Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 13

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 13

 

آج 14 فروری ہے ، بہت سے لوگوں کے لئے یہ باقی دنوں کی طرح عام سا دن ہے لیکن کچھ لوگوں کے لئے یہ دن بےحد خاص اہمیت کا حامل ہے اور ویسے ہی کراچی کے علاقے ناظم آباد میں رہائش پذیر سارہ کے لئے بھی یہ بےحد خاص دن تھا کیونکہ وہ آج اپنے گھر کی دہلیز پار کر کے اس راستے پہ چل پڑی تھی جس کی منزل ویسے تو حسین نظر آ رہی تھی لیکن درحقیقت بےحد بھیانک تھی۔ اس نے جاتے ہوئے ایک آخری نظر بھی پیچھے مڑ کے اپنے گھر پہ ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی، جہاں وہ لوگ بستے تھے جن کی عزت روندنے جا رہ تھی وہ آج۔ بہت سارے رنگین اور خوبصورت خواب دکھا کے اسے اپنے فارم ہاؤس کے بیڈ روم میں لے جانے والا شہزاد، اب ویلیںٹائن ڈے کے نام پہ اس کی چادر اتار رہا تھا اور پھر اس کا حریم اترا تھا اور پھر وہ نوچنا شروع ہوئی تھی۔
” شہزاد you are hurting me ”
وہ جھنجھلائی تھی جبکہ وہ اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے رک کے سارہ کو دیکھنے لگا ۔
” اوہ سوری ۔۔ ایک کام کرتے ہیں۔۔ come .. come ”
وہ اسے لیے صوفے پہ گیا تھا اور پاس پڑا ڈرگ اس کی طرف بڑھانے لگا ۔
” یہ کیا ہے ؟؟”
سارہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی ۔
” یہ سکون ہے ، نشہ ہے اور پھر تمہیں درد اچھا محسوس ہونے لگے گا ۔۔ let’s try ”
شہزاد اس کی طرف بڑھاتا کہنے لگا جبکہ وہ ڈرگ ٹیبلیٹس کو عجیب نظروں سے دیکھنے لگی ۔
” trust me Sara..
میں ہوں ناں ”
شہزاد کے نرم لہجے پہ سارہ نے ہاتھ آگے بڑھا کے وہ لینے کی کوشش کی تھی لیکن پھر ہاتھ جھٹک کے وہ سر نفی میں ہلا گئی ۔
” مجھے نہیں لینا یہ “-
“کیوں؟؟”
شہزاد ماتھے پہ بل ڈالے اسے دیکھنے لگا۔
” دور کرو اسے مجھ سے ۔ ”
اس نے ہاتھ سے شہزاد کا ہاتھ پرے کیا تھا جس میں وہ ڈرگ ٹیبلیٹس موجود تھی جبکہ شہزاد نے شرر بار نگاہوں سے اسے دیکھتے اس کی ٹھوڑی دبوچی تھی۔
” میرے ہاتھ کو دھکا کیسے دیا تم نے ؟؟ میں نرمی سے بات کر رہا اور تم نخرے دکھا رہی ۔ چلو جلدی سے لو ”
وہ سارہ کے منہ میں زبردستی ٹیبلیٹس دینے لگا جبکہ وہ نفی میں سر ہلاتی دونوں ہاتھوں سے اس کے سینے پہ مارنے لگی لیکن شہزاد کے سامنے اس کی طاقت کمزور پڑنے لگی تھی اور شہزاد اس پہ غلبہ پاتا اسے صوفے پہ دھکا دے چکا تھا اور اب اس پہ جھکا زبردستی اس کے منہ وہ ڈرگ ٹیبلیٹس ٹھونسنے لگا اور ساتھ ہی اس کا بھی اپنے ہاتھ سے دبوچ گیا تھا ۔۔
” کھاؤ۔۔ جلدی کھاؤ۔۔ ”
وہ اس کے منہ پہ اپنے ہاتھ کا زور ڈال رہا تھا جبکہ سارہ کو اپنی سانس بند ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔ اچانک دروازہ کھلا تھا اور وہ چونک ان پانچوں کو دیکھنے لگا۔

☆☆☆☆★★★☆☆☆☆☆

عفان نے لب بھینچے ان دونوں کو ایکدوسرے کے بےحد قریب دیکھا تھا، اکاسمہ اسے ہی دیکھ رہی تھی جبکہ عاریز اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا اور پیچھے سے اندر آتی ملکہ کو دیکھنے لگا ۔
” اکاسمہ میری جان ۔ ”
وہ روتے ہوئے آگے بڑھ کے اکاسمہ کے بیڈ پہ بیٹھ کے اسے گلے سے لگا چکی تھی۔
“، میری جان، میری بچی،تمہیں کچھ ہوا تو نہیں۔ ”
وہ اب اکاسمہ کا چہرہ اور کندھے دونوں ہاتھوں سے چھو رہی تھی ۔
” ارے ماں میں ٹھیک ہوں، دیکھئیے آپ کے سامنے ہوں ”
ان کا ہاتھ چومتی اکاسمہ کہہ رہی تھی اور پھر نظر عفان پہ گئی ۔
” عفان ۔ ”
وہ بھی آگے بڑھا تھا اور اکاسمہ کا سر اپنے کندھے سے لگا کے اسے دیکھنے لگا ۔
” میری بہادر بہن لائیر صاحبہ ”
اکاسمہ ہنس پڑی تھی جبکہ نظر بھر کے اسے دیکھتا کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ سامنا فیاض حیات سے ہوا اور وہ وہیں رک گیا ۔
” اسلام علیکم سر ۔ ”
فیاض حیات بنا جواب دیے اسے غور سے دیکھ رہے تھے جبکہ وہ جزبز ہوتا ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
” شازم خان کے بیٹے سے مجھے یہ امید بلکل نہیں تھی کہ یوں میری فیملی کی عزت سے کھیلے گا۔ ”
عاریز خان انہیں دیکھنے لگے جن کے چہرے پہ تاسف اور غصے کے تاثر تھا۔
” سر آپ میرے ڈیڈ کے فرینڈ ہیں اور میں آپ کی اور آپ کی فیملی کی ریسپکٹ ویسے ہی کرتا ہوں جیسے کہ اپنی فیملی کی کرتا ہوں اور اکاسمہ سے نکاح۔۔۔۔ ”
اسے رکنا پڑا کیونکہ فیاض حیات کی آنکھوں کا رنگ بدلا تھا پل بھر کے لئے ۔
” میرا مطلب ہے کہ مس اکاسمہ کو کچھ پرابلمز فیس کرنی پڑی تھی ایک کیس کے حوالے سے، تبھی یہ ڈیسژن لینا پڑا، سر آپ جیسا چاہے گیں مجھے منظور ہیں، بٹ سر میں اکاسمہ سے محبت کرتا ہوں اور اکاسمہ کو ہمیشہ کے لئے، فار لائف ٹائم اپنے نکاح میں رکھنا چاہتا ہوں اور کسی بھی قیمت میں اپنی بیوی سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا۔ ”
فیاض حیات لب بھینچے اسے دیکھ رہے تھے جبکہ وہ اپنی بات کہہ کے نظریں جھکا کے وہاں سے جانے لگا کہ اسے اب جلد سے جلد گھر جا کے شازم خان سے بات کرنی تھی کہ اکاسمہ کو وہ عزت و احترام کے ساتھ اپنے گھر لانا چاہتا ہے ہمیشہ کے لئے جبکہ فیاض حیات وہاں کھڑے اس کی پشت دیکھ رہے تھے، ان کی آنکھوں سوچوں کا تسلسل تھا۔
☆☆☆●●●●●●☆☆☆☆☆

وہ واشروم سے جیسے ہی باہر آئی تو شہزاد کو کمرے میں اپنا منتظر پایا، درمکنوں پہ نظر پڑتے ہی وہ تیزی سے اس کے قریب آیا تھا۔
” در مجھے تم سے بات کرنی ہے پلیز ”
درمکنوں نے غور سے اس کی گھبراہٹ دیکھی تھی ۔
” میں ابھی کچھ بزی ہوں، میں کچھ دیر میں تم سے۔۔۔ ”
لیکن اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی جب شہزاد اس کا بازو پکڑ کے اسے اپنے ساتھ کھینچ کے صوفے پہ بٹھایا تھا۔
” نہیں ابھی سنو میری بات ”
درمکنوں حیران سی صوفے پہ جا بیٹھی تھی جبکہ شہزاد اپنے ماتھے پہ آیا پسینہ صاف کرنے لگا جبکہ در اس کے پریشان چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
” در پلیز ہیلپ می، پلیز مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے پلیز در ”
وہ بنا رکے کہے جا رہا تھا ۔
” کیا ہوا ہے شہزاد؟؟”
درمکنوں اس کے پریشان چہرے کو دیکھتی پوچھنے لگی۔
” مجھ سے غلطی ہو گئی ہے لیکن در مجھے جیل نہیں جانا، پلیز میری ہیلپ کرو ”
شہزاد منت پہ اتر آیا تھا ۔
” کیا ہوا ہے شہزاد؟؟ کیا کیا ہے تم نے؟؟”
درمکنوں کو گھبراہٹ نے گھیر لیا تھا اب، کیا ہوا تھا اب ؟ کیا کر دیا تھا اس نے اب ؟
” وہ ، وہ میری وجہ سے مر گئی ہے ”
وہ نظریں چراتا کہنے لگا لیکن چہرے پہ خوف اور گھبراہٹ تھی۔
” ک ۔۔ کون ؟؟ ”
درمکنوں کی آنکھوں میں خوف در آیا تھا ۔
” تمہارے ہاسپٹل ہی آئی ہے، پلیز کہہ دو رپورٹ میں کہ سوسائڈ کا میٹر ہے، ڈرگز اوور ڈوز نہیں ہے پلیز ”
وہ کہہ رہا تھا اور درمکنوں اپنی جگہ سے کھڑی ہو کے دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔
” سب جانتے ہیں میری گرل فرینڈ تھی وہ، تو شک مجھ پہ جائے گا پلیز در اپنے بھائی کے لئے یہ سب بولو پلیز میں پھر کھبی غلط کام نہیں کروں گا پلیز در”
وہ اب بھی کہے جا رہا تھا جبکہ درمکنوں چاہ رہی تھی کہ اس کا بھائی چپ کر جائے اور وہ کچھ نہ سنے یا وہ بہری ہو جائے اور کچھ سن نہ پائے ۔
” میں جھوٹ بول دوں؟ تم یہ چاہ رہے ہو مجھ سے ؟”
وہ اثبات میں سر ہلا رہا تھا جبکہ درمکنوں نے اسے تھپڑ مارا تھا ۔
” دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔ نکلو میرے روم سے ابھی کے ابھی ”
وہ چلائی تھی جبکہ اس نے درمکنوں کے دونوں ہاتھ تھام لیے تھے ۔
” در پلیز میں تمہارا بھائی ہوں، پلیز ہیلپ کردو ، یار پلیز ناں میں بھائی ہوں تمہارا، ایسے تو مت دیکھو مجھے پلیز یار ”
وہ جھنجھلایا چیخا تھا جبکہ درمکنوں بمشکل اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑا کے دروازے کی طرف بڑھی تھی اور دروازہ کھول دیا تھا۔
” نکلو یہاں سے ”
” در پلیز یار ”
وہ چلاتا اس کے قریب آیا تھا جب اچانک وہاں فاروق آئے تھے۔
” کیا ہو رہا ہے یہاں؟؟”
وہ دونوں رک کے فاروق کو دیکھنے لگے تھے ۔
” شہزاد قاتل ہے بابا۔ اس نے قتل کیا ہے ”
وہ غصے سے پھٹ پڑی تھی جبکہ لہجے میں درد پنہاں تھا۔
” ن ۔۔۔ نو ڈیڈ میں نے کچھ نہیں کیا، یہ جھوٹ بول رہی ہے ”
شہزاد نے تیزی سے کہنے کی کوشش کی تھی۔ ۔
” نکلو میرے روم سے ۔ ”
وہ شہزاد کو دیکھتی چلائی تھی جبکہ فاروق شہزاد کو دیکھ رہے تھے ۔
” میرے اسٹڈی میں آؤ ”
یہ کہہ کے فاروق مڑ کے جانے لگے تھے جبکہ شہزاد ایک نظر درمکنوں پہ ڈالتا باہر نکلا تھا ۔
” ڈیڈ پلیز مجھے بچا لیں، پلیز ڈیڈ اب میں کوئی غلط کام نہیں کروں گا، آئی پرامس ڈیڈ، بٹ پلیز مجھے بچا لیں ”
” میرے اسٹڈی میں آؤ ”
ان کی آواز میں گرج تھی اور شہزاد اس کے بعد خاموش ہو گیا تھا ۔
▪︎☆☆☆☆¤¤¤▪︎☆☆☆▪︎▪︎☆

وہ اپنے روم میں آکے بیڈ پہ لیٹنے لگی تھی، رات کے گیارہ بج رہے تھے اور اس پہ نیند کا غلبہ بھی ہلکا ہلکا آ رہا تھا تبھی بھرپور انگڑائی لیتی وہ تکیے پہ سر رکھ کے آنکھیں موندنے کا سوچ رہی تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا اور ملکہ اندر آئی تھی، اکاسمہ نیم وا آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی ۔
” ماں ”
” وہ باہر آیا کیوں کھڑا ہے ؟؟”
ماتھے پہ بل ڈالے نظریں چراتی کہہ رہی تھی۔
” کون ؟؟”
اکاسمہ کی سوالیہ آنکھوں میں انہوں نے جھنجھلا کے دیکھا تھا ۔
” وہی ، وہی جو ہاسپٹل میں تھا، ارے وہی ”
وہ کہنے کی کوشش کر رہی تھی جب اکاسمہ اچانک اٹھ بیٹھی تھی ۔
” Mr Prosecutor ”
ملکہ نے حیرت سے اپنی بیٹی کے چہرے کو دیکھا تھا جہاں خوشگوار حیرت پھیلی تھی، اس سے پہلے ملکہ کوئی جواب دیتی، اکاسمہ تیزی سے بیڈ سے نیچے اتری تھی اور دروازے کی طرف بڑھی تھی جب ملکہ نے اس کا بازو تھام کے اسے روکا تھا۔
” اکاسمہ مجھے لگتا ہے یہ غلط ہے، ہمارے دروازے کے باہر کھڑا کیا چاہ رہا ہے وہ ؟ انسان بن کے اپنے باپ کے ساتھ یہاں آئے ”
” میں کہہ دوں گی۔ ابھی تو جانے دیں وہ چلا جائے گا ”
اکاسمہ تو جیسے ہوش میں نہیں تھی کہ وہ کیا بات کرے کیا نہیں، ملکہ نے حیرت سے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ مسکراتی دروازے ہی طرف بڑھی تھی ۔
” تمہارے بابا اور بھائی گھر ہی ہیں ” ۔
اکاسمہ نے رک کے انہیں دیکھا تھا ۔
” ماں پلیز ”
کمرے سے نکل کے لاؤنج سے ہوتی وہ میں دروازے تک آئی تھی اور دروازہ کھول کے باہر نکلی تھی جہاں عاریز خان اپنی کار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا، اکاسمہ کو دیکھ وہ سیدھا ہوا تھا اور چلتا ہوا اس کے قریب آیا تھا جبکہ وہ مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” کیسی ہو ؟؟”
نظر بھر کے اکاسمہ کے چہرے کو دیکھتا وہ پوچھنے لگا جبکہ وہ مسکراتی کندھے اچکا گئی ۔
” تم یہاں کیسے ؟؟”
” تمہیں دیکھنے ۔”
اس کے بکھرے بال اپنی شہادت کی انگلی سے سنوارے لگا جبکہ وہ مسکراتی اس کا بازو تھامے گھر کے پچھلی سائیڈ کی طرف گئی تھی۔
” کیا ہوا ہے ؟”
” اسپیشل ملاقات ہے ہماری،کوئی دیکھ نہ لیں ”
اکاسمہ ادھر ادھر دیکھتی کہہ رہی تھی جبکہ عاریز نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں بھر کے اسے روکا تھا؟ اکاسمہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جنہیں ان کہے جذبے نمایاں تھے۔
” ریلیکس ، تم بیوی ہو میری اور تم سے ملنے کے لئے میں خوفزدہ نہیں ہوں ”
” نہیں وہ بابا اور بھا۔۔۔۔ ”
وہ کہنے لگی تھی جب عاریز نے اس کے لبوں کو ہاتھ کے انگوٹھے سے رب کیا تھا، وہ خاموش ہو گئی تھی۔
” ہشششششش۔۔۔ ان سے تمہیں یہاں سے ہمیشہ کے لئے لے جانے کی پرمیشن لینے بھی آ رہا ہوں میں ”
اس کی گھمبیر سرگوشی پہ اکاسمہ کی بھاری ہوتی پلکیں لرز گئی تھی۔
” کیونکہ تمہیں خود سے دور رکھنا میرے لئے محال سا ہے مسز اکاسمہ عاریز خان ”
اس سرگوشی پہ اب کے تو دل کی دھڑکنیں بھی بےترتیب ہونے لگی تھی۔
” تو کیا آپ میرے ساتھ، میرے گھر، میری زندگی میں آنا چاہے گی ؟؟”
اکاسمہ کے چہرے پہ ہلکی مسکان سی پھیلی تھی، جبکہ عاریز اس کے لبوں پہ جھکا تھا اور اس کے نرم لبوں کی نرماہٹ کو اپنی سانسوں میں محسوس کرتا وہ دھیرے سے پیچھے ہوا تھا جبکہ اکاسمہ آنکھیں بند کیے گہرا سانس لیتی پیچھے درخت سے جا لگی تھی۔ وہ جا رہا تھا اور تبھی اکاسمہ آنکھیں کھول کے اس کا ہاتھ تھام کے اسے روک چکی تھی، وہ زیر لب مسکراتا سوالیہ نظروں سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا، جبکہ اکاسمہ عاریز کا ہاتھ تھامے اس کے قریب ہوئی تھی، اس کی گردن کے گرد اپنے دونوں ہاتھوں کا گھیرا بنا کے وہ اب عاریز خان کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
” hey Mr Prosecutor.۔۔۔
اتنے قریب تو آ چکے ہو میرے،کہ میری سانسوں تک پہ دسترس حاصل کر لی، کل کو ایک قدم بھی پیچھے ہوئے تو میں کیس کر دوں گی ”
اس کی ادا پہ عاریز زیر لب مسکراتا اس کی کمر پہ ہاتھ رکھ کے اسے اپنے قریب کر چکا تھا کہ وہ عاریز کے سینے سے جا لگی تھی۔
” اور میں تو یہی چاہتا ہوں کہ تم میرا کیس ہائی کورٹ، سپریم کورٹ میں لے کے جاؤ اور یہ کیس کھبی سولو نہیں ہو اور میری آخری سانس تک میں تم میں اور تم میرے اوپر کیے کیس میں الجھی رہو ”
اکاسمہ مسکرا رہی تھی جب کوٹ کے پاکٹ سے عاریز نے اس کا موبائل نکال کے اس کے ہاتھ میں رکھا تھا ۔
” اپنا خیال رکھو، کسی بھی کیس میں الجھنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں، اور کل شام میرا انتظار کرنا تمہیں ہمیشہ کے لئے ۔۔۔۔ ”
باقی الفاظ ادھورے چھوڑ کے وہ زیر لب مسکرا دیا تھا جبکہ اکاسمہ لب دانتوں تلے دبا کے اسے دیکھنے لگی اور پھر اکاسمہ کے ماتھے پہ لب رکھ کے وہ چلا گیا تھا جبکہ اکاسمہ اب بھی لب دانتوں تلے دبائے اسے جاتا دیکھ رہی تھی ۔
☆☆☆●●●●●□□□□□●●●●●☆☆☆

” بابا۔۔ ”
فیاض حیات اپنے اسٹڈی میں بیٹھے اپنی سوچوں میں مگن تھے جب اکاسمہ کی اواز پہ وہ چونک کے اسے دیکھنے لگے اور وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی، ان کے قریب نیچے ان کے قدموں میں بیٹھی تھی۔
” اکاسمہ اٹھو بیٹا ”
فیاض حیات اسے کہنے لگے جبکہ وہ نفی میں سر ہلا گئی
” نہیں بابا، یہیں بیٹھنے دیں پلیز ”
وہ خاموشی سے اپنی بیٹی کو دیکھے گئے جبکہ اکاسمہ لب کاٹتی نظریں جھکائے ہوئی تھی اور جب پلکیں اٹھی تو بھیگی آنکھوں نے انہیں بےچین سا کر دیا تھا جبکہ اکاسمہ کے لب نیم وا ہوئے تھے۔
” بابا، آپ جیسا سمجھ رہے ہیں، آپ کی بیٹی ویسی بری نہیں ہے، مجھے آپ کی عزت اور وقار کا خیال ہے بابا، میں اپ کو بتانا چاہ رہی تھی لیکن آپ اسلام آباد میں تھے اور مجھے اپنی وکالت سے دستبردار ہونے کا کہا جا رہا تھا لیکن بابا آپ جانتے ہیں ناں کہ مجھے کس قدر محبت یے اس فیلڈ سے، میں نے کتنی محنت کی ہے اس فیلڈ میں آنے کے لئے بابا، تبھی یہ ۔۔۔ نکاح ہوا ”
وہ خاموشی سے اکاسمہ کو دیکھ رہے تھے۔
” بابا آپ اگر چاہتے ہیں تو میں چھوڑ دیتی ہوں عاریز کو، الگ ہو جاتی ہوں اس سے، مجھے آپ عزیز ہے، آپ جو کہے گیں مجھے قبول ہوگا لیکن پلیز بابا، مجھ سے ناراض مت ہو، پلیز ”
وہ رونے لگی تھی اور فیاض حیات جانتے تھے کہ کسی کے سامنے نہ رونے والی اکاسمہ، صرف انہی کے سامنے روتی ہے۔
” نکاح کوئی کھیل ہے اکاسمہ ؟؟ جو توڑ دو گی ؟؟”
اکاسمہ پھر سے انہیں دیکھنے لگی ۔
” آپ لاء پڑھ چکی ہے، آپ جانتی ہے ناں کہ اللہ کے قریب یہ فعل ناپسندیدہ ہے، آپ کیسے سوچ سکتی ہے طلاق کا ؟؟”
وہ اسے سمجھا رہے تھے جبکہ وہ شرمندہ سی ہو گئی تھی۔
” بابا میں ۔۔۔ ”
” میں جانتا ہوں، میری بیٹی کچھ غلط نہیں کر سکتی، دکھ ہوا، غصہ بھی آیا لیکن کوئی ریزن ہوگا جو میری بیٹی نے اتنا بڑا قدم اٹھایا۔ میں کھبی نہیں چاہوں گا کہ میری بیٹی اپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے برباد کرے، یا کوئی بھی ناپسندیدہ فعل انجام۔دے جو اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں یے۔ عاریز خان اچھا انسان ہے، فیملی بیک گراؤنڈ بھی اچھا ہے، مجھے کوئی اعتراض نہیں میری بچی، آپ وہاں خوش رہے گی ۔۔ میں جانتا ہوں ”
ان کی آواز بھرا گئی تھی جبکہ اکاسمہ انہیں دیکھتے دیکھتے رو دی تھی ۔ فیاض حیات نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا۔
” اب اس میں کیا رونا اکاسمہ، میری بہادر بیٹی کو دھوم دھام سے رخصت کروں گا میں ”
” بابا”
اکاسمہ کے چہرے پہ حیا کے رنگ بکھرے تھے اور وہ مسکرا دی تھی جبکہ فیاض حیات بھی مطمئن سے مسکرائے تھے۔

○○○○●●●●●●●●○○●●●●

” تو کیا صابرالدین؟؟ کچھ سمجھ نہیں آ رہی ”
خیام اپنی کنپٹی سہلاتے کہہ رہا تھا جبکہ عاریز لب بھینچے کچھ سوچ رہا تھا۔
” کچھ تو ہے جس تک ہم پہنچ نہیں پا رہے، اکاسمہ کے بیان کے مطابق، وہ کڈنیپر صابرالدین ہے لیکن ماسک کے پیچھے موجود شخص کوئی اور تھا۔ کچھ مسنگ ہے ”
وہ اب خیام۔کو دیکھ رہا تھا۔
” اکاسمہ کو کچھ نہیں بتانا تم نے خیام، وہ ابھی نارمل ہو رہی ہے، ڈسٹرب ہو جائے گی ”
” بےفکر رہئیے Prosecutor صاحب، ملکہ ڈان کو کچھ نہیں بتائے گیں ہم، لیکن اگر اس کا سامنا ہو گیا صابرالدین سے تو ؟؟”
خیام کی سوالیہ نظریں عاریز خان پہ تھی جبکہ وہ کندھے اچکا گیا۔
” کل مجھے خود اس سے بات کرنی پڑے گی، جس شخص کو پمی نے مارا ہے، اس کی تصویر اکاسمہ کو دکھا کے پوچھنا پڑے گا کہ کیا اس نے اس شخص کو وہاں دیکھا تھا یا پہلے کھبی ۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ”
” ہممم ٹھیک ہے، رات کافی ہو گئی ہے، گھر چلتے ہیں ”
خیام کی بات پہ، اس نے چونک کے گھڑی کو دیکھا تھا اور پھر اپنی کنپٹی سہلانے لگا۔
” چلتے ہیں۔ باقی باتیں کل کے لئے رکھتے ہیں لیکن اکاسمہ کے لئے گارڈ کا انتظام کر چکا ہوں جو 24 گھنٹے اس کے ساتھ ہی رہے گا۔ ”
” یہ تو اچھی بات ہے ”
دونوں اپنی جگہ سے کھڑی ہو کے، آفس سے باہر جانے لگے۔
” لیکن ملکہ ڈان، اب کل مجھے گھورنے ضرور آئے گی ”
عاریز کے انداز پہ، خیام ہنس پڑا تھا۔
” واقع، مطلب کل ایکسٹرا انرجی کے ساتھ آفس انا ہوگا ”
“ہاں ”
عاریز بھی ہنسنے لگا جبکہ آنکھوں کے سامنے، کچھ دیر پہلے والی اکاسمہ کا سراپا گھوما تھا، جو بےحد استحقاق سے، اس کی گردن میں اپنی بانہیں ڈال کے، اس کے قریب آئی تھی اور ان نرم لبوں کا لمس اور سانسوں کا وہ حسین امتزاج ۔ وہ زیر لب مسکرا دیا تھا۔

●○○○○○○○○○●●●●●●○○○○

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *