Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 37

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 37

کمپیوٹر پہ کام کرتے اچانک اس کی انگلیاں رکی تھی اور لب بھینچ گئے تھے۔ نظر گھڑی پہ گئی تو رات کے تین بج رہے تھے اور پھر نظروں کا رخ بیڈ روم کے کھلے دروازے کی طرف گیا تھا جہاں وہ محترمہ ابھی تک جاگ رہی تھی اور نہ جانے اس شخص کو سرچ کر کے وہ ثابت کیا کرنا چاہتی تھی۔ اکاسمہ کے لیپ ٹاپ کو وہ بنا اسے بتائے اپنے لیپ ٹاپ سے کنکٹ کر گیا تھا اور اس کا موبائل بھی۔
اس کے لیپ ٹاپ اور موبائل میں جو کچھ ہو رہا ہوتا، وہ سب حکان کی دسترس میں تھا۔ وہ مزید کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا اکاسمہ کی زندگی کے معاملے میں۔ گہرا سانس لیتا، وہ لیپ ٹاپ سائیڈ پہ رکھ کے، اپنی جگہ سے اٹھا اور بیڈ روم کی طرف بڑھا لیکن اس کے جیسے ہی قدم دروازے سے اندر داخل ہوئے، اکاسمہ جو لیپ ٹاپ اسکرین کو گھور رہی تھی، بوکھلا کے اس نے فورا لیپ ٹاپ بند کر دیا۔
حکان نے آنکھیں گھمائی تھی جیسے وہ نہیں جانتا کہ محترمہ کر کیا رہی تھی لیکن اسے نظرانداز کرتا، وہ بیڈ پہ اوندھے منہ گر گیا، اکاسمہ مزید بوکھلا کے دور ہوئی تھی اور خشمگیں نظروں سے حکان کی پیٹھ گھورنے لگی۔
” یہ میرا بیڈ ہے ۔ اٹھو یہاں سے ”
وہ خاموش ہی رہا۔
” حکان میں نے کہا اٹھو یہاں سے ”
اکاسمہ مزید تیز آواز میں جھنجھلائی۔
” اچھا یار، آج رات کے لئے ادھار دے دو اپنا یہ بیڈ پلیز ”
حکان کی نیند سے بوجھل آواز آئی تھی۔ اکاسمہ زیر لب بڑبڑاتی، لیپ ٹاپ سمیت اٹھنے لگی بیڈ سے، جب حکان نے اس کی کلائی پکڑ کے اسے روکا۔
” سو جاؤ اکاسمہ، تمہارے اس شخص کو سرچ کر لینے سے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، اگر وہ سرچ کر لینے سے مل جاتا تو اسے اب تک اریسٹ کر لیا جاتا ”
اکاسمہ نے پہلے حیران آنکھوں سے اور پھر لب بھینچے اسے دیکھا تھا جو اب نیند میں ہونے کا ڈرامہ کر رہا تھا۔
” ہاتھ چھوڑو میرا، حکان ۔۔۔۔۔ ہاتھ چھوڑو میرا ”
لیکن وہ حکان ہی کیا جو اسے سن بھی لے۔ وہ سوتا بن گیا جب اکاسمہ نے جھک کے، اس کے ہاتھ پہ دانت گاڑھ دیے۔ وہ تڑپ کے اٹھ بیٹھا اور اپنی نیند سے بوجھل، سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا۔
” جنگلی بلی ۔۔۔ ”
” تھینک یو سو مچ ۔۔۔۔ پنجہ مار کے، دوسرا گال بھی زخمی کر دوں گی۔ دھیان رہے۔ ”
وہ اترا کے، کندھے اچکاتی، بیڈ سے نیچے اتر کے، صوفے پہ جا کے لیٹ گئی۔
” سو ہی جاؤ تم وہیں صوفے پہ صبح تک جب فالج والی فیلنگز آئے گی تب پوچھوں گا ۔ ”
” ادھار دیا ہے اپنا بیڈ آج رات کے لئے تمہیں۔ اتنی فراخدل تو ہوں میں ”
وہ منہ بنا کے کہتی، سر تک چادر تان کے سو گئی۔ حکان اسے گھورتا رہا۔ اب وہ بیڈ پہ اور اکاسمہ صوفے پہ کیسے سو سکتی ہے۔ یہ اسے کب برداشت ہونا تھا۔
