The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 52
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 52
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 52
وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک کی نظر جاتی تو دوسرا نظریں چرا لیتا۔ یہ آنکھ مچولی کا کھیل نہ جانے کتنی دیر تک جاری رہتا اگر حکان کافی کے تین مگ لیے، ان کے بیچ آ کے بیٹھ گیا اور ان دونوں کو دیکھنے لگا۔
” میں پچھلے آدھے گھنٹے سے، وہاں کچن میں کھڑا، کافی بناتے ہوئے تم دونوں کو دیکھ رہا ہوں لیکن hide and seek کے علاوہ تم دونوں کے بیچ کوئی بات تک نہیں ہوئی۔ ”
حکان کے بھاری لہجے پہ دونوں چونک کے اسے دیکھنے لگے۔
” اوہ کافی ۔۔۔ ”
اکاسمہ نے اس لمحے کے زیراثر سے نکلنے کے لیے کافی کا مگ اٹھا لیا جبکہ کاووس شاہ کی آنکھوں میں نمی چمکنے لگی۔
” مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا کہوں اور کہاں۔۔۔۔ سے شروع کروں ”
اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔ اکاسمہ چونک کے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ کندھے اچکاتا اپنے آنسو پینے کی کوشش کرنے لگا۔
” میں ۔۔۔۔۔ میں روتے ہوئے بہت عجیب لگتا ہوں۔ آئی نو”
اکاسمہ کی آنکھیں بھی بھیگنے لگی۔ مقابل بیٹھا یہ مضبوط شخص اس کا سگا بھائی تھا، اس کا اپنا خون، لیکن ماضی میں اس نے کتنا برا بھلا کہا تھا اسے۔
” ارے واقع تم عجیب لگ رہے ہو ”
اکاسمہ نے رونے اور ہنسنے کے امتزاج کے ساتھ کہا جبکہ دونوں ایکدوسرے کو نم آنکھوں سے دیکھتے ہنسنے لگیں۔
” ایم سوری کاووس شاہ، ایک تو تمہارا نام بھی ولن جیسا ہے “
” میں ولن ہوں ”
کاووس شاہ بھی مسکرانے لگا جبکہ حکان دونوں کو سپاٹ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
” اس وقت دونوں ہی عجیب لگ رہے ہو مجھے۔ “
” کیوں؟؟”
اکاسمہ اسے گھورنے لگی۔
” میری بیوی کبھی میرے لئے ایسے نہیں روئی تو جیلس فیل ہو رہا ہے ”
حکان زیرلب مسکراتا کافی پینے لگا۔
” حکان ۔۔۔ ”
اکاسمہ نے اس کی طرف کشن پھینکا جسے وہ پرسکون انداز میں کیچ کرتا، اس سے ٹیک لگا کے بیٹھ گیا۔
” تھینک یو مائی ڈئیر وائفی، لو یو “
” حکان ۔۔۔۔”
اکاسمہ نے گلابی ہوتے چہرے کے ساتھ اسے گھورا جبکہ حکان کندھے اچکا گیا۔
” پیار جتا رہا ہوں اپنی وائفی کے لیے “
” یہ پیار جتانے کا وقت ہے کیا ؟؟”
اکاسمہ نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
” اپنی خوبصورت بیوی سے ہر لمحہ، ہر سیکنڈ پیار جتایا جاتا ہے میری جان ”
حکان نے دوبارہ اسے چھیڑتے ہوئے کہا جبکہ اکاسمہ خاموش رہی اور کاووس شاہ کو دیکھنے لگی جبکہ وہ کنپٹی سہلاتا، ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
” کیا میں امی اور بابا سے تمہارے بارے میں۔۔۔۔ “
” نہیں اکاسمہ۔۔۔ ”
کاووس شاہ نے اس کی بات کاٹ دی۔
” ابھی نہیں۔۔۔ ابھی وقت نہیں آیا۔ ذرا سا بھی شک ہونے پہ، عفان الرٹ ہو جائے گا اور سب ختم ہو جائے گا۔ “
اکاسمہ خاموش رہی اور پھر وہ اپنے کافی کے مگ کو گھورنے لگی۔
” وہ شخص اتنے سالوں تک، ہمارا خاندان بن کے، ہمیں دھوکہ دیتا رہا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ہمیں یہ محسوس تک نہیں ہوا کہ ہمیں دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ وہ تمہاری زندگی جی رہا تھا اور ہم اسے مواقع فراہم کر رہے تھے تمہاری زندگی جینے کا۔ افف، کس قدر افسوسناک ہے یہ “
” نہ صرف تم سب کا خاندان بن کے جی رہا تھا بلکہ تم سب کے بیچ رہ کے، وہ قاتل بھی بن۔۔۔۔۔”
حکان نے اسے تیزی سے اشارہ کیا اور وہ بات پلٹ گیا۔
” وہ قاتل بھی بنا رہا معصوم جانوں کا۔ “
اکاسمہ ان دونوں کو نہیں دیکھ رہی تھی تبھی اسے کچھ محسوس نہیں ہوا۔ وہ گہرا سانس لیتی، حکان کو دیکھنے لگی۔
” عندلیب بتا رہی تھی کہ عفان تم سے اور عاریز سے بےحد نفرت کرتا ہے۔ ایسا کیوں؟؟ کہیں۔۔۔۔۔ کہیں وہی تو عاریز کا قاتل نہیں؟؟”
اکاسمہ اچانک بےچین ہو گئی۔
” تو کیا دوسرا ٹارگٹ تم ۔۔۔۔ ”
وہ بات ادھوری چھوڑ کے اٹھ کھڑی ہوئی۔ حکان نے تیزی سے اٹھ کے اس کا بازو تھام لیا۔
” اکاسمہ ریلیکس، ایسا کچھ نہیں ہے۔ آرام سے بیٹھو یہاں پلیز “
” مجھے سچائی جاننی ہے ”
اکاسمہ بےچین نظر آ رہی تھی ۔
” کیسے سچائی معلوم کرو گی ؟؟ اس کے پاس جا کے، اس سے پوچھو گی؟؟ اکاسمہ ہم بہت آرام سے، اس تک اور اس سے متعلق لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔ اسے الرٹ کرنا، مطلب اپنے ہی پاؤں پہ کلہاڑی مارنا ہے۔ تم تو سمجھدار ہو یار، کم آن ریلیکس۔ ”
حکان اسے کندھوں سے تھامے سمجھا رہا تھا جبکہ وہ خوفزدہ آنکھوں سے حکان کو دیکھ رہی تھی ۔
” مجھ میں ہمت نہیں تمہیں کھونے کی حکان “
” مجھے کچھ نہیں ہوگا اکاسمہ، پلیز تم اپنا خیال رکھو، عفان سے دور رہو پلیز۔ سب کھل کے سامنے آ جائے گا پلیز حوصلہ رکھو ۔ ”
اکاسمہ بھیگی آنکھوں سے کاووس شاہ کو دیکھنے لگی جو موبائل پہ کسی سے بات کر رہا تھا۔ حکان بھی اسے دیکھنے لگا جو کال ختم کر کے، اب سنجیدگی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
” عفان کا ٹارگٹ اکاسمہ نہیں ہے اور نہ کبھی ہوگی۔ اس کا ٹارگٹ صرف تم ہو حکان ملک “
حکان لب بھینچ گیا جبکہ اکاسمہ نے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ لیں لیکن خاموش رہی۔ حکان نے اچھنبے سے اس پہ نظر ڈالی۔ وہ خاموش کیسے ہو سکتی ہے۔ اسے لگا کہ اکاسمہ غصے کا مظاہرہ کرتے شور مچائے گی لیکن وہ خاموش تھی۔ حکان نے اس کے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور پھر اس کے چہرے کو۔
” اکاسمہ تم کیا سوچ رہی ہو ؟؟”
اکاسمہ نے سر جھٹک کے گہرا سانس لیا۔
” مجھے ایک کیس پہ کام کرنا ہے اس لئے۔ ”
وہ اپنے بیڈ روم کی طرف مڑ کے جانے لگی جبکہ حکان اور کاووس شاہ نے اسے لب بھینچے جاتے ہوئے دیکھا۔
” اکاسمہ کچھ کرنے والی ہے شاید ؟”
کاووس شاہ نے تشویش کا اظہار کیا جبکہ حکان نے ہنکارا بھرا۔
” طوفان سے پہلے کی گہری خاموشی۔ “
□□□□□□□□□□□□□□□□□□
” آپ کی ہدایت کے مطابق میم کے کلینک میں کیمرے لگائے جا چکے ہیں “
کاشف، ازمائر کے آفس میں موجود اسے آگاہ کر رہا تھا۔ ازمائر شاہ نے سر اثبات میں ہلایا اور پرسوچ نظروں سے کاشف کو دیکھنے لگا۔
” اور یہاں میرے آفس کی کیا پروگریس ہیں؟؟”
” سر، جیسے کہ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ میم یہاں کیمرے لگوا چکی ہیں اور جو آپ کی ہدایات کے مطابق چیک کروایا گیا تو یہ کیمرے بہت چھوٹے ہیں، چیونٹی کے جتنے، آپ کے بلکل سامنے بک شیلف پہ لگا ہے، واس کے قریب لگایا گیا ہے، رائٹ سائیڈ پہ دیوار پہ، پینٹنگ کے قریب لگائی گئی ہے۔ ”
کاشف محتاط انداز میں بتا رہا تھا جبکہ ازمائر شاہ مسکرانے لگا۔
” اممم تو سائیکیٹریسٹ مسز مسفرہ ازمائر شاہ اب مجھ پہ نظر رکھ رہی ہے۔۔۔ “
” سر آپ بھی تو۔۔۔ ”
کاشف بات ادھوری چھوڑ گیا جبکہ ازمائر اب بھی مسکرا رہا تھا۔
“پلڑا بھاری رکھنا چاہئے ورنہ بیوی کی نظر میں کمزور سا لگوں گا میں۔ “
” مس رخسار کا کیا کرنا ہے ؟؟”
کاشف کے سوال پہ، اازمائر کے ماتھے پہ بل پڑ گئے۔ اس عورت کا خیال آتے ہی، ازمائر کے دماغ کی نسیں جیسے پھٹنے لگی۔
” اسے۔۔۔۔ انجوائے کرنے دیتے ہیں ابھی۔ گندگی کے ڈھیر میں جب مکمل دھنس جانے دیتے ہیں ابھی “
” اور اگر وہ آپ کے اور میم کے بیچ میں دراڑ ڈال دے تو ۔۔۔ ”
کاشف نے تشویش کا اظہار کیا۔
” تو منہ کے بل زور سے گرے گی ۔۔ ”
ازمائر کی آنکھیں سرد تھیں جبکہ کاشف اب کے خاموش رہا۔ اسے یقین تھا کہ ازمائر شاہ کبھی نہیں بہک سکتا اور یہ کہ مسفرہ سے وہ محبت کرتا ہے۔ ظاہر ہے ازمائر شاہ کے برے وقت میں مسفرہ ہی تھی جس نے اسے جیل سے نجات دلایا تھا اور اس کا ساتھ دیا تھا اور اب بھی اگر اس نے ازمائر شاہ کے آفس میں کیمرے لگائے ہیں تو صرف اس لئے، کہ مسفرہ اپنے شوہر سے بےحد محبت کرتی ہے اور اسے کسی قیمت پہ بھی دوسری عورت کا نہیں ہونے دے سکتی۔
□□□□□□□□□□□■■□□□□□
” ااممم۔۔۔۔ ”
اکاسمہ جو اپنی بلیک شارٹ نائٹی میں موجود، ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی، اپنے گیلے بال برش کر رہی تھی جب پیچھے سے، حکان نے اسے بانہوں بھر لیا۔ اس کی گردن پہ اپنے لب رکھ کے، اس نے گہرا سانس لیا اور آئینے میں اس کا سراپا دیکھنے لگا۔
” مجھے بہکانے کے انتظامات خوب ہیں۔ “
اکاسمہ مسکرانے لگی۔
” آپ کی خواہش کا احترام کیا جا رہا ہے۔”
” اوہ رئیلی ۔۔۔ ”
وہ پھر سے اس کی گردن اور کندھے کو چومنے لگا جبکہ اکاسمہ کی دھڑکنیں تند ہو کے، مدہوش سا ہونے لگی۔
” ح۔۔۔۔ حکان ”
اس نے سسکی سی بھری تھی جب دہکتے لبوں نے، اس ہی پشت پہ سفر کیا۔
” جان حکان ۔۔”
مبہم، بھاری سرگوشی نما آواز۔ اکاسمہ مڑ کے اسے دیکھنے لگی ۔ حکان کی گردن میں اپنی بانہیں ڈال کے، وہ حکان کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جہاں صرف اکاسمہ کی پرچھائیاں تھیں۔ اکاسمہ کی آنکھوں میں اپنی قربت کی مدہوشی دیکھ کے، حکان پھر سے بہکنے لگا لیکن اکاسمہ لب دانت تلے دباتی پیچھے ہوئی ۔
” ڈاکٹر نے تم سے ہی کیوں یہ بات کی؟؟ میں کہاں تھی ؟؟”
” مریض میں تھا تو وہ تم سے کیوں یہ بات کرے ؟؟”
حکان اس کے لبوں پہ، اپنے لبوں سے قابض ہوتا کہہ رہا تھا۔
” کیونکہ مجھے خوف ہے کہ تم میرا فائدہ نہ اٹھاؤ آج رات ”
اکاسمہ کی بھیگی سرگوشی، اسے مزید بہکا رہی تھی۔ تبھی اکاسمہ کی کمر پہ، اس کے ہاتھ کی گرفت مضبوط ہوئی۔
” اس وقت تو میرا فائدہ تم اٹھا رہی ہو مسز حکان۔ ہر وہ حربہ آزمانے کی اجازت ہے تمہیں ویسے، جو مجھے مکمل تم میں بہکا دے ”
اپنی بات مکمل کر کے، حکان اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا۔ اکاسمہ کو بانہوں میں اٹھائے، وہ بیڈ پہ آیا۔ اکاسمہ پہ جھکے، اس نے ایک لمحے کے لئے بھی، اس کے لبوں کو آزادی نہیں بخشی۔ جب بالکل اچانک وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔ بکھری بکھری سی اکاسمہ پریشان نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
” حکان ؟؟ کیا ہوا حکان ؟؟”
، وہ تیزی سے اٹھ کے، حکان کا بازو تھام کے اسے دیکھنے لگی۔
” خود کو ڈھانپ لو۔ ”
اسکے کان کی لو پہ،سرگوشی کر کے حکان بنا مزید کچھ کہے، تیزی سے اٹھ کے، کمرے سے باہر نکل گیا۔ جبکہ اکاسمہ ناسمجھی سے، بیڈ شیٹ اپنے گرد لپیٹ کے، کمرے سے باہر نکلی۔ حکان اپنے لیپ ٹاپ پہ جھکا، نہ جانے کیا دیکھ رہا تھا۔ اکاسمہ آہستہ روی سے چلتی، اس کے قریب ائی۔
“کیا ہوا حکان ؟؟”
” تمہارا موبائل کہاں ہے ؟؟”
حکان اچانک اس سے سوال کرنے لگا۔
” بیڈ روم میں۔ کیا ہوا ؟؟ میں لے ۔۔۔۔ ”
اکاسمہ کی بات نامکمل رہ گئی ۔
” ہشش۔۔۔ ”
اس کا ہاتھ تھام کے، اسے اپنی طرف کھینچ کے، وہ اکاسمہ کو اپنی گود میں بٹھا چکا تھا اور اپنے لب اس کے کان کی لو پہ رکھ کے سرگوشی کی ۔
” تمہارا موبائل ہیک ہو چکا ہے۔ وہ ہمیں دیکھ رہا تھا۔ قریب مت جانا اب موبائل کے۔ “
اکاسمہ کا وجود مکمل لرز گیا۔ وہ خوفزدہ نظروں سے مڑ کے حکان کو دیکھنے لگی۔
” دیکھ۔۔۔۔۔ رہا تھا ؟؟ ک۔۔۔ کون ؟؟”
” جو اس ہیک کے پیچھے ہیں، وہ ۔۔۔ ”
وہ اب سنجیدگی سے لیپ ٹاپ پہ کچھ ٹائپ کرنے لگا جبکہ اکاسمہ خوفزدہ نظروں سے، اسے دیکھ رہی تھی۔ اسکی تیز چلتی دھڑکن اور کانپتا وجود، حکان کو محسوس ہو رہا تھا۔ تبھی اس کے لبوں پہ نرمی سے بوسہ دیتا، وہ اکاسمہ کو پرسکون انداز میں دیکھنے لگا۔
” تم دنیا کے سب سے خطرناک ہیکر کی بیوی ہو۔ تمہیں کس بات کا خوف ہے؟؟؟ یہ چھوٹے چھوٹے ہیکرز بس چھوٹے چھوٹے پیادے ہیں۔ “
” مجھے ڈر لگ رہا ہے حکان ۔ کون ہے یہ شخص ؟؟ کیوں ہمارے ہی پیچھے پڑا ہوا ہے ؟؟ ا۔۔۔۔۔ اگر بارز کی طرح مجھے بھی کسی گیم کا حصہ بنایا گیا تو میں مر جا۔۔۔۔”
اس کی بات نامکمل رہ گئی جب حکان نے اس کے لبوں کو بےحد شدت سے،اپنے لبوں سے قید کیا۔ اسے اپنی بانہوں میں نرمی سے بھینچتا، وہ ایک ہاتھ سے لیپ ٹاپ بند کر گیا۔ اس کی سانسوں کو، اپنی سانسوں میں الجھاتا، وہ جیسے اکاسمہ کو خود میں جذب کر رہا تھا۔
” فی الحال تم میرے گیم کا حصہ بنو ابھی۔ ”
اکاسمہ اس کی قربت میں کھو کے، سارا خوف فراموش کر گئی۔ حکان اس پہ اپنی مدہوش محبت ایسے نچھاور کر رہا تھا کہ لمحہ بھر کے لیے بھی، اکاسمہ کو خود سے دور نہ ہونے دیا بلکہ اس رات کے ہر لمحے کو حسین تر بناتا گیا۔ یہاں تک کہ اکاسمہ تھک کے، اس کے ہی بانہوں میں سو گئی اور تب اکاسمہ کے سوئے چہرے سے، نظریں ہٹا کے، وہ اب لب بھینچے سامنے دیوار ہو دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھیں بےحد سرد ہو چکی تھی۔ ایک سیکنڈ میں ہی وہ ہیکر تک پہنچ چکا تھا۔ وہ عفان حیات تھا جس نے اکاسمہ کے موبائل کو ہیک کیا تھا۔ وہ اب عفان کی کوشش کو ناکام بنا گیا تھا لیکن وہ اب خطرناک بنتا جا رہا تھا۔ اکاسمہ اس کا ہدف نہ ہوتے ہوئے بھی، اس کا ہدف تھی۔ اسے اکاسمہ کو محفوظ رکھنا تھا، اسے عفان حیات کو بےنقاب کرنا تھا۔ اس کے ساتھ جڑے تمام لوگوں کو بےنقاب کرنا تھا۔ لیکن اب یہ سب جلد ختم ہو جانا چاہئے۔
وہ پھر سے اکاسمہ کے سوئے وجود کو دیکھنے لگا جو اس کی بانہوں میں بےخبر سو رہی تھی۔ بےحد آہستگی سے اپنا بازو، اس کے سر کے نیچے سے ہٹا کے، وہ بیڈ روم کی طرف گیا۔ اس کے ہاتھ میں اکاسمہ کا موبائل تھا اور اس کی آنکھیں بےحد سرد تھیں۔ پورا ڈیٹا ڈیلیٹ کر کے، وہ اب موبائل reset کرنے لگا۔
□□□□□□□□□□□□□□□
