Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 14

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 14

 

” you are under arrest .”
خیام کی آواز پہ رخسار فاروقی نے اچھنبے سے سر اٹھا کے دیکھا تھا۔ وہ جو یہاں ریسٹورنٹ میں ڈنر کرنے آئی تھی جبکہ وہاں بیٹھے سب مڑ مڑ کے اسے دیکھنے لگے تھے ۔
” یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟”
سب کی نظروں کو خود پہ محسوس کرتی وہ ادھر ادھر دیکھتی اب دبی آواز میں خیام سے کہہ رہی تھی ۔
” وہی جو آپ سے رہی ہے، اپنا نام اور identity بدلنے اور اپنے ہزبینڈ مسٹر ازمائر شاہ کو اپنے جھوٹے قتل کے الزام میں گرفتار کروانے کے بدلے میں، اتنا تو آپ کو ملنا ہی چاہئے ۔۔ ”
خیام مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھتا کہہ رہا تھا جبکہ وہ لب بھینچ گئی تھی۔
” کون ازمائر شاہ؟؟ میں رخسار فاروقی ہوں ”
” مسز پارسا ازمائر شاہ ۔۔ یاد آیا کچھ ؟؟”
وہ ایک تصویر اس کے سامنے ٹیبل پہ رکھتا کہنے لگا جبکہ رخسار فاروقی نے حیرت سے ٹیبل پہ رکھے اپنی اور ازمائر کی ایک ساتھ تصویر کو سہمی آنکھوں سے دیکھا تھا ۔۔
” یہ جھوٹ ہے۔۔ یہ یہ غلط ہے ”
اس نے ہاتھ سے اس تصویر کو پرے کیا تھا ۔
” یہ تو اب عدالت فیصلہ کرے گی ۔۔ اریسٹ کریں محترمہ کو ”
خیام لیڈی کانسٹیبل کو اشارہ کرتا، خود سائیڈ پہ ہو گیا تھا جبکہ رخسار فاروقی شرر بار نگاہوں سے خیام کو دیکھنے لگی ۔
” میں کورٹ میں کیس دائر کروں گی تم سب کے اگینسٹ ”
” بصد شوق کیجئیے گا ۔ مجھے خوشی ہوگی ”
خیام طنزیہ مسکراہٹ چہرے پہ سجائے کہہ رہا تھا۔ وہ سر جھٹک کے لیڈی کانسٹیبل کے آگے بڑھی تھی جبکہ اس کے ہاتھوں میں موجود ہتھکڑی کو سب حیرت سے دیکھ رہے تھے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” once again my wife is a game changer ”
عاریز نے مسکرا کے اسے خود سے لگایا تھا اور وہ بھی مسکرا رہی تھی، جیت کی چمک تھی اس کی آنکھوں میں۔
” میم اکاسمہ ”
ازمائر کی آواز پہ دونوں چونک کے مڑے تھے جہاں وہ کھڑا مسکرا رہا تھا۔ آنکھوں میں ہلکی سی نمی بھی تھی۔
” تھینک یو سو مچ جو آپ نے میرے کیس کو ری اوپن کیا اور کورٹ میں اپ نے میرا ساتھ دیا، مجھے نئی زندگی بخشنے کے لئے تھینک یو سو مچ ”
” آپ کے حق میں وہی فیصلہ ہونا چاہئے تھا مسٹر ازمائر، جو صحیح ہے اور جو سچ یے، میں نے سچ کا ساتھ دیا ہے اور رزلٹ ہمارے سامنے ہیں ”
اکاسمہ نے بھی جوابا مسکرا کے جواب دیا تھا۔ عاریز دو قدم اس کی طرف بڑھا تھا اور ہلکا سا اس کا کندھا تھپتھپایا تھا۔
” بیسٹ آف لک ینگ میں ”
” تھینک یو ۔ ”
ازمائر بھی مسکرایا تھا اور پھر وہ وہاں سے آزاد ہو کے جا رہا تھا، اپنی نئی دنیا بنانے، اپنے لئے نئی زندگی بنانے۔
” تو مسز اکاسمہ عاریز خان، آج شام کی کیا تیاریاں ہیں؟؟”
اکاسمہ مسکرا کے اسے دیکھنے لگی۔
” آپ بتائیے Prosecutor عاریز خان ”
عاریز اسے اپنے بازو کے گھیرے میں لیے چلنے لگا۔
” آپ کی جیت کو سیلیبریٹ کرنے کی خوشی میں، آپ کو رخصت کرنے کی اجازت مانگنے آ رہے ہیں ہم ”