” نہیں چاہئے ایک رات کا بیڈ۔ واپس لے لو اپنا بیڈ، ادھار نہیں چاہیے مجھے ”
اس نے دانت پیستے کہا لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تو وہ بھی خاموشی سے چادر کے نیچے موجود اس وجود کو دیکھے گیا۔ کچھ ہی دیر گزری تھی جب اس کی بوجھل نیند بھری سانسیں پورے بیڈ روم میں گونجنے لگی۔ اکاسمہ کا سر بھی چادر کے نیچے سے نکل آیا تھا اور تبھی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کے، اس کے قریب ایا، وہ گہری نیند میں تھی۔ اور اسے اکاسمہ کے گہری نیند میں ہونے کا مطلب پتہ تھا کہ کچھ بھی ہو جائے، اس نے نیند سے اٹھنا ہے ہی نہیں۔
جھک کے، اس نے سوئی ہوئی اکاسمہ کو بانہوں میں اٹھایا اور یونہی چلتے ہوئے وہ بیڈ تک ایا، اسے بیڈ پہ لٹا کے، اس پہ کمفرٹر ٹھیک کر کے، وہ سیدھا ہوا۔ کچھ دیر اس کے سوئے وجود کو دیکھتا رہا اور پھر خود صوفے پہ جا کے لیٹ گیا۔ اس قدر تھکن تھی کہ لیٹتے ہی اسے نیند آ گئی تھی۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

صبح وہ بھی حکان کو تیار ملی تھی کورٹ جانے کے لئے۔ حکان نے اس کی تیاری کو غور سے دیکھا جبکہ وہ کندھے اچکا کے دروازے کی طرف بڑھی۔
” آج میرا کوئی کلائنٹ آنے والا ہے۔ ”
حکان کی پرسوچ نظریں اس پہ تھی جب آگے پیچھے دونوں باہر نکلے تھے۔ جس قدر بہادر اور سپاٹ وہ اس وقت تھی، کورٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے جیسے سب ماند پڑ گیا، اس کا پورا وجود نڈھال سا محسوس ہونے لگا اسے، جیسے وہ بےحد بھاری پن سے، ہر قدم اٹھانے کی کوشش کر رہی ہو۔ حکان نے بنا کچھ کہے، اس کے قریب ہو کے، اس کے گرد اپنے بازو پھیلائے تھے۔ اکاسمہ چونک کے اسے خالی نظروں سے دیکھنے لگی۔
” کوئی بھی، چھوٹی سی بھی پرابلم دکھائی دے اکاسمہ، تو سیکنڈ ضائع کیے بنا، تم اپنے موبائل کا ایمرجنسی بٹن پریس کر لینا۔ کچھ بھی ہو، کچھ بھی اکاسمہ، میں تم سے الگ نہیں ہوں، تمہارے پاس ہوں”
اکاسمہ نے بنا کچھ کہے لب بھینچ لیے۔
” اوہووووو، ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے New Wed Couple .. ماشاءاللہ۔۔ ماشاءاللہ نظر بد دور۔ ”
یہ خیام تھا جو مسکراتے ہوئے انہیں دیکھ رہا تھا۔ حکان اس کے لئے بہترین انتخاب تھا یہ وہ جانتا تھا تبھی بےحد خوش تھا۔ اکاسمہ نے لب بھینچے اسکے مسکراتے چہرے کو دیکھا تھا۔
” ملکہ ڈان ۔۔۔۔۔”
” شٹ اپ ”
وہ منہ بنا کے کہتی آگے بڑھ گئی جبکہ خیام اپنی کنپٹی سہلاتا، سوالیہ نظروں سے حکان کو دیکھنے لگا۔
” تم کچھ خاص پسند نہیں ہوگے اسے ”
حکان کی شرارت بھری انکھوں نے، اسے سرد آہ بھرنے پہ مجبور کیا۔
” سب مجھ سے ہی ناراض رہتے ہیں۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” یہ میری بچی ہے وکیل صاحبہ۔ اس کا بدبخت شوہر ہر رات، اسے نشہ دلوا کے، اسے ہر مرد کے حوالہ کر دیتا۔ ہر مرد کے ہاتھ بیچ دیتا۔ پولیس میں شکایت کی، اسے گرفتار کر لیا۔ اب ہم طلاق مانگ رہے اور وہ دے نہیں رہا۔ میری بچی کی زندگی برباد کر دی اس نے۔ ”
وہ عورت کہتے کہتے رو پڑی۔ اکاسمہ نے جھرجھری سی لی تھی۔ وہ اب اُس لڑکی کو دیکھنے لگی جس کا نام معصومہ تھا۔ جو بھیگی آنکھوں میں خالی پن لیے، نڈھال سی بیٹھی ہوئی تھی جبکہ وہ عورت کہنے لگی۔
” ہم تو اسے اچھا شخص سمجھ کے، اپنی بچی بیاہ دی تھی۔ہمیں کیا معلوم تھا کہ اس شخص کی اچھائی کے پہچھے، اس کے سیاہ کرتوت ہے۔ ”
وہ عورت پھر سے رونے لگی اپنی بچی کی بربادی پہ ۔
” معصومہ ؟؟”
اکاسمہ نے نرمی سے اس کا نام لیا تھا۔ وہ نم آنکھوں سے اکاسمہ کو دیکھنے لگی۔
” میرا نام اکاسمہ ہے۔ میں ہیلپ کروں گی تمہاری، تمہیں طلاق میں دلواؤں گی اس درندے سے اور سزا بھی ملے گی اسے، لمبی سزا ہی ملے گی۔ تمہاری زندگی کو نجات مل جائے گی ”
بلکل اچانک سے وہ رونے لگی۔ اس کے رونے میں اس قدر کرب تھا، اسقدر فریاد تھی کہ اکاسمہ کی آنکھیں بھی نم ہونے لگی۔ معصومہ کی ماں اسے خود سے لگائے، خود بھی رونے لگی لیکن ساتھ ساتھ اپنی بیٹی کو دلاسہ دینے لگی۔
” وکیل صاحبہ بیٹیوں کے نصیب سے بہت ڈر لگتا ہے ہم ماں باپ کو۔ بچپن سے اس کے لاڈ اٹھائے ہیں ہم نے۔ اس کا اسکول، کالج، یونیورسٹی۔ اسے اچھی تعلیم دی، اچھی زندگی دی۔ اس کمینے رضوان الحق کا رشتہ آیا۔ شکل و صورت سے بھی اچھا تھا اور اخلاق سے بھی۔ پر ہم دھوکہ کھا گئے۔۔۔ اپنی پھول سی بچی کو اس کے حوالے کر کے، ہم دھوکہ کھا گئے ۔ وکیل صاحبہ، جب بچیوں کے نصیب سے ہم مائیں ہار جائے ناں تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے پوری زندگی کی بازی ہار گئے ہیں ہم ۔۔۔ ”
” وہ نامرد نکلا ۔۔۔ وہ مرد تھا ہی نہیں ”
معصومہ اچانک سے چلائی تھی۔ اکاسمہ کو اس کی زندگی کا سوچ کے ہی، جھرجھری سی محسوس ہوئی تھی۔ اس پہ پر لمحہ کیا بیتی ہوگی۔ کیسے اسنے وہ بھیانک لمحے گزارے ہونگے۔ سوچ کے ہی اس کا وجود کانپنے لگا۔ اس کے ہاتھ جو کانپ رہے تھے۔ انہیں گود میں رکھ کے، وہ دونوں ہاتھوں کو آپس میں پیوست کر گئی تھی تاکہ ان کی کپکپاہٹ کم ہو۔
اس نے یہ کیس لڑنا تھا۔ وہ ضرور لڑے گی یہ کیس۔ لیکن اس وقت اسے جیسے عجیب محسوس ہو رہا تھا۔ پینک اٹیک نہیں تھا لیکن اسے کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا تھا۔
” ایک سیکنڈ”
وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھ کے، دروازے کی طرف بڑھی۔ دروازہ کھول کے وہ باہر نکلی۔ خود پہ قابو پاتی، وہ چاروں طرف دیکھتی آگے بڑھ رہی تھی۔

کہاں ہے وہ ؟؟!!

گہرے سانس لیتی، وہ اس شخص کے آفس کے سامنے کھڑی تھی۔ گلاس وال سے، وہ اس شخص کو دیکھ پا رہی تھی جو کسی سے بات کر رہا تھا جب اچانک نظر شیشے کے پار کھڑی اکاسمہ پہ گئی۔ وہ تیزی سے، اپنی جگہ سے اٹھ کے، دروازہ کھول کے، اس کے قریب آیا تھا۔
” اکاسمہ ”
اکاسمہ اپنے کانپتے ہاتھ اسے دکھانے لگی جنہیں حکان نے تیزی سے تھام لیا تھا اور نرمی سے دبایا تھا ۔
” ریلیکس ۔۔۔۔ باہر چلیں؟؟”
حکان نرمی سے پوچھنے لگا۔ جبکہ وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
” پ ۔۔۔ پانی ”
حکان اسے اپنے آفس میں لے گیا تھا۔ اسے صوفے پہ بٹھا کے، اسنے اکاسمہ کو پانی پلایا۔ اس کے دونوں ہاتھ، اپنے ہاتھوں میں لے کے، وہ نرمی سے دبانے لگا۔
” اکاسمہ ریلیکس ۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہوا، میں ہوں ناں ”
وہ نرمی سے کہہ رہا تھا۔ اکاسمہ کی بھیگی آنکھیں اس شخص کو دیکھنے لگی اور پھر ان آنکھوں میں حیرت ابھری تھی وہ تیزی سے حکان کے گلے لگی تھی۔ حکان جو ابھی سنبھلا بھی نہیں تھا جب شاکڈ رہ گیا۔
” عاریز ۔۔۔۔۔ ”
وہ پھر سے حکان کو عاریز سمجھ رہی تھی۔ حکان نے لب بھینچ لیے تھے۔ وہ جیسے سن ہو گیا تھا۔ اکاسمہ صرف اس لئے، اسکے قریب آتی ہے کیونکہ وہ اسے عاریز سمجھتی ہے۔ لیکن وہ عاریز نہیں ہے۔ وہ حکان ملک ہے۔ حکان ملک!!
اپنی ہی بیوی کی زبان سے، اس کے سابقہ شوہر کا نام وہ دوسری بار سن رہا تھا۔ یہ غلط نہیں تھا، غلط تو یہ تھا کہ اس کی بیوی، اس کے قریب صرف اس لئے آتی ہے کیونکہ اکاسمہ کو اس میں عاریز نظر آتا ہے۔ اکاسمہ کی پشت سے، اس کے دونوں ہاتھ گر گئے تھے۔ وہ بت بن گیا تھا۔ محسوس ہونے پہ اکاسمہ اس سے الگ ہو کے دیکھنے لگی تو مقابل حکان ملک تھا جو سپاٹ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اکاسمہ کرنٹ کھا کے پیچھے ہوئی تھی۔
” میں ۔۔۔۔۔ میں ”
حکان بنا اسے سنے، سر جھٹک کے کھڑا ہوا اور اپنی سیٹ پہ جا کے بیٹھ گیا۔ کیبورڈ پہ انگلیاں چلاتے، وہ اب اکاسمہ کو نظرانداز کر چکا تھا۔ وہ اکاسمہ کے لئے “عاریز خان ” تھا تو ” حکان ملک ” کہاں تھا ؟؟ اکاسمہ کی زندگی میں حکان ملک کہاں تھا ؟؟
اکاسمہ اب کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں رہی تھی۔ تبھی آہستگی سے اٹھ کے وہ آفس سے باہر نکل گئی۔ حکان کیبورڈ پہ زور سے ہاتھ مارتا، اب آفس کے بند دروازے کو دیکھنے لگا۔
” ڈیم اٹ!!”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کے، باہر نکلا۔ اکاسمہ اسے نظر آ گئی تھی وہ اپنے آفس میں جا رہی تھی۔ وہ چلتا ہوا، اس کی آفس کے قریب آیا لیکن اندر وہ دو عورتوں سے بات کر رہی تھی تو وہ رک گیا اور خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ کوئی عام لڑکی نہیں تھی جس سے وہ بےخبر رہتا، وہ اکاسمہ تھی، اس کی آٹھ سالہ محبت، اس کی روح میں بسا، اس کے اپنے ہی وجود کا کھویا ہوا حصہ۔ وہ کیسے چھوڑ سکتا تھا اسے۔

ہائے عشق!! تیرے انجام پہ رونا آیا۔۔۔

” پر کیا کرے، یکطرفہ عشق کر بیٹھے ہیں ”
ٹھنڈی آہ بھر کے، وہ پھر سے اپنے آفس کی طرف مڑ گیا تھا۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

دروازے پہ بیل ہوئی تو حکان نے ہی دروازہ کھولا جب سامنے لبنی کو دیکھ کے، اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
” ارے مام۔۔ ”
لبنی نے مسکرا کے، اس کا گال ہاتھ سے چھوا تھا۔
” ہاں میں۔۔۔”
پھر وہ سائیڈ پہ کھڑے خانساماں اور ڈرائیور کو ڈشز اندر لے جانے کے لئے کہنے لگی۔
” یہ سب کیا ہے ؟؟”
اکاسمہ بھی آواز سن کے وہیں آئی تھی۔ جب لبنی نے مسکرا کے اسے دیکھا۔
” اسلام علیکم۔آنٹی ”
” ارے یہ کیا ؟؟ مام کہو مجھے، جیسے حکان کہتا ہے ”
لبنی نے اسے گلے لگا کے، اس کے گال چومے تھے۔
” ماشاءاللہ میری پیاری بچی ۔۔۔ ”
” تم دونوں جاؤ۔ میں کال کر لوں گی ۔۔۔ ”
انہوں نے ڈرائیور اور خانساماں کو دیکھتے کہا ۔
” اوکے میم، گڈ نائٹ سر۔ ”
وہ دونوں لبنی اور حکان کو دیکھ کے، چلے گئے تھے۔
” میں نے سوچا کہ آج میں اپنے بچوں کے ساتھ ڈنر کر لیتی ہوں ”
اکاسمہ کو بازو کے گھیرے میں لیے وہ آگے بڑھی جبکہ حکان گہری نظروں سے اکاسمہ کی پشت دیکھنے لگا۔ اس کی ماں، اس سے زیادہ اکاسمہ سے پیار کرنے لگی تھی۔
” تو آپ یہاں آ جاتی، اتنا سارا کھانا ”
اکاسمہ کے مسکرا کے کہنے پہ لبنی مسکرا کے، اس کے بال سنوارنے لگی۔
” تو کیا خالی ہاتھ آ جاتی اپنے بچوں کے گھر۔ ماں کے ہاتھ کا کھانا ٹیسٹی ہوتا ہے ۔۔۔ ”
” میں ڈائننگ ٹیبل سیٹ کرتی ہوں ”
اکاسمہ مسکرا کے کچن کی طرف بڑھی تو لبنی کی نظر حکان پہ گئی جو لب بھینچے انہیں گھور رہا تھا۔
” زیادہ پیار نہیں جتا رہی آپ؟؟ میں بھی بیٹا ہی ہوں آپ کا سگا ”
وہ ان کے قریب ہوتا بڑبڑانے لگا۔
” چل، ”
لبنی نے ہنستے ہوئے اس کے بال بکھیرے تھے ۔
” میں بھی ہیلپ کر دوں ”
وہ آگے بڑھ کے، اکاسمہ کے ساتھ، کھانا لگانے لگا۔ اکاسمہ آج کے واقعے کے بعد، اسے دیکھنے سے کترا رہی تھی۔ وہ اسے عاریز سمجھ کے، اس کے گلے لگی تھی اور کچھ رات پہلے بھی، بخار میں یہی حرکت کی تھی اس نے۔ اسے اب شرمندگی ہو رہی تھی۔ تبھی وہ کترا رہی تھی۔
کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا۔
” یہ دروازہ کیوں نہیں کھل رہا حکان ؟؟”
چائے بناتے ہوئے حکان کی نظر لبنی پہ گئی جو دوسرے کمرے کے دروازے کا ہینڈل پکڑے کھڑی تھی، نظر بھٹک کے اکاسمہ پہ گئی جو لبنی کو ہی دیکھ رہی تھی۔
” وہ دروازہ لاکڈ ہے مام، کیز گم ہو گئی ہے ”
حکان کہتے ہوئے آگے بڑھا۔
” ارے کیز کیسے گم ہو گئی حکان، ایک تمہارے پاس تھی اور ایک میرے پاس رہ گئی تھی۔ رکو میں وہی دیتی ہوں تمہیں ”
لبنی کہتے ہوئے، صوفے پہ رکھے ہوئے، اپنے بیگ کی طرف بڑھی۔
” ارے نہیں مام، لاک ہی خراب ہو گیا ہے اس کا۔ رہنے دیں کام نہیں کرے گی وہ کیز ”
اکاسمہ جو اپنے کام میں مصروف تھی ۔ حکان کے اس قدر اصرار پہ، رخ موڑ کے اسے دیکھنے لگی۔
” یہ لو، مل گئی چابی ۔۔۔۔ ”
” مام وہ غلط کیز ہیں۔۔۔ لاک خراب ہو چکا ۔۔۔۔ ”
وہ جو کہہ رہا تھا اب سر پہ دونوں ہاتھ رکھ کے، بات ہی ادھوری چھوڑ گیا۔ کیونکہ دروازہ کھل چکا تھا۔
” یہ لو کھل گیا دروازہ، لاک کہاں سے خراب ہے ”
لبنی دروازہ کھول کے کمرے میں جا چکی تھی جبکہ حکان نے چور نظروں سے، اکاسمہ کو دیکھا تھا جو اسے ہی لب بھینچے گھور رہی تھی۔ وہ تیزی سے دونوں ہاتھوں سے اپنے بال سیٹ کرنے لگا۔
” ارے لاک ٹھیک تھا۔۔۔”
وہ کندھے اچکا کے ہنسنے لگا۔
” کیز بھی مل گئی ۔۔۔ ارے واہ !!!”
اکاسمہ اب بھی اسے گھور رہی تھی۔
” اکاسمہ یہاں آنا بچے!!”
لبنی کی اواز پہ وہ کچن سے نکل کے، اسے گھورتی آگے بڑھی تھی۔ وہ جو کچھ دیر پہلے حکان سے شرمندہ تھی اب وہ غصہ تھی اس شخص سے۔ کیونکہ اس نے جھوٹ بولا تھا کہ اس کمرے کی چابی گم گئی ہے اور لاک بھی خراب ہے۔
” بدتمیز ۔۔۔۔”
اس کے پاس رک کے دانت پیستے کہہ کے، وہ کمرے میں گئی تھی ۔
” مام ۔۔۔مام!!!”

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

” گریٹ نیوز ہے یہ تو ”
حکان خوشگوار حیرت کے ساتھ لیپ ٹاپ دیکھنے لگا۔ خیام بھی اس کے قریب کھڑا تھا جبکہ عباس کیبورڈ پہ انگلیاں چلاتا، کچھ کلپس دکھا رہا تھا جہاں عدیل حیات کا چہرہ دھندلا سا نظر آ رہا تھا۔ اور یہ کلپس کافی جگہوں کی تھی۔ مطلب کراچی کے کافی جگہوں پہ اس کا آنا جانا تھا۔
” یہ تو اتنا دبلا پتلا سا ہے۔ شکل سے ہی *رامی لگتا ہے ۔ ”
خیام کے تبصرے پہ حکان نے آبرو اچکا کے اسے دیکھا تھا۔
” سر، اس کا ٹارگٹ ہمیشہ لڑکیاں، عورتیں اور ٹین ایج لڑکے ہیں۔مطلب مردوں سے فاصلہ رکھتا ہے ۔۔۔ ”
عباس کہہ رہا تھا۔
” دیکھا جائے تو سب ہی عورتیں، لڑکیاں اور ٹین ایج ہی ہیں۔۔ لیکن عاریز خان کو کیسے مارا اس نے ؟؟”
خیام کے سوال پہ، حکان نے اپنی کنپٹی سہلائی تھی ۔
” کیونکہ وہاں ایک نہیں دو آدمی تھے، ایک یہ اور دوسرا عاریز خان کا ماسک پہنے ہوئے وہ شخص ۔۔۔ اس گھر کے تمام کیمرے چیک ہو چکے تھے اور اس ایریا کے بھی۔ وہاں ایک فیملی ایسی بھی تھی جس کی بچی جو قریبا 17 سال کی تھی۔ اس کے بیان کے مطابق، وہ اس شخص کے ہاتھوں بچ نکلی تھی لیکن اسے اتنا ٹارچر کیا گیا تھا کہ وہ نیم پاگل ہو چکی تھی۔ وہ تو بچ نکلی لیکن جس بچی کی انویسٹیگیشن کے لئے تم اور عاریز گئے تھے اور جہاں کے تہہ خانے میں یہ حادثہ پیش آیا تھا۔ وہ بچی ماری گئی۔ ”
” کیا مطلب حکان ؟؟”
خیام کی سوالیہ نظریں حکان پہ تھی۔ حکان نے ایک لمحے کے لئے لب بھینچے خیام کو دیکھا تھا۔
” عاریز وہیں ایکسچینج ہوا تھا کیونکہ عاریز کا قتل وہیں، اسی گھر کے تہہ خانے میں ہوا تھا۔ تم اس گھر کو اور اس کیس کو بھول گئے تھے کیونکہ عاریز اس میں دلچسپی نہیں لے رہا تھا لیکن میں نے اس کیس کو، اسی دن اسٹارٹ کیا جب میں اس بچی سے ملا جو اس گھر سے فاصلے پہ رہتی ہے۔ وہ ڈاکٹر مسفرہ کے پاس آتی ہے۔ اور تب میری انویسٹیگیشن شروع ہوئی ۔۔۔ اس مکمل ائیریا کو کنگال دیا تھا میں نے۔ لیکن اس تہہ خانے میں،مجھے عاریز خان کا بلڈ اس وقت ملا جب۔۔۔۔۔۔ تمہیں اس کی باڈی ملی جنگل میں۔ ”
خیام حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” احتیاط سے آگے بڑھ رہا تھا میں۔۔۔ کراچی کے ہر اس پلیس کو ہیک کرنا، جہاں انٹرنیٹ کی پہنچ ہو اور سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہو، ان پہ نظر رکھنا اور ان کو ہیک کر کے مواد نکالنا، آسان کام نہیں لیکن میرے لئے وہ آسان بنتا گیا اور نتیجہ سامنے ہے۔ اب یہ قاتل ہماری پہنچ سے دور تو کیا، ہماری مٹھی میں ہے ۔۔۔۔۔”
اچانک اکاسمہ کی چیخ ابھری تھی اور حکان چونک کے دروازے کی طرف بھاگا تھا جبکہ خیام اور عباس بھی اس کے ہیچھے بھاگے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” میم آپ کے لئے یہ پارسل آیا ہے ”
پیون ایک پارسل کے ساتھ، اکاسمہ کے آفس آیا تھا۔
” رکھ دو ”
اکاسمہ جو موبائل میں مصروف تھی۔ مصروف سے انداز میں کہتی، تیزی سے کی پیڈ پہ انگلیاں چلانے لگی۔ پیون وہ پارسل رکھ کے باہر نکلا تھا۔ اکاسمہ موبائل سائیڈ پہ رکھ کے، وہ پارسل اٹھا کے کھولنے لگی۔ جس پہ لکھا ہوا تھا۔

” Thank you Ma’am for your support !!”

چھوٹے سے کارڈ پہ یہ لکھا ہوا تھا جو پارسل کے ساتھ ہی اٹیچ تھا۔ اکاسمہ مسکرانے لگی۔ کل ہی اس نے کیس جیتا تھا اور یہ ضرور اس کی کلائنٹ کی طرف سے تھا۔ ریپر کھول کے، وہ اب اس میں موجود ڈبے کو کھولنے لگی۔
جب اچانک پورا آفس اس کی چیخوں کے طوفان سے بھر گیا۔ اس ڈبے سے دو چمگادڑ اور بہت سے کاکروچ نکل کے، اسکی ٹیبل پہ پھرنے لگے جبکہ وہ دو چمگادڑ اس کے بالوں سے الجھتے، اب پورے آفس میں گھوم رہے تھے جبکہ سلوگن بھی بجنے لگا جو کبھی بچپن میں اس کے لئے، بہت دلچسپ ہوا کرتا تھا لیکن آ وہ سلوگن نائٹ میئر بن چکا تھا۔
وہ سیٹ سے نیچے گر کے، اسی سیٹ کے پیچھے خود کو چھپانے کی کوشش کرتی، چیخ رہی تھی۔ دروازہ کھولا حکان تیزی سے اندر آیا تھا۔ اکاسمہ کے وحشت بھرے وجود کو تیزی سے خود سمیٹتا، وہ چیخ پڑا تھا۔
“Find him right Now ”
خیام اور عباس تیزی باہر کی طرف لپکے تھے۔ جبکہ اکاسمہ کا کانپتا وجود، حکان کی بانہوں میں تھا جو اس کے سینے سے لگی، اس کے وجود میں چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔ حکان نے تیزی سے، ٹیبل پہ ہاتھ مار کے، ڈبے کو دیوار پہ دے مارا تھا۔ جس سے وہ سلوگن اب بند ہو چکا تھا۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *