہیں تھا ؟؟ ایک ہی گھر میں وہ ساتھ بڑے ہوئے تھے تو پھر آگے جا کے، ایسا کیا ہو گیا کہ عفان کو پہچاننا سب کے لئے مشکل بن چکا ہے۔ اسے عندلیب کو بچانا تھا۔ اسے اس ننھے وجود کو بچانا تھا۔ عندلیب کے وجود میں پنپ رہا تھا۔ یہ سب کیا ہو رہا تھا ؟؟
حکان ؟؟ حکان سے اتنی نفرت کیوں؟؟ عاریز خان سے اتنی نفرت کی وجہ ؟؟
اوہ اللہ! یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟؟
□□□□□□□□□□□□□□□□
شام کے پانچ بج رہے تھے جب عفان کے موبائل پہ کال آنے لگی۔ ماتھے پہ بل ڈالے، اس نے کال ریسیو کی لیکن آواز نارمل ہی رکھی۔
” ہیلو اکاسمہ”
” عفان، آج عندلیب مجھ سے ملنے آ رہی تھی۔ مجھے دن گیارہ بجے اس نے کال کر کے کہا کہ وہ مجھے کوئی بات بتانے والی ہے اور کافی خوفزدہ تھی لیکن اب تو شام کے پانچ ہو رہے ہیں وہ ابھی تک نہیں آئی میرے پاس۔ اس کا موبائل بھی بند ہے۔ کیا وہ تمہارے پاس ہے ؟؟”
عفان کے ماتھے پہ بلوں میں اضافہ ہوا ۔ اس کی آنکھیں سرخی مائل ہونے لگی۔
” کیا بتانا چاہتی تھی وہ تمہیں؟؟”
” مجھے کیا پتہ ؟؟ وہ ملنے آتی تو مجھے پتہ چلتا۔ خیر کیا وہ تمہارے پاس ہے ؟؟ اگر ہے تو پلیز اُسے کہو کہ مجھے کال کرے ۔ میں ویٹ کر رہی ہوں ”
اکاسمہ بات کرتے ہوئے دوسری طرف کا بھی اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی تھی۔
” ہممم، عندلیب باتھروم میں ہے۔ جیسے ہی نکلتی ہے میں اس سے کہتا ہوں کہ تمہیں کال کرے”
عفان نے اپنی اواز کو نارمل رکھتے ہوئے کہا۔
” ٹھیک ہے، میں یوں کرتی ہوں تم دونوں سے ملنے وہیں آ جاتی ہوں۔ ایسے میں ۔۔۔۔ ”
اکاسمہ کی بات ادھوری رہ گئی۔ عفان نے اس کی بات کاٹ دی۔
” میں اور عندلیب ایک پارٹی میں جا رہے ہیں اور وہ تیار ہو رہی ہے تو میں اسے کہتا ہوں کہ تمہیں کال کرے۔ تم تھک گئی ہوگی۔ گھر جا کے آرام کرو۔ چلو بائے ”
ساتھ ہی کال بند ہو گئی۔ اکاسمہ نے گھور کے موبائل کو دیکھا۔ اس کے ماتھے پہ بل پڑ گئے۔ اس کی آنکھوں میں عجیب چمک ابھری۔
‘ عفان کون ہے ؟؟ ‘
یہی ایک سوال اس کے دماغ میں بار بار ابھر کے، معدوم ہو رہا تھا لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جواب کیا ہے اس سوال کا؟؟
عندلیب کو اس نے محفوظ جگہ پہنچا دیا تھا اور عفان اس سے جھوٹ بول رہا تھا کہ عندلیب باتھروم میں ہے۔ اب اسے ایک نیا حادثہ منظر عام پر لانا تھا کہ
‘ عندلیب مر چکی ہے ‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تیزی سے اٹھ کے اپنے آفس سے باہر نکلی اور حکان کے آفس میں داخل ہوئی۔ حکان جو لیپ ٹاپ پہ کام کر رہا تھا، نظر اٹھا کے، مسکرا کے اسے دیکھنے لگا۔
” زہے نصیب ملکہ عالیہ، آپ کو فرصت مل گئی۔ “
” مجھے ایک عورت کی ڈیڈ باڈی چاہئے ”
اکاسمہ نے اچانک کہا اور حکان اپنی جگہ جم کے رہ گیا۔
” وہاٹ؟؟”
” یہی کوئی 25 یا 26 سال کے قریب ہو باڈی۔ جلی ہوئی یا پھر ایسی باڈی ہو کہ چہرے کی شناخت نہ ہو پائے”
اکاسمہ پہ اپنا دھن سوار تھا جبکہ حکان جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔
” تم کیا بول رہی ہو اکاسمہ؟؟ کچھ پی تو نہیں لیا ایسا ویسا ؟؟”
” کل تک بھی مل جائے تو کوئی مسئلہ نہیں ”
اکاسمہ جیسے اسے سن نہیں رہی تھی۔ حکان چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور اسکے ماتھے پہ، گال پہ ہاتھ رکھ کے چیک کرنے لگا جبکہ آنکھوں میں تشویش تھی۔
” اکاسمہ میری جان ، کیا پی لیا ہے تم نے ؟”
” حکان ایم سیریس۔ ”
اکاسمہ کا چہرہ سپاٹ تھا۔ ھکان کچھ دیر اسے دیکھنے لگا۔
” کیا کرنا ہے باڈی کا تم نے ؟؟”
” نہیں بتا سکتی ابھی ”
اکاسمہ نے نظریں چرائیں۔ حکان نے اسکے دونوں نرمی سے تھامے، اسے اپنے ساتھ صوفے پہ بٹھایا۔ اس کے دونوں ہاتھوں پہ باری باری بوسہ دے کے، وہ اب اکاسمہ کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” کیا بات ہے اکاسمہ؟؟ کیا پریشانی ہے ؟؟”
” نہیں بتا پا رہی میں کچھ بھی۔ حکان میں۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا، عجیب حالات میں گھر گئی ہوں میں کہ کوئی راستہ نہیں نظر آ رہا مجھے۔ ”
اکاسمہ بےحد تھکی ہوئی لگ رہی تھی۔ حکان نرمی سے، اس کے گال سہلانے لگا۔
” ٹھیک ہے، کل تک چیک کرتا ہوں میں۔ اب ریلیکس ۔۔۔ ”
اکاسمہ کی پریشان آنکھیں گلابی ہونے لگی۔
” عفان حیات کی بیوی، عندلیب جو کہ حاملہ تھی ، کل شام ایک حادثے کا شکار ہوئی اور اس کی زخمی لاش کو جنگل کنارے، سنسان سڑک پہ دریافت کیا گیا۔ “
” وہاٹ؟؟ کب ؟؟ ”
حکان چونکا جبکہ اکاسمہ نے کندھے اچکائے۔
” کل کے نیوز پیپرز میں یہ خبر چھاپ دی جائے گی۔ “
” اکاسمہ کیا تم مجھے پاگل بنانے کا ارادہ رکھتی ہو ؟؟”
حکان جھنجھلا سا گیا۔
” عندلیب اور اس کے بچے کی جان کو خطرہ ہے، اسے میں نے محفوظ جگہ پہنچا دیا ہے لیکن عفان کا دھیان بٹانے کے لیے ضروری ہے کہ عندلیب کی موت کو یقینی بنایا جائے۔ ”
اکاسمہ آہستہ اواز میں بتانے لگی۔
” کس سے خطرہ ہے ؟؟”
حکان کے سوال پہ، اکاسمہ نے اپنے لب کاٹے۔
” عفان حیات سے۔ “
حکان کی آنکھوں میں حیرت آئی اور پھر معدوم ہو گئی۔ وہ غور سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔ جیسے کچھ اور بھی جاننا چاہ رہا ہو۔۔
” مجھے پتہ لگانا ہے کہ عفان حیات کون ہے ؟”
اکاسمہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی کہہ رہی تھی جبکہ حکان نے اُسے تیزی سے روکا۔
” ہرگز نہیں۔ میں تمہیں خطرے میں نہیں ڈال سکتا اکاسمہ۔ “
” وہ میرا بھائی ہے، ہم بچپن سے بڑے ہونے تک، ایک ہی گھر میں ساتھ رہے ہیں۔ ایسا کیا ہو گیا ہے کہ میرا بھائی اس قدر بدل گیا ہے کہ رشتوں کے تقدس کو بھول گیا ہے۔ مجھے اس سے پوچھنا چاہئے، سوال کرنا چاہئے۔ اسے جواب دینا ہوگا”
” وہ جواب نہیں دے گا ”
حکان نے لب بھینچے کہا۔
” کیوں نہیں دے گا ؟؟”
اکاسمہ اچنبھے سے اسے دیکھنے لگی۔
” اکاسمہ تم ایسا کچھ نہیں کرو گی کہ تمہاری جان خطرے میں پڑ جائے۔ وہ تمہیں کوئی جواب نہیں دے گا بلکہ شاید ایسا ہو کہ ۔۔۔ تمہاری جان بھی عندلیب کے جیسے خطرے میں پڑ جائے ”
حکان کی آنکھوں میں کچھ عجیب تھا کہ اکاسمہ چونک سی گئی۔
” تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟؟ میرا ہی بھائی، میرا خون مجھے نقصان پہنچائے گا ؟؟”
” وہ تمہارا ۔۔۔۔۔بھائی نہیں ہے اکاسمہ۔ ”
حکان کے دھیمے انداز سے اکاسمہ کانپ سی گئی۔ اس کا دل ڈوب سا گیا جبکہ آنکھیں تاریک ہونے لگی۔
” حکان تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟؟ عفان میرا بھائی۔۔۔۔ “
” نہیں ہے۔۔۔ اکاسمہ عفان تمہارا بھائی نہیں ہے۔ ہاسپٹل میں دھوکے سے، تمہارے سگے بھائی سے، عفان کو بدل دیا گیا تھا اور اس کے بڑے ہونے کے بعد، جب وہ سمجھ بوجھ والا ہوا تو اسے تم سب کے خلاف استعمال کیا جانے لگا۔ وہ دشمن ہے تمہارا، تم اس کے پاس جاؤ گی ۔ وہ تمہیں نقصان پہنچائے گا۔ تم اس سے سوال کرو گی اور وہ تم پہ وار کرے گا۔ تم اس سے پوچھو گی اور وہ ہر وار سے تمہیں اتنا زخمی کرے گا کہ تم چھلنی ہو جاؤ۔ تمہارا اپنا خون، تمہارا اپنا بھائی نہیں ہے وہ “
اکاسمہ اسے خوفزدہ آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ ان آنکھوں میں خوف اور بےیقینی کی پرچھائیاں تھیں۔
” تو میرا بھائی ۔۔۔۔ کہاں ہے ؟؟”
وہ خوف، وہ سوال، وہ خیال جو اس کے ذہن میں بلکل اچانک کودا تھا۔ وہ شخص، جو آج صبح حکان کے ساتھ ہاسپٹل آیا تھا۔ جو مسکراتی، محبت بھری نظروں سے، اسے دیکھتا، اس کا حال پوچھ رہا تھا۔ اس کی دھڑکنیں بےساختہ تیز ہونے لگی جیسے دل کانوں میں دھڑک رہا ہو۔ وہ نام سننا چاہتی تھی اس وقت۔
” کاووس شاہ ۔۔۔ ”
حکان نے الفاظ ادا کیے اور جیسے دل دھڑکنا بھول گیا جیسے اردگرد سب ساکت ہوگیا۔
