Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 42

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 42

صبح اس کی آنکھ کھلی تو سر میں درد کا ہلکا سا احساس ابھرا لیکن بلکل اچانک نازک وجود کی، انوکھی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی اور وہ آنکھوں میں حیرانی لیے، اپنی بانہوں میں موجود اکاسمہ کو دیکھنے لگا، جو بےخبر سی اس کی بانہوں میں پرسکون سی سو رہی تھی۔
وہ چونکا تھا۔ اس سے پہلے بھی کافی دفعہ ایسا ہوا تھا کہ اکاسمہ نیند میں چلتی، اس کی بانہوں میں آ کے سوئی تھی اور صبح اٹھ کے اس سے لڑائی بھی کی تھی کہ وہ اس کی بانہوں میں کیا کر رہی ہے۔ وہ اچانک چونکا تھا ۔ دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔
کیا اکاسمہ ٹھیک نہیں ہوئی تھی ؟؟؟
کیا وہ پھر سے نیند میں چلنے لگی ہے ؟؟
نہیں!!!
وہ دونوں نیچے قالین پہ سو رہے تھے جبکہ بیڈ خالی تھا۔ وہ پھر سے اکاسمہ کو بےحد قریب سے دیکھنے لگا۔ بےساختہ اس نے اکاسمہ کے وجود پہ اپنی گرفت مضبوط کی تھی اور اکاسمہ گہری نیند میں، اس کے سینے پہ بازو پھیلا کے، مزید اس کے قریب ہوئی تھی کہ حکان سانس لینا بھول گیا۔ وہ سانس روکے، مسلسل اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا۔
کس قدر حسین لمحہ تھا۔ وہ اس کی بانہوں میں اس قدر قریب تھی کہ اس کے خوبصورت نیم وا لب، اس کے چہرے کو چھو رہی تھی جبکہ اس کی گہری سانسیں، اس کے چہرے اور گردن پہ پڑ رہی تھی۔ وہ تو جیسے بن پیے ہی، اس کے نشے میں بہکنے لگا تھا۔
اکاسمہ کی آنکھیں نیم وا ہوئی تھی اور پھر کسی احساس کے تحت مکمل کھل گئی تھی۔ وہ حیرانی سے حکان کو بےحد قریب سے دیکھ رہی تھی اور پھر نہ جانے کیا ہوا، بےارادہ، حکان نے ان نیم وا لبوں کو، اپنے دہکتے لبوں میں قید کیا تھا۔
اکاسمہ کی آنکھیں پوری کھل گئی، ان دہکتے لبوں کا لمس، وہ آج پہلی بار، اپنے پورے وجود میں اترتا محسوس کر رہی تھی۔ ان بےترتیب سانسوں کی تپش، وہ اپنی سانسوں میں شامل ہوتا محسوس کر رہی تھی۔
جبکہ حکان اس کی پشت کو بھاری ہاتھوں سے سہلاتا، اسے مزید اپنے قریب کر گیا تھا۔ وہ لمحہ لمحہ مدہوش سا ہوتا، جیسے سب بھول چکا تھا۔
اور پھر لمحہ لگا تھا اسے مدہوشی سے ہوش میں آنے تک کے سفر میں۔ وہ بوکھلا کے پیچھے ہوا تھا۔ اکاسمہ کو دیکھتا وہ خوفزدہ سا ہو کے، اٹھ بیٹھا۔ اسے محسوس ہوا جیسے خود پہ اختیار کھو کے، وہ اکاسمہ کی نفرت کو نہیں سہہ پائے گا اب ۔
اکاسمہ پریشان سی اٹھ کے اسے دیکھنے لگی۔ جو نہ جانے کیا سوچتا ہوا، اپنی کنپٹی سہلا رہا تھا۔ اکاسمہ نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔ رات کو وہ جس حالت میں حکان کو دیکھ چکی تھی، اس کے بعد وہ لمحہ بھر کے لئے بھی، حکان کو پریشان یا دوبارہ سے اس حالت میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ وہ شخص جو بھی تھا، اب اسے عزیز ہو چکا تھا۔
” حکان ۔۔۔۔ ؟؟”
وہ چونک کے اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔
” ایم سوری ۔۔۔۔ ایکسٹریملی سوری، میں۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔ پلیز ڈونٹ ہیٹ می اکاسمہ، اب نہیں چھووں گا تمہیں۔۔۔ پلیز میں۔۔ میں ”
وہ تیزی سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا اور حیران و پریشان نظروں سے کمرے کا حال دیکھنے لگا جبکہ اکاسمہ پریشان نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” یہ ۔۔۔ یہ سب ؟؟ م ۔۔۔ میں نے کیا ۔۔۔۔۔ ہے ؟؟”
وہ رات کا سب بھول چکا تھا تبھی اکاسمہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو کے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ اب بےبسی سے اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا۔
” میں۔۔ یہ ۔۔ میں۔۔۔”
وہ اکاسمہ سے نظریں چراتا تیزی سے باتھروم گیا ۔ اکاسمہ بھی لب کاٹتی، اس کے پیچھے ہی آئی تھی۔ اسے اس حالت سے باہر نکالنا تھا اب اکاسمہ نے۔ تبھی جب وہ اس کے پیچھے آئی تو واش بیسن کا پانی کھولے، حکان سامنے لگے مرر میں خود کو دیکھ رہا تھا جب بےساختہ اکاسمہ اس کے پیٹھ سے لگ کے، اس کے وجود کے گرد، اپنی بانہیں باندھ کے، اس کے سینے پہ رکھ دی تھی۔ وہ شاید بھول چکا تھا رات کا منظر اور شاید یہ بھی بھول چکا تھا کہ اکاسمہ نے، اس سے، ان لمحوں میں اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔
حکان حیرت سے، اپنے سینے پہ موجود اس کے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا جبکہ اپنے کندھے اور گردن پہ، اس کی سانسیں محسوس کر رہا تھا۔
اچانک اس کے ذہن میں کچھ سرگوشیوں کی گونج سی ہونے لگی۔
‘ حکان، میں تم سے نفرت نہیں کرتی، میں تم سے محبت کرتی ہوں، میں تمہیں کہیں چھوڑ کے نہیں جا رہی، میں یہیں ہوں تمہارے پاس، تمہارے قریب کیونکہ میں تم سے بےحد محبت کرتی ہوں’

یہ وہ الفاظ تھے، جو اس نے بار بار سنے تھے، وہ یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا لیکن وہ کراہ کے رہ گیا۔ اکاسمہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ واش بیسن کا پانی بند کر کے، وہ اب مسکراتی آنکھوں سے، حکان کو دیکھ رہی تھی پھر اس نے نرمی سے حکان کا ہاتھ، اپنے نازک ہاتھوں میں تھاما تھا اور اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” اب سے، اگر مجھے اگنور کرنے کی کوشش بھی کی تم نے حکان ملک، اور اپنی کسی پرانی فرینڈ سے ہنس کے بات کی تو تمہیں کڈنپ کر لوں گی میں ”
حکان کی آنکھوں میں حیرانی ابھری تھی۔ یہ کیسا اعتراف تھا؟؟ یہ آنکھیں اس قدر بول کیوں رہی تھی؟؟ یہ لب اس قدر مسکرا کیوں رہے تھے ؟؟ کیا ہوا تھا رات کو ؟؟ اتنا کچھ بدل گیا ؟؟
” اکاسمہ میں۔۔۔۔ ”
” ہششش!!!”
اکاسمہ نے اس کے لبوں پہ اپنی شہادت کی انگلی رکھ دی تھی۔ اس کی گردن میں اپنی دونوں بانہیں ڈال کے، وہ اس کے قریب ہوئی تھی۔ اس لمبے مرد کے سامنے، وہ بےحد نازک سی تھی کہ اس کے کندھے تک ہی پہنچ پا رہی تھی لیکن وہ اب اس شخص کے کندھے پہ سر رکھ کے، اس کے کان کی لو پہ سرگوشی کرنے لگی۔

” حکان، مجھے کہنے دو کہ، میں تم سے محبت کرتی ہوں، میں تمہیں کہیں چھوڑ کے نہیں جا رہی، میں یہیں ہوں تمہارے پاس، تمہارے قریب کیونکہ میں تم سے بےحد محبت کرتی ہوں۔ میں ہر اس عورت سے جیلس ہوتی ہوں جو تم سے مسکرا کے بات کرنے کی کوشش کرے یا تمہیں ان نظروں سے دیکھنے کی کوشش کرے، جن نظروں سے تمہیں دیکھنے کا حق صرف مجھے ہو اور میں تمہیں یہ بھی بتا دوں کہ تم مجھے اگنور کر کے، اس عورت سے مسکرا کے بات کر رہے تھے تو میں تم سے ناراض تھی۔ لیکن اب تو مان گئی ہوں، اگلی دفعہ اگر ایسا کچھ ہوا بھی تو دو تھپڑ تمہیں مار کے، تم سے ناراض ہو جاؤں گی اور آسانی سے مانوں گی بھی نہیں “

یہ سرگوشی تو، حکان کے پاگل دل کو، مزید پاگل کر رہی تھی۔ وہ اس سرگوشی کو، اپنے وجود سے ہوتا، اپنی روح میں اترتا محسوس کر رہا تھا۔ اکاسمہ اب اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جبکہ وہ حیران سا اسے دیکھ رہا تھا۔
” روز صبح، دوپہر، سہ پہر، شام، رات، آدھی رات اور اگلی صبح دوبارہ، تمہیں مجھ سے اظہار محبت کرنا ہوگا ورنہ میں نے ناراض ہو جانا ہے ”
” can you bite me please ??”
حکان نے بےساختہ کہا تو اکاسمہ اسے گھورنے لگی۔
” کیوں؟؟”
” محسوس کرنا چاہتا ہوں کہ میں خواب میں ہوں یا حقیقت میں ”
وہ اب بھی حیران سا اسے اپنی بانہوں میں دیکھ رہا تھا جب اکاسمہ نے اس کا ہاتھ تھام کے، اس پہ دانت گاڑ دیے تھے۔

” آؤچ!!”
اس نے تیزی سے ہاتھ پیچھے کر لیے تھے اور ہنستا ہوا اس کا نازک وجود بانہوں میں اٹھا کے، اسے پیچھے دیوار سے پن کر دیا تھا۔
” یہ تو حقیقت ہے۔۔۔ ”
اکاسمہ مسکرانے لگی۔ وہ اس شخص کا خوف جان چکی تھی۔ اسے خوف تھا کہ کہیں اکاسمہ اسے چھوڑ نہ دے، کہیں وہ خوفزدہ نہ ہو جائے اس شخص سے۔ وہ بیمار نہیں تھا لیکن اسے پھر سے بیمار کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی اور وہ اس شخص کو سب سے بچا کے، دوبارہ سے ٹھیک کر دینا چاہتی تھی۔
وہ جانتی تھی کہ حکان اس سے بےپناہ محبت کرتا ہے، پچھلے آٹھ سالوں سے،
وہ اس کی حفاظت کرتا آیا ہے، ہمیشہ اس کے لئے موت سے لڑا ہے تو کیا وہ اکاسمہ پہ اتنا حق نہیں رکھتا کہ اسے چاہا جائے ؟؟ کیا وہ مقروض نہیں ہے حکان کی ؟؟
وہ حکان کا ساتھ دے گی، اس کے ساتھ رہے گی، اسے بےپناہ محبت دے گی کہ اس کے وجود میں جو خلا باقی رہ گئے، وہ اپنی محبت سے اس خلا کو پر کر دے گی۔
وہ جان چکی تھی، خود کو سمجھ چکی تھی کہ وہ حکان ملک سے محبت کرنے لگی ہے اور اسے یقین تھا کہ وہ اس سے بےپناہ محبت کرتی رہے گی۔ اپنی محبت سے وہ حکان کو پھر سے مکمل کر دے گی کہ یہ بیماری اس کے قریب بھی نہ آ پائے۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

اس نے ابھی ناشتہ ختم کیا تھا جب اکاسمہ نے اس کے سامنے، اس کی میڈیسنز رکھ دی۔ وہ چونک کے، نظر اٹھا کے، اکاسمہ کو دیکھنے لگا جو پانی بھرا گلاس بھی اس کے سامنے رکھ چکی تھی۔
” اب سے یہ میڈیسن، کچن کے دراز میں رکھی جائے گی ۔ ”
اس نے پانی کا گلاس حکان کے سامنے رکھا تھا۔ حکان اسے پریشان نظروں سے دیکھنے لگا جب اکاسمہ اس پہ جھکتی، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” اور پھر ایک دن، ہم دونوں مل کے، ان میڈیسنز کو لاک کر دیں گے۔ آئی پرامس ”
ساتھ ہی، اس نے حکان کے چہرے پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا۔ اداس مسکراہٹ لیے، حکان نے، اپنے چہرے پہ رکھے اس کے ہاتھ تھام کے، لبوں سے لگا گیا تھا۔
” تھینک یو ۔ ”
اکاسمہ مسکرا کے، آنکھ ونک کرتی، ٹیبل پہ رکھے میڈیسنز کی طرف اشارہ کر کے، سیدھی ہوئی جبکہ حکان زیر لب مسکراتا، اپنی میڈیسنز لینے لگا۔ اکاسمہ اس کے بال بکھیرتی، ٹیبل پہ رکھے برتن اٹھانے لگی۔

وہ نہیں جانتی تھی کہ یوں اچانک سے، یہ شخص اس قدر دل کے قریب کیوں ہو چکا ہے کہ وہ اس شخص سے لمحہ بھر کے لئے دوری محسوس کر جاتی ہے، وہ بار بار اسے لمس کر کے، اسے اپنے قریب محسوس کرنا چاہتی ہے اور تو اور اسے، اس شخص سے اس قدر رومینٹک وائبز آ رہی ہے۔

وہ زیر لب مسکراتی، ناشتے کے برتن اٹھانے لگی جب اچانک حکان نے، اس کی کمر کے گرد، بازو لپیٹ کے، اسے کھینچ کے، اپنی گود میں بٹھایا تھا جبکہ اکاسمہ پہلے حیرانی اور پھر مسکراتی آنکھوں سے، اسے دیکھنے لگی۔
” صبح سے، مجھے تم سے رومینٹک وائبز آ رہی ہے ”
حکان کے بوجھل لہجے پہ، وہ مسکراتے ہوئے، اس کی گردن میں دونوں بازو حائل کر چکی تھی۔
” مجھے بھی یہی وائبز آ رہی ہے حکان ملک ”
اس اعتراف پہ، حکان حیران ہوا پل بھر کے لئے اور پھر آنکھیں گہری ہوئی تھی۔ وہ محبت میں تھا لیکن اکاسمہ کو کیسے محبت ہونے لگی اس سے۔
” اور ایسا کیوں ؟؟”
اس کا انداز سوالیہ تھا لیکن آنکھیں مسکرا رہی تھی۔ جب اکاسمہ اس کی سوچ کے برعکس، اسکے کان کے قریب جھک کے، اس کے کان کی لو پہ، اپنے لب رکھ کے سرگوشی کرنے لگی۔
” سرپرائز!!”
حکان کی دھڑکنیں بےترتیب ہونے میں، لمحہ بھی نہیں لگا تھا۔ اکاسمہ کی کمر پہ موجود، اس کے ہاتھ کانپ سے گئے تھے اور اس کی گرفت مضبوط ہوئی تھی ۔ وہ بھیگا لمس، اسے مدہوش سا کر گیا تھا جبکہ اکاسمہ اسے دیکھنے لگی۔
” میں خود نہیں جانتی کہ اچانک کیا ہوا حکان، لیکن مجھے اس دن اچانک احساس ہوا کہ میں یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ کوئی دوسری عورت تمہیں ان نظروں سے دیکھے، جن نظروں سے تمہیں دیکھنے کا حق صرف میں رکھتی ہوں۔ میری جگہ لینے کی کوشش بھی کیوں کرے کوئی دوسری عورت، جب میں ہوں اور ۔۔۔۔۔۔۔ کل رات، تمہیں اس حالت میں دیکھ کے، مجھے لگا کہ میں تمہیں کبھی کھونا نہیں چاہتی حکان۔ تبھی تمہارے بار بار منع کرنے کے باوجود بھی، میں تمہارے قریب آ کے، تمہیں بانہوں میں بھر چکی تھی کیونکہ میں ہی وہ وجود بننا چاہتی ہوں ہمیشہ تمہارے لئے، کہ جب بھی تمہیں بےسکونی ہو، تم میرے ہی وجود میں اپنا سکون ڈھونڈو ”
یہ اعتراف، حکان کو معتبر سا کر رہا تھا۔
” میں تمہارے وجود کے ہر خلا کو، صرف خود سے پر کر دینا چاہتی ہوں۔ ”
حکان کبھی حیران ہو رہا تھا،تو کبھی مدہوش، کبھی الفاظ گڈمڈ ہونے لگتے تو کبھی دھڑکنیں بےترتیب ہو جاتی۔
کیا مقابل واقع اکاسمہ تھی ؟؟
وہی اکاسمہ؟؟ کیا واقعی؟؟
” ہاں جانتی ہوں کہ تھوڑی mean لگ رہی ہے میری باتیں لیکن ۔۔۔ میں محبت میں mean ہوں کیونکہ
My Man is mine …
مکمل میرا اور میں مکمل تمہاری۔ ”
” اکاسمہ ۔۔۔ ”
حکان نے اس کی پیٹھ پہ دونوں ہاتھ رکھ کے، اسے مزید قریب کر گیا تھا کہ اس کے نازک وجود کی خوشبو سے معطر سا ہونے لگا وہ شخص۔
” کیا میرے آٹھ سال انتظار کا ثمر اس قدر خوبصورت ہے کہ میں بہک سا رہا ہوں تمہارے ہر لفظ میں۔
You are the woman …
جس کے لیے میں اپنی آخری سانس بھی گروی رکھ دوں۔ ”
” مجھے تمہاری سانسیں گروی نہیں رکھوانی حکان ملک، میں تمہاری ہر سانس، اپنی سانس سے اس قدر پرونا چاہتی ہوں کہ بس عشق کی خوشبو بکھرے ”
حکان پھر سے حیران ہوا تھا تبھی بلکل اچانک وہ کھانسنے لگا جبکہ اکاسمہ ہنستے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
” تمہارا digestive system تھوڑا ویک ہے آئی تھنک ”
حکان ہنس پڑا۔
” ایسے اعتراف کرو گی تم میرا digestive system کیا، میرے سارے systems شاکڈ کی کیفیت میں چلے جائیں گے ”
اکاسمہ نے اس کی ٹائی کی ناٹ تھام کے کھینچی تھی کہ حکان کھنچتا ہوا، اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کی آنکھوں میں اکاسمہ کے لئے گہری محبت تھی جس سے اکاسمہ نظریں چراتی، خود کو پراعتماد دکھانے کی کوشش کر رہی تھی پھر ایڑیوں پہ کھڑی ہو کے، وہ اس کے لبوں کے قریب، اپنے لب لے گئی تھی۔ اپنی سانسیں اس کے لبوں پہ چھوڑتی، وہ اب حکان کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” آفس کے لیے لیٹ ہو رہے ہیں ہم، حکان ملک ”
تیزی سے، اس کی ٹائی چھوڑتی، وہ پیچھے ہو کے، حکان کی گرفت سے دور ہوئی۔
” ارے، ناٹ فئیر ”
حکان اسے تھامنے کے لئے آگے بڑھا تھا جبکہ اکاسمہ ہنستی ہوئی، بیڈ روم میں جا کے بند ہو گئی تھی۔
” اکاسمہ دروازہ کھولو یار ”
حکان نے بیڈ روم کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ یہ کیا!! اکاسمہ اسے رومینٹک وائبز دے کے، اس کی تمام حسیات بیدار کر کے، اب بیڈ روم میں بند ہو گئی تھی کہ بند دروازہ اس کا منہ چڑا رہا تھا جبکہ دروازے کے پیچھے سے، اس کی کھنکتی آواز آنے لگی۔
” مجھے پروپوزل سین چاہئے حکان ملک۔ مجھے پروپوز کرو گے تو ہی میں تمہیں ملوں گی ۔۔۔ ورنہ یہی سب چلتا رہے گا ”
حکان کے دل میں، محبت کی گھنٹیاں جیسے زور سے بجنے لگی تھی۔ وہ تو اس محترمہ کے عشق میں ڈبکیاں مار رہا تھا لیکن اب ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ نئے سرے سے ڈوبنے کا پلان کیے بیٹھا ہے۔
وہ زیر لب مسکراتا بند دروازے کے پیچھے، اس نازک وجود کو، اپنے وجود کے ہر کونے میں محسوس کر رہا تھا کہ اب، اس انوکھے اعتراف کے بعد، تو اکاسمہ سے مزید دور رہنا ناممکنات میں سے تھا۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

” ملکہ تم کب آئی؟؟”
فیاض حیات اپنے مقابل کھڑی ملکہ کو حیرت سے دیکھنے لگا جبکہ ملکہ کا چہرہ بےحد سپاٹ اور آنکھیں بےپناہ سرد تھی۔
” تمہارا ماضی، تمہارے ماضی سے متعلق ہر خبر، ہر مشکل سن کے میں چپ رہی، کہ کوئی بات نہیں بس ماضی ہی تو ہے لیکن تمہارا حال ناقابل برداشت ہے فیاض حیات۔ تم میرے بچوں کے ساتھ کیا گیا کھیل رہے ہو۔ کون ہے یہ کاووس شاہ ؟”
ملکہ کی آواز سرد اور سپاٹ تھی۔ فیاض حیات کہ آنکھوں میں پچھتاوے جنم لینے لگے۔
” میرا ایک بیٹا امریکہ میں ہے، بیٹی نے گھر سے منہ پھیر لیا ہے جبکہ دوسرا بیٹا گھٹن کے احساس سے گھبرا کے، گھر نہیں آتا کیونکہ یہاں تم اور تمہارے گنہگار ماضی کا وہ پلندہ عیش کر رہے ہو۔ ”
وہ آخر میں چلائی تھی جبکہ فیاض حیات نے آگے بڑھ کے، ان کے کندھے تھامنے چاہے تھے جسے ملکہ نے ہاتھ سے جھٹک کے، پیچھے قدم لیے تھے۔
” ملکہ پلیز میری بات سنو، ایسا نہیں ہے۔ مجھے تم سب اکیلا مت چھوڑو پلیز”
” تم نے ہمیں اکیلا کر دیا ہے فیاض۔ میرے برسوں کی محبت کا یہ صلہ ؟؟ تمہارے ہر کیے گناہ سے پردہ پوشی ایک طرف،لیکن میرے بچوں کا حق مار رہے ہو تم اپنے اس ناجائز بیٹے کے ساتھ مل کے۔ نفرت ہو رہی ہے مجھے تم سے،گھن آ رہی ہے تم سے۔ شرم نہیں آئی وہ سب اپنے میڈیا پلیٹ فارم پہ ڈالتے ہوئے ؟؟ ہاتھ نہیں کانپے؟؟؟ کون ہے یہ کاووس شاہ؟؟ ”
وہ اس وقت حد سے زیادہ غصے میں تھی کہ اس کی آنکھیں شرر بار ہو رہی تھی۔
” ملکہ سکون سے میری بات تو سن لو پلیز ۔۔ ”
” مجھے تم سے اب کچھ نہیں سننا فیاض۔ میرے بچے تمہاری پراپرٹی نہیں ہے۔ میری اجازت کے بنا تم پراپرٹی کا بٹوارہ تو کیا، ایک سینٹ بھی ادھر سے ادھر نہیں کر سکتے۔ اپنے اس ناجائز بیٹے کو بھی سمجھا دو ۔ ”
یہ کہہ کے ملکہ وہاں سے جا رہی تھی جبکہ فیاض کانپ کے رہ گئے۔
نہ وہ حقیقت بتا سکتے تھے۔
نہ وہ کسی کو روک سکتے تھے۔
وہ تو بس روبوٹ بن کے رہ گئے تھے جسے ہر کوئی اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کر رہا تھا۔
کوئی اسے سن نہیں رہا تھا۔
نہ اس کی بیوی، نہ اس کے بچے۔
ماضی کے گناہ، ان کے لئے پھانسی کا پھندا بن گئے تھے۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

” وائفی ۔۔۔ Stop undressing me in your mind ”
حکان، جو معمول کے مطابق، آج پھر اکاسمہ کے آفس میں موجود تھا، جب اکاسمہ کی گہری نظریں خود پہ محسوس کرتے، لیپ ٹاپ پہ نظریں جمائے کہنے لگا جبکہ اکاسمہ زیر لب مسکرانے لگی اور آنکھوں میں شرارت تھی۔
” کیوں؟؟ کیا مجھے اجازت نہیں ہے اس کی ؟؟”
حکان دل ہی دل میں ہنس پڑا لیکن نظریں لیپ ٹاپ پہ ہی رکھی ۔
” تو کیا مجھے بھی اجازت ہے ؟؟”
اکاسمہ کی شرارت بھری آنکھوں میں حیرانی آئی تھی جبکہ گال اس کی بات سے سرخ ہونے لگے تھے۔ ناراض سی نظر اس پہ ڈال کے، وہ منہ بسور کے،نظریں پھیر گئی۔ حکان نے ابرو اٹھا کے، شرارت بھری آنکھوں سے، اسے دیکھا۔
” آہمم، آہمم !!”
” میں نہیں سن رہی ۔۔ ”
وہ منہ بنا کے، مکمل سیٹ کا رخ ہی پھیر گئی۔
” اب ڈس از ناٹ فئیر اکاسمہ”
اکاسمہ پھر سے گھوم کے اسے دیکھنے لگی۔
” اب equality ہونی چاہئے ناں۔۔۔ مائنڈ سیٹ اپ ہونا چاہئے ”
حکان کا انداز شرارت بھرا تھا جبکہ اکاسمہ اسے گھورنے لگی۔
” غلطی ہو گئی جو تمہیں ان ڈریس کر دیا، تنگ نہیں کرو ”
حکان مسکراتا،صوفے پہ آرام دہ انداز میں بیٹھ کے، اسے دیکھنے لگا۔ اس کے دیکھنے کا انداز ایسا تھا کہ اکاسمہ کی پلکیں لرز کے جھک گئی۔
” محبت میں، پتہ ہے اکاسمہ؟ بہترین لمس کون سا لمس ہے؟؟”
اکاسمہ سوالیہ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔ جبکہ حکان اسے گھمبیر نظروں میں، محبت لیے دیکھ رہا تھا۔ اپنی جگہ سے اٹھ کے وہ چلتا ہوا، اس کے قریب آیا اور اس کی سیٹ کے اطراف میں، دونوں ہاتھ رکھ کے، وہ ہلکا سا خم ہو کے، اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
” آنکھوں کا لمس ۔۔۔ اور میں تمہیں اپنی آنکھوں سے اس قدر لمس کر چکا ہوں کہ مجھے تم حفظ ہو چکی ہو مکمل۔ ”
اکاسمہ کی دھڑکنیں مدھم پڑ کے تیز ہوئی تھی۔ اس شخص کی مبہم خوشبو، اس کے نتھنوں سے ٹکرائی اور وہ سوچنے لگی کہ اس شخص کا سحر اس پہ طاری ہو رہا ہے۔
لرزتی پلکیں گالوں پہ سایہ فگن ہو کے، اٹھی اور پھر جھکی۔
” اور اب !!!”
وہ بات ادھوری چھوڑ گیا ۔ اکاسمہ پلکیں اٹھا کے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ زیر لب مسکراتا، ابرو اچکا کے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” نئی میموریز بنانی ہے۔ ”
اکاسمہ، بات کی تہہ تک پہنچتے ہی، اپنی دھڑکنیں سننے لگی جس نے تلاطم سا برپا کر دیا تھا اس کے وجود میں، جبکہ حکان نے اس کے چہرے پہ اپنی بہکتی سانسیں چھوڑ دی تھی۔ اکاسمہ آنکھیں موند کے، گہرا سانس لیتی، مسکرانے لگی۔ اس کے گلابی ہوتے گال دہکنے سے لگے جب اسے حکان کے لبوں کا لمس، اپنے کان کی لو پہ محسوس ہونے لگا تو وہ سانسیں ہی روک گئی۔
” اب مجھے زیادہ provoke کرنے کی کوشش بند کردو۔ میں بہت سیریس کام کر رہا ہوں ۔”
اکاسمہ نے تیزی سے آنکھیں کھول دی تھی جبکہ اس کی شرارت بھری آنکھوں کو، وہ لب بھینچے گھورنے لگی۔ وہ مسکراہٹ دباتا پیچھے ہوا تھا۔ صبح کا بدلہ و9 بڑے حسین انداز میں لے چکا تھا۔
” دفع ہو جاؤ اپنے آفس میں ”
جل کے کہتی، وہ اب بھی حکان کو گھور رہی تھی جبکہ حکان کی ہنسی بےساختہ تھی جو مزید جلتی پہ تیل کا کام کر رہی تھی۔
وہ حکان کو گھورتی، لب بھینچے،بیگ اور موبائل لے کے، باہر نکلنے لگی۔
” مجھے اپنے بہت سے کام ہیں۔۔۔ رہو یہیں تم ”
اس سے پہلے حکان اسے پکڑ پاتا وہ آفس سے باہر نکل چکی تھی۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

” عباس، مجھے وجدان ملک کے آفس جانا ہے ابھی،لیکن یہ ہم دونوں کے بیچ رہے گا، حکان کو خبر نہیں ہونی چاہئے”
کورٹ سے باہر آ کے، اکاسمہ عباس سے کہتی، سنجیدہ چہرہ لیے گاڑی میں بیٹھ گئی جبکہ عباس ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ کے حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
” میم، حکان سر مجھ سے ناراض ہو جائے گیں”
اکاسمہ اسے گھورنے لگی۔
” میرا اس اسٹوپڈ آدمی سے آمنے سامنے بات کرنا ضروری ہے ورنہ وہ شخص حکان کو پاگل بنا دے گا۔ کیا تم مجھ سے بہتر نہیں جانتے اس انسان کو۔ اور اگر کچھ ہوا تو میں خود بتا دوں گی حکان کو۔ ”
عباس بےبسی سے اسے دیکھنے لگا جبکہ اکاسمہ گلاسز آنکھوں پہ رکھ کے باہر دیکھنے لگی۔
مطلب یہ تھا کہ مجھے مزید کچھ نہیں سننا۔ اب چلو !!عباس نے بےبسی سے سامنے دیکھتے گاڑی اسٹارٹ کر دی تھی ۔ اب کیا ہونے والا تھا۔ اسے حکان کو بتانا چاہئے تھا۔ تبھی اس نے موبائل اٹھایا ہی تھا جب اکاسمہ کی اواز نے اسے چونکا دیا۔
” میں جانتی ہوں کہ تم حکان کے وفادار ہو تو میرے بھی وفادار رہو عباس۔ میں حکان کی بیوی ہوں اور میں جانتی ہوں کہ میں کیا کرنے جا رہی ہوں۔ اگر میں نے آمنے سامنے بات کر کے، اس شخص کو نہیں روکا تو نہ صرف میں، بلکہ ہم سب حکان کو کھو دے گیں ”
عباس نے خاموشی سے موبائل رکھ دیا تھا۔ اس کا رخ وجدان ملک کے آفس کی طرف تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آفس میں وہ جیسے ہی داخل ہوئی، عباس بھی اس کے پیچھے ہی داخل ہو کے، سائیڈ پہ کھڑا ہو چکا تھا جبکہ اکاسمہ، سپاٹ چہرہ لیے، ٹیبل کے قریب ائی تھی۔ جب وجدان ملک مسکرا کے است دیکھنے لگا۔
” زہے نصیب، زہے نصیب ۔۔۔ آج میری بہو، میرے آفس آئی ہے۔ ”
اکاسمہ نے ہاتھ اٹھا کے، اسے قریب آنے سے روکا تھا۔
” بہو نہیں بلکہ حکان ملک کی بیوی آئی ہے ”
سرد چہرے کے ساتھ ساتھ، لہجہ بھی سرد تھا۔ وجدان ملک لب بھینچ گیا جبکہ نظریں اکاسمہ سے ہوتی، پیچھے دیوار کے ساتھ کھڑے عباس پہ گئی جو موبائل ہاتھ میں لیے، دوسری طرف دیکھ رہا تھا۔
” کیا بات ہے ؟؟ میں تو ویسے بھی کافی دنوں سے تم سے ملنا چاہ رہا تھا۔ اچھا ہے تم خود آ گئی ۔ مجھے تمہیں کچھ بتانا تھا اکاسمہ ”
وجدان ملک کے پراسرار انداز پہ، اکاسمہ کی چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ آئی تھی۔
” کیا بتانا تھا آپ کو وجدان ملک ؟؟”
اس کے انداز پہ وجدان ملک چونکا تھا جبکہ اکاسمہ کی مسکراتی آنکھیں اسے اچھنبے کا شکار کر رہی تھی۔
” میں بتا دیتی ہوں۔۔۔ ”
اس نے اپنے بیگ سے ایک پیکٹ نکال کے، اس کی ٹیبل پہ پھینک دیا، وجدان ملک اچھنبے سے اس پیکٹ کو دیکھتا، ابرو اچکا کے، اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔
” اس میں وہ سارا ریکارڈ موجود ہیں جن کی آپ کو بہت ضرورت ہے۔ آپ کی ایمیلز، جن کے ذریعے حکان ملک کو دھمکانے کی کوشش کی ہے آپ نے۔
فوٹوگرافس، جن میں آپ کو دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سے، پیسے دے کے، حکان ملک کی گمشدہ رپورٹس نکلوائی ہے ہاسپٹل سے۔ ”
وجدان ملک چونکا تھا جبکہ پیچھے کھڑا عباس بھی چونک گیا تھا۔ وہ حیرت سے اکاسمہ کی پشت دیکھ رہا تھا۔ وہ اکاسمہ کو شاید کسی گنتی میں نہیں لے رہا تھا لیکن ۔۔۔۔
” آپ کے signature، جو آپ نے حکان ملک کے اگینسٹ رپورٹس بنواتے وقت کی تھی۔
آپ کے میسجز، کال ریکارڈنگز اور کال ہسٹری۔ بلیک منی ٹرانسفر ہسٹری اینڈ مچ مور۔ ”
” یہ کیا بکواس ہے ”
وجدان ملک، کانپتے ہاتھوں وہ پیکٹ کھول کے دیکھنے لگا اور واقع، اس میں وہ سب مواد موجود تھا جو وہ کہہ رہی تھی۔ جب اکاسمہ دو قدم چل کے، اس کے قریب ہوئی تھی۔
” نام تو سنا ہوگا۔ مجھے لائیر اکاسمہ حکان ملک کہا جاتا ہے۔ کرائم کیسز کو ہینڈل بہت اچھے سے کر لیتی ہوں میں۔ evidence ڈھونڈنا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور crime کو جانچ لینا میرے دائیں ہاتھ کا کھیل۔
اگر آئندہ سے میرے شوہر حکان ملک کو، کسی بھی حوالے سے، تنگ کرنے کی کوشش بھی کی تو تمام proofs, evidence, crime scenes کے ساتھ، اپ سے ملاقات کورٹ میں جج کے سامنے ہوگی۔ اور اتنا تو آپ بھی law کو جانتے ہیں کہ ان سب کرائمز کی سزا کیا ہوتی ہے۔ ۔۔۔ ایڈووکیٹ وجدان ملک !!!”

وجدان ملک خاموش ہو چکا تھا۔ وہ خوفزدہ نظروں سے اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا جو مسکراتی آنکھوں سے، قدم قدم پیچھے ہو رہی تھی۔
” اوکے تو فاڈر ان لاء، آپ کے ساتھ کافی پھر کبھی۔۔ فی الحال مجھے دیر ہو رہی ہے۔ ”
عباس تحسین بھری آنکھوں سے اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا۔ حکان ملک کی بیوی تھی وہ اور حکان ملک کی بیوی کو ایسا ہی ہونا چاہئے۔
اس نے تیزی سے دروازہ کھول دیا تھا، اکاسمہ اسے ایک نظر دیکھتی آفس سے باہر نکلی تھی جبکہ عباس وہاں پہ، اپنے موبائل میں کی ہوئی ساری ریکارڈنگ حکان ملک کو send کر کے، خود بھی تیزی سے باہر نکلا تھا ۔

” میم اکاسمہ، یہ سب !!! ”
وہ حیرانی سے، اکاسمہ کے ساتھ چلتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ وہ واقع حیران تھا۔ اکاسمہ نے وجدان ملک کو چپ کرا دیا تھا۔
” وجدان ملک کو چپ کروا دیا آپ نے، unbelievable ”
اکاسمہ نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکائے تھے۔
” ابھی تو بس آغاز ہے ۔۔ دیکھو اب کہ وہ کرتا کیا ہے ”
عباس زیر لب مسکراتا، اسے دل ہی دل میں سراہنے لگا۔
حکان ملک، اس کا باس ہے، جس کے لئے وہ محبت اور احترام رکھتا ہے جبکہ اکاسمہ نے یہ ثابت کر دیا تھا آج کہ وہ حکان ملک کے لئے، بہترین ہے ۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *