Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 25

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 25

کچن میں اپنے لئے کھانا بناتی، اچانک سے ہاتھ روک گئی تھی۔ کچھ عجیب سا محسوس ہوا تھا اسے۔ کچھ بےحد عجیب۔ وہ تیزی سے پیچھے مڑ کے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھیں کچھ تلاش کر رہی تھی لیکن کچھ نہیں تھا، کوئی نہیں تھا وہاں۔ تو ؟؟
” عاریز ؟؟ تم آ گئے ہو کیا ؟؟”
وہیں سے اونچی آواز میں سوال کرتی، وہ منتظر رہی لیکن عاریز ہوتا تو جواب دیتا۔ اس کا دل کانپنے لگا۔ وہ ایک نڈر لڑکی تھی لیکن پھر بھی اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے ارد گرد کچھ گڑبڑ ضرور ہے لیکن کیا ؟؟ ہاتھ بےساختہ، ٹیبل پہ رکھی بڑی چھری پہ مضبوط ہوئی جسے فورا ہاتھ میں تھام کے، وہ اب قدم قدم آگے بڑھ رہی تھی۔ آنکھیں مسلسل ادھر ادھر لاؤنج میں دیکھ رہی تھی لیکن وہاں نہ کوئی سایہ تھا نہ کوئی ذی روح۔
” تو پھر ؟؟؟ اتنا عجیب کیا محسوس ہو رہا ہے مجھے؟؟”
گھڑی پہ نظر گئی، رات کے بارہ بج رہے تھے۔ عاریز ابھی تک گھر نہیں آیا تھا۔ تیزی سے موبائل اٹھا کے، اس نے عاریز کو کال کرنے لگی۔ رنگ جا رہی تھی مسلسل لیکن کچھ رنگز کے بعد ہی، کال کاٹ دی گئی تھی۔ ٹون ٹون کی اواز، اس کا منہ چڑا رہی تھی۔ لب بھینچ کے، اس نے موبائل کو گھورا۔ دل پہ بھاری بوجھ سا آ پڑا تھا، عاریز مسلسل اسے نظرانداز کر رہا تھا اور یہ بات وہ نوٹ کر رہی تھی لیکن خاموشی سے، وہ یہ سب دیکھ رہی تھی۔ نتیجہ کیا ہونا تھا وہ نہیں جانتی تھی ۔ گہرا سانس لیتی، وہ موبائل ٹیبل پہ رکھ کے، سر جھٹکتی، کچن کی طرف بڑھنے لگی جب دروازے پہ ہوئی بیل سے، چونک کے وہ بلکل اچانک چیخی تھی۔ کیمرے کی آنکھ سے مسلسل اسے دیکھتا، اپنے تاریک کمرے میں بیٹھا، وہ شخص بلیک ماسک کے پیچھے مسکرا رہا تھا۔ اس کی سنہری رنگ آنکھوں میں مسکراہٹ ابھر کے معدوم ہوئی تھی۔
” بارز جیسے پرندے کو میرے جال سے رہائی دلوانے کی کوشش تمہاری صحیح نہیں تھی اکاسمہ، مجھے بلکل پسند نہیں آئی اور اب ۔۔۔۔ ”
اسکرین پہ نظر آتی اکاسمہ کے نازک وجود کو، وہ بےحد سخت نظروں سے گھور رہا تھا ۔
” میں برباد کروں گا تمہیں اکاسمہ عاریز خان، میں برباد کروں گا تمہیں۔ تمہاری ویڈیوز ڈارک ویب کے ہر پیج پہ نظر آئے گی کیونکہ تم اور تمہاری زندگی ہیک ہو چکی ہے اور تم بربادی کی طرف جا رہی ہو کیونکہ پورے شہر کراچی میں، مجھ سے کئی گنا خطرناک ہیکر اور قاتل، کہیں نہیں ہے ”
وہ اب ہنس رہا تھا اور ساتھ ہی کیبورڈ پہ انٹر کا کلک ہوا تھا، ساتھ ہی، وہاں موجود کمپیوٹرز میں سے، ایک کمپیوٹر آگے پیچھے چلنے لگا، اس سیاہ اسکرین پہ ساری معلومات چلنے لگی اور پھر اس اسکرین پہ اکاسمہ حیات کی آئی ڈی کارڈ چمکنے لگی۔
” ویلکم ٹو دا ہیل مائی ڈئیر چڑیا ۔۔۔۔ ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازے کے باہر کوئی نہیں تھا۔ وہ دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی اور بلکل اچانک اس کے موبائل کی بپ بجنے لگی۔ دل پہ ہاتھ رکھ کے، وہ مڑ کے، اب ٹیبل پہ رکھے موبائل کو دیکھ رہی تھی۔ آہستہ روی سے چلتی وہ آگے بڑھ رہی تھی جیسے اس موبائل میں بم رکھا ہوا ہو اور اگر اس نے ذرا سی بھی تیز حرکت کی تو ” بوم ” ۔
اس نے تیزی سے موبائل کان سے لگایا تھا۔
” ہیلو ۔۔۔۔ ”
” بوم ۔۔۔۔”
سرد بھاری اواز گونجی تھی ۔ اکاسمہ کی آنکھیں حیرت سے پھیلنے لگی جبکہ اب موبائل میں صرف ٹون ٹون کی آواز تھی اور بس !!!
وہ تیزی سے موبائل پھینک کے، خوف بھاگتی ہوئی اپنے بیڈ روم میں گئی تھی، دروازہ لاک کر کے، وہ وہیں دروازے سے ہی ٹیک لگا کے بیٹھ گئی تھی جبکہ باہر لاؤنج میں، اس کے موبائل پہ مسلسل کال آ رہی تھی لیکن اسے نہ باہر نکلنا تھا اور نہ کوئی کال سننی تھی۔ وہ ٹریپ ہو چکی تھی ۔ اس کی پوری زندگی ٹریپ ہو چکی تھی۔

《《《《《《《《¤¤¤¤》》》》》》》》

اپنے بیڈروم میں موجود، وہ لیپ ٹاپ پہ اپنی انگلیوں کو حرکت دے رہا تھا۔ وجدان ملک کو جس طرح سے وہ خوفزدہ کر چکا تھا یہ وہ ہی بہتر جانتا تھا کہ آج کل وجدان ملک کی آواز بھی اس کے سامنے اونچی نہ ہو پا رہی تھی۔
” David calling “

موبائل پہ بجتی کال نے، اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی تھی ۔ کیبورڈ پہ حرکت کرتی انگلیاں تھم چکی تھی اور وہ ہاتھ بڑھا کے، کان میں موجود آلہ آن کر چکا تھا۔
” hello Mr International Hacker ”
ڈیوڈ کی آواز پہ اس کے لب مسکرائے تھے۔
” hello David ”
” بہت مصروف ہو تم آج کل حکان، میں نے کل میسج کیا تھا تم نے ریپلائی نہیں دیا۔ لگتا ہے بھول گئے ہو اپنے دوست کو ”
ڈیوڈ شکوہ کر رہا تھا۔
” بلکل نہیں بھولا۔ ایک واحد تم ہی تھے تب، جب سب نے مجھے چھوڑ دیا تھا اور اب پوری دنیا حکان کے پیچھے پاگل ہے اور تم تو جانتے ہو کہ انٹرنیشنل لیول کے بندے مصروف بہت ہوتے ہیں ۔ ”
ڈیوڈ ہنس پڑا تھا ۔
” اممم بلکل جگری یار ہو تم۔اچھا سنو کیا بنا اس پراجیکٹ کا ؟؟”
” اسی پہ کام کر رہا ہوں اور بہت ٹف سیچویشن ہے کہ ایک عدد کافی کی ضرورت پڑ رہی ہے مجھے اس وقت، جو کہ بلکل بھی مجھے نہیں مل رہی اس وقت ”
حکان کی نظریں مسلسل لیپ ٹاپ اسکرین پہ تھی جبکہ انگلیاں بھی مسلسل کیبورڈ پہ چل رہی تھی اس کے دماغ کی طرح۔
” امم یہاں امریکہ سے بھیج دیتا ہوں تمہیں کافی ۔ ”
” ڈن۔ ”
انٹر پریس کرتے حکان نے دونوں ہاتھ پیچھے ہٹا کے، سر کے پیچھے باندھ لیے تھے۔
” چیک کرو اپنا جی میل۔ ”
حکان کے کہتے ہی ڈیوڈ نے اپنا جی میل کھول لیا تھا۔ اس کی آنکھیں مسکرانے لگی۔
” تم نے کر دکھایا حکان۔۔ ڈیم اٹ”
حکان کی آنکھیں اور چہرہ مسکرانے لگے۔ موبائل آف کرتا، لیپ ٹاپ بند کر کے، وہ اب اپنی کنپٹی سہلانے لگا۔ انٹرنیشنل لیول پہ، ہر اس چیز پہ دسترسی حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا، اس کے لئے تیز دماغ کی ضرورت ہوتی ہے، سمجھ بوجھ کی، بار بار ناکام ہونے کا تجربہ، یہ سب مل کے ہی، انسان کو اس مقام پہ پہنچاتے ہیں جہاں اس وقت حکان ملک تھا۔ کوڈز پہ دسترسی حاصل کر کے، کسی بھی کمپیوٹر کو، اپنی مرضی کے مطابق چلانا، کسی بھی سسٹم کو اپنی مرضی سے استعمال کرنا اور پاسورڈز کو ہیک کرنا حکان ملک ہی جانتا تھا اور کر سکتا تھا۔
زیر لب مسکراتا، وہ اپنے بیڈ روم سے باہر نکل کے، سیڑھیاں اترنے لگا۔ اس کا رخ کچن کی طرف تھا کیونکہ اسے اس وقت تلخ کافی کی ضرورت تھی تاکہ اس کے تھکے ذہن کو سکون مل سکے۔ ابھی کافی میکر آن کیا ہی تھا جب وجدان ملک وہاں چلا آیا۔
” نہ دن کو سوتے ہو نہ رات کو سوتے ہو، کرتے کیا ہو تم ؟؟”
حکان آبرو اچکا کے اسے دیکھنے لگا۔
” وجدان ملک کو برباد کر دینے کا trick مل گیا ہے مجھے، خوشی سے نیند نہیں آتی مجھے ”
وجدان ملک نے لب بھینچ لیے تھے۔
” اتنی اوقات نہیں تمہاری، ورنہ آج تک تو تم کچھ نہ کچھ کر ہی چکے ہوتے ۔ ”
حکان نے ایسے سر ہلایا جیسے کہنا چاہ رہا ہو کہ چیلنج قبول کر چکا ہوں میں تمہارا۔
” لحاظ میں چپ تھا ابھی تک۔ بدقسمتی سے باپ ہیں آپ میرے تو بیٹا اپنی شیطانی چال چلتا، اچھا تھوڑی لگے گا ”
کچھ تو تھا حکان کے انداز میں، کہ لمحہ بھر کے لئے وجدان ملک کا رنگ متغیر ہوا تھا لیکن سر جھٹک کے ہنسنے لگا۔
” میں نے کہا ناں کہ اتنی اوقات نہیں ہے تمہاری کہ تم کچھ کر سکو۔ خالی خولی دعوے تم جیسا ہر ہڈ حرام کرتا ہے ”
حکان زیر لب مسکراتا، پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے، اب اپنے باپ کے مقابل کھڑا تھا، اس باپ کے مقابل، جس کی وجہ سے، اپنی زندگی کی ہر بازی ہار گیا تھاوہ۔ اکاسمہ حیات کو ہار گیا تھا وہ۔ اپنی شخصیت کے مثبت پہلوؤں کو ہار گیا تھاوہ۔ لیکن اب !!!!
” Challange Accepted ”
سرد آواز میں چیلنج کا عنصر نمایاں تھا۔ کافی کا مگ اٹھا کے، وہ وجدان ملک کو انکھ ونک کرتا، آگے بڑھا تھا۔وہ ایسی چال چل رہا تھا جسے دیکھ کے، وجدان ملک کے دل میں خوف سا برپا ہوا تھا۔ حکان ملک سے وہ خائف تھا اور یہ بات وہ خود کو،کئی بار باور کرا چکا تھا لیکن پھر بھی وہ حکان کو کوئی بھی غلط بات کہہ کے، اسے بھڑکانے کی کوشش کرتا۔
” 10 تک گنتے رہیے ڈیڈ،
I have a surprise for you ”
اس نے ہانک لگائی تھی اور پھر سیڑھیاں چڑھنے لگا جبکہ وجدان ملک کو اپنا وجود،گہری کھائی میں ڈوبا محسوس ہونے لگا۔ تاریک ہوتی آنکھیں جیسے مزید حکان کو دیکھنے سے قاصر تھی بس اس کی آواز، جیسے اس کے اعصاب پہ ضرب لگاتی محسوس ہو رہی تھی اسے۔
10، 9، 8، 7، 6، 5، 4، 3، 2، 1 ۔۔۔۔ میکاو!!!
اب حکان کی آواز نہیں آ رہی تھی، اب صرف آواز تھی تو وجدان ملک کے بجتے موبائل کی ۔۔۔ آگے پیچھے بپ بج رہی تھی ۔۔ کوئی میسج آ رہا تھا لیکن وجدان ملک میں اتنی ہمت نہ تھی کہ آگے بڑھے اور صوفے پہ پڑا اپنا موبائل اٹھا کے، چیک کرے کہ اس کے ساتھ کیا کچھ کر چکا ہے، اس کا اکلوتا بیٹا، حکان ملک !!!!

《《《《《《¤¤¤¤¤¤》》》》》》

” اکاسمہ۔۔۔ گڈ مارننگ ”
صبح وہ نارمل ہو چکی تھی ۔ رات بھر ڈر اور خوف کے زیر سایہ گزار کے، وہ اب صبح کے آٹھ بجے کورٹ آئی تھی جب عاریز کی اواز پہ وہ رک کے مڑی تھی۔ آنکھوں میں موجود سرخ ڈوریں اس بات کی گواہ تھی کہ وہ رات بھر سو نہیں پائی تھی۔
” ویری گڈ مارننگ پرازیکیوٹر عاریز خان ”
سپاٹ لہجے میں کہتی، وہ سپاٹ آنکھوں سے ہی اپنے مقابل کھڑے عاریز خان کو دیکھ رہی تھی۔
” میں کیس کے سلسلے میں دیر رات تک یہیں آفس میں رہا اور یہیں سو گیا۔۔۔ مجھے یاد نہیں کہ میں۔۔۔ ”
عاریز نے کنپٹی سہلاتے جواب دیا تھا جبکہ اکاسمہ اثبات میں سر ہلاتی مڑی تھی۔
” گڈ ٹو نو ”
عاریز نے لب بھینچے اس کی پشت کو دیکھا تھا اور پھر اس کے ساتھ چلنے لگا۔
” تمہاری آنکھوں کو کیا ہوا ہے ؟؟”
” کچھ خاص نہیں بس یہ ہوا ہے کہ ۔۔۔ ”
وہ رک کے اب عاریز خان کو دیکھ رہی تھی۔
” میرا شوہر کسی امپورٹنٹ کیس کے سلسلے میں ساری رات باہر رہا ہے جبکہ رات کے 12 بجے اسے کی گئی میری کال بھی کاٹ کے، سکون سے آفس میں سوتا رہا ہے یہ سوچے اور جانے بغیر کہ رات کے بارہ بجے اگر میری بیوی مجھے کال کر رہی ہے تو ضرور کوئی پریشانی ہوئی ہوگی لیکن وہ پرسکون سویا رہا، کال ڈسکنیکٹ کر کے جبکہ اس کی بیوی ساری رات اس خوف سے نہیں سو پائی کہ کوئی اسی کے گھر میں، اسی کی پرائیویسی میں اسے ٹریپ کر رہا تھا۔بس یہ کہانی ہے میری آنکھوں کی ”
عاریز جو حیرانی سے اسے سن رہا تھا۔۔ اچانک سے قریب ہو کے، اسے کندھوں سے تھام گیا۔
” اکاسمہ تم ٹھیک۔۔۔۔ ”
” میں ٹھیک ہوں۔”
اس کے دونوں ہاتھ جھٹک کے وہ پیچھے ہوئی تھی جبکہ عاریز لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا جو بار بار اس کے ہاتھ جھٹک کے، اسے سپاٹ آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
” ایسے کیوں بی ہیو کر رہی ہو اکاسمہ۔۔ ؟؟”
وہ اچھنبے سے سوال کر رہا تھا
” کیا کر رہی ہوں میں؟؟”
اکاسمہ اب کے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
” عجیب بچگانہ حرکتیں کر رہی ہو تم ”
عاریز نے کندھے اچکاتے کہا جبکہ اکاسمہ کے لبوں پہ تمسخرانہ مسکراہٹ ابھری تھی۔
” you just carry on ..
میرے کاغذی شوہر ”
یہ کہہ کے وہ جانے لگی۔
” کہنا کیا چاہتی ہو تم اب ؟؟”
عاریز بھی اس کے ساتھ چلنے لگا۔ایک تو نہ جانے کیوں، اسے سر کے دائیں طرف درد محسوس ہو رہا تھا اوپر سے اکاسمہ کا یہ رویہ۔
” میں تماشا نہیں چاہتی یہاں پلیز ”
اکاسمہ نے دانت پیسے تھے۔
” اوکے ۔۔۔ ”
عاریز یہ کہہ کے، اس کی کلائی جکڑ کے، اسے کھینچنے کے انداز میں، آفس کی طرف جانے لگا۔
” leave me, you are hurting me ”
اکاسمہ نے اپنی کلائی چھڑانے کی کوشش کی تو گرفت مزید سخت ہوئی۔ آفس کا دروازہ کھول کے، وہ اکاسمہ کو اندر دھکیلتا، خود بھی اندر آیا تھا اور دروازہ بند کرتا، وہ اب اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا ۔
” یہاں کوئی نہیں دیکھ رہا ہمارا تماشا اب ”
اکاسمہ کو جو کچھ دنوں سے عاریز کے بدلتے رویے سے پریشان تھی، اب عجیب محسوس کر رہی تھی اپنے مقابل کھڑے اس عاریز کو دیکھ کے۔
” مجھے اپنے کیس پہ ورک کرنا ہے ”
وہ آگے بڑھی تھی جب عاریز خان نے اسے دھکا دے کے، پیچھے کیا تھا۔ اکاسمہ حیران آنکھوں سے، اسے دیکھ رہی تھی ۔ آج پہلی بار عاریز نے اسے یوں دھکا دیا تھا۔
” تم نے مجھے دھکا دیا عاریز ؟؟”
وہ حیران تھی ۔ عاریز کا نرم رویہ دیکھا تھا اس نے اور اب یہ کونسا روپ تھا اس کے شوہر کا۔
” ہاں دے دیا تو ؟؟ کیا بکواس کر رہی تھی تم وہاں؟؟ کاغذی شوہر ۔۔۔ ؟؟؟”
اکاسمہ کو حیرت اور افسوس دونوں ساتھ ساتھ ہو رہے تھے۔
” تم تو وہ عاریز ہو ہی نہیں، جسے میں جانتی آئی ہوں۔ میرے مقابل کھڑا شخص، عاریز خان نہیں ہو سکتا ۔ ”
” دیکھو اکاسمہ، میرے سر میں مسلسل درد ہو رہا ہے، میں رات کو ٹھیک سے سو نہیں سکا، میں بہت تھکا ہوا ہوں تو پلیز یہ بچگانہ حرکتیں۔۔۔ ”
عاریز بیزاری سے بولا۔
” بچگانہ حرکتیں؟؟ میں گھر پہ رات کو اکیلی تھی، بار بار کوئی ڈور بیل بجا رہا تھا وہ بھی رات کے 1 بجے۔ کوئی میرے گھر کے لاؤنج میں چل رہا تھا۔ میرا موبائل لاؤنج میں رہ گیا، میں بیڈ روم میں خود کو بند کر کے، مینٹلی ٹارچر ہوتی رہی اور تم کہہ رہے ہو کہ بچگانہ حرکتیں کر رہی ہوں میں۔۔۔۔۔ ”
اکاسمہ تیز آواز میں کہہ رہی تھی جب عاریز گہرا سانس لیتا، اس کے قریب آیا تھا۔
” دیکھو اکاسمہ مجھے نہیں یاد کہ میں کیوں سویا یہاں آفس میں۔ دیکھو پلیز ایم سوری ” ۔
اکاسمہ خاموش رہی ۔
” اب نہیں ہوگا ایسا۔ ”
عاریز نے تھکے تھکے انداز میں، اکاسمہ کو گلے لگایا تھا۔
اکاسمہ خاموش ہی رہی۔ اس کا ذہن ماؤف ہو چکا تھا۔ اس کی حسیات ساکن ہو چکی تھی۔ اس کی کالز اگنور کرنا، اسے اگنور کرنا وہ کافی دنوں سے دیکھ رہی تھی اور اب ۔۔۔۔ اس کا ہاتھ جکڑ کے، اسے کھینچتے ہوئے، آفس میں لا کے دھکا دینا، اس پہ چلانا، یہ تو کوئی اور عاریز تھا شاید، جس سے وہ آج مل رہی تھی۔

《《《《《《¤¤¤¤¤¤》》》》》》

سارا دن مصروف رہنے کے بعد، شام ہونے کے قریب جب وہ کورٹ سے باہر نکلی تو وہ جو پورا دن عاریز کے رویے کو سوچتی وہ کڑھتی رہی تھی۔ باہر برستی بارش کی بوندوں نے بلکل اچانک اس کے موڈ پہ خوشگوار اثر ڈالا تھا۔ اس کے چہرے پہ ہلکی ہلکی مسکراہٹ ابھری تھی۔ اسے ہمیشہ سے بارش پسند تھی اور جب بھی بارش ہوتی تو یہی محسوس ہوتا کہ جیسے بارش کی یہ مسلسل برستی بوندیں اسے اپنی کوئی داستاں سنا رہی ہو اور ابھی بھی وہ شاید اس داستان کو سن چکی تھی، تبھی اس کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھری پڑ رہی تھی اور وہی لمحہ تھا جب کورٹ سے باہر آ کے، اپنی گاڑی کی طرف جاتے حکان ملک کی نظر اس پہ ٹھہر گئی تھی اور پھر جیسے ارد گرد کا ماحول رک گیا تھا۔
وہ جیسے آٹھ سال پیچھے چلا گیا تھا۔ یونیورسٹی گراؤنڈ کے بیچ کھڑی وہ اپسرا تھی، جو مسلسل برستی بارش میں، آنکھیں بند کیے، چہرے آسماں کی طرف اٹھائے مسکرا رہی تھی اور ابھی بھی وہ مسکرا رہی تھی۔ ہاتھ آگے بڑھا کے، اس نے بارش کی بوندوں کو اپنی ہتھیلی پہ محسوس کیا تھا اور پھر سر جھٹک کے وہ قدم قدم چلتی اپنی گاڑی کی طرف جانے لگی ۔ حکان نے بھی قدم اکاسمہ کی طرف بڑھائے تھے لیکن موبائل پہ آتی کال نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا اور وہ رک کے کال سننے لگا۔
” ہاں ازمائر ؟؟”
نظریں اب بھی مسلسل اکاسمہ پہ تھی جو شاید کوئی کافی آرڈر دے چکی تھی اور کوئی شخص اکاسمہ کے قریب کھڑا اسے کافی کا کپ تھما رہا تھا۔ وہ ان کے کیفے ٹیریا کا لڑکا نہیں تھا تو کون تھا جو ویٹر یونیفارم میں تھا۔
” حسام نے سوسائیڈ کر لیا ”
ازمائر کی آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی اور وہ چونکا تھا اور پھر سر جھٹک کے زیر لب مسکرانے لگا
” جب زندگی اس پہ تنگ کرو گے تو بس یہی آپشن بچتا ہے اس کے پاس ۔ ”
وہ اب اکاسمہ اور اس شخص کی طرف دیکھ رہا تھا اور بلکل اچانک، اس کے ذہن میں جھماکا ہوا تھا۔
ذاکر خان، جو اس دن اکاسمہ کے آفس میں آیا تھا۔
عدیل حیات، جسے وہ نیوز میں دیکھ چکا تھا ۔
” میں کال کرتا ہوں ”
یہ کہہ کے وہ تیزی اکاسمہ کی طرف دوڑا تھا ۔ اس کی نظریں مسلسل اکاسمہ پہ تھی جو کافی کا کیپ کھول رہی تھی لیکن وہ پہنچ چکا تھا اور جھٹکے سے وہ کافی بھی اکاسمہ کے ہاتھ سے نیچے گرا چکا تھا۔ اکاسمہ بوکھلا کے، حیرت سے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ سامنے کھڑے اس لڑکے کا کالر جکڑ چکا تھا اور اسے گاڑی سے پین کرتا، سرخ ہوتی آنکھوں سے، اسے دیکھنے لگا۔
” کون ہو تم ؟”
وہ غرایا تھا۔
” حکان چھوڑو اسے، کیا کر رہے ہو تم؟ حکان؟؟ ميں کچھ کہہ رہی ہوں ”
جبکہ حکان اسے سن کہاں رہا تھا ۔
” حکان ۔۔۔ ”
وہ چلائی تھی اور ساتھ ہی اس کے کوٹ کا آستین پکڑ کے، اسے کھینچ کے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا تھا۔ حکان اس لڑکے کو دور پھینکتا اب اکاسمہ کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
” کیا کر رہے ہو تم حکان ؟؟”
” کیوں کرتی ہو ایسے اکاسمہ ؟؟ آخر کیوں؟؟”
عجیب لہجہ تھا، گہری آنکھوں میں عجیب پریشانی تھی جبکہ لہجہ بےحد گھمبیر تھا۔ اکاسمہ لمحہ بھر کو چونکی تھی ۔
” جانتی بھی ہو اکاسمہ، سب جانتی ہو کہ وہ تمہارا دشمن ابھی زندہ ہے۔ وہ سیریل کلر تمہارے پیچھے پڑا ہے۔ ہر بار اس کے ہاتھ سے بچ نکلتی ہو لیکن کب تک ؟؟ اکاسمہ دھیان کیوں نہیں ہے تمہارا ؟؟ تمہاری جان کو خطرہ ہے، تمہیں خطرہ ہے، دھیان کیوں نہیں دیتی تم ؟؟”
وہ بدحواس سا ہو رہا تھا جبکہ اکاسمہ آنکھوں میں حیرانی لیے اسے دیکھ رہی تھی۔ کون تھا یہ حکان ؟؟ اس شخص کو کیوں اتنی فکر ہو رہی ہے اکاسمہ کی ؟؟ ایک کلاس فیلو ہی تھا تو ؟؟
“مجھے کچھ نہیں ہوا۔ ”
” اور اگر کچھ ہو جاتا تو ؟؟”
اکاسمہ جو اپنی فائل گاڑی میں رکھنے کا سوچ رہی تھی جب اس کے گھمبیر لہجے میں چونکی تھی اور جانچتی نظروں سے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ سر جھٹک کے جیسے ہوش میں آیا تھا ، تیزی سے اپنی کنپٹی سہلاتا، وہ نیچے پڑے کافی کے کپ کو دیکھنے لگا اور پھر سے اکاسمہ کو۔
” میں وعدہ کرتا ہوں اکاسمہ کہ جب تک میری سانسیں چل رہی ہے میں ہر اس طوفان سے ٹکرا جاؤں گا جو تمہاری طرف آنے کا سوچ بھی لیں۔ ”
” کیوں؟؟”
اکاسمہ کا لہجہ سپاٹ تھا جبکہ آنکھیں بھی سپاٹ ہو چکی تھی۔ کچھ عجیب رویہ تھا حکان ملک کا، کہ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی لیکن اس کی چھٹی حس جیسے اسے خبردار کر رہی تھی کہ مقابل کھڑا یہ شخص کوئی عام آدمی نہیں اور نہ کوئی عام کلاس فیلو اور نہ کوئی عام وکیل۔ اس کی سپاٹ آنکھیں حکان ملک کے خوبصورت چہرے پہ تھی جبکہ وہ کندھے اچکا گیا۔
” کیونکہ میں اپ کا اسسٹنٹ ہوں تو میری ذمہ داری ہے کہ میں آپ کی حفاظت کروں ”
وہ ہلکا سا مسکرایا تھا ۔
” اکاسمہ ۔۔۔ ”
عاریز کی اواز پہ وہ چونک کے مڑا تھا جبکہ اکاسمہ ماتھے پہ بل ڈالے عاریز کو دیکھنے لگی۔ وہ ابھی تک غصہ تھی عاریز سے۔
” تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟؟”
سپاٹ نظر حکان پہ ڈال کے، وہ اکاسمہ کے قریب ہوا تھا اور اکاسمہ کو خود سے لگائے، گہری سوالیہ نگاہوں سے، اسے دیکھنے لگا۔ جبکہ وہ کندھے اچکا گئی۔
” مجھے گھر جانا ہے ۔”
عاریز سے الگ ہو کے، وہ گاڑی میں بیٹھنے لگی جبکہ حکان لب بھینچے دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
” میں بھی ساتھ چلتا ہوں، ”
عاریز دوسری طرف سے آ کے گاڑی میں بیٹھنے لگا۔ اکاسمہ نے اس کی طرف دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کی کہ وہ ابھی بھی ناراض اور غصہ تھی عاریز سے۔ اکاسمہ گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی جبکہ عاریز خان گہری نظروں سے باہر کھڑے حکان ملک کو دیکھا تھا اور نہ جانے کیوں حکان کو ان آنکھوں میں عجیب چیلنج نظر آیا تھا۔ وہ چونکا تھا لیکن گاڑی آگے بڑھ چکی تھی اور وہ پرسوچ گہری نگاہوں سے اس گاڑی کو پل پل خود سے دور جاتا دیکھ رہا تھا۔
” عاریز خان ”
اس نے دانت پیسے تھے۔

¤《《《《《《《《《》》》》》》》》¤

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *