Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 18

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 18

اکاسمہ حیران نظروں سے اپنے سامنے موجود، اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی جو نیم پاگل لگ رہا تھا۔ جس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھی، بال بکھرے ہوئے تھے، چہرہ سرخ اور سیاہی مائل ہو رہا تھا جبکہ پاس ٹوٹا ہوا لیپ ٹاپ پڑا تھا، پورے کمرے کی حالت ابتر تھی، عجیب وحشت تھی اس کمرے کے درودیوار میں۔ ہر چیز ٹوٹی ہوئی، گری پڑی تھی اور خود بارز کانپ رہا تھا۔ بلی کے چھوٹے بچے کی طرح، وارڈ روب کے کونے میں، دبک کے بیٹھا ہوا وہ مسلسل اکاسمہ کو اپنے ویران آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ پورے کمرے کا جائزہ لیتی آنکھیں اب بارز پہ آ رکی تھی۔
” بارز ”
اس کے لب ہلے تھے اور بارز نے آنکھیں میچ لی تھی۔ وہ بارز کے قریب آئی تھی اور نیچے اس کے سامنے دو زانو ہو کے بیٹھی تھی ۔
” بارز، میرے بھائی ”
جبکہ وہ آنکھیں میچے رونے لگا اور سر نفی میں ہلانے لگا
” مت لیں، م ۔۔۔ میرا نام آپی، وہ پھر سے مجھے ڈھونڈ لے گا ”
” کون ؟؟”
اکاسمہ پریشان نظروں سے اس کی دگرگوں حالت دیکھ رہی تھی جب وہ اپنی ویران خوفزدہ آنکھیں کھول کے، درودیوار کو دیکھنے لگا۔ ان آنکھوں کا خوف بڑھتا جاتا جیسے کچھ دیکھ لیا ہو اس نے۔ اکاسمہ مسلسل اسے ہی دیکھ رہی تھی اور پھر ہاتھ بڑھا کے، اس نے بارز کے ہاتھ تھامنے چاہے جب بارز نے اپنا ہاتھ جھٹک دیا اور اکاسمہ حیران آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔
” وہ ۔۔۔ وہ تمہیں بھی پ ۔۔۔ پھنسا لے گا، تم جاؤ، جاؤ یہاں سے ”
وہ ہذیانی انداز میں کہہ رہا تھا جبکہ اکاسمہ نے پھر سے اس کے ہاتھ تھامے تھے اور اس بار بارز نے اس کے ہاتھ نہیں جھٹکے تھے بلکہ وہ کانپ رہا تھا۔
” بارز ریلیکس۔۔۔ جسٹ ریلیکس۔ گہرے گہرے سانس لو اور ریلیکس ہونے کی کوشش کرو ”
اچانک موبائل کی بپ بجنے لگی اور وہ اکاسمہ کے ہاتھ جھٹک کے، چہرے دونوں ہاتھوں سے چھپا کے، رونے لگا جبکہ اکاسمہ نے آگے بڑھ کے، مسلسل بجتے موبائل کو اٹھایا تھا ۔ عجیب ہی شکل بنی ہوئی تھی موبائل اسکرین کی ۔ نام بھی عجیب الفاظ سے لکھا آ رہا تھا ۔ اس نے اچھنبے سے کال ریسیو کر کے کان سے لگایا تھا۔
” بارز، کہا تھا ناں کہ مجھ سے دھوکا منظور نہیں ہے مجھے، میں نے تمہیں وقت دیا تھا کہ اپنے پیارے پیرنٹس میں سے، کسی ایک کو قتل کرو گے اور ویڈیو مجھے سینڈ کرو گے تو اب تم کہاں غائب ہو ؟؟ تمہارا ٹاسک مکمل نہیں ہوا ابھی۔ ”
اکاسمہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے، بارز کو دیکھ رہی تھی جو رو رہا تھا جبکہ ساتھ ساتھ وہ موبائل کے دوسری طرف موجود اس شخص کی باتیں سن رہی تھی۔ اس کا بھائی کہاں پھنس گیا تھا۔
” کون ؟؟”
اکاسمہ کی اواز گونجی تھی اور حکان نے تیزی سے موبائل بند کر دیا تھا۔ موبائل بیڈ پہ پھینک کے، وہ دونوں ہاتھوں سے اپنی گردن سہلانے لگا ۔ آج بہت عرصے بعد، پہلی بار اس نے اکاسمہ کی اواز موبائل میں سنی تھی، ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے کان میں اکاسمہ کی سرگوشی ہو جو بےحد قریب سے ہوئی ہو۔ وہ چلایا تھا ۔
” تم کہاں سے آ گئی ان سب کے بیچ اکاسمہ، تمہیں نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ”
وہ مسلسل بڑبڑا رہا تھا۔ لاء کالج کی اس کلاس میں موجود، مسکراتی آنکھوں سے، اسے دیکھتی وہ لڑکی یاد آئی تھی اسے۔ دل جیسے گہری کھائی میں ڈوبا تھا اور پھر وہ تیزی سے بالکونی کا دروازہ کھول کے، باہر آیا تھا۔ اپنا سینہ مسلتا، وہ مسلسل گہرے سانس لینے کی کوشش کر رہا تھا۔ ماضی کی وہ ہلکی سی یاد ، اسے بےچین کر گئی تھی جسے وہ بھولا نہیں تھا، بھولنے کی کوشش میں وہ اس قدر اس تاریک دنیا کا حصہ بنا تھا جہاں وہ سب کو کھینچ کے لا رہا تھا آج وہی ماضی اپنی تمام تر وحشت کے ساتھ، اس کے سامنے کھڑا تھا۔

••••○○○○○●●●●●●○○○○○•••••

” یہ دنیا بھی کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور یہ کراچی تو ۔۔ پورا شہر جیسے ہمیں ہی لوٹنے کو کھڑا ہو ”
گروسری کی شاپنگ کرتی سکینہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی جبکہ ان کے ساتھ چلتی مسفرہ صرف مسکرانے پہ اکتفا کر رہی تھی۔
” اب یہ دیکھو گوشت کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے، اے اللہ یہی تو قیامت کی نشانی ہے ”
” مما کیا ہو گیا ہے ”
مسفرہ کو ہنسی آئی تھی لیکن نظریں جب سامنے اٹھی تو پلٹنا بھول گئی کیونکہ سامنے کھڑا شخص ازمائر شاہ تھا جو اپنی ضرورت کی چیزیں اٹھاتا اسی طرف آ رہا تھا جب دھیان سکینہ کے باتوں کی طرف گئی جو مسلسل کراچی کو سنانے میں لگی ہوئی تھی اور قیمتوں پہ دہائی دیتی، وہ کچا چبا جانے کا ارادہ رکھتی تھی سب کو۔
” مما ہشششششش ”
مسفرہ نے تیزی سے انہیں روکنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ سکینہ ہی کیا جو رک جائے ۔
” دل کی بھڑاس نکالنے دو مجھے۔ اور یہ کیا کر رہی ہو تم، سب دیکھ رہے ہیں سیدھی طرح ریکٹ کرو ”
مسفرہ کو پریشانی میں سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا کرے، تبھی سر جھٹک کے وہ تیزی سے دوسری طرف جا کے کھڑی ہوئی تھی جب اسے اپنی ماں کی اواز پھر سے سنائی دی تھی ۔
” ارے بیٹا شکریہ، کتنے نیک بچے ہو تم، اللہ تمہیں خوش نصیب کریں”
مسفرہ نے چونک کے جھانکنے کی کوشش کی تھی جہاں سکینہ، ازمائر شاہ کی بلائیں لے رہی تھی اور وہ بھی مسکراتا اپنی کنپٹی سہلا رہا تھا۔ اس مسکراہٹ نے پل بھر کے لئے، دل کی دنیا ہی درہم برہم کر دی تھی۔
” مما پلیز کچھ غلط مت کہہ دینا، پلیز ”
دل ہی دل میں دعا کرتی وہ لب کاٹنے لگی۔
” ارے مسفرہ ۔۔۔ ”
سکینہ کی اواز پہ، ازمائر پل بھر کو چونکا تھا، آنکھیں بےساختہ چاروں طرف گھومنے لگی جبکہ مسفرہ نے بےحد چونک کے، ازمائر کی اس بےاختیاری کو دیکھا تھا۔
” میری بیٹی ہے مسفرہ، رائٹر ہے میری بچی، بہت اچھا لکھتی ہے، اس کی کتابیں لوگ آنکھوں پہ مل مل کے پڑھتے ہیں۔ ماشاءاللہ میری ٹینلنٹڈ بچی ”
سکینہ کو موقع ملنا چاہئے مسفرہ کی تعریف کرنے کا۔ مسفرہ نے بےحد محبت سے اپنی ماں کو دیکھا تھا اور ازمائر کے لئے مزید شک کی گنجائش ہی نہیں رہی تھی کہ وہ کس مسفرہ کی بات کر رہی ہے ورنہ پہلے لگا تھا کہ شاید ان کی بیٹی کا نام بھی مسفرہ ہوگا۔
” یہیں کہیں ہوگی”
مسکرا کے کہتی، وہ ازمائر کو دیکھنے لگی۔
” تم کس کے بیٹے ہو ؟؟”
اس سے پہلے سکینہ مزید کوئی انوکھا سوال کرتی ، مسفرہ گہرا سانس لیتی تیزی سے اسی طرف آئی تھی اور قریب آ کے وہ مسکرا ازمائر شاہ کو دیکھنے لگی لیکن ساتھ ہی سکینہ کا بازو بھی نرمی سے تھام کے دبایا تھا۔
” ارے مسفرہ کہاں تھی تم ، دیکھو کتنا نیک بچہ ہے، بیٹا یہ میری بیٹی ہے مسفرہ، جس کا میں ذکر کر رہی تھی، اسے تو ”
” مما ، کیا کر رہی ہے آپ ”
مسفرہ نے انہیں کچھ بھی کہنے روکتے، مسکرا کے سرگوشی کی تھی اور پھر ازمائر کو دیکھنے لگی۔
” کیسے ہیں آپ ازمائر شاہ ”
مسفرہ کے سوال پہ وہ مسکرایا تھا
” ایم فائن، تھینک یو اور آپ مسفرہ ؟”
جبکہ سکینہ متعجب سی دونوں کو دیکھنے لگی۔
” یہ ازمائر شاہ ہے ؟؟ شکل سے ہی پیارا بچہ لگ رہا ہے ”
سکینہ کی زبان میں پھر سے کجھلی ہوئی تھی جبکہ مسفرہ انہیں دیکھ کے رہ گئی۔
” مسفرہ اور میں اکثر تمہاری باتیں کرتے تھے بیٹا، ہے ناں مسفرہ ”
اور مسفرہ کا جی چاہا، زمین پھٹے اور وہ اس میں دفن ہو جائے۔ اس شخص کے سامنے کم از کم اس کے سارے راز تو فاش نہ ہوتے جبکہ ازمائر دلچسپی سے، زیر لب مسکراتا مسفرہ کو دیکھ رہا تھا۔ جو اس وقت نظریں چراتی، سرخ پڑ رہی تھی۔
” مما وہاں دیکھ کے آئی ہوں میں، سیل لگی ہے آپ بھی چیک کر لیں جا کے پلیز ”
مسفرہ کی بات پہ سکینہ چونکی تھی یہ کہہ کے آگے بڑھی تھی۔
” لسٹ میں باقی چیزیں جو رہ گئی ہے وہ بھی لے لو ”
ان کے جانے کے بعد، مسفرہ اس کی طرف دیکھنے کی کوشش کی تھی۔
” مما بھی بس ۔۔ ”
ازمائر شاہ نے دلچسپی سے اس کی بوکھلاہٹ کو دیکھا تھا۔
” مجھے اچھا لگا جان کے، کہ آپ کی مما مجھے جانتی ہے ”
مسفرہ رک کے اسے دیکھنے لگی جو مسلسل اسے ہی دیکھ رہا تھا اور پھر مسکرانے کی مبہم سی کوشش کرنے لگی جبکہ دل کی دنیا نے ہلچل مچانا شروع کر دیا تھا۔ یہ شخص ہر گزرتے دن کے ساتھ دل کے قریب ہو رہا تھا اور ہر دفعہ قریب تر ہونے پہ، اسے حیران کر دیتا۔
” شا ۔۔۔ شاپنگ ہو گئی آپ کی ؟”
کانپتی آواز پہ قابو پانے کی کوشش کرتی پوچھنے لگی جبکہ وہ کندھے اچکا گیا۔
” رہتی ہے ابھی ”
” جب آپ سے ملی تھی فرسٹ ٹائم، تب مما کو بتایا تھا آپ کے بارے میں تو ۔۔ ”
وہ بات ادھوری چھوڑ کے، ایک شرمندہ سی نظر اس پہ ڈال کے، ادھر ادھر دیکھنے لگی جبکہ ازمائر شاہ دلچسپی سے اسے دیکھتا، زیر لب مسکراتا نظریں پھیر گیا۔
” میں نے مائنڈ نہیں کیا مسفرہ ”
اس نے پھر سے ازمائر شاہ کو دیکھا تھا جو شاپنگ کر رہا تھا، وہ بےبسی سے اسے دیکھے گئی لیکن ازمائر کی نظر، اس کی طرف اٹھتے ہی، اس نے تیزی سے نظریں چرائی تھی جبکہ ازمائر نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا تھا۔
•••○○○○○●●●●○○○○●●●●●••••

” تو کر کیوں نہیں رہے تم ؟ مجھے میرا بیٹا شام تک باہر چاہئے ”
فاروق ملک دھاڑتا موبائل بند کر چکا تھا جب نظر درمکنوں پہ پڑی اور اس نے لب بھینچ لیے تھے۔
” تو آپ نے کیا ہے یہ سب ؟”
درمکنوں کا لہجہ سنجیدہ تھا جبکہ فاروق ملک اسے سخت نظروں سے دیکھنے لگا۔
” تمہارے لئے اہنے بھائی کی کوئی اہمیت ہے بھی کہ نہیں؟”
” ہاسپٹل کے ہر وارڈ اور ہر کونے میں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہر فیملی، اپنے بھائی، بہن، باپ، ماں، بیوی، شوہر اور بچے کے لئے رو رہی ہے۔ ان کی دلخراش چیخیں مجھے یہاں سنائی دیتی ہے ”
درمکنوں نے اپنے کانوں کی طرف، ہاتھ سے اشارہ کرتے کہا تھا۔
” اپنی موت سے بےخبر وہ سب ایک معصوم لڑکی کے لئے آواز اٹھا رہے تھے جن سے شاید وہ زندگی میں کھبی نہیں ملے لیکن ان سب کو دیکھ کے، میرا دل کرتا ہے کہ میں خود کو پھانسی کی سزا سناؤں کیونکہ وہ سب کیا دھرا میرے اپنے ہی بابا کا ہے، اور سب جانتے ہوئے بھی میں خاموش ہوں کیونکہ میرے مقابل میرے بابا ہے اور میں ایک بیٹی بن کے سوچنے پہ مجبور ہوں ”
اس کی آنکھیں بھیگی تھی جبکہ اواز بےحد سپاٹ تھی۔
” میں نے کچھ نہیں کیا، میں اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش کر رہا ہوں بس ”
فاروق ملک نظریں چراتے، لب بھینچے کہہ رہے تھے ۔
” ہر فیملی کے ہر بھائی اور بیٹے کی جانوں کو داؤ پہ لگا کے؟ ”
درمکنوں نے تیز لہجے میں کہا تھا جبکہ فاروق ملک خاموش رہے۔
” اپنی سورسز اور اپنی حیثیت کا استعمال کر کے، آپ اینے بیٹے کو تو جیل سے نکلوا لیں گے لیکن یاد رہے کہ اللہ کی لاٹھی بےآواز ہوتی ہے اور جس دن آپ اپنے ہی گناہوں کے دلدل میں پھنسے گیں تب میں پہلے نمبر پہ ہونگی، کنارے پہ کھڑے ہو کے تماشا دیکھنے والوں میں سے ”
اپنی بات کہہ کے، درمکنوں رکی نہیں بلکہ تیز قدم اٹھاتی وہاں سے جا رہی تھی اور فاروق ملک لب بھینچے اپنی بیٹی کو جاتا دیکھ رہے تھے جسے دیکھ کے اکثر اسے محسوس ہوتا کہ جیسے اس کی رگوں میں تو، فاروق ملک کا خون ہی نہیں ہے ۔ اس کی رگوں میں شاید عائشہ کا خون بہہ رہا تھا جسے وہ مار تو چکے تھے سالوں پہلے لیکن اس کا پرتو ابھی تک زندہ اس کے سامنے ہی تھا

••••••○○○○○○●●●●●●○○○○○○••••

لاؤنج میں عفان، فیاض حیات اور اکاسمہ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے چہروں پہ گہری سنجیدگی تھی جبکہ دل میں خوف اپنے پر پھیلائے ہوئے تھا۔ اس خاندان کا چھوٹا بیٹا بارز حیات، ان تاریکیوں اور پستیوں کا شکار بنا تھا جس سے ہر شریف انسان پناہ مانگتا ہے لیکن وہ کیسے اتنے بےخبر رہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہی، بارز ان پستیوں میں غرق ہوتا گیا اور وہ سمجھ ہی نہ سکے۔
” کیا عجیب دوراہے پہ آ کھڑا ہوا ہوں کہ برسوں سے ہر مجرم اور ملزم کی زندگیوں کے فیصلے سناتے سناتے میں یہ دیکھ نہ پایا کہ میرا اپنا خون ملزموں کے قطار میں آ کھڑا ہوا ہے ”
فیاض حیات کے لہجے میں دکھ اور آزردگی تھی، چہرے پہ شکست کی پرچھائیاں تھی۔ اکاسمہ اور عفان ایکدوسرے کو دیکھ کے، فیاض حیات کو دیکھنے لگے جو بےحد شکست خوردہ دکھائی دے رہے تھے جیسے زندگی کو ہار گئے ہو۔
” بابا پلیز ایسے نہیں کہے، آپ کامیاب ترین جج اور بہترین باپ ہیں ”
فیاض حیات اکاسمہ کو ایسی نظروں سے دیکھنے لگے جیسے کہنا چاہ رہے ہو، مجھے جھوٹے دلاسے دو گی اب۔ لیکن اکاسمہ انہیں ہی دیکھ رہی تھی مسکراتی آنکھوں سے جبکہ وہ سر جھٹک گئے اور نظریں پھیر گئے جب اکاسمہ کے موبائل پہ کال آنے لگی اس نے دونوں پہ ایک نظر ڈال کے کال ریسیو کی تھی۔
” ہیلو ”
“ہیلو مائی لو، میں اپ کے گھر کے بلکل سامنے ہی ہوں ”
عاریز کی اواز پہ اس کے دل کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھی، آج سارا دن وہ یہ بھول ہی گئی تھی کہ اس کا ایک عدد شوہر بھی ہے ۔
” آتی ہوں ”
کال بند کر کے وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
” عاریز آیا ہے ”
ان دونوں پہ نظر ڈال کے وہ باہر کی طرف بڑھی تھی جبکہ عفان نے لب بھینچ لیے تھے۔ اس شخص سے اسے کچھ خاص انسیت نہیں تھی اور نہ اسے پسند تھا یہ شخص اپنے بہنوئی کے روپ میں،لیکن اپنی بہن کی خاطر چپ تھا۔
دروازہ کھول کے اکاسمہ باہر آئی تھی جب گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا عاریز اس کے قریب آیا تھا۔
” عاریز ”
دھڑکتے دل کے ساتھ کہتی وہ عاریز کے سینے سے جا لگی تھی اور عاریز نے بھی اسے اپنی بانہوں میں بھینچ لیا تھا، گہرا سانس لیتے، اس نے اکاسمہ کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارا تھا۔
” مسڈ یو ”
مبہم سرگوشی کرتا وہ اپنے لب اکاسمہ کے کان کی لو پہ رکھ چکا تھا جبکہ وہ عاریز سے لگی مسکرائی تھی اور پھر الگ ہو کے اسے دیکھنے لگی۔
” اور مجھے ابھی یاد آیا کہ میرا ایک ہزبینڈ بھی ہوتا ہے جو Prosecutor عاریز خان ہے ”
عاریز نے حیرانی سے اسے دیکھا تھا اور پھر ان آنکھوں میں شرارت ابھری تھی، ہاتھ کی انگلیاں، اکاسمہ کی گردن پہ گستاخیاں کرنے لگی۔
” تو اس کا مطلب مجھے یاد دلانا پڑے گا آج رات کو، ہمارے ہی بیڈ روم میں ”
مدھم سرگوشی کرتا، وہ اکاسمہ کے گال تپا گیا جبکہ اکاسمہ مسکرا بھی نہ سکی۔ لب کاٹتی نظریں پھیر گئی۔ اسے غور سے دیکھتا عاریز چونکا تھا، نرمی سے اس کی ٹھوڑی کی شہادت کی انگلی سے چھوتا، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” اتنی اداسیاں کیوں ہیں ان آنکھوں میں؟”
جبکہ وہ عاریز کو دیکھے گئی ۔
” بارز۔۔۔”
وہ کچھ دیر رکی تھی اور پھر لب نیم وا ہوئے تھے۔
” غلط کاموں میں پڑ چکا ہے، کوئی اس کی identity مکمل ہیک کر چکا ہے ”
” کون ؟؟”
عاریز کی سوالیہ نظریں اس پہ تھی۔
” ڈارک ویب پہ بارز کی ہر ویڈیو موجود ہے ان تمام گھناؤنے کاموں کی، جو وہ ہیکر بارز اور اس کے دوستوں سے کروا چکا ہے ”
یہ کہتے ہوئے اکاسمہ کی آنکھیں نم ہوئی تھی جبکہ عاریز نے بےساختہ اس کی پیشانی پہ اپنے لب رکھ کے، اسے خود میں بھینچا تھا۔
” ہشششششش ۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا ”
” بابا اور عفان پریشان ہیں ”
” بارز کہاں ہے ؟؟”
عاریز اسے دیکھتے پوچھنے لگا
” اسے عفان انجکشن لگا چکا ہے اور وہ اس کے زیراثر سو رہا ہے ”
عاریز نے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا تھا۔
” میں ہوں، میں سب ٹھیک کر دوں گا، تمہیں پریشان ہونے کی بلکل بھی ضرورت نہیں ہے،سب ٹھیک ہو جائے گا ”
اکاسمہ کا دل پرسکون سا ہوا تھا، کوئی اپنا شخص، جب آپ سے ایسے بات کرتا ہے، اپنے ہونے کا یقین دلاتا ہے تو کس قدر پرسکون ہو جاتا ہے انسان ۔ یہ اس لمحے اکاسمہ کو محسوس ہو رہی تھی اور ویسے بھی عاریز خان نے تو تب بھی اس کا ساتھ دیا تھا جب وہ اسے جانتا تک نہیں تھا اور اب تو وہ اکاسمہ عاریز خان تھی وہ کیسے اسے تنہا چھوڑ سکتا تھا۔

••••○○○○○●●●●●○○○○○••••

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *