Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 40

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 40

” فیاض حیات کا فیس بک اکاؤنٹ چیک کر سکتی ہو ”
دوسری طرف سے کہا گیا تھا ۔
حکان اس کے قریب آیا تھا۔ اس کی سفید پڑتی رنگت نے حکان کا دل جیسے مٹھی میں بھینچ لیا تھا۔ اس نے تیزی سے موبائل اس کے کان سے ہٹا کے، کان سے لگایا۔
” ہیلو ”
اس کی آواز بےحد سرد تھی لیکن دوسری طرف سے ٹون ٹون کی آواز آ رہی تھی ۔ کال بند ہو چکی تھی۔ حکان ٹیبل پہ ٹیک لگا کے، اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں بھر گیا۔
” اکاسمہ کیا ہوا؟؟ ”
اکاسمہ خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگی جبکہ حکان کی گھبراہٹ مزید بڑھنے لگی۔
” پلیز بتاؤ کیا ہوا ہے؟؟ کون تھا ؟؟”
اکاسمہ نے تیزی سے جھک کے، اپنا موبائل اٹھایا اور فیاض حیات کا اکاؤنٹ دیکھنے لگی۔
جہاں انہوں نے کاووس شاہ کو اپنا بیٹا اور وراثت میں شریک ہونے کے بارے میں بتایا تھا ۔۔ ساتھ ہی کاووس شاہ کی ایک تصویر بھی لگائی تھی جبکہ کامنٹ میں کاووس شاہ نے اپنی اور فیاض حیات کی ایک سیلفی لگائی تھی۔

[ ڈیڈ، مجھے فیملی مل گئی ڈیڈ ۔۔۔ تھینک یو ]

اکاسمہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔ پورا کامنٹ باکس ہر طرح کے کامنٹس سے بھرا ہوا تھا ۔
” ڈسگسٹنگ!!”
وہ دانت پیستی چلائی تھی۔ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
” اکاسمہ ریلیکس ۔۔۔۔ ”
حکان اس کے angry issues سے خوب واقف تھا۔ وہ اچانک چلائی تھی۔
” کیسے ریلیکس رہوں؟؟ میں خاموش رہی تھی اس وقت لیکن یہ کیا بکواس شروع ہو چکی ہے ۔ ایک کو مرے ہوئے وقت نہیں گزرا، تو دوسرا بیٹا آ گیا۔ یہ کیسا انسان تھا؟؟ انسان بھی تھا ؟؟ ”
وہ غصے سے آگے بڑھنے لگی جب حکان نے اسے کمر سے تھام کے کھینچا تھا۔ اکاسمہ کھنچتی ہوئی اس کے قریب ہوئی اور غصے سے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” کیا مسئلہ ہے تمہیں حکان ”
” پہلے غصہ کم کرو اپنا پلیز ۔ نہیں جانے دوں گا ”
حکان نرمی سے اس کے گال کو، ہاتھ سے سہلاتا کہہ رہا تھا۔
” تم مجھے مزید غصہ دلا رہے ہو حکان ”
اس نے حکان کا ہاتھ جھٹکا تھا۔
” چھوڑو مجھے تم ”
اور خود کو اس کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔ حکان نے اسے نرمی سے چھوڑ دیا تھا اور خود بھی اس کے ساتھ ہی باہر نکلا تھا۔ سائیڈ سے آتا خیام سوالیہ نظروں سے، حکان کو دیکھنے لگا جبکہ وہ کندھے اچکا گیا۔ حکان اس کے ساتھ ہی، فیاض حیات کے گھر پہنچا تھا۔ وہ اکاسمہ کو کسی صورت یہاں اکیلے نہیں آنے دے سکتا تھا۔
دھڑام سے دروازہ کھول کے وہ اندر داخل ہوئی تھی جہاں فیاض حیات لب بھینچے، موبائل ہاتھ میں لیے کھڑے تھے۔
” گل آپ نے کھلائے ہیں تو کیا اب سہنے کے لئے آپ کی اولاد رہ گئی ہے۔ ”
وہ چلائی تھی۔ حکان نے لب بھینچ لیے تھے لیکن اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی کہ اپنی بیوی کے اینگر ایشوز سے اسے بھی ڈر لگتا تھا۔
” پہلے وہ سیریل کلر آپ کی اولاد نکلی اور اب یہ شخص ؟؟ جسے آپ اپنا بیٹا اعلان کر چکے ہیں۔ اور کتنی اولادیں ہیں آپ کی ؟؟ ابھی سے بتا دے۔ ”
فیاض نے شرمندہ نظروں سے حکان کو دیکھا تھا اور پھر اپنی بیٹی کو دیکھنے لگے۔ اکاسمہ کچھ زیادہ ہی بدلحاظ ہو رہی تھی۔ لگتا ہے کہ وہ پہلے کا غصہ بھی ابھی اتارنا چاہ رہی تھی۔
” اکاسمہ، میرا بچہ ۔۔۔”
” نہیں ہوں میں آپ کی کچھ ۔۔ آپ سے دور رہنے کے لیے، آپ کا چہرہ نہ دیکھنے کے لئے، اس گھر میں واپس میں نہ آنے کے لئے، میں نے یہ نکاح کیا تھا لیکن ۔۔۔۔ ”
حکان چونک کے اسے دیکھنے لگا۔ دل کی اتھاہ گہرائیوں میں جیسے بہت زور سے کچھ ٹوٹ سا گیا تھا۔ وہ خاموشی سے اکاسمہ کو دیکھے گیا۔
” آپ ہی تھے جو عاریز کے اچانک موت کی وجہ بنے اور اب ۔۔۔۔ اب کس کی جان لینے کا ارادہ رکھتے ہیں؟؟ میری ہی لے لیں ۔۔۔ ”
حکان نے بنا کچھ کہے لب بھینچ لیے۔ اکاسمہ سے اتنی محبت کر لینے کے بعد، وہ تو یہ ڈیزرو نہیں کرتا تھا۔ چلو زیادہ نہیں لیکن ذرا سا ہی اس رشتے کو احترام دیتی ۔ اس کی نظر میں یہ نکاح تو مجبوری ہے، سمجھوتہ ہے۔۔

واپسی پر وہ خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرتا رہا۔ بھاری بوجھ سا پڑا تھا اس کے وجود پہ۔ خوش فہمیوں کی وہ بلند عمارت، نیست و نابود ہو چکی تھی۔ اسے لگا تھا کہ زیادہ نہیں، تھوڑی سی گنجائش ہوگی، اس کے آٹھ سال کی بےپناہ محبت کا ثمر، اس قدر کڑوا، وہ یہ ڈیزرو نہیں کرتا تھا۔
اس نے ایک خاموش نظر ساتھ بیٹھی اکاسمہ پہ ڈالی اور پھر سامنے دیکھنے لگا۔ دل پہ یاسیت سی اتری ہوئی تھی جیسے اس کا پورا وجود سوگ منا رہا ہو۔ محبت کی موت کا سوگ!!
کورٹ پہنچ کے، وہ اکاسمہ سے پہلے، گاڑی سے نیچے اترا تھا اور بنا اس کی طرف دیکھے، تیزی سے آگے بڑھ گیا۔ آج شاید ہر احساس، ہر ناامیدی کی حد کراس ہو چکی تھی۔ اج شاید محبت تھک سی گئی تھی۔ اکاسمہ نے گھور کے، اس کی پشت دیکھی تھی۔
” بدتمیز ۔۔۔۔”
زیر لب بڑبڑاتی وہ بھی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ حکان لمبے ڈگ بھرتا، اپنے آفس میں داخل ہو کے،دروازہ بھی بند کر چکا تھا۔ اس کا اور حکان کا آفس روبرو ہی تھا۔ اس دن کے حادثے کے بعد، جب اکاسمہ کو وہ پارسل ملا تھا۔ حکان نے اپنا آفس چینج کر دیا ۔ وہ اب اکاسمہ کے آفس کے سامنے ہی ہوتا تھا اپنے آفس میں۔
اکاسمہ نے اچھنبے سے، حکان کی اس حرکت کو دیکھا تھا۔ اس کے آفس کا بند دروازہ، اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ وہ خاموشی سے لب بھینچ گئی۔

اسے کیا ہوگیا ہے ؟؟!!

سر جھٹک کے، وہ اپنے آفس میں آئی۔ حکان کے رویے کو سوچتی، وہ سیٹ پہ آ بیٹھی تھی۔ کچھ دیر پہلے اس کے آفس میں، اس نے جو کچھ اکاسمہ سے کہا تھا وہ سب اس کے ذہن میں چلنے لگا لیکن دھیان پھر سے فیاض حیات کی طرف گیا تو غصہ امڈ کے، اس کے وجود پہ چھا گیا۔ پورا دن وہ خود سے لڑتی رہی ۔ شام کو وہ اپنا بیگ اٹھا کے، آفس سے باہر نکلی، نظر بےساختہ سامنے دروازے کی طرف گئی تو دل تیزی سے دھڑک کے مدھم سا ہوا تھا۔ دروازہ نیم وا تھا۔ فیاض حیات کے گھر سے آنے کے بعد، حکان نے پھر اس کے آفس میں نہ جھانکنے کی کوشش کی اور نہ اسے لنچ کا کہنے آیا تھا۔ وہ لب کاٹتی آگے بڑھی اور نیم وا دروازے سے جھانک کے، اندر دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہاں حکان اسے نظر نہیں آیا۔
کچھ سوچتی وہ باہر نکلی اور کورٹ سے باہر نکل کے، وہ ادھر ادھر دیکھ ہی رہی تھی جب اس کی گاڑی قریب آ کے رک گئی اور عباس باہر نکل کے، اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولنے لگا۔
” گڈ ایوننگ میم ”
اکاسمہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ عباس کے ساتھ وہ اتنا نہیں گئی گاڑی میں کبھی، زیادہ تر حکان ہی اسے اپنے ساتھ لے جایا کرتا تھا۔
” حکان کہاں ہے ؟؟”
” سر بہت پہلے ہی جا چکے ہیں۔ انہوں نے ہی مجھے ہدایت دی تھی کہ میں آپ کو گھر تک ڈراپ کر دوں ”
اکاسمہ نے لب بھینچ لیے تھے۔ نہ جانے کیوں، دل پہ بوجھ سا آ پڑا تھا۔ کیسے وہ اسے چھوڑ کے گیا ؟؟ کیا کہہ نہیں سکتا تھا کہ میں جا رہا ہوں، تم بھی چلو گی ؟؟
اداس آنکھوں سے اس نے گاڑی کے کھلے دروازے کو دیکھا تھا اور پھر لب کاٹتی وہ گاڑی میں آ بیٹھی تھی۔ عباس بھی ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ کے، گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا۔ ہلکے ہلکے بادلوں نے، اس آسمان کو گھیرا ہوا تھا۔ ہلکی ہلکی ہوائیں بھی چل رہی تھی۔ شام کا وقت تھا تو کراچی کی یہ ہلکی ہوائیں، اسے نہ جانے کیوں اس لمحے اداس لگ رہی تھی۔
اس نے گاڑی کے شیشے نیچے کر دیے تھے لیکن وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اداسیاں کیوں اس کے وجود پہ بسیرا کر رہی ہے۔ وہ اگر اسے بتائے بنا گھر جا چکا ہے تو اس میں ایسا بھی کیا ہے ؟؟ ویسے بھی وہ تو بتا چکی ہے اسے، کہ یہ نکاح اس نے مجبوری میں کی ہے تو وہ کوئی خوش فہمی نہ رکھے تو اب ؟؟ اسے برا کیوں لگ رہا ہے ؟؟
گاڑی رکی تو وہ بھی گاڑی سے اتر کے، اپنے اپارٹمنٹ کی طرف چلنے لگی۔ دروازہ کا لاک کھول کے وہ اندر آئی اور چلتے ہوئے، اس نے بیگ صوفے پر رکھا۔ نظریں پورے گھر میں بھٹک رہی تھی۔ وہ حکان کو ڈھونڈ رہی تھی لیکن خاموشی تھی لاؤنج میں، کچن میں، وہ بیڈ روم کی طرف آئی، دونوں کمرے بھی خالی تھے۔
وہ گہرا سانس لیتی، پھر سے لاؤنج میں آ کے، صوفے پہ بیٹھ گئی تھی۔
حکان کہاں ہے ؟؟
وہ سوچنے لگی۔ وہ گھر نہیں آیا تھا۔ تو کہاں گیا ہے وہ ؟؟ شام کے سات بج رہے تھے۔ وہ تھکی ہوئی تھی لیکن اداسی کا عجیب سا غلبہ تھا اس پہ، کہ وہیں صوفے پہ لیٹ کے، وہ بلاوجہ اس شخص کو سوچے گئی جو نہ جانے کہاں تھا ؟؟ کس قدر عادی ہو چکی تھی وہ اس شخص کے خیال رکھنے کے انداز سے، کہ اسے تب غصہ آتا تھا اور اب جب وہ نہیں ہے تو اداسی کا پیراہن ہی اوڑھ بیٹھی ہے وہ !!!

●●●●●●○○○○○○○○●●●●●●●●●

” کب تک ایسے بیٹھے رہنے کا ارادہ ہے تیرا حکان ؟؟”
وہ جو بیچ بیٹھا، نہ جانے کب سے سمندر کی لہروں کو گھور رہا تھا، لب بھینچے ازمائر کو دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھیں بےحد سرخ ہو رہی تھی۔
” مجھے خود سے ڈر لگ رہا ہے،بےحد خوف محسوس ہو رہا ہے ”
” ایسے کیوں کہہ رہا ہے تو ؟؟”
ازمائر غور سے اسے دیکھنے لگا۔
” میں پھر سے میڈیسن لینے لگا ہوں ازمائر ”
اس نے ٹوٹے لہجے میں کہا جبکہ ازمائر کی آنکھوں میں حیرت ابھر آئی تھی۔
” وجدان ملک نے، میری گذشتہ سالوں کے رپورٹس اکاسمہ کو بھیجے تھے لیکن وہ مجھے مل گئے۔۔۔ سوچتا ہوں اگر۔۔۔۔ اگر اکاسمہ کو پتہ چل گیا میرے بارے میں تو ؟؟؟ ”
وہ پھر سے سامنے دیکھنے لگا۔ اس کی خوبصورت اداس آنکھیں پانی کی لہروں کو دیکھ رہی تھی۔
” ایسا کیوں کر رہا ہے وجدان ملک ؟؟ وہ تمہارے ڈیڈ ہے کچھ تو خیال ہونا چاہئے”
ازمائر کو اس بےحس شخص پہ غصہ آ رہا تھا جسے اپنے بیٹے کا بھی احساس نہیں ہے۔
” وہ ۔۔۔ عا ۔۔۔۔ ریز مرنے کے بعد بھی معتبر ہے، اس کی جگہ آج بھی اسی مقام پہ ہے جہاں وہ تھا۔ وہ مر کے بھی، زندہ ہے اکاسمہ کی یادوں میں اور میں۔۔۔۔ میں زندہ ہو کے بھی ،لاش ہوں ۔۔۔ بےجان وجود ۔۔۔ مجھ سے نکاح اکاسمہ کی مجبوری ہے ، میں ایک آپشن ہوں اس کے لیے۔ ۔۔۔ ”
وہ ہنسنے لگا لیکن اس ہنسی میں بھی کرب سا تھا۔
” میں، میری محبت، میرا انتظار، یہ آٹھ سال۔۔۔۔ بس ایک آپشن ہے اکاسمہ کے لئے۔ ”
وہ خاموش ہو گیا لیکن ازمائر غور سے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ جہاں کرب کا بسیرا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں بےحد وحشت تھی۔
” تم ایکسرسائز کے لئے جاتے ہو حکان ؟؟”
” ہاں۔۔۔۔ لیکن کوئی فائدہ نہیں۔۔۔ میں اب پھر سے ان میڈیسنز کا محتاج بنتا جا رہا ہوں، جن کو میں نے کئی سال پہلے لاک کر دیا تھا اب ۔۔۔۔۔ اب وہ لاکڈ نہیں رہے۔ اب مجھ تک پہنچنے کا راستہ ڈھونڈ چکے ہیں اور یہ سب وجدان ملک کی عنایت ہے ”
ازمائر نے اس کے کانپتے ہاتھوں کو، اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیا تھا۔
” ہئی ریلیکس ۔۔۔ تم اسٹرونگ ہو۔ سو بی اسٹرونگ، آئی نو بہت جلد تم خود پہ کنٹرول کر پاؤ گے۔ یہ میڈیسن کا دور بھی بس تھوڑے ٹائم کے لئے ہیں۔۔۔ ”
حکان نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا جبکہ اس کا وجود ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔
” میں۔۔۔ میں قاتل نہیں ہوں۔۔۔ ا ۔۔۔ اکاسمہ کو ک ۔۔۔۔ یسے ۔۔۔”
اس کی نظروں میں وہ لمحہ فلم کی مانند چلنے لگا۔ وہ چلا رہا تھا، چیخ رہا تھا، اس کا جسم کانپ رہا تھا۔ اسے دورہ پڑا تھا۔ شاہ ویز، اس کا قریبی دوست، اسے بمشکل سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ازمائر کو اس نے کال کی تھی، وہ راستے میں تھا۔
” حکان پلیز ریلیکس ۔۔۔ ”
” بند کرو ان آوازوں کو، اس شور کو ۔۔۔ آہ ”
وہ بھیگی سرخ آنکھوں سے شاہ ویز کو دیکھ رہا تھا۔
” میں کون ہوں۔۔۔۔۔۔ ”
وہ دھاڑا تھا۔ شاہ ویز نے اسے گلے لگایا ۔
” حکان ریلیکس میرے بھائی۔ ۔۔۔ ریلیکس ہو جا ۔۔۔ ”
حکان خود کو چھڑاتا، تیزی سے دوڑا تھا۔ وہ دونوں اس وقت کلفٹن ایریا کے، اس اونچی عمارت پر تھے۔ جہاں کے مکینوں کی خبر بھی نہ تھی کہ اس اونچی عمارت کے، سب سے اوپری منزل پہ کیا ہو رہا ہے۔
” میں مرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔”
وہ جیسے ہی بلڈنگ کی نوک پہ پہنچا، شاہ ویز اسے پکڑنے کے لئے اسکے پیچھے آیا، اسی مڈبھیر میں، شاہ ویز اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور اس کا پاؤں پھسل گیا، جس کے نتیجے میں وہ نیچے گر گیا۔ حکان کھلی آنکھوں سے اسے گرتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ اس کی وحشت بھری آنکھوں میں خوف تھا۔
” شاہ ۔۔۔۔۔ ویز ”
اسی لمحے ازمائر بھی پہنچا تھا اور تیزی سے آگے بڑھا تا کہ شاہ ویز کا ہاتھ پکڑ سکے لیکن دیر ہو چکی تھی۔ اس کا بےجان جسم، خون آلود نیچے پڑا تھا۔ حکان نے کودنے کی کوشش کی لیکن ازمائر نے اسے تھام کے پیچھے گھسیٹا تھا۔
ان کا بےحد معصوم، اچھا اور مہربان دوست، ان کا بھائی، ختم ہو چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ازمائر نے زور سے اسے خود میں بھینچ لیا تھا۔
” تم قاتل نہیں ہو حکان، بس کر دو۔ وہ خود گرا تھا۔ ”
” م ۔۔۔۔ مجھے بچا۔۔۔۔نے کی کوشش میں گرا تھا وہ ”
حکان رونے لگا لیکن ازمائر نے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا۔
” تو میرا بھائی ہے حکان، ہوش کر، تو ایک لائیر ہے، ایک خطرناک ہیکر ہے، ایکزکیوشنر ہے تو ۔۔۔۔ تجھ پہ سب ٹرسٹ کرتے ہیں۔۔ کیوں خود کو ختم کرنا چاہ رہا ہے تو ۔۔۔ اکاسمہ تیری بیوی ہے۔۔۔ تیرے نکاح میں ہے، محبت کرتے ہو تم اکاسمہ سے۔ تو یہ سب کیوں کر رہے ہو ؟؟ ہر وہ چیز جو تجھے ڈسٹرب کر رہی ہے۔ کیوں خود پہ حاوی کر رہے ہو حکان؟؟ سنبھالو خود کو پلیز ”
حکان نم آنکھوں سے، اسے دیکھتا رہا اور پھر رخ پھیر کے،پانی کی لہروں کو دیکھنے لگا۔ وہ ساکت تھا۔ نہ مسکرا رہا تھا نہ تو رہا تھا۔

○○○○○○○○○●●●●●●●○○○○○○○○

نہ جانے وہ کب سے اس صوفے پہ سو رہی تھی۔ جب حکان گھر ایا، تب بھی اسے خبر نہ ہوئی۔ تھکن اور بھوک کے احساس سے زیادہ، اس پہ نیند کا غلبہ تھا۔ دھیان چونکہ حکان کی طرف رہا تھا اس لئے، اسے سوچتے سوچتے، وہ نہ جانے کب سو گئی تھی۔
حکان نے تھکی نگاہوں سے، اس نازک وجود کو دیکھا تھا۔ باہر بارش ہو رہی تھی۔ بارش کے ہلکے ہلکے لمس کی آوازیں، موسیقی کی مانند، کھڑکیوں کے شیشوں سے ٹکرا رہی تھی۔
زیر لب مسکراتا، وہ قریب آ کے، ٹیبل پہ بیٹھ چکا تھا اور خاموشی سے، اکاسمہ کے سوئے وجود کو دیکھے گیا۔ وہ نڈھال سا شخص، کس قدر اس کی محبت میں گرفتار تھا یہ اگر کبھی اکاسمہ کو خبر ہو تو شاید وہ خود پہ رشک کرنے لگے جائے یا شاید اسے اپنی خوش قسمتی پہ یقین نہ آئے۔
اس کے بال، اس کے گال، اس کے کندھے پہ بکھرے پڑے تھے۔ اس کی نظریں، اکاسمہ کی بند پلکوں سے، اسکے گال، اس کے لبوں پہ ٹھہر گئی، اس کے نیم وا لب، اس کی گہری نیند میں ہونے کی گواہی دے رہے تھے۔ نظریں گردن سے ہوتی، نیچے پھسل کے ٹھہری تو دل کی دھڑکن مدھم لے پہ رقص کرتی، بےتحاشا تیزی سے دھڑکنے لگی۔
اس کے نرم و نازک وجود کے نشیب و فراز، اس وقت حکان کی آنکھوں کو خیرہ کر رہے تھے۔ وہ نظریں چرا کے، گہرا سانس لیتا، ادھر ادھر دیکھنے لگا لیکن باہر مسلسل ہوتی بارش، کھڑکیوں کے شیشوں پہ، پانی کی پھسلتی بوندیں، نیم تاریک سا لاؤنج، ایک رومینٹک سا ماحول پیش کر رہا تھا جو حکان کے حواسوں کو مختل سا کر رہا تھا۔
اس نے بےساختہ پھر سے اکاسمہ کے سوئے وجود کو دیکھا تھا۔ کسی احساس کے تحت، اس نے اچانک آنکھیں کھول کے، حکان کو دیکھا تھا۔ وہ تیزی سے بوکھلا کے اٹھ بیٹھی۔
” تم یہاں کیا ۔۔۔۔۔ ”
اس کی بات ابھی مکمل بھی نہ ہوئی تھی جب بلکل اچانک، حکان اپنی جگہ سے اٹھ کے، اس کے نازک وجود پہ سائے کی مانند پھیلتا، اس کے لبوں کو، اپنے لبوں سے قید کرتا، اس کی سانسوں میں اپنی سانسیں اتارنے لگا۔
اکاسمہ کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ یہ اچانک کیا ہوا ہے ؟؟
حکان اس کے سر کی پشت کو، اپنے بھاری ہاتھ سے تھامتا، مکمل اس کی خوشبو میں کھو چکا تھا۔ یہ پہلی بار ہوا تھا کہ وہ یوں اپنے حواس کھو بیٹھا تھا ورنہ اسے اپنے حواس پہ ہمیشہ دسترس حاصل ہوتی تھی لیکن شاید وہ پورا دن اور پوری شام اور رات، اکاسمہ کو اس قدر سوچتا رہا تھا کہ خود پہ دسترس کھو بیٹھا تھا۔
اکاسمہ گھبرا کے، خود کو اس کی گرفت سے نکالنے کی کوشش کرنے لگی۔
” حکان چھوڑو۔۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔۔ ”
حکان رکا۔ گہرے سانس لیتا، بکھری بکھری سی اکاسمہ کو، اپنے بازوؤں میں دیکھنے لگا، کس قدر ہوشربا لمحہ تھا، اسکے لبوں پہ حکان کا لمس تھا جبکہ اس کے وجود پہ، حکان کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی اور پھر جیسے ہوش میں آیا تھا۔ بےاختیار اس سے الگ ہوتا، وہ کھڑا ہو چکا تھا۔
” میں ۔۔۔۔۔ ”
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا بولے، تبھی تیزی سے،لمبے ڈگ بھرتا، وہ اپنے بیڈ روم میں جا کے بند ہو گیا تھا۔ رات کے اس پہر، زور سے دروازہ بند ہونے کی آواز نے، اسکے پورے وجود کو دہلا دیا تھا۔ وہ کچھ دیر بند دروازے کو دیکھتی رہی اور پھر نظریں پھیر کے،وہ خاموشی سے، سامنے ٹیبل کو دیکھے گئی۔
حکان کے لبوں کا پرتپش لمس، اب بھی اسے اپنے لبوں پہ محسوس ہو رہا تھا۔ شام سے رات تک، جب تک وہ سو نہ گئی،وہ مسلسل حکان کو سوچ رہی تھی اور اب اچانک سے، اس بےساختہ لمس نے، جیسے اس بےسکونی کو سکون سا بخشا تھا ۔
کیوں؟؟
وہ نہیں جانتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح وہ دیکھ رہی تھی کہ ناشتہ کرتے ہوئے، وہ نظریں نیچے کیے ہوئے تھا۔ اکاسمہ اس کے سامنے ناشتہ رکھ رہی تھی اور وہ دیکھنے سے گریز کر رہا تھا۔ عجیب معنی خیز سی خاموشی تھی کہ ماحول کو بوجھل سا بنا رہی تھی۔
” تم مجھے کورٹ میں چھوڑ کے کیوں آ گئے تھے حکان ؟؟”
اس نے بلکل اچانک خاموشی کے بوجھل پن کو ختم کرنے کے لئے سوال کیا۔ حکان نے نظر اٹھا کے اسے دیکھا۔ وہ لب بھینچے حکان کو دیکھ رہی تھی جب اچانک حکان کی آنکھیں سپاٹ ہوئی
” اپنی مسلسل کوشش سے بھی میں عاریز نہیں بن سکتا۔ آپ کو مایوسی ہوئی ہے شاید ”
سپاٹ لہجے میں کہتے، وہ پھر سے نظریں نیچے کر کے ناشتہ کرنے لگا جبکہ اکاسمہ اپنی جگہ پہ ساکت بیٹھی، اسے دیکھنے لگی۔ تو وہ جو سوچ رہی تھی کہ حکان کس بات پہ ناراض ہے، تو یہ وجہ تھی !!
وہ تیزی سے کھڑا ہوتا، صوفے پہ رکھا اپنا کوٹ پہننے لگا۔ اکاسمہ الجھی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ اکاسمہ کو اگنور کر رہا تھا جبکہ نہ جانے کیوں، اکاسمہ کو اپنا دل بوجھل سا ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ کبھی نظرانداز تو نہیں ہوئی تھی اور رات کو تو وہ اسے بانہوں میں لیے، اپنی بےچینیاں، اس کی سانسوں کے سپرد کر رہا تھا تو اب کیا ہوا ؟؟
اگر وہ ایسے رویہ کر بھی رہا ہے تو ۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔ وہ کیوں پریشان ہو رہی ہے ؟؟ اس کا دل کیوں بوجھل ہو رہا ہے۔

” عباس تمہیں ڈراپ کر دے گا، جہاں بھی جانا چاہو تم “

حکان کی بھاری آواز پہ وہ چونکی تھی ۔ وہ اب بھی اکاسمہ کو نہیں دیکھ رہا تھا اور تیزی سے باہر نکلا تھا۔ اکاسمہ بند دروازے کو خالی نظروں سے دیکھے گئی جبکہ حکان نے باہر نکل کے، گہری سانس کھینچ کے، خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی تھی۔
کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے ؟؟
وہ اکاسمہ کو اگنور کر رہا ہے ۔
وہ اکاسمہ کو دیکھ نہیں رہا ہے۔
تو کیا وہ نہیں محسوس کر پا رہا اس کے وجود پہ، اس کے چہرے پہ پھیلے یاسیت کو ؟؟ جو حکان کے رویے سے، وہ محسوس کر رہی تھی لیکن وہ جانتا تھا کہ اگر وہ اکاسمہ کو دیکھ لیتا تو شاید پھر سے خود پہ اختیار کر دیتا، اس پہ حاوی ہو جاتا، اس کی مرضی کے بنا، اسے چھو لیتا اور اکاسمہ مزید اس سے نفرت کرنے لگ جاتی ۔

○○○○○○○○●●●●●●●●○○○○○●●●●●

” ڈیڈ یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟؟ آپ کیا کر رہے ہیں؟؟ ”
صبح ناشتے پہ، عفان بےچینی سے کہہ رہا تھا۔ فیاض حیات ٹوٹ سے گئے تھے۔
” تم بھی برا کہہ دو مجھے اکاسمہ کی طرح ”
” ڈیڈ میں آپ کا بیٹا ہوں، بتائیے مجھے پلیز بتائیے ، کیا ہوا ہے ؟؟ کون ہے کاووس شاہ ؟؟ کیوں آپ اسے اپنا بیٹا کہہ رہے ہیں؟؟”
عفان نے ان کے دونوں ہاتھ تھام لیے تھے۔ وہ ان بڑا بیٹا تھا، سمجھدار تھا، اکاسمہ کی طرح جذباتی نہیں تھا کہ جلد غصہ کر لیں اور کچھ بھی نہ سنے مقابل کی۔
” میں۔۔۔۔ ”
” گڈمارننگ ۔۔۔۔”
وہ ابھی کچھ کہنے جا رہے تھے جب اچانک کاووس شاہ کی آواز لاؤنج میں گونجی اور دونوں نے مڑ کے اسے دیکھا جو مسکراتے ہوئے قریب آ رہا تھا۔
” ارے واہ ناشتہ ۔۔۔۔”
عفان نے حیرت سے فیاض حیات کو دیکھا جبکہ وہ نظریں چرا گئے ۔
” یہ شخص یہاں کیا کر رہا ہے ؟؟”
وہ تیز آواز میں بولتا، گھور کے کاووس شاہ کو دیکھنے لگا جبکہ وہ جو بیٹھنے لگا تھا ۔ عفان نے ٹانگ سے، اس کرسی کو کھینچ کے پیچھے گرا دیا تھا۔کاووس شاہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
” بڑے بھائی سے کوئی ایسے بات کرتا ہے ؟؟”
” او شٹ آپ۔۔۔۔ نکلو یہاں سے تم ”
عفان غصے سے کھڑا ہو کے، اسے دھکا دے چکا تھا جبکہ وہ اب فیاض حیات کو دیکھ رہا تھا۔
” ڈیڈ، آپ نے سکھایا ہی نہیں اپنے بچوں کو،کہ بڑے بھائی سے کیسے بات کرتے ہیں ۔ ”
فیاض بےبسی سے لب بھینچ گئے۔
” اپنی ان حرکتوں سے تم انہیں ٹریپ کر سکتے ہو مجھے نہیں۔
And stop calling him Dad ”
عفان چلایا تھا۔
” ابا، ابو، بابا، ڈیڈی، پاپا ۔۔۔۔ پاپس۔۔۔ یہ سب عجیب لگتا ہے تو سوچا کہ ڈیڈ بول دوں، تم اور اکاسمہ بھی ڈیڈ ہی بولتے ہوگے”
کاووس شاہ ارام سے کہتا، دوسری کرسی کھینچ کے بیٹھ گیا۔
” میری بہن کا نام بھی مت لو ۔۔۔ ”
عفان نے دانت پیسے تھے۔
” کم آن، میری بھی بہن ہے وہ ۔۔۔ چلو بیٹھ کے ناشتہ کرو۔ لیٹ ہو جاؤ گے ”
کاووس ایسے بات کر رہا تھا جیسے ان کے بیچ صدیوں پرانی دوستی ہو۔
” اٹھو تم اور دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔ رائٹ ناؤ ”
عفان نے انگلی بجاتے، اسے اشارہ کیا تھا جبکہ وہ پرسکون انداز میں فیاض حیات کو دیکھنے لگا جو بےبسی سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے پھر دوبارہ سے عفان کو دیکھنے لگا
” تم نے نیوز نہیں دیکھی؟؟ میڈیا اس سیریل کلر سے، تم لوگوں کے تعلق کو ملا کے، اچھال رہے تھے۔ ارے تمہیں تو خوش ہونا چاہئے اس سیریل کلر کے مقابلے میں تو اچھا اور پرفیکٹ انسان ہوں۔ ایٹ لیسٹ، کراچی کا نہ مشہور سیریل کلر ہوں اور نہ ہی تمہارے بہنوئی کے قتل میں میرا کوئی ہاتھ ہے۔ بہت ناشکرے ہو تم ، اتنے نازک صورتحال میں آ کے،میں نے تم سب کی عزت بچائی ہے۔ ”
” شٹ آپ۔۔۔ ڈیڈ کیا ہے حقیقت؟؟ بتا کیوں نہیں رہے مجھے آپ؟؟ کون ہے یہ ؟؟”
عفان، فیاض حیات کی طرف مڑا تھا جبکہ وہ اچانک سے چلائے تھے
” بس کرو دو، چپ کر جاؤ تو دونوں، بس ۔۔۔۔ بس ”
وہ اونچی آواز میں کہتے اٹھ کھڑے ہوئے اور وہاں سے جانے لگے ۔
” لو ناراض کر دیا انہیں ”
کاووس شاہ پرسکون لہجے میں کہتا اب ناشتہ کرنے لگا جبکہ عفان اسے سرد نگاہوں سے گھورتا، وہاں سے واک آؤٹ کر گیا تھا۔ کون تھا یہ ؟؟ کیا حقیقت تھی اس شخص کی؟؟ کیسے بلکل اچانک سے آ کے، ان کے گھر پہ قابض ہو چکا تھا کہ اس کے ڈیڈ بھی کچھ نہیں بول رہے تھے۔ بلکل خاموش تھے۔

●●●●●●●●●●●●●○○○○○○●●●●●●●

” صاب ، صاب میری مدد کریں۔۔۔ میری بیٹی کا قاتل ہے وہ، صاب اسی نے قتل کیا ہے میرے بیٹی کو۔ اور اب کسی اور سے شادی رچا رہا ہے ”
وہ شبانہ کی ماں کی تھی جو روتے ہوئے وہاں آئی تھی۔
” تم پھر آ گئی ؟؟ تیری بیٹی تو خوش اپنے میاں کے ساتھ چلی گئی اور تو نے پھر سے رونا دھونا ڈالا ہوا ہے ”
پولیس کانسٹیبل اظہر نے اسے گھور کے دیکھا تھا جبکہ وہ رونے لگی
” میرے کو معلوم ہے صاب، اس نے میری بیٹی کو قتل کیا ہے، کہیں پھینک دی ہوگی لاش، وہ بہت ظالم ہے صاب، میری مدد کر دے۔ وہ اب دوسری لڑکی کی زندگی برباد کر رہا ہے۔ صاب میری بات سنے صاب ”
وہ متواتر رو رہی تھی۔
” جا بی بی جا۔۔۔ چلی جا یہاں سے، تیرے اور تیری بیٹی کے ڈرامے دیکھنے نہیں بیٹھے ہوئے ہم یہاں ”
دوسرا کانسٹیبل بھی بیزار سی صورت بنا کے بولا جب اچانک خیام وہاں ایا۔
” کیا ہو رہا ہے یہاں”

” گڈ مارننگ سر ۔۔۔ ”
” گڈمارننگ سر۔۔۔ “

وہ دونوں ادب سے خیام کو دیکھنے لگے۔
” کیوں رو رہی ہے یہ ؟؟”
” اس کی بیٹی کا کیس، ہماری اکاسمہ بی بی سنبھال رہی تھی لیکن عین وقت پہ، اس کی بیٹی نے واویلا مچا دیا کہ وہ جھوٹا الزام لگا رہی ہے اور اپنے میاں کے ساتھ چلی گئی۔ اب یہ اس کی ماں پھر سے آئی ہے کہ اس کی، اسی بیٹی کا قتل کر چکا ہے اس کا وہی داماد”
اظہر نے بیزاری سے اس عورت کو دیکھتے بتایا۔
” بڑے صاب،میں سچ بول رہی۔ میری بیٹی نادان ہے، بیوقوف ہے۔۔ اچھے اور برے کو نہیں سمجھ پاتی۔ صاب اسی نے میری بیٹی کو قتل کیا ہے، اس نے خود میرے کو کہا اور اب دوسری لڑکی کی زندگی برباد کر رہا ہے صاب،وہ نامرد ہے، وہ بہت گندا ہے۔ صاب میرے سارے چلے صاب، میں جھوٹ نہیں بول رہی صاب ”
وہ روئے جا رہی تھی۔ خیام نے ان دونوں کانسٹیبل کو سنجیدگی سے دیکھا
” ان کے ساتھ جا کے چیک کرو کہ کیا معاملہ ہے ”
“اوکے سر ۔۔۔ “

●●●●●●●●○○○○○○○●●●●●●●●

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *