Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 05

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 5

” میں کر رہا ہوں اپ سے نکاح ”
عاریز جو کب سے سنجیدہ نظروں سے اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا جو خیام سے بات کر رہی تھی ، کوئی راہ حل ڈھونڈ رہی تھی، جب اچانک عاریز کی بات پہ ان دونوں نے چونک کے اسے دیکھا تھا ۔ چہرے پہ بلکل بھی مذاق کا شائبہ تک نہ تھا، اکاسمہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ پوچھنے لگا ۔
” کب جانا ہے آپ کو Prosecutor حسام سرحدی سے ملنے؟؟”
” شام کے چھ بجے ”
اس نے جواب دیا تھا لیکن آنکھوں میں اب بھی حیرت تھی، عاریز نے ہاتھ پہ بندھی اپنے قیمتی گھڑی پہ نظر ڈالی تھی اور پھر اسے دیکھنے لگا ۔
” ابھی دن کے گیارہ بج رہے ہیں۔ نکاح ہو سکتا ہے ”
“یہ ، یہ کیا کہہ رہا ہے ؟؟ نکاح کس لئے ؟؟”
وہ خیام کو دیکھ کے کہہ رہی تھی ۔ خیام خاموش ہی رہا، وہ سمجھ چکا تھا عاریز کی بات کو ، لیکن جذباتی سی اکاسمہ شاید اس پوائنٹ تک پہنچ ہی نہیں پائی تھی ابھی ۔
” مطلب میں جا کے اپنے پیرنٹس اور فیملی کو یہ کہہ دوں کہ جلدی آئیے میرا نکاح ہے ”
” تو مت بتائیے انہیں، میں بھی نہیں بتا رہا ”
وہ کس قدر پرسکون تھا ، اکاسمہ لب بھینچے اسے دیکھنے لگی ۔
” میں کسی کو جانتی ہی نہیں تو کیوں کروں اس شخص سے نکاح؟”
وہ اب بھی اپنی ہی ضد پہ تھی جبکہ عاریز کے پرسکون انداز میں ایک سیکنڈ کے لئے بھی کوئی فرق نہیں آیا تھا ۔ وہ اکاسمہ کے غصے سے سرخ پڑتے چہرے کو اطمینان بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
” آپ آج شام چھ بجے Prosecutor حسام سرحدی کو یہ کہے گی کہ آپ اپنے ہزبینڈ عاریز خان سے ملنے اس کرائم سین پہ گئی تھی، ریزن کچھ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کو میری یاد آ رہی تھی یا آپ غصہ تھی مجھ پہ یا لڑ کے گھر سے نکلا تھا میں اور اپنے ہزبینڈ سے دو دو ہاتھ کرنے آپ وہاں آئی تھی کیونکہ آپ بہت غصے میں تھی ۔ ”
خیام نے ہاتھ کی مٹھی بنا کے ، اس پہ منہ رکھ لیا تھا اپنی مسکراہٹ روکنے کے لئے ۔
” ہزبینڈ سے ملنے وائف کہیں بھی آ سکتی ہے ، اور پھر جو لوگ آپ کے اگینسٹ یہ فائل درج کر چکے ہیں ، وہ خاموشی سے اپنی ہار کا تماشا دیکھے گیں ۔ ”
وہ کہہ کے اب خاموش نظروں سے اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا جس کی پر سوچ نظریں عاریز پہ ہی تھی جب خیام کی آواز پہ وہ چونکی تھی۔
” میں witness ہوں تم دونوں کے نکاح کا ، چلو جلدی، ملکہ عالیہ ٹھیک ہے ناں؟؟ آپ کو قبول ہے ؟؟”
خیام اس کی حیران آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ، اکاسمہ نے ایک نظر عاریز پہ ڈالی تھی اور پھر خیام کو دیکھنے لگی ۔ سوچنے سمجھنے خیام صلاحیت رک چکی تھی جیسے ، تبھی سر اثبات میں ہلا تھا اور خیام ہنستے ہوئے عاریز کو دیکھنے لگا ۔
” تو پھر چلتے ہیں، ٹائم زیادہ نہیں ویسٹ ہونا چاہئے ۔ ”
اکاسمہ اپنی جگہ سے کھڑی تو ہو چکی تھی لیکن پریشان نظریں اب بھی خیام پہ تھی اور وہ مسکرا دیا تھا ۔
” ارے میں ہوں ناں، مائی ڈئیر کزن ۔ آج بھی اور کل بھی ، تمہارا بڑا بھائی ۔ ”
اکاسمہ اثبات میں سر ہلانے لگی کہ اس وقت اسے اپنی وکالت اور اپنی پوزیشن کو بچانا تھا ۔

▪︎▪︎☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆▪︎▪︎

ڈریس آپ ہو کے دوپٹہ سر پہ ٹھیک کرتی ، اس کی نظر دیوار پہ لگے اس چھوٹے سے شیشے پہ گئی تھی ، جہاں وہ کھبی کھڑی ہو کے ، مسکراتی آنکھوں سے خود کو دیکھتی کالج کے لئے تیار ہوتی تھی اور آج اس پہ ایک کپڑا ڈالا گیا تھا جو عافیہ نے ہی ڈالا تھا تاکہ ان کی بیٹی کی نظر اس شیشے پہ نہ پڑے ۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ اس شیشے تک گئی تھی، کانپتے ہاتھ کو آگے بڑھا کے ، اس نے وہ کپڑا شیشے پر سے اٹھا کے نیچے پھینکا تھا ۔
‘ آپ بدل رہی ہے عندلیب، آپ روز خود کو مرر میں دیکھ کے یہی الفاظ کہا کریں کہ آپ بدل رہی ہے ‘
ڈاکٹر عفان کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے تھے اور اس نے خود کو شیشے میں دیکھا تھا ، دو آپریشن ہو چکے تھے ، کافی حد تک فرق پڑا تھا اور اب مزید آپریشن ہونے باقی تھے۔ وہ ٹھیک ہو رہی تھی۔
‘ آپ ٹھیک ہو کے دکھائے اس درندے کو ، کہ وہ آپ سے آپ کا کچھ نہیں چھین سکتا کھبی ۔ ‘
ڈاکٹر عفان کے الفاظ پھر سے گونجے تھے اس کے کانوں میں اور آنکھیں نم ہوئی تھی جب دروازے پہ آئی عافیہ رک کے اس کی پشت دیکھنے لگی جو خود کو شیشے میں دیکھنے میں مگن تھی ۔ گہرا سانس لیتی وہ ہٹ کے اپنا بیگ اٹھانے لگی جب نظر دروازے پہ کھڑی عافیہ پہ پڑی تھی ، بیگ کندھے پہ ڈالتی وہ اپنے ماں کے قریب آئی تھی۔
” گھر کے شیشوں پر سے کپڑا ہٹا دیں امی ۔ ”
یہ کہہ کے وہ رکی نہیں، ان کے پہلو سے ہوتی ، تیزی سے کمرے سے باہر نکلی تھی جبکہ عافیہ نم آنکھوں سے اپنی بیٹی کو جاتا دیکھنے لگی ۔ وہ بدل گئی تھی، وہ اب خود کو قبول کرنے لگی تھی لیکن وہ ماں تھی ، جانتی تھی اپنی بیٹی کے دل کا حال، اس کے گنہگار آزادی سے دندناتے پھر رہے تھے بنا کسی سزا کے اور ان کی بیٹی۔ اپنے آنسو صاف کرتی وہ بھی گھر سے باہر نکلی تھی کہ انہیں بھی کام پہ جانا تھا ۔

☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆☆

چائے کا کپ اور فریش بیک کیا ہوا کیک لے کے ، وہ صوفے پہ آ کے بیٹھی تھی، آج اس کا موڈ کلینک جانے کا نہیں تھا ، تبھی وہ آرام دہ انداز میں صوفے پہ بیٹھ کے کیک کا پیس اپنے منہ میں رکھتی چائے کا کپ اٹھا چکی تھی۔ نظریں اس کی لیپ ٹاپ پہ تھی جہاں وہ مختلف نیوز کو سرچ کر رہی تھی ۔ نظر وجدان ملک کے نیوز پہ گئی اور ساتھ ہی اس کی تصویر پہ ، جس میں وہ مسکرا رہا تھا اور مسفرہ نے آنکھیں گھمائی تھی ۔
” اس کی تو بتیسی توڑ دوں میں۔ ”
اور پھر وہ نام انٹر کرنے لگی ” رخسار فاروقی ”
نظریں لیپ ٹاپ اسکرین پہ منتظر تھی اور جب اس کی تصویریں سکرین پہ نمودار ہوئی تھی ۔ وہ اپنا نام بدل کے ماڈل بنی تھی اب ۔
” سارہ یوسفی سے رخسار فاروقی تک کا سفر ، ایک مرد پہ اپنے قتل کا جھوٹا الزام لگا کے ، کب تک تم آزاد پھر سکتی ہو رخسار فاروقی ۔ ”
وہ زیر لب بڑبڑائی تھی اور ساتھ ہی مسفرہ اس کی ساری انفارمیشن اکھٹی کرنے لگی ۔ جب شائزہ اندر آئی تھی ۔
” ارے مسفرہ تم گئی نہیں کلینک ؟؟”
مسفرہ نے مسکرا کے ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا تھا ۔
” نو ماں، آج مجھے کچھ کام تھا تو اپنی اسسٹنٹ کو سونپا ہے سارا کام ۔ آپ اتنی دیر تک سوتی رہی۔ ”
” ہاں، سوچا تم تو جا چکی ہوگی کلینک ، ایک تو سردیوں کی صبح کو اٹھنا بھی اتنا مشکل کام لگتا ہے ؟”
شائزہ اس کے پاس صوفے پہ بیٹھتی اپنے بال سمیٹنے لگی ۔
” میں نے کیک بیک کیا تھا، آپ کے لئے لاتی ہوں چائے کا ساتھ۔ ”
مسفرہ اٹھتے ہوئے کہنے لگی ۔
” تھینک یو بیٹا، بہت بھوک بھی لگی ہے ”
شائزہ نے مسکرا کے اپنی بیٹی کو دیکھا تھا اور وہ کچن کی طرف بڑھی تھی اور کچھ ہی دیر میں چائے اور کیک لے کے وہ آ چکی تھی ، ٹرے ان کے سامنے رکھ کے خود اپنی جگہ پہ بیٹھ کے پھر سے لیپ ٹاپ میں مصروف ہو چکی تھی۔
” کیا بنا اس کا ؟؟ کیا نام تھا ؟؟ ایک تو نام۔بھی اتنا مشکل ہے ”
شائزہ یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ مسفرہ ہنس پڑی تھی۔
” ماں ازمائر نام ہے اس کا ۔ ”
” ہاں وہی ۔ ”
شائزہ چائے کا کپ لبوں سے لگا چکی تھی جبکہ مسفرہ کی نظریں لیپ ٹاپ پہ تھی۔
” وہی دیکھ رہی ہوں، میں تو چاہتی ہوں کہ اس کی کہانی جلد سب کو پتہ چلے اور اسے انصاف مل جائے ۔ ”
” ہمممم انشاءاللہ یہی ہوگا ۔ ”
شائزہ اپنے ناشتہ کی طرف متوجہ ہوئی تھی جبکہ مسفرہ موبائل اٹھا کے کسی کو کال کرنے لگی ۔
” ہیلو ، میں ڈاکٹر مسفرہ ذکریا بات کر رہی ہوں، جی مجھے رخسار فاروقی کے بارے میں کچھ انفو چاہئے تھی ، ان کا گھر ، آنا جانا ، جاب ، سب کی ڈیٹیلز، جی جی بلکل ٹھیک ہے میں ویٹ کروں گی ”
جبکہ اس دوران شائزہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
” کس کو کال کی تھی؟؟ ”
مسفرہ فرضی کالر جھٹکتے اپنی ماں کو دیکھنے لگی ۔ ۔
” سورسز ماں، بڑی اسٹرونگ سورسز”
شائزہ سر جھٹک کے ہنس پڑی تھی جبکہ مسفرہ لب کاٹتی کچھ سوچنے لگی تھی کہ سب ہو جانے کے بعد اسے ایک لائیر کی ضرورت بھی پڑ سکتی تھی۔

☆☆☆▪︎▪︎▪︎☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎

بس اسٹاپ پہ اتر کے اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تھی، سر پہ جما دوپٹہ ٹھیک کرتی وہ وہاں کھڑے لوگوں کے ہجوم کے بیچ سے ہوتی آگے بڑھی تھی۔ بس اسٹاپ سے ہاسپٹل تک کا راستہ بس پانچ منٹ تک کا تھا ، تبھی وہ جلدی جلدی قدم اٹھاتی جا رہی تھی اور ویسے بھی کراچی جیسے مصروف شہر میں کسی کو کسی سے کوئی سروکار ہی نہ تھا، یہاں سب ایسے عجلت میں اپنے راستے پہ چل رہے ہوتے ہیں کہ جیسے ایک سیکنڈ بھی ضائع ہوا تو ان کی زندگیاں رک جائے گی ۔ لیکن اسے رکنا پڑا جب اسے محسوس ہوا کہ اس کے دائیں جانب ، اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کے کوئی چل رہا ہے اور دیکھتے ہی لمحے بھر کو اس کا رنگ متغیر ہوا تھا ، آنکھوں میں خوف ابھرا تھا اور خوفزدہ آنکھیں چاروں طرف دوڑانے لگی وہ ۔
” مطلب کہ تم نے سدھرنا ہی نہیں ہے ”
جاوید کی سرد آواز پہ عندلیب پھر سے اسے دیکھنے لگی۔
” منع کیا تھا کہ کیس کو بھول جاؤ ، میرے خلاف بولو گی تو تمہارا پورا گھر جلا کے راکھ کر دوں گا ، کہا تھا ناں ”
وہ دانت پیستے غرایا تھا جبکہ عندلیب دو قدم پیچھے ہوئی کانپتے دل کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔
” ماں کے قدموں میں جنت ہوتی ہے ، لگتا ہے تمہیں وہ جنت ہی نہیں چاہیے اور نہ اکرم سے پیار ہے تمہیں نہ حمنی سے ۔۔ ”
اپنے فیملی ممبرز کا نام سن کے اس کا پورا جسم جیسے کانپنے لگا تھا جب جاوید نے اس کا بازو سختی سے دبوچا تھا ۔
” مجھے انکار کرنے کی صورت میں تمہارا پورا چہرہ جھلسا چکا ہوں میں، اگلی دفعہ انکار کی صورت میں، اس بیچ بازار میں یہیں کپڑے پھاڑ دوں گا تمہارے ۔۔ اس وکیلنی سے کہو کہ مجھے ہائی کورٹ تک گھسیٹنے کی غلطی نہ کرے ورنہ تمہارا وہ کچا مکان ، تمہارے پیاروں سمیت جلا کے راکھ کر دوں گا ”
اپنی بات سرد آواز میں کہتا وہ اس کا دبوچا ہوا بازو جھٹک چکا تھا اور لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے جانے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کے بھیڑ میں غائب ہو گیا تھا جبکہ عندلیب میں تو اتنی جان بھی نہ بچی تھی کہ اپنے پیروں پہ چل سکے اور ہاسپٹل تک خود کو پہنچا سکے ۔ اکاسمہ نے پھر سے کیا کیا کرنے کی کوشش کی تھی، یہ اسے نہیں معلوم تھی لیکن صبح آتے ہوئے جو مسکراہٹ اور اعتماد اس کے چہرے اور وجود میں تھی ، وہ کرچی کرچی ہو کے بکھر رہی تھی، آنکھوں میں انسو جمع ہو چکے تھے ، اس بھیڑ میں بےسائبان سی کھڑی وہ بھیگی آنکھوں سے کھڑی یہی سوچ رہی تھی کہ اب کون سے امتحان باقی ہیں اس کے ، اب کیا ہونے والا ہے اس کے ساتھ ، کہاں چھپائے وہ اپنی ماں کو ، اپنے بھائی اور بہن کو ، اگر اس بھیڑ میں اس کا حریم ہی چھین لے وہ ، کچل کے رکھ دے اسے ، تو ؟؟ تو کون بچائے گا اسے ؟؟؟ کون ؟؟
اچانک سے وہ چونکی تھی، کسی نے اس کے کندھے کو نرمی سے دبایا تھا اور وہ چیخی تھی، خوفزدہ آنکھوں سے وہ دیکھ رہی تھی اس مہرباں کو ، جو اس کے بےحد قریب کھڑا پریشان نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ، جو کل اس کی زندگی ہی بدل گیا تھا ، اسے بدل دیا تھا ، وہ جو خود سے ڈرتی تھی اب ڈرنا چھوڑ گئی تھی لیکن سب کرچی ہو گیا تھا اور وہ بھیگی ، بےبس آنکھوں سے ڈاکٹر عفان کو دیکھ رہی تھی۔
” یہاں کیوں کھڑی ہے عندلیب آپ؟؟ کیا ہوا ہے آپ کو ؟؟ طبیعت تو ٹھیک ہے ؟؟”
جبکہ وہ لبوں کو آپس میں پیوست کیے ، بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی ۔ کیا کہے ؟ کیا بتائے وہ اب اس شخص کو ؟؟
” عندلیب؟؟ چلئیے ساتھ چلتے ہیں ہاسپٹل، آئیے کار میں ”
وہ پاس کھڑی اپنے کار کی طرف اشارہ کرنے لگا جبکہ وہ یونہی بےجان ہوتے وجود کے ساتھ کھڑی رہی ۔ ہل بھی نہیں پائی تھی، کجا کہ وہ ایک قدم بھی اٹھا سکے ۔
” عندلیب ۔ ”
وہ اب بھی پریشان سا اسے دیکھ رہا تھا اور پھر اس کے لب ہلے تھے، جیسے ہلکی سرگوشی ہوئی تھی ۔
” میری فیملی کو بچا لیں پلیز ”
وہ بس اتنا ہی کہہ پائی جبکہ عفان ادھر ادھر دیکھنے لگا اور پھر اسے ۔
“کہاں ہے آپ کی فیملی ؟؟ ابھی چلتے ہیں۔ کوئی پرابلم ہے ؟؟ حمنی پھر سے بیمار ہے ؟”
وہ پوچھ رہا تھا جبکہ آنسو عندلیب کے گال پہ پھسلا تھا ۔
” جلا کے راکھ کر دے گا ان سب کو ۔ ”
” کون ؟؟”
عفان نے بھنویں اچکائی تھی ۔
” وہ آوارہ درندہ ؟؟”
اس نے دانت پیسے تھے جبکہ عندلیب کی سسکی ابھری تھی اور وہ نظریں جھکا گئی تھی۔ عفان نے لب بھینچے گہرا سانس لیا تھا ۔
” چلئیے عندلیب یہاں سے۔۔ ”
اس کا بازو نرمی سے تھام کے عفان اسے گاڑی تک لا کے ، فرنٹ سیٹ پہ بٹھا چکا تھا اور خود دوسری طرف سے آ کے ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا تھا۔ گاڑی اسٹارٹ کرنے سے پہلے اس نے ایک نظر عندلیب پہ ڈالی تھی جس کا چہرہ زرد پڑ رہا تھا اور ویران آنکھیں سامنے روڈ پہ تھی، لب بھینچے اس نے گاڑی اسٹارٹ کی تھی، یہ شخص اب حد سے بڑھ چکا تھا، یہ عفان نے سوچا تھا اور اب وہ اپنے طریقے سے اسے اس کی اس حرکت کی سزا دلانا چاہتا تھا۔ جاوید اس ملک کے ان ناسوروں میں سے تھا جس کا بھائی سیاست کی سیٹ سنبھالتے ہی اپنے سے کمزور لوگوں کو دبوچنا ہی جانتا تھا اور یہی وہ چاہتا بھی تھا ۔

☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆

شام کے چھ بجے رہے تھے ۔ وہ تینوں اس وقت Prosecutor حسام سرحدی کے آفس کی طرف جا رہے تھے ، اکاسمہ جو صبح سے پریشان تھی اور ابھی اس کے چال میں اعتماد تھا اور یہ اعتماد اسے عاریز خان کی شخصیت سے مل رہا تھا جو نہ صرف ایک مضبوط پوسٹ پہ فائز تھا بلکہ اب وہ اکاسمہ کا شوہر بھی تھا اور اکاسمہ کو یقین تھا کچھ بھی ہو ، اب وہ اکاسمہ کا ہاتھ نہیں چھوڑے گا ۔ افس روم کے سامنے پہنچ کے عاریز نے سنجیدگی سے اکاسمہ کی طرف دیکھا اور وہ گہرا سانس لیتی خود کو آمادہ کر چکی تھی جبکہ خیام دونوں کی طرف مسکرا کے دیکھتا وہی کھڑا رہا کہ اسے اس وقت یہ محسوس ہونے لگا تھا اچانک سے کہ یہ دونوں محترم حضرات، جو آپس میں بحث بہت کرتے ہیں، اب اپنے اس نئے رشتے میں کیا کیا گل کھلانے والے ہیں، دروازے پہ دستک دے کے عاریز خان اسے لیے اندر داخل ہوا تھا جہاں موجود حسام سرحدی نے بھنویں اچکا کے دونوں کو دیکھا تھا ۔
” گڈ ایوننگ Prosecutor حسام ۔ ”
بھاری اواز میں کہتا عاریز اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
” آپ کے یہاں آنے کا ریزن جاننا چاہوں گا میں Prosecutor عاریز خان۔ ”
حسام ایک نظر اکاسمہ پہ ڈال کے اس سے پوچھ رہا تھا جبکہ عاریز نے ایک نظر اکاسمہ کی طرف دیکھا تھا اور پھر حسام کو ۔
” میں اپنی بیوی کے ساتھ آیا ہوں ۔ ”
عاریز کی بات پہ اس نے اچھنبے سے دیکھا تھا ۔
” بیوی ؟؟”
” مسز اکاسمہ عاریز خان۔ ”
مضبوط لہجے میں کہتا ، ساتھ ہی وہ اکاسمہ کو اشارہ کر چکا تھا کہ نکاح نامہ اس کی ٹیبل پہ رکھ کے وہ ٹیبل کے اس طرف رکھی سیٹ پہ بیٹھ سکتی ہے ۔ جبکہ حسام سرحدی ماتھے پہ بل ڈالے دونوں کو دیکھ رہا تھا، عاریز بھی دوسری سیٹ پہ بیٹھ کے اب نکاح نامے کی طرف اشارہ کرتا حسام سرحدی کو دیکھنے لگا ۔
” یہ اچھا طریقہ ہے ۔ ”
بدمزگی سے کہتا وہ نکاح نامے کو دیکھنے لگا اور پھر اکاسمہ کو ۔
” کیوں گئی تھی آپ کرائم سین پہ مس اکاسمہ ؟؟”
اس کے سوال پہ اکاسمہ نے کندھے اچکائے تھے۔
” میں اپنے ہزبینڈ عاریز ۔۔ میرا مطلب ہے Prosecutor عاریز خان سے ملنے گئی تھی ۔ ”
” کیوں؟؟”
لب ابھی بھی بھینچے ہوئے تھے ۔
“پرسنل ہے تھوڑا۔ بتا دوں؟؟”
اکاسمہ مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی جس پہ حسام سرحدی بدمزہ ہوتا عاریز کو دیکھنے لگا جو مسکراتی آنکھوں سے اکاسمہ کو ہی دیکھ رہا تھا ۔
” لو میرج ہے ؟؟”
وہ اب عاریز سے پوچھ رہا تھا جبکہ وہ کندھے اچکا کے مسکرا پڑا ۔
” لائیر اکاسمہ حیات کو بچانے کا یہ طریقہ بھی اچھا ہے ”
حسام سرحدی کی بات پہ عاریز خان نے جتاتی نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔
” مسز اکاسمہ عاریز خان ۔ تصحیح کرنا ضروری سمجھتا ہوں میں۔ ”
حسام سرحدی گہرا سانس لیتا نکاح نامہ اکاسمہ کو واپس کرنے لگا۔
” ٹھیک ہے میں senior Prosecutor جیلان پاشا سے بات کرتا ہوں۔ ”
” ہمممم ٹھیک ہے، اگر کچھ نہیں پوچھنا آپ نے ، تو ہم جا سکتے ہیں؟ ”
عاریز کے سوال پہ حسام نے لب بھینچ لیے تھے اور پھر اثبات میں سر ہلایا تھا ۔ عاریز اور اکاسمہ اپنی جگہ سے کھڑے ہو چکے تھے ۔
” تھینک یو ۔ ”
اکاسمہ کو لیے وہ افس روم سے باہر نکلا تھا جہاں خیام انہی کا منتظر تھا اور ان پہ نظر پڑتے ہی تیزی سے ان کے قریب آیا تھا۔
” چہرہ دیکھنے والا تھا اس کا ۔ ”
اکاسمہ ہنستے ہوئے بتانے لگی جبکہ خیام مسکرا پڑا تھا ، عاریز نے اپنے دھیان میں اس کی پشت پہ ہاتھ رکھا تھا ۔
” یہاں سے چلتے ہیں۔ ”
اکاسمہ چونک کے اسے دیکھنے لگی جبکہ عاریز نے اس کی طرف بنا دیکھے اپنا ہاتھ اس کی پشت پر سے ہٹا لیا تھا ، وہ بنا دیکھے ہی اکاسمہ کا چونکنا محسوس کر گیا تھا اور خیام کے ساتھ آگے بڑھا تھا جبکہ اکاسمہ خیام کے دوسری طرف چلنے لگی۔ نکاح کے بعد رشتہ بدلا تھا تو عجیب احساسات جنم لے رہے تھے اس کے دل میں، تبھی چور نظروں سے عاریز کو دیکھا تھا جو خیام کی کسی بات پہ ہنس رہا تھا اور پھر نظریں جھکا دی تھی اور اسی لمحے عاریز نے ایک بھرپور نظر ساتھ چلتی اکاسمہ پہ ڈالی تھی جو اس لمحے دل میں اترتی محسوس ہوئی تھی اسے ، آج تو دن کے ایک بجے تک ایسا کوئی احساس نہیں تھا ، ایسا کچھ محسوس نہیں ہوا تھا لیکن جیسے ہی نکاح کے دو بول کے بعد جب تین بار ” قبول ہے ” کہا گیا تو دل کی دھڑکن بےربط ہوئی تھی اور جب نکاح نامہ پہ وہ اپنے سائن کر رہا تھا تب دل مدھم رفتار پہ رک کے چلی تھی۔ یہ نکاح جیسے مبارک بندھن کی تاثیر تھی یا پھر یہ وکیل صاحبہ اس کے دل میں اتر چکی تھی مکمل ۔ وہ زیر لب مسکرا کے نظریں پھیر گیا تھا۔
” ڈنر کر لیتے ہیں تینوں ساتھ میں اور پھر اپنے اپنے گھر کی طرف چلتے ہیں۔ٹھیک ہے ؟؟”
خیام کی بات پہ ان دونوں نے بھی رضامندی کا اظہار کیا تھا اور جب گاڑی میں بیٹھنے لگے تب اکاسمہ نے عاریز کو روک کے نکاح نامہ اس کی طرف بڑھایا تھا ۔
“یہ تمہارے پاس زیادہ سیف ہے ۔ ”
عاریز نے آبرو اچکائے تھے جبکہ خیام کی نظر پڑی تو شرارتی نظروں سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا ۔
” کیا کر رہی ہو ملکہ ڈان ، سارے ثبوت اسے ہی سونپ رہی ہو ، کل کو انکار کر دے گا نکاح سے ہی ”
اکاسمہ نے اسے بھرپور گھوری سے نوازا تھا اور گاڑی میں بیٹھنے لگی۔
” میں ابو سے شکایت لگا دوں گی ۔ ”
اس نے کندھے اچکائے تھا اور اپنی طرف کا ڈور بھی بند کر چکی تھی جبکہ عاریز زیر لب مسکراتا خیام کو انکھ ونک کر گیا تھا اور وہ دونوں بھی گاڑی میں بیٹھ چکے تھے کہ اکاسمہ حیات جو اب اکاسمہ عاریز خان تھی ، وہ مکمل Prosecutor عاریز شازم خان کے دل میں سما چکی تھی جب اس نے حسام سرحدی کے سامنے نہایت استحقاق سے عاریز خان کو اپنا شوہر کہا تھا ۔

☆☆☆☆▪︎▪︎¤¤¤¤¤¤¤▪︎▪︎☆☆☆☆

بیڈ پہ لیٹتے ہی آج کے دن کا لمحہ لمحہ اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگ گیا تھا ، کتنا کچھ بدل گیا تھا اس کی زندگی میں آج ۔ جس شخص سے وہ بحث میں کھبی ہارنا نہیں چاہتی تھی ، اسی شخص سے نکاح، دل تھوڑا ہٹ کے دھڑکا تھا ایک لمحے کے لئے اور پھر لب مسکرا دیے تھے جب وہ شخص اپنے مغرور اور سنجیدہ شخصیت کے ساتھ پلکوں کے جھالر پہ آن ٹھہرا تھا اور بلکل اچانک آگے کا سوچ کے اس کا وہی دل ڈوب کے ابھرا تھا ، پریشان سی وہ اٹھ بیٹھی تھی اور لب کاٹتی وہ کچھ سوچنے لگی ۔
” بابا سے میں نے کھبی کچھ نہیں چھپایا اور آج اتنی بڑی بات ؟؟ اپنی لائف کا اتنا بڑا ڈیسژن کیسے چھپا سکتی ہوں، مجھے بتانا ہے بابا کو ”
وہ بڑبڑاتی کل کے بارے میں سوچنے لگی ، اس کا ارادہ یہی تھا کہ اٹھتے ہی وہ سب فیاض حیات کو بتا دے گی ۔
” نہیں۔۔۔ ابھی بتا دیتی ہوں ”
اس نے گھڑی پہ نظر ڈالی ، رات کے بارہ بج رہے تھے ، وہ کچھ سوچتی بیڈ سے اتری تھی اور یونہی چلتی وہ دروازہ کھول کے باہر نکلی تھی، چھوٹے قدم رکھتی وہ فیاض حیات کے کمرے کی طرف جا رہی تھی اور دماغ میں یہی چل رہا تھا کہ ان کا کیا ری ایکشن ہوگا؟؟ کیا کہے گیں وہ ؟؟ کیسا ردعمل ظاہر کریں گے ؟؟ ساتھ دیں گے یا غصہ ہونگیں ؟؟ لب کاٹتی وہ فیاض حیات کے کمرے کے دروازے پہ کھڑی تھی اور دروازے کے ہینڈل کو دیکھتی وہ سوچتی جا رہی تھی لیکن سمجھ نہیں آ رہا تھا اسے کچھ اور پھر نظریں جھکا کے اپنے کمرے کی طرف آئی تھی کہ کل ناشتے پہ بات کرے گی ان سے ۔ کمرے میں آ کے وہ پھر سے بیڈ پہ لیٹنے لگی تھی جب اس کے موبائل پہ کال آنے لگی ، وہ چونک کے سائیڈ ٹیبل پہ رکھے موبائل کو دیکھتی ، آگے بڑھ کے موبائل لے کے کان سے لگا چکی تھی۔
” ہیلو ۔ ”
” آداب وکیل صاحبہ۔ ”
انداز سے ہی پہچان گئی تھی کہ وہ جاوید یے ، تبھی آنکھیں گھما کے سپاٹ لہجے میں پوچھنے لگی۔
” کیوں کال کی ہے ؟؟”
” ہائی کورٹ تک پہنچ گئی آپ، بڑی پہنچ ہے آپ کی تو ، لگتا ہے جانتی نہیں ہے مجھے ، کہ میں کیا کچھ کر سکتا ہوں اپ کے ساتھ ۔”
جاوید اپنے مخصوص جتانے والے انداز میں کہہ رہا تھا جبکہ اکاسمہ کے اعصاب تنے تھے ۔
” according to section 506 ,
ایک لائیر کو دھمکی دینے کے بدلے میں مجرم کو دو سال قید با مشقت کی سزا سنائی جاتی ہے ساتھ میں جرمانہ بھی بھرنا پڑتا ہے ۔ تو بات یہ ہے ایسڈ کی دوکان کہ ایک کیس تو تمہارا ہائی کورٹ تک پہنچ ہی چکا ہے ، اب ساتھ میں ایک اور نوٹس بھی ملنے والا ہے تمہیں ۔۔۔
On the basis of criminal intimidation towards the lady lawyer.”
ایک ہی سانس میں ساری بات کر کے اکاسمہ نے کال ڈسکنیکٹ کر دی تھی جبکہ دوسری طرف جاوید نے دانت پیستے موبائل کو گھورا تھا اور پھر غصے سے بیڈ پہ پھینکتا وہ اپنے بال دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں میں بھینچ گیا ۔ اس کی پیشی ہونی تھی اس ہفتے کے آخر تک ہائی کورٹ میں اور پھر سے وہی سلسلہ چل پڑنا تھا اور پھر کسی خیال کے تحت اس کی آنکھوں میں چمک سی ابھری تھی ۔
” اگر عندلیب ہی کورٹ نہ آئے تو ؟؟ تو بہت کچھ ہو سکتا ہے ، کیس کلوز بھی ہو سکتا ہے ”
اس کے چہرے پہ زہرخند مسکراہٹ بکھری تھی اور وہ بیڈ پہ نیم دراز ہو کے اکاسمہ کو سوچنے لگا کہ جب اس دن وہ ہائی کورٹ میں عندلیب کو نہ پا کر کیسا ری ایکشن دے گی اور تب جاوید اپنی جیت کا جشن منائے گا ۔

☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆☆☆

December 25, 2022

کراچی شہر کے اس علاقے کا خاکہ کھینچا جا رہا ہے ، جہاں عیسائیوں کی لاتعداد فیملیز رہتی ہے اور جو اس رات کرسمس کا جشن منا رہے تھے ۔ وہیں ہوا تھا ایک واقعہ ، نہایت بھیانک اور دلدوز واقعہ ۔ رات کی تاریکی میں، روشنیوں کے شہر کا یہ گنجان آباد علاقہ ، جہاں ایک عمارت زیر تعمیر چل رہی تھی اور وہاں رات کے ایک بجے چار آدمی ایک وجود کو اپنے ساتھ گھسیٹ کے لے جا رہے تھے، یہ وہی ٹیکسی ڈرائیور تھی جو اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنے کے لئے ، سارا سارا دن کراچی کی دھول اڑاتی سڑکوں پہ ٹیکسی سے لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتی اور اس کے عوض جو معاوضہ ملتا ، اس سے اپنی ماں اور دو بہنوں کا پیٹ پالتی ، کتنا مشقت والا کام تھا اس کے لئے یہ ٹیکسی ڈرائیور بننا ، یہ بس وہی جانتی تھی کیونکہ اس کے gender کو لے کے، بہت سے لوگ ٹیکسی میں بیٹھتے ہی پھر سے اتر جاتے ، یہ کہہ کے کہ ہمیں اس تیسری مخلوق کے ساتھ کہیں نہیں جانا ۔ آہ یہ تیسری مخلوق !!! جیسے انسان ہی نہ ہو اور ابھی یہ لوگ اسے گھسیٹ رہے تھے ، اسے بالوں سے کھینچ رہے تھے ، تھپڑ اور لات سے مار رہے تھے اور وہ وجود خود کو ان کے چنگل سے آزاد کرانے کے لیے ہاتھ پاؤں چلا رہی تھی لیکن ان چار آدمیوں کی گرفت میں اس کا وجود پھڑپھڑا کے رہ گیا تھا اور پھر کچھ ہی دیر میں اس زیر تعمیر عمارت میں اس وجود کی دردناک چیخیں تھی ، فریادیں تھی اور ان چار آدمیوں کی ہوس کے بیچ، اس کی چیخیں دب کے رہ گئی تھی اور پھر اسے کسی لاوارث لاش کی طرح، بےپردہ کر کے بےپردہ ہی پھینک دیا گیا تھا ، اس کے وجود پہ کوئی کپڑا نہ چھوڑا گیا تھا ۔
” مار کے جاتے ہیں، مصیبت بن جائے گی ہمارے لئے ”
وہ نیم جاں وجود سن رہی تھی۔ دھندلائی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی، ہاتھ اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ کوئی کپڑا ہاتھ لگ جائے اور وہ خود کو ڈھانپ سکے ۔
” چل ، چلتے ہیں۔ اسے کون پوچھے گا یا اس کی بات مانے گا ، یہ تو ہے ہی transgender ”
” تیسری مخلوق ” یا پھر ” Transgender ” ان کو کون پوچھتا ہے ؟؟ ان کا سہارا کون بنتا ہے ؟؟ ان کا ریپ وکٹم بننا ایک مذاق ہی تو ہے جس پہ سب مل کے ہنستے ہیں ۔ آنسو اس کی انکھ سے لکیر کی صورت اس کے گال سے ہوتا ، اس کے بکھرے بالوں میں جذب ہو گیا تھا ، جو دھول اور مٹی سے آلودہ ہو چکی تھی اور اس کا وجود معاشرے کے نیچ سطح کے مردوں کی ہوس سے اور اسی علاقے میں، اس عمارت سے کئی فاصلے پہ ایک بوسیدہ، خستہ حال مکان تھا جہاں ایک سولہ سال کی بچی اپنی ماں سے کہہ رہی تھی ۔
” اماں بھوک لگی ہے ۔ ”
وہ چونک کے ٹریسا کو دیکھ رہی تھی اور پھر نظر گھڑی پہ گئی، رات کے گیارہ بج رہے تھے۔
” صبر کر بیٹا، پمی آتی ہی ہوگی ، وہ آ جائے تو اپنے ساتھ کھانے کے لئے بھی کچھ لے آئے گی ، مل کے کھائے گیں ۔ ”
” اماں باہر فائرنگ ہو رہی ہے ، سب کرسمس کا جشن منا رہے ہیں۔ ”
جیلین بھی وہیں آ کے بیٹھی تھی ، وہ اٹھارہ سال کی تھی ۔
” یہ کرسمس اور جشن ، سب بڑے لوگوں کے لئے ہیں، ہم جیسا چھوٹے لوگوں کے لئے نہیں ہے ”
وہ ماں تھی، اپنی بیٹیوں کی آنکھوں میں بجھتے خوابوں اور دم توڑتی خواہشوں کو پڑھ سکتی تھی۔
” اماں بھوک لگی ہے ، کہاں رہ گئی ہے پمی؟؟ کیوں نہیں آ رہی ؟”
پیٹ کو دونوں بازو لپیٹ کے دباتی وہ کہہ رہی تھی۔ ۔
” آ جائے گی ، آج کرسمس ہے ناں تو شاید ہماری کمیونٹی میں سب آ جا رہے ہیں تو رش ہوگا ٹیکسی میں۔ ”
دل کو تسلی دیتی آزلین کہہ رہی تھی لیکن رات تھی کہ بیتتی جا رہی تھی، بارہ سے ایک ، ایک سے دو ہو گئے ، پمی کا کچھ پتہ نہیں تھا، پہلے کھبی ایسا نہیں کیا تھا اس نے ۔ دونوں بہنیں پاس ہی کروٹ لیے انتظار کرتی سو گئی تھی ۔ جب بیرونی دروازے پہ ہلکی ہلکی دستک ہوئی تھی جیسے کوئی دستک دینے کی بمشکل کوشش کر رہی ہو ۔ اپنے سینے پہ ہاتھ رکھتی ازلین اپنی جگہ سے اٹھ کے دروازے کی طرف بڑھی تھی۔ غور سے سننے پہ محسوس ہوا جیسے دبی دبی آواز میں ” اماں، اماں ” کہا جا رہا ہو ، دہلتے دل کے ساتھ اس نے تیزی سے دروازہ کھولا تھا اور بوسیدہ دروازے سے لگی لگ کے بیٹھی پمی لڑھک کے گری تھی۔ ازلین نے حیرت اور خوفزدہ آنکھوں سے ، اس کے بکھرے وجود کو دیکھا تھا ۔
‘ اماں میں نہیں چاہتی میری بہنیں باہر نکل کے کام کریں اور مردوں کی ہوس بھری نگاہوں کا نشانہ بنے ۔ میرا کیا یے ؟؟؟ میں تو ہی ہے تیسری gender ، مجھے کچھ نہیں ہوتا ‘
اسے پمی کی کہی ہوئی بات یاد آئی تھی اور اب وہ ہوا تھا جس کا اس نے کھبی سوچا بھی نہ تھا ۔ لٹیرے رات کی تاریکی میں اس کی پمی کی دنیا کو بھی اندھیر بنا گئے تھے ۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *