Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 12

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 12

” who the hell you are ?”
عاریز خان کی طرف خشمگین نگاہوں سے دیکھتا عفان چلایا تھا۔
” میری بہن کہاں ہے ؟؟ ”
عاریز نے بنا کچھ کہے لب بھینچ لیے تھے جبکہ خیام نے آگے بڑھ کے عفان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا جسے وہ غصے میں جھٹک چکا تھا۔
” تمہاری ریسپانسیبلٹی پہ اکاسمہ یہاں آئی تھی اور تم نے یہ بھی کہا تھا کہ تم اس کا خیال رکھو گیں۔تمہاری آنکھوں کے سامنے یہ شخص کیسے نکاح کر گیا اکاسمہ سے ؟؟ اور اکاسمہ کہاں ہے ؟؟ کس سے پوچھوں؟؟ تم سے یا اس شخص سے ؟؟”
وہ چلا رہا تھا جبکہ خیام نفی میں سر ہلاتا کچھ کہنا چاہا تھا لیکن اس سے پہلے عاریز خان اس کے قریب آیا تھا ۔
” اکاسمہ میری بیوی ہے ۔۔ ”
اس سے پہلے عاریز کی بات مکمل ہوتی ، عفان نے ہاتھ کی مٹھی بنا کے اس کی طرف بڑھایا تھا جسے عاریز نے بروقت روک دیا تھا اور اب سنجیدگی سے عفان کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔
” جتنی اکاسمہ آپ کے لئے امپورٹنٹ ہے، اتنی ہی وہ میرے لئے بھی امپورٹنٹ ہے۔ وہ کہاں ہے ؟ یہی ہم ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جن حالات میں نکاح ہوا ہے وہ اکاسمہ خود ہی بتائے گی آپ کو ، کیونکہ اس وقت ہمارے لئے امپورٹنٹ اکاسمہ تک پہنچنا ہے سو پلیز ڈاکٹر عفان اپ calm رہے ۔ ”
عفان نے سر جھٹک کے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے چھڑایا تھا اور دو قدم پیچھے ہوا تھا لیکن اب دیکھ وہ خیام کو رہا تھا۔
” تم سے یہ امید نہیں تھی مجھے خیام ، تم تو بھائی تھے میرے ، میرے ہی فیملی تھے ۔ ”
خیام نے نظریں چراتے کچھ کہنا چاہا تھا لیکن عفان ایک کڑی نظر عاریز پہ ڈال کے آفس سے باہر نکلا تھا جبکہ خیام عاریز کو دیکھنے لگا۔
” سب غلط ہو رہا ہے یار ”
عاریز نے کندھے اچکائے تھے ۔
” میرے لئے اس وقت سب سے امپورٹنٹ اکاسمہ ہے ، اس تک پہنچنا ہے مجھے ابھی۔ ”
وہ سنجیدگی سے کہتا اب لب بھینچے پھر سے ٹیبل پہ پھیلے ان پیپرز کو دیکھنے لگے جس کے ذریعے شاید بہت جلد وہ اکاسمہ تک پہنچ پا رہے تھے۔ خیام بھی سر جھٹک کے اس کے قریب آ کے ان پیپرز کو دیکھنے لگا جب طیب اندر آیا تھا۔
” سر، صابرالدین ۔۔۔ ”
اتنا کہہ کے وہ خاموش ہو گیا جبکہ دونوں چونک کے، طیب کے پیچھے کھڑے صابرالدین کو دیکھنے لگے۔
” اسلام علیکم ”
طیب کے سائیڈ سے گزر کے، وہ اندر آیا تھا اور مسکرا کے ان دونوں کو دیکھنے لگا۔
” آپ مجھے ڈھونڈ رہے تھے، میرے آفس آئے تھے کوئی کام ۔۔۔۔”
اس سے پہلے اس کی بات مکمل ہوتی، عاریز نے اس کا کالر جکڑا تھا۔
” میری بیوی کہاں ہے ؟؟ ”
اس نے دانت پیسے تھے جبکہ صابرالدین سوالیہ نظروں سے خیام کو دیکھتا، پھر سے عاریز کو دیکھنے لگا۔
” بیوی ؟؟”
” بکواس بند کرو اور سیدھی طرح بتاؤ لائیر اکاسمہ کہاں ہے ؟؟”
عاریز غرایا تھا جبکہ صابرالدین اسے اچھنبے سے دیکھنے لگا۔
” میم اکاسمہ، وہ تو میری دوست ہے، کیا ہوا ہے انہیں؟؟ میں نے بھی کافی دنوں سے ۔۔۔۔ ”
اس کی بات ادھوری رہ گئی جب عاریز نے اسے جھٹکے سے، دیوار سے پن کر دیا تھا اور وہ کراہ کے رہ گیا ۔
” تمہاری کہانی سننے نہیں کھڑا میں یہاں، لائیر اکاسمہ کہاں ہے ؟؟”
وہ دھاڑا تھا۔
” میں نہیں جانتا، مجھے کچھ نہیں معلوم، لائیر اکاسمہ کو میں کیوں کڈنپ کروں گا، میں ایسا شخص نہیں ہوں”
خیام بھی قریب آیا تھا اور عاریز کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے، جبکہ عاریز جھٹکے سے، اسے چھوڑ کے مڑا تھا جبکہ خیام سرد آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” اس شہر سے جانے کی اجازت نہیں ہے تمہیں، آئی سمجھ ”
صابرالدین تیزی سے سر اثبات میں ہلانے لگا۔
” جاؤ ”
خیام کی بات پہ وہ آگے بڑھا تھا لیکن دروازے تک پہنچ کے، وہ مڑ کے ان دونوں کو دیکھنے لگا۔
” سر جی، اکاسمہ میم کہاں ہے ؟؟”
ان دونوں نے لب بھینچے گھور کے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ تیزی سے سر کھجاتا باہر نکلا تھا۔ خیام اور عاریز ایکدوسرے کو دیکھنے لگے۔
” مجھے اس پہ شک ہے”
” مل جائے گا ثبوت بھی، طیب ایک دو آدمی مقرر کرو جو بنا یونیفارم کے اس پہ نظر رکھے”
خیام نے وہاں کھڑے طیب کو کہا تھا اور وہ سر اثبات میں ہلاتا باہر نکلا تھا۔
☆☆☆☆★★★★☆☆☆☆☆

” یہ تو بہت بڑی نیوز ہے بھئی، ہماری لائیر صاحبہ مطلب شازم خان کی بہو اور عاریز خان کی بیوی اور فیاض حیات کی بیٹی، کڈنیپ ہو چکی ہے، واہ۔۔ ارے واہ ”
وجدان ملک اپنے آفس میں بیٹھا ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا جبکہ اس کا خاص آدمی رضوان بھی مسکرا رہا تھا۔
” یس سر، اور مزے کی بات یہ ہے سر کہ مس اکاسمہ کو ڈھونڈ بھی نہیں پا رہے ۔ ”
وجدان ملک ہنستے ہوئے سر اثبات میں ہلانے لگا ۔
” ویری گڈ، یہ بہت سرپرائزنگ ہے میرے لئے ۔ بھئی ہمیں کال کرنا چاہئے ان دونوں فیملیز کو ۔ آخر کو بہت پرانی دوستی ہے ہماری ان لوگوں سے ۔ ”
” سر میں نمبر ڈائل کروں؟”
رضوان مسکراتے ہوئے کہنے لگا جبکہ وجدان ملک نے لب بھینچے اسے گھورا تھا۔
” چسکے لینے کا بہت شوق ہے تمہیں۔ جاؤ کام کرو اپنا تم ”
وہ بدمزہ سا ہو گیا تھا تبھی سر کھجانے لگا ۔
” اوکے سر ”
ابھی وہ دروازے تک پہنچا ہی تھا جب دھڑام سے ڈر ہ کھولتا حکان اندر آیا تھا اور وجدان ملک کے سامنے جا کھڑا ہوا تھا ۔
” میرا debit کارڈ کیوں کام نہیں کر رہا ؟؟”
رضوان کمرے سے جا چکا تھا جب وجدان ملک گہرا سانس لیتا اپنے بیٹے کو دیکھنے لگا۔
” تم جیسے نکمے کے لئے اس سے بھی بڑی سزا ہونی چاہئے ، یہ تو بہت چھوٹی سی سزا ہے ”
حکان نے غصے سے ٹیبل پہ جھکتے زور سے اپنا ہاتھ مارا تھا۔
” میرے سوال کا جواب چاہئے مجھے ”
وجدان ملک سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کے اپنے بیٹے کو دیکھنے لگا ۔
” میں جواب دے چکا ہوں ”
” ڈیم اٹ، کیوں کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ ایسا ؟؟ جیسے میں آپ کا بیٹا ہی نہیں ہوں ”
وہ زور سے ہاتھ ٹیبل پہ مارتا چلایا تھا ۔
” یہ میرا آفس ہے ، چلانے سے بہتر ہے تمہارے لئے کہ دفع ہو جاؤ یہاں سے اور کچھ کام ڈھونڈو اپنے لئے ”
وجدان ملک اس سے بھی زور سے چلایا تھا جبکہ حکان کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ پھیلی تھی، وہ مسکراتا ہوا سیدھا ہوا تھا اور اس کے سامنے والی کرسی پہ بیٹھا تھا۔ ۔
” یہ بینک بیلنس آپ کے بعد میرا ہی تو ہے ”
” پھوٹی کوڑی بھی نہیں دوں گا تمہیں ”
وجدان بھی اسی کے لہجے میں بولا تھا ۔
” ایسا ہے ؟؟ سوچ لیں ایک بار پھر ”
حکان کی آنکھوں میں عجیب چمک تھی جسے وجدان نے بےحد غور سے دیکھا تھا۔
” چلیں ٹھیک ہے ۔۔ میں چلتا ہوں پھر ۔”
وہ کندھے اچکاتا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا اور مڑ کے دروازے کی طرف بڑھا تھا۔ وجدان ملک بےحد غور سے اس کی چال کو دیکھ رہا تھا جیسے کچھ کرنے والا ہے وہ ۔
” شام تک ایکٹو ہو جائے گا ”
” ابھی ۔۔ ”
بنا مڑے دروازے کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھتا وہ کہنے لگا ۔ وجدان ملک نے آنکھیں موند کے گہرا سانس لیا تھا ۔
” ٹھیک ہے ”
ساتھ ہی موبائل پہ کوئی نمبر ڈائل کرنے لگا جبکہ حکان کے چہرے پہ خفیف سی مسکراہٹ تھی اور وہ مسکراتا دروازہ کھول کے کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ وجدان ملک لب بھینچے اس بند دروازے کو دیکھتے رہ گیا ۔

☆☆☆☆☆▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆☆☆☆☆

دو دن بھوک پیاس سے نڈھال اکاسمہ پہ غشی سی چھا رہی تھی لیکن وہ آنکھیں کھلی رکھنے کی کوشش میں تھی، اسے یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا، جب کلک کی آواز سے دروازہ کھلا تھا اور صابرالدین اندر آیا تھا، اس کے چہرے پہ ماسک تھا لیکن گہری نظروں سے وہ اکاسمہ دیکھ رہا تھا جبکہ اکاسمہ کا دل جیسے گہری کھائی میں ڈوب رہا تھا، خود کو اس کی گرفت سے کیسے بچا پائے گی وہ خود کو، شاید نہیں بچا پائے گی، شاید وہ بھی قربانی بننے جا رہی ہے، باقی سب کی طرح کل اس کی باڈی بھی بےحد بری حالت میں پولیس کو ملنی ہے، خیام اور پھر عاریز خان، آنکھیں بھیگی تھی اس کی، اس کے بابا جو اسے ہی گھر نہ آنے کا کہہ چکے ہیں جب اپنی بیٹی کی باڈی کو اس حالت میں دیکھے گیں تو کیا خود کو ملامت کرے گیں۔
” میں ایسا نہیں چاہتی ۔ ”
اس کے لب ہلکا سا بڑبڑائے تھے، آنکھیں موندے وہ خود سے جنگ لڑ رہی تھی، جب اسے اپنی گردن پہ سرسراتی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا تھا اور پھر سرگوشی جو اس کے ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پھیلا گئی تھی۔
” اکاسمہ تمہاری باری ہے اب ”
وہ بند آنکھوں کے ساتھ لرز کے رہ گئی تھی ۔ دل میں یہی دعا تھی کہ اللہ اس کے عزت کی حفاظت فرمائے، سن ہوتے ذہن اور بند ہوتی آنکھوں کو کھولنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی وہ کانپ رہی تھی، خوف اس کے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا، اس نے بمشکل آنکھیں کھولی تھی اور آنکھوں میں خوف لیے وہ اپنے بےحد قریب صابرالدین کو دیکھ رہی تھی۔
” آہ ، یہی خوف تو دیکھنا چاہتا ہوں میں تمہاری آنکھوں میں۔ ”
آنسو نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی گال پہ پھسلنے لگے اور سر نفی میں ہلا تھا اس کا۔ موت سے زیادہ عزت کے جانے کا خوف تھا اسے۔
” بھیک مانگو مجھ سے، اپنی زندگی کی، اپنے معاف کیے جانے کی بھیک مانگ مجھ سے، مجھے سرور سا ملتا ہے جب کوئی عورت یہاں، میرے سامنے، میرے پیروں میں گر کے گڑگڑاتی ہے اور میں لطف محسوس کرتا ہوں اس کی فریاد سے، تم بھی گڑگڑاو، مجھ سے پناہ مانگو، میں بہت خطرناک ہوں اکاسمہ، تمہیں نوچ لوں گا، تمہیں کاٹ ڈالوں گا کئی ٹکڑوں میں، پناہ مانگو مجھ سے ”
اکاسمہ بھیگی آنکھوں میں خوف لیے اسے دیکھ رہی تھی لیکن خاموش تھی، لب پھڑپھڑا رہے تھے لیکن وہ خاموش تھی، اسے اس درندے سے بھیک نہیں مانگنی تھی، وہ بس خود کو حواس میں رکھنے کی کوشش کر رہی تھی اور بلکل اچانک زور سے دروازہ کھولنے کی آواز آئی تھی اور اس سے پہلے کہ صابرالدین سنبھلتا کسی بھاری چیز سے اس کی پشت پہ وار ہوا تھا اور وہ بلبلا کے نیچے گرا تھا، اکاسمہ جو خوف کے زیر اثر تھی، چیختی دیوار سے جا لگی تھی اور بھیگی دھندلائی آنکھوں سے اس نے وہ منظر دیکھا تھا جہاں پمی ہاتھ میں بھاری لوہا لیے کھڑی تھی اور نفرت بھری آنکھوں سے اپنے سامنے گرے صابرالدین کو دیکھ رہی تھی جو درد سے بلبلاتا اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
” گرا تو تو ہے پیروں تلے روندنے کے لئے ”
پمی دھاڑی تھی۔
” تو کیا میڈم کے ٹکڑے کرے گا، سالے میں تیرے ٹکڑے کر دے گی، اپنے ناپاک ہاتھوں سے تو کیا چھو پائے گا ان کو، تیرے ہاتھ میں کاٹے گی، وہی ہاتھ جس سے تو نہ جانے کتنی عورتوں کا ریپ کر کے انہیں سیاہ بخت کر چکا اور انہیں موت دے چکا اور انہی غلیظ ہاتھوں سے تو نے میرا گھر جلا دیا، میری ماں میری بہنوں کو زندہ جلا دیا، راکھ کا ڈھیر بنا دیا تو نے ”
اس کی آواز دھاڑتے ہوئے بھرا گئی تھی جبکہ اکاسمہ حیرت سے پمی کو دیکھ رہی تھی جس کا سب برباد ہو گیا تھا۔
” تو ان کو چھو بھی نہیں سکتا، تو اب کسی کو بھی قربانی کی بھینٹ نہیں چڑھا سکتا، میں ایسا کرنے نہیں دے گی تم کو ”
وہ پھر چیخی تھی، سینے پہ اپنے ہاتھ مارتی وہ جیسے ماتم کناں تھی ۔
” اے چپ کر بدجنس، بہت بولتی ہے تو، اتنا سب ہو گیا تیرے ساتھ، پر تیری بولتی نہیں بند ہونے کو آ رہی ۔ سالی کتیا ”
صابرالدین اٹھنے کی کوشش کرتا غرایا تھا لیکن پمی اس کے کندھے پہ اس بھاری لوہے کا وار کر چکی تھی اور وہ لہولہان ہوتا پھر سے گرا تھا ۔
” کتا تو تو ہے، بدکردار، کالک ہے تو اس ملک پہ، تو کیا صاف کرے گا کراچی کو غلاظت سے، غلاظت تو تو خود ہے، گندگی کا ڈھیر ہے تو اور گندگی کا ڈھیر اور یہ غلاظت کھبی پائیدار نہیں ہوتی، میرے ہاتھوں مرے گا تو، میرے ہاتھوں ”
وہ چیختی ہاتھ اوپر لے جا چکی تھی صابرالدین پہ آخری وار کرنے کے لئے ۔
” پمی نہیں۔۔۔ ”
اکاسمہ چیختی اپنی جگہ سے کھڑی ہو کے، اسے روکنے کے لئے آگے بڑھی تھی لیکن تب تک وہ بھاری لوہا نیچے زمین پہ پڑے صابرالدین کے سینے پہ مار چکی تھی اور اس کا جسم جھٹکے کھانے لگا جبکہ منہ سے خون کی پھوار سی نکلی تھی۔ اکاسمہ بےدم سی ہو کے گھٹنوں کے بل وہیں گری تھی، وہ پھٹی آنکھوں سے اس کے جھٹکے کھاتے جسم کو دیکھ رہی تھی، اس کا آلودہ خون اس کے چار اطراف کو بھی آلودہ کر رہا تھا۔
” یہ ۔۔۔ کیا ۔۔۔ ک ۔۔۔ کردیا پمی ”
وہ سکتے کی حالت میں تھی جیسے، تبھی بےاختیار چلائی تھی۔
” یہ اسی قابل ہے میڈم جی ۔ ”
پمی کہتی ایک اور وار بھی اس پہ بھاری لوہے سے کر چکی تھی اور اس کا جھٹکے لیتا جسم ساکت ہو چکا تھا، خون کے چھینٹے اکاسمہ کے چہرے اور کپڑوں پہ بھی پڑے تھے، وہ وحشت زدہ سی چلائی تھی جبکہ پمی کا چہرہ اور کپڑے بھی صابرالدین کے خون سے آلودہ ہو چکے تھے ۔
” اکاسمہ ۔۔۔ ”
جانی پہچانی آواز آئی تھی باہر سے اور وہ دروازے کی طرف دیکھتی چیخی تھی، دروازے سے نمودار ہوتے عاریز خان کو دیکھتی وہ چیخ چیخ کے رونے لگی، اپنے ہاتھوں کو جھٹکتی وہ رو رہی تھی، چیخ رہی تھی، کانپ رہی تھی۔
” اکاسمہ ”
وہ تیزی سے اکاسمہ کی طرف بڑھا تھا اور وہیں بیٹھ کے اس نے اکاسمہ کے کانپتے وجود کو بانہوں میں بھر لیا تھا، جبکہ وہ اب بھی چیخ چیخ کے رو رہی تھی۔
” ہشششششش، بس میں آ گیا ہوں، بس اب کچھ نہیں ہوگا تمہیں، ہشششششش ”
اکاسمہ کو بانہوں کے گھیرے میں لیے اس نے پمی کی طرف دیکھا تھا جو تھک ماندہ سی سامنے پڑے صابرالدین کے بےجان وجود کو دیکھ رہی تھی، خیام لب بھینچے قریب آیا تھا اور پمی کے ہاتھ سے وہ بھاری لوہا لیتا وہ عاریز کو دیکھنے لگا جو تاسف بھری نظروں سے پمی کو دیکھ رہا تھا اور پھر بنا کچھ کہے وہ اپنا کوٹ اتار کے اکاسمہ کے کندھے پہ پھیلاتا اسے لیے باہر جانے لگا ۔
” میں اکاسمہ کو ہاسپٹل لے جا رہا ”
خیام نے سر اثبات میں ہلایا تھا، جہاں عاریز اکاسمہ کو بازو کے گھیرے میں لئے باہر کی طرف لے جا رہا تھا وہیں ان کی ٹیم اپنے مخصوص لباس میں اندر اس کمرے میں آ رہے تھے۔ وہ شخص جو خود کو خدا سمجھ بیٹھا تھا، جو ہر دوسری تیسری عورت کا قتل صرف اس لئے کرتا کہ وہ عورت بدکردار ہے، آج وہ اپنے انجام کو پہنچا تھا لیکن اس کا انجام پمی کے ہاتھوں ہوگا، یہ شاید کسی کے علم میں نہ تھا۔ پمی وہیں بیٹھی اب رو رہی تھی، وہ بدلہ لے چکی تھی لیکن اپنا سب کھو کے ۔ جن بہنوں کی اس نے حفاظت کی تھی، بھائی بن کے اور آج وہیں بہنیں راکھ کا ڈھیر بن گئی تھی اور وہ ماں، جس کے لئے وہ بہت سے خواب رکھتی تھی اور آج ان خوابوں سمیت وہ راکھ بن گئی تھی۔ خیام پرسوچ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جب اچانک اپنے پیچھے ابھرتی حیرت بھری آواز پہ وہ مڑا تھا۔
” سر یہ ۔۔۔۔ ”
خیام نے حیرت سے ماسک کے پیچھے موجود اس چہرے کو دیکھا تھا اور پھر حیرت سے طیب کی طرف دیکھا تھا۔
” یہ کون ہے؟؟”

☆☆☆☆☆★★★★☆☆☆☆☆

” کیسی طبعیت ہے اب ازمائر شاہ ؟”
مسفرہ مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھتی سوال کر رہی تھی جبکہ وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔
” اب ٹھیک ہوں لیکن آپ کو اندر آنے کیسے دیا پولیس نے؟”
مسفرہ مسکرانے لگی۔
” میں ایک رائٹر ہوں اور رائٹر کو پتہ ہے کہ کب اور کیسے اپنے الفاظ سے کسی کو مسمرائز کرنا ہے ”
ازمائر شاہ ہنس دیا تھا جبکہ مسفرہ اسے دیکھے گئی۔ یہ شخص اس قدر حسین کیسے ہو سکتا ہے؟ میرے ناول کا کردار جیسے میرے سامنے آ کھڑا ہوا ہو، بس ناموں کا فرق ہو۔
ازمائر اسے دیکھنے لگا۔
” کیا ہوا مسفرہ ؟؟”
جبکہ وہ نفی میں سر ہلاتی، نظریں چرا گئی تھی۔
” آپ کا کیس بھی اب کچھ دن کے لئے delay ہو گیا ہے شاید ”
” کیوں؟؟”
ازمائر شاہ کے پوچھنے پہ، وہ پریشان نطر آنے لگی تھی۔
” آپ کا کیس لائیر اکاسمہ دیکھ رہی تھی لیکن وہ کڈنپ ہو چکی ہے اور اب تک ان کا کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے ”
” اوہ ”
ازمائر بس اتنا کہہ سکا اور چہرے پہ زخمی مسکراہٹ آ ٹھہری تھی۔
” میرے نصیب کی سیاہی ان تک بھی پہنچ گئی،لگتا ہے ”
“نہیں، ایسا نہیں ہے”
مسفرہ تیزی سے کہنے لگی، ازمائر کے چہرے پہ پھیلی اداسی وہ دیکھ نہیں پائی۔
” آپ کا کیس فائل تو ہو چکا ہے، سپریم کورٹ تک پہنچ گئی ہے آپ کی فائل، انشاءاللہ آپ آزاد ہو جائے گیں ”
“مجھ سے بھی زیادہ ضروری مس اکاسمہ کی لائف ہے، اللہ ان کی مدد فرمائے ”
ازمائر نے کہہ کے آنکھیں موند لی تھی جبکہ لب کاٹتی مسفرہ اسے دیکھنے لگی۔ اس کے ہاتھ ہوتا تو ابھی وہ اس شخص کو یہاں سے دور لے جاتی لیکن صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور ازمائر شاہ کو بھی پھل ملنے ہی والا تھا اس کے صبر کا۔

○○○○○○●●●●●●○○○○●○

اس کا مکمل چیک اپ ہو چکا تھا، اس کا لباس بھی تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اس کے بازو پہ ابھی بھی ڈرپ لگی ہوئی تھی اور وہ خاموش نظروں سے سامنے دیوار کو دیکھ رہی تھی، جب عاریز اندر آیا تھا اور آہستگی سے چلتا ہوا وہ اکاسمہ کے برابر میں آ بیٹھا تھا۔ نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کے عاریز نے لبوں سے لگایا تھا جبکہ اکاسمہ اب اسے دیکھ رہی تھی۔
” میں ڈر گیا تھا اکاسمہ، بہت ڈر گیا تھا ”
” کس بات سے ؟؟”
وہ نارمل تھی اب، کچھ دیر پہلے کا خوف اب زائل ہو چکا تھا اور ویسے بھی وہ نڈر لڑکی تھی، اکاسمہ کے سوال پہ عاریز نے ہاتھ بڑھا کے نرمی سے اس کے گال پہ رکھا تھا ۔
” تمہیں کھو دینے سے ڈر گیا تھا ۔ ”
اکاسمہ کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی جبکہ عاریز کی آنکھوں میں وہ نمی کا تاثر دیکھ چکی تھی اور ان ہیزل براؤن بولتی آنکھوں کے الفاظ بھی آج جیسے اکاسمہ کو سمجھ آ رہے تھے ۔
” مجھے کھو دینے سے ”
وہ زیر لب بڑبڑائی تھی اور عاریز ہلکا سا مسکرا کے اس کے ہاتھ پہ پھر سے اپنے لب رکھ چکا تھا جبکہ اکاسمہ کو اپنا دل بےاختیار کسی اور ہی لے پہ دھڑکتا محسوس ہوا تھا، عاریز اب اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا، اس کے کندھے تک آتے بال اس کے چہرے کے اطراف میں پھیلے ہوئے تھے، جنہیں وہ بےحد دلچسپی اور محبت سے دیکھ رہا تھا ۔
” جب پہلی بار تمہیں کورٹ کے باہر دیکھا تھا تبھی سوچ لیا تھا کہ اسے نہیں کھونا بلکہ پانا ہے۔ ”
” تو وہ اچانک سے نکاح کی آفر اور ہیلپ، وہ سب ”
اکاسمہ سب بھول کے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ زیر لب مسکرا دیا تھا اور پھر اس کی آنکھوں میں بےحد گھمبیرتا سے دیکھنے لگا ۔
” کہا تو ہے تمہیں کھونا نہیں چاہتا کھبی۔ ”
” کیوں؟؟”
وہ اب شرارتی نظروں سے عاریز کو دیکھ رہی تھی جو آج بےحد بدلا ہوا سا تھا ۔
” کیونکہ Mr Prosecutor اپنے سامنے بیٹھی اس لائیر صاحبہ سے محبت کا مرتکب ہوا ہے اور میں لائیر صاحبہ کے کیرئیر کا وہ کیس بن چکا ہوں جو ہر روز ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اوپن تو ہوگا لیکن آخری سانس تک یہ کیس کھبی سولو نہیں ہوگا ”
اس کی گھمبیر سرگوشی پہ، اکاسمہ کا زرد چہرہ سرخی مائل ہوا تھا ۔
” کیوں سولو نہیں ہوگا ؟”
وہ نظریں چراتے پوچھنے لگی، جب عاریز اس کے بےحد قریب ہوا تھا اور اکاسمہ کو اپنی دھڑکنیں کانوں میں گونجتی محسوس ہو رہی تھی، عاریز نے اس کے ماتھے پہ بکھرے بال سنوارے تھے۔
” کیونکہ میں تمہیں خود میں الجھائے رکھنا چاہتا ہوں، اپنی محبت، اپنی سانسوں اور مکمل خود میں۔ ”
عاریز بوجھل سرگوشی کر رہا تھا جبکہ اکاسمہ کی پلکیں بےساختہ جھکی تھی، آج عاریز کی نظریں، اس کا لہجہ، اس کے انداز اکاسمہ کو کچھ اور ہی جتا رہے تھے اور بےساختہ عاریز نے اکاسمہ کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے، اس کے وجود کو معتبر کر دیا تھا، اکاسمہ اس لمس کو اپنے وجود میں سرایت کرتا محسوس کر رہی تھی جو اسے سکون بخش رہا تھا اور وہ لمس جو اس کے دل میں عاریز خان کے بےپناہ محبت کی چاہ بڑھا گئی تھی لیکن اچانک کمرے کا دروازہ کھلا تھا، دونوں کی نظریں ایک ساتھ دروازے کی طرف گئی تھی اور اندر آتے شخصیت نے لب بھینچے ان دونوں کو ایکدوسرے کے بےحد قریب دیکھا تھا۔

☆☆☆☆☆★★★★☆☆☆☆☆

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *