Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 35

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 35

” اکاسمہ ۔۔۔۔۔ تم یہاں ”
وہ، پھولوں سے سجی بےحد خوبصورت وادی تھی۔ ہر رنگ کے خوبصورت پھول قالین کی مانند بچھائے گئے تھے۔ اوپر نیلا روشن آسمان تھا جبکہ اس کے مقابل عاریز تھا، جو بےداغ سفید لباس میں ملبوس تھا ۔ اکاسمہ مسکراتی آنکھوں سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو حیران آنکھوں سے اسے دیکھتا قریب آ رہا تھا۔
” کس قدر خوبصورت جگہ ہے یہ ”
اکاسمہ چاروں طرف دیکھتی، اب اسے دیکھنے لگی جبکہ اس نے زیر لب مسکراتے، شہادت کی انگلی سے، اس کے چہرے کو چھوا تھا۔
” تم یہاں کیا کر رہی ہو اکاسمہ ؟؟”
” تمہارے سنگ یہاں رہنے آئی ہوں ”
اکاسمہ مسلسل اسے دیکھنے میں محو تھی جبکہ اس نے مسکراتے ہوئے، سر نفی میں ہلایا تھا۔
” بلکل بھی نہیں، تم یہاں نہیں رہ سکتی ”
” کیوں نہیں رہ سکتی ؟؟”
اکاسمہ کی آنکھوں میں اداسی اتر آئی تھی۔
” کیونکہ یہ جگہ تمہاری نہیں ہے ابھی، تم جہاں کی ہو، وہاں جاؤ ”
عاریز دو قدم پیچھے ہوا تھا جب اکاسمہ نے اس کا ہاتھ تھام کے اسے روکا تھا۔
” میرے وجود پہ کرب کا بسیرا ہے عاریز، کیسے مجھے جانے کو کہہ رہے ہو ”
اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھی ۔ عاریز ان آنسوؤں سے ہمیشہ پگھلنے والا، تیزی سے اس کے قریب آیا تھا۔ نرمی سے جھک کے، اس نے آنسو اپنے لبوں پہ چنے تھے اور پھر ان آنکھوں میں دیکھتا، وہ نرمی سے، اس کے گال پہ ہاتھ پھیرنے لگا۔
” تمہیں کوئی بلا رہا ہے اکاسمہ، جاؤ ”
اکاسمہ نفی میں سر ہلانے لگی جبکہ دور سے اسے اپنے نام کی پکار سنائی دے رہی تھی۔
” جاؤ اکاسمہ، بہترین ہے وہ شخص تمہارے لئے۔۔۔۔ جاؤ یہاں سے ”
عاریز پیچھے ہوا تھا جبکہ اکاسمہ ساکت کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
” بہترین کا انتخاب کیا ہے اللہ تعالٰی نے تمہارے لئے، اللہ کے حکم سے سرکشی نہیں کرنا چاہئے تمہیں۔۔۔۔ وہ بلا رہا ہے تمہیں۔۔۔۔ جاؤ اس کے پاس”
سامنے کھڑا شخص اب دھندلا رہا تھا اور اس دھندلاہٹ میں، وہ اکاسمہ سے دور ہو رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچانک اسے جیسے سانس آئی تھی۔۔۔۔ سینے میں جو بھاری پن تھا، وہ جیسے اٹھنے لگا تو سانس کو آنے کا راستہ مل گیا۔
” اکاسمہ ۔۔۔۔۔۔ اکاسمہ ”
کوئی اسے پکار رہا تھا۔ آواز فاصلے پہ تھی۔ اس کا بازو،
آہ!!!
اس کی زبان سی سسکی سی ادا ہوئی تھی ۔ اس کا بازو جیسے شل ہو چکا تھا اور اس کے جسم سے جدا ہونے لگا ہو ۔۔۔ اس وقت وہ ایسا ہی محسوس کر رہی تھی۔ نیم وا آنکھوں سے وہ چاروں طرف دیکھنے لگی۔ وہ اب بھی یہاں لٹکی ہوئی تھی۔ اب بھی قیامت کی گھڑیاں ختم نہ ہوئی تھی۔
کوئی پھول نہیں تھے، کوئی نیلا آسمان نہیں تھا، کوئی خوبصورت وادی نہیں تھی اور ۔۔۔۔۔ کوئی عاریز نہیں تھا !!!
” اکاسمہ ۔۔۔۔۔ اکاسمہ ۔۔۔۔۔ اکا ۔۔۔۔۔۔ سمہ ”
آواز قریب آئی تو حیرت میں ڈوبی ہوئی تھی۔ کوئی بھاری ہاتھ قریب آیا تھا اور اس کا شل ہوتا بازو تھام چکا تھا۔ اکاسمہ نے بھیگی پلکیں اٹھا کے اسے دیکھا تھا۔ جس کی آنکھوں میں خوف تھا، کرب تھا، آنسو تھے، اسے کھو دینے کا خوف ہر احساس پہ بھاری تھا جبکہ اکاسمہ کی بھیگی آنکھیں خالی سی تھی۔ وہ خالی نظروں سے، اس شخص کو، اس مہرباں کو، دیکھ رہی تھی۔ جو اسے آہستگی سے، بازو سے تھام کے، کھینچ کے، اوپر کر چکا تھا۔
اسے بالکونی میں اٹھا کے، بےساختہ اسے بانہوں میں بھر لیا تھا جبکہ اکاسمہ کا وجود اس قدر خستہ حال اور بےجان ہو چکا تھا کہ اسے اس وقت ایسے ہی سہارے کی ضرورت تھی، تبھی وہ اس کے سینے سے لگ کے، اس کے بانہوں میں سما گئی۔
” اکاسمہ، اکا ۔۔۔ سمہ۔۔۔۔۔ ٹ ۔۔۔ ٹھیک ہو ، ت ۔۔۔ تم ٹھیک ہو میری جان ۔۔۔۔۔ ”
وہ اچانک سے رونے لگا۔ کس حال میں وہ یہاں تک پہنچا تھا۔ یہ تو وہی جانتا تھا اور اس کا رب جانتا تھا۔
آٹھ سال۔۔۔۔ جس سے محبت کی، جسے بےپناہ چاہا۔۔۔۔ اس کے قابل بنایا خود کو ۔۔۔۔۔ اسی کے موت کی خبر نے اسے نیم جان کر دیا تھا۔ اسے لگا تھا کہ وہ ختم ہو گیا ہے اور پھر ازمائر کی کال آئی اور لوکیشن سینڈ کر دی لیکن ۔۔۔۔۔ یہاں تک اتے اسے لگا کہ جیسے صدیاں بیت گئی ہے اور وہ پہنچ نہیں پا رہا یہاں۔ اور یہاں۔۔۔
اکاسمہ کی یہ حالت۔۔۔۔
اس کا خستہ حال وجود ۔۔۔
اس کی خالی نظروں کا وہ تصادم، جو اس کی روح کھینچ گیا۔
اسے بانہوں میں بھرے، وہ رو رہا تھا ۔ دنیا کا خطرناک اور مضبوط ہیکر، جو ایک سیکنڈ میں، ہر سسٹم کو ہیک کر لینے کی قابلیت رکھتا تھا۔جو امریکا کے ٹاپ ہیکرز میں شمار ہوتا تھا۔ وہ اس وقت ایک نازک لڑکی کو بانہوں میں بھرے رو رہا تھا کیونکہ اس لڑکی کے موت کی خبر، اس کے لئے روح فرسا تھی۔
” میں ڈر گیا تھا۔۔۔ ا۔۔۔۔کاسمہ میں خوفزدہ ہو گیا تھا۔ مجھ میں تمہیں کھونے کی سکت نہیں ہے اب ”
” م ۔۔۔۔ م۔۔۔۔۔۔ میرا ہ ۔۔۔۔۔۔ ہا۔۔۔۔تھ”
اس کے سینے سے لگی، اکاسمہ کے لبوں سے سسکی نکلی تھی۔ حکان اسے بھیگی آنکھوں سے دیکھنے لگا لیکن تب تک وہ بےہوش ہو چکی تھی اور اس نیم جاں وجود کو، بانہوں میں بھرے حکان تیزی سے دوڑ پڑا تھا ۔

■■■■■■■■■■■■□□□□□□■■■■■■■■

اسے ہوش آیا تو خود کو ہاسپٹل بیڈ پہ پایا۔ بازو میں ڈرپ لگی تھی ۔ دھندلی آنکھوں سے وہ سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔ وہ نیم بیدار سی محسوس کر پا رہی تھی اس درد کو، جو اس کے بازو کو شل کر رہے تھے۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے پھر کبھی وہ ان ہاتھوں کا استعمال نہیں کر پائے گی۔ لیکن!!!!
اس کی آنسو سے نکل کے، تکیے پہ اس کے بکھرے میں جذب ہو گئی تھی۔ اس درد سے کم ہی تھا جو اسے عدیل حیات کے الفاظ سے ملا تھا۔ جو فیاض حیات کے متعلق تھا، اسکے بابا کے متعلق۔۔۔ جن کو وہ اپنا آئیڈیل مانتی تھی، وہ باپ آج جیسے آنکھوں سے گر چکا تھا۔ اس نے سسکی بھری تھی لیکن آنکھیں مسلسل بند تھی۔
” اکاسمہ۔۔۔۔۔”
نرم سرگوشی اسے سنائی دے رہی تھی۔ نیم بیداری کی حالت میں بھی، وہ اس مہرباں شخص کی سانسوں کو، اپنے چہرے، اپنی گردن اپنے کان کی لو پہ محسوس کر پا رہی تھی۔
کچھ دیر بعد سکوت تھا۔ وہ غنودگی میں جا چکی تھی اور جب آنکھوں نے پھر سے روشنیوں کا سفر کیا، پھر سے ذہن بیدار ہونے لگا تب سب واضح ہو چکا تھا۔ آنکھیں دھندلا نہیں رہی تھی بلکہ پورے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔ وہ ہاسپٹل بیڈ پہ تھی۔ اسے یاد آیا۔۔۔ حکان آیا تھا۔ وہ اسکی بانہوں میں تھی، وہ رو رہا تھا، اس کے انسو، اکاسمہ کے گال پہ گرے تھے۔
کمرے کا دروازہ کھلا تو اکاسمہ چونک کے آنے والے کو دیکھنے لگی۔ وہ عفان تھا، اسکا بھائی، اسکا اپنا خون ۔۔۔ اور وہ ؟؟؟ عدیل حیات؟؟ وہ بھی تو ؟؟؟
” کیسی ہو ؟؟ میری بچی ؟؟”
عفان اس پہ جھکا، اس کے بالوں پہ ہاتھ پھیرنے لگا جبکہ وہ مسکرانے کی کوشش کرنے لگی۔
” ٹھیک ہوں۔ ”
” ڈرا دیا تھا اکاسمہ تم نے ہمیں۔۔ ”
عفان کی آنکھیں نم ہوئی تھی جبکہ اکاسمہ نے حرکت کرنے کی کوشش کی تو اسے درد کا احساس ہوا وہ کراہ کے رہ گئی۔ عفان اس کا بازو چیک کرنے لگا ۔
” کچھ دن پین رہے گا لیکن ٹھیک ہو جاؤ گی انشاءاللہ۔۔۔ بابا بھی بہت پریشان تھے، بار بار تمہارا پوچھ رہے ہیں۔ میں ان کو بلاتا ہوں ان کو ۔۔۔ ”
عفان اٹھنے لگا جب اکاسمہ نے ہاتھ بڑھا کے، اسے روکا تھا ۔
” ن ۔۔۔ نہیں۔۔۔ ”
عفان نے حیرانی سے اسے دیکھا جبکہ وہ آنکھیں چرا گئی۔ پھر لب کاٹتی عفان کو دیکھنے لگی۔
” مجھے ح۔۔۔۔۔حکان سے ملنا ہے ”
” حکان ؟؟ وہ ابھی تک یہیں تو تھا، باہر گیا ہوگا، میں دیکھتا ہوں ”
