51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

جس نے بھری کلاس میں شیرنی بن کے عفان کا گال تھپڑ سے لال کردیا تھا۔اج ایسے سب کے سامنے عفان کی طبیعت پوچھنے میں ہچکچارہی تھی۔۔۔
عفان کی گہری گرے انکھوں کی چمک جو رابعہ کو دیکھ کے اجاگر ہوئ تھی وہاں کھڑے کسی نفوس سے چھپی نہیں تھی۔۔
سب نے رابعہ کو عفان تک جانے کا راستہ ایسا کلئیر کرکے دیا ہے جیسے رابعہ عفان کو بوکے دے کے اسکی طبیعت پوچھنے نہیں بلکے کسی ریاست کے توٹے پھوٹے شہزادے کو دوسری ریاست کی شہزادی تاج پہنانے جارہی ہو۔۔
پاس کھڑی عائشہ نے اپنے کلاس میٹ سے کہا۔۔۔
ہائے ویسے میں اور تم بھی کسی شہزادے شہزادی سے کم تھوڑی ہیں ۔۔
وسیم نے انکھ دبا کے عائشہ کے کان میں سرگوشی کی ۔۔
وسیم عائشہ کا منگیتر تھا اور بہت جلد وہ دونوں نکاح کے بندھن میں بندھنے والے تھے۔۔..
رابعہ نروس سی اگے بڑھی اور عفان کو بوکے دیتے ہوئے کہا۔۔
“اب کیسی طبیعت ہے اپکی۔۔؟؟
اللہ کا شکر ہے اب بہتر ہو ۔۔عفان نے رابعہ کی معصوم سی صورت کو اپنی نگاہوں میں بساتے ہوئے کہا۔۔۔۔
دونوں کے درمیان پھر خاموشی ہوگئ رابعہ گردن نیچے کرکے گودھ میں رکھے اپنے ہاتھوں کو گھورنے میں مصروف تھی اور عفان اسے تکنے میں ۔۔۔
وہاں کھڑا ہر نفوس ان دونوں کو دیکھ رہاتھا اس سے پہلے وسیم کچھ بولتا عفان کی ماما نوکر کیساتھ ان سب کیلیے کھانے کے کچھ لوازمات سے بھری ٹرالی لے کر اندر داخل ہوئ۔۔
ارے بچوں یہ لو اپ سب کیلیے۔۔
ارے انٹی ان سب کی کیا ضرورت تھی ہم تو بس عفان سے ملنے ائے تھے۔۔
وسیم کے کہنے پہ باقی سب بھی بول پڑے۔۔
ہاں انٹی اپنے خاماخائ میں اتنا تکلف کیا۔۔
ارے نہیں بچوں کہاں کچھ کیا۔۔۔عفان کی ماما نے مسکراکر بات ٹالی۔۔
ارے رابعہ تم بھی ائ ہو میں نے تو دیکھا نہیں واٹ ا پریزنٹ سرپرائز ۔۔
عفان کی ماما حیرانگی کیساتھ ساتھ اپنی خوشی کا بھی اظہار کیا رابعہ کو گلے لگا کے۔۔
پتہ ہے عفان اس بچی کے بلڈ سے تمہاری جان بچی ہے۔۔
اپنی ماما کی بات پہ عفان نے حیرانگی سے رابعہ کو دیکھا مگر رابعہ نے عفان کی طرف دیکھنے کی غلطی نہیں۔۔
عفان نے پاس کھڑے وسیم کو انکھوں سے کچھ اشارہ کیا جیسے سمجھ کے وسیم نے عفان کی ماما سے کہا۔۔
آنٹی آپ کو گھر تو بہت خوبصورت ہے ہے
تھینک یو بیٹا۔۔۔
آنٹی کیا ہم آپ کا گھر دیکھ سکتے ہیں ؟؟ کیوں نہیں بیٹا ضرور دیکھو ۔۔
عفان کے سارے دوست آنٹی کے پیچھے جانے لگے ۔۔۔
سارے اٹھ کے جانے لگے تو رابعہ کو عفان کے کمرے میں اکیلے بیٹھنا عجیب لگا وہ بھی اٹھ کے جانے لگی تو عفان نے دھیرے سے کہا کہ آپ نا جائے مجھے آپ سے بات کرنی ہے بہت ضروری پلیز منع مت کریے گا۔
۔۔ عفان کے روکنے سے رابعہ رک تو گئ مگراس کو بہت عجیب لگ رہا تھا عفان کے ساتھ ایسا اکیلے کمرے میں بیٹھنا رابعہ نروس سی اپنے ا ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں مروڑ رہی تھی جب عفان نے کہا آپ نے مجھے بلڈ دیے کے میری زندگی بچائی ہے لیکن میں کیا آپ سے جان سکتا ہوں آپ نے میری زندگی کیوں بچاۓ جب کہ آپ نے ہی کہا تھا کے میری طرف سے بھاڑ میں جاؤ ۔۔
۔عفان کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ رابعہ کو اپنے کہے ہوئے الفاظوں پہ شرمندگی ہونے لگی اس نے عفان سے کہا میں غصہ میں تھی میرا ہرگز مطلب یہ نہیں تھا کے اپ مرجائے۔۔
زندگی اللہ کی امانت ہے ہمیں اس طرح سے اس کو ضائع نہیں کرنا چاہیے آپ سے غصہ میں کہا تھا وہ بھی اپکی دھمکی پر لیکن میرا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کے میں چاہتی ہوں کہ آپ مرجائے میں کون ہوتی ہوں آپ کی ماں باپ سے آپ کو چھیننے والی آپ کی غلطی ایسی تھی کہ مجھے غصہ آگیا اور میںرا غصہ کرنا بنتا بھی تھا۔۔
آخر کی بات رابعہ نے اتنے سرے ہوئے منہ بنا کے کہی عفان کی آنکھوں میں دیکھ کے کے عفان کی ہنسی نکل گئی۔۔
اچھا چلیں نا آپ کا غصہ ہوگیا مجھے بھی سزا مل گئی اب تو معاف کر دیں اب تم ہم دوست بن سکتے ہیں میں اتنا برا بھی نہیں ہوں چاہے تو آزما لیں عفان کا وعدہ ہے آپ سے کبھی آپ کی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دوں گا پلیز ایک دفعہ معاف کر کے تو دیکھیں اور ویسے بھی آپ کا احسان ہے مجھ پر آپ نے میری جان بچائی ہے مجھے بھی موقع دیں یہ ثابت کرنے کے لئے کہ میں واقع میں شرمندہ ہوں اپنی غلطی پر۔
۔۔ چلے دیا آپ کو موقع لیکن وعدہ کریں آئندہ کبھی میرے ساتھ ایسا مذاق نہیں کرینگے مجھے چپھکلی سے باقی جانوروں سے جو دیواروں پہ چلتے ہیں بہت ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔
اوہ ٹھینک کیو رابعہ اپنے میری دوستی قبول کرلی سچ میں ائندہ کبھی نہیں کرونگا ایسا مزاق اور ویسے بھی اپکا تھپڑ مجھے اج تک یاد ہے عفان کے کہنے پہ رابعہ نے گھور کے عفان کو دیکھا اور پھر دونوں کا قہقہ گونجا۔۔۔
دن ہفتوں میں ہفتے مہینوں میں بدلنے لگےعفان رابعہ کی دوستی عروج پر چلنے لگیں مگر ابھی تک رابعہ کی طرف سے یہ صرف دوستی تھی لیکن عفان دوستی کی حدود سے بہت اگے نکل گیا تھا وہ رابعہ سے بے پناہ محبت کرنے لگا تھا اور رابعہ بھی بہت اچھے سے جانتی تھی کہ عفان کی آنکھوں کا پیغام مگر فی الحال رابعہ محبت نامی چیز میں پڑھنا نہیں چاہتی تھی اس کے پاپا نے اس پر بہت بھروسہ کر کے یہاں پڑھنے بھیجا تھا ۔ ایسا نہیں تھا کہ رابعہ کے والد بہت سخت قسم کے تھے مگر فی الحال وہ اپنی پڑھائی پہ فوکس کرنا چاہتی تھی اور وہ جانتی تھی کہ وہ اپنے بابا سے کوئی بھی خواہش کریں گی تو اس کے بابا اس کے ہر خواہش پوری کریں گے ۔۔
مگر کچھ ایسا ہوا کے رابعہ کو عفان کی محبت کو ٹھکرانا پڑا۔۔
یونیورسٹی کی فیورل پارٹی کے رات عفان نے سب کے سامنے رابعہ سے اظہار محبت کرا مگر رابعہ نے عفان سے دو دن کا وقت مانگا سوچنے کے لئے اور عفان نے اسے خوشی خوشی رابعہ کو دو دن کا وقت دیا کیونکہ وہ جانتا تھا کے رابعہ بھی اس سے محبت کرتی ہے مگر بس کہنے سے ہچکچارہی ہے ۔۔
پوری رات رابعہ خوش تھی وہ فیصلہ کرچکی تھی کے وہ۔عفان کو ہاں میں جواب دے گی مگر ہم جو چاہے ضروری نہیں وہ ہو
۔۔
صبح صبح رابعہ نے اپنے بھائی کو ہاسٹل میں دیکھا تو اسے کچھ شبہ ہوا کہ گھر میں سب ٹھیک ہے یہ نہیں ہے گھر پہنچی تو اس کے پاپا کی حالت بہت خراب تھی اسکے پاپا کی بیماری کو مد نظر رکھتے ہوئے رابعہ نے اپنی محبت کا گلا گھونٹا اور اپنے پاپا کے بتائے رشتہ کیلیے حامی بھر دی کیونکہ ڈاکٹروں نے اسکے پاپا کو جواب دے دیا تھا انکو بلڈ کینسر تھا رابعہ کے پاپا نے گھر میں سب سے یہ بات چھپائ تھی مگر جب انکی کنڈیشن زیادہ بگڑی تب ان کو سب کو بتانا پڑا۔۔
باپ کا بھرم رکھتے ہوئے رابعہ نے منگنی کرلی اور ایک ماہ بعد اسکی شادی ڈیسائیڈ ہوگی۔۔
رابعہ ایک۔اخر بار سب سےملنے یونی ائی مگر عفان سے سب سے لاسٹ میں ملی۔۔
عفان اس سے خوب لڑا جھگڑا مگر رابعہ خاموش رہی مگر جب اس نے عفان کو نہ میں جواب دیا تو عفان پہلے سمجھا وہ۔مزاق کرہی ہے مگر جب اس نے اسے اپنی منگنی کا بتایا تو وہ تڑپا رابعہ کے اگے اسکی بہت منتیں کی۔کے ایک بار وہ اسے اسکے فادر سے ملوادے مگر رابعہ نے کسی پتھر کی طرح اسے منع کردیا اور وہاں سے چلی گی ۔۔
(ماضی ختم)
فجر کی اذانیں کب شروع ہوئ عفان کو پتہ چلا ہی نہیں ماضی کے خیالوں سے باہر اکے عفان نے اپنی انکھوں سے بہتے ہوئے انسووں کو صاف کیا اور جھک کے رابعہ کو دیکھتے ہ ہوئے کہا۔۔
اپنی ہر اذیت ہر انسو ہر تڑپنے کا بدلہ میں تم سے لونگا شنے بس ایک بار تم میری ہوجاو ایک بار تم نے بنا بتائے میری دنیا ہلائ تھی اب میری باری زلزلوں کی ذد میں اگر تمہاری دنیا نہ لایا تو میرا نام کیپٹن عفان خان نہیں۔۔
عفان نے دھیرے سے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور ہسپتال سے نکل کے عمر کو کال کی۔۔۔
جاری ہے۔۔