The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 19
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 19
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 19
” اممممم تو ریڈی ؟؟”
وہ عاریز خان کے بازو کے گھیرے میں تھی جبکہ گہرا سانس لیتی، اثبات میں سر ہلاتی وہ مسکرانے لگی ۔
” بلکل ریڈی ہوں، تھوڑا ڈر بھی لگ رہا ہے کیونکہ ذہن بارز میں الجھا ہوا ہے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کروں گی؟ کیا بولوں گی ؟”
” مسز اکاسمہ حیات، ملک کی سب سے زیادہ بہادر وکیل ایسا کچھ کیسے کہہ سکتی ہے۔ مت بھولو تم بہادر ہو اکاسمہ اور عاریز خان کی لاڈلی بیوی ہو”
عاریز نے اس کے گالوں کو نرمی سے، دونوں ہاتھوں سے چھوتے کہا تو وہ مسکرانے لگی۔
” میرا unromantic شوہر ”
” اچھا ؟؟؟ رئیلی؟؟ مجھے تو آپ کا خیال تھا ویسے، اگر آپ کو اچھا نہیں لگ رہا میرا یوں کئیر کرنا آپ کی، تو کوئی بات نہیں، اج سے یہ ماسک بھی اتار دیتا ہوں ”
اکاسمہ ہنس پڑی تھی جبکہ فاصلے پہ گاڑی میں موجود حکان جبڑے بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔ دل میں ہوک سی اٹھ رہی تھی اور آنکھیں حد درجہ سرخ ہو رہی تھی۔ عاریز نے لب رکھے تھے اکاسمہ کے ماتھے پہ اور یہاں آگ اسے اپنے وجود کو بھسم کرتی محسوس ہو رہی تھی۔
‘ تم وکیل بنو گے تم ؟؟ اوقات ہے تمہاری ؟؟’
وجدان ملک کی آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی۔
‘ ڈیڈ اکاسمہ اچھی لگتی ہے مجھے، تو میں۔۔۔ ‘
‘ اکاسمہ؟؟ فیاض حیات کی بیٹی؟؟ ‘
اس کے قہقہے کی آواز گونجی تھی اس کے دل و دماغ میں۔
‘ تھوکتی بھی نہیں وہ لڑکی تم پہ ‘
گاڑی کی فضا جیسے وجدان ملک کے قہقہوں سے گونج رہی تھی جبکہ اس کی سرخ ہوتی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔ وجدان ملک کی وجہ سے وہ آج خالی ہاتھ رہ گیا تھا۔ اکاسمہ حیات اسے نہ ملی، لائیر بننے کی کوشش بھی چھوڑ دی اس نے اور پھر وہ کیا بن گیا ؟؟ ایک ہیکر؟ نوجوان نسل کی زندگیوں کو برباد کرنے والا ہیکر؟؟ بارز بھی شکار بن گیا تھا، وہ نہیں جانتا تھا کہ بارز، اکاسمہ کا بھائی ہے اور جب پتہ چلا تب خود کو ملامت کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہ تھا۔
” وجدان ملک، مجھے، میری شخصیت، میری روح، میرا کیرئیر برباد کرنے کا شکریہ، اب اپنی بربادی کا تماشا دیکھو ۔۔ “
اس نے موبائل اٹھایا اور پھر تیزی سے اس کی انگلیاں موبائل اسکرین پہ چلنے لگی۔ وہ ہیکر تھا، بہت بڑا ہیکر، جو دنیا کو برباد کرنا جانتا تھا بس ایک، دو ، تین ۔۔۔۔ بوم !!!
《《《《《《《《》》》》》》》》
” احمر، اج کی ڈیوٹی تمہاری یہی ہے کہ تم ۔۔۔۔ ”
میز پہ موجود لیپ ٹاپ، ٹوٹا ہوا موبائل، یو ایس بی کی طرف نظر ڈال کے، اس نے پھر سے احمر کو دیکھا۔
” چیک کرو گے، کہ کب، کہاں، کس سے رابطہ کیا گیا ہے ۔۔ تم بہتر جانتے ہو کہ کیا کرنا ہے تمہیں، ہمیں اس ہیکر کا پتہ کرنا ہے جو یوں زندگیاں برباد کر رہا ہے سب کی ”
” اور اکاسمہ میم؟؟”
احمر کے سوال پہ اس نے نظر اٹھا کے احمر کو دیکھا تھا۔
” اس وقت کورٹ میں ہی ہے اپنے کیس کے سلسلے میں۔ میں خود ساتھ ساتھ رہوں گا اکاسمہ کے۔ تم یہ سب کر کے، شام تک مجھے پوری ڈیٹیلز بتاؤ ”
” اوکے سر ”
وہ میز پر سے چیزیں سمیٹنے لگا۔
” یہیں، میرے آفس میں احمر۔ اب باہر جاو گے یہ چیزیں اٹھا کے تو دس سوال ہونگے، بہتر ہے کہ یہیں بیٹھ کے کرو ۔ ”
احمر رکا تھا اور پھر اثبات میں سر ہلاتا، وہیں کرسی کھینچ کے بیٹھ گیا۔
” میں شام سے پہلے ہی اپ کو ساری ڈیتیلز دے دوں گا”
” اممم گڈ ”
عاریز خان کی پرسوچ نظریں اب اپنے موبائل پہ تھی جبکہ احمر اپنے کام میں محو ہو گیا تھا ۔ عاریز خان کچھ سوچتے ہوئے، کمرے کے چکر لگانے لگا اور پھر رک کے، اس نے ہاتھ میں بندھی، برانڈ ریسٹ واچ پہ نظر دوڑائی تھی۔ احمر پہ ایک نظر ڈال کے، وہ دروازہ کھول کے، آفس سے باہر نکلا تھا ۔
《《《《《》《《》》》》》》》
” در، کیا ہوا ہے؟؟ بات کیوں نہیں سن رہی تم میری ”
خیام کے استفسار پہ،لب کاٹتی،وہ اچھنبے سے خیام کو دیکھنے لگی۔
” میں نے شاید سنا نہیں ”
خیام کو وہ ٹھیک نظر نہیں آئی تھی۔ چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا جبکہ آنکھیں حد درجہ سوجی ہوئی تھی۔
” در؟؟ ٹھیک ہو تم ؟؟”
” نہیں، میں ٹھیک نہیں ہوں ”
درمکنوں کے چہرے پہ یاسیت سی چھا گئی تھی۔ تھکے تھکے انداز میں، گہرا سانس لیتی، وہ پاس پڑی کرسی پہ ڈھے سی گئی جبکہ خیام پریشان نظروں سے، اسے دیکھنے لگا۔
” کیا ہوا ہے در؟؟ بتاؤ مجھے ؟؟”
درمکنوں نے نم آنکھوں سے، اسے دیکھا تھا۔
” کراچی کا ہر ہاسپٹل زخمیوں سے بھرا پڑا ہے، اور یہ سب کرنے والا میرا اپنا باپ ہے۔ مجھے خود سے گھن آ رہی ہے۔ اپنے وجود سے مجھے خون کی بدبو آ رہی ہے۔۔۔۔ ”
وہ روتے ہوئے اپنے ہاتھ اٹھا کے دکھانے لگی خیام کو۔
” میرے ہاتھوں میں جیسے خون کی چھینٹے ہیں۔ ہر طرف زخمی وجود ہیں جو اشکبار مجھے دیکھ رہے ہیں جیسے، جیسے میں ان سب کی گنہگار ہوں لیکن ۔۔۔۔ لیکن خیام ڈیڈ کو، م ۔۔۔ میرے اپنے ڈیڈ کو کچھ محسوس ہی نہیں ہو رہا۔۔۔ ان کا ضمیر کس قدر پرسکون ہے، مجھے سوچ سوچ کے ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ میرا دم گھٹ جائے گا اور میں سانس لینے کے قابل نہیں رہوں گی۔۔۔۔ کیوں ہیں وہ ایسے ؟؟ میں ہی کیوں؟؟ کیا ہو جاتا اگر، اگر میں ان کی بیٹی ہی نہ ہوتی ۔۔۔ کیا ہو جاتا میں کسی اور فیملی کی بیٹی ہوتی ”
وہ روتے ہوئے چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی۔
” میں اپنے باپ اور بھائی کو گناہوں کے دلدل میں دھنستے دیکھ رہی ہوں اور کچھ نہیں کر پا رہی ”
خیام لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔ درمکنوں کے آنسو اس کے دل پہ گر رہے تھے۔
‘ م ۔۔۔ میں۔۔۔۔ مجھ سے قتل ہو گیا بھائی۔۔۔ میں کیا کروں اب ‘
اس کے اندر کوئی چلایا تھا۔ وہ دو روتی ہوئی آنکھیں، نیلے پڑتے لب، دھواں ہوتا چہرہ۔ اور پھر وہ مر گیا تھا، خود کو بلڈنگ کے 10 فلور سے نیچے گرا دیا تھا۔ اپنے گناہوں کے بوجھ تلے دب کے، اس کا پیارا بھائی مر گیا تھا ۔ اس نے آنکھوں میں آئی نمی کو اندر ہی دفن کرتے، درمکنوں کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے، نرمی سے تھپتھپایا تھا۔
” سب ٹھیک ہو جائے گا در، ریلیکس یار پلیز ”
درمکنوں چونک کے اسے دیکھنے لگی۔ جس کے چہرے پہ یاسیت آ ٹھہری تھی جبکہ آواز میں بھی یاسیت گھل مل گئی تھی جیسے۔ خیام نظریں چرا گیا جبکہ درمکنوں گہرا سانس لیتی اپنا چہرہ صاف کرنے لگی ہاتھوں سے۔
” ہم دونوں کی کہانی بھی عجیب ملتی جلتی ہے خیام ۔اپنوں کو اپنی ہی آنکھوں کے سامنے ختم ہوتا دیکھ رہے ہیں اور ہم کچھ کر نہیں پا رہے ۔ ”
خیام نے کندھے اچکائے تھے اور مسکرانے کی کوشش کی تھی
” یہ شہر کراچی ہے ۔ یہاں راستے سے گزرتے ہر انسان کی ایک الگ داستان ہے۔ غموں، دکھوں کے گرد ہیں تو کبھی سیاہ ماضی کا غبار۔ یہاں کوئی پرسکون نہیں ہے، سب کی اپنی وحشتیں ہیں، کیونکہ یہ شہر کراچی ہے۔ ”
خیام کہتے ہوئے آٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا، خود کو فریش کرنے کی کوشش کی تھی اور پھر درمکنوں کی طرف اپنا ہاتھ پھیلایا تھا
” اور ہم اسی شہر کا حصہ ہیں درمکنوں۔ ”
وہ بنا کچھ بولے، اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پہ رکھ کے، کھڑی ہو چکی تھی کہ وہ یہاں آنسو بہانے کے لئے، اس فیلڈ میں نہیں آئی تھی۔ وہ مضبوط درمکنون تھی جو اپنی ماں سے کیا وعدہ پورا کر رہی تھی۔
《《《《《《《《》》》》》》
عاریز خان بھی کورٹ میں آیا تھا ۔ وہاں کا باوردی احترام سے سلام کرتا، اس کے لئے دروازہ کھول چکا تھا جبکہ وہ اثبات میں سر ہلاتا، اندر داخل ہو کے، وہاں رکھی سیٹوں میں سے، ایک پہ بیٹھ گیا تھا جبکہ نگاہیں مسلسل اکاسمہ پہ تھی جو اپنی کلائنٹ کو انصاف دلانے کے لئے، وہاں کھڑی جنگ لڑ رہی تھی۔ اکاسمہ کی یہی بات اسے پسند تھی کہ وہ نڈر تھی، لڑنا جانتی تھی اور خاموش رہ کے، تماشا دیکھنے والوں میں سے نہیں تھی۔
” میرے معزز مؤکل فضول سوالات کر کے، میری کلائنٹ کو پریشان کر رہے ہیں ”
اکاسمہ کی بات پہ لائیر سفیر خان، سب کو حیران آنکھوں سے دیکھنے لگا۔
” میں ؟؟ میں نے کیا پریشان کیا میری معزز وکیل صاحبہ؟؟ سوال ہی تو کیا ہے کہ کیوں قتل کیا ؟؟ اور بھی تو راستے ہو سکتے تھے خود کو بچانے کے ”
” یہ سوال پوچھنا ہی نہیں چاہئے اپ کو۔ کیوں قتل کیا؟؟ جب وہ کیوں کا جواب دے چکی ہے تو ؟؟ پھر سے کیوں وہی سوال ؟؟”
وہ اب جج کو دیکھ رہی تھی۔
” ایک انسان جو صبح سے رات تک ٹیکسی صرف اس لئے چلاتی ہے تاکہ اپنے گھر میں موجود اپنی ماں اور دو چھوٹی بہنوں کا پیٹ پال سکے، جس کے ساتھ جسمانی زیادتی ہو جاتی ہے اور وہ اس لئے خاموش رہتی ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتی کہ خود کے ساتھ ہوئی زیادتی کا اثر اس کی ماں اور بہنوں پہ پڑے اور پھر اگر موت سامنے ہو تو کیا آپ خود کے بچاؤ کے لئے کوئی اقدام نہیں کرے گیں ؟؟ خود کو قتل ہوتا دیکھے گیں؟؟ کیا ہمارا قانون اس بات کی اجازت کسی بھی انسان کو نہیں دیا کہ self defense کرے خود کو ۔۔۔۔”
” آبجیکشن یور آنر، یہ تو قانون ہاتھ میں لینا ہوا ”
سفیر خان نے اکاسمہ کی بات کاٹی تھی۔
” آبجیکشن اوور رول ۔۔۔۔ آپ continue کرے لائیر اکاسمہ ”
جج اسے چپ کرا کے، اب اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا جو گہرا سانس لیتی عاریز کو دیکھنے لگی جبکہ عاریز نے مسکرا، آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے تسلی دی تھی وہ مڑ کے پھر سے جج کو دیکھنے لگی جبکہ عاریز خان کے دل میں وہ مزید اترنے لگی تھی ۔
” یور آنر، میں بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ جب قاتل آپ کے سامنے کھڑا، آپ پہ وار کر رہا ہو تو آپ کو اپنے self defense کے لئے اتنا حق تو ہوتا ہی ہے کہ خود کے بچاؤ کے لئے کوئی لائحہ عمل کریں اور عین اسی وقت جب موت ہمارے سروں پہ منڈلا رہی تھی تب پمی کو جو ٹھیک لگا، اس نے وہی کیا۔ اگر پمی کی جگہ، وہاں آپ ہوتے، ہمارے معزز وکیل سفیر خان ہوتے یا یہاں موجود کوئی بھی انسان ہوتا، وہ یہی کرتا جو پمی نے کیا ۔ تھینک یو ”
جج کچھ دیر خاموش رہے تھے جبکہ نظریں پمی تھی جو سر جھکائے کھڑی تھی۔
” پمی اپنے اس عمل کے بارے میں کچھ کہنا چاہو گی ؟؟”
پمی کے وجود میں کوئی حرکت نہیں ہوئی تھی جبکہ اکاسمہ دھڑکتے دل کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی جو بنا کسی حرکت کے خاموش کھڑی تھی۔ اس کے دل کی دھڑکن لمحہ بہ لمحہ تند تر ہو رہی تھی۔ بےچین آنکھیں پھر سے عاریز خان کی طرف اٹھی تھی جو مسلسل پمی کو دیکھ رہا تھا۔ اکاسمہ کے دیکھنے پہ، اس نے بھی مسکراتی آنکھوں سے، اکاسمہ کو دیکھتے، اسے پرسکون رہنے کا اشارہ کیا تھا جبکہ اکاسمہ لب کاٹتی پھر سے پمی کو دیکھنے لگی۔
‘ پمی، میری بات مانو، مجھے وہاں شرمندہ مت کرنا، میں سب تمہارے لئے کر رہی ہوں پلیز پمی جو بھی پوچھے جوڈیشری۔۔۔ پلیز پمی ٹھیک سے جواب دینا کہ تم نے self defense کے لئے یہ سب بلکل اچانک کیا۔ پمی پلیز ‘
پمی کے دماغ میں اکاسمہ کی کہی باتیں گونجنے لگی اور جھکا سر اٹھا کے وہ اکاسمہ کو دیکھنے لگی۔ آنکھیں نم تھی۔ اکاسمہ کی آنکھوں میں بےچینیاں مزید بڑھی تھی، نہ جانے وہ کیا کہنے والی تھی اور تبھی پمی نے رخ جج کی طرف کیا تھا۔
” کیا کہوں اپنے اس عمل کے بارے میں؟؟ میرا ۔۔۔۔۔ میرا ر ۔۔۔۔ ریپ ہوا، رات کے اندھیرے میں۔ میرا گھر میں میری ماں اور دو ۔۔۔۔۔ چ ۔۔۔۔ چھوٹی چھوٹی بہنیں بھوکا سو گئی کیونکہ میں ٹائم پہ گھر نہ پہنچ سکی کیونکہ۔۔۔۔۔۔ ک ۔۔۔۔ کیو ۔۔۔۔ نکہ ، ”
وہ لب بھینچ کے خاموش ہو گئی، سر جھک گیا تھا جبکہ کٹہرے میں موجود، اس کے دونوں ہاتھ مضبوطی سے جم گئے تھے۔
” میں انصاف کے لئے در در کھٹکھٹاتی رہی، قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا، پولیس میں گئی۔ صاب سب نے میرا مذاق بنایا، میرے سر سے چادر اتاری، میرے کو دھکا دیا، مجھے پہ ہنستے رہے ۔ کیوں صاب ؟؟ کیا میرا جسم نہیں ہوتی؟؟ کیا میرے جسم کی کوئی اہمیت نہیں؟؟ کیا میری عزت نہیں؟؟ جب صاب جب ۔۔۔ ”
وہ اب سر اٹھا کے جج کو دیکھ رہی تھی۔
” جب میرے جسم کی کوئی حیثیت نہیں تو ۔۔۔ میں کیوں ہے ؟؟ کیوں ہے میں ؟؟ میرے کو اللہ نے بنایا جیسے سب کو بنایا۔ میرا جینڈر تو اللہ نے بنایا جیسے سب کا بنایا، کسی کو لڑکی، کسی کو لڑکا اور کسی کو۔۔۔۔۔ صاب کاش میں کتا ہوتی، کم از کم اس کی تو عزت ہے ، سڑک کنارے کتے کو بھوکا دیکھ کے، اس کا پیٹ بھر دیا جاتا ہے پر صاب اگر وہیں ہم جیسا کوئی، بھوک سے مر بھی رہا ہو تو کوئی پوچھتا نہیں ہے۔۔۔ پتہ کیا کرتا ہے یہ سب انسان لوگ، جسم کو ڈھانپنے والا چادر بھی اتار کے پھینک دیتا ہے اور ہنستا ہے صاب ۔۔۔
بہت ہنستا ہے ۔۔۔۔ ”
اکاسمہ کی آنکھیں بھر آئی تھی جبکہ سفیر خان لب بھینچے پمی کو دیکھ رہا تھا۔وہاں موجود ہر انسان اسے نم آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔
” میرا گھر، میری ماں، م ۔۔۔۔ م ۔۔۔۔ میری چھوٹی چھوٹی بہنیں، صاب زندہ جلا دیا اور میں دیکھتی رہی صاب۔ م ۔۔۔۔ میں ان کے لئے کھانا لائی تھی صاب، سب ، سب اس بستی کے کتا لوگ کھا گئے اور میرا ۔۔۔۔ صاب گھر جلتا رہا۔ کتنا چیخی ہوگی میری ماں صاب، کتنا ڈر گئی ہوگی میرا وہ بچہ لوگ، میرا بچہ لوگ تھیں وہ دونوں، میری گڑیا۔۔۔ کتنا مجھے بلایا ہوگا ۔۔۔۔ پمی ۔۔۔۔۔ پمی ۔۔۔۔ ہمیں بچا لو پمی ۔۔۔۔ ہم جل رہا ہے ۔۔۔ پمی کدھر ہے تو ۔۔۔۔۔ ”
کہتے کہتے وہ رو پڑی تھی ۔
” صاب ان کا ہڈیاں تک نہ ملی میرے کو ۔۔۔۔ سب جل گئی۔ ک ۔۔۔ کوئی آگ بجھانے تک نہ آیا، ک ۔۔۔۔ کوئی قانون بھی نہ آیا کہ دیکھ تو لے، شاید ہی کوئی ۔۔۔۔ ک ۔۔۔۔ کچھ تو بچا ہو ۔۔۔ کچھ تو ۔۔۔۔ پ ۔۔۔ پر وہاں تو ۔
۔۔ راکھ تھی بس، راکھ کا ڈھیر ۔۔۔۔ م ۔۔۔ میرا گھر راکھ کا ڈھیر بن گئی صاب تو کیسے ؟؟؟ صاب کیسے میں مرنے دیتی میم صاب کو ؟؟؟ وہ ۔۔۔ وہ ظالم میم صاب کی عزت لوٹتا، صاب میں کیسے دیکھتی ؟؟ میرے پہ بیتی ہے صاب، میرے جسم پہ بیتی ہے، وہ ۔۔۔ وہ درد میں جانتی ہے صاب، وہ ۔۔۔۔ وہ بہت درد ہوتی ہے صاب، بہت۔۔۔۔ ج ۔۔۔ جب کوئی مرد تیرے جسم کو، تیری مرضی کے بنا استعمال کرتا ہے ناں صاب تو بہت درد ہوتی ہے، گ ۔۔۔ گھن آتی ہے صاب۔۔۔ یہاں بیٹھا کوئی مرد اس درد کو نہیں سمجھ سکتا صاب ۔یہ تو یا ایک عورت سمجھ سکتا ہے یا میرا جیسا کوئی۔۔۔۔۔۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ درد میم صاب محسوس کرے، وہ۔۔۔ وہ گھن جو میرے کو محسوس ہوتی ہے، میم صاب بھی محسوس کرے صاب۔ میرے کو عزت دینے والی، میرے پہ نہ ہنسنے والی، میرا مذاق نہ اڑانے والی، میری مدد کرنے والی اس ہستی کو، صاب میں کیسے اس کتے کے ہاتھوں کچھ ہونے دیتی۔ ہاں میں نے مارا اس آدمی کو۔۔۔ اس کتے کو، اس ناسور کو۔۔۔۔ تا کہ کوئی پمی نہ بنے۔۔۔ کوئی بےعزت ہو کے نہ مرے، کوئی ننگا ہو کے نہ مرے صاب۔۔۔ وہ مار دینا چاہتا تھا میم صاب کو۔۔۔ اس ۔۔۔۔ اس نے قید کیا تھا ہم کو۔۔۔ صاب میں خیر، میرا کیا، میرا یے بھی کیا، سب جل کے راکھ ہو گیا صاب ۔۔۔ پر میری میم صاب کو کیسے کچھ ہونے دیتی میں صاب۔ کیسے اسے پمی بننے دیتی صاب۔ کیسے اسے راکھ کا ڈھیر بننے دیتی صاب۔ میں نے کیا،میں نے مارا، s … self defense میں مارا، میں نے اس کو صاب ۔۔۔۔ ”
پمی اب اکاسمہ کو دیکھ رہی تھی جبکہ اکاسمہ اپنے آنسو صاف کرنے لگی اور مسکرانے کی کوشش کرنے لگی جبکہ پمی کو لگا جیسے وہ اپنی ماں اور بہنوں کا حق ادا کر چکی ہے۔
” تھینک یو ۔۔۔ ”
اکاسمہ کے لب ہلے تھے اور پھر فائل ہاتھ میں لیے وہ جج کی طرف بڑھی تھی اور فائل ان کی طرف بڑھایا تھا۔
” اس فائل میں اس پولیس اسٹیشن اور پولیس آفیسرز کے نام اور ان کی تصویریں ہیں۔۔۔ جنہوں نے مل کے پمی کو مزید اذیت دے کر، اس کا مذاق بنایا تھا۔ ”
وہ کہہ کے، مڑ کے اپنی سیٹ پہ آنے لگی ۔ نظر بھر کے عاریز خان کو دیکھا تھا جس نے وکٹری کا نشان بنایا تھا اس کے لئے اور وہ پرسکون سی مسکرا دی تھی لیکن وہیں کوئی اور بھی مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا جو اس کی زندگی میں بھیانک طوفان لانے والا تھا جس کی زد میں شاید اکاسمہ کبھی سانس بھی نہ لے پائے۔
《《《《《》《《《》》》》》》》
