The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 17
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 17
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 17
” یہ کیا بکواس ہے؟”
وجدان ملک ان پیپرز اور تصاویر کو دیکھ کے بھڑک گیا تھا جن پہ اس کے بلیک منی ٹرانسفر کے ریکارڈز موجود تھے لیکن اسے حیرت اس بات کی تھی کہ اس کے پل پل کی خبر رکھ کون رہا یے ؟؟
” یہ دے کر کون گیا ہے ؟؟”
وہ ابراہیم کو دیکھ رہا تھا جبکہ ابراہیم کندھے اچکا گیا تھا۔
” میں نہیں جانتا سر، مجھے یہ باہر ٹیبل پہ رکھے نظر آئے تھے جس پر واضح لکھا ہوا تھا وجدان ملک کے لئے، تو میں اپ کے لئے لے آیا ”
وجدان ملک چلایا تھا اور اپنی جگہ سے کھڑا ہو چکا تھا ۔
” سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھو ”
” سر اس کارنر کا خراب ہو چکا ہے”
ابراہیم کے جواب پہ، اس نے جوابا ابراہیم کو گھورا تھا جبکہ وہ نظریں چرا گیا۔
” احمق ہو تم، تو ٹھیک کیوں نہیں ہوا ابھی تک ”
وجدان ملک پھر سے چلایا تھا جبکہ اس کے موبائل پہ کال آنے لگی اس نے غصے سے کال ریسیو کی تھی۔
” ہیلو۔۔۔ ”
” وجدان ملک ”
بھاری اواز پہ وہ چونکا تھا۔
” میرا گفٹ کیسا لگا ؟؟”
اس کی نظر ٹیبل پہ پڑے پیپرز پہ گئی اور چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔
” کون ہو تم ؟”
اس نے چلانے کی ناکام کوشش کی تھی۔
” The Great Hacker ..
جو تمہاری دنیا اور تمہیں ہیک کر چکا ہے ”
وہ بھاری اواز گونجی تھی لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ کال کے دوسری طرف اس کا وہی بیٹا ہے جسے اس نے ہمیشہ ڈی گریڈ کیا ہے ۔
” کیا چاہتے ہو تم ؟؟ ”
وجدان ملک کے سوال پہ مقابل ہنس پڑا تھا ۔
” وقت کے ساتھ ساتھ، ایک ایک کر کے ہی بتاؤں گا۔۔ ابھی بس یہ بتانا تھا کہ تم مکمل میری مٹھی میں ہو اور تمہیں کوئی میری پہنچ سے باہر نہیں کر سکتا کیونکہ جس طرح سے، بادل کے ٹکڑے مل کے، پورے آسمان کو اپنی دسترس میں کرتے ہیں ویسے ہی تم بھی میری دسترس میں ہو اور اب گنتی شروع کرو ۔۔۔ میں ایک ایک کر کے، تمہاری بربادی کا پروانہ تمہیں سینڈ کرتا جاؤں گا ”
” یو باسٹرڈ۔۔۔۔ ”
وجدان ملک چلایا تھا لیکن اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی، کام ڈسکنیکٹ ہو چکی تھی، کانپتے ہاتھوں اس نے موبائل اسکرین دیکھی تھی، ماتھے پہ آیا پسینہ دوسرے ہاتھ سے صاف کرتا، وہ اپنی گھبراہٹ پہ قابو پانے کی کوشش کرنے لگا۔ موبائل کو بمشکل اس نے ٹیبل پہ رکھا تھا اور اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا، وہ اپنے ہاتھ کی لرزش پہ قابو پانے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔
” آپ ٹھیک ہے سر ؟؟”
ابراہیم کے سوال پہ وہ چونکا تھا ۔
” ہہہ؟؟ ہاں۔۔۔ ت ۔۔ تم یہ نمبر ٹریس کرو کس کا ہے ؟؟”
وہ ٹیبل پہ پڑے اپنے موبائل کی طرف اشارہ کرنے لگا۔ اس میں اب اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ موبائل کو ہاتھ لگائے،بلکہ اسے خوف محسوس ہو رہا تھا اس موبائل سے۔ تبھی خوفزدہ آنکھوں سے، نظریں چرا کے، وہ اپنا سینہ مسلنے لگا جبکہ ابراہیم نے آگے بڑھ کے، جھک کے، وی موبائل اٹھایا تھا
” اوکے سر ”
” ہممم ”
وجدان ملک نے ہنکارا بھرا تھا جبکہ ابراہیم سیدھا ہو کے، موبائل ہاتھ میں لیے اسے دیکھنے لگا۔
” anything else sir ?”
جبکہ وجدان ہاتھ اٹھا کے، اسے منع کیا تھا اور ساتھ ہی سر نفی میں ہلایا تھا ۔ اس میں بولنے کی بھی ہمت نہیں تھی۔ ابراہیم سر اثبات میں ہلاتا اس کے آفس سے باہر نکلا تھا جبکہ وہ خوفزدہ آنکھوں سے اس آفس کے چاروں طرف دیکھ رہا تھا، آج اسے اپنے ہی آفس سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔ کون تھا وہ ہیکر؟؟ جو اسے کنگال کرنا چاہ رہا تھا۔ اس کا کون سا دشمن اب نئی چال چل کے، اس پہ وار کرنا چاہ رہا ہے ۔ وہ کچھ نہیں جانتا تھا لیکن خوف نے اس کی حالت ابتر کر دی تھی۔
••••○○○○●●●●●○○○○••••••
” پمی ؟؟”
وہ جو سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھی، اکاسمہ کی اواز پہ، پھر سے سر اٹھا کے اسے دیکھا تھا۔ جس کی آنکھوں میں اس کے لئے پریشانی تھی اور پمی حیران تھی کہ ایک اجنبی لڑکی، ایک وکیل جو روز ایسے کیسز ہینڈل کرتی ہے، اسے کیا دلچسپی ہے اس میں، جو اس کے لئے ایسے پریشان ہو رہی ہے۔
” تم وہی کہو گی جو میں نے سمجھایا ہے۔ صرف self defense کے طور پہ، تم نے اس کا قتل کیا کیونکہ وہاں لائیر اکاسمہ کی جان کو خطرہ تھا اور وہ شخص ہم دونوں پہ قاتلانہ حملہ کر رہا تھا۔ آئی سمجھ؟”
اکاسمہ اسے سمجھا رہی تھی جبکہ اس نے سر جھٹکا تھا
” میم صاب، کیوں کر رہی ہے آپ یہ سب؟؟”
اکاسمہ ان سب باتوں کے جواب میں، پمی کے اس سوال پہ گہرا سانس لے کے رہ گئی۔
” کیونکہ تم میری کلائنٹ ہو اور تمہارا کیس میرے پاس ہے اور مجھے انصاف دلانا ہے تمہیں ”
” میم صاب، کیا فائدہ انصاف کا ؟؟ یہ قانون میرے کو انصاف نہیں دلائے گی میم صاب۔ یہ سب میرے کو کچرا سمجھتی ہے، میرے پہ ہنسے گی اور آپ پہ بھی ہنسے گی۔ کوئی انصاف نہیں چاہئے میرے کو۔ میرا گھر بار لٹ گیا،میری فیملی اجڑ گئی، میرے کو انصاف نہیں چاہئے ”
تلخ لہجے میں کہتے کہتے، اس نے اپنی بھرائی آواز کا گلا گھونٹا تھا جبکہ اکاسمہ کی آنکھیں نم ہوئی تھی۔ دل جیسے گہری کھائی میں ڈوبا تھا اس کا۔ پمی پہ بہت ظلم ہوا تھا، وہ توڑ دی گئی تھی، ہار گئی تھی وہ ۔ اس نے آہستگی سے ہاتھ بڑھا کے، ٹیبل پہ رکھے پمی کے ہاتھ پہ رکھا تھا لیکن وہ تیزی سے اپنا ہاتھ چھڑا گئی۔
” میں گندی ہے میم صاب، آپ کو میلا کر دے گی میں”
تیزی سے نظریں چراتی وہ کہنے لگی جبکہ اکاسمہ نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
” پمی ؟؟”
پمی نے ایک نظر اسے دیکھا تھا اور پھر سے نظریں چرا گئی تھی۔
” میں کیس سے قدم پیچھے نہیں ہٹا رہی اور نہ تمہیں ایسا کرنے دوں گی۔ میں اپنے کیس ادھورے نہیں چھوڑتی اور تمہارا کیس میں ہی ہینڈل کر رہی ہوں، دو دن بعد کورٹ میں تم وہی کہو گی جو میں نے سمجھایا ہے ۔ ابھی میں جا رہی ہوں ”
وہ کچھ دیر پمی کے جھکے سر کو دیکھتی رہی جو سر جھکائے، مضطرب انداز میں لب کاٹ رہی تھی اور پھر سر جھٹک کے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ آہستگی سے پمی کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا جبکہ پمی چونک کے سر اٹھا کے اسے دیکھنے لگی۔
” مجھے ناامید مت کرنا پلیز ”
پمی اسے دیکھے گئی جبکہ وہ اپنا بیگ کندھے پہ ڈالتی مڑی تھی اور دروازے کی طرف بڑھی تھی۔ وہاں سے ہوتی وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اب باہر کی طرف جا رہی تھی، اس کے چہرے پہ سنجیدگی تھی، لب بھینچے ہوئے تھے جبکہ آنکھوں میں ایک عزم تھا، پمی کو انصاف دلانے کا عزم۔ اگر وہ پمی کو انصاف دلانے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس ملک میں موجود، پمی جیسی بہت سے انسانوں کو انصاف دلانے کا باعث بنے گی، ان کی آواز بنے گی ۔ باہر نکل کے گہرا سانس لیتے، اس نے جیسے ہی ٹرن لیا، سامنے چوڑے شانے والے شخص سے ٹکرا کے تیزی سے پیچھے ہوئی تھی۔
” اوہ ایم سوری ۔۔ ”
مقابل شخص نے تیزی سے معذرت کی تھی جبکہ اکاسمہ لب بھینچے اسے دیکھ رہی تھی۔ متناسب قد کا، وہ گندمی رنگت کا مالک مرد تھا، جس کے چہرے پہ ہلکی ہلکی شیو تھی لیکن اس کی آنکھیں بےحد مسکرا رہی تھی۔
” آپ کو لگی تو نہیں؟؟”
اس نے اکاسمہ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا جب احمر اس کے اور اکاسمہ کے بیچ آ کے، اس کے ہاتھ پرے کر چکا تھا۔ وہ شخص، اچانک سے سامنے آ جانے والے احمر کو اجنبی نظروں سے دیکھنے لگا جبکہ اکاسمہ اچھنبے سے، احمر کی پشت دیکھنے لگی۔ اس شخص سے بنا کچھ کہے، وہ سائیڈ پہ ہو کے، اب اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا۔
“میم اکاسمہ، مجھے کیس ڈسکس کرنا تھا،
Sorry for interruption ”
وہ مسکرا کے کہنے لگا جبکہ اکاسمہ نے آنکھیں گھمائی تھی اور سائیڈ سے ہو کے آگے بڑھی تھی جبکہ احمر نے اس شخص کو دیکھتے آنکھ ونک کی تھی اور اکاسمہ کے پیچھے ہی جانے لگا جبکہ قادر نامی اس شخص نے، شرر بار نگاہوں سے، اس کی پشت گھوری تھی جو تیزی سے چلتا ہوا، اکاسمہ تک پہنچ گیا تھا۔
” اب کے ہاتھ ائی، جانے نہیں دوں گا ”
زیر لب بڑبڑاتا، وہ ان کو ہی دیکھ رہا تھا جو گاڑی میں بیٹھ رہے تھے اور گاڑی گیٹ سے نکل چکی تو قادر گہرا سانس لیتا مڑا تھا اور لب بھینچے وہ اس کام کے لئے جانے لگا جس کے لئے وہ آیا تھا۔
••••••○○○○○●●●●●●○○○○•••••
فائل سائیڈ پہ رکھ کے، عفان جیسے ہی مڑا تھا، اسی تیزی سے عندلیب نے بھی نظریں چرائی تھی جبکہ عفان زیر لب مسکراتا اب اس کی لائی فائل دیکھنے لگا جبکہ عندلیب پھر سے، چور نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
” یہ فائل مس زیب کی ہے ؟”
” ج ۔۔۔ جی ”
آہستگی سے جواب دے کے، وہ نظریں جھکا گئی تھی کہ دل کی دھڑکنیں بڑھی تھی اور ان دھڑکنوں پہ اختیار ختم ہونے لگا تھا اور عندلیب کو لگا کہ اگر مزید دیکھے گئی اس شخص کو تو شاید سانسیں بھی رکتی محسوس ہو اسے۔ اور سامنے بیٹھا یہ شخص اس قدر خوبصورت ہے، وہ کہاں اس قابل کہ اس شخص کو دیکھتے رہنے کی گستاخی کرے یا اس سے محبت کرنے کی خطا کرے۔ عفان نے فائل سائیڈ پہ رکھ ایک اچٹتی نظر اس کے جھکے سر پہ ڈالی تھی جو گود میں رکھے ہاتھوں کو ایکدوسرے سے مسل رہی تھی۔
” ہاتھوں سے کھیلنے کا کھیل اچھا ہے، لیکن اتنا بھی نہیں کہ آپ ان پہ ظلم کی انتہا ہی کر دے ”
عندلیب نے چونک کے اسے دیکھا تھا جو اپنا موبائل چیک کر رہا تھا اور پھر سائیڈ پہ رکھ کے، اس نے عندلیب کو مسکرا کے دیکھا تھا جبکہ وہ نہ جانے کیوں شرمندہ سی ہو گئی تھی۔
” دل میں بات رکھ لینے سے بہتر ہے کہ سامنے والے کو بتا دیں، کیونکہ خود پہ ظلم کرنے سے بہتر ہے آپ اپنی بات سے آگاہ کر دے سامنے والے کو ”
عفان زیر لب مسکرا کے کہہ رہا تھا جبکہ عندلیب نظریں چرا گئی۔
” ن ۔۔ نہیں ایسا کچھ نہیں ہے، میں تو جانے کا سوچ رہی تھی بس ”
اس نے بمشکل کہنے کی کوشش کی تھی اور ساتھ ہی اٹھنے لگی ۔
” اپ کی دھڑکنیں یہاں تک سنائی دے رہی ہے عندلیب ”
عفان کی بات پہ، وہ جیسے سکتے کی کیفیت میں رک کے اسے دیکھنے لگی جو سیٹ پہ آرام دہ انداز میں بیٹھا، مسکراتی گہری نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
” آپ کو کوئی ہارٹ پرابلم بھی ہے ؟؟ اس کا آئیڈیا نہیں تھا مجھے لیکن ۔۔۔ ”
وہ عندلیب کی حیران آنکھوں میں دیکھتا کہہ رہا تھا لیکن اپنی بات روک کے، وہ ٹیبل پہ دونوں بازو رکھ کے، تھوڑا سا خم ہوا تھا جبکہ نظریں مسلسل عندلیب پہ تھی جو بےجان وجود کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔
” میں ایک ہارٹ سرجن بھی ہوں، ”
ٹیبل پہ رکھا عندلیب کا نازک ہاتھ مزید بےجان ہوا اور وہ کرسی پہ گرنے والی ہوئی تھی لیکن تیزی سے کرسی کی پشت پہ ہاتھ رکھ کے، سہارا لیا تھا اس نے۔ گال حد درجہ سرخ ہو کے دہکنے لگے تھے جبکہ دل کی دھڑکنیں مزید بڑھنے لگی تھی۔ پلکیں گالوں پہ سایہ فگن ہوئی تھی۔ فرار کا راستہ بہترین آپشن تھا اس کے لیے، لیکن اس شخص کی گہری نگاہوں سے کیسے چھپائے خود کو، جو مسلسل اس پہ ہی ٹھہری ہوئی تھی تو کیا اس کی چوٹی پکڑ لی گئی تھی۔ لیکن اتنی جلدی ۔؟؟
بےبس آنکھیں اٹھی تھی، عفان کو ایک نظر دیکھ کے، پھر سے چرا دی گئی تھی۔
” چلئیے مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے ”
ٹیبل پر سے، اپنا موبائل اٹھاتا، وہ کھڑا ہوا تھا اور ایک نظر عندلیب پہ ڈال کے، آگے بڑھا تھا جبکہ عندلیب مدھم پڑتی سانسوں کے بیچ، خود میں ہمت مجتمع کرتی، اس کی پشت دیکھنے لگی جو اب دروازہ کھول کے، سائیڈ پہ ہو کے اسے ہی دیکھ رہا تھا جبکہ بےبس نگاہوں کی نافرمانی پہ، قابو پاتی وہ کرسی کی پشت پر سے، اپنا ہاتھ ہٹا چکی تھی
” کیا بتانا ہے ؟؟”
بمشکل سوال کیا تھا جبکہ عفان نے کندھے اچکائے تھے۔
“جانے پہ ہی بتاؤں گا ”
اس نے اثبات میں سر ہلاتے، اپنے کمزور پڑتے اعصاب کو مجتمع کیا تھا اور اپنے قدموں کو گھسیٹتی اس کے قریب گئی تھی۔ ایک نظر عفان پہ ڈال کے، وہ دروازے سے باہر نکلی تھی جبکہ عفان نے بھی اس کے پیچھے ہی باہر نکلا تھا اور دروازہ بند کرتا، وہ عندلیب کے ساتھ آگے بڑھ گیا تھا۔ کیا بتانا تھا عفان کو، یہ عندلیب نہیں جانتی تھی لیکن خود کو ہمت دلاتی، وہ عفان کے ساتھ چلتی جا رہی تھی۔
••••••○○○○○○●●●●●●○○○○○○•••••
” زخمیوں کی جتنی بڑی تعداد ہاسپٹل میں موجود ہیں، ایسے لگتا ہے جیسے آدھا کراچی ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہو”
ہاسپٹل کے احاطے سے باہر اتا، خیام تاسف بھرے انداز میں کہہ رہا تھا جبکہ عاریز کی پرسوچ نظریں چاروں طرف کا جائزہ لے رہی تھی۔
” فاروق ملک سے ہی لنک کرتا ہے یہ سب ، پولیس ڈیپارٹمنٹ سے باہر جانے کی، سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق، اس کی گاڑی جیسے ہی ہجوم سے باہر نکلی ہے، تبھی دھماکہ ہوا ہے ”
” بدنامی تو پولیس ڈیپارٹمنٹ کی ہی ہو رہی ہے ان سب میں”
خیام کا لہجہ دکھ بھرا تھا جبکہ عاریز اسے دیکھنے لگا۔
” شہریوں کو موقع چاہیئے پولیس کے خلاف جنگ کرنے کا ”
” اب اس فاروق ملک کا کیا کریں؟؟ اوپر سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے شہزاد کو جیل سے آزاد کرانے کا ”
خیام اپنی کنپٹی سہلانے لگا۔
” میں جیلان پاشا سے بات کرتا ہوں ”
اسے تسلی بھرے انداز میں کہتا، عاریز خان کال ملا رہا تھا۔
” کہاں ہو اکاسمہ؟؟”
” میں گھر جا رہی ہوں، بارز کے سلسلے میں”
اکاسمہ گاڑی میں بیٹھی، شیشے کے پار دیکھتی کہہ رہی تھی۔
” کیا مطلب ؟؟ کیا ہوا ہے بارز کو ؟؟”
عاریز اچھنبے سے پوچھنے لگا۔
” نہیں جانتی میں کچھ عاریز، مما کی کال آئی تھی اور وہ بہت پریشان تھی۔ ”
گاڑی رکی تھی اور اکاسمہ نیچے اترنے لگی۔
” ٹھیک ہے، احمر کو جانے کا کہہ دو، میں شام کو آتا ہوں تمہیں لینے ”
عاریز کی بات پہ اس نے کال بند کر کے، احمر کو جانے کا کہہ دیا جبکہ خود گہرا سانس لیتی گھر کی طرف بڑھی تھی لیکن دروازہ کھولنے پہ، اسے اپنی ماں کا سفید پڑتا پریشان چہرہ نظر آیا ۔
” کیا ہوا ہے مما ؟؟”
اکاسمہ نے تیزی سے آگے بڑھ کے، انہیں خود سے لگایا تھا۔
” بارز کو بچا لو اکاسمہ ”
ان کی بھرائی اواز پہ، اکاسمہ کی رہی سہی ہمت بھی ختم ہو گئی تھی۔
••••••○○○○○●●●●●○○○○○••••••
