Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 50

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 50

رات کے کھانے کے بعد، اکاسمہ کچن میں کھڑی برتن دھو رہی تھی جبکہ پاس کھڑا حکان بار بار اسے چھیڑ رہا تھا جبکہ اکاسمہ اس کی کسی بات پہ ہنس رہی تھی جب اچانک گلاس ٹوٹنے کی آواز سے، دونوں مڑ کے پیچھے دیکھنے لگے جہاں ملکہ کانپتی ہوئی، نیچے پڑی گلاس کے ٹکڑوں کو دیکھ رہی تھی۔

” امی!!”
اکاسمہ تیزی سے ملکہ کے قریب آ کے، ان کا ہاتھ تھام گئی، حکان بھی قریب آیا تھا اور تشویش بھری نظروں سے ملکہ کو دیکھنے لگا۔
” امی کیا ہوا؟؟ آپ ٹھیک ہے ؟؟”

” ک ۔۔۔ کچھ ہوا ہے کیا اکاسمہ؟؟ م ۔۔۔ میرا دل بہت گھبرا رہا ہے ”
ملکہ کی آنکھوں میں آنسو تھے جبکہ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔ اکاسمہ انہیں سہارا دیے کرسی کے قریب لا کے، انہیں بٹھایا، جگ سے پانی نکال کے ملکہ کو پلایا۔

” امی کیا ہوا ہے ؟؟”
اکاسمہ کی سوالیہ آنکھوں میں دیکھتی ملکہ کی آنکھیں بھیگنے لگی۔
” م ۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے اکاسمہ، ک ۔۔۔ کچھ ہوا ہے، کچھ برا ہوا ہے “

اچانک حکان کا موبائل بجنے لگا۔ کال عباس کی تھی۔
” حکان سر، بری خبر ہے فیاض حیات نے خودکشی کی کوشش کی ہے ۔ ”
حکان کی نظریں بےساختہ اکاسمہ کی طرف اٹھی۔
” میں آپ کہ ہدایات کے مطابق، ان کے گھر گیا لیکن وہ بےہوش پڑا تھا لاؤنج میں اور اس کے پاس سلیپنگ پلز کی بوتل پڑی ہوئی تھی۔ “

” ہمممم”
حکان نے کال بند کر دیا اور اکاسمہ کو پریشان نظروں سے دیکھنے لگا۔
” ک ۔۔۔۔ یا ہوا ہے حکان ؟؟”

حکان نے لب بھینچے ملکہ کو دیکھا۔
” فیاض انکل نے خودکشی کر لی ہے اور وہ ہاسپٹل میں ہیں “

بلکل اچانک ملکہ رونے لگی جبکہ شاکڈ اکاسمہ نے کرسی کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھ کے سہارا لیا۔ وہ حیران آنکھوں سے حکان کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں فیاض حیات کے ساتھ گزارے لمحے کسی فلم کی مانند چلنے لگے ۔ بچپن سے جوانی، محبت سے نفرت!!
اسکی آنکھیں بھر آئی۔
” بابا ۔۔۔”
اس کے لبوں سے یہ لفظ مدھم آواز میں ادا ہوا۔

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

جب وہ ہاسپٹل پہنچے تو کوریڈور میں پہلے سے ہی کاووس شاہ اپنے اسسٹنٹ جمال کے ساتھ موجود تھا۔ اس پہ نظر پڑتے ہی عفان حیات جبڑے بھینچے، اسے مارنے کے لئے تیزی سے آیا تھا لیکن کاووس شاہ نے ہاتھ اٹھا کے، اس کے مکے کو روکا تھا اور سرد نظروں سے عفان حیات کی وحشت بھری آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ عفان حیات جو بےحد جوش میں آگے بڑھا تھا، اب آنکھیں تنگ کرتے، کاووس شاہ کی سرد آنکھوں میں دیکھ رہا تھا لیکن بلکل اچانک کاووس شاہ نے اسے کھینچ کے گلے لگا لیا۔
” بھائی، میرے بھائی جانتا ہوں کہ تمہیں کس قدر محبت ہے بابا سے، تم ہوش میں نہیں ہو اس وقت لیکن ہوش سے کام لو۔ ٹھیک ہے ؟؟”

عفان اسے دھکا دیتا دور ہوا تھا اور لب بھینچے اسے دیکھنے لگا۔ کاووس کی نظر ملکہ اور اکاسمہ پہ گئی تو اس کی آنکھیں مہربان ہو گئی لیکن اکاسمہ نے تیوری چڑھا کے اسے دیکھا اور پھر نظریں پھیر کے، وہ ملکہ کو تھامے آگے بڑھی تھی۔ انہیں بنچ پہ بٹھا کے، وہ نرمی سے روتی ہوئی ملکہ کو دلاسہ دینے لگی۔
” امی پلیز حوصلہ رکھیں۔ “

اس دوران حکان اور کاووس شاہ کی نظروں کا معنی خیز انداز میں تبادلہ ہوا تھا ۔ وہ دونوں ہی ان نظروں کا مفہوم سمجھتے تھے۔ تبھی حکان گہرا سانس لیتا، عفان پہ ایک نظر ڈال کے، وہاں سے ہٹ گیا۔ عباس جو حکان کے ساتھ تھا،وہ بھی حکان کے پیچھے چل پڑا۔

” ہممم ؟؟”
حکان کے سوالیہ انداز پہ، عباس اسے ساری معلومات فراہم کرنے لگا۔
” کیا عفان کا گزر ہوا وہاں؟؟ اس تمام عرصے میں؟؟”
حکان چلتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔

” نہیں سر، وہاں موجود کیمروں میں کچھ نہیں ہے ”
عباس نے نفی میں سر ہلاتے جواب دیا۔

” کال لاگ ؟؟”
حکان کے سوال پہ بھی، اس نے نفی میں سر ہلایا۔

” ٹیبلٹس لینے سے تین منٹ پہلے، فیاض حیات نے خود ملکہ کا نمبر ڈائل کیا تھا اور پھر ڈسکنیکٹ کر دیا، یعنی ان دونوں کی آپس میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی ”
عباس کے جواب پہ حکان کے ماتھے پہ بل پڑ گئے۔

” ایمرجنسی وارڈ کی کیا رپورٹ ہے ؟؟”
حکان نے پوچھا۔

” ڈاکٹرز کے مطابق معدے کی صفائی کر لینے سے، فیاض حیات کی حالت بہتر ہو جائے گی۔ چونکہ میں بروقت وہاں پہنچا تھا تو اس لئے زیادہ نقصان نہیں ہوا ”
عباس نے کہا۔

” ٹھیک ہے، اب جاؤ اور اکاسمہ کے ساتھ ساتھ رہو۔ عفان کو اس کے قریب مت ہونے دینا اور نہ ہی کسی اور کو ۔۔۔ میں فی الحال ڈین کے آفس جا رہا ہوں”
حکان کنپٹی سہلاتے کہہ رہا تھا۔ عباس نے اثبات میں سر ہلایا اور مڑ کے تیزی اس طرف بڑھنے لگا جہاں اکاسمہ موجود تھی۔حکان بھی لب بھینچے ہاسپٹل کے احاطے سے باہر جانے لگا۔
یہ نہیں تھا کہ وہ عفان کو نہیں پکڑ سکتا تھا لیکن مشکل یہ تھی کہ وہ اکیلا نہیں تھا۔ اسکے پیچھے اثر و رسوخ رکھنے والا شخص بھی موجود تھا جو عفان کو سپورٹ کر رہا تھا۔ جال ایسی بچھانی تھی کہ عفان کے ساتھ ساتھ، وہ پورا گروہ ہی پکڑا جائے اور یہ تب ہی ممکن تھا جب وہ صحیح وقت کا انتظار کرتے۔
لیکن اس کے لئے اب اہم مسئلہ اکاسمہ کی حفاظت بھی تھی۔ وہ اکاسمہ تک ان میں سے کسی کو بھی پہنچنے نہیں دینا چاہتا تھا۔
وجدان ملک، عفان حیات، فاروقی، رخسار۔۔۔
یہ سب وہ مہرے تھے جو کسی کے زیراثر کام کر رہے تھے۔
اپنی گاڑی کی طرف چلتے ہوئے اس نے اپنے دائیں طرف، اپنے ساتھ ساتھ چلتے کاووس شاہ کو دیکھا جو ماتھے پہ بل ڈالے، حکان کو ایک نظر دیکھ کے، اب سامنے دیکھنے لگا۔
” مجھے آئیڈیا نہیں تھا کہ مجھے تمہارے ساتھ کسی پروجیکٹ پہ کام کرنے کا موقع ملے گا ”
کاووس شاہ کی گہری آواز گونجی۔ حکان کے لبوں پہ مسکراہٹ رینگ گئی۔
” دھیان رہے تمہارا بہنوئی ہوں۔ ”
کاووس شاہ نے چونک کے اسے دیکھا جبکہ حکان اس کی طرف آنکھ ونک کرتا، اپنی گاڑی میں جا کے بیٹھ گیا۔ کاووس کی سرد آنکھیں اب خوشگوار انداز میں اس گاڑی کو دیکھ رہی تھی جو اس کے سامنے سے گزر کے چلی گئی تھی۔

کاووس شاہ، حکان ملک کو اکاسمہ کے شوہر کی حیثیت سے جانتا تھا لیکن جب ان دونوں کو ایک ساتھ پروجیکٹ پہ کام کرنے کا موقع ملا تو دونوں کو آمنے سامنے ایکدوسرے سے بات کرنے کا موقع ملا۔ حکان محتاط شخص تھا تبھی اس نے کاووس شاہ کی تحقیقات بھی کرائی تھی جس سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ اکاسمہ کا بائیولوجیکل بھائی ہے۔
ویسے تو حکان، اکاسمہ کے لئے، اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کروا رہا تھا لیکن رپورٹ سامنے آنے پہ، 99 فیصد تک مشابہت تھی دونوں کے ٹیسٹ میں۔
جب اسے عفان حیات کی فائل ملی تو پہلے وہ چونکا، اسے حیرت ہوئی۔ عفان اور ایک مجرم ؟؟
عباس کے ذریعے، اس نے عفان کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا اپنی تسلی کے لئے لیکن کوئی مشابہت نہیں تھی
ایک فیصد بھی نہیں۔ حکان تب بھی حیران ہوا تھا، ماتھے پہ بل ڈالے، وہ کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر وہ خود کاووس شاہ سے ملنے گیا۔ تب اسے احساس ہوا کہ کاووس شاہ، اکاسمہ، فیاض حیات اور ملکہ سے مشابہت رکھتا ہے۔
تب سے وہ دونوں ساتھ کام کر رہے تھے۔

▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎

” یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔ مجھے ایسے نہیں کرنا چاہئے تھا فیاض کے ساتھ۔ میں تو اس کا ماضی پہلے سے جانتی تھی تو کیوں چھوڑ دیا اسے تنہا ۔۔۔”
اکاسمہ نے ملکہ کے ہاتھ تھام لیے اور پریشان نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔
” امی پلیز نہ روئیے، ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ بابا اب خطرے سے باہر ہیں ”
” لیکن اگر ۔۔۔اگر کوئی وقت پہ نہ پہنچتا تو ؟؟؟ سب میری غلطی ہے، میں نے کیسے اپنے ہی شوہر کو اکیلا چھوڑ دیا ۔۔۔ کیسے؟؟ پلٹ کے خبر تک نہ لی “

پاس کھڑا عفان آنکھیں تنگ کرتا، ان دونوں کو دیکھ رہا تھا جبکہ عباس جو دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا، غور سے عفان کے چہرے پہ پھیلے تاثرات کو دیکھ رہا تھا۔

” امی، خود کو الزام نہ دیں، یہ سب کاووس شاہ کا کیا دھرا ہے، اسی نے بابا کو اس حال میں پہنچایا ہے، کیا پتہ کاووس شاہ نے خود یہ زہر دیا ہو بابا کو “

اس کی قیاس آرائی پہ عباس نے لب بھینچ لیے تھے جبکہ اکاسمہ سنجیدگی سے عفان کو دیکھنے لگی۔
” وہ، بابا کا بیٹا ہے عفان۔ اسے ہم سے نفرت ہوگی، بابا کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ “

ملکہ خاموش رہی۔ اکاسمہ رخ موڑ کے پھر سے ملکہ کو دیکھنے لگی جبکہ عفان نے آنکھیں گھماتے گہرا سانس لیا۔ اس کی آنکھیں اکاسمہ کی پشت گھور رہی تھی۔
‘ یہ لڑکی کچھ زیادہ ہی مثبت سوچتی تھی۔ عاریز خان کو ختم کرنا جتنا آسان تھا، کاووس شاہ کو ختم کرنا اتنا ہی مشکل۔ ‘

اسی وقت نرس باہر آئی تو سب اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
” مسٹر فیاض اب خطرے سے باہر ہیں ۔ انہیں روم میں شفٹ کر دیا گیا ہے ۔ اگر آپ ان کے پاس جانا چاہے تو جا سکتی ہے “

” تھینک یو سو مچ ڈاکٹر۔ ۔۔ ”
اکاسمہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر بھئ جواب میں مسکرا کے آگے بڑھ گئے جبکہ عفان ان کے قریب آیا۔
” بابا کی طبیعت ٹھیک ہے اب۔ یہ تو بےحد۔۔۔۔ ”
عفان اکاسمہ کے بےحد قریب آ کھڑا ہوا لیکن عباس تیزی سے اکاسمہ کے قریب آ کے، ان کے بیچ فاصلہ بنا گیا۔ عفان بات روک کے، ماتھے پہ بل ڈالے اسے دیکھنے لگا جبکہ وہ خاموشی سے نظریں پھیر گیا۔

” ایم سوری میم اکاسمہ، مجھے حکان سر نے آپ کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی ہے”
اکاسمہ کے دیکھنے پہ، عباس نے احترام سے کہا۔

” لیکن میں اکاسمہ کا بھائی ہوں”
عفان نے دانت پیستے کہا جبکہ عباس نے کندھے اچکائے۔
” ایم سوری،مجھے آرڈرز ملے ہیں “

عفان نے لب بھینچ لیے جبکہ اکاسمہ، ملکہ کی طرف متوجہ ہو چکی تھی ۔ حکان اپنی ضد کا پکہ تھا تبھی اکاسمہ نے زیادہ بحث کرنا ضروری نہیں سمجھا اور ملکہ کے ساتھ آگے بڑھ گئی تاکہ کمرے میں جا کے فیاض حیات کو دیکھ سکے۔

●●●●●●●●●●●●●●●●●●

ڈین کے ساتھ میٹنگ کے بعد، حکان مصروف انداز میں آفس سے باہر نکل رہا تھا۔ اس نے موبائل کان سے لگایا ہوا تھا شاید وہ اکاسمہ کو کال کر رہا تھا جب اس کے انتظار میں وہیں کاووس شاہ موجود تھا جو، حکان کے باہر نکلتے ہی، تیزی سے اٹھ کے، اس کے قریب آیا جبکہ حکان موبائل کان سے ہٹا کے، اسے اچھنبے سے دیکھنے لگا اور پھر آبرو اچکا کے آگے بڑھا جبکہ کاووس شاہ اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔ حکان رک کے مڑا اور اسے دیکھنے لگا۔
” ڈی این اے ٹیسٹ میں وہ سارا مواد مل جاتا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے ۔ ”
کاووس شاہ کی آنکھوں میں حیرانی آئی تبھی جب حکان آگے بڑھا، وہ بھی اس کے پیچھے تیزی سے آ کے، اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

” شکوک کی بنیاد پہ، جب عفان ملک کے ڈین ای ٹیسٹ کروایا میں نے، تو وہ کہیں سے بھی اکاسمہ یا فیاض حیات سے مماثلت نہیں رکھتا تھا۔ وہ تو اس خاندان کا حصہ ہی نہیں تھا۔ تمہارا یہ دعوی کہ تم فیاض حیات کے بیٹے ہو، تو تمہارا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا سوچا میں نے اور جب رزلٹ سامنے آیا تو 99 فیصد مماثلت۔
اب کہانی کچھ یوں ہے کہ فیاض حیات نے ماضی میں جس عورت سے بیوفائی کی یا جو بھی ہوا، اس کا یہ نتیجہ سامنے آیا کہ وہ اپنے بیٹے کو، تم سے بدل گئی اور یوں تم اپنے خاندان سے محروم ہو کے، کسی دوسرے خاندان میں پرورش پانے لگے اور عفان یہاں، ان کے خاندان کا حصہ بن گیا۔ یہ سب سازش ہی اس لیے رچائی گئی تا کہ وہ عورت فیاض حیات سے اپنا بدلہ لے سکے اور وہ کامیاب بھی ہوئی۔
پہلا، اس خاندان کا حقیقی بیٹا غائب ہوا۔ دوسرا، وہ عورت اپنے بیٹے کے ذریعے اس خاندان کا حصہ بنی رہی۔ تیسرا، وہ کسی حد تک بدلہ لیتی رہی اپنے بیٹے کے ذریعے۔ سب کی نظروں میں سادہ اور مہربان نظر آنے والا عفان حیات، گندگی اور گناہوں کے دلدل میں پھنس چکا ہے کہ اب وہ ایک بڑی طاقت کے ساتھ مل چکا ہے۔جس کی بہترین اور مضبوط پوزیشن ہے اس ملک میں۔ جو پس پردہ ہر سیاہ کاری کو کنٹرول کرتا ہے۔ جس کے انڈر فاروقی، وجدان ملک اور عفان جیسے کئی لوگ کام کر رہے ہیں۔ ہم عفان پہ ہاتھ ڈالے گیں تو وہ بڑی طاقت اسے بچا لے گی، ہمیں کوئی ایسی چال چلنی ہوگی کہ ہم عفان کے ساتھ ساتھ، تمام بڑی سیاہ طاقتوں کو بھی گرفتار کر سکے۔ “

کاووس شاہ کی آنکھوں میں بےچینی تھی۔ ۔
” کیا ۔۔۔ اکاسمہ کو بھی معلوم ہے کہ میں اس کا بھائی ہوں؟؟”

حکان کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر سر نفی میں ہلایا۔
” میں تھوڑا خودغرض ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ اکاسمہ فی الحال میرے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچے “

کاووس شاہ نے لب بھینچے اسے گھورا جبکہ اس نے کندھے اچکائے۔
” پورے آٹھ سال کے طویل انتظار کے بعد، اکاسمہ میری ہوئی ہے۔ اس وقت میں خودغرض ہو کے بس یہ چاہتا ہوں کہ وہ صرف مجھ پہ توجہ دے اور مجھے سوچے”

کاووس شاہ بےزبان ہو گیا۔یہ کیسا شخص تھا ؟؟ بےحد عجیب تھا یہ تو۔ حکان کی بات پہ، اس نے آنکھیں گھمائی اور لب بھینچ گیا جب حکان کے موبائل پہ کال آنے لگی
“ہیلو وائفی، میں تمہیں ہی یاد کر رہا تھا میری جان “

کاووس شاہ کو محسوس ہوا جیسے حکان خاص طور پہ، اسےہی سنانے کے لئے، یہ سب کہہ رہا ہے تبھی آنکھیں گھماتے، اس نے گہرا سانس لیا۔ مقابل کھڑے شخص کی بیوی، اس کی اپنی سگی بہن تھی اور وہ اسے ہی سنانے کے لئے یہ سب کر رہا تھا۔
آٹھ سال ؟؟ کچھ زیادہ ہی مغرور بن رہا ہے یہ شخص شاید، اپنی پسندیدہ عورت سے شادی کر کے۔ وہ ابھی یہی سوچ رہا تھا جب حکان کی آواز پہ چونکا۔
” میں ہاسپٹل جا رہا ہوں، اگر چلنا ہے تو میں لے چلتا ہوں”
حکان کے کہنے پہ، اسنے سوچا کہ اس شخص کے قریب جانے میں فائدہ ہے۔ جس طرح سے اس نے کاووس شاہ کے متعلق تمام معلومات حاصل کر لی، اس سے صاف ظاہر تھا کہ جتنا اس نے حکان کے بارے میں سنا ہے، اس سے کہیں زیادہ پایا ہے اسے ۔ تبھی بنا ہچکچاہٹ کے، وہ اثبات میں سر ہلاتا، حکان کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔

●●●●●●●●□□□●●●●●●●●●●●

” تم زہر ہو رخسار فاروقی ۔۔ ”
نفسانی خواہشات کی تکمیل ہوئی تو فاروقی اس کے سراپے کو دیکھتا ہنستے ہوئے کہنے لگا جبکہ بیڈ پہ آنکھیں موندے لیٹی رخسار مسکرانے لگی۔
” زہر بھی ایسا، کہ جتنا بھی پیو، لطف اندوز ہی ہوتے رہو”
” آزمائر شاہ کی کیا پروگریس ہے ؟؟ کچھ ہاتھ آیا؟؟”
فاروقی نے کچھ سوچتے ہوئے سوال کیا۔ رخسار آنکھیں کھول کے اسے دیکھنے لگی۔
” کس کا نام لے لیا تم نے بھی اس وقت۔ وہ شخص تو میری رگوں میں اترتا ناسور ہی بن چکا ہے جو کسی بھی طرح ہاتھ نہیں آ رہا “

فاروقی نے اس کے چہرے پہ پھیلے تاثرات کو دیکھا اور قہقہہ لگانے لگا۔
” شکل پہ ہی بھوکا لکھا ہوا ہے تمہارے ”
یہ کہہ کے وہ اٹھا اور باتھروم کی طرف بڑھ گیا جبکہ رخسار اپنا موبائل اٹھا کے دیکھنے لگی جب سرچ کرتے ہوئے اس کی نظر ایک خبر پہ رک گئی۔

‘ معروف بزنس مین ازمائر شاہ، جن کی واپسی، کئی سال جیل میں گزارنے کے بعد ہوئی ہے لیکن آتے ساتھ ہی، انہوں نے نہ صرف اپنا بزنس حاصل کر لیا بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ عروج کی بلندیوں پہ پہنچ رہے ہیں جس قدر وہ معروف ہیں اپنی وجاہت اور بزنس کیرئیر کی وجہ سے، ہمیں لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ان کا بزنس کچھ ممالک تک ہی رہے گا بلکہ پوری دنیا کے کاروباری احاطے میں وہ چھا جائے گیں’

رخسار نے اپنے لب بھینچ لیے اور موبائل اسکرین پہ موجود آزمائر شاہ کی تصویر کو گھورنے لگی۔ دل میں عجیب طوفان سا اٹھا اور آنکھیں سرخی مائل ہو گئی۔ اس شخص کو دوبارہ حاصل کرنا، کس قدر مشکل امر بن چکا تھا اس کے لئے۔

” امممم تو معروف بنتا جا رہا ہے تمہارا سابقہ شوہر”
فاروقی کی اچانک آواز پہ وہ چونکی اور فون بند کر کے اسے دیکھنے لگی۔ پھر گہرا سانس بھر کے، وہ اپنے بال سمیٹتی اٹھ بیٹھی ۔
” کوئی اور اس کا مالک بن بیٹھا ہے ۔ “

” تمہیں ویسے بھی، اپنی مرضی کی آسائشیں مل رہی ہے۔ ہر پسندیدہ مرد تمہیں خوش کرنے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ تو اگر ایک شخص مل نہیں رہا تو کیا سوگ منا رہی ہو ”
فاروقی نے اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتے کہا۔
رخسار بیڈ سے اتر کے باتھروم کی طرف جانے لگی۔
” تم نہیں سمجھو گے۔ وہ چیلنج سے بدتر بن چکا ہے میرے لئے ۔ آہ!!”

سرد آہ بھرتی وہ باتھروم میں چلی گئی۔ فاروقی نے ابرو اچکا کے، اس کی پشت کو گھورا اور پھر سر جھٹک کے، اپنے بال بنانے لگا جب اس کے موبائل پہ کال آنے لگی۔
” ہیلو ۔”

” کیا فاروقی صاحب، لگتا ہے کہ رخسار سے دل نہیں بھر رہا تمہارا۔ ”
دوسری طرف سے کہا گیا ۔ فاروقی نے ایک اچٹتی نظر باتھروم کے بند دروازے پہ ڈالی اور پھر منہ بنایا۔
” عوامی ہے وہ۔ اور ہم ہیں ہی عوام کو لوٹنے میں ماہر ”
دوسری طرف سے زوردار قہقہہ بلند ہوا۔
” ارے واہ۔ اس عوامی کو کبھی ہمارے بستر کی بھی زینت بننے کا موقع دو “

” ضرور، ”
اس کے چہرے پہ معنی خیز مسکراہٹ بکھر گئی۔
” ازمائر شاہ تو بہت معروف ہو رہا ہے ”
کچھ سوچتا ہوا، وہ کہنے لگا۔

” ہاں، اس نے اپنے بزنس کو دوبارہ سے اونچائی پہ پہنچایا ہے۔ ایک تو وہ خود بےحد وجیہہ، اوپر سے دماغ بھی فل اسپیڈ پہ چلتا ہے۔ مجھے تو لگ رہا ہے کہ سال کے آخر تک کیا، سال کے بیچ میں ہی، وہ سب کو مات دے گا ”
دوسری طرف سے کہا گیا۔ فاروقی کے آبرو تن گئے۔ وہ سچ کہہ رہا تھا، واقع ازمائر شاہ بےحد قابل تھا ۔ فاروقی کا تعلق سیاست سے تھا۔ سیاہ بازار سے بھی اس کا تعلق تھا اور سجاول درانی جیسے بڑے سیاستدان کی حمایت بھی حاصل تھی اسے۔ جس کی حمایت میں، وہ کوئی بھی گھناؤنا کام کرنے سے عار محسوس نہیں کرتا تھا لیکن ازمائر شاہ کی مقبولیت اس سے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ سیاستدان ہونے کے باوجود، نہ وہ نیک نام سے یاد کیا جانے والا شخص تھا اور نہ ہی عوام کو اس سے امیدیں تھی۔ وہ خاموشی سے تماشا دیکھ رہے تھے کہ کب تک یا تو وہ پستے رہے گیں یا پھر کوئی نیا سیاستدان آئے گا ان کو اس گٹڑ سے نکالنے کے لئے۔
اس نے گہرا سانس لیا اور غور سے رخسار کو دیکھنے لگا جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے بال بنا رہی تھی۔ فاروقی نے کچھ سوچ کے ایک چیک اس کی طرف بڑھایا۔
” یہ لو، اس رقم سے جو دل چاہے خرید لو۔ میرے لئے ازمائر شاہ کے آفس سے اس کے تمام سیکریٹس لیک کر کے لاؤ۔ “

“میں؟؟ مگر کیسے؟؟ وہ تو مجھے اپنے آفس میں بھی نہیں آنے دیتا ”
رخسار پریشانی سے اسے دیکھنے لگی۔

” یہ اب تم خود سوچو۔ انگلیاں سیدھی نہ جائے تو انگلیاں ٹیڑھی بھی کرنی پڑتی ہے رخسار فاروقی اور ویسے بھی کیا تم اب بھی نہیں چاہتی کہ ازمائر شاہ کو حاصل کر لو تم۔ تو اب یہ تمہارے لئے سنہرا موقع ہے آگے بڑھو اور جھپٹ پڑو۔ ”
فاروقی کی آنکھوں میں زہر گلا ہوا تھا۔ وہ شیطانی مسکراہٹ دے رہا تھا جبکہ رخسار سوچتی آنکھوں سے، اسے دیکھتی، اب رخ موڑ کے اپنا میک اپ کرنے لگی۔ اسے اب ایک شیطانی چال چلنے تھی۔ اپنی شیطانیت سے ہی وہ ازمائر شاہ کو حاصل کر لے گی۔ چاہے وہ ایک رات کے لئے کیوں نہ ہو۔

●●●●●○○○○○○●●●●●●

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *