Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 52
Rate this Novel
Episode 52
جب سب کو پتہ چلا کے آج نکاح نہیں ہے تو سب کھانا کھاکے اپنے اپنے گھروں کو نکلنے لگے۔۔
زریاب اور دلنشین ابھی وہی تھے احسان اور زارا بھی تھوڑی دیر کیلیے رک گئے تھے۔۔
کافی کا دور چلا ہوا تھا سب باتوں میں مصروف تھے جب عثمان کی نگاہ فائزہ بیگم پہ پڑی۔۔
کیا ہوا آنٹی یہ کس کیلیے لے کر جارہی ہے کھانا؟؟
بیٹا لیجا نہیں رہی واپس لا رہی ہو مہناز نے ،نہ تو کھانا کھایا نہ دوائ کھائ تنگ کرکے رکھ دیا اس لڑکی نے تو مجھے ۔۔
کہتی ہے کھانا نہیں کھاونگی تو مر نہیں جاؤنگی بے فکر رہے شادی کرکے ہی مرونگی۔۔
یہ بول کے فائزہ بیگم رونے لگی ۔۔
ارے آنٹی اپ رو کیوں رہی ہیں میں دیکھتی ہو اسے ابھی تھوڑی ناراض ہے بعد میں ٹھیک ہو جائے گی آپ جائے میں دیکھتی ہو اسے۔۔
فائزہ بیگم کی بات سن کے عثمان نے غصہ میں اپنی مٹھیاں بھینچی تھی جو دلنشین کیساتھ وہاں بیٹھا ہر نفوس دیکھ چکا تھا ۔۔
اس لیے دلنشین نے آگے بڑھ کے بات سنبھالتے ہوئے کہا۔۔
فائزہ بیگم کے جاتے ہی دلنشین کھانے کی پلیٹ لے کر جانے لگی جب عثمان نے کہا۔
ایک منٹ رکو دلنشین اسکا سارا بخار میں اتاروں گا کچھ زیادہ ہی میڈم مہارانی کے نخرے ہورہے ہیں اسکا دماغ تو اج میں ہی ٹھکانے لگاونگا کل کی ڈوس سے شاید دماغ درست نہیں ہوا۔
دلنشین روکتی رہ گئ زریاب نے بھی اسے سمجھایا مگر بے سود وہ کھانے کی ٹرے لے کر مہناز کے کمرے کی طرف جاچکا تھا ۔
دلنشین ہم بھی چلتے ہیں کیا خیال ہے؟؟
احسان کی بات پہ سب نے حامی بھری اور وہ لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف چل پڑے۔۔
!!!!!!!
عثمان نے کمرے میں جاتے ہی مہناز کے اوپر سے بلینکٹ کھینچ کے اتارا ۔۔
مہناز جو سونے کی کوشش کررہی تھی۔مگر سر درد کی وجہ سے سو نہیں پارہی تھی ایک دم اس کروائی پہ اٹھ کے بیٹھ گئ۔۔
مگر اپنے سامنے عثمان کو دیکھ کے اسکے ہاتھ میں کھانے کی پلیٹ دیکھ کے دوبارہ لیٹنے لگی۔۔
جب عثمان نے کھانے کی ٹرے سائیڈ ٹیبل پہ رکھی اور اسے اٹھا کے بیٹھایا۔۔
فیس پہ جگہ جگہ ابٹن لگا تھا پھولوں کا زیور اب بھی اسکے کانوں کی زینت بنا ہوا تھا ہاتھ میں اسکے نام کی مہندی اب بھر پور رچی ہوئ تھی سونے پہ سہاگہ اسکا خوبصورتی میں مزید اضافہ اسکے بخار نے کردیا جسکی وجہ سے اسکا چہرہ لال انگارہ ہو رہا تھا ۔
ڈوپٹے سے بے نیاز وہ عثمان کے بلکل سامنے بیٹھی تھی ۔
عثمان نے اس اپسرا کو دیکھ کے بہت مشکل سے اپنے جزبات دبائے تھے۔۔
عثمان کی اس حرکت پہ مہناز نے ایک دم غصہ میں کہا۔
کیا مسئلہ ہے اب اب مان لی تمہاری بات اب کس بات کی زبردستی ہے۔۔
یہ بولتے بولتے مہناز رو پڑی۔
یہ رونا دھونا میری سامنے بند کرو شرافت سے کھانا کھا کے دوائ پیو۔۔
مجھے نہیں کھانا کچھ بھی جاؤ یہاں سے۔۔
یہ بول کے مہناز دوبارہ لیٹنے لگی جب دوبارہ عثمان نے اسے بیٹھایا۔۔
میری ایک دفعہ کی بات سمجھ نہیں آتی تمہیں مہناز کیا چاہتی ہو زبردستی کرو تمہارے ساتھ۔۔
عثمان نے اسکا منہ دبوچتے ہوئے کہا۔۔
میں نے نہیں کھانا نہ کچھ بھی۔۔
مہناز کے اس طرح بولنے پہ عثمان کو اس پہ بہت پیار آیا مگر فلحال اسے ابھی خالی اپنا غصہ دکھانا تھا تاکے وہ کھانا اور دوائ کھائے۔
صحیح نہیں ہوگا تو نکاح کیسا ہوگا ہماراسب مہمان آئینگے کل انکے سامنے تم اس حالت میں اوگی میں اپنی بے عزتی کروانا نہیں چاہتا ۔۔
شادی ہوجائے میری بلا سے پورا ایک مہینہ بستر پہ بیمار پڑی رہنا۔۔
عثمان کی باتیں سن کے مہناز اور رونے لگی۔۔
جب عثمان نے چپ چاپ کھانے کی ٹرے اٹھا کے اسکے سامنے رکھی اور اسے کھانے کا اشارہ کرا ۔۔
مہناز نے روتے روتے کھانا شروع کیا۔
عثمان اسے بھر پیار والے انداز میں دیکھ رہا تھا کسطرح سے وہ غصہ میں کھانا کھا رہی تھی عثمان کو بہت ہنسی آرہی تھی مگر فلحال اس نے اپنے آپ کو ابھی غصہ میں رکھنا تھا۔۔
یہ پوری پلیٹ ختم کرو۔۔
ہبشی نہیں ہو میں الٹی ہوجائے گی مجھے اگر زیادہ کھایا تو ۔۔۔
اچھا دوائ کھالو ۔۔۔
نہیں میں نہیں کھاونگی ۔۔
مجھے کھاوگییی؟؟
عثمان کی بات پہ مہناز نے اتنا سڑا ہوا منہ بنایا اور کہا۔م
باسی چیزیں میں نے کھانا چھوڑ دی ہے۔۔
خدا کا واسطہ ہے عثمان تمہاری شکل نہیں دیکھنی میں نے جان چھوڑ دو میری مان لی نہ بات میں نے تمہاری اب جاؤ ۔۔
مہناز کے لہجہ کی کرواہٹ دیکھ کے عثمان کا دل توٹا تھا مگر اس کو ابھی اس سے زیادہ فلحال برداشت کرنا تھا۔۔
اس نے مہناز کا دوائ دی اور خاموشی سے کمرے سے چلا گیا۔
مہناز نے ایک۔نظر اسے دیکھا اور سونے لیٹ گئ۔۔
نکاح نامہ پہ سائن کرتے ہی وہ بلک پڑی۔۔
عثمان کے برابر میں جب اسکو لاکے بیٹھایا گیا۔۔
عثمان اسکا حسن دیکھ کے دنگ رہ گیا۔
خوبصورتی میں آج وہ اپنی مثال اپ۔لگ رہی تھی۔۔
عثمان بھی بلیک شیروانی میں کمال لگ رہا تھا مگر آج وہ خوش بھی تھا اداس بھی اسکی پچپن کی ساتھی آج اسکی زندگی کی ساتھی مگر یہ ساتھ آگے کتنا مشکل ہوگا اس بات کا عثمان کو خوب اندازہ تھا۔
مہناز کے کہنے پہ زیادہ شور شرابا بارات میں نہیں رکھا گیا ۔۔
مہناز نے نکاح ہونے کے بعد ایک نظر بھی عثمان پہ نہیں ڈالی ورنہ عثمان شان محفل بنا ہوا تھا ۔۔
سادگی سی رخصتی کیساتھ وہ عثمان کے کمرے میں پہنچ گئ۔۔
سجے کمرے میں دلنشین نے جب اسے بیڈ پہ بیٹھایا تو کہا۔۔
عثمان نے بھلے تمہارے ساتھ بچپن میں غلط کرا مگر مہناز وہ تم سے کبھی غافل نہیں ہوا زندگی تمہاری یے۔۔
اسے سنبھال لینا مہناز ورنہ آب اگر وہ بکھرا تو اسے سمیٹنا بہت مشکل ہوگا۔۔
دلنشین بول کے جا چکی تھی مگر مہناز پہ کوئ اثر نہیں ہوا تھا۔۔
بیڈ پہ بیٹھے بیٹھے اسکا دل گھبرانے لگا ایسی ہی سجی سنوری وہ کھڑکی کے پاس اکے کھڑی ہوگی اور آسمان کو تکنے لگی۔
تکتے تکتے کب اسکی آنکھوں سے آنسوؤں نکلے اسے پتہ نہیں چلا۔۔
دروازہ کھلنے پہ اس نے گھوم کے دیکھا تو عثمان اپنا خلا اتار کے رکھ رہا تھا وہ ماہی کی طرف آیا تو ماہی بنا اسکی طرف دیکھے جانے لگی تبھی اسکا شرارہ پاؤں میں اٹکا اس سے پہلے وہ گرتی عثمان نے اسے کمر سے تھام لیا ۔۔
ہاتھ ہٹاؤ مجھے ضرورت نہیں تمہارے سہارے کی یہ بول کے مہناز جانے لگی تب عثمان نے کہاں ٹھیک ہے سہارے کہ ضرورت نہیں تو پھر اپنے کندھے پہ سے چھپکلی خودی ہٹا دو ۔
یہ بول کے عثمان نے اپنی ہنسی دبائ کیونکہ اسے پتہ تھا آگے کیا ہونے والا ہے۔۔
مانی مانی پلیز ہٹاؤ پلیز پلیز ماہی چیخ مارتے ہوئے عثمان کے سینے سے لگ کے اس سے اور چپکنے لگی۔۔
جاری ہے۔۔
