Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 10
Rate this Novel
Episode 10
جنت کا رو رو کے برا حال تھا ۔اقراء کیلیے عثمان کو سنبھالنا مشکل ہوتا جارہا تھا ایک سیکنڈ کیلیے بھی وہ بچہ ائ سی یو کے گیٹ کے اگے سے ہٹا نہیں تھا۔۔
عفان کے کہنے پہ عمر کے چہرے پہ ایک پل کیلیے خوشی سے دمکا اور اس نے کہا۔
ارے ہاں میں تو بھول ہی گیا تیرا بھی تو بلڈ گروپ سیم ہے۔
دونوں ہسپتال کے اندر پہنچے سامنے ہی اسے جنت روتے ہوئے نظر ائ جنت جو عمر کو کال کررہی تھی عمر کو سامنے سے اتا دیکھ تیزی سے اسکی طرف لپکی عفان پہ اسکی نظر نہیں پڑی جبھی بول پڑی۔۔۔
عمر کب سے کال کررہی ہو تمہیں بتایا تھا نہ کے رابعہ کی حالت بہت خراب ہے اسے بلڈ کی ضرورت ہے۔۔
عفان اپنی سوچوں میں غرق تھا جبھی وہ جنت کی باتوں پہ غور نہیں کرپایا ورنہ شاید اج اسے جھٹکا ضرور لگتا۔۔
ارے ارے جنت ریلکس یہ دیکھو عفان ایا ہے ساتھ اسکا بلڈ سیم ہے یہ بلڈ دے رہا ہے رابعہ کو ۔۔
عمر کی بات پہ جنت نے عمر کے پیچھے کھڑے عفان کو دیکھا اور کہا۔۔
اوہ عفان کیسے ہو ؟
تمہیں دیکھا نہیں میں نے پریشانی میں۔۔
جنت کے معزرت پہ عفان مسکرایا اور کہا۔۔
سمجھ سکتا ہو بھابھی اپ پریشان نہ ہو وہ ٹھیک ہوجائینگی..,
عثمان جو اقراء سے لگ کے رورہا تھا عفان کی بات سن کے ڈورتا ہوا عفان کے روبرو اکے کھڑا ہوا اور اس سے لگتے ہوئے کہا۔
عفان جو عمر کیساتھ بلڈ دینے جارہا تھا عثمان کی اس حرکت پہ ایک دم بوکھلا گیا
وہاں کھڑا ہر نفوس عثمان کی اس حرکت پہ حیران پریشان تھا جب عثمان نے عفان سے الگ ہوتے ہوئے روتے ہوئے کہا۔۔
انکل اپ میری ماما کو بلڈ دینگے نہ؟؟
میری ماما ٹھیک ہوجائینگی نہ؟
عثمان کے سوال پہ جنت اور اقراء ایک بار پھر رونے لگی عمر کا دل بھی عجیب سا ہوگیا۔۔
عفان کو عثمان کی بات سن کے ایسا لگا جیسے اسکا دل کسی ںے مٹھی میں لے لیا۔۔
عفان نے فورا اس بچے کو اپنے سینے سے لگایا اور کہا بیٹا مجھ پہ نہیں اللہ پر بھروسہ کرو۔۔
آپ کی مما بہت جلدی ٹھیک ہوجائیں گی اس نے بہت مشکل سے اپنے آنسو روکے اور کھڑے ہوکر عمر سے کہا ۔۔۔
چلو ۔۔۔
عثمان اقرا جنت سبھی باہر کھڑے انتظار کر رہے تھے ۔
عفان کو جب بلڈ ڈونیٹ کرنے کے لیے بیڈ پہ لیٹایا گیا تو ایک بھولی بسری یاد اس کے دماغ میں آگئی ۔
ماضی کو یاد کر کے ایک زخمی مسکراہٹ اسکے لبوں پہ آئی۔۔
عفان بلڈ دے کے باہر ایا تو ایک بار پھر عثمان تیزی سے اسکی طرف لپکا اور کہا۔۔
انکل انکل اب ٹھیک ہوجائے گی نہ میری ماما؟؟
اپ نے اللہ سے دعا کی اپنی ماما کیلیے ؟؟
عفان کے پوچھنے پہ عثمان نے نفی میں گردن ہلائ۔۔
اچھا چلو او نماز پڑھنے چلتے ہیں وہاں اپ اپنی ماما کیلیے دعا کرنا۔۔
عفان کے کہنے پہ وہاں کھڑے ہر نفوس نے یہ منظر بہت دلچسپی سے دیکھا ۔
ٹھیک ہے انکل چلے عثمان عفان کیساتھ نماز پڑھنے گیا ۔
جب عمر نے جنت سے کہا۔
جنت اب تمہیں گھر جانا چاہیے بگ بی کی کئ کالز اچکی ہیں۔۔
ہاں بھابھی اپ گھر جائے میں اور عمر ہیں یہاں۔۔
اقراء نے بھی عمر کی بات پہ اپنی رضامندی ظاہر کرکے کہا۔۔۔
بھابھی نہیں تم بھی گھر جارہی ہوں میں ہوں یہاں پر عثمان کے ساتھ ۔
عمر نے اقراء کو انکھیں دیکھاتے ہوئے کہا۔۔
عمر تم اکیلے کیسے سنبھالو گے عثمان کو تمہیں پتا ہے وہ بچہ بار بار رو رہا ہے اپنی ماں کی حالت دیکھ کے جنت نے فکر مندی سے کہا۔۔
پریشان نہیں ہو جنت ۔۔
تم نے دیکھا ہے نہ عثمان عفان کیساتھ کافی فرینک ہو گیا ہے۔ اچھا ہے وہ دونوں ایک دوسرے کو جتنا قریب سے جاننے اور بہتر ہے تم پریشان نہیں ہوں کوئی مسئلہ ہوا تو تمہیں کال کرکے بلا لونگا ابھی تم جاؤ اقراء کے ساتھ گھر بگ بی کئی بار بار کال کرچکے ہیں سارے بچے بھی گھر میں انتظار کر رہے ہیں ۔۔
اور تم جاؤ گی تو دل نشین یہاں آنے کی ضد چھوڑے گی
اس نے مجھ سے جاتے جاتے کہا تھا کہ ڈیڈو اپ جلدی لے انا عثمان اور انٹی کو۔۔۔
اوکے میں اور اقراء جارہے ہیں کوئ بھی بات ہو مجھے بتانا لازمی۔۔۔
اوکے اب تم جاکے لازمی ارام کرنا اور اقراء تم بھی فضول کے کاموں میں نہیں لگ جانا۔۔
اقراء اور جنت کے جاتے ہی عمر نے حمزہ کی کال اٹھاکے اسے ساری صورتحال سے اگاہ کردیا کچھ دیر بعد عفان اور عثمان بھی نماز پڑھ کے اچکے تھے۔۔
ایک گھنٹے بعد ڈاکٹر نے ان لوگوں کو اکے بتایا کے پیشنٹ کو ہوش اگیا ہے۔۔
ڈاکٹر کی بات سنتے ہی عثمان ڈورتا ہوا ICU کے کمرے میں پہنچا اور عمر بھی اسکے پیچھے جانے لگا مگر عفان اس نے مناسب نہیں سمجھا جانا ۔۔
ارے عفان تم نہیں ارہے ؟؟
عمر نے عفان کو وہی بیٹھا دیکھا تو بول پڑا۔
نہیں یار اچھا نہیں لگ رہا ایسے جانا تم جاو میں باہر ہی کھڑا ہوجاونگا ۔۔
عفان کی بات پہ عمر نے مسکرا کے ہاں میں گردن ہلائ اورICU کی طرف بڑھا ۔۔
رابعہ عمر کی بہت عزت کرتی تھی اسے اپنے بڑے بھائ کا درجہ دیتی تھی عمر نے کئ بار بنا کیسی کو بتائے رابعہ کی مالی مدد کی تھی عثمان کی اسکول کی فیس بھی وہ کئ بار بھر دیتا تھا۔۔
عثمان کو دیکھ کے رابعہ جو مشینوں میں جکڑی تھی بلک بلک کے رو پڑی عثمان نے اپنی ماما کے انسووں صاف کیے اور اسکے سینے سے لگ گیا۔
عمر کو دیکھ کےرابعہ نگاہیں جھکا گئ کیوں کے وہ اس حالت میں تھی کے عمر کو بھی اچھا نہیں لگا ایسے روم میں کھڑے رہنا وہ عثمان کو وہی چھوڑ کے کمرے سے باہر نکلنے لگا جب وہ عفان سے ٹکراتے ٹکراتے بچا ۔۔
عفان ساکن وجود کیساتھ کمرے کے اندر کا منظر دیکھا رہا ۔عمر کو عفان کی حالت کچھ عجیب لگی مگر اصل اسے حیرانی کا جھٹکا تب لگا جب اسنے عفان کی انکھوں سے گرتے انسووں دیکھے ۔۔
عمر نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور عفان سے پوچھا ۔
کیا ہوا عفان تم ٹھیک ہو؟
عفان نے ناسمجھی کی حالت میں پہلے عمر کو دیکھا اور پھر کمرے کے اس پار دیکھ کے دھیرے سے کہا۔۔۔
“شننے”
جاری ہے۔۔
۔
See translation
