Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 23
Rate this Novel
Episode 23
چھوڑ نہ یار کیس تو حل ہوگیا نہ ۔۔۔
احسان نے اسکا غصہ ٹھنڈا کرتے ہوئے کہا۔
ہاں مگر کمیشنر صاحب نے جس طرح ہماری عزت افزائ کی ہے نہ میرا دل چاہ رہا ہے مایا مانی کو شوٹ کردو۔۔
ویسے یار بولنا پڑے گا دونوں کا دماغ بہت ہے جس کیس میں گھستے ہیں دو منٹ کے اندر solve کر دیتے ہیں..
ہاں وہ لوگ solve کر دیتے ہیں
اور یہاں کمشنر صاحب ہمارے اوپر طنز کے تیر چلاتے ہیں زریاب نے پھر ایک بار مایا مانی۔کو ستے ہوئے کہا۔۔
چھوڑنا یار کیا تو مایا مانی کے پیچھے پڑا ہوا ہے گھر جاتے ہیں آج شام کی پارٹی کی تیاری کرنی ہے اور تیری پٹاخہ تو آگئی ہوگی۔
6 سال بعد اسے ملنے والا ہے تو۔۔
اچھا میری پٹاخہ ۔۔
ویسے کبھی کبھی احسان مجھے لگتا ہے تو میرا دوست ہے ہی نہیں لحاظ مروت میں مجھ سے دوستی نبھارہا ہے۔
۔ کتنی دفعہ میں نے تجھ سے اس کا نمبر مانگا گا ۔۔
مگر تو نے اس کا نمبر مجھے نہیں دیا۔۔۔
کیا بات ہے بھائی میرے معصوم بھولے یار
تجھے پتہ نہیں ہے وہ تجھ سے کتنا چڑتی ہے۔
۔
اور تجھے پتہ ہے خصوصی اس نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں تجھے اس کا نمبر نہیں دوں اور تجھے پتا ہے نہ تجھے وہ کس لقب سے پکارتی بار بار یہ لقب مجھے بولا ہے دلنشین نے اچھے خاصی تیرے عزت وہ میرے سامنے اتار چکی ہے۔۔
اس نے مجھے بولا تھا اگر میرے پاس وہاں ایک بار بھی احسان اس باگڑ بلے اوہ باگڑ بلے سمجھ رہا ہے نہ تو اس نے کس کو بولا احسان نے معصوم سی شکل بناکے زریاب کو دیکھا جو اسے غصہ سے گھور رہا تھا۔۔
کی کال آگئی تو بھول جانا کے ہم کبھی دوست تھے اب میں تیرے پیچھے اس سے دوستی ختم کرنے سے رہا لہذا پرانی باتیں چھوڑ کوئی ایسا طریقہ اپنا تاکہ وہ بھی کچھ انٹرسٹڈ ہونا شروع کریں تجھ میں اور سو باتوں کی ایک بات ابھی فی الحال پارٹی میں جانے کے لئے لیٹ ہو رہا ہو اب بھی اپنے گھر جائیں آپ کی پتاخہ اگئ ہوگی یقینا اس کی فلائٹ لینڈ ہوچکی ہوگی جنت پھپھو کی ائ تھی کال کے پارٹی میں جلدی پہنچا میں تو چلا ۔
تو یہاں سوچتا رہے مایا مانی دلنشیں اللہ حافظ۔۔۔
احسان کے جانے کے بعد زریاب نے ایک لمبی سانس لی اور گھر کی طرف چلا ..
بس کردو حاشر پچھلے 20 منٹ سے تم مجھے کسس کررہے ہو…
مجھے سانس تو لینے دوو۔
کیا یار فلک سارے موڈ کا بیرا غرق کردیتی ہو تم۔
فلک کے ایک دم دور ہونے پہ حاشر نے چڑ کے کہا۔۔
تمہارا موڈ تو ہر وقت ہی رومینٹک ہوتا ہے ۔۔
ابھی تک کہاں تم نے مجھے رومینس کرنے دیا ہے کھل کے جو مجھے رومینٹک کہہ رہی ہو یہ کہہ کے حاشر نے جیسے ہی فلک کا اسکارف گلے سے ہٹا کے وہاں اپنے لب رکھنے چاہے فلک فورا پیچھی ہوئ اور کہا۔
کسس بھی کرنے دیتی ہو غنیمت جانو حاشر اور یہ سب میں خالی تمہاری محبت میں کررہی ہو شادی کرلو مجھ سے کرتے رہنا پھر رومینس مجھ سے ۔۔
فلک کی بات سن کے حاشر فلک کو گھورنے لگا جب فلک نے کہا۔۔
حاشر پچھلے دو سالوں سے ہم اسطرح مل رہے ہیں ایسے کب تک ملے گے ؟؟
تم نے کہاں تھا اپنے پیرنٹس کو بھیجو گے رشتے کیلیے۔۔
یار تو میں نے منع کب کیا یہ فائنل ائیر ہے ہمارا پھر ہم شادی کرینگے ۔۔
تم سچ بول رہے ہو نہ حاشر؟؟؟
فلک ہر دفعہ حاشر سے یہ سوال کرتی۔۔
بلکل میری جان ۔۔
تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے میں تمہیں دھوکا دونگا۔۔۔؟؟
ارے نہیں حاشر تم غلط سمجھ رہے ہو میں بس ایسی ہی پوچھ رہی ہو ۔۔
اچھا اگر بلفرض میں نے تمہیں دھوکا دیا کیا کروگی میڈم ؟؟؟
دھوکہ دے کر دیکھ لو اپنے ہاتھوں سے تمہیں گولی مارونگی فلک نے بھی حاشر کے انداز میں جواب دیا۔۔
ہائے میری جان تمہاری ادائیں تو ہمیں پچھلے دو سالوں سے مار رہی ہیں حاشر نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے مرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا۔۔
فللک نے اس کے سینے پہ مسکراتے ہوئے ہلکا سے مکا مارا اور اٹھنے لگی جب حاشر نے کہا۔
۔
یار ابھی کہاں ایک کسس تو اور دیتی جاو جاؤ۔۔
نہیں یار جنت پھپو کے ہاں آج پارٹی ہے عمیر کے کانٹریکٹ جیتنے اور د دلنشیں 6 سال بعد واپس آ رہی ہے اپنے ڈاکٹر کی پڑھائی کر کی جلدی جانا ہے پھر ملیں گے ہم..
یہ بول کے فلک وہاں سے چلی گئی۔۔
حاشر اور فلک کی ملاقات آج سے دو سال پہلے یونیورسٹی کے ایک فیسٹول میں ہوئ تھی جب سے ہی دونوں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے مگر یہ محبت اکے جاکے کیا رنگ دکھانے والی تھی یہ تو وقت ہی بتائے گا
زریاب گھر پہنچا تو سب ہی ہال میں بیٹھے تھے انکے چہروں سے اندازہ ہورہا تھا جنکے انے کی خوشی میں پارٹی رکھی گئ ہے وہ لوگ اچکے ہیں۔۔
جنت کی نظر زریاب پہ پڑی تو اسنے کہا۔۔
ارے زریاب اگئے تم ۔۔
جنت کے بولنے پہ سب زریاب کی طرف متوجہ ہوئے سوائے دلنشین کےجو اپنے ڈیڈو کی گھود میں سر رکھ کے لیٹی تھی جنت کے بولنے پہ دلنشین نے نگاہ اٹھا کے عمر کو دیکھا جو دلنشین کے ایسے دیکھنے کا مطلب سمجھ چکاتھا
زریاب باری باری سب سے ملا عمیر کو اس نے مبارک باد دی مگر اس کی نگاہیں مسلسل دلنشین کے چہرے کا طواف کررہی تھی لائٹ پنک کلر کی کرتی اور جینز میں وہ سب سے الگ لگ رہی تھی۔۔۔
عمیر کی نظریں بھی تاشہ پہ تھی جو جنت سے کسی بات کی فرمائش کررہی تھی اور وہ مسلسل اسے گھور کے چپ کرا رہی تھی۔۔
۔سب ہی اپنے اپنے کاموں میں چلے گئے سوائے زریاب کے۔۔ ۔
دلنشین بھی انکھیں موندیں موندیں صوفے پہ لیٹی رہی ۔
زریاب نے اس پہ ایک بھر پور نگاہ ڈالی اور کہا۔۔
مبارک ہو تمہیں…
زریاب کی اواز پہ اچانک دلنشین نے انکھیں کھولی تو زریاب اسے ہی تک رہا تھا۔
تمہیں بھی مبارک ہو ایس پی بن گئے ہو۔۔
ہم ۔۔۔۔
اگے کیا پلین ہے؟؟
مطلب دلنشین نے زریاب کی بات پہ انکھیں بڑی کرکے کہا۔۔
مطلب تم اچھے سے جانتی ہو دلنشین کب بن رہے پھر دلہن میری۔۔۔۔
زریاب کی بات پہ دلنشین نے اپنے بالوں کا ایک۔اونچا سا جوڑا باندھا اور طنزیہ مسکراتے ہوئے کہا۔۔
،”انسان بڑی نسل کا کتا پل لے مگر خوش فہمی کبھی نہیں”
میں مرنا پسند کرونگی مگر تم سے شادی کرنا نہیں۔۔
دلنشین کی بات پہ زریاب دلنشین کے قریب ایا اور کہا۔
بنوگی تو تم میری ہی مستانی ۔۔۔
راضی خوشی نہیں تو زور زبردستی سے یہ بولتے ہی جیسے ہی زریاب نے دلنشین کا گال چھونا چاہا دلنشین نے زریاب کا وہی ہاتھ تیزی سے پکڑ کے اتنی شدت سے گھومایا کے اگر وہ زرا سی اور تیزی دیکھاتی تو یقینا اسکا ہاتھ توٹھ جاتا۔۔
اففف جنگلی چڑیل ہاتھ تو چھوڑو۔۔زریاب نے اس سے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا ۔۔
اج کے بعد ہاتھ لگایا تو اتنی جگہ سے ہڈیاں توڑونگی تمہاری کے ڈاکٹر کی سمجھ میں نہیں ائے گا کے پلاسٹر چڑھئے یہ ہاتھ کاٹ دے ۔
یہ بول کے دلنشین نے ہاتھ چھوڑا اور زریاب کو وارننگ دینے والے انداز میں کہا۔۔
مجھ سے دور رہو زریاب مجھے تم نفرت ہے اور غصہ میں وہاں سے چلی گی اور یر بار کی طرح زریاب مسکرا کے اسے جاتے ہوئے دیکھا۔۔
جاری ہے۔۔