اکاسمہ ہلکا سا مسکرائی تھی جبکہ عفان اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتا، کمرے سے باہر نکلا تھا۔ وہ چھت کو گھورنے لگی۔ اسے، اس گھر میں نہیں جانا تھا جہاں وہ شخص۔۔۔
اس کی آنکھیں بھر آئی تھی۔ وہ سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی فیاض حیات کا۔۔۔۔ اگر وہ کر لیتی سامنا تو شاید جو احترام ہے ان کے لئے، وہ ختم ہو جاتا۔
دروازہ پھر سے کھلا تھا اور حکان اندر آیا تھا۔ اکاسمہ اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ قریب آتا، جھجھک کے رک چکا تھا۔ اکاسمہ اسے جس طرح مسلسل دیکھ رہی تھی تو اسے لگا کہ اکاسمہ کو، اس کا یوں بانہوں میں بھر کے اپنے خوف کا اظہار کرنا برا لگا ہوگا ۔
” ایم سوری، میں۔۔۔۔۔۔۔ ”
” کب کرنا ہے نکاح؟؟”
وہ ابھی جو کہنے جا رہا تھا اچانک اکاسمہ کی بات پہ، شاکڈ سا اسے دیکھنے لگا۔ دل کی مراد ایسے بھی بر آتی ہے ؟؟ محبت یوں بھی نصیب بن جاتی ہے ؟؟ سالوں کا انتظار یوں بھی ختم ہو جاتا ہے ؟؟ اس کی آنکھیں اچانک نم ہوئی تھی۔
ہاسپٹل بیڈ پڑا وہ نازک وجود، جس کے لئے اسکی دھڑکنیں، دھڑکتی تھی۔۔۔ جس کی سانسوں سے، اس کی سانسیں دم لیتی تھی۔ وہ ۔۔۔۔ نکاح۔۔۔۔۔ کا پوچھ رہی ہے ۔
” ج۔۔۔ جب ۔۔۔۔ جب تم چاہو اکاس۔۔۔۔۔”
اس کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی۔
” ابھی ۔۔۔۔ ”
جب اچانک اکاسمہ نے اس کی بات کاٹی تھی۔ وہ رکا تھا۔
” یہیں۔۔۔۔ اسی وقت ”
اکاسمہ کہہ کے مسلسل اسے دیکھ رہی تھی۔
” میں۔۔۔۔۔ میں آتا ہوں پھر”
وہ جانے لگا ۔
” حکان ۔۔۔۔”
وہ پھر سے رک کے، اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔
” ہاسپٹل سے میں تمہارے گھر ہی جاؤں گی ۔ ”
حکان نے حیرت اور اچھنبے سے اسے دیکھا تھا۔
” کیا تم نہیں چاہتے تھے کہ ہمارا نکاح ہو اور ۔۔۔۔۔ تم میری حفاظت کرو ”
اکاسمہ کی بات پہ وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔
” میں آتا ہوں ابھی ”
وہ کہہ کے تیزی سے، کمرے سے باہر نکلا تھا۔ دروازہ بند کر کے وہ دیوار سے ٹیک لگا کے، اپنی دھڑکنیں گننے لگا۔ ایک، دو، تین ۔۔۔
لیکن لمحہ بہ لمحہ تند تر ہوتی جا رہی تھی۔ نکاح ؟؟ اکاسمہ ؟؟ وہ مسکرانے لگا۔ نم آنکھوں سے وہ موبائل نکال کے، اب نمبر ملانے لگا جو تین رنگز کے بعد اٹھا لی گئی تھی۔
” مام ۔۔ میرا ۔۔۔۔ نکاح۔۔۔ ہے “

■■■■■■■■□□□□□□□□□□■■■■■■■

وہ اب، اکاسمہ حکان ملک تھی۔ رشتہ بدلا تو نظروں کا زاویہ بھی استحقاق بھرا ہوا۔ وہ جو پہلے نظروں میں جھجھک سی تھی، اب ان آنکھوں میں محبت بھرا استحقاق تھا۔ اس ہاسپٹل روم میں سب موجود تھے لیکن اکاسمہ اپنے ہاتھوں کو دیکھنے میں مصروف تھی۔ کون کیا کہہ رہا ہے، اسے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اسے جلد سے جلد یہاں سے جانا تھا تا کہ وہ فیاض حیات کا سامنا نہ کرے اب ۔
” مبارک ہو بہت بہت، میری بچی ”
لبنی، اکاسمہ کو گلے لگا کے کہنے لگی۔ پھر رک کے انہوں نے اپنے بیگ سے باکس نکالا تھا جس میں دو بھاری کنگن تھے جو انہوں نے اکاسمہ کے ہاتھوں میں پہنائے تھے۔
” آج سے تم میری بیٹی ہو۔ میرے حکان کی بیوی، میرے گھر کی بہو اور بیٹی ”
اس لفظ پہ اکاسمہ کا دل ڈوب کے ابھرا تھا لیکن وہ ہلکا سا مسکرائی تھی اور اس لمحے حکان اسے گھمبیر نظروں سے دیکھتا خود میں مسلسل حفظ کر رہا تھا۔ وجدان ملک نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کے، اسے ایک فائل دی تھی۔ حکان اچھنبے سے انہیں دیکھنے لگا۔
” یہ میری طرف سے گفٹ ہے اپنی بہو کے لئے۔ ”
وہ کراچی کے پوش علاقے میں موجود اپنا ایک گھر اکاسمہ کے نام کر چکے تھے۔ حکان نے آبرو اچکائے تھے لیکن وجدان ملک سے نظر ملتے ہی، کنپٹی سہلاتا وہ دوسری طرف دیکھنے لگا۔ وجدان ملک لب بھینچ گئے تھے، اپنے بیٹے کے قریب آ کے، انہوں نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا۔
” مبارک ہو نئی زندگی کی شروعات ینگ مین ”
حکان اب بھی اچھنبے سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
” تھینک یو ”
وہ سپاٹ انداز میں کہہ کے، سامنے دیکھنے لگا۔
” اکاسمہ بیٹا میں ۔۔۔۔۔ ”
فیاض حیات کی بات ادھوری رہ گئی جب اچانک اکاسمہ نے ان سے رخ پھیرتے، خود کو دور کیا تھا کہ اس کے سر پہ رکھا فیاض حیات کا ہاتھ، ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔ سب نے حیرت سے اکاسمہ کو دیکھا تھا جبکہ فیاض حیات کی آنکھوں میں خوف ابھرا تھا۔ وہ شاید سمجھ گئے تھے کہ اکاسمہ کو حقیقت کا پتہ چل چکا ہے۔ ان کا ہوا میں معلق ہاتھ کانپ کے رہ گیا۔ وہ نم آنکھوں سے اکاسمہ کو دیکھ رہے تھے۔ جو رخ پھیرے ہوئی تھی۔
” اکاسمہ بیٹا۔۔۔۔۔۔”
ان کی آواز میں تھکن تھی۔
” مجھے گھر جانا ہے ابھی ”
اس نے اچانک حکان کی طرف دیکھتے کہا تھا تو وہ اچانک سے سیدھا ہو کے کھڑا ہوا تھا۔
” بلکل چلتے ہیں۔۔ ”
عفان مسکرا کے اکاسمہ کو دیکھتے کہنے لگا۔
” میں گاڑی تیار کر لوں ”
” مجھے وہاں نہیں۔۔۔۔ اپنے گھر جاناہے ”
اکاسمہ نے اچانک کہا اور حکان کی طرف دیکھنے لگی۔ عفان بھی اسے ہی دیکھنے لگا جو اکاسمہ کو دیکھتا، اب عفان کو دیکھ رہا تھا۔
” میں ۔۔۔۔ ”
جبکہ عفان مسکرانے لگا۔
” بلکل ۔۔۔۔ بلکل ۔۔۔۔۔ اب تو وہیں گھر ہے ”
حکان بھی ہلکا سا ہو کے مسکرانے لگا جبکہ فیاض حیات خاموشی سے اکاسمہ کو دیکھ رہے تھے جو انہیں دیکھنے سے گریز کر رہی تھی لیکن جب سامنا شازم خان سے ہوا تو وہ چلتے چلتے رک گئی تھی۔ آنکھیں پل بھر میں بھیگنے لگی۔
” کتنی عجیب بات ہے شازم انکل۔۔۔۔ گناہ کوئی کرے اور بھگتے کوئی اور ۔۔۔۔ ہے ناں؟؟”
شازم خان نظریں چرا کے، فیاض حیات کو دیکھنے لگے۔
” جیسے عاریز خان کو بھگتنا پڑا ”
وہ ساکت ہو گئے ۔ ساکت نظریں اب اکاسمہ پہ تھی جبکہ وہ حکان کے ساتھ آگے بڑھ گئی لیکن اپنے پیچھے ان دو انسانوں کو موت کے کنویں میں دھکیل گئی تھی۔ ماضی، سیاہ دھبے کی مانند ان کے حال کو مردار کر گیا تھا۔ وہ دونوں ڈھے سے گئے تھے۔

■■■■■■■■□□□□■■■■■■■■■■

اکاسمہ قدم آگے رکھ کے، اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تھی۔ وہ یہاں پہلے بھی آئی تھی لیکن اسے بلکل بھی اندازہ نہیں تھا تب، کہ ایک دن وہ یہاں کسی اور رشتے سے بھی آئے گی۔ اکاسمہ حکان ملک بن کے۔
حکان دروازہ بند کر کے، اکاسمہ کے پیچھے پیچھے چلتا، اس کے برابر آ گیا۔ اکاسمہ ارد گرد نظر ڈالتی اب سامنے اوپن کچن کو دیکھنے لگی تھی ۔
” کچھ چاہئے اکاسمہ ؟؟ ”
حکان اس کے نظروں کے تعاقب میں، سوال کرنے لگا جبکہ وہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
” پانی پلیز ”
” شیور ”
وہ تیزی سے کچن کی طرف گیا جبکہ اکاسمہ اس کی پشت دیکھنے لگی۔

‘ وہ شخص بہترین ہے تمہارے لئے اکاسمہ ‘
عاریز کی آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی۔

‘ اکاسمہ۔۔۔۔۔ مجھ میں تمہیں کھونے کی سکت نہیں اب ‘
پھر حکان کی بھرائی ہوئی آواز گونجی تھی۔

” پانی ۔۔۔ ”
حکان کی اواز پہ وہ چونک کے اسے دیکھنے لگی۔ پانی کا بھرا گلاس وہ ایک ہی سانس میں پی گئی تھی جیسے صدیوں سے پیاس لگی ہو اسے۔ اپنے بازو کو دوسرے ہاتھ سے مساج دیتی وہ صوفے کی طرف بڑھنے لگی۔
” پین زیادہ ہو رہا ہے ؟؟”
حکان کے سوال پہ وہ اثبات میں سر ہلاتی، صوفے پہ ڈھے گئی تھی۔ بےحد تھکن تھی کہ اس کی روح تک میں تھکن اتر چکی تھی۔
” سونا چاہتی ہوں ”
وہ سر صوفے کی پشت پہ رکھ کے آنکھیں موند گئی تھی۔
” میں کمفرٹر لاتا ہوں ”
حکان بیڈ روم کی طرف بڑھا تھا تاکہ اس کے لئے کمفرٹر لا سکے۔ اس نے اکاسمہ کو بیڈ روم میں جانے کے لئے اصرار نہیں کیا کیونکہ وہ اس قدر تھکی ہوئی تھی کہ حکان اسے سکون دینا چاہتا تھا اس گھر میں۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسے یہاں اجنبیت یا بےسکونی محسوس ہو۔
وہ جب تک کمفرٹر لایا، اکاسمہ سو چکی تھی۔ وہ قریب آیا تھا۔ اس کے لب نیم وا تھے جبکہ بند پلکیں، گالوں پہ سایہ فگن تھی۔ چہرے کے رنگ سفید پڑ رہا تھا جبکہ اس کے چہرے پہ، درد کے آثار اب بھی محسوس ہو رہے تھے۔ اس کے نرم و ملائم بال کی کچھ آوارہ لٹیں، اس کے ماتھے پہ بکھرے ہوئے تھے جو لمحہ بھر کے لئے، حکان کے دل کی دھڑکنیں بےترتیب کر گیا۔ وہ زیر لب مسکرا دیا تھا۔ دل کی دنیا میں رقص کا سماں تھا جیسے۔
آٹھ سال سے جس کا منتظر تھا۔ وہ آج اس کی نکاح میں تھی۔ اس کی بیوی تھی۔ وہ آج کچھ دیر پہلے، اکاسمہ حکان ملک بن کے، اس کے گھر آئی تھی۔ حالات جیسے بھی ہو لیکن ۔۔۔۔۔۔ وہ حکان ملک سے منسوب تھی اب۔ کس قدر خوشگوار اور انوکھا احساس تھا یہ۔ اس کی گردن میں نرمی سے، ہاتھ حائل کر کے، وہ اکاسمہ کو ٹھیک سے، صوفے پہ لیٹنے میں مدد دینے لگا۔ وہ گہری نیند میں ہلکا سا کسمسائی تھی کہ اس کی بےترتیب سانسیں، حکان کے چہرے کو چھونے لگی اور یہی لمحہ تھا جب حکان بےحد قریب سے، اس چہرے کو دیکھنے لگا۔
اکاسمہ کی نیم غنودگی میں آنکھیں، نیم وا ہوئی تھی۔ گہرا سانس لیتی، وہ پھر سے غنودگی میں گئی تھی۔ آنکھیں بند ہو چکی تھی۔ پلکیں پھر سے گالوں پہ سایہ فگن ہوئی تھی جبکہ حکان کا بازو، اس کی گردن کے نیچے تھا، وہ اکاسمہ پہ جھکا ہوا، اسے اپنے قریب دیکھ رہا تھا۔ اس قدر قریب کہ وہ اس کی نیند سے بوجھل سانسیں محسوس کر پا رہا تھا، اس کے دل کی دھڑکنیں وہ سن پا رہا تھا، اس کے نیم وا لبوں کی حسین نرمی کو بنا چھوئے ہی محسوس کر پا رہا تھا۔
اس کے وجود کی، مبہم خوشبو کو، اپنی سانسوں میں اتار کے، وہ آہستگی سے اپنا بازو پیچھے کرتا، خود بھی پیچھے ہوا تھا کہ ابھی وقت نہیں آیا تھا، ابھی صبر کی منزلیں طے کرنا باقی تھی۔ وہ اکاسمہ کو اس کی مرضی سے اپنانا چاہتا تھا اور ابھی۔۔۔۔۔ وہ زیر لب مسکراتا، اس پہ کمفرٹر ٹھیک کرتا، وہیں بیٹھا، اسے دیکھنے لگا۔
اکاسمہ حکان ملک ۔۔۔۔ !!!
اس خیال نے تو دھڑکنیں مزید تند تر کر دی تھی۔ وہ سر جھٹک کے اٹھا، صوفے کے قریب، کچھ کشنز نیچے کارپٹ پہ رکھ کے، وہ دوسرے صوفے پہ اپنا لیپ ٹاپ لے کے بیٹھ گیا۔ اسے کافی کی طلب ہونے لگی تو اپنے لئے کافی بنا کے، وہ پھر سے وہیں صوفے پہ جا کے بیٹھ گیا۔ ایک گہری نظر اکاسمہ پہ ڈال کے، وہ پھر سے لیپ ٹاپ میں مصروف ہو گیا تھا۔

■■■■■■■■■□□□□□□□■■■■■■

” ایسا کیا کیا ہے آپ نے ڈیڈ؟؟ جو اکاسمہ اس قدر نفرت سے دیکھ رہی تھی آپ کو ؟”
عفان کی شک بھری نگاہیں اپنے باپ پہ تھی جبکہ وہ نظریں چرا کے ادھر ادھر دیکھنے لگے۔
” ڈیڈ نظریں چرا لینے سے کیا ہو جائے گا ؟؟؟ میں کچھ پوچھ رہا ہوں۔ ایسا بھی کیا کر دیا ہے آپ نے ؟؟ جو ایک شخص پاگلوں کی طرح ہمارے ہی خاندان کے پیچھے پڑا ہوا ہے ”
فیاض حیات اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور کمرے میں ٹہلنے لگے جبکہ عفان جواب طلب نظروں سے انہیں دیکھنے لگا۔
” بابا؟؟”
فیاض حیات نفی میں سر ہلانے لگے۔
” میں اپنے اولاد کی نفرت نہیں سہہ سکوں گا عفان، پلیز کچھ مت پوچھو ۔۔۔ پلیز ”
” اور اکاسمہ ؟؟ اس کا رویہ دیکھا آپ نے ہاسپٹل میں ”
عفان گہرا سانس لے کے رہ گیا جبکہ فیاض حیات خاموشی سے، ترتیب میں رکھی ہوئی کتابیں، دوبارہ ترتیب میں رکھنے لگے۔ عفان تاسف سے ان کی پشت دیکھنے لگا۔ ایسا کیا ہوا تھا ؟؟ آخر کیا ؟؟ کہ اکاسمہ نے اچانک نکاح کا فیصلہ کیا، اس گھر میں نہیں آئی اور فیاض حیات کی طرف اس کا رویہ ؟؟؟
اسکے موبائل پہ کال آنے لگی۔
” ہیلو ۔۔۔ ”
” ڈاکٹر عفان ۔”
اس نرم آواز نے جیسے اس کے تنے اعصاب کو ڈھیلا کر دیا تھا۔
” میں آ رہا ہوں یار۔ ”
” سب ٹھیک ہیں ؟؟ آپ کی آواز ٹھیک نہیں لگ رہی ”
عندلیب کی پریشان آواز سنائی دی تو اس نے بالوں اور چہرے پہ ہاتھ پھیرا۔
” میں آ رہا ہوں۔ سب ٹھیک ہے۔ رکھتا ہوں۔۔۔ ساتھ میں ڈنر کرے گیں آج ”
یہ کہہ کے اس نے کال بند کر دی اور فیاض حیات کو دیکھنے لگا جو اسکی طرف پشت کیے ہوئے تھا۔
” بابا آپ ٹھیک ہے ؟؟”
” ہم ۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ ”
عفان کچھ دیر وہیں کھڑا رہا اور پھر کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ فیاض حیات سر پکڑے، وہیں صوفے پہ ڈھے گئے تھے۔ کیا وہ اپنی بیٹی کو، اپنی اولاد کو مکمل طور پہ، کھو چکے تھے ؟؟ یہ خیال آتے ہی، نمکین پانی ان کی آنکھوں میں تیرنے لگے۔ وہ خالی ہاتھ رہ گئے زندگی کے اس اسٹیج پہ پہنچ کے۔

■■■■■■■■□□□□□□■■■■■■■■

رات کے دو بج رہے تھے جب ازمائر کی انکھ کھلی تھی اور ساتھ ہی مسفرہ کی بھی آنکھ کھل گئی۔ وہ چور نظروں سے، اب ازمائر کے حرکات دیکھ رہی تھی۔ وہ بیڈ سے نیچے اترا، ہاتھ سے اپنی گردن سہلاتے، اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ گہرا سانس لیتے، وہ دروازے تک گیا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ اس کے باہر جاتے ہی، مسفرہ بھی اٹھ بیٹھی اور کچھ دیر تک دروازے کو تکنے لگی۔
” کیا وہ نیند میں چل رہا ہے ؟؟”
“کیا کسی کو قتل کرنے جا رہا ہے ؟؟”
” کہیں ڈانس تو نہیں کر رہا ؟؟”
اسکی آنکھیں پھیل گئی۔ وہ تیزی سے اٹھ کے، کمرے سے باہر نکل آئی تھی۔ آہستگی سے چلتی، وہ سیڑھیاں اترنے لگی۔ کچن سے آوازیں آ رہی تھی اور اسے محسوس ہوا کہ ازمائر گول گول چکر لگا رہا ہے۔
” یااللہ نہیں، پلیز نہیں۔۔۔ اگر گول گول چکر ۔۔۔ ن، نہیں۔۔۔ یااللہ نہیں۔۔۔ ”
دل کو تسلی دیتی وہ نیچے گئی اور کچن میں جھانکنے کی کوشش کرنے لگی لیکن اسے ازمائر کہیں نظر نہیں آیا تھا۔
” یا اللہ کہاں گیا ازمائر ؟؟”
وہ سوچتے ہوئے مزید قریب ہوئی تاکہ ازمائر کو دیکھ سکے۔ جب اچانک اسی کے چوڑے سینے سے ٹکرا گئی وہ اور پورا لاؤنج، مسفرہ کی بلند چیخوں سے گونجنے لگا۔
” مسفرہ ۔۔۔۔ ”
اس نے بوکھلا کے مسفرہ کے منہ پہ اپنا بھاری ہاتھ رکھ دیا تو اس کی آنکھیں خوف سے باہر نکل آئی تھی۔ وہ تیزی سے نفی میں سر ہلانے لگی۔
” مسفرہ چپ کرو، کیا ہوا گیا ہے۔ چپ اب ”
اس نے کہتے ہوئے، اپنا ہاتھ اس کے منہ پر سے ہٹایا ۔
” تم ازمائر ہو ؟ تم ۔۔۔ تم کچن میں کیا کر رہے تھے ؟؟ ناچ رہے تھے ؟؟”
” کیا ؟؟”
ازمائر کو دھچکا لگا تھا اسکی بات سے۔

‘ ازمائر ہی ہے ‘

اسنے سوچا۔
” میں پانی پینے آیا تھا، آدھی رات کو اٹھ کے میں کیوں ناچوں گا مسفرہ ؟؟ ”
اسنے دانت پیستے جواب دیا تھا۔
” اچھا نہیں ناچے، تو کیا کر رہے تھے ؟؟ اتنی آوازیں کیوں تھی ؟؟ چھلانگ لگا رہے تھے؟ گول گول گھوم رہے تھے ؟؟ ”
ازمائر کی آنکھیں حیرت سے باہر نکلنے کو ہو گئی۔ مسفرہ کو لگا شاید وہ غصے میں آ گیا ہے۔ تبھی ڈر کے پیچھے ہوئی تھی۔
” مجھے مارنا مت، پلیز۔۔ میں مر گئی تو میری روح تمہیں ڈرائے گی۔ ”
” پاگل ہو ؟؟ یا اپنے کسی پیشنٹ کی دوائی آج تم نے پی لی؟؟ پیچھے ہٹو ”
ازمائر کو اس کی باتیں عجیب لگی تھی۔ تبھی لب بھینچے وہ آگے بڑھا اور سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
” اگر مراقبہ ختم ہو گیا ہے تو کمرے میں آ کے سو جاؤ ”
ازمائر یہ کہتے سیڑھیاں چڑھ کے، اوپر اپنے بیڈ روم میں چلا گیا جبکہ مسفرہ وہیں کھڑی اوپر سیڑھیوں کو دیکھنے لگی۔
” وہ غصے میں ہیں۔ میں نہیں جاتی اوپر۔ مجھے مار ڈالے گا ۔۔۔ میں۔۔۔۔ ”
وہ تیزی سے صوفے پہ جا کے لیٹ گئی۔
” میں یہیں سو جاتی ہوں”
وہ صوفے پہ لیٹ کے، آنکھیں موند گئی ۔ اسے آج کی رات یہیں گزارنی تھی کیونکہ اسے لگ رہا تھا کہ ازمائر شاہ مونسٹر بن چکا ہے ۔

■■■■■■■■■■□□□□□■■■■■■■■♤♤

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *