Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 07

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 7

 

” نکاح کب ہوا ان دونوں کا ؟؟ جو ایکدم سے پراسیکیوٹر عاریز خان ہزبینڈ بن گیا اس وکیل صاحبہ کا ”
وجدان ملک غصے سے تلملا رہا تھا جبکہ جعفر بھی وہیں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا ۔
” مجھے تو لگتا ہے کہ صرف وکیل صاحبہ کو بچانے کے لئے عاریز خان نے اچانک اس سے نکاح کیا ہے ۔ ”
” ہمممم ، ایسا یے تو ؟؟ تو ؟؟؟ شازم خان کو اس بات کی خبر ہی نہ ہوگی۔ کیوں ہے ناں ”
وجدان ملک اپنی بات کہہ کے اب ہنس رہا تھا ۔
” میرا سارا پلان چوپٹ کر کے رکھ دیا ان دونوں نے ۔ فیاض حیات سے میرا بدلہ رہ گیا۔ ”
اس نے اب کے دانت پیسے تھے اور پھر جعفر کو دیکھنے لگا ۔
” کال کرو شازم خان کو ۔ ”
” اوکے ۔ ”
موبائل نکال کے وہ شازم خان کو کال کر کے موبائل اس کی طرف بڑھا چکا تھا ۔
” ہیلو شازم خان ، کیسے ہو buddy ؟؟”
اس کے شرارتی انداز پہ شازم خان نے گھور کے موبائل کو دیکھا تھا۔
” خیریت ؟؟ کال کس لئے کی ہے ؟؟”
” مبارک باد دینی تھی ، بھئی آپ نے بیگانگی دکھا ہی دی اپنی ، اپنے ہی بیٹے کے نکاح پہ مجھے انوائیٹ نہیں کیا ؟ یہ تو بہت غلط بات ہیں ”
وجدان ملک چہرے پہ زہرخند مسکراہٹ سجائے کہہ رہا تھا جبکہ شازم خان کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے ۔
” میں تو اسی دن ہی سمجھ گیا تھا جب اکاسمہ حیات آپ کی اسسٹنٹ بنی تھی کہ یہی لڑکی ایک دن آپ کی بہو بنے گی ، رزلٹ از ہیئر ، بہت بہت مبارک ہو ”
وہ پھر سے ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا جبکہ شازم خان نے کال ڈسکنیکٹ کر دی تھی ، وجدان ملک کیا بکواس کر رہا تھا انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ، تبھی انہوں نے اپنے بیٹے عاریز خان کو خود کال کرنے کا سوچا تھا ۔ اپنے بیٹے سے وہ خود حقیقت سننا چاہتے تھے ۔
” کہاں ہو ؟؟”
کال ریسیو ہوتے ہی انہوں نے چھوٹتے ہی پوچھا تھا ۔
” گڈ ایوننگ سر ، میں ان کا اسسٹنٹ ہوں۔ ”
اسد نے جلدی سے جواب دیا تھا کیونکہ عاریز کا موبائل اس کے کمرے میں ہی رہ گیا تھا۔
” عاریز کہاں ہے ؟”
وہ اچھنبے سے پوچھ رہے تھے۔
” عاریز سر تو اکاسمہ میم کے ساتھ ہیں، ان کا موبائل یہیں ۔۔۔۔ ”
اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی جبکہ شازم خان کال ڈسکنیکٹ کر گئے تھے اور اب لب بھینچے وہ سامنے دیوار کو گھور رہے تھے ، ان کا بیٹا انہی سے چھپ کے نکاح کیسے کر سکتا ہے؟ ایسی کون سی قیامت آ گئی تھی جو ان کے بیٹے کو انہی سے چھپ کے نکاح کرنا پڑا اور ابھی بھی وہ اکاسمہ کے ساتھ ہی ہے۔

☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆☆

” پارسا ازمائر شاہ ”
وہ جو شاپنگ کرنے میں مگن تھی جب اچانک سرد سرگوشی پہ وہ تیزی سے مڑی تھی ۔ اپنے سامنے کھڑی مسفرہ کو وہ اجنبی اور سہمی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی، یہ اس کا نام کیسے جانتی ہے ؟
“یا رخسار فاروقی ”
مسفرہ کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی جبکہ وہ ادھر ادھر نظریں دوڑاتی پھر سے مسفرہ کو دیکھنے لگی۔
” آپ کون ؟؟”
” مجھے جان کے کیا کرو گی، فی الحال تو تمہاری شناخت زیادہ ضروری ہے ”
مسفرہ بڑے ہی دلفریب انداز میں اپنا مدعا بیان کرتی اسے بےسکون کر گئی تھی۔
” میرا نام رخسار فاروقی ہے ۔ ”
اپنا نام بتا کے وہ رخ موڑ کے جانے لگی تھی لیکن اندر ہی اندر دل کانپ رہا تھا ، اپنی بےاختیاری پہ وہ خود کو کوسنے لگی جبکہ مسفرہ کی اواز پہ اسے رکنا پڑا۔
” کہاں جا رہی ہو؟ میری باتیں ابھی نامکمل ہے ”
رخسار لب بھینچے مڑ کے اسے دیکھنے لگی۔
” کیا چاہتی ہو تم ؟؟”
مسفرہ مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی اور پھر قدم قدم چلتی اس کے قریب آئی تھی۔
” یہیں بتا دیتی ہوں، زیادہ دور سے بات کروں گی تو نیوز نہ بن جائے ”
رخسار کی آنکھوں میں خوف ابھرا تھا جسے وہ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
” ازمائر شاہ ۔ ”
رخسار لڑکھڑا کے دو قدم پیچھے ہوئی تھی ۔
” تمہیں ڈھونڈ رہا ہے ۔ ”
مسفرہ جو خود ایک سائیکیٹریسٹ تھی وہ اس وقت اچھی طرح سے اسے زچ کرنا جانتی تھی ۔ جبکہ اپنے خشک ہوتے لبوں پہ زبان پھیرتی، اسے تر کرنے کی کوشش کرتی ، تیزی سے مڑی تھی اور وہاں سے جانے لگی ، ہائی ہیل میں چلتے ہوئے اس کے پاؤں بھی لڑکھڑائے تھے گھبراہٹ میں، لیکن خود کو سنبھالتی وہ گلاس ڈور تک پہنچ کے ایک بار مڑ کے مسفرہ کو دیکھنے کی کوشش کی تھی، جوابا مسفرہ نے نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف ہاتھ ہلایا تھا اور رخسار سر جھٹک کے تیزی سے باہر نکلی تھی جبکہ مسفرہ مسکراتی آنکھوں میں سرد تاثر لیے اسے دیکھ رہی تھی جو اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی ۔
یہ اس کی پہلی ملاقات تھی رخسار فاروقی سے اور اب آگے ایسی بہت سی ملاقاتیں کرنے کا ارادہ رکھتی تھی وہ ۔ تبھی زیر لب مسکراتی وہ بھی اس بوتیک سے باہر نکلنے لگی کیونکہ اسے کلینک جانا تھا ایک پیشنٹ سے اپائنمنٹ تھی شام سات بجے کی ۔

☆☆☆☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆☆

” مجھے کب تک یہاں بیٹھنا ہوگا ؟؟”
منہ بنا کے پوچھا گیا تھا جبکہ پمی کی فائل دیکھتے عاریز نے ایک نظر اسے اٹھا کے دیکھا تھا جو اسے ہی گھور رہی تھی۔
” میں کیس اسٹڈی کر رہا ہوں ”
سنجیدگی سے کہتا وہ پھر سے فائل کو دیکھنے لگا جبکہ اکاسمہ نے آنکھیں گھمائی تھی ۔
” رات ہو چکی ہے مسٹر Prosecutor، مجھے گھر بھی جانا ہے ”
” اپنے کاغذی شوہر کے ساتھ ہی ہو ، کوئی اجنبی نہیں بیٹھا ہوا یہاں ”
فائل پہ نظریں جمائے وہ کہہ رہا تھا ، اکاسمہ کو دیکھے بنا بھی انداز اور لہجہ جتاتا ہوا سا تھا ۔ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی وہ اب عاریز کا پھر غور سے معائنہ کر رہی تھی ۔ اس دن کی طرح آج بھی اس نے سفید شرٹ پہنی ہوئی تھی ، ٹائی کی ناٹ تھوڑی ڈھیلی ہوئی پڑی تھی، سلیقے سے جمائے بال اور ماتھے پہ ہمیشہ کی طرح بےشمار بلوں کا جال، ہلکی ہلکی بیئرڈ اس کے وجیہہ چہرے پہ جچ رہی تھی۔
‘ ہینڈسم ہے ، ناٹ بیڈ ۔۔ تو میں کون سا کم ہوں اس سے ، ‘
دل ہی دل میں ہمکلامی کرتے اس نے کندھے اچکائے تھے ، عاریز نے نظر اٹھا کے اسے دیکھا تھا اور اسی تیزی سے اکاسمہ نے نظریں چرائی تھی ۔ عاریز زیر لب مسکراتا ایک فائل سائیڈ ٹیبل سے اٹھا کے اس کے سامنے رکھ چکا تھا ۔
” 25 دسمبر کو ، موسی کالونی کے قریب اسی انڈر کنسٹریکشن بلڈنگ میں ایک قتل بھی ہوا تھا ، ٹھیک اسی جگہ ، جہاں کا آپ کی کلائنٹ نے اپنے بیان میں بتایا ہے ”
” وہاٹ ؟؟”
وہ حیران آنکھوں سے فائل کھول کے دیکھنے لگی جبکہ عاریز خان منہ پہ ہاتھ کی مٹھی بنا کے رکھتا اسے دیکھ رہا تھا ۔ کندھے تک آتے کھلے بالوں کو ہاتھ سے سائیڈ پہ کرتی ، وہ غور سے فائل کو دیکھ رہی تھی، جھکی پلکیں جیسے گالوں پہ سایہ فگن تھی، چھوٹی سی ناک میں نازک سی نوز پن پہ عاریز کی نظریں ٹھہر گئی تھی ، اور پھر نظروں کا رخ اس کے لبوں پہ ٹھہرا تھا ، دل میں تو وہ پہلے دن سے ہی اتر چکی تھی اور اب جو اتفاق سے ان دونوں کے درمیان جو اچانک سے نکاح کا بندھن بندھا تھا، یہ پاک بندھن جیسے اس کی روح اپنے مقابل بیٹھی اکاسمہ کی روح سے بندھ گیا تھا، دل کی دھڑکنیں بےترتیب سی ہوئی تھی، تبھی زیر لب مسکرا کے اس نے سر جھٹکا تھا ۔
” اس کا میری کلائنٹ سے کیا تعلق ہو سکتا ہے ؟؟”
وہ اب سوالیہ نظروں سے عاریز کو دیکھ رہی تھی اور وہ بھی سنبھل کے بیٹھ چکا تھا ۔
” دیکھا جائے تو گہرا تعلق ہے ۔
12:00 am and 12:30 am
دونوں حادثوں کے بیچ زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔ ”
” تو اس انویسٹیگیشن میں تم پمی کو بھی شامل کر رہے ہو ؟ ”
اکاسمہ فائل بند کر کے پوچھنے لگی جبکہ عاریز کندھے اچکا گیا ۔
” بلکل ، کیونکہ اس رات اور اسی ٹائم وہ بھی وہیں تھی اور اس کے بعد دو مرڈر مزید ہوئے ہیں اس بلڈنگ میں ۔ دیکھتے ہیں لنک کرتے ہیں کہ نہیں۔ ”
” ہممم ۔۔ ”
سر اثبات میں ہلاتی اس نے ہنکارا بھرا تھا ۔
” چلئیے میں آپ کو گھر چھوڑ آتا ہوں ”
عاریز نظر بھر کے اسے دیکھتا اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ اکاسمہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔ ۔
” میں خود چلی جاؤں گی ۔ ”
عاریز نے رک کے اسے دیکھا تھا ۔
” لیٹس سی ”
کہتا وہ آگے بڑھا تھا جبکہ اکاسمہ نے اسے گھورا تھا ۔
” کل میں بھی جاؤں گی اس بلڈنگ میں پمی کے ساتھ ”
عاریز رک کے اسے دیکھنے لگا ۔
” کسی قیمت پہ بھی میں اس بات کی اجازت نہیں دوں گا ”
کس قدر استحقاق بھرا لہجہ تھا ، اکاسمہ چونکی تھی ۔
“کیوں؟؟”
” کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کسی بھی مشکل میں پھنس جاؤ۔ ”
اس نے کندھے اچکائے تھے اور ساتھ ہی اپنا کوٹ پہننے لگا جبکہ اکاسمہ لب بھینچے اسے دیکھ رہی تھی ۔
” تم تو کہہ رہے تھے کہ تمہیں میرے معاملات سے فاصلہ رکھنا ہے ”
عاریز خان اس کے مقابل رک کے اسے دیکھنے لگا ، ہیزل براؤن آنکھوں میں اس وقت کچھ الگ ہی کہانی تھی ۔
” تم میرے معاملات ہو مسز اکاسمہ عاریز خان ۔ ”
گہرا ، بھاری لہجہ، اکاسمہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ نظریں چرائی تھی ۔
” م ۔۔۔ مجھے نیند آ رہی ہے ، گ ۔۔۔ گھر ”
اس وقت اس مضبوط وکیل صاحبہ کی زبان لڑکھڑا گئی تھی ، ان آنکھوں میں دیکھنا محال لگا تبھی اگے بڑھی تھی ، جب عاریز نے اس کی کلائی تھام کے اسے روکا تھا اور خود کے اس کے مقابل کھڑا ہوا تھا ، اکاسمہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی جبکہ عاریز کی اتنی نزدیکی پہ ، دل کی حالت غیر ہوئی پڑی تھی ۔ وہ جو ہمیشہ اس شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے ، بحث کرنے سے باز نہ آتی تھی، اس لمحے کچھ تو ایسا ہوا تھا کہ وہ کچھ کہہ نہیں پا رہی تھی، کچھ سوچ نہیں پا رہی تھی۔
” سوچنا بھی مت ، کیس میں کچھ بھی غلط نظر آیا مجھے تو میں تمہیں یہ کیس نہیں ہینڈل کرنے دوں گا ”
لہجے میں حکم نہیں تھا ، پریشانی تھی ، اپنائیت تھی، فکر تھی اور ۔۔۔۔۔۔۔ محبت تھی ۔
” آپ سے تم ؟؟”
اس کے لہجے کا اثر زائل کرنے کے لئے اکاسمہ نے آنکھیں گھمائی تھی۔
” تم کون سا آپ بولتی ہو ۔۔ اب چلیں؟؟”
مصروف سے انداز میں موبائل چیک کرتا وہ کہہ رہا تھا ۔
” ہاتھ چھوڑ دیں گے اب میرا ؟؟”
اکاسمہ کی بات پہ ، اسے بنا دیکھے ہی عاریز نے اس کا ہاتھ نرمی سے دبا کے چھوڑ دیا تھا اور خود موبائل پینٹ پاکٹ میں رکھتا دروازے کی طرف بڑھا تھا کہ جیسے وہ کچھ محسوس ہی نہیں کرانا چاہتا اسے، جبکہ اکاسمہ اپنی کلائی پہ اس کے لمس کو محسوس کرتی سر جھٹک گئی تھی۔
” میسنا Prosecutor ”
زیر لب بڑبڑاتی وہ آگے بڑھی تھی کہ دروازہ کھولا عاریز وہیں کھڑا تھا اس کا منتظر۔ لیکن اس کے ساتھ چلتے ہوئے ، بیرونی دروازے تک جاتے اور گاڑی تک پہنچتے اکاسمہ کو اس کے وجود سے کچھ مختلف سا محسوس ہو رہا تھا ، اپنا اپنا سا لیکن کچھ پرایا سا احساس، جو کھبی اسے پہلے محسوس نہیں ہوئی تھی ۔
” ابراہیم ۔ ”
وہ وہاں بنچ پہ بیٹھا ہوا تھا جب عاریز کے پکارنے پہ قریب آیا تھا۔
” یس سر ۔ ”
عاریز اکاسمہ کو دیکھنے لگا جبکہ وہ حیرت سے ابراہیم کو دیکھ رہی تھی ، یہ وہی تھا جسے وہ کل سے اپنے آس پاس دیکھ رہی تھی لیکن زیادہ دھیان نہیں دیا تھا ۔
“کار کیز ؟؟”
عاریز کی اواز پہ وہ چونک کے اپنے بیگ سے گاڑی کی چابی نکال کے اس کی طرف بڑھائی تھی ۔
” اکاسمہ یہ آفیسر ابراہیم ہے اور ابراہیم یہ مس اکاسمہ ۔ ”
ابراہیم ہلکا سا مسکرایا تھا ۔
” گڈ نائٹ میم ۔ ”
” یہ تو ؟؟ ”
اکاسمہ کی سوئی ابھی بھی وہیں اٹکی ہوئی تھی جبکہ عاریز ، اکاسمہ کے گاڑی کی چابی اسے دیتا ، اسے جانے کا کہہ چکا تھا ۔
” یہ کون ہے ؟؟”۔
اکاسمہ کے سوال پہ اس نے گہرا سانس لیا تھا ۔
” تمہاری پروٹیکشن کے لئے ہیں ”
” کیوں؟ ”
اکاسمہ کے ماتھے پہ بل پڑے تھے ۔ ۔
” کیونکہ ضروری ہے ”
وہ گاڑی کا دروازہ کھولنے کے لئے وہ آگے بڑھا تھا ۔
” اسے میں کیا سمجھوں اب ؟؟”
اکاسمہ لب بھینچے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ سیدھا ہو کے پینٹ کوٹ سے وہی پیپر نکال کے اس کے ہاتھ میں دے چکا تھا جس پہ لکھا ہوا تھا ۔
” موت کو قریب سے دیکھنا چاہو گی اکاسمہ حیات ”
اکاسمہ سوالیہ نظروں سے عاریز کو دیکھ رہی تھی جبکہ عاریز نے وہ پیپر لے کے اپنے کوٹ پاکٹ میں رکھ چکا تھا ۔
” میرے معاملات تمہیں پروٹیکٹ کرنا یے ۔ ”
گھمبیر لہجے میں کہتا عاریز اسے گاڑی میں بیٹھنے کا کہنے لگا جبکہ اکاسمہ ناسمجھی سے گاڑی میں آکے بیٹھ چکی تھی۔
” یہ کہاں ملا تمہیں؟؟”
” تمہاری گاڑی پہ پڑا ہوا تھا ۔ ”
سنجیدگی سے کہتا وہ گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا جب اچانک اسے چونکنا پڑا۔
” اس کی ایسی کی تیسی ، مجھے دھمکی دیتا ہے ، اس کی اتنی ہمت ؟ سامنے آ کے بات کرے مجھ سے تو میں بتاؤں اس کمینے کو ، کہ لائیر اکاسمہ کو دھمکی دینا کیا ہوتا ہے ”
وہ دانت پیستی غصے میں کہہ رہی تھی جبکہ عاریز تاسف سے لب بھینچے اسے دیکھنے لگا اور پھر زیر لب مسکراتا گاڑی ڈرائیو کرنے لگا کہ خیام ٹھیک کہتا ہے کہ یہ محترمہ واقع پاکستان لاء کی ڈان ہے ۔

☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆☆

وہ ابھی ابھی گھر پہنچی تھی، دروازہ کھول کے وہ اندر داخل ہوتی لائٹ آن کر چکی تھی اور ابھی قدم لاؤنج کی طرف بڑھائے ہی تھے جب اس کی چیخ نکلی تھی جبکہ صوفے پہ براجمان وجدان ملک مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” رخسار فاروقی ویلکم ہوم مائی ڈئیر ”
وہ مسکرا رہا تھا جبکہ رخسار اپنے دل پہ ہاتھ رکھے اسے خوفزدہ آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔ اسے کیسے معلوم ہوا یہاں کا ایڈریس۔
” یا پھر پارسا کہوں؟؟”
” پ ۔۔ پارسا ؟؟ کون پارسا ؟؟”
وہ جیسے شاکڈ کی کیفیت سے ہوش میں آئی تھی ۔
” م ۔۔ میرا نام رخسار فاروقی ہے ”
وہ خود پہ کافی حد تک کنٹرول کر چکی تھی جبکہ وجدان ملک اپنی جگہ سے اٹھ کے ، پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے اسے کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا ۔
” بالوں کا رنگ بدل دینے سے ، چہرے پہ بھاری میک اپ کر لینے سے اور اپنی ڈریسنگ چینج کر لینے سے تم یہ سمجھ رہی ہو کہ میری زیرک آنکھیں مجھے دھوکا دے سکتی ہے ”
رخسار آنکھیں چرا کے ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔ ۔
” اپنے ہزبینڈ کو اپنے ہی جھوٹے قتل کے الزام میں پھنسا کے جیل بھیج دیا ۔۔ یہ کیا تکنیک ماری ہے تم نے ، داد دینی پڑے گی ”
اپنی بات کہہ کے وہ اب ہنس رہا تھا جبکہ رخسار خود کے پکڑے جانے پہ ، سرد نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی ۔
” کیا چاہتے ہو مجھ سے ؟؟”
” ہمممم ”
وہ ہنکارا بھرتا اب سر تا پاؤں اسے دیکھ رہا تھا ۔
” کس کے ساتھ ہو آج کل ؟؟”
” کام کی بات کرو ”
رخسار بیزاری سے کہتی ابرو اچکا کے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ اس کی طرف جھکا تھا ۔
” ہمارا ادھورا کام مکمل کرنا چاہتا ہوں
میری سادگی دیکھو ،میں کیا چاہتا ہوں ”
اس نے شعر جوڑنے کی کوشش کی تھی ۔
” کون سا کام؟؟”
رخسار کی سوالیہ نظریں اس پہ تھی ۔
” بلیک منی ٹرانسفر ۔ “

☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆

” جائیے بھی، کب تک رکنا ہے یہاں؟؟”
گاڑی سے اتر کے، وہ گیٹ تک گئی تھی لیکن مڑ کے دیکھنے پہ، اسے اب بھی عاریز وہیں کھڑا نظر آیا تو اسے کہنا پڑا جبکہ وہ دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے، گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔
” کچھ دیر میں چلا جاؤں گا ”
اکاسمہ اسے گھورتی، اس کے قریب آئی تھی اور اب اس کے تھکن زدہ چہرے کو گھورنے لگی۔
” کچھ دیر میں؟؟ کیا مطلب ؟؟ ابھی جاؤ ”
” جب تم اندر چلی جاؤ گی اور میں مطمئن ہو جاؤں گا تو چلا جاؤں گا ”
اس نے کندھے اچکاتے جواب دیا تھا۔
” میں جا ہی رہی ہوں، تم جاؤ اب ”
بےرخی سے کہتی، اکاسمہ اب بھی اسے گھور رہی تھی جبکہ اس نے ہاتھ بڑھا کے، شہادت کی انگلی سے، اس کے کھلے بال سنوارے تھے ۔ اکاسمہ کی آنکھوں میں حیرت در آئی تھی جبکہ وہ سنجیدہ نظروں سے اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا۔
” کوئی بھی مشکل ہو، کوئی بھی ایسی بات ہو جو تمہیں پریشان کریں کھبی اکاسمہ، تو بلا جھجھک مجھے سب سے پہلے بتا دینا ”
اس کے بوجھل الفاظ پہ، اکاسمہ کا دل ڈوب کے ابھرا تھا جبکہ وہ ہاتھ پیچھے کر چکا تھا اب ۔
” کیوں؟؟”
اکاسمہ کے سوال پہ، وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔
” کیونکہ مجھے اچھا لگے گا ”
اس نے نرمی سے جواب دیا تھا۔
” کیوں اچھا لگے گا ؟؟”
اکاسمہ کے سوال پہ وہ زیر لب مسکرا دیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اکاسمہ کے سوال ہمیشہ ایسے ہی ہوتے ہیں۔
” کیونکہ سامنے کھڑی لائیر صاحبہ میری کاغذی بیوی ہے تو اچھا لگے گا اگر وہ مجھ پہ یقین کرے گی ”
اکاسمہ کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی اور پھر مسکرانے لگی جبکہ شہادت کی انگلی میں اپنے بالوں کی ایک لٹ لپیٹنے لگی۔
” کاغذی بیوی ”
عاریز نے اپنی کنپٹی سہلائی تھی۔
” ناٹ بیڈ، مطلب میرے کاغذی شوہر چاہتے ہیں کہ میں ان کا یقین کروں کہ وہ میری ہیلپ کرے گیں ہر سیچویشن میں”
لب دانتوں تلے دباتی وہ شرارت سے مسکرا رہی تھی جبکہ وہ کندھے اچکاتے مسکرانے لگا۔
” دیکھ تو چکی ہے آپ کہ میں کس قدر helpful ہوں ”
” یہ آفر سب کے لئے ہوتا ہے یا صرف میرے لئے ہے ؟؟”
عاریز نے رک کے، اس کی سوالیہ آنکھوں میں کچھ دیر دیکھا تھا اور پھر اس کے چہرے کی طرف جھکا تھا۔
” یہ آفر میری بیوی کے لئے ہیں بس، میری کاغذی بیوی ۔ ”
اکاسمہ نے بےحد قریب سے، اس کی آنکھوں میں یقین بھرے، ان کہے جذبوں کو دیکھا تھا، دھڑکنیں منتشر ہوئی تو اپنی شہادت کی انگلی، اس کے دل کے مقام پہ رکھ کے، اسے خود سے پیچھے کیا تھا۔
” فاصلہ طے کرنے کا وقت ابھی نہیں آیا ہمارے بیچ ”
عاریز ہنس پڑا تھا۔
” بن کہے، ہمارے بیچ کے فاصلے بھی یوں مٹ جائیں گے کہ آپ کو سوچنے کا وقت بھی نہیں مل پائے گا مسز اکاسمہ عاریز خان ”
اکاسمہ نے اسے داد دینی نگاہوں سے دیکھا تھا اور پھر مسکرا کے مڑی تھی۔
بنا کوئی جواب دیے، وہ گیٹ تک گئی تھی اور پھر گیٹ عبور کر کے، وہ لان سے ہوتی اندر جانے لگی جبکہ عاریز وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا جب تک کہ وہ گھر کے اندر داخل نہ ہوئی تھی، سر جھٹک کے وہ گہرا سانس لیتا گاڑی میں بیٹھنے کا سوچ رہا تھا جب اس گھر کے، ایک کمرے کی لائٹ اچانک سے روشن ہوئی تھی، وہ رکا تھا اور لب بھینچے، منتظر نگاہوں سے اس بالکونی کو دیکھنے لگا جہاں اکاسمہ آئی تھی اور آنکھوں میں حیرت ابھری تھی اس شخص کو اب بھی وہاں کھڑا دیکھ کے۔
عاریز کی نگاہیں، اس کی دھڑکنیں پل بھر میں منتشر کرنے کے لئے کافی تھی۔ عاریز زیر لب مسکرا دیا تھا اور سر جھٹک کے، گاڑی میں بیٹھ گیا تھا جبکہ نگاہیں اب بھی، بالکونی میں کھڑی اکاسمہ پہ تھی، جس پہ پورا استحقاق رکھنے کے باوجود بھی، وہ منتظر تھا کہ آہستہ آہستہ وہ اکاسمہ کے دل میں اس قدر بس جائے کہ وہ خود عاریز خان کے ساتھ، اپنی مکمل زندگی بسر کرنے کی خواہش کریں اور اس لمحے کا وہ منتظر تھا۔

●●●●●○○○○○●●●○○●●●●●

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *