Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 26

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 26

مسفرہ کے لب مسکرا رہے تھے۔ وہ شخص تو اس کے حواسوں کو مکمل اپنی دسترس میں کر چکا تھا کہ مسفرہ کا دھیان اس کے علاوہ کسی اور طرف جانے کے لئے آمادہ ہی نظر نہیں آتا تھا۔ وہ شخص جیسے کوئی نشہ تھا کہ اس کے ہونے سے، وہ پرسکون سی رہتی اور جب وہ نہ ہوتا تو اسے اپنے وجود کا ہر حصہ ٹوٹتا محسوس ہوتا۔
” افففففف ازمائر شاہ، کیوں میرے حواسوں کو سلب کر رہے ہو؟؟ کیوں مجھے اپنا عادی کر چکے ہو کہ مجھے لگتا ہے جیسے میرے وجود میں تم کسی پرفیوم کی مانند بس چکے ہو۔ کیوں تمہارا میرے قریب ہونا، مجھے سکون بخشتا ہے اور تمہارا نہ ہونا، مجھے پاگل سا بنا دیتا ہے”
سر تھامے بیٹھی وہ خودکلامی کر رہی تھی۔

” آج پہلی بار کوئی، شرک سے پرے، مجھ سے محبت کرنے کا دعوا کر بیٹھا ہے۔کیسے جانے دوں؟؟”

اس کے کانوں میں ازمائر شاہ کے کہے الفاظ گونجے تھے اور اب کی دھڑکنیں پل بھر میں منتشر ہوئی تھی۔ لب دانتوں تلے دباتی، وہ مسکرانے لگی۔ سر اٹھا کے وہ اب سامنے دیوار کو دیکھ رہی تھی جہاں ازمائر شاہ کھڑا مسکرا رہا تھا۔
” اوہ شٹ ”
اسے اپنی دماغی حالت پہ شبہ سا ہوا تھا۔ اس نے آنکھیں بند کی اور اپنی کنپٹی سہلانے لگی۔
” اففففف، ازمائر شاہ تو مجھے اب دن دھارے، یہاں وہاں بھی کھڑا نظر آنے لگا ہے۔ یا اللہ، میں پاگل تو نہیں ہو رہی ”
وہ بڑبڑاتی، پھر سے آنکھیں کھول کے دیکھنے لگی لیکن وہاں تو اب بھی ازمائر شاہ کھڑا تھا۔ پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے، وہ زیر لب مسکراتا، مسلسل مسفرہ کو دیکھ رہا تھا۔ مسفرہ نے ادھر ادھر دیکھتے، پھر سے سامنے دیکھا جہاں ازمائر شاہ کھڑا تھا۔
” یار، کیوں نظر آتے ہو مجھے اس قدر کہ مجھے لگنے لگتا ہے کہ مجھے اپنے ہی ٹریٹمنٹ کی ضرورت پڑنے لگی ہے ازمائر شاہ ”
جھنجھلاہٹ بھری بڑبڑاہٹ تھی اور وہ دیکھ رہی تھی کہ ازمائر شاہ کا وہ وجیہہ اسٹیچو اب اس کی طرف قدم قدم بڑھ رہا تھا۔ وہ سانس روکے اسے مسلسل اپنے ٹیبل کی طرف آتا دیکھ رہی تھی۔ اس قدر محو تھی وہ اس اسٹیچو کو دیکھنے میں، کہ اس میں سکت ہی نہ تھی اپنی سیٹ سے اٹھنے کی۔ وہ قریب آ کے، ٹیبل پہ اس کے سامنے ہی بیٹھا تھا اور اب زیر لب مسکراتا، گہری نگاہوں سے مسفرہ کو دیکھ رہا تھا۔
مسفرہ آنکھیں بند کر کے، اپنی کنپٹی سہلانے لگی۔
” یا اللہ، مجھے کیا ہو گیا ہے، کل گھر میں بھی یہی لگ رہا تھا کہ کچن میں ہے ازمائر شاہ، میرے پیچھے کھڑا ہے، پھر بیڈ روم میں بھی یہی لگا اور اب یہاں کلینک۔
Not fair …
میرا دماغ ٹھیک کر دیں پلیز میرے اللہ ”
وہ مسلسل بڑبڑاتی، پھر سے آنکھیں کھول گئی اور سامنے، اس کے بےحد قریب ازمائر شاہ، ٹیبل پہ براجمان تھا۔ اب کے واقع اسے لگا کہ سانس رکنے لگی ہے اس کی۔ ازمائر شاہ نے ہاتھ آگے بڑھا کے، اس کے بکھرے بالوں کی آوارہ لٹ کو، شہادت کی انگلی پہ لپیٹا تھا جبکہ تھوڑا سا، مسفرہ کی طرف خم ہوا کہ اس کا چہرہ، مسفرہ کے چہرے کے قریب تر ہو گیا تھا۔
” illusion to reality ”
مبہم، گھمبیر سرگوشی پہ، مسفرہ نے اپنی دھڑکنیں گننی شروع کر دی لیکن وہ گنتی میں آ کہاں رہی تھی اس قدر تو شور برپا تھا ان دھڑکنوں میں۔
” مجھے سوچتی ہو تم مسفرہ، تو لکھا کرو مجھے، میں پڑھنا چاہتا ہوں خود کو تمہاری قلم سے۔ ”
بوجھل سرگوشی کرتے ہوئے، وہ مسلسل مسفرہ کو گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
” کیا واقع تم ہو یا میرا illusions مجھے اب چھونے بھی لگا ہے ”
ازمائر شاہ زیر لب مسکرانے لگا۔
” خود چھو کے یقین کر لو، کہ یہ میں ہوں ”
اس کے بالوں کی لٹ چھوڑ کے، اس نے مسفرہ کا ہاتھ تھاما تھا اور اس کا ہاتھ اپنے چہرے پہ رکھ کے، وہ زیر لب مسکرانے لگا۔
” not your illusion but your reality ”
” ازمائر ۔۔۔۔۔۔ شاہ ۔۔۔۔۔ اوہ شٹ ”
مسفرہ چونک کے پیچھے ہوئی تھی کہ سیٹ سمیت ہی پیچھے گرنے والی تھی جب ازمائر شاہ نے بروقت جھک کے، اس کی سیٹ پہ اپنی گرفت مضبوط کر لی۔
” ہئی مسفرہ ۔۔۔ ریلیکس ”
اس کے حواسوں پہ، ازمائر شاہ کے کلون کی خوشبو چھانے لگی۔ اتنے مہنگے برانڈ کے پرفیوم وہ یوز کرتا ہے، یہ اس وقت مسفرہ کی سوچ تھی کیونکہ وہ پرفیوم کی مہک، اسے ہمیشہ اپنے ارد گرد محسوس ہوتی۔
” کیا ہو گیا ہے یار، گر جاتی تم ”
” کون سا پرفیوم ہے ؟؟”
مسفرہ کے اچانک سوال پہ وہ چونکا تھا۔
” وہاٹ؟؟”
” یہ پرفیوم میرے دماغ کو مفلوج کر چکا ہے، مجھ میں مسلسل یہ absorb ہو چکا ہے ۔ میں کچھ کر نہیں پا رہی۔ ”
وہ کھوئے ہوئے انداز میں کہہ رہی تھی۔ ازمائر شاہ کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
” تو شادی کر لیتے ہیں ”
مسفرہ کی آنکھوں کا رنگ جیسے متغیر ہوا تھا۔ اس نے تیزی سے آنکھیں بند کر لی۔
” اتنے رومینٹک کیوں ہے تمہاری آنکھیں ”
ازمائر شاہ اس کے ہر انداز پہ زیر لب مسکرا رہا تھا۔ آج تو جیسے وہ کوئی نئی مسفرہ کو دیکھ رہا تھا۔ برانڈ نیو مسفرہ۔ دل نے گستاخی کی اجازت چاہی لیکن دماغ نے فورا رد کیا۔
” مسفرہ ۔۔۔۔”
اس کے کان کی لو پہ، لبوں کی ہلکی سی جنبش ہوئی، تو وہ آنکھیں کھول اس شخص کو بےحد قریب دیکھنے لگی اپنے۔
” ازمائر ۔۔۔۔ ”
لب نیم وا ہوئے تو لفظ بکھر سا گیا ۔ ازمائر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا جبکہ دونوں کے چہرے، ایکدوسرے کی گرم سانسوں کو محسوس کر رہے تھے۔
” شادی کر لیتے ہیں ”
ازمائر نے پھر سے اپنی بات دہرائی تھی ، مسفرہ کے چہرے پہ بےساختہ مسکراہٹ بکھری گئی تھی۔
” ہاں، کر لیتے ہیں ”
” کر لینی چاہئے اب ”
ازمائر شاہ زیر لب مسکراتا کہنے لگا۔
” پرامس کرو، ازمائر شاہ ہی بن کے رہو گے، مجھے سرپرائز نہیں پسند ”
مسفرہ کی آنکھوں میں عجیب احساس جھلکنے لگا۔ ازمائر خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔
” اور میں؟؟”
گھمبیر لہجے میں سوال پوچھتا، وہ اب جواب کا منتظر تھا۔ مسفرہ بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھنے لگی۔
” میرے روح کے دریچوں میں تمہارا ہی بسیرا ہے ازمائر شاہ ”
” میرے لئے الفاظ لکھو کبھی مسفرہ، مجھے لکھو کبھی، میں پڑھنا چاہتا ہوں خود کو، تمہارے لفظوں میں ”
ازمائر شاہ کی بےچین آواز میں عجب سرور تھا کہ مسفرہ سرمست سی اسے دیکھنے لگی۔ ہاتھ بڑھا کے، اس نے ازمائر شاہ کے چہرے پہ، اپنے ہاتھ کی پشت پھیری اور کھوئے کھوئے انداز میں مسکرانے لگی۔
” تم سے ملنے کے بعد، میں اکثر تمہیں ہی لکھنے لگی ہوں ازمائر شاہ کہ میرے الفاظ کی مالا، ہر وقت تمہارا نام ہی الاپتی ہے اور میں بےبس سی ہو کے، ان گڈمڈ ہوتے لفظوں کو دیکھتی ہوں ”
ازمائر شاہ کچھ نہ بولا ۔ وہ اب کے خاموش ہی رہا جبکہ بیتاب نظریں، مسفرہ کے چہرے پہ، اپنی گہری محبت کی چھاپ چھوڑ رہی تھی کہ جن سے، مسفرہ کے گال دہکنے لگے تھے اور وہ ان نگاہوں کی تپش سے پگھلتی، نظریں جھکا گئی تھی۔

《《《《《《《♡♡♡♡♡♡》》》》》》

وہ دونوں جیسے ہی آگے پیچھے گھر میں داخل ہوئے تو اکاسمہ بنا اس کی طرف دیکھے، آگے بڑھی تھی جب عاریز نے تیزی سے آگے بڑھ کے، اس کا بازو دبوچ کے، اسے اپنی طرف کھنیچا۔ اکاسمہ اس سپاٹ نظروں سے دیکھنے لگی۔
” کیا کہہ رہا تھا وہ شخص تم سے ؟؟”
سرد اور سپاٹ لہجے میں ہوچھا گیا جبکہ اکاسمہ کے بازو پہ اس کی گرفت سخت ہو چکی تھی کہ وہ کراہ کے رہ گئی۔
” چھوڑو مجھے، you are hurting me
اکاسمہ اس کی آنکھوں میں نفرت واضح طور پہ دیکھ رہی تھی۔ اسے عاریز کی سرد آنکھوں سے خوف محسوس ہوا تھا تبھی اپنی ہائی ہیل سے، اس کی ٹانگ پہ مارتی، خود کو چھڑا کے، اس سے دور ہوئی تھی۔
” یو ۔۔۔ ”
عاریز نے لب بھینچ لیے تھے جبکہ جھک کے اپنی ٹانگ کو دیکھنے لگا۔ اکاسمہ لب بھینچے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
” یہ کیا حرکت تھی اکاسمہ ”
” تمہاری حرکت کا جواب۔ مجھ سے زبردستی کرنے کی کوشش مت کرنا عاریز خان۔ میں تم سے ڈرتی نہیں ہوں اور یہ جو تم اپنا رویہ بدل رہے ہو مجھ سے، اس کا جواب دو مجھے تم ”
اکاسمہ سخت نظروں سے عاریز خان کو دیکھ رہی تھی جبکہ عاریز نے دونوں ہاتھ، اپنے بالوں میں چلاتے، گہرا سانس لیا تھا اور پھر اکاسمہ کو نرم نظروں سے دیکھنے لگا۔
” ایم سوری یار ۔ مجھے غصہ آ گیا تھا ۔ سوری ”
اکاسمہ نے بنا کچھ کہے نظریں پھیر لی تھی۔ عاریز اس کے قریب آ کے، اسے بانہوں کے گھیرے میں لے چکا تھا۔
” سوری اکاسمہ، اب نہیں ہوگا ایسا۔”
اکاسمہ ناراض نظروں سے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ زیر لب مسکراتا، اس کی پشت پہ ہاتھ پھیرنے لگا۔ اسے اپنے قریب کر کے، وہ آنکھیں موند گیا تھا کہ اکاسمہ کے وجود کی خوشبو، اس کے حواسوں پہ چھانے لگی۔ اس کی انگلیاں اکاسمہ کی پشت پہ سرسرانے لگی جبکہ وہ سرسراہٹ اکاسمہ کو عجیب سا محسوس ہوئی تھی۔ اس کی گرم سانسیں، اکاسمہ کی گردن کو چھونے لگی تو وہ پہلی بار، عاریز کی نزدیکی پہ خائف سی ہوئی تھی۔ اسے عجیب سا محسوس ہونے لگا ۔ اس کی انگلیاں جیسے، اس کے وجود پہ، کوئی گھناؤنا گناہ کر رہی ہو۔ اس سے پہلے کبھی بھی عاریز نے ایسی حرکت نہیں کی تھی جس طرح سے، اس وقت عاریز، اکاسمہ کو چھو رہا تھا۔ انگلیوں کا سفر کمر تک ٹھیک تھا لیکن کمر سے نیچے جاتے ہوئے، جو اکاسمہ کو محسوس ہوا، وہ کانپ کے رہ گئی ۔ عاریز خان نےکبھی ایسی حرکت نہیں کی تھی لیکن ابھی !!!
اگر وہ منع کرتی یا کچھ کہہ دیتی تو عاریز شاید پھر سے غصہ ہو جاتا، اور ویسے بھی عاریز بدل سا گیا تھا اج کل۔ وہ اکاسمہ کا دھکا دینے، اسے دبوچنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا تھا اور ابھی شاید اکاسمہ پہ ہاتھ بھی اٹھا لیتا۔ تبھی وہ ہمت کر کے، اس سے الگ ہو کے مڑی تھی اور مسکرانے لگی۔
” بھوک لگی ہے۔ کیا بناؤں؟”
وہ تیزی سے رخ موڑ کے کچن کی طرف بڑھ گئی کہ عاریز کی آنکھوں میں وہ سرخی بڑھتی دیکھ چکی تھی۔ دل کانپ سا اٹھا تھا لیکن اسے سنبھل کے کام لینا تھا اس وقت۔
” تم فریش ہو جاؤ، میں دیکھتی ہوں کہ کیا بنا سکتی ہوں جلدی سے۔ ”
عاریز خان نے گہرا سانس لیا تھا۔ سر جھٹک کے، وہ کندھے اچکا گیا۔
” اوکے مائی ڈئیر وائفی ”
اکاسمہ اسے دیکھنے سے گریز کر رہی تھی کہ مقابل کھڑے عاریز میں، وہ کل والا عاریز ڈھونڈنے میں ناکام ہو رہی تھی اور یہی بات سوچ کے، اس کا دل دوبارہ سا کانپ اٹھا۔ کیا ہو گیا تھا عاریز خان کو؟ کیوں ایسے ہو گیا تھا؟؟ اس کی آنکھیں کس قدر نرم ہوا کرتی تھی جب بھی وہ اکاسمہ کی طرف دیکھتا اور اب کچھ دنوں سے لگ رہا تھا جیسے ساری کرختگی، سردمہری ان آنکھوں میں انڈیل دی گئی ہو۔ اسے لگنے لگا کہ اگر وہ عاریز کو اپنے قریب بھی آنے دے گی تو عاریز اسے کوئی چوٹ پہنچائے گا ۔
” اوففففف”
اپنے حواس مجتمع کرتی، وہ ڈنر بنانے لگی۔

《《《《《《¤¤¤¤¤¤¤¤¤》》》》》》》

” امممم تو اب ؟؟”
حکان اور ازمائر آمنے سامنے تھے۔ کمپیوٹر میں کچھ کوڈز انٹر کر لینے کے بعد، وہ اب ازمائر شاہ کو دیکھنے لگا۔
” حسام کو اتنی جلدی نہیں مرنا چاہئے تھا ”
ازمائر شاہ کے ماتھے پہ بل پڑے ہوئے تھے جبکہ حکان زیر لب مسکرانے لگا
” زندہ لاش بنا دیا تھا اسے انتقام کی آگ میں اس قدر جھلس چکے تھے تم۔ کیا کرتا وہ ؟؟ مرنا ہی تھا اسے ”
” جتنا عرصہ میں نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارا ہے، کم از کم اتنی تکلیف تو مل ہی جانی چاہئے تھی اسے ”
ازمائر شاہ بےچین سا اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے میں ٹہلنے لگا جبکہ حکان، کافی کا سپ لیتا، ارام دہ انداز میں بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔
“وہ اپنی سزا کاٹ چکا تھا ازمائر اور پھر اس نے موت کو گلے لگا لیا کیونکہ وہ تمہارے جتنا بہادر نہیں ہے کہ اتنا کچھ برداشت کر سکے۔ضمیر کے سامنے اور کتنا شرمندہ ہوتا یا چلو شرمندہ نہ سہی، اور کتنا ذلیل ہوتا ؟ تم بھی اس چیپٹر کو کلوز کر کے، اب اپنی لائف پہ دھیان دو۔ آفس، گھر، بزنس۔ اور میری بھابی بھی ”
آخر میں حکان نے شوخ ہوتے ہوئے، مسفرہ کا ذکر چھیڑ دیا کہ ازمائر کا ذہن وہ اس ٹاپک سے ہٹا دینا چاہتا تھا۔ ازمائر زیر لب مسکراتا، گہرا سانس لے کے، حکان کو دیکھنے لگا۔
” میں شادی کر رہا ہوں مسفرہ سے ”
” واؤ، گریٹ ”
حکان بھی خوش ہوا جبکہ ازمائر مسکرانے لگا۔
” مسئلہ یہ ہے کہ مسفرہ کے گھر، پروپوزل لے کے جائے کون ؟”
” میں اور تم”
حکان کے سادہ سے انداز پہ وہ حیران آنکھوں سے دیکھنے لگا۔
” آڑ یو سیریس؟؟”
حکان کندھے اچکا کے، لیپ ٹاپ اٹھا چکا تھا اور اس کی اسکرین پہ دیکھتا، کیبورڈ پہ انگلیاں چلانے لگا۔
” آف کورس ایم ڈیم سیریس ”
وہ ان سنجیدہ نظروں سے لیپ ٹاپ اسکرین دیکھ رہا تھا۔ اسے بالکل اچانک، شام کا منظر یاد آیا جب عاریز، اکاسمہ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کے، سرد نظروں سے حکان کو دیکھنے لگا۔ عجیب تھی وہ آنکھیں، بےحد عجیب۔ دل دہلا دینے والی عجیب آنکھیں۔ اور یہاں اسکرین پہ چلتے مناظر، اسے شک میں مبتلا کرنے لگے۔
” عاریز خان کا رویہ، اکاسمہ کے ساتھ اس قدر بدل سکتا ہے ؟؟ لیکن کیوں؟؟”
وہ موبائل پہ کال ملا کے دوسری طرف سے ریسیو ہونے کا انتظار کرنے لگا ۔
” یس سر”
” امممم، جابر تمہاری ڈیوٹی ہے آج سے، عاریز خان کے بارے میں معلومات اکٹھا کرو۔ اس پی نظر رکھو اور اس کا موبائل ٹریس کرو ”
حکان بےحد سنجیدگی سے لیپ ٹاپ اسکرین دیکھتا کہہ رہا تھا جبکہ دوسری طرف سے جابر، اوکے سر کہتا کال ڈسکنیکٹ کر چکا تھا۔
” کیا ہوا ہے حکان ؟؟”
حکان چونک کے، ازمائر شاہ کو دیکھنے لگا
” اکاسمہ کی جان کو خطرہ ہے۔ اسے خطرناک طریقے سے ٹریپ کیا جا رہا ہے اور مجھے کچھ اچھی وائبز محسوس نہیں ہو رہی۔ کچھ گڑبڑ ضرور ہے ۔”
حکان کے سنجیدہ لہجے میں، وحشت پنہاں تھی جبکہ ازمائر شاہ اسے پرسوچ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
” تم، اسے اب اس کے ہزبینڈ سے پروٹیکٹ کرو گے اور وہ تمہاری بات مان جائے گی ”
حکان کی سنجیدہ نظریں اب ازمائر شاہ پہ تھی۔
” وہ ٹریپ ہو چکی ہے ازمائر شاہ۔ اور اسے ٹریپ کرنے والا اگر اس کا ہزبینڈ بھی ہوا تو میں اکاسمہ کو بچانے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں سوچوں گا ”
” وہ عاریز خان ہے۔ پرازیکیوٹر عاریز خان۔ ”
ازمائر نے آبرو اچکائے کہا ۔ حکان سر جھٹک کے لیپ ٹاپ اسکرین دیکھنے لگا۔
” اور میں حکان ملک ہوں۔ میری شناخت گمشدہ ہے جسے ڈھونڈنے میں پورے پاکستان کیا، پوری دنیا کو صدیاں لگ جائے گی ”
ازمائر شاہ زیر لب مسکرانے لگا جبکہ حکان کے لب بھنچ گئے تھے۔
” عاریز۔۔۔۔۔ خان ”
اسکے لب نیم وا ہو کے، بند ہوئے تھے۔ وہ کچھ سوچ رہا تھا لیکن کیا ؟؟ یہ ازمائر شاہ بھی نہیں جانتا تھا

《《《《《《《¤¤¤¤¤¤》》》》》》》

” اس قدر گندی تصویریں، وجدان ملک،مجھے تو سوچ کے ہی گھن آ رہی ہے تم سے ۔ وہ بھی اپنے ہی جوان بیٹے کے دوست کی بیوی کے ساتھ ”
لبنی نفرت بھری نظروں سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں برباد ہو رہا تھا ۔ وہی بیٹا جسے اس نے ہمیشہ نیچ نظر سے دیکھا۔
” یہ سب تمہارے اس نکمے اور گھٹیا بیٹے کی حرکتیں ہے ”
اس نے دانت پیسے تھے۔
” بس ”
لبنی نے ہاتھ اٹھا کے اسے روکا۔
” اب مزید ایک لفظ بھی نہیں۔ آپ چاہتے کیا ہے آخر حکان سے ؟؟ ابھی ابھی تو وہ اپنا کیرئیر اسٹارٹ کر چکا ہے۔ اس کی زندگی، اس کی شخصیت تو برباد کر کے رکھ دی ہے آپ نے ”
” اگر اپنے بیٹے کی تعریفیں ہی کرنی ہے تو دفع ہو جاؤ یہاں سے ”
وجدان ملک چلایا تھا جبکہ لبنی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔ ۔
” ہاں تم بیٹھ کے اپنی ننگی تصویریں دیکھو وجدان ملک۔”
یہ کہہ کے، لبنی کمرے سے باہر نکلی تھی جبکہ وجدان سر تھام کے بیٹھ گیا۔ ایسا کیا کر دیا تھا اس حکان نے؟؟ ایسی کون سی تکنیک آزمائی تھی کہ وجدان ملک کا اکاؤنٹ ہی ہیک کر لیا؟؟ اس نے کہاں سے سیکھی یہ تکنیک؟؟ وہ لب بھینچے سوچ رہا تھا۔ ماتھے پہ بل پڑے ہوئے تھے جبکہ آنکھوں میں اپنے ہی بیٹے، اپنے ہی خون کے لئے نفرت تھی کہ جس کی کوئی حد بھی نہ تھی لبنی اکثر حیران ہو جاتی کہ وجدان ملک کس قسم کا باپ ہے جسے اپنے ہی بیٹے سے نفرت ہے اور اب اسے لگ رہا تھا کہ جب مرد کو باہر کی گندی ہوا لگ جائے تب اسے اپنے پاکیزہ رشتے بوجھ ہی لگتے ہیں۔ وجدان ملک کے ساتھ بھی یہی تھا۔ اسے اب اس شخص میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ تبھی وہ اپنا سوٹ کیس بنانے لگی۔ اسے یہاں رہنا ہی تھا۔ حکان نے بہت پہلے انہیں اپنے گھر لے جانے کی بات کی تھی جسے وہ ٹال گئی تھی لیکن اب وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اسے اب واقع میں جانا چاہیے۔ اور وہ جا رہی تھی۔

《《《《《《《¤¤¤¤¤¤¤》》》》》》》》

وہ جیسے ہی کورٹ میں داخل ہوئی، سامنا ہی حکان ملک سے ہوا تھا جو جانچتی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ ابھی وہ آگے بڑھنے کا سوچ رہی تھی جب اچانک اس کے بازو پہ، عاریز خان کے ہاتھ کی گرفت مضبوط ہوئی اور وہ اس کے قریب آ کھڑا ہوا۔ اکاسمہ اپنا بازو، اس کی گرفت سے آزاد کراتی، اس سے دور ہو کے، اسے سخت نظروں سے دیکھنے لگی۔
” پاگل انسان ”
پست آواز میں کہتی، وہ سر جھٹک کے آگے بڑھی جبکہ عاریز خان نے لب بھینچ لیے۔ اسی لمحے کمرے سے نکلتا خیام یہ منظر دیکھ چکا تھا، وہیں کھڑے حکان کی نظر خیام پہ گئی۔ دونوں کی آنکھوں میں عجیب کیفیت تھی اور پھر دونوں دوبارہ سے عاریز خان کو دیکھنے لگے جو ماتھے پہ بل ڈالے آگے بڑھا تھا۔ اکاسمہ کے کمرے کا دروازہ کھول کے، وہ تیزی سے اندر داخل ہوا تھا۔ اس کا یوں اندر آنا، اکاسمہ کو سہما گیا لیکن وہ لب بھینچے کھڑی، اسے مضبوط نظروں سے دیکھنے لگی جبکہ دل اندر سے سہم گیا تھا۔
” کیا بکواس کی وہاں تم نے مجھ سے ؟؟”
وہ قریب آ کے غرایا تھا جبکہ اکاسمہ دو قدم پیچھے ہو کے، اسے اپنے قریب آنے سے روک گئی تھی۔
” عاریز وہیں رہو۔ میرے قریب بھی آئے تو منہ نوچ لوں گی تمہارا ”
وہ اکاسمہ تھی، نڈر وکیل، کوئی عام لڑکی نہیں تھی وہ۔
” کیا کرو گی، منہ نوچ لو گی میرا۔ مجھے غصہ دلا ۔۔۔۔ ”
اسی وقت دروازہ کھلا اور حکان اندر آیا ایک فائل ہاتھ میں لیے۔ عاریز خان نے مڑ کے، اسے سخت نظروں سے دیکھا تھا جبکہ اکاسمہ گہرا سانس لیتی، حکان کو دیکھنے لگی۔
” میم اکاسمہ یہ کیس ۔۔ اوہ سوری، میں نے اپ کو دیکھا نہیں تھا پرازیکیوٹر عاریز خان ”
حکان ایسے بنا جیسے واقع اسے علم نہ ہو عاریز خان کے یہاں ہونے کا۔
” دروازے پہ ناک کر کے آیا جاتا ہے ”
عاریز خان نے دانت پیسے تھے۔
” اوہ سوری، مائی میسٹیک، نیکسٹ ٹائم دھیان رہے گا ”
عاریز خان تیز نظر اس پہ ڈالتا کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ حکان کی تیز نظروں نے اس کا پیچھا کیا اور پھر وہ اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔
” تم ٹھیک ہو اکاسمہ ؟”
اکاسمہ نے آبرو اچکا کے اسے دیکھا تھا۔
” میرا مطلب ہے کہ آپ ٹھیک ہے میم اکاسمہ ”
حکان نے سنبھل کے اپنے بات کی تصحیح کی تھی جبکہ خیام بھی کمرے میں آ کے اکاسمہ کو دیکھنے لگا
” ملکہ ڈان، کیا کہہ رہا تھا یہ عاریز ؟؟”
اکاسمہ گہرا سانس لیتی، اپنی سیٹ پہ ڈھے گئی تھی۔
” وہ تو جیسے عاریز خان ہے ہی نہیں۔”
اس کی آنکھوں اور چہرے پہ پریشانی تھی جبکہ خیام اس کے قریب پہ کرسی کھینچ کے بیٹھ گیا۔
” ہئی ریلیکس، ادھر دیکھو ملکہ ڈان، یاد ہے میں نے کہا تھا کہ میں تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، سو جسٹ ریلیکس ”
حکان نے آبرو اچکا کے خیام کو ملاحظہ کیا تھا۔
” کیا ہو گیا ہے عاریز کو ؟؟ وہ تو پہلے والا عاریز ہے ہی نہیں، ایسے دیکھتا ہے میری طرف کہ جیسے آنکھوں سے نگل لے گا ۔ عجیب ، خیام وہ بلکل عجیب حرکتیں کرتا ہے، جیسے، جیسے میرے مقابل عاریز نہیں بلکہ کوئی اور عاریز کا ماسک پہنے کھڑا ہو ”
حکان لب بھینچے غور سے اکاسمہ کو سن رہا تھا۔ اس کے چہرے اور آنکھوں میں جو خوف تھا، وہ دیکھ پا رہا تھا۔
” اچھا، ہشششششش ریلیکس، میں ہوں ناں، تمہارا بھائی ہوں یار، کم آن، تمہارا خیال ہے مجھے، میں بات کرتا ہوں عاریز سے ”
اسے تسلی دے کے، خیام نے پاس کھڑے حکان کو دیکھا تھا جو گہری سوچ میں ڈوبا، اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا۔ خیام سے نظر ملتے ہی، وہ نظریں چرا کے، گلاس وال سے باہر دیکھنے لگا۔ خیام نے لب بھینچ لیے۔ کہیں کچھ تو گڑبڑ تھی لیکن کیا ؟؟؟

《《《《《《《¤¤¤¤¤¤¤¤¤》》》》》》》

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *