51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 51

تم سمجھتے ہو کے میں ڈر جاؤنگی تم سے تو یہ بھول ہے تمہاری عثمان۔۔۔..
میں نے تم سے جب کہا مجھ ڈرو بس پیار کرو۔۔۔عثمان نے دلکش مسکراہٹ کیساتھ کہا۔۔
عثمان کے منہ سے یہ باتیں سن کے دو منٹ کیلیے مہناز ساکن رہ گئ۔۔
اسکی دونوں کلائیاں عثمان کے ہاتھ میں تھی انہیں عثمان سے چھڑوانا وہ بھول چکی تھی۔۔
عثمان نے دھیرے سے اسکی کلائیاں چھوڑی اور اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کے کہا۔۔
بھول جاؤ مہناز سب اب میں تمہارے ساتھ اپنی پوری زندگی گزارنا چاہتا ہو بہت محبت کرتا ہو میں تم سے ماہی پلیز میرا یقین کرو ۔
بس محبت کا نام لینا تھا کے ایک دم مہناز دوبارہ بھپری ہوئ شیرنی بن گئ ۔اس نے عثمان کا ہاتھ تیزی سے اپنے چہرے سے ہٹایا اور اسے دھکا دیتے ہوئے کہا۔۔
نفرت کے قابل ہو تم آئ سمجھ مسٹر عثمان ۔۔۔
کیا سمجھا ہے تم نے کوئ کھلونا ہو جب چاہا چلایا جب چاہا باکس میں بند کرکے رکھ دیا جیتی جاگتی لڑکی ہو ۔۔
موت کو گلے لگا لونگی مگر تمہارا ساتھ قبول نہیں کرونگی۔
اپنی ماں کو لے کر چلی جاؤنگی میں یہاں سے شکل نہ تمہاری دیکھنی ہے مجھے نہ تمہیں اپنی دیکھاانی ہے۔
محبت لفظ کا مطلب بھی پتہ ہے تمہیں ؟
یہاں کوئ ڈرامہ نہیں چل رہا اب مجھ سے امید نہیں رکھنا کے میں بھاگو گی تمہارے پیچھے جیسے 12 سال پہلے بھاگتی تھی ۔۔
جب رابطہ ختم سالوں پہلے تو آج واسطہہ ختم ۔۔
یہ بول کے مہناز جانے لگی جبھی عثمان نے اسے پیٹ سے تھام کے خود سے لگایا۔۔
مجھے اب چھوڑنا کا سوچنا بھی نہیں ورنہ وہ حال کرونگا تمہارا اور تمہاری ماں کا کے تم اور تمہاری ماں سڑکوں پہ بھیگ مانگو گی ۔
عثمان نے یہ بول کے مہناز کو دھکا دیا وہ زمیں بوس ہوکے عثمان کو حیران کن نظروں سے دیکھنے لگی۔
اسکی۔انکھوں میں ابلتا ہوا لاوا دیکھ کے مہناز ایک دم ڈر کے پاؤں کے بل پیچھے ہونے لگی ۔
عثمان نے آگے بڑھ کے اسکے بال۔مٹھی میں لیے اور اسکے لبوں کے پاس بلکل اپنے لب لیجاتے ہوئے کہا۔۔
مجھے مجبور مت کرنا مہناز کے میں تمہارے ساتھ کچھ غلط کرجاو۔۔
بنا تماشہ کیے اس رشتہ کی حامی بھر دو مہناز ۔
منع کرنے کی صورت میں انجام کی ذمیدار تم خود ہوگی۔۔
یہ بول کے عثمان نے اسکے بال چھوڑے اور اس پہ سے لانگ کے کمرے کے باہر چلا گیا۔۔
عثمان سیڑھیاں اترنے لگا تو اس سامنے دلنشین دیکھائے دی۔
دلنشین اسکی آنکھوں میں نمی سے محسوس ہوئی ۔
عثمان نے دلنشین کو ایک نظر دیکھا اور تیزی سے اسکے پاس سے گزر گیا۔۔
دلنشین بھی اسکے پیچھے تیزی سے بھاگی۔۔
لان میں رک کے عثمان وہی گھاس پہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کے لمبی لمبی سانس لینے لگا۔
دلنشین بھی اسکے برابر میں بیٹھ کے اسے دیکھنے لگی۔
عثمان کی آنکھوں سے آنسوؤں کو گرتا دیکھ دلنشین کے دل
کو کچھ ہوا بچپن سے ساتھ تھا وہ۔اسکے کبھی اسے ایسے نہیں دیکھا ۔
وہ دونوں ایک دوسرے کے دل۔کے ہر راز سے واقف تھے۔۔
دلنشین نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور کہا۔
عثمان مشکل گھڑی ہے گزر جائے گی ایک بار تمہاری زندگی میں شامل ہوگی تو سمجھ جائے گی تمہاری برسوں پہلے تمہاری رویہ کے پیچھے کی مجبوری ۔۔
دلنشین وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے۔۔؟
عثمان نے کسی معصوم بچے کی طرح اسے بتایا۔
جھوٹ بول رہی ہے وہ مانی ایک دم جھوٹ مجھے پتہ ہے میں نے دیکھا ہے اسکی آنکھوں میں اسکی پہلی اور آخری محبت تم ہو ۔۔
عورت اپنے دل میں بسنے والے پہلے حکمران کو کبھی نہیں بھولتی اپنی محبت کو کبھی ختم نہیں کرتی اسے تھوڑا وقت دینا وہ تم سے خود اظہار کریگی کے آج نہیں تو کل کے وہ بھی تم سے محبت کرتی ہے۔۔
میں ایک بار پھر اسکے ساتھ غلط کر آیا ہو مایا اسکا دل دکھا آیا ہو اسکی آنکھوں میں خوف تھا مایا۔
کیا چاہتے ہو عثمان مجھے بتاؤ اسے ایک بار پھر کھونا چاہتا ہو پھر سے تم اس درد میں جینا چاہتے ہو جو 12سال سے تم برداشت کررہے ہو۔۔
جانے دو عثمان ایک اسکی بے جا ضد کی وجہ سے تم اپنی محبت کو نہیں چھوڑو اب۔۔
یہ بول کے دلنشین نے عثمان کے آنکھوں سے آنسو صاف کیے اور کہا۔۔
عثمان مجھے پتہ ہے وہ اور تم ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے برسوں بعد آج اللہ نے تمہں ایک موقع دیا ہے عثمان مہناز کی بے مقصد کی ضد پہ اسے ضائع نہیں کرو۔۔
شاباش چلو اٹھو اپنا حال دیکھو مجنو لگ رہی ہو پکے۔ابھی کوئ دیکھ کے گا تو کیا سوچے گا۔۔
“اچھے دوست اللہ کی طرف سے انعام ہوتے ہے شاید دلنشین اور عثمان اس معاملے میں خوش قسمت تھے”
!!!!!!!!++++++
ڈر تھا یہ پھر خوف عثمان کو یہ خوشخبری سننے کو مل گئ تھی۔کے مہناز نے اس رشتہ کی حامی بھرلی ۔۔
آندھی طوفان کی طرح ان دونوں کی شادی کی تیاریاں ہورہی تھی۔۔
عفان صاحب اتنے بڑے کیپٹن ہونے کے باوجود گھن چکر بنے ہوئے تھے۔۔
آج مہناز کی مہندی لگی رہی تھی گھر میں ایک چھوٹی سی۔مایوں مہندی کی رسم رکھی گئ تھی۔۔
ارے ماما اب بھی کہاں رکھا ہے مہندی کا تھال رابعہ آنٹی کب سے پوچھ رہی ہیں۔۔دلنشین نے بیزرای کے عالم میں جنت سے پوچھا۔
ارے یار میں خود بھول گئ دیکھ لو تم۔میں زرا رابعہ کے پاس جارہی ہو اسے لفافے دینے ہیں۔۔
دلنش یلو کلر کا اپنا غرارہ سنبھالے ادھر سے ادھر تھال ڈھونڈ رہی تھی۔
اچانک اسے یاد آیا وہ تو کچن میں رکھا تھا۔
دلنشین اپنی دھن میں کچن میں جارہی تھی جب زریاب نے ایک دم اسکا۔ہاتھ پکڑ کے اسے کھینچا۔۔
دلنشین نے فورا اپنا مکا ہوا میں بنایا مگر سامنے زریاب کو دیکھ کے سڑا ہوا منہ بنا کہا۔
اپنی ان حرکتوں پہ ایک دن تم مکا کھالو گے مجھ سے انسانوں کی طرح کے کام نہیں آتے تمہیں۔۔
نہیں نہ جانے من اور تمہارے ہاتھ سے مکا۔کیا گولی بھی کھالونگا۔مگر فلحال تمہاری لپسٹک کھانی ہے دلنشین اس سے پہلے سنبھالتی زریاب اسکی لبوں پہ جھک چکا تھا۔۔
ارے دلنشین۔کہاں رہ گئ ملا تھال۔۔
جنت کی آواز پہ دلنشین نے اسے تیزی سے دھکا۔دیا اور اندر کو بھاگی۔۔
زریاب مسکراتے ہوئے جیسے ہی پلٹا تو احسان کو کیلے سے انصاف کرتا ہوا پایا۔۔
احسان نے کیلا ختم کرکے چھلکا ڈسبن میں ڈالا اور ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا۔۔
اگر تیرا عمران ہاشمی بننے کا شوق پورا ہوگیا ہو تو تجھے عمر انکل بلا رہے ہیں۔۔
احسان نے بول کے ڈور لگائ تو زریاب بھی بولتے ہوئے بھاگا۔۔
رک سالے تو بھی تو عمران ہاشمی کا ہی بھای ہے رک۔۔..
!!!!!!!!!!!
ملٹی کلر کے غرارے میں پھولوں کا زیور پہنے گھونگھٹ ڈاے مہناز کو عثمان کے برابر میں بیٹھایا گیا۔۔
ڈارک گرین کلر کے کرتے میں ہلکی ہلکی بریڈ چوڑے سینے اور مسسلسز کیساتھ عثمان واقع وہ۔ایک پکا خوبصورت پلس آرمی آفیسر لگ رہا تھا۔۔
سب نے باری باری رسم ادا کی ۔۔
کھانے کا دور شروع ہوا تو حاشر نے اینٹری دی سب سے ملکے حاشر مہناز کے پاس آیا مگر صرف سلام ہی کرسکتا تھا گھونگھٹ ہونے کی وجہ سے وہ مہناز کا چہرہ۔نہیں دیکھ پایا۔
سب کھانے میں مصروف ہوئے تو عثمان نے موقع دیکھ کے مہناز کا ہاتھ تھاما ۔
مگر زیادہ دیر تک وہ۔ہاتھ تھام نہیں پایا کیونکہ مہناز۔کا جسم بخار کی شدت سے تپ رہا تھا۔۔
عثمان نے دلنشین کو اشارہ کرکے بلایا اور مہناز کی کیفیت اسے بتائی۔
دلنشین نے اسے احتیاط سے اٹھایا اور کمرے میں لیجانے لگی
مہناز کو دلنشین کمرے میں چھوڑ کے جانے لگی ۔۔
بخار کی وجہ سے وہ نڈھال تھی اس نے لیٹتے ہی بلینکٹ اوڑھ لیا۔
جب عثمان وہاں چلا ایا۔۔
کیا ہوا دوائ لی اس نے؟؟
نہیں مانی ہاتھ جھٹک دیا میرا بات بھی نہیں کرہی اور فائزہ آنٹی بتا رہی تھی اس نے کل رات سے کچھ نہیں کھایا بس روئے جارہی ہے۔۔
مانی مہناز کی طرف بڑھنے لگا جب دلنشین نے اسے روکا اور کہا۔۔
یار کیا ہے بولا بھی ہے کے طبیعیت ٹھیک نہیں ہے مجھے برداشت نہیں کررہی تو تمہیں کہاں سے کریگی۔۔
ابھی چھوڑ دو بعد میں کرلینا بات۔۔
ابھی نکاح ہے دلنشین اور یہ یہاں ایسے لیٹی ہے۔۔
سب مہمان باہر ہیں۔۔
تمہارا دماغ خراب ہے ابھی وہ اس کنڈیشن میں نہیں ہے کے نکاح جیسی رسم ادا کرسکے نکاح کل پہ رکھ لو۔۔
اب چلو باہر سارے مہمان ہیں چلو۔۔
دلنشین اسے باہر لے گئ۔
ان دونوں کے باہر جاتے ہی کب سے روکے مہناز کے آنسو بہنے لگے۔
مہناز نے کمبل اپنے پہ سے اتارا جیسی ہی وہ کھڑی ہوئ بخار کی شدت سے وہ اسی وقت گر گئ۔۔
مہناز نے تھوڑی ہمت کری اور بیڈ پہ بیٹھ کے اپنا سر پکڑا مگر ایک دم اسے چکر آئے اور وہ وہی بیہوش ہوگئ ۔
جاری ہے