Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 41
Rate this Novel
Episode 41
دلنشین جب ہسپتال کے کوریڈور میں پہنچی تو وہاں تقریبا سارا خاندان جمع تھا ۔
دلنشین کو ڈھیروں شرمندگی آن گھیرا ۔۔
عمر شاید اس سے ناراض تھا اس نے دلنشین کو دیکھتے ہی رخ موڑ لیا مگر حمزہ نے آگے بڑھ کر دلنشین کے سے کہا۔۔
ماما کو ابھی تک ہوش نہیں آیا ہے دلنشین۔۔۔
یہ بولتے ہوئے حمزہ کی آواز رندھ گئ۔۔
دلنشین تیزی سے حمزہ کے سینے سے لگ کے بلک بلک کے روپڑی ۔۔۔
پاپا مجھے نہیں پتہ تھا ماما اتنا ہرٹ ہوجا ئیں گی میری باتوں سے آپ تو جانتے ہیں نہ میں ماما سے کتنا پیار کرتی ہو۔۔
ہاں میری جان مجھے پتہ ہے آپ پلیز رونا بند کرو ادھر دیکھو میری طرف آپ جاؤ ماما کے پاس انکو بولو ہوش میں آئے ورنہ پاپا کو کچھ ہوجائے گا آپ بولو گی نہ ماما کو ؟؟
حمزہ اور دلنشین کو ایسا دیکھ کے وہاں کھڑا ہر نفوس غمزدہ تھا اقراء اور تاشہ کو بھی رو رو کر برا حال تھا۔۔
مجھے نہیں یاد زریاب میں نے اس لڑکی کو ایسے پہلے کب روتے دیکھا۔۔۔
عثمان جو زریاب اور احسان کیساتھ کھڑا تھا دلنشین کو ایسا روتا دیکھ اسکا دل بھی عجیب ہورہا تھا سانس اور ڈھرکن کی طرح کا ساتھ تھا ان دونوں کا بچپن سے وہ دونوں ساتھ تھے اس نے کبھی عثمان کو مایوس ہونے نہیں رونا تو دور کی بات ہے۔۔۔
عثمان ہم سب جانتے ہیں تایو اور دلنشین دونوں ہی ایک دوسرے سے بہت محبت کرتی ہیں مگر انکے درمیان ہمیشہ آنا کی دیوار رہی شاید آج یہ دیوار گر جائے۔۔
زریاب نے کندھے آچکا کے کہا۔۔
اور وجہ تم ہوگے ۔۔
عثمان کے کہنے پہ زریاب نے ہاں میں گردن ہلائ
!!!!¡!
دلنشین روم میں داخل ہوئ تو جنت کو مشینوں میں جکڑا پایا ایک بار پھر وہ رونے لگی دھیرے دھیرے وہ جنت کے پاس پہنچی مگر اسکے آنسوؤں تھے کے تھمنے کا نام ہی نہیں کے رہے تھے۔۔
دلنشین نے جنت کا ہاتھ دھیرے سے اپنے ہاتھ میں لیا اور لبوں سے لگا کے کہا۔۔
مجھے معاف کردے میں بہت بری بیٹی ہو پلیز ماما ہوش میں اجائے۔
میں زریاب سے شادی کرنے کیلیے تیار ہو آپ جیسا بولینگی میں ویسا کرونگی پلیز ماما میری خاطر نہ صحیح پاپا کیلیے تاشہ تیمور کیلیے ہوش میں اجائے پلیز ماما میری بدتمیزی کی سزا ان دونوں کا نہ دیں پلیز ماما میں آپ سے بہت پیار کرتی ہو۔پلیز ماما ہوش میں اجائے۔۔
دلنشین روتے روتے تیزی سے روم سے نکل کے ہسپتال سے ہی چلی گئ عثمان بھی فورا اسکے پیچھے گیا۔۔
دلنشین کے باہر نکلتے ہی حمزہ اور عمر کمرے میں گئے تو جنت ہوش میں تھی
دلنشین کہاں گئ؟؟
جنت نے بہت آہستہ سے پوچھا ۔۔۔۔
وہ گھر گئ ہے بہنا تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ گھر میں تمہاری راہ دیکھ رہی ہے وہ۔۔۔۔
حمزہ نے ایک لفظ بھی جنت سے نہیں کہا وہ بس خاموش تھا جنت نے بہت غور سے حمزہ کا چہرہ دیکھا بہت افسردگی تھی اسکے چہرے پہ جنت نے حمزہ سے کہا۔۔
مجھے گھر جانا ہے حمزہ۔۔۔
ابھی شام تک ڈاکٹر ڈسچارج کرینگے تمہیں سکون سے لیتی رہو۔
تھوڑی دیر میں نرس نے جنت کو نیند کا انجیکشن لگاکے انہیں آرام کرنے کو کہہ کے حمزہ اور عمر کو روم سے جانے کو کہا۔۔
!!!!!!!
دلنشین۔ پورے راستے خاموش رہی اور عثمان کو اسکی خاموشی بہت کھٹک رہی تھی کبھی اسکا موڈ فریش کرنے کیلیے عثمان بول پڑا۔۔
ویسے ایک بات ہے دلنشین تم روتے ہوئے بہت ہی بری چڑیل لگتی ہو جیسے دو سو سال پرانی۔۔۔
عثمان کے مزاق کے باوجود دلنشین خاموش رہی ۔۔۔
عثمان نے ایک لمبی سانس لی اور کہا۔۔
دلنشین تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہے یہی بہت ہے یار آنٹی بلکل ٹھیک ہو جائینگی ۔۔
عثمان میں نے ماما کو بہت ہرٹ کیا اور تمہیں پتہ ہے بڈی بھی مجھ سے ناراض ہیں۔۔
دیکھو دلنشین آنٹی کو تم نے واقعی بہت ہرٹ کیا مگر اب سب کچھ تمہیں سنبھالنا ہے دلنشین مجھے پتہ ہے زریاب تمہیں برا نہیں لگتا بس تمہارے والدین اسے تم سے زیادہ اٹینشن دیتے ہیں اس وجہ سے تم اسے خار کھاتی ہو ۔
زریاب تم سے بہت محبت کرتا ہے دلنشین ۔۔۔
عثمان کی بات پہ دلنشین نے گردن اٹھا کے عثمان کو دیکھا۔۔
اب تم مجھ سے یہ مت پوچھنا کے تمہیں کیسے پتہ؟؟
پلیز۔۔۔۔۔
چاہے جانے کا احساس بہت انوکھا اور خوبصورت ہوتا ہے دلنشین زریاب کو اپنا شریک حیات اس لیے نہیں بنانا کے تمہاری ماما۔کی خواہش ہے یہ پھر تمہارے انکار سے عمر انکل ہرٹ ہونگے۔۔
کسی کی خوشی کیلیے نہیں اپنی خوشی کیلیے سوچو
کیا تمہاری خوشی ہے زریاب کیساتھ ۔
۔میرا اگر تم مشورہ مانگو گی تو میرا ووٹ صرف زریاب کیلیے ہے ۔۔
عثمان کی باتوں پہ دلنشین سوچنے پہ مجبور ہوچکی تھی اور یہ سچ تھا بظاہر زریاب سے اسے ایک یہی پروابلم تھی۔۔
ابھی بتاؤ گھر چھوڑو تمہیں؟؟کیونکہ مجھے گھر جانا ہے ضروری کام سے۔۔۔
ہاں تم۔گھر چھوڑو مجھے۔۔۔
اوکے ۔۔۔
دلنشین گاڑی سے اتری پھر پلٹ کے عثمان سے کہا ۔
تمہارے گھر پہ جو ضروری کام ہے نہ اسے کہنا میں کل آؤنگی اسکے ہاتھ کی بریانی کھانے۔۔۔
دلنشین تیزی سے گھر کے اندر چلی گئ ۔۔
عثمان نے جب اسکے لفظوں پہ غور کیا تو صرف افسوس سے گردن ہلا۔کے کہا۔۔۔
پکی کمینی ہے یہ ڈائن۔۔۔۔
!!!!!!!!!!
جنت کے گھر آتے ہی سب اسکی آؤ بھگت میں لگ گئے جسمیں دلنشین بھی شامل تھی ۔۔
ماں بیٹی ایک دوسرے کے گلے لگ کے خوب روئ انکے درمیان موجود آنا کی دیوار گر چکی تھی ۔۔
حمزہ کیلیے یہی لمحہ پرسکون تھا کے اسکی جان اور جان سے عزیز ایک ہوگئ تھی۔۔
دلنشین کے ہاتھ کا سوپ پی کے جنت تعریف کیے بنا نہ رہ سکی۔۔۔
ماما میں زریاب سے شادی کیلیے تیار ہو۔۔
دلنشین کوئ زبردستی نہیں ہے بیٹا ہر انسان کو اپنی زندگی اپنی پسند کے سے گزرانے کا پورا حق ہے تم سوچ کے سمجھ کے فیصلہ۔کرنا مجھے میری بیٹی۔مل گئ ہمارے درمیاں سب کچھ ٹھیک ہوگیا میرے لیے یہ ہی بہت ہے۔۔۔
جی ماما۔۔۔
دلنشین۔ کو گئے ابھی پانچ منٹ ہوئے تھے کے حمزہ کمرے میں آیا روم۔کا درازہ۔لاکڈ کرکے جنت کے سامنے آکے بیٹھ گیا ۔۔
میرا خیال نہیں آیا تمہں جان حمزہ۔۔۔
یہ بول۔کے حمزہ نے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور اسے سینے سے لگا لیا ۔۔
میں بہت ڈر گیا تھا جنت اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو میں بھی ۔
نہیں حمزہ ایسی باتیں منہ سے نہیں نکالے جنت نے فورا اسکے منہ پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔۔
ہمیں جینا ہے حمزہ ہمارے بچوں کیلیے۔۔۔۔
حمزہ نے اسکے ہاتھ کو چوما اور دوبارہ اسے سینے سے لگالیا۔۔
!!!!!!!!!
عمر کے کمرے کا دروازہ بجانے کے بعد دلنشین ویٹ کرنے لگی دروازہ کھولنے کا ۔۔
اقراء نے دروازہ کھولا تو دلنشین کو گردن جھکا کے کھڑا پایا۔۔
وہ اقراء چاچی بڈی۔۔
ہاں اندر ہیں صبح سے میری درگت بنائی ہوئی ہے ناراض وہ تم سے ہیں پس میں رہی ہو۔۔
ویسے دلنشین ناراض تو میں بھی تم سے ہو مگر ایک بات پہ میں ماں سکتی ہو ۔۔
سوری چاچی مجھے معاف کردے آپ بولے میں آپکی ہر بات مانوگی۔۔
اوکے تو کل لزانیہ ڈن۔۔
ڈن چاچی۔۔
خوش رہو بیٹا اب سنبھالو بڑے میاں کو۔۔۔
اقراء کمرے سے باہر چلی گئ دلنشین کمرے میں آئ تو عمر جو کمرے میں موجود آنکھیں بند کرکے لیٹا تھا کمرے میں کسی کی موجود محسوس کرکے آنکھیں کھولیں تو دلنشین کو دیکھ کے پاس رکھی کتاب اٹھا کے پڑھنے لگا۔۔
دلنشین دھیرے سے عمر کے پاس اکے بیٹھی اور کہا۔۔
بڈی ویسے الٹی کتاب پڑھنا بھی اور اسے سمجھنا بھی ایک نایاب ٹیلینٹ ہے۔۔
جاری ہے۔۔۔
