Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 17
Rate this Novel
Episode 17
عفان ا کا چہرہ دیکھ کے رابعہ کے دماغ میں حمزہ کی ساری باتیں گونجنے لگی اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کی زندگی ایسے موڑ پر لے کے آئے گی کہ اسکی زندگی میں عفان دوبارہ شامل ہو گا وہ جو عفان کے ساتھ کر کے آ گئی تھی اتنا اندازہ رابعہ کو تھا کہ اتنی جلدی اسے اعغان سے معافی نہیں ملی گی مگر وہ خوش تھی کہ عفن کا عثمان کے ساتھ رویہ بہت اچھا ہے۔
دلنشین ہر پل عثمان کیساتھ تھی ۔ گھر کے سارے بچوں کی کافی اچھی بانڈنگ ہوگئی تھی عثمان کے ساتھ۔۔
نکاح کی تقریب ن تقریبا رات میں نبٹی اور کل 1بجے تک عفان کو واپس جانا تھا ایک ہفتے بعد اسے ایک بہت امپورٹڈ مشن پہ نکلنا تھا۔۔۔۔
رات بھر رابعہ نے عفان کا سامنا نہیں کیا وہ عثمان کے ساتھ ہی رہی اور عفان بھی یہی چاہتا تھا تھا اس کا اور رابعہ کا اکیلے میں اامنہ سامنا فلحال عمر کے گھر میں نہیں ہو۔۔
ناشتے کی ٹیبل پر سب نہیں عفان اور عثمان کی بوندنگ دیکھ سب خوش تھے۔ عفان عثمان کو کسی چھوٹے بچے کی طرح ٹریٹ کررہا تھا۔رابعہ عثمان کو اتنا خوش اج پہلی بار دیکھ رہی تھی ۔وہ دونوں کو دیکھ رہی تھی جب اچانک عفان نگاہ اٹھا کے رابعہ کو دیکھا تو وہ نگاہیں جھکا گئ ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کے وہ بہت خوش تھی۔ افغان اور عثمان کو دیکھ کے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ ان دونوں کے درمیان سوتیلے باپ بیٹے کا رشتہ ہے حمزہ عمر اپنے فیصلے پر بہت خوش تھے ۔۔
دلنشیںن اور عثمان اپنے اسکول گئے تھے عثمان یہاں سے جانے سے پہلے اپنے پرانے دوستوں سے مل کر جانا چاہتا تھا۔۔
ادھر عفان عمر کیساتھ لان میں بیٹھا تھا۔۔
رابعہ اپنے کمرے میں بیٹھی عثمان کے لوٹنے کا انتظار کررہی تھی کیونکہ سامان تو کچھ تھا نہیں جو وہ پیک کرتی مگر حمزہ اور عمر نے اسے کافی کچھ دیا تھا بینک بیلنس کی صورت میں عفان کے منع کرنے کے باوجود
جنت اور اقراء رابعہ کے کمرے میں پہنچے تو وہ چپ چاپ کھڑکی پہ کھڑی تھی دروازے کی ناک پہ پلٹ کے دیکھا تو جنت اور اقراء کو دیکھ کے کہا۔۔
ارے ائیے بھابھی مجھے بلا لیتی کوئ۔کام تھا اپکو؟؟
نہیں وہ اصل میں اور بھابھی تم سے کچھ بات کرنے ائے ہیں۔۔
اقراء نے ایک نظر جنت کو دیکھ کے کہا۔۔
کیا بات کرنی ہے اپ دونوں نے بلا جھجک کہے۔۔۔
رابعہ ہمیں بلکل بھی غلط نہیں سمجھنا تم ہمارے لیے ہماری چھوٹی بہنوں کی طرح ہو عمر نے تمہارے اور عفان کے بارے میں ہمیں سب کچھ بتادیا تھا انفیکٹ عفان نے ہی سب کو منع کیا تھا کے تمہیں کچھ نہیں بتایا جائے اسکے بارے میں یہاں تک اسکا اصل نام بھی
جو ہوا رابعہ ماضی میں اسے ماضی ہی رہنا دینا عفان اگر غصہ کرے یہ کچھ اور کہے تو ضبط کرنا ۔۔بہت کم کسی کو دوبارہ محبت ملتی ہے۔۔۔
جانتی ہو بھابھی میں جو عفان کیساتھ کرچکی اسکی معافی مجھے اتنی اسانی سے نہیں ملے گی ۔۔
مگر بھابھی اکثر باپ کی عزت رکھنے والی بیٹی محبت میں بے وفا کہلاتی ہے ۔۔
رابعہ کے اس جواب نے جنت اور اقراء دونوں کو لاجواب کردیا۔۔
دلنشن اور عثمان اپنے اسکول پہنچے اور سب سے ملے ٹیچروں کو بھی بہت افسوس تھا کے عثمان کے اسکول چھوڑنے کا کیونکہ وہ ہونہار طالبعلم تھا تقریبا سب سے ہی عثمان ملا مگر دلنشین یہ جانتے ہوئے بھی کے مہناز کب سے انکے پیچھے ہے وہ بھی صرف اس لیے کے عثمان اس سے ایک بار ملے مگر عثمان تو جیسے پتھر کا بنا ہوا تھا اور جو کچھ عثمان بتا چکا تھا مہناز کی ماما کے بارے میں جو وہ اسکی ماما کیساتھ کرچکی تھی دلنشین کی چاہ کر بھی یہ ہمت نہیں ہوئ کے وہ عثمان سے بولے کے مہناز سے بھی مل لو۔۔
عثمان اور دلنشین جب سب سے مل کے کار میں بیٹھنے لگے جب مہناز نے مجبور ہوکے پیچھے سے اواز دی ۔۔
ایک منٹ عثمان کیا مجھ سے مل کر نہیں جاوگے۔۔؟؟
مہناز کے بولنے پہ عثمان بت بنا کھڑا رہا مہناز اسکے قریب اکے اسکے روبرو کھڑی ہوئ ۔۔
عثمان نے جس نگاہوں سے مہناز کو دیکھا وہ۔نظریں چرا گئ۔۔
مجھ سے نہیں مل کے جاوگے عثمان؟؟
کیوں تم ہو کون جو تم سے مل کر جاو۔۔عثمان کے جواب پہ مہناز کی انکھیں بھیگنے لگی اس نے ایک نظر دلنشین کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی اور ایک نظر عثمںان کو اور کہا۔
جو کچھ ہوا اس میں میرا قصور تو نہیں ہم تو دوست ہیں نہ تو جب تم اپنے سارے دوستوں سے مل کر جارہے ہو تو مجھ سے کیوں نہیں؟؟
پہلی بات ہم دوست تھے نہیں ہیں دوسری بات جسی ماں ویسی بیٹی تم بھی تو مامی کی بیٹی ہو اج نہیں کل نہیں انکی بولی بولوگی مگر اب میں کسی کو اتنا حق نہیں دونگا میرا اور تمہارا ہر رشتہ ہر تعلق یہی ختم تم بھی اپنی ماں جیسی ہوگی مجھے نفرت تمہارے باپ سے تمہاری ماں سے اور تم۔سمیٹ تمہارے ہر گھر والوں سے ۔
یہ کہہ کے عثمان گاڑی میں بیٹھ گیا دلنشیںن چاہ کر بھی مہناز کیلیے کچھ نہیں کر پائ اور خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئ گاڑی کے جاتے ہی مہناز کے چند انسووں اسکے گال پہ پھسلے جنہیں اس نے صاف نہیں کیے اور خاموشی سے دور جاتی گاڑی کو دیکھنے لگی۔۔۔
جاری ہے۔۔
