Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 08

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 8

” بلیک منی ٹرانسفر ۔ ”
اس کی سرد سرسراتی سرگوشی پہ وہ چونکی تھی ۔
” میں ایک ماڈل ہوں اور تم مجھ سے کیا کرنے کو کہہ رہے ہو ”
اس نے بگڑے لہجے میں کہا جبکہ وہ ہنسنے لگا ۔
” تو ماڈل بننے کا سفر کیسا رہا تمہارا؟؟ کس کس کے بیڈ کی زینت بن کے تم ماڈل بنی ہو ؟؟ یہ سب میں جانتا ہوں۔اتنا بےوقوف تو میں بھی نہیں ہوں۔ ”
وہ نظریں گھماتی اس کے پہلو سے ہو کے آگے بڑھنے لگی تھی جب وجدان ملک نے اس کا بازو دبوچ کے اسے روکا تھا اور کھینچ کے اسے اپنے مقابل کھڑا کیا تھا ۔
” فاروق کے بیڈ روم کی زینت بن کے ہی تم ماڈلنگ کے اس مقام تک پہنچی ہو رخسار فاروقی ۔ ”
وہ سرد سرگوشی کرتا اپنے لب اس کے کان کی لو پہ رکھ چکا تھا ، رخسار کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں وہ سرسراہٹ محسوس ہوئی تھی۔
” بلیک منی ٹرانسفر میں ساتھ دو گی میرا ، تو اس سے بھی آگے جاؤ گی ۔ ”
وہ خاموش ہی رہی جبکہ وجدان ملک اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” لینز لگا کے بھی ، میں تمہیں پہچان گیا ، حیران ہوں کہ دنیا تمہیں کیسے نہ پہچان سکی ”
اس کا لہجہ معنی خیز تھا ۔
” تم کھبی نہیں چاہو گی کہ ازمائر کی جگہ تم جیل کی ہوا کھانے جاؤ ”
اس کی آنکھوں میں خوف ابھرا تھا ، تبھی جھٹکے سے اپنا بازو اس کی گرفت سے آزاد کرایا تھا جبکہ وجدان ملک ہنس رہا تھا اور رخسار لب بھینچے اس شیطان کو دیکھ رہی تھی جو اس سے بھی دو ہاتھ آگے تھا اپنی شیطانیت میں۔

☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆

” جیسے کہ آپ دیکھ چکے ہیں کہ اسٹیپ ٹو اسٹیپ ہم جو آپریشنز کر رہے ہیں، ان سے مس عندلیب کا فیس پہلے سے بہتر ہو رہا ہے ۔ پہلے ناک کا آپریشن ہوا ، آنکھوں کا اور پھر چہرے کو شیپ دینے کا ، اب سب سے امپورٹنٹ آپریشن ہونا ہے جس کے لئے مس عندلیب کو تیار ہونا ہے ۔ ”
ڈاکٹر شرجیل بتا رہے تھے جبکہ ڈاکٹر عفان اور عندلیب انہیں سن رہے تھے ۔
” مس عندلیب کے بیک سے اسکن لیا جائے گا اور ان کے فیس کو پراپرلی اس اسکن سے کور کیا جائے گا جس سے ان کے فیس کی اسکن انشا اللہ بہتر ہوتی جائے گی ۔ ”
عفان نے ایک نظر عندلیب کو دیکھا تھا جس کے چہرے پہ پریشانی رقم تھی اور پھر ڈاکٹر شرجیل کو دیکھنے لگا ۔
” یہ تو اچھی بات ہے اور یہ آپریشن کب ہوگا ؟؟”
عفان کے سوال پہ ڈاکٹر شرجیل عندلیب کو دیکھنے لگے ۔
” جلد سے جلد ۔ ”
عندلیب نظریں چرا گئی تھی۔
” این جی او کی طرف سے جو فنڈ ملنا تھا ، اس بار مجھے ملنا تھا تو ۔۔ ”
وہ بات ادھوری چھوڑ کے سر جھکا گئی تھی۔
” میں بات کرتا ہوں مسز نزہت سے ، آپ ان باتوں کے لئے پریشان نہ ہو بیٹا۔ ”
ڈاکٹر شرجیل مسکرا کے کہہ رہے تھے۔
” مس عندلیب ان سب باتوں کے لئے پریشان ہونے کے بجائے، آپ بس یہ سوچے کہ اپنے نئے چہرے کے ساتھ آپ دنیا فتح کرنے لگی ہے ۔”
یہ ڈاکٹر عفان تھا جبکہ عندلیب ناسمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی اور ڈاکٹر شرجیل مسکرا دئیے تھے ۔
” ڈاکٹر عفان اپ کی حس مزاح بھی ناں۔ ”
عفان کندھے اچکا گیا اور پھر عندلیب کے ساتھ وہ بھی ڈاکٹر شرجیل کے کمرے سے باہر نکلا تھا۔
” عندلیب سمجھ نہیں آ رہی مجھے ، سارے مسئلے ایک ایک کر کے سولو ہو رہے ہیں آپ کے ، پھر بھی اپ کے چہرے پہ پریشانی دیکھنے کو مل رہی ہے مجھے ۔ ”
عفان غور سے اس کے چہرے کو دیکھتا کہہ رہا تھا جبکہ وہ لب کاٹنے لگی ۔
” سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ برا وقت کب ختم ہوگا ۔ یہ اذیتناک دن کب ختم ہونگیں ۔ ”
” بہت جلد ۔ ”
عفان ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اسے یقین سے کہہ رہا تھا ۔
” اکاسمہ کہہ رہی تھی کہ سالوں چلے گیں یہ کیس اور یہ کورٹ آنا جانا۔ ”
وہ اداسی سے کہہ رہی تھی جبکہ اپنی بہن کا سوچ کے عفان کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیلی تھی ۔
” میری بہن جو ایک قابل وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ایموشنل انسان بھی ہے ، ایموشنز میں آ کے وہ اکثر ایسی باتیں کر جاتی ہے ۔ اور ویسے بھی کیس میری بہن کے ہاتھ میں ہے تو سمجھ جائیے کہ اس کا رزلٹ بہت جلد سامنے آنے والا ہے ”
عندلیب ہلکا سا مسکرا کے سر اثبات میں ہلانے لگی لیکن چہرے پہ پریشانی ابھی بھی تھی ۔ جاوید کی دھمکیاں اسے ہمیشہ ہراساں ہی رکھتی ، اس کے سامنے جانے سے ، اس کی ایکسرے جیسی آنکھوں میں دیکھنے سے اب بھی وہ خوفزدہ تھی۔ اس کا کیس ہائی کورٹ اور پھر شاید سپریم کورٹ تک لے جانے کا پلان بنا رکھا تھا اکاسمہ نے ، وہ ہر قدم پہ عندلیب کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر چکی تھی لیکن پھر بھی عندلیب خوفزدہ تھی ۔ ڈر سا اس کے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا اور وہ اس ڈر اور خوف کے گھٹن زدہ ماحول میں گھٹ گھٹ کے سانس لیتی ، خود سے منسلک رشتوں کے لئے پریشان رہتی ۔
” ڈاکٹر عفان میٹنگ روم میں آپ کو ڈاکٹر ارسلان بلا رہے ہیں۔ ”
نرس کی اواز پہ وہ چونکی تھی جو عفان سے بات کر رہی تھی ۔
” اوکے ۔ ”
نرس جا چکی تھی جبکہ عفان اسے دیکھنے لگا۔ ۔
” آپ اپنا کام کریں عندلیب، میں میٹنگ روم سے ہو کے آتا ہوں۔ ”
عندلیب نے اثبات میں سر ہلایا تھا اور پھر عفان پینٹ پاکٹ میں ایک ہاتھ ڈالتا میٹنگ روم کی طرف بڑھنے لگا ۔

☆☆☆☆¤¤¤¤¤☆☆☆☆☆

” بیوی کو کہاں چھوڑ آئے ہو ؟؟”
رات کے ایک بج رہے تھے جب وہ گھر میں داخل ہوا تھا اور آتے ہی لاؤنج میں سامنا بھی اپنے والد صاحب سے ہوا تھا۔
” آپ جاگ رہے ہیں ڈیڈ؟ ابھی تک ؟”
عاریز وہیں ان کے قریب ہی آ بیٹھا تھا صوفے پہ ۔ تھکاوٹ کا احساس حد سے سوا تھا جبکہ شازم خان گہری نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھے ۔
” بیوی کہاں یے تمہاری؟؟”
عاریز نے چونک کے انہیں دیکھا تھا تو مطلب انہیں بھی خبر ہو چکی تھی ۔
” ایک کیس کے سلسلے میں یہ نکاح ہوا تھا ، میں اپ کو بتانے والا تھا۔ ”
عاریز کہنے لگا لیکن شازم خان کی شاکی نظروں نے اسے خاموش کرا دیا تھا ۔
” باپ کو بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا ”
” ڈیڈ پلیز ، وہ سب ایمرجنسی میں ہوا ، ایک کیس کے سلسلے میں بہت امپورٹنٹ تھا ۔ اکاسمہ کی جاب خطرے میں تھی ۔ ”
عاریز وضاحت دینے لگا ، وہ ساری بات بتانے لگا جبکہ شازم خان اب بھی خاموش نگاہوں سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھے ۔ عاریز نے گہرا سانس لیا تھا۔
” ڈیڈ آپ ناراض ہے مجھ سے ؟؟”
وہ خاموش ہی رہے جب عاریز ان کے قریب آ کے بیٹھا تھا اور ان کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا تھا ۔
” ڈیڈ۔۔ ”
” اکاسمہ کے فیملی کو معلوم ہے ؟؟ ”
وہ پوچھ رہے تھے اور عاریز نے نفی میں سر ہلایا تھا۔ شازم خان تاسف سے سر ہلانے لگے ۔
” بیٹا، فیاض حیات میرے بہت اچھے دوست ہیں ، تم دونوں کے اس اقدام کے بعد ہماری دوستی خطرے میں پڑ چکی ہے ، انہیں علم ہوگا تو جانتے ہو کیا ہوگا ”
عاریز نے لب بھینچ لیا تھا۔
” تو آپ ان سے جا کے ہماری شادی کی بات بھی کر سکتے ہیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ ”
” اور اکاسمہ ؟؟ ”
شازم خان کے سوال پہ عاریز کندھے اچکا گیا ۔
” اسے بھی آئی تھنک کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ ”
” وہ اکاسمہ ہے ، ایک وکیل ہے، میرے ساتھ کام کر چکی ہے ، اسے میں جانتا ہوں جتنی وہ ضدی ہے ، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی ہے لیکن اگر بروقت مجھے بتا دیتے تو میں بات کر لیتا فیاض سے ، اب میں، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ اب کیا ہونا ہے ”
وہ پریشان ہو رہے تھے جبکہ عاریز نے ان کے کندھے کو نرمی سے دبایا تھا۔
” ڈیڈ پلیز ، کچھ نہیں ہوگا، آپ ٹینشن مت لیں اور جا کے سو جائیے ، چلئیے پلیز ”
عاریز کو دیکھتے وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہو چکے تھے ، عاریز نے انہیں ان کے کمرے تک ہمراہی کی تھی اور انہیں گڈ نائٹ کہہ کے خود اپنے کمرے میں آ گیا تھا، سوچوں کا محور صرف اکاسمہ تھی ۔ وہ شخص جو اکاسمہ کو مارنا چاہتا ہے ، وہ کیس جو 25 دسمبر سے متعلق ہے اور وہ احساسات جو اکاسمہ سے متعلق تھی ۔ اس نے موبائل اٹھا کے اکاسمہ کو کال کرنے کا سوچا اور اسے کال کرنے لگا ۔ چار پانچ رنگز کے بعد کال ریسیو ہوئی تھی اور اکاسمہ کی نیند بھری آواز آئی تھی۔
” ہیلو ۔ ”
نیند سے بوجھل آواز پہ عاریز کے لب ہلکا سا مسکرائے تھے ۔ سر جھٹک کے وہ کال ڈسکنیکٹ کر چکا تھا اور شاور لینے کے لئے واشروم کی طرف بڑھا تھا ۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” گڈ مارننگ ڈاکٹر صاحبہ ”
خیام مسکراتے ہوئے اس کے سامنے ہی ٹیبل کے دوسری طرف رکھی گئی کرسی پہ بیٹھا تھا۔ درمکنوں بھی مسکرا کے اسے دیکھنے لگی۔
” گڈ مارننگ آفیسر صاحب ، کیسے آنا ہوا ؟؟”
اس کے انداز پہ خیام ہنس دیا تھا۔
” بھئی ملنے آیا ہوں، نہیں آ سکتا کیا ؟؟”
” بلکل آ سکتے ہیں اور ایک کپ کافی بھی پی سکتے ہیں۔۔ ”
درمکنوں نے خوشدلی سے کہتے انٹرکام کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا جب خیام نے روکا تھا ۔
” یہاں نہیں۔ ”
” تو ؟؟”
درمکنوں کی سوالیہ نظروں میں دیکھتا وہ مسکرا دیا تھا۔
” کہیں باہر چلتے ہیں ، کافی ٹائم سے بزی ہونے کی وجہ سے ہم ساتھ میں ٹائم اسپینڈ ہی نہیں کر پائے۔ ”
” تو مطلب افسیر صاحب آج فری ہے ”
وہ مسکراتی موبائل اپنے بیگ میں رکھنے لگی جبکہ خیام ہنس دیا تھا۔
” فری تو نہیں ہوں اور نہ کھبی ہو سکتا ہوں، بٹ آج کا دن تمہارے نام ۔ ”
” کتنے اچھے ہیں آپ تو ”
وہ کھڑی ہو کے خیام کے قریب آئی تھی جبکہ خیام کندھے اچکا گیا
” اسے کون سے سینس میں لینا ہوگا مجھے ؟؟”
” تعریف ہی سمجھ لیں۔ ”
وہ دونوں دروازہ کھول کے نکل رہے تھے جب خیام کے موبائل پہ کال آنے لگی ۔
” ڈان ملکہ کی کال ہے ۔ ”
وہ مسکرا کے کہتا کال ریسیو کر چکا تھا ۔
” ہیلو مائی ڈئیر ڈان۔ ”
” خیام کہاں ہو تم؟؟”
اس نے چھوٹتے ہی پوچھا تھا۔
” میں۔۔۔۔ ”
وہ درمکنوں کی طرف دیکھتا جواب دینے والا تھا جب وہ بات کاٹ کے دوبارہ سے گویا ہوئی ۔
” اچھا بات سنو ، وہ لڑکی یاد ہے ناں، وہ وکٹم پروسٹیچوٹ جو کل تمہارے آفس آئی تھی۔ ”
” ہاں یاد ہے ۔ کیا ہوا ؟؟”
خیام یاد آنے پہ چونکا تھا۔
” اس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس نے اس قاتل کے کندھے پہ ، اپنے پاس موجود کسی نوکیلی چیز سے حملہ کیا تھا اور بھاگ نکلی تھی ۔ ”
” ہمممم ”
خیام ہنکارا بھرتا درمکنوں کی طرف دیکھنے لگا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
” آج نیوز کے لئے ایک بندہ جاب کرتا ہے ، جرنلسٹ ہے صابرالدین، جس کا میں نے کہا تھا کہ عجیب مشکوک بندہ ہے ، ابھی میں نے دیکھا اس کا کندھا زخمی یے ، ٹھیک اسی جگہ زخم ہے جہاں کا وہ وکٹم بتا رہی تھی۔ ”
” اوہ ، وہ تو کافی مذہبی اور جرنلسٹ ہے ناں۔ ”
خیام کچھ سوچتے کہنے لگا ۔
” ایم ڈیم شیور خیام ، یہی ہے وہ قاتل جو مرڈر کرتا پھر رہا ہے اور پروف بھی کروں گی میں۔ ”
اکاسمہ کے جذباتی انداز پہ اس نے لب سکیڑے تھے ۔
” اس وقت کہاں ہو تم؟؟”
” کورٹ ۔ ”
اس نے مختصر جواب دیا تھا ۔
” وہیں رہو اور اس بندے کے پیچھے نکلنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں، میں عاریز سے بات کرتا ہوں۔ ”
خیام اسے سمجھاتے ہوئے کہنے لگا۔
” اچھا ۔ ”
آنکھیں گھماتی وہ منہ بنا گئی تھی جب خیام نے پھر سے اسے یاد دہانی کرائی ۔
” اکاسمہ پھر سے بتا رہا ہوں کہ اس کے پیچھے نکلنے کی ضرورت نہیں ہے، لائیر ہو تم ، آئی سمجھ ۔ میں اور عاریز ہینڈل کریں گے ۔ ”
” اچھا ناں یار ۔ ”
وہ جھنجھلائی تھی ۔
” اوکے میں کال ڈسکنیکٹ کر رہا ہوں۔ ”
خیام کال ڈسکنیکٹ کرتا درمکنوں کو دیکھنے لگا ۔
” پاکستان لاء کی ڈان کو ہر طرح کے پنگوں میں پڑنے کا اتنا شوق کیوں ہے ؟؟ سمجھ سے بالاتر ہے واللہ ۔ ”
” اب کیا کر دیا ہے اکاسمہ نے ؟؟”
درمکنوں کو ہنسی آئی تھی ۔
” کسی پہ شک ہے اسے کہ وہی یہ مرڈرز کر رہا ہے اور اب مجھے یہ پریشانی لاحق ہو چکی ہے کہ ملکہ عالیہ خود کو کسی مشکل میں نہ پھنسائے ۔ میں عاریز کو کال کرتا ہوں، وہی سنبھالے اب ہماری ڈان کو ”
درمکنوں کے ساتھ آگے بڑھتا وہ اب عاریز کو کال کر رہا تھا کہ اکاسمہ کی کارروائی سے اسے بھی باخبر کردیں ۔

☆☆☆¤¤¤¤¤☆☆☆☆☆

آج ہائی کورٹ میں عندلیب کا کیس اوپن ہونا تھا ۔ آج کی تاریخ ہی دی گئی تھی اور وہ وہیں کوریڈور میں ٹہلتی عندلیب کا انتظار کر رہی تھی، جب اچانک مڑنے پہ اس نے اپنے سامنے وجدان ملک کو پایا اور اچھنبے سے ابرو اچکا کے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ مسکرا رہا تھا ۔
” گڈ مارننگ مسز عاریز خان ۔ ”
اکاسمہ نے آنکھیں گھمائی تھی اور ایک گہرا سانس لیتی اسے دیکھنے لگی ۔
” اچانک سے نکاح تم دونوں کا ، میں تو شاکڈ ہو گیا تھا ۔ ”
وہ مسکرا کے اکاسمہ کو جانچتی نظروں سے دیکھتا کہہ رہا تھا ۔
” آپ کون ہے ؟؟”
اکاسمہ نے اس انداز سے پوچھا تھا کہ اس لمحے کے لئے وجدان ملک بھی لب بھینچ گیا اور پھر مسکرانے لگا ۔
” ناٹ بیڈ ، یہ ایٹیٹیوڈ تو فیاض حیات کی ہی بیٹی پہ سوٹ کرتا ہے ، ویل میں۔۔۔ ”
اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتا ، جب عاریز خان پہ نظر پڑی جو اکاسمہ کے قریب ہی آ رکا تھا اور اب سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھا ، اسے خیام نے اکاسمہ کے کورٹ میں موجودگی کی اطلاع دی تھی اور وہ اسے ہی دیکھنے آیا تھا ۔
” ارے واہ ، نظر بد دور، ماشا اللہ ”
وہ اب دونوں کو مسکراتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔
” نکاح مبارک ہو ”
” بہت شکریہ مسٹر وجدان ۔ ”
سنجیدگی سے اسے سپاٹ لہجے میں کہتا وہ اب اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا۔
” میرے روم میں ویٹ کر سکتی ہے آپ ۔ ”
آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے اشارہ کرتا وہ اکاسمہ کو وہاں سے لے جانا ہی چاہ رہا تھا ۔
” ہممم ”
وہ عاریز کے ساتھ مڑی تھی ۔
” فیاض حیات کو معلوم ہے ویسے ؟؟”
وجدان ملک کی بات پہ دونوں رک کے مڑے تھے ۔
” مسٹر وجدان ملک ، آپ یہاں کسی کیس کے سلسلے میں آئے ہوگیں ، بہتر ہے اسی کیس پہ اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ ”
سپاٹ لہجے میں کہتا وہ اکاسمہ کو لیے وہاں سے آگے بڑھا تھا جبکہ وجدان ملک ہنسنے لگا ۔
” بیٹھو ”
آفس روم میں آ کے اس نے کرسی کی طرف اشارہ کیا تھا جبکہ اکاسمہ کھڑی رہی ۔
” نو تھینکس ، میری کلائنٹ آنے والی ہے ابھی ۔ ”
اس کے چہرے پہ پریشانی تھی ، عاریز نے بغور اسے دیکھا تھا ۔
” جرنلسٹ صابرالدین کا کیا سین ہے ؟؟”
اکاسمہ کندھے اچکا گئی ۔
” مجھے اس پہ شک ہے وہی قاتل ہے ۔ ”
” شک تو آپ کو اپنی کلائنٹ کے ہزبینڈ پہ بھی تھا ۔ ”
اس کے طنزیہ انداز پہ وہ لب بھینچے عاریز کو دیکھنے لگی ۔
” اب اس پہ بھی ہے ، کیونکہ وہ injured ہے اور جب میں نے پوچھا تو مجھے بتانے کی بجائے وہ بات کو ٹال گیا ۔ ”
” ہمممم ”
وہ ہنکارا بھرتا پرسوچ نظروں سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا جس کے چہرے پہ پریشانی رقم تھی ۔
” تم اس شخص سے دور رہو گی ، اسے انویسٹیگیٹ کرنا ہمارا کام ہے ، لائیر صاحبہ ”
اکاسمہ نے اسے بھرپور گھوری دی تھی ، کچھ زیادہ ہی حق جتانے لگا تھا وہ اکاسمہ پہ ۔
” اور اب یہ بتاؤ، چہرے پہ پریشانی کیوں ہے ؟؟”
اب کے لہجے میں کچھ تو خاص تھا کہ اکاسمہ چونک کے اسے دیکھنے لگی جو ٹیبل پہ رکھی کوئی فائل کھول کے دیکھ رہا تھا اور پھر اپنے چہرے کو ہاتھ سے چھونے لگی ۔
” کیا ہیں میرے چہرے پہ ؟؟”
عاریز نے رک کے اسے نظر بھر کے دیکھا تھا اور پھر اس کے قریب آیا تھا۔
” کیا بات ہے اکاسمہ ؟؟ بتاؤ مجھے ؟؟”
اب کے لہجہ پہلے سے بھی زیادہ گھمبیر اور خاص محسوس ہوا تھا ۔
” ا ۔۔ اگر ابو ناراض ہو گئے مجھ سے تو ؟ ”
آنکھوں میں نمی ٹھہری تھی اور ان آنکھوں میں اداسی کو اترتے دیکھا تھا عاریز خان نے ۔ ہاتھ بڑھا کے اس نے نرمی سے اکاسمہ کے گال کو چھوا تھا ۔
” میں ان سے بات کروں گا تمہارے گھر آ کے ۔ ”
اکاسمہ اسے دیکھے گئی جبکہ عاریز نظر بھر کے اس کے کیچر میں مقید بالوں کو دیکھتا، اس کے چہرے پہ آئی آوارہ لٹ کو اس کے کان کے پیچھے کیا تھا ۔
” ان آنکھوں میں اداسی نہیں اچھی لگتی ، یہ آنکھیں صرف مجھے غصے سے گھورنے کے لئے ہیں ۔”
کس قدر گھمبیر لہجہ تھا اور وہ ہیزل براؤن آنکھیں کتنی گہری تھی جن میں کچھ تو خاص تھا کہ اکاسمہ نظریں جھکا گئی تھی جبکہ عاریز زیر لب مسکراتا دو قدم پیچھے ہوا تھا ۔
” بیسٹ آف لک لائیر صاحبہ ”
اکاسمہ اسے دیکھنے لگی جبکہ اس نے وال کلاک کی طرف اشارہ کیا تھا ۔
” دس بج رہے ہیں ،
And best of luck for your case. ”
اکاسمہ مسکرائی تھی اور نظریں پھیر کے اپنے بالوں میں ہاتھ چلانے لگی ۔
” تھینک یو ۔ میں چلتی ہوں پھر ۔ ”
آہستگی سے کہتی وہ دروازے کی طرف مڑی تھی جب عاریز نے اس کی کلائی تھام کے اسے روکا تھا ۔ اکاسمہ مڑ کے اسے دیکھنے لگی ۔
” I am always here for you
ہر قدم پہ مجھے اپنے ساتھ کھڑا پاؤ گی اکاسمہ ، تم مجھے کھبی بھی پکار سکتی ہو اور جب بھی پکارو گی مجھے اپنے قریب ہی پاؤ گی ۔ ”
کس قدر یقین تھا اس کے لہجے میں، اکاسمہ مسکرا پڑی تھی۔
” اب میں جاؤں؟؟”
آنکھوں میں شرارت نمایاں تھی ، عاریز نے اس کا ہاتھ ہمیشہ کی طرح ہلکا سا دبا کے چھوڑ دیا تھا اور اکاسمہ دھڑکتے دل کے ساتھ ، زیر لب مسکراتی جانے کے لئے مڑی تھی جبکہ عاریز اسے مسکراتی آنکھوں سے دروازے سے جاتا دیکھ رہا تھا ۔ یہ لائیر تو اسے اپنے ہی وجود کا حصہ لگنے لگی تھی اب اور کھبی بھی اس سے جدائی کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا اب ۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

کمرا نیم تاریک تھا اور وہاں بلیک ماسک میں بیٹھا وہ شخص کمپیوٹر کو گھور رہا تھا ، جب اسفر اندر آیا تھا جو بارز کی طرح سترہ سال کا تھا۔
” گڈ ایوننگ سر ”
” ہممم ۔۔ ”
اثبات میں سر ہلاتا وہ اب بھی کمپیوٹر اسکرین کو دیکھ رہا تھا۔
” سر جو آپ نے کہا تھا ، میں نے وہی کیا ۔ اپنی کلاس کے چار پانچ لڑکوں کو میں نے وہ کوڈز اور لنکس دئیے اور انہوں نے انٹر بھی کیے ہیں۔ ”
اسفر اب دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پیوست کیے اس بلیک ماسک میں چھپے چہرے کو دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا جس نے بلیک ہوڈی پہن رکھی تھی ۔
” چار یا پانچ؟؟”
بھاری اواز گونجی تھی جبکہ اسفر بوکھلا گیا تھا ۔
” سر پانچ ، پانچ لڑکوں کو ، جو میرے کلاس فیلوز بھی ہیں۔ ”
وہ تیزی سے بولا تھا ۔
” ہممم ۔۔ ”
وہ پھر ہنکارا بھر چکا تھا۔
“سر ، سر پلیز آپ نے کہا تھا کہ آپ میرا سب ڈیٹا واپس کر دے گیں اور مجھے فری کر دے گیں ”
وہ منمنایا تھا کیونکہ اس کا سارا ڈیٹا، اس کی ساری identity اور سب جو اس سے متعلق تھا ، اس شخص کے پاس تھا اب ۔ اس کا پہلا شکار وہی بنا تھا۔
” میں نے پانچ لڑکوں کا نہیں کہا تھا اسفر ، میں نے ففٹی کہا تھا جو ہمارے ویب کے وکٹمز بنے ۔ ”
وہ بھاری اواز میں اب کے سرد لہجے میں کہہ رہا تھا جبکہ اسفر بےچینی سے لب بھینچ گیا۔
” not just boys ,
گرلز کو بھی وکٹم بنانا ہے ۔ ہمارے گینگ میں گرلز بھی امپورٹنٹ ہوتی ہیں۔”
اس کی سرسراتی اواز اسفر کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں دھنستی محسوس ہو رہی تھی ۔
” سر ففٹی وکٹمز کے بعد آپ مجھے فری کر دیں گے ؟؟ سر پلیز ؟؟”
وہ منمنا رہا تھا جبکہ وہ بلیک ماسک اور ہوڈی میں موجود شخص خاموش ہی رہا ، اسفر کچھ دیر وہیں کھڑا رہا اور بےبس آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” یہ ویب کی دنیا ایک سمندر ہے اسفر ، یہاں آنا بےحد اسان ہے ، یہاں کی کشش ہر ایک کو کھینچ لاتی ہے لیکن یہاں سے باہر جانا بےحد مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے ۔ ”
اسفر رونے والا ہو گیا تھا، وہ لب کاٹتے اس شخص کو دیکھ رہا تھا جو اب پھر سے کمپیوٹر اسکرین کو دیکھتا کیبورڈ پہ بٹنز پش کر رہا تھا، مطلب اس نے مزید کوئی بات نہیں کرنی تھی اور اسفر بھی نظریں جھکا کے بجھے دل کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھا تھا۔
” تم وکٹمز اکھٹا کرو ، پھر بات کرتے ہیں ”
بھاری اواز پہ اس کے قدم رکے تھے ، مڑ کے ایک نظر اسے دیکھا تھا اور پھر دروازہ کھول کے باہر نکلا تھا کہ وہ ناسمجھی میں ان لوگوں کے ہاتھوں وکٹم بنا تھا لیکن وہ اپنے ساتھ اپنے دوستوں کو بھی اس گہرے سمندر میں غرق کر رہا تھا جسے Deep Web کہتے ہیں۔

☆☆☆☆¤▪︎▪︎▪︎¤¤¤¤☆☆☆☆

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *