Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 36
Rate this Novel
Episode 36
دلنشین نے تقریبا کو ئ15 سے بیس کالیں عثمان کو کرڈالی مگر عثمان جو اس وقت کیسی سے بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا بار بار دلنشین کی کال اپنے موبائل پہ آتی دیکھ کر بھی وہ گم سم سا لیٹا رہا وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کے دلنشین سے اگر اسنے اس وقت بات کی تو اس سے اپنے دل کا وہ راز چھپانا بہت مشکل ہو جائے گا جو وہ بچپن سے اس سے چھپاتا آیا تھا ۔
ایسا عثمان کو لگتا تھا کے دلنشین اس کےراز سے واقف نہیں جبکہ وہ دونوں تو دو جسم اور ایک جان تھے دلنشین اسکی دلی کیفیت سے اچھی طرح واقف تھا تبھی وہ اسے بار بار کال کررہی تھی اور شاید ایک وجہ اور بھی تھی دلنشین شاید زریاب کی باتوں سے پریشان ہوگئ تھی۔خاص کر یہ بات جان کے زریاب یہ بات جانتا تھا کے وہ اس سے کتنی نفرت کرتی ہے مگر پر بھی وہ دلنشین کے اس پاس گھومتا تھا اس سے دوستی کرنا چاہتا تھا ۔
مگر کیوں؟
کیا واقعی میں زریاب سے نفرت کرتی ہو؟
دلنشین نے خود سے سوال تو کرلیا مگر کیا اسے جواب ملے گا۔۔۔
،،!!!!¡!!!!!!!!!!
یہ کونسا طریقہ ہے بات کرنے کا ؟
احسان کا تو مانو زارا کی بات سن کے دماغ ہی گھوم گیا۔۔۔
طریقہ مطلب میں کیا تم سے گھٹنوں کے بل بیٹھ کے فریاد کرو کے احسان مجھے بتائے آپکا اور کتنا ارادہ ہے مجھے اس طرح محبت کے جھوٹے دعوے میں لٹکائے رکھنے کا۔۔۔
احسان نے زارا کو کندھوں سے تھام کے خود کے قریب کیا اور کہا۔۔
تمہیں میری محبت فریب لگتی ہے زارا؟
زارا نے بہت آرام سے اپنے کندھوں پہ سے احسان کے ہاتھ ہٹائے اور کہا۔۔
تم مجھے ایک وجہ بتادو جو میں تمہاری محبت کو فریب نہ کہو۔۔۔
یہ پھر کوئ بھی ایک ایسا کام جو تم نے کیا ہو مجھے حاصل کرنے کیلیے۔۔
مسٹر احسان نومیر۔
یہاں نہ تو کوئ فلمی سین چل رہا ہے اور نہ ہی کوئ نول ک سین جسمیں ہیرو ہر حال میں ہیرو رہتا ہے لڑکی ہر حال میں اسکا انتظار کرتی ہے اسی کی بن کے رہتی ہے اپنے والدین سے بغاوت کرکے۔۔
زارا نے بھی آج احسان کا دماغ ٹھکانے لگانے کی ٹھان لی تھی ۔۔
دو دن ہیں تمہارے پاس احسان دو دن یہ تو ان دو دنوں میں انکل آنٹی کو رشتہ لے کر بھیجو یہ پھر مجھے بھول جانا اسی میں تمہاری بہتری ہے میں اب مزید اپنے ماں باپ کا دل نہیں دکھا سکتی اسے کھوکھلی محبت کے پیچھے اگر دو دن کے اندر تم نے انکل آنٹی کو نہیں بھیجا تو میں ریحانہ آنٹی کے بیٹے کا رشتہ قبول کرلوں گی ۔۔
یہ بول کے زارا تو چلی گئ مگر احسان کا دماغ مکمل طور پر بلینک ہوچکا تھا اسے اندازہ نہیں تھا کے اسی کسی ایسی سیٹویشن کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔
امجد اور کتنی دیر؟؟
میں تھک گئ ہو بیٹھے بیٹھے ۔۔۔۔۔
مہناز نے بہت ہی بیزاری سے اپنے سامنے بیٹھے امجد سے کہا۔۔
نکاح کی شاپنگ کے بعد امجد اسے کراچی کے سب سے بڑے پالر لایا تھا مہندی لگوانے اور اسکی تھوڑی سروس کروانے۔
ہوگیا یار بس 5 منٹ اور ۔۔۔۔
امجد پچھلے آدھے گھنٹے سے آپ مجھے یہی دلاسہ دے رہے ہیں اگر ایک منٹ کے اندر یہ مہندی لگنا بند نہیں ہوئی تو کل کا نکاح بھول۔جائیے گا آئ سمجھ۔۔
مہناز کی دھمکی سن کے اسکو مہندی لگانے والی لڑکی نے اپنی مسکراہٹ چھپائی اور ہاتھ روک دیا ۔۔
ادھر امجد کا مہناز کی دھمکی سن کے منہ کھلا کا کھلا رہ گیا اور اس نے کہا۔۔
مہناز میری جان اتنی بڑی بڑی دھمکیاں نہیں دیتے جیسے سن کے سامنے والا سکتے میں آ جائے ۔۔۔
چلو چلو ختم ہوگئی مہندی لگنا یہ ہی تو میں بولنے لگے تھا یہ بات سن کے مہناز نے کمال مہارت سے اپنی لبوں کی ہنسی کو چھپایا اور مہناز کے ارد گرد رکھے شاپنگ بیگ سمیٹنے لگا مہناز کیساتھ مہندی لگانے والی لڑکی بھی امجد کی بوکھلاہٹ کو کافی انجوائے کررہی تھی ۔
امجد نے بہت احتیاط سے مہناز کو گاڑی میں بیٹھا کے گھر چھوڑا اور دوبارہ شاہ کے پاس گیا۔۔۔
شاہ میں نے تم سے کہا ہے میں ابھی کوئ بھی غلط کام نہیں کرونگا پھر کیا مقصد ہے تمہارا مجھے میسیج کرنے کا؟
امجد کول ڈاؤن یہ اخری کام ہے جو صرف تم ہی کرسکتے ہو کڑروں کی بات ہے امجد میں کسی اور کو بھیج کے رسک نہیں لے سکتا۔۔
شاہ نے سگریٹ جلاتے ہو بہت ہی ریلکس انداز میں یہ بات کہی تھی۔۔
کروڑوں کی بات ہو یہ اربوں کی میں نے منع کردیا تو کردیا
نقصان کے ذمیدار تم ہو گے امجد اور تمہیں پتہ میں نقصان برداشت نہیں کرتا۔۔۔
شاہ نے اپنے سامنے رکھی کانچ کی ٹیبل کو زور سے لات مار کے کہا۔۔
عادت ڈال لو شاہ اب نقصان کی۔
یہ بول کے امجد وہاں سے چلا گیا مگر شاہ کو بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کرگیا امجد کو اگر اندازہ ہوتا کے اسکا ایک انکار اس کیلے ناقابل برداشت ہوگا تو شاید وہ یہ غلطی نہیں کرتا۔
!!!!!!!!!!!
حاشر مجھے یقین نہیں آرہا ایک مہینے بعد ہماری شادی ہے۔۔
فلک نے حاشر کے سینے سے لگے لگے کہا۔۔
فلک کی بات پہ حاشر نے اسکے بالوں کو اپنی انگلیوں سے سہلایا اور کہا۔
یقین کرلو جانمن کیونکہ شاید پھر تمہیں ناقابل یقین باتوں پہ یقین کرنا پڑے گا۔
مطلب ؟
حاشر کی بات پہ فلک نے ناسمجھی کے عالم میں نگاہ اٹھا کے حاشر سے کہا۔
ارے مطلب میں تمہیں اتنا پیار کرونگا کے تمہیں یقین نہیں ہوگا کے میں تمہیں اتنا بھی چاہ سکتا ہو۔۔
اوہ۔۔۔
یہ بول کے فلک دوبارہ حاشر کے سینے سے لگ گئ۔
مگر حاشر کے لب ایک دم سکڑے اور آنکھوں میں سنجیدگی اتر آئی کیونکہ وہ جو کرنے والا تھا وہ واقعی فلک کیلیے ناقابل یقین تھا۔۔
!!!!!!!
لائٹ بنک کلر کے ہیوی شرارے میں مغلیہ جیولری پہنےسائیڈ میں ڈارک میرون کلر کی شال ڈالے مہناز کسی شہزادی سے کم نہیں لگ رہی تھی۔۔
ڈھرکتے دل کیساتھ اس نے نکاح نامے پہ سائن کیا اور ہمیشہ کیلیے اپنی پوری زندگی امجد کے نام کردی۔۔
ادھر امجد نے بھی اسے خوبصورت رشتہ کو قبول کرکے اپنی پچپن کی محبت کو ہمیشہ کیلیے اپنے نام کرلیا۔۔
امجد کے گھر کے لان میں ہی آج ان دونوں کے نکاح کی تقریب رکھی گئ تھی۔۔۔
خوبصورتی سے سجائے لان میں امجد اور مہناز کے نکاح میں چند افراد شامل تھے امجد اپنے جگری دوست شاہ کو بھی اپنے نکاح میں نہیں بلایا تھا۔۔
امجد کی کزنوں کیساتھ جیسے ہی مہناز نے لان میں قدم رکھا امجد کی نظر جیسے لان میں اینٹری کرتے ہوئے مہناز پہ پڑی وہ ایک دم اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا مہناز دھیرے دھیرے چل کے امجد کے قریب آرہی تھی اور امجد کو آج ایسا لگ رہا تھا جیسے اسکی زندگی آج اسکے قریب آرہی ہے۔
مہناز جیسی ہی اسٹیج کے قریب پہنچی امجد نے آگے بڑھ کے اسکے آگے ہاتھ کیا جیسے تھامنے کیلیے جیسی ہی مہناز نے نگاہ اٹھائ یہ دیکھ کے کافی حیران ہوگئ کے امجد کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھی مگر اسکے لںبوں پہ گہری مسکراہٹ تھی۔۔
“بیشک مرد کی آنکھوں میں اسی عورت کیلیے آنسوؤں آتے ہیں جس سے اسے محبت نہیں عشق ہوتا ہے”
بہت خوبصورت لگ رہی ہو ماہی۔۔
دل کررہا ہے آج تمہیں ایسے چھاپا لو جیسے سمندر کی گہرائی میں سیپ میں چھپا موتی۔۔۔
امجد کی لہجے کی سچائی مہناز محسوس کرسکتی تھی مگر وہ اس سے ناراض تھی کیونکہ آج صبح ہی اس نے رخصتی کی بات کردی تھی جیسے سن کے مہناز کی ماں تو فورا مان گئ تھی مگر مہناز نے انکار کردیا ماہی کا انکار سن کے اسکی ماں نے اسے اچھی خاصی سنائ ۔اور پھر مجبورا پھر اسے ماننا پڑا۔۔
ویسے اگر محبوب خوبصورت ہو پلس وہ روٹھا ہو یقین مانو زنگی وارنے کا دل چاہتا ہے اسے منانے کیلیے۔۔میری ماہی۔۔۔
امجد جو مہناز کا پھولا منہ دیکھ کے کافی انجوائے کررہا تھا اور وہ جانتا تھا کے وہ اسے منا لے گا کیونکہ اب وہ اسے کی شریک حیات جو تھی ۔۔۔
آج جب وہ شاہ سے مل کے آیا تو زندگی میں پہلی بار وہ ڈرا تھا اور یہ ڈر اسے ماہی کیلیے تھا کے کہی شاہ اس انکار کی وجہ سے ماہی کو کوئ نقصان نہ پہنچا دے اس لیے آج امجد نے نکاح کیساتھ رخصتی کا بھی بولا تاکہ وہ ماہی کو ایک پل کیلیے بھی خود سے جدا نہ کرے۔۔
او میری ماہی زرا ہماری طرف بھی دیکھ لو۔۔
امجد نے اسکے کان کے پاس جھک کے کہا۔۔۔
ہاں بھابھی جان دیکھ لو میری یار کی طرف ۔::::
امجد جو ماہی کے جواب کا منتظر تھا شاہ کی آواز سن کے ایک دم حیران ہونے کیساتھ ساتھ شاکڈ بھی ہوگیا کیونکہ شاہ امجد کے بلکل سامنے کھڑا تھا۔۔
جاری ہے۔۔۔
