51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode (part 2)

عمیر یہ آپ کیا ؟؟
آگے کے لفظ عمیر نے تاشہ کو بولنے سے روکے اسکے منہ پہ۔انگلی رکھ کے۔۔
عمیر نے تاشہ کو کمر سے تھاما ۔
بلاؤز کے کھلے گریبان پہ نظر پڑتے ہی عمیر بہکنے لگا تاشہ کے لبوں پہ جھکنے لگا تبھی اسکی نظر تاشہ کے لبوں پہ پڑی ایک چھوٹا سا چوٹ کا نشان تھا ۔چوٹ کا نشان دیکھ کے عمیر کو جیسے کچھ یاد ایا۔۔
عمیر ن نے آہستہ اہستہ کمر پہ رکھا ہاتھ تاشہ کے پیٹ تک لایا۔۔
تاشہ کو پورا وجود لرز رہا تھا اس نے دھیرے سے کہا ۔
عمیر پلیز۔۔
عمیر نے اسکا چہرہ تھاما اور بہت پیار سے اسکے لبوں پہ جھک گیا۔
عمیر کی اس حرکت پہ بلا جھجھک تاشہ کا ہاتھ اسکے کندھے پہ گیا۔۔
عمیر نے لبوں کو چومنے پہ بس نہیں کیا گردن پہ اپنے ہونٹ رکھتے ہی اس نے تاشہ کی کمر کو دوبارہ مظبوطی سے تھاما ۔
تاشہ کھڑی کھڑی کانپ رہی تھی اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کے عمیر کو یہ سب کرنے سے روکے۔۔
شاید رشتہ اب ایسا بن چکا تھا ان دونوں کے درمیان کے تاشہ کے دل میں عمیر کیلے خودی محبت جاگنے لگی۔۔
مگر جب عمیر تاشہ کی گردن سے نیچے آنے لگا وہی تاشہ نے اسے ہلکا سا دھکا۔دے کر کہا۔
ابھی رخصتی نہیں ہوئے ہے عمیر؟
عمیر جس پہ خماری طاری تھی مگر تاشہ کے اس جملے پہ عمیر کے سارے ہوش اڑ گئے ۔۔
کیا کہا تاشہ تم نے؟
پھر سے کہو۔
عمیر نے تاشہ کا چہرہ تھامتے ہوئے کہا۔۔
یہ ہی کے رخصتی نہیں ہوئ ابھی۔۔
یہ بول کے تاشہ شرما کے عمیر کے گلے لگ گئ۔۔۔
عمیر کو جواب مل چکا ہے تھا۔۔
اسکی محبت رنگ لے آئ تھی۔۔
!!!!!!
چار مہینے گزر چکے تھے سب ہی نارمل ہوچکا تھا مگر ایک فلک تھی جسکی زندگی رک چکی تھی امریکہ کے سارے معملات اسامہ نے سنبھالے لیے تھے ۔اس لیے فلک پہ کوئ کیس نہیں بنا۔۔
فلک اپنے ماں باپ کے گلے لگ کےبہت روئ تھی ۔
ہر آہٹ پہ ڈر جاتی اکیلے سونے سے ڈرتی تھی کھانا کھانے کا تو بولو کھاتہ ورنہ بھول جاتی ایک زندہ لاش کی طرح وہ زندگی گزرا رہی تھی۔۔
نومیر اور لائبہ اپنی اکلوتی بیٹی کی حالت دیکھ کے اندر ہی اندر گھٹ رہے تھے ۔
مگر جب اسامہ کا رشتہ فلک کیلیے آیا تب نومیر کو لگا اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔۔
مگر فلک تھی کے وہ اب کسی کے نام کیساتھ جڑنا نہیں چاہتی تھی اسکی زندگی کا ایک تجربہ اتنا خطرناک تھا کے اس میں ہمت نہیں تھی دوبارہ یہ تجربہ دہرانے کی ۔۔
مگر جب سب نے سمجھایا تو وہ مان گئ۔۔
آج اسکی شادی تھی اسامہ کیساتھ زیادہ شور شرابا رکھا نہیں گیا تھا شادی میں کیونکہ اسامہ کا خاندان زیادہ برا نہیں تھا ۔
ایک بار پھر فلک رخصت ہوکے کسی کی سیج سجائے بیٹھی مگر اب اس کے دل میں کوئ ارمان باقی نہیں تھا نہ خواہش تھی اپنے شوہر کو دیکھنے کی ۔۔
اسامہ جانتا تھا کے جب فلک کو پتہ چلے گا وہ کون ہے تو شاید فلک اس سے اور کترائے مگر اسامہ کو یقین تھا ایک دن وہ سب صحیح کرلے گا۔
اسامہ۔کمرے میں آیا تو فلک کسی ایک چیز کو گھورنے میں مگن تھی وہ سمجھ گیا وہ پھر کچھ سوچنے میں مگن یے۔۔
اسامہ دھیرے سے اسکے سامنے آکے بیٹھا اور کہا۔۔
کیا سوچ رہی ہو فلک ؟؟
اسامہ کی آواز پہ فلک نے چونک کے اسامہ کو دیکھا پھر نگاہیں جھکا گئ۔۔
مانتا ہو پہلے یہ بھدو سا موٹا سا اسامہ آپکے قابل نہیں تھا مگر آب تو اچھا خاصا ہینڈسم ہوگیا ہو اور چشمہ بھی اتر گیا ہے اب تو دیکھنے کے قابل ہو۔
اسامہ کے الفاظوں پہ فلک نے چونک کے اسامہ کو دیکھا غور سے اسامہ کو دیکھ کے اسکا ہاتھ بلاجھجک اپنے منہ پہ گیا ٹپ ٹپ اسکے آنسوں گرنے لگے۔۔م
آسامہ نے آگے بڑھ کے اسکے آنسوؤں صاف کیے اور اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے کہا ۔
مجھے آپ سے لینا دینا ہے فلک آپکے ماضی سے نہیں میری محبت سچی تھی دیر سے ہی صحیح مگر آپ مجھے مل گئ۔۔
بس ایک درخواست ہے آپ سے ایک وعدہ کرے مجھ سے۔۔
یہ کہہ کے اسامہ نے فلک کے آگے اپنا ہاتھ کیا۔۔
آج کے بعد کبھی بھی آپ اپنے دل میں اپنی یادوں میں اپنے ماضی کو جگا نہیں دینگی۔۔
جو ہوا بھول جائے یہ سوچے کے ایک برا خواب تھا۔۔
وعدہ کرے آج کے بعد روئے گی نہیں۔
مجھ سے دوستی کرلے یار اتنا بھی برا نہیں ہو۔۔
یہ بول کے اسامہ مسکرانے لگا ۔
فلک نے ایک نظر اسکے پھیلے ہاتھ کو دیکھا ایک نگاہ آسامہ کو
اپنا کانپتا ہاتھ فلک نے اسامہ کے ہاتھ میں دے دیا اسامہ نے بہت مان سے اسے گلے لگایا تھا فلک کو ایک سکون سا ملا تھا اسکے سینے سے لگ کے پھر اس نے اسامہ کو روکا نہیں اپنا حق لینے سے اسامہ نے بھی فلک کو آج بہت مان بخشا تھا بہت پیار سے اسکے اندرونی بیرونی زخموں پہ اپنے لبوں کا مرہم رکھا تھا۔۔
!!!!!!
یار کیا کرتی ہو آرام سے ۔۔
عثمان بلیک شیروانی میں ریڈی تھا بس مہناز تھی جو ساڑھی لپیٹ رہی تھی تبھی اسکا ہاتھا آنکھ پہ لگا۔۔۔
آج عمیر اور تاشہ کی رخصتی تھی جس میں جانے کیلیے سب۔ تیار ہورہے تھے ۔
ارے مانی میں نے آپکو بولا تھا کے نہیں آتی مجھے ساڑھی باندھنا مگر سنتے کہاں ہے آپ میری۔
مہناز کی حرکت پہ عثمان نے آگے بڑھ کے اسکے لبوں کو چوما اور کہا
اچھا ادھر آؤ میں باندھو۔۔
!!!!!
اوئے ہوئے میری جان کیا لگ رہی ہو رکو نظر اتار دو زریاب نے دلنشیںن کو کمر سے تھام کے کہا۔
زریاب کونسی چھیچھوری فلم دیکھی ہے اپنے ؟؟
ابھی بتاتا ہو۔۔۔زریاب نے دو منٹ میں دلنشین کی لپسٹک اپنے ہونٹوں سے خراب کرکے کمرے کے باہر ڈور لگائ۔۔
زریاب بدتمیز انسان چھیچھوڑے ۔۔دلنشین صرف چیخ ہی سکی
!!!!!
زارا نے ہلکا سا شرارہ پہنا تھا کیونکہ اسکا لاسٹ منتھ چل رہا تھا ۔۔
احسان جس نے شیشے میں زارا کو آتا دیکھا تو مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔۔
پوری بےبی ڈول لگ رہی ہو۔۔
ہاں ہاں اڑا لے مزاق میرا آپ ۔۔۔زارا۔ ے اپنا پسینہ پونچھتے ہوئے کہا ۔
ارے نہیں میری جان میں مزاق نہی اڑا رہا تم تو مجھے اتنی بڑی خوشی دینے جارہی ہو مزاق نہی پیار ہے یہ میرا۔۔
!!!!!!!
عمیر کوئ یزیل آنکھوں والا شہزادہ لگ رہا تھا تو تاشہ بھی کوئ ڈول لگ رہی تھی۔۔
نکاح ہوچکا تھا اس لیے رخصتی کے لیے کوئ اتنی جلدی نہیں تھی۔۔
باری باری سب ہی فوٹو سین کروا رہے تھے ۔سب ہی جوڑے خوش تھے ان سب کو دیکھ سارے بڑے خوش تھے نومیر اور لائبہ کو تو آسامہ کے روپ میں دوسرا بیٹا مل گیا۔۔۔
ثانیہ بھی اپنی والدہ کیساتھ آئ تھی اور کیوں نہیں آتی اب اس گھر کی بہو جو بننے والی تھی تیمور نے امریکہ سے آتے ہی ثانیہ کیلیے رشتہ بھیجا تھا جو اسکی والدہ نے قبول کرلیا تھا۔۔
!!!!!
تاشہ کمرے میں عمیر کا انتظار کررہی تھی۔جب کلک کی آواز پہ دروازہ کھلا ۔
عمیر کے آتے ہی تاشہ کو گھبراہٹ ہونے لگی ۔
عمیر نے آتے ہی تاشہ کا ماتھا چوما اور اسے رنگ پہنا کے کہا۔
ویسے پہلے تو تم۔مجھ سے اتنا ڈرتی تھی اب تو بلکل بھی نہیں ڈرتی کیوں؟؟
کیونکہ پہلے آپ ہری آنکھوں والے جن تھے۔۔
اوہ جن تو میں آج بھی بننے والا ہو اور تمہیں کھانے کا ارادہ رکھتا ہو ۔
عمیر نے مسکرا کے تاشہ کے لب چومے دھیرے دھیرے وہ تاشہ پہ اپنا ہر عمل ظاہر کرکے اسکے اور اپنے فاصلے مٹا رہا تھا۔۔
جہاں تاشہ نے شرما کے اسکی باہنوں میں پناہی ڈھونڈی وہی عمیر نے بھی اللہ کا شکر ادا کیا کے اسے آج اسکی محبت محرم کی صورت میں مل گئ۔۔
ختم شد❣️❣️❣️