اکاسمہ ہنس پڑی تھی جبکہ عاریز خان نے نظر بھر کے، اس کے چہرے کی کھلکھلاہٹ کو دیکھا تھا ۔
” یہ کورٹ ہے لیکن پھر بھی، اگر آپ چاہے تو میں ایک حسین گستاخی کی اجازت مانگتا ہوں آپ سے ”
اس کی سرگوشی پہ سرخ پڑتی اکاسمہ نے گھور کے اسے دیکھا تھا ۔
” ایسے دیکھو گی تو مزید گستاخیوں کو ہوا دو گی ”
گاڑی کا دروازہ اس کے لئے کھولتا وہ پھر سے اس کے کان کی لو پہ سرگوشی کر گیا تھا جبکہ وہ جھینپتی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی تھی اور عاریز بھی دوسری طرف سے آ کے ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا تھا۔ ایک گہری نظر اکاسمہ پہ ڈالتا وہ زیر لب مسکرایا تھا، بال اوپر جوڑے کی شکل میں باندھنے کی وجہ سے، اس کی نازک گردن عاریز کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی، اس کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارنے کی خواہش پر لبیک کہتا، وہ اکاسمہ کی طرف جھکا تھا اور اس کی شہ رگ پہ لب رکھ کے، وہ گہرا سانس لیتا پیچھے ہوا تھا، اکاسمہ سانس روک گئی تھی لمحے بھر کے لئے اور حیران آنکھوں سے عاریز خان کو دیکھنے لگی جو بظاہر اتنا سخت نظر آتا تھا لیکن اتنا ہی وہ رومینٹک تھا۔
” یہ فرسٹ ٹریلر تھا، باقی کا ٹریلر، آج شام کو، اپ کے ہی بیڈ روم میں ”
اس کے شرارتی انداز پہ، اکاسمہ کی آنکھیں مزید حیران ہوئی تھی جبکہ وہ زیر لب مسکراتا گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا
” Don’t worry,just trailer not a film ”
” تم رومینٹک بھی ہو ؟؟”
اکاسمہ کے حیرت بھرے سوال پہ وہ رکا تھا اور اسے دیکھنے لگا جو حیران آنکھوں سے عاریز کو دیکھ رہی تھی اور پھر سے گاڑی چلانے لگا۔
” میرے رومینٹک ہونے میں کوئی شک ہے ؟؟”
اکاسمہ کا سر اثبات میں ہلا تھا۔
” مجھے لگا تھا کہ مجھے یہ سب خود کرنا پڑے گا یا سکھانا پڑے گا ”
” وہاٹ ؟؟”
اب کے عاریز نے حیرانی سے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ مسکرانے لگی ۔
” اب تو لگتا ہے کہ آپ پی سکھائیے گیں سب ”
عاریز کی ہنسی بےساختہ تھی، اس نے چلتی گاڑی سائیڈ پہ روکی تھی اور مکمل اکاسمہ کی طرف مڑا تھا جبکہ اکاسمہ شرارتی نظروں سے، اسے دیکھ رہی تھی۔
” مجھے لگا تھا کہ پاکستان لاء کی ڈان کو پھنسانا تھوڑا مشکل ہی ہوگا۔ ”
اکاسمہ نے ہاتھ بڑھا کے، اس کی ٹائی کو نرمی سے چھوا تھا اور پھر عاریز خان کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” میں اب بھی مشکل کیس ہوں Prosecutor عاریز خان ”
عاریز خان نے ہاتھ بڑھا کے، اس کے لبوں پہ انگوٹھا پھیرا تھا۔
” میں مشکل کیس کو زیادہ توجہ سے پڑھتا ہوں ”
اکاسمہ نے ایک ابرو اچکا کے اسے دیکھا تھا۔
” تو پڑھنا اسٹارٹ کر دو کہیں مشکل میں پڑ گئے تو ”
ساتھ ہی اس کی ٹائی کو مٹھی میں لے کے، اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔
” اپنی سرگوشیوں میں مجھے پکار لینا”
عاریز خان نے اکاسمہ کی اس ادا پہ، اسے مخمور نگاہوں سے دیکھا تھا اور پھر جھک کے، اس کی سانسوں میں اپنی سانسیں الجھائی تھی، اکاسمہ کی گرفت اس کی ٹائی پہ مزید بڑھ گئی تھی جبکہ عاریز خان گہرا سانس لیتا پیچھے ہوا تھا اور اس لبوں پہ پھر سے انگوٹھا پھیرا تھا۔
” اج شام آپ کے روم میں باقی ٹریلر ”
لب دانتوں تلے دباتی وہ مسکرائی تھی اور ساتھ ہی اس کی ٹائی سے اپنے ہاتھ بھی ہٹا دیے تھے جبکہ ایک گہری نظر اکاسمہ پہ ڈال کے، عاریز خان گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا ۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” میں سمجھی تھی کہ آپ صحیح فیصلہ کریں گے کیونکہ اس ملک اور اس شہر کی حفاظت آپ کے ہاتھ میں ہے لیکن مجھے بےحد افسوس ہو رہا ہے بابا کہ آپ بھی وہی عام سے پولیٹیشن ہیں جسے صرف اپنے مفاد کی پڑی ہے ہمیشہ ”
درمکنوں نے آنکھوں میں تاسف اور غصے لیے فاروق ملک کو دیکھ رہی تھی جبکہ فاروق ملک نے لب بھینچ لیے تھے ۔
” در تم غلط کر رہی ہو، جس کی تم بات کر رہی ہو وہ تمہارا بھائی اور میرا بیٹا ہے ۔”
در مکنوں نے سر جھٹکا تھا ۔
” قاتل بھی ہے وہ ایک معصوم لڑکی کا ”
” اتنی ہی معصوم ہوتی وہ لڑکی، تو شہزاد کے ساتھ فارم ہاؤس پہ نہ جاتی۔ ”
فاروق ملک کی آواز تیز ہوئی تھی۔
” وہ جو بھی تھی بابا، بدکردار ہی سہی وہ، لیکن آپ کا بیٹا تو قاتل بن چکا ہے ”
در مکنوں بھی چلائی تھی ۔
” حد سے بڑھ رہی ہو تم در، اپنے باپ سے بات کرنے کا یہ کون سا طریقہ ہے ؟”
فاروق ملک کی آواز میں اب کے گرج تھی جبکہ درمکنوں انہیں دیکھتی رہی، بھیگی آنکھوں میں شکایت لیے اور فاروق ملک نے اس سے نظریں چرائی تھی ۔
” آپ اسے ملک سے باہر نہیں بھیج سکتے بابا ”
اس کی آنکھوں میں ان کے ضد کا عنصر بھی شامل تھا ۔
” میں اپنے بیٹے کے نجات کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں، میں باپ ہوں اس کا اور تمہارا بھی۔”
فاروق ملک بات ختم کر کے رخ موڑ چکے تھے ۔
” تم ایک ڈاکٹر ہو، پولیس ڈیپارٹمنٹ کا اہلکار بننے کی کوشش مت کرو تم ”
درمکنوں ان کی پشت کو گھورتی رہی اور پھر لب بھینچے بنا کچھ کہے وہاں سے چلی گئی تھی۔ اپنے کمرے میں آ کے اس نے خیام کو کال کرنے کی کوشش کی لیکن بار بار رنگ جانے پہ بھی کال ریسیو نہیں ہو رہی تھی تو اسے خیام کے لئے میسج لکھنا پڑا اور موبائل بیڈ پہ رکھ کے وہ اب کمرے میں ٹہل رہی تھی، اسے کسی بھی طرح کر کے شہزاد کو ملک سے باہر جانے سے روکنا تھا، دس منٹ ہی گزرے تھے اور وہ بےچینی سے دروازے کی طرف بڑھی تھی لیکن ہینڈل کو گھمانے پہ پتہ چلا کہ دروازہ باہر سے لاک کر دیا گیا ہے اور وہ چلائی تھی ۔
” دروازہ کھولیں، بابا آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے، شہزاد، شہزاد دروازہ کھولو، کوئی ہے ”
لیکن دروازہ نہ کھلنا تھا اور نہ ہی اس کے چلانے کا کوئی فائدہ تھا۔ وہ پھر سے موبائل پہ خیام کا نمبر ڈائل کرنے لگی ۔
☆☆☆▪︎▪︎▪︎□□□■■■●●●☆☆☆☆

وہ ابھی ابھی اپنے بیڈ پہ آیا تھا جب اسے اپنے موبائل پہ مسڈ کال رنگ سنائی دی تھی، مڑ کے سائیڈ ٹیبل سے اس نے اپنا موبائل اٹھا کے اسکرین آن کی تھی اور مسڈ کالز میں مسفرہ کا نام دیکھ کے وہ چونکا تھا، تبھی اسے نے مسفرہ کو کال بیک کی تھی جبکہ دوسری طرف موبائل اسکرین پہ ازمائر کا نام جگمگاتا دیکھ کے مسفرہ سٹپٹائی تھی، وہ تو ازمائر کو کال کر کے ہی پچھتائی تھی، تبھی کال ڈسکنیکٹ کر دیا تھا اس نے، لیکن وی دیکھ چکا تھا اور تبھی کال کر رہا تھا۔ خود میں ہمت مجتمع کرتی، وہ گہرا سانس لیتی اب موبائل کان سے لگا چکی تھی۔
” ہیلو ۔ ”
” ہیلو مسفرہ، کیسی ہے آپ؟”
ازمائر کی آواز جیسے اس کی دھڑکنیں بڑھا گئی تھی۔
” میں بلکل ٹھیک ہوں، اپ کیسے ہیں؟”
” میں بھی ٹھیک ہوں، اپ نے کال کی تھی؟”
اس کے سوال پہ مسفرہ کے گال تپ اٹھے تھے، خود کو کوستی وہ اپنی آواز نارمل رکھنے کی کوشش کرنے لگی۔
” میں نے ؟ اوہ ہاں میں ایکچوئیلی اسماہ کو کال کر رہی تھی اور آپ کو کال چلی گئی ۔ ”
بودہ سا بہانہ، اس نے خود پہ ہی دانت پیسے تھے لیکن اپنی ابھرتی اقوام ڈوبتی سانسوں کو نارمل ہی رکھا تھا ۔
” اوہ، مجھے لگا آپ نے مجھے کال کی ہے ۔ چلیں ٹھیک ہے میں ڈسٹرب نہیں کرتا آپ کو۔”
اور مسفرہ کو لگا جیسے اس کے وجود میں ابھرتی کچھ لمحے پہلے کی خوشگواریت اب سوگواریت میں تبدیل ہو رہی ہے ۔
” گڈ نائٹ مسفرہ ”
پھر سے ازمائر کی آواز ابھری تھی اور اپنا نام اس کی زبان سے سننا جیسے اس کی دنیا میں رنگ بکھیر گیا۔
” ہیلو مسفرہ؟”
اس کی خاموشی محسوس کر کے ازمائر پھر سے پکار اٹھا اور مسفرہ کا یہ حال تھا کہ
نام مت لو میرا بار بار ،
کہ ہر بار تیرے پکارنے پہ
میری دھڑکنوں اور سانسوں میں
ایک دنیا درہم برہم ہو جاتی ہے۔
” ج۔۔۔جی؟”
” آپ ٹھیک تو ہے مسفرہ؟؟”
وہ پوچھ رہا تھا اور مسفرہ آنکھیں بند کر کے گہرا سانس لی چکی تھی۔
” جی ۔۔۔ جی ”
” کچھ کہنا تھا اپ کو مجھ سے؟؟”
وہ پھر پوچھ رہا تھا ۔
” ہاں۔۔ ن ۔۔ نہیں تو ۔۔ گڈ نائٹ ”
کال ڈسکنیکٹ کر کے وہ موبائل ہاتھ میں لیے خود کو نارمل کرنے لگی جبکہ دل کی دھڑکنیں تھی کہ جیسے پسلیوں سے سر توڑ کوششیں کر رہی تھی باہر آنے کی۔ نظر ہاتھ میں موجود موبائل پہ گئی تو جیسے کانوں میں ازمائر کے آواز کی بازگشت ہوئی تھی۔
” مسفرہ ۔۔ ”
اور بےساختہ اس نے موبائل بیڈ پہ پھینکا تھا، دل پہ ہاتھ رکھ کے وہ اپنے کمرے میں نظر دوڑانے لگی ۔
” یااللہ کیا ہو رہا ہے مجھے۔ ”
جبکہ دوسری طرف ازمائر حیرت سے اپنے موبائل کو دیکھنے لگا اور پھر زیرلب مسکراتا وہ موبائل سائیڈ ٹیبل پہ رکھ کے بیڈ پہ لیٹنے لگا کہ رات کافی ہو چکی تھی اور صبح اٹھ کے اسے آفس بھی جانا تھا ۔
☆☆☆☆□□■■■▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆

” تو ؟؟ تم دونوں میں سے پہلے کون مرنا چاہے گا ؟؟”
وہ مسکراہٹ لبوں تلے دبائے ان دو لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا جو کراچی کے مشہور ترین نائٹ کلب کی پروسٹیچوٹس تھی اور ابھی زمین پہ گھٹنوں کے بل بیٹھی خوفزدہ آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو اس وقت انہیں دنیا کا سفاک ترین انسان لگ رہا تھا۔ نیم برہنہ وہ دونوں اس کے سامنے گھٹنے ٹھیکے بھیک مانگ رہی تھی اپنی زندگی کی، اپنی سانسوں کی،
” ہمیں جانے دیں پلیز ”
” کیسے جانے دوں؟؟”
وہ سرد آہ کھینچتا کہہ رہا تھا ۔
” اچھا ایک کام کرتے ہیں۔ ”
ساتھ ہی ایک چاقو ان کی طرف پھینکا تھا اس نے، جبکہ وہ دونوں ایک نظر چاقو پہ ڈال کے اس شخص کو دیکھنے لگی۔
” اس چاقو کے ساتھ تم دونوں میں سے، جو سب سے پہلے ایکدوسرے کو مارے گا، وہ یہاں سے باہر جائے گا ۔ تم یا تم فیصلہ تم دونوں کے ہاتھوں میں ہیں مائی دئیر ”
وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا جبکہ وہ دونوں رونے لگی ۔
” کیوں کر رہے ہو ایسا ہمارے ساتھ ؟”
” صاف، صفائی ۔ پاک پاک پاکستان
صاف صاف پاکستان
ہر دم، ہر پل
عزم ہمارا ”
وہ ہنسنے لگا جبکہ ان دونوں کے رونے میں مزید شدت آئی تھی۔
” come on girls … no actually call girls ”
وہ خود ہی اپنی تصحیح کرتا ان سے مزید دو قدم پیچھے لے چکا تھا ۔
” جو جیتا وہ سکندر ۔ جلدی کرو ”
وہ دونوں ایکدوسرے کو دیکھتی رونے لگی اور پھر ان میں سے ایک وہ چاقو اپنے ہاتھ میں لیتی دوسری کی گردن پہ رکھ چکی تھی۔
” پلیز ایم سوری ۔۔”
جبکہ وہ نفی میں سر ہلانے لگی ۔
” مت مارو مجھے پلیز ۔ ”
لیکن اس کی گردن پہ چاقو کی نوک سے دباؤ ڈالتی وہ سر نفی میں ہلاتی چاقو نیچے پھینک چکی تھی اور اس شخص کو دیکھنے لگی۔
” پلیز ہمیں جانے دو ”
” اونہم ۔۔ تم میں سے کوئی ایک ۔ ”
وہ سر نفی میں ہلاتا کہہ رہا تھا جبکہ وہ دوسری لڑکی چاقو تیزی سے اٹھاتی اپنے قریب بیٹھی لڑکی کے پیٹ میں گھونپ چکی تھی اور وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی ۔
” مارتی رہو ۔۔ کم آن ۔۔ ”
اور وہ بار بار چاقو نکال کے پھر سے اس کے پیٹ میں گھونپتی گئی، یہاں تک کہ اس کی سانسیں مدھم پڑی اور وہ ساکت سی ایک طرف لڑھک گئی تھی۔ وہ اب روتے ہوئے اس شخص کو دیکھ رہی تھی، آنکھوں میں التجا تھی۔
” پلیز جانے دیں اب ۔ ”
وہ مسکرانے لگا۔
” اٹھو۔ ”
وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی جبکہ وہ اس سے دو قدم کے فاصلے پہ قریب آ کھڑا ہوا تھا ۔
” take off your dress completely ”
یہ سنتے ہی وہ لرزتی کانپتی، تیزی سے اس کی بات پہ عمل کرنے لگی ۔
” اب ڈانس کرو ۔ ”
وہ خوفزدہ سے ناچنے کی کوشش کرتی، اسے ہی سہمی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی، جب اس نے بازو پکڑ کے اسے اپنے طرف کھینچا تھا اور وہ اس کے سینے سے جا لگی تھی۔
” مجھے اکیلی، تنہا،ڈری سہمی سی، بھیگی آنکھوں میں خوف لیے دیکھتی عورت یا لڑکی کو نوچنے میں بہت مزہ آتا ہے اور پھر اسے موت دینے میں۔ ”
اس کی سرد سرسراتی اواز اسے اندر تک لرزا گئی تھی۔
” ن ۔۔ نہیں پلیز ، م ۔۔۔ مجھے جانے دو ”
” ہشششششش۔۔ ”
اس کے لبوں پہ اپنی شہادت کی انگلی رکھ کے وہ آنکھیں بند کر کے اس کی گردن کو سونگھنے لگا اور پھر گہری سانس کھینچ کے ہوا کے سپرد کی تھی۔
” The Red Line my dear ”
اور پھر اس بند کمرے میں اس لڑکی کی بھیانک چیخ ابھری تھی۔
☆☆☆¤¤▪︎▪︎□□●□■■☆☆☆

عفان اسے ہی دیکھ رہا تھا جو حیرت سے، اپنے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پہ موجود زخم بھرنے لگے تھے اور بلکل ویسے ہی،اس کی روح پہ لگے زخم بھی مندمل ہو رہے تھے۔ اس نے حیران آنکھوں سے عفان کو دیکھا تھا۔
” م ۔۔۔ میں ٹھیک ہو رہی ہوں”
عندلیب نام کی اس لڑکی کو، عفان نے پہلی بار اسی ہاسپٹل میں دیکھا تھا، نم آنکھوں میں انسو لیے، وہ اپنے بھائی کو یہاں لائی تھی لیکن ہاسپٹل کے اخراجات پوری کرنے کے پیسے نہیں تھے اس کے پاس۔ اور پھر وہ ریسٹورنٹ گئی تھی تو وہاں اسے ریسپشنیسٹ کے طور پہ دیکھا تھا اور زیر لب مسکرا دیا تھا۔
” بلکل آپ ٹھیک ہو رہی ہے مس عندلیب ”
” یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے ، میم اکاسمہ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے اور آپ۔۔۔ آپ نے میرا بہت ساتھ دیا ہے ”
عفان مسکرا کے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گیا اور گہرا سانس لیتا سوچنے لگا۔
‘ میں تو ہمیشہ ساتھ دینے کو تیار ہوں عندلیب ‘
دل میں سرگوشی کرتا وہ خاموش ہی رہا جبکہ عندلیب نے پھر سے مرر میں دیکھتے، اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرا تھا۔
” میں مکمل ٹھیک ہو جاؤں گی ڈاکٹر عفان؟”
” جی مس عندلیب”
نرمی سے کہتا وہ زیر لب مسکرا رہا تھا جبکہ عندلیب ہاتھ میں موجود مرر سائیڈ پہ رکھ کے، سر پہ موجود اسکارف ٹھیک کیا تھا، عفان اسے گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ جس کا قدم قدم پہ اس نے ساتھ دیا تھا کیونکہ وہ اس لڑکی کو ٹوٹتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔ عندلیب اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
” میں چلتی ہوں ”
وہ مڑی تھی جب عفان کو لگا کہ وہ اس کا وجود بھی اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے لے کے جا رہی ہے۔
” عندلیب ”
وہ رک کے مڑی تھی۔
” جی ؟”
اس کی ہرنی جیسی خوبصورت سوالیہ آنکھوں میں وہ دیکھنے لگا اور پھر اچانک اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
” مجھے بھوک لگی ہے، لنچ کرنے چلتے ہیں ”
” جی ؟”
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی، عفان اپنا موبائل اٹھا کے، آگے بڑھا تھا اور کمرے کا دروازہ کھولے کھڑا اسے دیکھنے لگا۔ جبکہ عندلیب ہچکچاتی، پلکیں جھکا کے اور پھر سے اٹھا کے اسے دیکھتی، تذبذب کا شکار ہوتی، آگے بڑھنے لگی کہ اس شخص سے ہر بار سامنا ہوا اور ہر بار اس شخص نے دل کی سرزمین پہ، اپنے قدم مضبوطی سے قائم کیے تھے اور پھر اس کی دنیا اندھیر ہوگئی تو جیسے ان تاریکیوں میں، اس شخص کا چہرہ بھی دھندلا گیا تھا لیکن اب وہ پھر سے، اس کے سامنے تھا، ہمیشہ کی طرح خوبصورت اور ہمیشہ کی طرح زیر لب مسکراتا، ان گہری آنکھوں سے، عندلیب کو چت کرتا ۔

☆☆☆☆☆☆☆○○○●●●☆☆☆☆☆☆

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *