The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 53
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 53
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 53
مسفرہ کچن میں کھڑی ڈنر تیار کر رہی تھی۔ اپنی سوچوں میں محو، وہ اردگرد سے شاید بےخبر تھی۔ جب اچانک گہری سرگوشی پہ چونک کے وہ رک گئی۔
” اگر کبھی تمہیں موقع ملے کہ ۔۔۔۔”
ازمائر شاہ اپنی بات ادھوری چھوڑ گیا۔ مسفرہ نے مڑنا چاہا لیکن اس پشت پہ ازمائر جھکا، اس کے دونوں اطراف میں، اپنے دونوں ہاتھ رکھے، اس کے بےحد قریب کھڑا تھا کہ اگر مسفرہ ہلتی تو شاید فرائی پین گر جاتا یا وہ خود جل جاتی۔
” ازمائر پیچھے ہٹو، میں جل جاؤں گی۔ ”
مسفرہ نے دانت پیستے کہا جبکہ ازمائر نے جیسے اسے سنا ہی نہیں، اس کے کان کی لو پہ اپنی دہکتی سانسیں چھوڑتا، وہ پراسرار انداز میں مسکرا رہا تھا۔
” کہ۔۔۔ تمہیں اپنے محبوب انسان کو صرف اپنا ہی بنا کے رکھنا پڑے اور اس کے لئے، اس محبوب انسان کو نیم پاگل بنانے میں بھی حرج نہیں ہو تو۔۔۔۔ کیا تم کوئی حربہ آزماؤ گی ؟؟”
مسفرہ نے چونک کے ماتھے پہ بل ڈالے۔
” یہ کیا بکواس ہے؟؟”
وہ کبھی ایسا نہیں کرے گی۔ اگر اس کا مطلب، وہ خود ہے تو وہ کیسے ازمائر شاہ کو نیم پاگل بنانے کا سوچ سکتی ہے ؟؟ وہ مخالف کو نیم پاگل یا شاید مکمل پاگل بنا دے جیسے کہ رخسار کے ساتھ کیا اس نے، لیکن ازمائر شاہ کو وہ کبھی نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔
” بتاؤ مسفرہ ۔۔۔ ”
دہکتے لب، اس کے کان پہ رینگ رہے تھے۔ بہت دنوں بعد، ایسی قربت ملی تھی تو دھڑکنیں بےاختیار تیز ہونے لگی۔ سانسیں بھاری ہونے لگی ۔
” از۔۔۔۔ مائر۔ میں اپنے محبوب کو نقصان کبھی نہیں پہنچاؤں گی کیونکہ میں محبت کرتی ہوں اس سے۔ لیکن اس عورت کو میں جہنم کی آگ سے بدتر سزا دوں گی۔ کیونکہ اُس کی جرات کو نیست و نابود کر دوں گی میں، جو میرے شوہر، میرے محبوب کے قریب بھی آئے۔ ”
اپنی بات مکمل کر کے، وہ جھٹکے سے مڑی اور ازمائر کو گھورنے لگی جو زیر لب مسکرا رہا تھا۔ مسفرہ کے یوں دیکھنے پہ، اس نے ابرو اچکائے اور ہاتھ بڑھا کے، اسکی گردن پہ، انگلی پھیرنے لگا۔
” اور اگر تمہارا محبوب مرد یا شوہر ہی، اس عورت میں دلچسپی۔۔۔”
اس سے پہلے ازمائر کی بات مکمل ہو پاتی، مسفرہ نے تمام شرم بالائے طاق رکھ کے، آگے بڑھ کے،، اس کے لبوں کو اپنے لبوں سے قید کر لیا۔ ازمائر اس اچانک ردعمل کے لیے تیار نہیں تھا لیکن مسفرہ کا کومل احساس، جیسے اسے بیتاب سا کر گیا، وہ مسفرہ کو بانہوں میں بھر کے، اپنی شدتیں اسے سونپنا چاہتا تھا جب اچانک درد کا احساس ہوا اسے اپنے لبوں پہ اور وہ فورا مسفرہ کو خود سے دور کرتا، خود پیچھے ہوا تھا۔ مسفرہ نے بےحد زور سے ، اس کے لبوں پہ کاٹا تھا کہ وہ مسفرہ کو لبوں پہ لگے خون کے بوند کو حیرت سے دیکھنے لگا جبکہ مسفرہ کی آنکھوں میں بےحد سرد تاثر تھا۔
وہ جانتا تھا کہ مسفرہ اس پہ شک کرتی ہے رخسار کے حوالے سے، وہ مسفرہ کے شک کو جانچنا چاہتا تھا لیکن مسفرہ نے بدلے اتنی شدت کا مظاہرہ کیا تھا کہ وہ دنگ رہ گیا۔ اس کے لب سے خون بہہ رہا تھا مسفرہ کے دانتوں سے کاٹنے کے بعد۔
” مسفرہ یہ۔۔۔۔”
” ایک عورت کا چھوٹا سا انتقام یا۔۔۔۔ پھر انتقام کا آغاز۔”
مسفرہ کی آنکھیں بےحد سرد تھی جبکہ ازمائر کی آنکھوں میں حیرانی تھی لیکن دل کی گہرائیوں میں وہ مسکرا رہا تھا اپنی بیوی کے اس تشدد پہ۔ وہ اپنی کنپٹی سہلاتا، سر جھکا گیا تاکہ اپنی مسکراہٹ چھپا سکے۔ مسفرہ لب بھینچے، کھانا نکالنے کی تیاری کرنے لگی۔ اس وقت وہ شدید غصے میں تھی۔ اززمائر کی بات سے، اسے چوٹ پہنچی تھی لیکن ۔۔۔ وہ ایک سائیکیٹریسٹ تھی تو اسے خود پہ قابو رکھنا آتا تھا۔
” چلو ایک کام کرتے ہیں۔ “
مسفرہ بنا مڑے، اسے سننے لگی جبکہ وہ مسکرا رہا تھا۔
” مجھے اس عورت کی قربت تک پہنچنے سے روک لو ۔۔۔ ”
مسفرہ تیزی سے مڑ کے اسے حیرت سے دیکھنے لگی جبکہ ازمائر کی آنکھیں سپاٹ تھی جبکہ ہونٹوں پہ مسکراہٹ تھی۔ وہ قدم قدم پیچھے ہو رہا تھا جبکہ لمحہ لمحہ مسفرہ کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ آگ میں جل رہی ہے، بھسم ہو رہی ہے اور اس کا محبوب قدم قدم اسے گہری کھائی میں پھینک رہا ہے، وہ ہوا میں تحلیل ہوتی جا رہی ہے۔ آگے بڑھ کے، وہ ازمائر کو روکنا چاہتی ہے لیکن۔۔۔۔ اس کا جسم بھاری ہوتا جا رہا ہے۔
ازمائر کچن سے نکل کے، لب بھینچ گیا اور لمبے ڈگ بھرتا، وہ دروازہ کھول کے، گھر سے باہر نکل گیا۔ گہرا سانس لیتے، اس نے تازہ ہوا کو خود میں اتارا۔ مسفرہ اس پہ شک کرتی ہے، اپنے شک کی تصدیق کے لئے، اس نے ازمائر کے آفس میں کیمرے لگائے۔ وہ عورت جو ہر بستر کی زینت بنی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے اس نے اپنے تمام قیمتی سال جیل میں گزارے۔ جو اس سے بیوفائی اور خیانت کا مرتکب ہوئی۔ اسی عورت کے ساتھ، مسفرہ کیسے دوبارہ اسے جوڑ سکتی ہے۔ اب ۔۔۔۔ وہ مسفرہ کو سزا دینا چاہتا تھا۔ اسے اپنی ہی لگائی آگ میں جھونک کے، وہ پل پل اسے جھلسا دینا چاہتا تھا۔
ہاں، وہ محبت کرتا ہے مسفرہ سے، لیکن جو مسفرہ کر رہی ہے، اس کے لئے وہ سزا کی مستحق ہے۔ ازمائر شاہ اسے سزا دے گا۔
اس کے چہرے پہ سرد تاثر تھا۔
□□□□□□□□■■■■■■□□□□□□□
” باڈی مل چکی ہے۔۔”
دروازہ کھول کے، اندر آتے کاووس نے کہا جبکہ اکاسمہ جو اپنے نئے کیس کی فائل دیکھ رہی تھی۔ چونک کے اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگی ۔
” ڈیڈ باڈی ۔۔۔ ایکچوئیلی ”
کاووس نے وضاحت دی جبکہ اکاسمہ نے سوالیہ انداز میں کندھے اچکائے۔
” کس کی ڈیڈ باڈی؟؟ “
” عورت کی ۔۔ 26 سال عمر تھی اس کی۔ چہرہ بھی ٹھیک سے دکھائی نہیں دے رہا ”
کاووس نے مزید وضاحت دی لیکن لگ رہا تھا کہ اکاسمہ بھول چکی تھی شاید۔ اور پھر اچانک اسے یاد آیا تو وہ عجیب نظروں سے کاووس کو دیکھنے لگی۔
” تمہیں کیسے پتہ چلا کہ مجھے باڈی چاہئے ؟؟”
” ڈیڈ باڈی”
کاووس نے زور دیا۔
” ہاں وہی۔۔۔م ڈیڈ باڈی، تمہیں کیسے پتہ چلا؟؟”
اکاسمہ نے منہ بنایا جبکہ کاووس نے کندھے اچکائے اور سیٹ پہ بیٹھ گیا۔
” بھائی کو تو اتنا پتہ ہونا چاہئے اپنی بہن کا۔ “
” آہاہ، بھائی ہونے کا حق ادا کیا جا رہا ہے ”
اکاسمہ مسکرانے لگی جبکہ وہ مزید پھیل کے بیٹھ گیا۔
” یہ تو بہت چھوٹا کام تھا، تم کہو تو چاند تارے بھی توڑ لاؤں مائی ڈئیر sis … “
اکاسمہ نے آنکھوں میں حیرانی سمو کے اپنے بھائی کو دیکھا جو سالوں سے، اس سے الگ تھا اور اپنے ناک کو چھوتی مسکرانے لگی۔
” باڈی، آئی مین ڈیڈ باڈی کہاں ہے ؟؟”
کاووس نے موبائل اٹھا کے اسے دکھایا جہاں ویڈیو چل رہی تھی۔
” یہاں “
اکاسمہ کی آنکھوں میں حیرت آئی ۔ لاش کو، اکاسمہ کی ہدایات کے مطابق، سنسان سڑک کنارے پھینکا گیا تھا۔ جہاں اس وقت کچھ گاڑیاں رکی ہوئی تھی۔ لوگ جمع تھے جنہوں نے شاید پولیس کو اطلاع دی ہوگی۔ خیام اپنی ٹیم کے ساتھ موجود تھا اور پورے علاقے کو سیل کر دیا گیا تھا۔
” یہ ؟؟”
اکاسمہ نے حیرت سے کاووس کو دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔
” تمہاری ہدایات کے مطابق ہو رہا ہے سب ۔ اب اور کیا کرنا ہے؟؟”
اکاسمہ کی آنکھیں جو حیران تھی اب ان آنکھوں میں نفرت جھلکنے لگی۔
” عفان تک یہ خبر پہنچانی ہے تاکہ اسے یقین ہو جائے کہ عندلیب مر چکی ہے اور اس طرح ہی، عندلیب اور اس کے بچے کی جان محفوظ رہے گی “
” ہو جائے گا ”
کاووس نے موبائل کوٹ کے پاکٹ میں رکھتے ہوئے کہا جبکہ اکاسمہ لب بھینچ گئی۔
” تھینک یو کاووس شاہ”
کاووس کی آنکھوں میں مسکراہٹ در ائی۔
” یو ویلکم مائی ڈئیر اکاسمہ۔ ”
۔اکاسمہ نے نظریں چرائی اور باہر دیکھنے لگی۔ سامنے بیٹھا شخص اس کا سگا بھائی تھی اور جسے سگا بھائی سمجھتی آ رہی تھی وہی۔۔۔۔ ان کا دشمن نکلا۔ دشمن؟؟
وہ اچانک کاووس کو دیکھنے لگی۔
” کیا میرے لئے ایک کام۔کر سکتے ہو پلیز ۔۔ لیکن ہمارے بیچ ہی رہے “
اکاسمہ کی بات پہ، کاووس نے اچھنبے سے، سر اثبات میں ہلایا۔
” کیا ۔۔۔۔ کیا عفان ہی عاریز کا قاتل ہے۔ مجھے یہ جاننا ہے “
کاووس شاہ چونکا تھا۔ وہ خاموشی سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔ یہ بات وہ اکاسمہ کو نہیں بتا سکتا تھا کیونکہ حکان نے اسے منع کیا تھا ۔ ۔
” پلیز کاووس، میرے لئے یہ جاننا ضروری ہے۔ میں عرصے سے، قاتل کو ڈھونڈ رہی ہوں لیکن ڈھونڈ نہیں پا رہی۔ پلیز مجھے تمہاری مدد چاہئے۔ جانتی ہوں کہ حکان نہیں چاہتا کہ میں خود کو خطرے میں ڈالوں۔ میں۔۔۔ میں حکان سے بےحد محبت کرتی ہوں۔ وہ میرا شوہر ہے اور مجھے اس سے بےپناہ محبت ہے لیکن عاریز ۔۔۔۔ ”
وہ رک گئی۔
” عاریز وہ انسان تھا جس نے ہر مشکل وقت میں میری مدد کی۔ اس کی اچانک موت، میرے لئے صدمے سے کم نہیں تھی ۔ یہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوگی کہ ۔۔۔ اگر میں اس کے قاتل کو سزا دلانے میں ناکام رہی۔ اس کی لاش بوسیدہ ہو چکی تھی جب اس کی لا۔۔۔۔۔ش ملی ۔ اسے بےدردی سے مارا گیا تھا مجھے چین نہیں آئے گا جب تک کہ میں اس کے قاتل کو سزا نہ دوں۔ ”
اس کی آواز بھرا گئی۔
ہاں وہ حکان ملک سے بےپناہ محبت کرتی تھی۔ اتنی محبت کہ اس نے ماضی میں شاید عاریز سے بھی نہ کی ہوگی لیکن وہ عاریز کو سزا دلانا چاہتی تھی۔ اپنے ضمیر کے آگے وہ ملامت تھی اور وہ چاہتی تھی کہ جب اس کا سامنا اپنے ضمیر سے ہو تو اسے ملامت کا احساس نہ ہو بلکہ سکون کا احساس ہو کہ ہاں، وہ اس شخص کی اچانک دردناک موت کا بدلہ لے چکی ہے جو اس کے دل کی دنیا میں قدم رکھنے والا، وہ پہلا مرد تھا جس نے اسے کھائی میں گرنے سے کئی بار بچایا تھا۔۔
” ٹھیک ہے، وہاں چلتے ہیں جہاں عاریز کی موت ہوئی تھی اور وہی سے شروع کرے گیں انویسٹیگیشن”
کاووس شاہ نے اچانک کہا جبکہ اکاسمہ کے دل کی دھڑکن اچانک تیز ہوئی۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ وہ بہت جلد اس قاتل تک پہنچ جائے گی اب۔
کاووس شاہ اسے نہیں بتا سکتا تھا یوں اچانک سے، کہ عفان ہی عاریز خان کا قاتل ہے لیکن وہ سمجھتا تھا کہ اکاسمہ کو یہ جاننے کا پورا حق ہے اور اس لیے وہ چاہتا تھا کہ اسے آہستہ آہستہ پتہ چلے اور پھر وہ عفان تک پہنچ جائے۔
□□□□□□■■■■■■□□□□□□□
” عفان، میں تمہیں لوکیشن سینڈ کر رہا ہوں یہاں آؤ، عندلیب۔۔۔۔۔ ”
خیام کی آواز اس کے کان میں گونجی تو اس کے ہاتھ کی گرفت موبائل پہ سخت ہوئی۔
” عندلیب کیا ؟؟”
اس نے اچانک سوال کیا۔
” عندلیب کی باڈی ملی ہے ہمیں۔ ”
خیام کے اچانک کہنے پہ، عفان سکتے میں آ گیا۔ پیچھے سے ایک نرم ہاتھ، اس کے برہنہ کندھے پہ آیا جسے اس نے زور سے جھٹک دیا، موبائل پہ خیام کی بھیجی ہوئی لوکیشن دیکھ کر، وہ تیزی سے بیڈ سے نیچے اترا جبکہ بیڈ پہ موجود، وہ لڑکی لب بھینچے اسے دیکھ رہی تھی۔ جسے رات کو بانہوں میں بھرے، وہ اپنی وحشتیں اسے سونپتا رہا اور اس وقت، وہ اس لڑکی کو دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔ سر جھٹک کے، اس نے ماتھے پہ بل ڈال لیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جائے حادثہ پہ پہنچ کے، وہ گاڑی سے اتر کے، تیزی سے خیام کے قریب پہنچا جہاں اس کی ہدایات کے مطابق، عمل ہو رہا تھا۔
” خیام ۔۔۔ ” ۔۔
خیام نے رک کے اسے پریشان نظروں سے دیکھا۔ ۔
” عفان۔۔۔ باڈی کو لیب لے جایا جا رہا ہے “
عفان نے سفید کپڑے میں لپٹے وجود کو دیکھا تو دل میں عجیب چبھن سی ہوئی۔ اس کی زندگی میں آنے والی، سب سے پاک اور معصوم عورت تھی وہ۔ جس سے اس نے کبھی محبت کی تھی اور اس وقت وہ نازک وجود سفید چادر میں چھپی ہوئی تھی۔
” کوئی دشمنی تھی کیا تم دونوں سے کسی کی ؟؟”
خیام کے پوچھنے پہ، عفان چونک کے اسے دیکھنے لگا اور پھر سر جھٹک گیا۔
” نہیں۔ ہماری کیا دشمنی ہو سکتی ہے کسی سے “
اسکی نظر گاڑی سے نیچے اترتے حکان اور اکاسمہ پہ پڑی تو تیزی سے اکاسمہ کے قریب جا کے، اسے گلے لگا لیا۔ اکاسمہ لمحہ بھر کے لئے حیران ہوئی جبکہ ساتھ کھڑے حکان نے ، اسے کھینچ کے، اکاسمہ سے دور کر دیا۔
” اکاسمہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ”
اس نے سرد لہجے میں کہتے، اسکی طرف دیکھا۔۔
” کیا ہوا ہے اکاسمہ کو ۔۔۔ اکاسمہ؟؟”
عفان نے پھر سے اکاسمہ کے قریب ہونا چاہا لیکن حکان پہلے ہی، اکاسمہ کو بازو کے گھیرے میں لے چکا تھا۔
” الرجی ۔۔۔۔”
اور آگے بڑھ گیا جبکہ عفان نے لب بھینچے، سرد نظروں سے دونوں کو دیکھا اور پھر ان کے پیچھے آنے لگا۔
” عندلیب پریگننٹ تھی۔ یہ سب کیسے ہو گیا ؟ ”
اکاسمہ نے افسوس بھرے لہجے میں کہا۔
‘ پریگننٹ؟؟’
وہ حیرت سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔
” پریگننٹ تھئ عندلیب؟؟”
اکاسمہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
” اس نے خود مجھے بتایا تھا اور وہ تمہیں یہ گڈ نیوز دینے والی تھی لیکن یہ سب ناقابل یقین ہے۔”
اکاسمہ کا لہجہ دکھ سے بھرا ہوا تھا جبکہ عفان حیرت سے گنگ کھڑا رہ گیا۔ وہ باپ بننے والا تھا۔ لیکن اس سے یہ خوشی بھی چھین لی گئی تھی۔ اس کی بیوی عندلیب حاملہ تھی۔ کون تھا وہ شخص؟؟ جس نے اس سے دشمنی نکالنے کی کوشش میں، اس کی بیوی اور بچے کو ختم کر دیا تھا۔ اس نے غم و غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں۔ اکاسمہ چور نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ عفان کے چہرے پہ غم و غصے کو دیکھتے ہوئے، اس نے گہرا سانس لیا اور اپنے حواس قابو میں رکھے کہ اس شخص سے اسے نفرت محسوس ہو رہی تھی جسے وہ پہلے اپنا بھائی سمجھتی تھئ۔ فیاض حیات نے ماضی میں کوئی گناہ نہیں کیا تھا لیکن شاید کوئی ایسی غلطی ضرور کی ہوگی جس کی وجہ سے، وہ اپنے لئے خطرناک دشمن بنا بیٹھے تھے لیکن کون ؟؟
عفان کون ہے ؟؟ ماضی میں کیا اس کے ماں کی کوئی دشمنی رہی ہے فیاض حیات سے؟؟ جو اس کے پورے خاندان کو ختم کرنے پہ تلے ہوئے ہیں؟؟ ایسا کیا ہو گیا تھا ؟؟ عفان کا تعلق کس سے ہے ؟؟ کس بات کا بدلہ؟؟ کس قدر خطرناک شخص ہے وہ ؟؟ کہ ساتھ رہ کے بھی، کسی نے محسوس نہیں کیا؟ یہاں تک کہ اس نے خود بھی محسوس نہیں کیا کہ وہ سیریل کلر، جسے سب ڈھونڈ رہے ہیں اس کے پیچھے عفان ہے؟؟ عفان حیات؟؟ نہیں۔۔۔۔
عفان ۔۔۔۔ صرف عفان !!!
” اکاسمہ؟؟”
اپنے نام۔کی پکار پہ وہ چونکی اور عفان کو دوبارہ سے دیکھنے لگی۔ جو اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
” کچھ دیر کے لئے کہیں چل سکتے ہیں۔۔ مجھے سکون کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے “
حکان جو فاصلے پہ کھڑا، خیام سے بات کر رہا تھا، لب بھینچے اسے گھورنے لگا۔
” ہشش، اسے شک مت ہونے دو ”
خیام نے اشارے سے کہا جبکہ وہ گہرا سانس لیتا ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا۔
” ہمیں پولیس اسٹیشن جانا ہوگا عفان، عندلیب کی رپورٹس آنی ہے ۔ امی اور بابا کو انفارم کرنا ہے۔ ذہنی سکون اس وقت ضروری نہیں ہے عفان۔ہمیں ضروری انتظامات کرنے ہیں۔ مرنے والی تمہاری بیوی اور ہمارے خاندان کی بڑی بہو تھی۔”
عفان نے لب بھینچ لیے لیکن خاموش رہا اور سر اثبات میں ہلاتا، خیام اور حکان کو ایک نظر دیکھتا، اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
” ذلیل انسان ”
حکان نے دانت پیسے تھے ۔
” ساتھ چلیں؟؟”
اس نے مڑ کے اکاسمہ کو دیکھا۔ حکان بےاختیار اکاسمہ کے قریب آیا۔ ۔
” میں حکان کے ساتھ آ رہی ہوں ”
اکاسمہ کے جواب پہ، اندر ہی اندر تاو پیچ کھاتا، وہ گاڑی میں بیٹھ گیا اور جھٹکے سے گاڑی آگے بڑھا لے گیا جبکہ اکاسمہ اور حکان سرد نظروں سے، اسے جاتا دیکھ رہے تھے۔
” ذلالت تو جیسے اسکے خون میں شامل ہے۔ ”
حکان نے دانت پیسے جبکہ اکاسمہ خاموش رہی۔ جب اس کے موبائل پہ کاووس کا میسج آیا۔
” اس جگہ کو میں نے سیل کروا دیا ہے۔۔ ہم اب آرام سے جا سکتے ہیں ”
میسج پڑھنے کے بعد، اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی۔ وہ خاموش رہی، اسے حکان کو خبردار نہیں کرنا تھا لیکن اسے عاریز خان کے قاتل تک پہنچنا تھا اور اگر وہ عفان ہوا تو ۔۔۔م ؟؟
تو وہ عفان کو اپنی مرضی کی سزا دے گی۔
□□□□□□□□■■■■■□□□□□□□
