51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

عمر کی غصیلی آواز پہ دونوں نے بیک وقت مڑ کے دیکھا۔۔
پاپا یہ ایسی ہی بکواس کرہی ہے بھلا اپ بتائے میں سگریٹ پی سکتا ہو۔
زریاب نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑ کے عمر کے قریب اکے کہا۔۔
زریاب کے جھوٹ پہ دلنشین کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا وہ تقریبا ڈور کے ان دونوں تک ائ اور عمر کو مخاطب کرکے کہا۔
ڈیڈو آئ سوررر یہ سگریٹ پیتا ہے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔۔
تمہاری آنکھوں کا دھوکا ہوگا دلنشین گڑیا زریاب نے بھرپور دانت پیس کے دلنشین کو گھور کےکہا۔
اوہ ہو گڑیا۔۔۔
ابھی تو تم مجھے جنگلی بلی کہہ رہے تھے ۔
دلنشین نے سینے پہ ہاتھ باندھ کے طنزیہ لہجہ میں زریاب کو گھور کے کہا۔
رزیاب دلنشین سچ بول رہی ہے مجھے پورا یقین ہے وہ جھوٹ نہیں بولتی سچ سچ بتاو تم سگریٹ پیتے ہو یہ نہیں؟؟؟
افف پاپا اپکو اپنے بیٹے پہ بھروسہ نہیں؟؟
زریاب نے افسوس بھری نظروں سے عمر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں بلکل نہیں تم پہ بھروسہ عمر نے نے بلاجھجھک ہوکے زریاب کے ایموشنل سین کا کلائمیکس کرتے ہوئے کہا۔۔۔
ڈیڈو ایک کام کرے ابھی پتہ چل جائے گا کون جھوٹ بول رہا ہے کون سچ اس کی تلاشی لیں فورا دلنشین نے زریاب کو گھور کے عمر سے کہا۔
دلنشین کی بات پہ زریاب کا دل کیا دلنشین کو چرس والی دو تین سگریٹ پلا کے سمندر میں پھینک دے ۔۔
گڈ آئیڈیا اینجل ویٹ یہ کہہ کے عمر نے زریاب کی تلاشی لی اور ہائے زریاب کی پھوٹی قسمت جو وہ ایک سگریٹ چھت پہ لانے کے بجائے پورا ڈبہ جیب میں رکھ کے لے آیا۔۔
زریاب کے ٹراوزر کی رائٹ پوکٹ میں سے سگریٹ کا ڈبہ برآمد ہوا جیسے دیکھ کے زریاب نے شدت سے دعا مانگی کے کاش وہ ابھی اس منظر سے غائب ہوجائے۔
شرم آنی چاہیے زریاب عمر نے سختی سے بولا۔۔
کس کو کس بات کی شرم آنی چاہیے بھئ مجھے بھی زرا پتہ چلے۔۔
اس سے پہلے عمر زریاب کی اور کلاس لیتا حمزہ کی آواز پہ زریاب نے جہاں اللہ کا شکر ادا کیا وہی عمر نے حمزہ کو دیکھ کے سڑا ہوا بنایا اور کہا۔
آئیے آئیے اپنے لاڈلے کی حرکتیں دیکھے کھلے عام سگریٹ پی رہے ہیں نواب ذادے چرسی کہی کا۔۔۔
عمر نے غصہ سے گھور کے زریاب کو دیکھ کے کہا۔۔۔۔
تمہارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے چرسی کے باپ ۔۔
حمزہ کے کہنے پہ جہاں زریاب نے بہت مشکل سے اپنی۔ہنسی دبائ وہی دلنشین نے بھی ایک خفگی بھری نگاہ اپنے پاپا پہ ڈالی۔
بھائ اپ اس کی غلط حمایت لے رہے ہیں عمر نے حمزہ سے شکوہ کیا۔
اچھا حمایت تو تمہاری بھی لی تھی میں نے پاپا کے سامنے جب محض تم 15 سال کے تھے اور بہت فخر محسوس کررہے تھے سگریٹ پیتے ہوئے اور ہاں کیا بولا تھا اس وقت تم نے حمزہ نے اپنی ٹھوری کھجاتے ہوئے سوچا۔۔
ہاں یاد آیا۔۔۔حمزہ نے اچانک کچھ یاد آتے ہوئے کہا۔۔
ارے بھائ کوئ حسین اور جوان لڑکا پہلی بار سگریٹ پیتا ہیں نہ تو اندازہ نہیں اپکو کتنی لڑکیاں کا دل چرا لیتا ہے۔
حمزہ کے بولتے ہی جہاں عمر کا منہ لٹکا وہی اپنے ہمجولی کے ہاتھوں اپنے پاپا کی گد بنتے دیکھ زریاب کا اپنا قہقہ روکنا بہت ہی مشکل ہوگیا۔
حمزہ نے اگے بڑھ کے دلنشین کو گھور کے دیکھا اور کہاں۔۔
بی جمالو بننے کے علاوہ دنیا میں اور بھی بہت کام ہیں۔
یہ بول کے حمزہ نے زریاب کے کندھے پہ اپنا ہاتھ پھیلایا اور زریاب کو لیجاتے ہوئے پوچھا ۔۔
کہاں تک پہنچی پیکنگ؟؟
دونوں باتیں کرتے ہوئے چھت سے چلے گئے اور دوسری طرف عمر اور دلنشین غصہ میں واپس جھولے پہ بیٹھ گئے۔۔
ڈیڈو مجھے اپ سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔
دلنشین نے عمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔
ہاں میں اسی لیے چھت پہ آیا کے تم پریشان تھی بولو کیا بات ہے ؟؟
عمر کے پوچھنے پہ دلنشین نے رابعہ آنٹی اور عثمان کی ساری مشکلات عمر کو بتادی۔۔
ڈیڈو پلیز کچھ کرے کیا رابعہ آنٹی کو اچھی زندگی گزارنے کا حق نہیں کیا عثمان ساری زندگی ایک یتیم بن کے رہے گا۔۔؟؟
ہماری مدد اگر کوئ کرسکتا ہے تو وہ صرف ایک ہی بندہ ہے عمر نے کچھ سوچتے ہوئے دلنشین سے کہا۔
کون ڈیڈو؟؟
عمر نے دلنشین کے سوال پہ صرف اتنا کہا۔۔
جنت بھابھی۔۔
ماما کیا ہیلپ کرینگی ہماری؟؟
بیٹا رابعہ بہن بہت اچھی دوست پے جنت بھابھی کی وہ انہیں قائل کرسکتی ہے دوسری شادی کی اور عثمان کو سمجھانا تمہارا کام ہے ۔۔
وہ تو میں کرلونگی مگر رابعہ آنٹی کیلیے اچھا رشتہ کہاں سے آئے گا؟؟؟
وہ تم مجھ پہ چھوڑ دو ہے ایک آڑیل انسان ہے مگر کیا پتہ اس بار مان جائے۔۔
مگر ہے کون ڈیڈو؟؟
دلنشین کے سوال پہ عمر کے لب کسی کا تصور ذہن میں لاتے ہو دھیرے سے مسکرائے اور اس نے کہا۔
“کیپٹن عفان”۔
دراوزہ کی ناکک پہ اقراء جو عمیر کی الماری سیٹ کررہی تھی دروازہ کی طرف متوجہ ہوئ تو تاشہ کو کھڑا پایا۔۔
ارے تاشو جانو اجاو اجاو ۔۔۔
اننو پلیز یہ تیل لگادے میرے سر میں ماما کو بولا نہ تو پورا نہلادینگی تیل میں۔
(جنت کے سارے بچے اقراء کو اننو کہتے ہیں)
تاشہ کی بات پہ اقراء مسکرائ اور کہا۔۔
اچھا اجاو بیٹھو دو منٹ رکو میں عمیر کے کپڑے نکال دو نہانے گھسا ہوا ہے۔۔
اچھا اننو میں اتنے بال کھول لو اپنے۔۔
تاشہ اپنی دھن میں اپنے لمبے بال کھول رہی تھی یہ جانے بغیر کے وہ کسی کی نظروں کے حصار میں ہے۔۔
لاو بھئ تاشو تیل دو مجھے اقراء نے اس کے پیچھے بیٹھ کے کہا۔۔
عمیر جو نہا کے نکلا تھا اور جم سوٹ پہن کے جم جانے کی تیاری کررہاتھا ۔مرر میں جوبظاہر تو بال بنا رہا تھا مگر اسکی نظر مزے سے تیل لگواتی بند آنکھوں والی تاشہ پہ تھی ابھی چند سیکنڈ گزرے تھے اقراء کو تاشہ کے سر میں تیل ڈالے ہوئے کے ماسی نے اکے اقراء کو جنت کا بیغام دیا۔۔
اقرائ نیچے گئ تو تاشہ بھی اٹھ کھڑی ہو باقی کا تیل وہ۔نیچے جاکے لگوانے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔
جیسے ہی وہ اٹھی اسکے لمبے بال اسکا وجود چھاپا گئے ۔۔
اٹھتے ہی اسکی نظر عمیر پہ پڑی جو فرصت سے اسے دیکھنے میں مگن تھا۔۔
ارے عمیر بھائ اپ جم جارہے ہیں۔۔؟؟
ہاں تاشو۔۔۔
عمیر ہو بہو عمر کی کاپی تھا ایسا جنت بولتی تھی۔۔
اچھا چلے اب جائے میں بھی نیچے جارہی ہو تاشو جیسی جانے کیلیے مڑی عمیر نے کہا۔۔
تاشو رات کو میں تمہیں فزکس کا جو سوال تمہیں سمجھ نہیں آرہا تھا اج سمجھا دونگا۔۔۔
ارے نہیں عمیر بھائ وہ تو میں نے سمجھ لیا ہماری۔کلاس میں نیو اسٹوڈینٹ آیا ہے اصغر بہت اچھا اسٹوڈینٹ پے نیچر وائز بھی اچھا بس اس نے سمجھا دیا مجھے ۔۔
اپ فکر نہیں کریں اب مجھے فزکس میں کوئ بروبلم نہیں ہوگی اصغر جو ہے ۔۔
تاشو تو بول کے چلی گی مگر عمیر کے ہاتھ میں مجود پرفیوم کی شیشی کب اسکے ہاتھ میں ٹوتی عمیر خود بھی انجان رہا۔۔