Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 24

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 24

” یہ سب کیا ہے ازمائر ؟؟”
شام کے دھندلے سائے پھیلے رہے تھے۔ شہر کراچی آہستہ آہستہ تاریکی میں ڈوب رہا تھا ۔ ارد گرد روشنیاں جگمگا رہی تھی جو اس تاریکی کو کم کرنے کے لئے تھی جبکہ یہاں اس آفس کے 12th فلور پہ دونوں موجود تھے۔ وہ اور ازمائر شاہ۔ وہ بےحد حیران تھی، آنکھوں میں حیرانی لیے وہ کبھی ازمائر شاہ کو دیکھتی سوال کر رہی تھی۔
” ایک خوبصورت سا پروپوزل مے بی ”
ازمائر دلکشی سے مسکراتا کہنے لگا جبکہ اس کی آنکھیں مزید حیران ہوئی تھی۔
” تم مجھے پروپوز کر رہے ہو ؟؟”
” یس، اپنے آفس کے سب سے اونچے فلور پہ، اس نیلے آسمان کے نیچے کھڑا، پورے شہر کراچی کو گواہ بنا کے،میں تمہیں پروپوز کر رہا ہوں رائٹر مسفرہ ۔۔۔ ”
مسفرہ خوشگوار حیرت آنکھوں میں لیے، ہنس پڑی تھی جبکہ ازمائر شاہ اسے پیچھے، اس فلور کی چھوٹی سی دیوار سے پن کرتا، اس کے دونوں اطراف پہ اپنے ہاتھ رکھ کے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” اپنی گمشدہ زندگی، چھین کے واپس لے چکا ہوں، اپنے انتقام کا ہر پتہ بھی استعمال کر چکا ہوں اور اب جب زندگی میں اس قدر سکون ہے تو چاہتا ہوں کہ میری اس پرسکون زندگی کا حصہ بنا لوں تمہیں۔ ”
کس قدر سرد اور اجنبی سا لہجہ تھا اس پل ازمائر شاہ کا، مسفرہ عجیب نظروں سے، اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ آج بےحد اجنبی لگ رہا تھا۔
” تو مسفرہ، کیا یہ ممکن ہے کہ ہم شادی کر کے، ایکدوسرے کی قسمت کا ستارہ بن جائے ؟؟”
وہ اب مزید قریب ہوا تھا مسفرہ کے، کہ مسفرہ کو لگنے لگا اگر وہ مزید پیچھے ہوئی تو اس بارہ منزلہ عمارت سے نیچے گر جائے گی ۔
” از ۔۔۔۔ مائر ش ۔۔۔۔ شاہ ”
” آواز کیوں کانپ رہی ہے تمہاری مسفرہ ؟”
وہ ہاتھ کی پشت، اب مسفرہ کے گال پہ پھیرنے لگا جبکہ مسفرہ کی دھڑکنیں بڑھی تھی۔ اسے نہ اچھا محسوس ہو رہا تھا نہ برا، اسے بس عجیب محسوس ہو رہا تھا۔
” ن ۔۔۔ نہیں تو ”
پیچھے دیکھنے کی کوشش کرتی، وہ پھر سے بولی تھی۔
” ڈر رہی ہو تم ؟؟”
مبہم سرگوشی پہ، وہ ازمائر شاہ کی مسکراتی آنکھوں میں دیکھنے لگی جو مسلسل مسفرہ کی ہر حرکت کو زیر نظر لیے ہوئی تھی۔
” تم ازمائر شاہ ہو ؟؟”
بےساختہ سا سوال تھا جو بےساختہ اس کے لبوں سے ادا ہوا تھا ۔
” نہیں۔ ”
ازمائر شاہ نے بلکل اچانک جواب دیا اور اب کے مسفرہ کی آنکھوں میں خوف ابھرا تھا۔
” تو ؟؟”
ازمائر شاہ زیر لب مسکراتا اسے بازوؤں میں اٹھا کے، اس چھوٹی سی دیوار کے دہانے پہ بٹھا چکا تھا اور اب مسکراتی آنکھوں سے، اس کے چہرے پہ پھیلتے خوف کو دیکھ رہا تھا۔
” میں وہی سیریل کلر ہوں جو ہر دوسرے دن اس کراچی کی کسی نہ کسی عورت کو قتل کر دیتا ہے ”
کا قدر سرد اور کھردرا لہجہ تھا مقابل کا۔ مسفرہ کو اپنی سانس رکتی محسوس ہوئی تھی۔
” ازمائر شاہ تو بس ایک ڈرامہ ہے، ایک اینٹرٹینمنٹ، تمہیں اپنے جال میں پھنسانے کا ناٹک ۔۔۔ دا گریٹ ازمائرہ شاہ ”
مسفرہ سانس لینا بھول گئی تھی۔ اسے اپنا آپ ہوا میں تحلیل ہوتا محسوس ہونے لگا۔ اردگرد کیا ہو رہا ہے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ پاتال میں تہہ در تہہ گر رہی ہے۔ آنکھوں میں آنسو منجمد ہو گئے تھے۔ اسکے پورے وجود پہ خوف کا بسیرا تھا۔
” لکھتی ہو ناں تم۔ رومینس لکھتی ہو، الفاظ لکھتی ہو، احساسات لکھتی ہو، انسانوں کو لکھتی ہو۔ مجھے کبھی نہیں لکھا تم نے ”
مبہم سرد سرگوشی۔ مسفرہ نے آنکھیں بند کر کے، خود کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ خواب ہے، اس کے لب نیم وا ہوئے تھے جن کو ازمائر شاہ نے بےحد دلچسپی سے دیکھا تھا۔
” اچھی لگتی ہو مجھے تم، بےحد اور بےپناہ ”
آواز کسی ہتھوڑے کی مانند، اسے اپنے اعصاب پہ پڑتے محسوس ہوئے تھے لیکن وہ منجمد رہی۔
” آنکھیں کھولو مسفرہ، میں تمہارا کوئی بھیانک خواب نہیں بلکہ ترسناک حقیقت ہوں۔سامنا کرو میرا ”
مسفرہ کے ہاتھ سختی سے ایکدوسرے میں پیوست ہوئے تھے۔ آنکھوں کے سامنے سارے منظر چلنے لگے۔ لاک اپ میں ازمائر شاہ سے ملنا، اس کی مدد کرنا، اس کے لئے وکیل ارینج کرنا، لائبریری میں سامنا ہونا، شاپنگ مال میں، وہ ازمائر شاہ کے لئے پھول لے کے گئی تھی۔ سب مناظر اس کی آنکھوں میں آنسو بھرنے کا سبب بنی تھی اور آنسو بند توڑ کے، اس کے گالوں پہ،لکیر کی صورت بہے تھے جن کو ازمائر شاہ نے آگے بڑھ کے، اپنے لبوں پہ چنے تھے۔ مسفرہ اس لمس پہ، تیزی سے آنکھیں کھول کے، اسے دیکھنے لگی۔ اس میں ہمت نہ تھی کہ وہ دونوں ہاتھوں کا دباؤ، ازمائر شاہ کے سینے پہ ڈال کے، اسے خود سے دور کر سکے۔
” میں تم سے بےپناہ محبت کرتا ہوں مسفرہ، بےپناہ لیکن میری فطرت میں نہیں کہ میں کسی عورت کو اپنی کمزوری بناؤں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ دنیا والوں کے ہاتھ میری کوئی کمزوری لگ جائے اور وہ سب مل کے، اس کمزوری کا فائدہ اٹھائے۔ اس لئے ۔۔۔۔۔ ایم سوری ”
اس کی آنکھوں میں عجیب تاثر ابھرا تھا اور بےساختہ مسفرہ کو پیچھے دھکا دیتے، اپنے ہاتھ پیچھے کر لیے تھے لیکن سیکنڈ کا کھیل تھا جب ازمائر نے اسے پھر سے تھام کے، اپنے بازوؤں کے حصار میں لیے، نیچے اتارا تھا۔آنکھیں بند کیے،مسفرہ خوف سے چیخ رہی تھی جبکہ ازمائر شاہ نے اسے خود لگا کے، اپنے بازوؤں کے نرم گھیرے میں، اسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“ہشششششش مسفرہ ، مذاق تھا یار، پلیز ریلیکس ۔۔۔ مسفرہ ”
اس کے کانوں میں نرم سرگوشی تھی اب، وہی ازمائر تھا اب۔ جس سے بلکل اچانک مسفرہ کو محبت ہو گئی تھی۔کچھ دیر پہلے کا ازمائر اب منظر سے غائب ہو چکا تھا۔ پلکوں کی بار پہ، اب کچھ دیر پہلے کا منظر دھندلا گیا تھا لیکن ۔۔۔۔۔۔ کانپتے دل کے ساتھ اس نے آنکھیں کھولی تھی۔ ‘ اوہ’
وہ ازمائر شاہ کے سینے سے لگی ہوئی تھی، اس کے گرد ازمائر شاہ کے مضبوط بازوؤں کا گھیرا تھا۔ وہ چھوٹی دیوار، اب فاصلے پہ تھی اس سے۔ دھندلائی آنکھوں سے، وہ دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔کوئی تھا اس چھوٹی سی دیوار پہ بیٹھا ہوا تھا جو مسکراتی، سرخ ہوتی آنکھوں سے، اسے دیکھ رہا تھا۔ پلکیں جھپک کے، اس نے پھر سے دیکھنے کی کوشش کی۔ وہاں تھا کوئی، اب بھی وہ مسکرا رہا تھا ۔
وہ بوکھلا کے چیخی تھی اور ازمائر کو دھکا دیتی، خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرتی پیچھے ہوئی تھی جبکہ نظریں مسلسل اس دیوار پہ تھی۔ آنکھوں میں خوف تھا۔سانسیں تیز رفتاری سے چلنے لگی تھی جبکہ پورا وجود کانپ رہا تھا ۔
” مسفرہ ۔۔۔ ”
ازمائر تیزی سے قریب ہوا تھا۔
” وہ۔۔۔۔۔وہ ”
ہاتھ سے وہ اشارہ کرنے لگی۔ ازمائر شاہ نے بھی بےساختہ دیکھا تھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔ اس نے پھر سے مسفرہ کو دیکھا تھا جو ابھی بھی وہیں دیکھ رہی تھی اور بےحد خوفزدہ تھی وہ۔۔
” مسفرہ کیا ہوا ہے؟؟ مذاق تھا یار، تنگ کر رہا تھا،چلو یہاں سے چلتے ہیں۔ ”
مسفرہ نے اسے پھر سے دھکا دیتے،خود سے دور کیا تھا۔
” دور رہو سائیکو ”
وہ زور سے چیختی، پیچھے ہوئی تھی ۔ سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام کے، خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
” مسفرہ ایم سوری ۔۔۔۔ دیکھو میں بس ”
” مذاق کر رہے تھے ۔ ”
مسفرہ اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ لب بھینچ کے، خاموش ہو گیا۔
” مذاق ؟؟؟ ”
وہ ہنسنے لگی۔
” اچھا مذاق تھا ازمائر شاہ۔ میری زندگی، میری فیلنگز اور مجھ سے کھیلنا، اچھا مذاق تھا ”
غصے سے پھنکارتی، وہ سر جھٹک کے، وہاں سے جانے کے لئے مڑی جب ازمائر نے آگے بڑھ کے ، اس کا بازو تھام لیا لیکن وہ جھٹکے سے دور ہو کے، بےحد زور سے چیخی تھی۔
” ہاتھ مت لگانا مجھے تم۔ ۔۔۔۔ ”
اس کی سانس تک پھول گئی تھی ازمائر کو اپنی اس گھٹیا حرکت کا اب احساس ہوا تھا لیکن اب کیا فائدہ۔ مسفرہ کو خود سے بدگمان کرچکا تھا وہ۔ مسفرہ جا رہی تھی۔ ازمائر بھی اس کے پیچھے جانے لگا۔
” میرے پیچھے آنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں ازمائر شاہ ”
وہ یونہی چلتے ہوئے چلائی تھی ۔
” ہاتھ نہیں لگا رہا تمہیں مسفرہ ۔ ساتھ چل رہا ہوں بس ”
ایلویٹر میں داخل ہوتے ہی، اس نے بٹن پش کیا تھا جبکہ سرد آنکھوں سے، وہ ازمائر شاہ کو دیکھنے لگی۔
” اندر آنے کی کوشش بھی کی تم نے، تو میں خود کو نقصان پہنچانے میں سیکنڈ نہیں لگاؤں گی ”
ازمائر شاہ لب بھینچے رک گیا اور آنکھوں میں بےبسی لیے، مسفرہ کو دیکھنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایلویٹر کا دروازہ بند ہو گیا تھا اور یہاں ازمائر شاہ کو محسوس ہوا کہ جیسے، اس سے، اسکی مکمل زندگی کو چھین لیا گیا ہو۔ مسفرہ اس کی مسیحا تھا اور پھر محبت بن گئی لیکن آج کچھ لمحے پہلے، اس نے مسفرہ کو کھو دیا۔

《《《《《《《《¤¤¤¤¤¤¤》》》》》》》

” ہیلو عاریز ، ہاں۔۔۔ کہاں ہو تم ؟”
اکاسمہ مصروف سے انداز میں، اپنے بال کان کے پیچھے اڑستی، مصروف سے انداز میں پوچھ رہی تھی جبکہ نظریں مسلسل سامنے رکھی ہوئی فائل پہ تھی اور اس بات سے بےخبر کہ سامنے بیٹھا، دنیا کا خطرناک ہیکر اسے ہی نظروں کے حصار میں لیے ہوا ہے۔ جس قدر خطرناک سہی، لیکن یہاں، اکاسمہ کے سامنے وہ ہمیشہ خود کو بےبس ہی محسوس کرتا۔
” صفا کے مرڈر کیس پہ ریسرچ ”
عاریز کے جواب پہ اس نے آنکھیں گھمائی ۔
” مجھے دور رکھ کے، خود یہی کام کرتے ہو ”
” تو میں نہیں چاہتا کہ میری معصوم سی بیوی کو کوئی نقصان پہنچائے ”
عاریز کی نظریں مسلسل اس بیسمنٹ کے ارد گرد گھوم رہی تھی جبکہ بات وہ اکاسمہ سے کر رہا تھا۔
” مجھے بھی لے جایا کرو کرائم سینز پہ ۔ ”
اکاسمہ نے منہ بسور کے، پین فائل پہ پھینکتی، اپنی آنکھیں آہستہ سے سہلائی تھی۔
” نافرمانی کا نتیجہ بھی بھگتنا پڑا تھا تمہیں ۔
If you remember ”
عاریز کے یاد دلانے پہ وہ کھل کے مسکرائی تھی۔
” ہاں تم مل گئے ”
سامنے بیٹھے حکان نے لب بھینچ لیے تھے۔
” کام کر رہا ہوں، آپ کی اجازت ہو تو ”
عاریز کی نظر ایک دیوار پہ ٹھہر گئی تھی اور اکاسمہ کا جواب سنے بغیر اس نے،کال ڈسکنیکٹ کر کے موبائل پینٹ پاکٹ میں رکھ لیا جبکہ اکاسمہ نے حیران آنکھوں سے موبائل کو دیکھا اور پھر سر جھٹک کے، موبائل ٹیبل پہ پھینکتی، سر جھٹک گئی۔
” کیا ہوا اکاسمہ ؟”
” ہہ؟؟ کچھ نہیں ”
حکان کے سوال پہ بھی سر جھٹک کے وہ خاموش رہی۔ کافی دنوں سے وہ نوٹ کر رہی تھی کہ عاریز کا رویہ غیر عادی سا بن چکا تھا اس کے لئے۔ ہر بار وہ نظرانداز کر دیتی لیکن ابھی اسے عجیب سا محسوس ہوا جب اس کا جواب بنا سنے، عاریز نے کال ڈسکنیکٹ کر دی۔ دروازے پہ دستک ہوئی اور دونوں کی نظر دروازے کی طرف اٹھی جہاں سے ذاکر خان اندر آیا تھا۔
” معذرت چاہتا ہوں میم ، میں اپنے کیس کے سلسلے میں آیا ہوں ”
حکان نے گہرا سانس لیتے، جبڑے بھینچ لیے تھے جبکہ ذاکر کی مسکراتی آنکھیں اکاسمہ پہ تھی۔ ہاتھ میں آیا شکار، اب کے وی آسانی سے کہاں جانے دے سکتا تھا تبھی حکان کے قریب رکھی کرسی پہ، وہ مسکرا بیٹھ چکا تھا۔
” بتائیے پلیز ”
اکاسمہ اس کی طرف سنجیدگی سے متوجہ ہو چکی تھی۔
” میری بیوی کا مرڈر ہو گیا ہے ”
اسنے بلکل اچانک کہا اور اکاسمہ چونک کے، اسے غور سے دیکھنے لگی۔
” کب ؟؟”
” دو ہفتے پہلے۔ ایک آدمی میرے گھر پہ آیا، مجھے رسیوں سے باندھ کے،میری آنکھوں کے سامنے ہی، میری بیوی کے کپڑے پھاڑ دیے، م ۔۔۔ میری بیوی کے ساتھ ۔۔۔۔”
خاموش ہو کے اس نے حکان کو دیکھا تھا جو مکمل مڑ کے، ماتھے پہ بل ڈالے، اسے دیکھ رہا تھا۔ ذاکر خان پھر سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔
” غلط حرکتیں کرتا رہا، اس کے جسم پہ اپنی وحشتیں پھیلاتا رہا، میری بیوی کو نوچتا رہا، میری آنکھوں کے سامنے میری بیوی کا ریپ کرتا رہا، وہ کراہتی رہی اور وہ شخص ۔۔۔۔ ”
” او بس ”
حکان نے بلکل اچانک غصے سے اس کی بات کاٹی تھی۔
” بیوی کی آپ بیتی سنانے بیٹھ گئے تم یہاں۔ لائیر اکاسمہ کریمنل کیسز ہینڈل نہیں کرتی ”
اکاسمہ شاک کی کیفیت میں دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ ذاکر کی باتوں سے، اس کا دماغ سن ہو گیا تھا۔
” میں چلاتا رہا، چیختا رہا۔ خود کو کھولنے کی کوشش کرتا رہا لیکن بےسود، وہ شخص میری بیوی کے جسم پہ عیاشی کر لینے کے بعد، اب اسے زخمی کر رہا تھا، تیز دھار چاقو سے اب اسے نوچ رہا تھا کہ خون رسنے لگا میری بیوی کے جسم کے ہر حصے سے، وہ چلاتی رہی ۔۔۔ چیخ رہی ۔۔۔۔ ”
ذاکر اب بھی اکاسمہ کی طرف دیکھتا کہہ رہا تھا جب اکاسمہ کو اس کی آنکھوں اور لہجے سے جھرجھری سی ہوئی تھئ۔ ۔
” خاموش ہو جائیے مسٹر ۔۔”
اکاسمہ نے بلکل اچانک کہا تھا کیونکہ اس کا لہجہ، اس کی آنکھیں، اسکے الفاظ عجیب محسوس ہو رہے تھے اس وقت اکاسمہ کو لیکن ذاکر خان نہ خاموش ہوا اور نہ چپ۔ اکاسمہ نے بےساختہ حکان کو دیکھا تھا جو جبڑے بھینچے اس شخص کو سرد آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور بلکل اچانک ذاکر خان کی بولتی بند ہو گئی تھی جب حکان نے ہاتھ کا مکہ بنا کے، زور سے، اس کے منہ پہ مارا تھا۔ وہ کرسی سمیت پیچھے جا گرا تھا ۔
” حکان ۔۔۔”
اکاسمہ تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی جبکہ حکان اب اس شخص پہ جھکا، اس کے منہ پہ مکوں کی بارش کر رہا تھا۔
” اکاسمہ کہہ رہی ہے کہ خاموش رہو تو خاموش رہو۔ کیا بیوی نامہ اسٹارٹ کیا ہوا ہے تم نے۔بیہودہ، سائیکو انسان ۔۔۔۔ یوزلیس”
ہر مکے ساتھ، حکان کی سرد آواز گونج رہی تھی ۔ اکاسمہ تیزی سے اس کے قریب آ کے، اس کا بازو کھینچنے لگی۔
” حکان چھوڑو اسے، حکان پلیز اسٹاپ ۔۔۔ حکان ”
لیکن حکان سن کب رہا تھا اس کی سرد آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔ وہ شخص کیسے اکاسمہ کو مینٹلی ٹارچر کر سکتا ہے۔ اکاسمہ ذاکر کا خون سے لت پت ہوتا چہرہ دیکھنے لگی۔
” وہ مر جائے گا حکان ، اسٹاپ ”
” اسے مرنا ہوگا اکاسمہ ۔ ”
حکان کی سرد آواز نے اسے پریشان کر دیا تھا جب دروازہ کھلا اور گارڈز اندر آئے تھے۔
“میم ۔۔۔ ”
اکاسمہ نے جلدی میں ٹیبل کے نیچے موجود الارم بجا دیا تھا اور تبھی باہر موجود دونوں گارڈز الرٹ ہو کے اندر آئے تھے۔ حکان کی گرفت سے، زخمی ہوئے ذاکر خان کو چھڑوا کے، وہ اب اسے اپنے ساتھ لے جا رہے تھے ۔
” آپ ٹھیک ہے سر ؟؟”
ان میں سے ایک حکان سے پوچھ رہا تھا۔ پھولی سانسوں کو ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
” اینی تھنگ ایلس میم ؟”
وہ گارڈ اب اکاسمہ سے پوچھ رہا تھا تو وہ نفی میں سر ہلا گئی۔ وہ جا چکا تھا جبکہ حکان اب اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا جو اسے دیکھنے سے گریز کر رہی تھئ۔
” اکاسمہ ۔۔۔ ”
اکاسمہ نے ہاتھ اٹھا کے، اسے کچھ کہنے سے روکا تھا۔
” اکاسمہ ایم سوری ۔۔۔ میں ”
حکان نے پھر سے کہنے کی کوشش کی تھی ۔
” جاؤ یہاں سے ۔۔۔ جاؤ ”
اکاسمہ مکمل رخ موڑ چکی تھی جبکہ حکان بےبسی سے اس کی پیٹھ دیکھتا رہا اور پھر سر جھٹک کے، وہ آفس سے باہر نکلا تھا جبکہ اکاسمہ گہرا سانس لیتی کرسی پہ ڈھے گئی تھی۔

‘ تم اکاسمہ کے ساتھ یہ سب کرو گے اور میں تمہیں معاف کر دوں گا ۔ بلڈی باسٹرڈ ‘

ماضی کی جھلک اس کی آنکھوں کے سامنے آ ٹھہری تھی جب یونیورسٹی گراؤنڈ میں وہ لڑکا، خون میں لت پت پڑا، حکان کی مار کھا رہا تھا۔
” اوہ گاڈ ۔۔۔ ”
اس نے اپنا سر تھام لیا تھا۔ عاریز کا کچھ دنوں سے عجیب رویہ، یہ شخص ذاکر خان کی باتیں اور پھر حکان کی یہ حرکت۔ اسکا دماغ سن ہو چکا تھا۔ اسے اس وقت سکون کی ضرورت تھی جو آفس کے اس کمرے میں مفقود تھی۔ وہ تیزی سے اٹھ کے، اپنا بیگ اور موبائل اٹھا کے، آفس کا دروازہ کھول کے باہر نکلی تھی۔ نظر حکان سے ملی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اور پھر نظر چرا کے، وہ تیز تیز قدم اٹھاتی وہاں سے جانے لگی ۔ حکان نے لب بھینچ لیے تھے۔ اس وقت اسے اکاسمہ پہ غصہ بھی آ رہا تھا اور فکر بھی ہو رہی تھی۔ اکاسمہ ایک بار سیریل کلر کے ہاتھ سے نکل چکی تھی تو کیا وہ اتنی آسانی سے اکاسمہ کو جانے دیتا۔ اکاسمہ کی جان کو ہر طرح سے خطرہ تھا یہ بات ذہن نشین کر چکا تھا وہ۔تبھی تیز قدم اٹھاتا، وہ بھی اسی طرف جا رہا تھا جہاں اکاسمہ گئی تھی۔

!《《《《《《《《》¤¤¤¤¤¤¡》》》》》》

کل شام سے، وہ جب سے گھر آئی تھی اس کے دل و دماغ میں ایک جنگ سی چل رہی تھی۔ ازمائر کے کالز کو وہ اگنور کر رہی تھی۔اس کے وائس میسجز کو سنے بغیر ہی ڈیلیٹ کر رہی تھی۔ ازمائر اس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے ؟؟ اس قدر خوفزدہ اسے کیسے کر سکتا ہے ؟؟ وہ کوئی گیم ہے کیا ؟؟ کوئی اینٹرٹینمنٹ؟؟ جو اسے خوفزدہ کر کے، وہ مزے لے رہا تھا۔ کیسے کر سکتا ہے وہ ؟؟
اس وقت بھی کلینک میں بیٹھی، انہی سوچوں میں گم تھی۔ لب بھینچے وہ میز کی سطح کو گھور رہی تھی جبکہ ہاتھ کی انگلیوں میں موجود پین کو، بار بار اپنی انگلیوں کے بیچ گھما رہی تھی۔ جب نظر بےساختہ سامنے اٹھی اور وہیں ٹھہر گئی۔ وہاں کوئی اور نہیں، بلکہ ازمائر شاہ پھولوں کا بوکے لیے کھڑا تھا۔ وہ لب بھینچ گئی۔ ہاتھ کی انگلیوں کے بیچ گھومتا پین رک گیا۔ آنکھوں میں حیرانی بڑھی تھی ۔
ازمائر شاہ چلتا ہوا قریب آنے لگا جب مسفرہ تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔
” وہیں رہو ”
وہ چلائی تھی جبکہ نظریں ادھر ادھر گھوم رہی تھی جیسے کسی چیز کی تلاش ہو اسے۔ نظر پیچھے ٹیبل پہ رکھے سرنج پہ پڑی تو تیزی وہی اٹھا کے، اب اسے دیکھنے لگی ۔ آنکھوں میں خوف، غصہ اور حیرانی تھی جبکہ مقابل کی آنکھوں میں بےیقینی تھی، حیرت تھی، بےچینی تھی۔
” مسفرہ ”
اس کے لب ہلے تھے۔ جب اس ایک لفظ سے ہی، مسفرہ کے دل کی دنیا میں ہلچل مچا گئی تھی۔ یہ تو وہی شخص ہے، جس سے وہ بےاختیاری میں محبت کا مرتکب ہوئی تھی۔ سرنج اس کے ہاتھ سے نیچے گرا تھا جبکہ وہ سر جھٹک گئی۔ نظریں بھی رخ پھیر گئی۔
” مجھے پیشنٹ کو دیکھنے جانا ہے ”
وہ تیزی سے ٹیبل کے سائیڈ سے ہو کے، باہر جانے کا سوچتی، آگے بڑھی تھی جبکہ بلکل اچانک، اس کی کلائی تھام کے، اسے اپنی طرف کھینچتا، اس کی کمر تھام کے، اسے اپنے قریب کر گیا تھا کہ پل بھر کے لئے، مسفرہ سانس لینا بھول گئی جبکہ ازمائر شاہ کی گرم سانسیں، اس کے چہرے کو بےحد قریب سے چھو گئی تھی۔
دونوں ہی ایکدوسرے کے مقابل تھے۔ مسفرہ کا ہاتھ، اس کے سینے پہ تھا جبکہ حیران سی آنکھیں ازمائر شاہ کی گہری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ رکی ہوئی سانس آہستہ آہستہ بحال ہونے لگی جبکہ ازمائر شاہ کی نزدیکی، اس کے چہرے کو چھوتی، ازمائر شاہ کے گرم سانسوں کی تپش، اسے پگھلا رہی تھی۔ اس کا ذہن بس ایک ہی نقطے میں الجھ رہا تھا کہ میں محبت کا مرتکب ہوئی ہوں اس شخص سے۔ لیکن کس شخص سے ؟؟ ازمائر شاہ کون ہے ؟؟ ایک گیمر؟؟ ایک وکٹم؟؟ یا کوئی بہت مکار خلاف کار ؟؟
وہ تھک کے آنکھیں موند گئی کہ سوچنے، سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں بچی تھی اب اس میں۔
” کیا معافی کی بلکل گنجائش نہیں ہے مسفرہ؟”
وہ مبہم سرگوشی کر رہا تھا۔ مسفرہ نے آنکھیں کھولنے کی کوشش نہیں کی، آہستگی سے سر ازمائر کے کندھے پہ ٹکا دیا کہ جیسے بےحد تھکن ہو۔ وہ جو غصہ تھا، سارا جھاگ کی طرح بیٹھ چکا تھا، اب وہاں اس کے وجود میں سکون کا راج تھا۔
” مجھے معاف کر دو مسفرہ پلیز۔ میں بس ۔۔۔۔ ”
مسفرہ اس کے لبوں پہ ہاتھ رکھ گئی اور اس کے کندھے سے سر اٹھا کے، اب اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” تم میری کمزوری نہیں ہو ازمائر شاہ اور نہ کبھی رہے ہو ۔۔۔ ”
اس کے لہجے میں عجیب یاسیت تھی۔
” لیکن کیا ؟؟ اگر میں تمہیں سیریل کلر سمجھ بیٹھوں؟؟ اگر میں یقین کر لوں کہ تم ہی سیریل کلر ہو ؟؟ تو ؟؟ نفرت نہیں کر پاؤں گئ کبھی تم سے لیکن ۔۔۔ ”
وہ رک کے، مسلسل اسے ہی دیکھ رہی تھی جبکہ ازمائر اس کے باقیماندہ الفاظ سننے کا منتظر تھا۔
” تمہیں خود قتل کرنے سے گریز نہیں کروں گی کبھی ”
سپاٹ لہجے میں کہتی وہ لب بھینچ گئی جبکہ ازمائر کی آنکھیں حیران ہوکے، اب مسکرانے لگی تھی۔
” اور اگر آگے جا کے، یہ معلوم ہو جائے تمہیں کہ میں تو وہ سیریل کلر ہوں ہی نہیں، وہ تو کوئی اور ہے تو ؟؟” ۔
ازمائر مسکراتی آنکھوں سے سرگوشی کر رہا تھا۔
” تو میں اسی لمحے اپنی سانسیں ختم کر دوں گی ازمائر شاہ ”
ازمائر کی آنکھوں میں حیرانی اتر آئی تھی جبکہ مسفرہ اپنا جواب دے کے، سپاٹ نظروں سے، اسے دیکھ رہی تھی اب۔
” کیوں؟؟”
ازمائر کے لبوں سے سوال ادا ہوا تھا۔
” کیونکہ محبت اور نفرت کے بیچ اتنا فرق تو ہونا چاہئے ۔ بھرم تو رہ جائے گا محبت کا ”
مسفرہ نے بنا کچھ سوچے، جواب دیا تھا۔
” محبت میں تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مقابل اگر گنہگار بھی ہو تو تب بھی محبت کا بھرم رکھنے کے لئے، اسے اس کے گناہوں سمیت، اپنا لیا جاتا ہے ” ۔
ازمائر کے جواب پہ، مسفرہ ہلکا سا مسکرائی تھی۔
” شرط بس یہ ہے کہ محبت میں، مقابل کھڑا وہ شخص صرف تمہارا ہو، ہر دوسری، تیسری عورت کے جسم سے نہ کھیلتا ہو۔ کیونکہ ریپ اور پھر قتل اس کی فہرست میں آتے ہیں تو ؟؟؟ مقابل گنہگار نہیں ہے کہ اس کے گناہ کو نظرانداز کر دیا جائے۔ مقابل شرک کر بیٹھا ہے اور محبت میں شرک کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ کوئی معافی”
ازمائر کو وہ پھر سے حیران کر گئی تھی۔ وہ ہلکا سا مسکرا رہا تھا جبکہ مسفرہ اپنی کمر پہ، اس کی گرفت ڈھیلی ہو جانے پہ، پیچھے ہونے لگی لیکن ازمائر اسے مزید قریب کر چکا تھا کہ ان کے بیچ، ایک انچ کا فاصلہ بھی نہیں رہا تھا۔ مسفرہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جو اب مسکرا رہی تھی۔
” مجھے منظور ہے ”
” کیا ؟؟”
مسفرہ نے سوال کیا تھا۔
” تمہارا لفظ لفظ ۔۔۔۔ ”
ازمائر نے جواب دیا تھا۔ مسفرہ کی آنکھوں میں نمی ٹھہر گئی تھی۔ وہ نم آنکھوں سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔
” مسفرہ ۔۔۔۔ ”
” جانے دو پلیز ”
اس نے آہستگی سے کہا تھا۔
” نہیں جانے دے سکتا ”
جواب سرگوشی کی صورت ملا۔
” کیوں؟”
مسفرہ کے لبوں پہ سوال ابھرا ۔
” آج پہلی بار کوئی، شرک سے پرے، مجھ سے محبت کرنے کا دعوا کر بیٹھا ہے۔کیسے جانے دوں؟؟”
مبہم، بوجھل سرگوشی اور پھر طویل خاموشی۔

《《《《《《《《《》》》》》》

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *