Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 13
Rate this Novel
Episode 13
عفان کو تھپڑ پڑتے ہی پوری کلاس جیسے سناٹے میں اگئ۔۔
عفان نے ایک نظر اپنے گریبان کو دیکھا جو رابعہ کے ہاتھوں میں تھا اور ایک نظر اس نے رابعہ کے چہرے پہ ڈالی جہاں انسووں کیساتھ ساتھ غصہ بھی تھا۔۔
رابعہ نے اسکے گریبان کو اور مضبوطی سے تھام کے چیخ کے کہا۔۔
سمجھتے کیا ہو خود کو ؟
ہو کیا چیز تم ؟
تمہیں حق کس نے دیا کسی کا مذاق اڑانے کا کسی کو تذیل کرنے کا تمہاری ہمت کیسے ہوئ میرے ساتھ اس قسم کا مذاق کرنے کی۔
ہوں گے تم کسی امیر باپ کے بیٹے ڈرتی ہو گی پوری یونی تم سے مگر مجھ سے اس قسم کی امید مت رکھنا میں کسی سے نہیں ڈرتی سوائے اللہ کی ذات کے یہاں میں پڑھنے آئی ہوں اور آئندہ کوشش کرنا کہ میرا تمہارا سامنا نہ ہو ورنہ تمہارا منہ توڑ کے رکھ دونگی ۔
ایک جھٹکے سے رابعہ نے عفان کا گریبان چھوڑا اور پوری کلاس کی طرف مڑکے غصے سے کہا ۔۔
شرم آنی چاہیے آپ سب کو کسی کا ایسا مذاق اڑاتے ہوئے کسی کی تذلیل پر ہنستے ہوئے ۔۔
آپ لوگوں کا مذاق ہو جائے گا مگر ہو سکتا ہے کوئی ایسا مذاق سہہ نہ پائے اور کوئ اپنی جان سے چلا جائے تب اپ لوگ کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے ۔۔
اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل ہے کسی کا مذاق بنانا کسی کا مذاق اڑانا ۔۔
اتنی بڑی یونی میں آپ لوگ پڑھ رہے ہیں لیکن تمیز آپ لوگوں کو دو کوڑی کی بھی نہیں ہے۔ ۔
ایسا ویلکم کرتے ہیں آپ لوگ اپنی یونیورسٹی میں نئے آنے والے اسٹوڈنٹ کا ۔۔
اور تم ؟؟ رابعہ۔دوبارہ عفان کی طرف مڑی اور کہا۔ ۔
آئندہ کبھی کسی کے ساتھ ایسا مذاق کرتے ہوئے سوچ لینا کے تمہاری ماں بہنوں کے ساتھ بھی کوئی ایسا مذاق کر سکتا ہے یہ بول کے رابعہ کلاس سے باہر نکل گئ۔ ۔
مگر وہ یونیورسٹی سے باہر نہیں نکلی بلکہ دوڑتی ہوئی تھوڑی دور کلاس سے بنے پارک میں جا کے بیٹھ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی لمبی لمبی سانسیں لینے لگی ۔۔
بے دردی سے اسنے اپنے آنسو پونچھے اور کینٹین کا رخ کیا ۔۔
عفان جو رابعہ کے پیچھے کلاس سے نکلا تھا لیکن بہت آہستہ رفتار میں چلتا ہوا رابعہ کے پیچھے پارک میں پہنچا جس طرح اس نے رابعہ کو روتے ہوئے دیکھا اس کو اپنی حرکت پر بہت شرمندگی محسوس ہوئی عفان نے اس کا پیچھا کرنا شروع کیا ۔
رابعہ نے کینٹین سے پانی کی بوتل لی اور سب سے کونے والی ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئی اپنا سر اس نے ٹیبل پر رکھا اور ایک بار پھر رونا شروع کر دیا ۔۔۔
رابعہ کو روتا دیکھ ایک بار پھر عفان کو شرمندگی نے آن گھیرا۔
تب ہی اس کا ایک دوست ڈھونڈتا ہوا عفان کو کینٹین پہنچا اور اس کے پاس آکر بیٹھ گیا اور کہا ۔۔
کتنے لڑکے لڑکیوں کے ساتھ ہم نے ایسا مذاق کرا ہے یہ بھی ان میں سے ایک ہی چھوڑ تو دل پہ مت لے اسکی باتیں ۔۔
کینٹین میں بیٹھ کر رابعہ اپنے آپ کو کافی سنبھال چکی تھی مگر اس نے عائشہ کے ڈیپارٹمنٹ میں جاکے اس کو تنگ نہیں کرا۔
پہلے ہی وہ رابعہ کو کافی سنا چکی تھی ۔ جب اس نے یونی کے ماحول کو لے کر عائشہ سے تذکرہ کیا تھا ۔۔
رابعہ نے اپنے اپکو مضبوط کیا اور اٹھ کر اپنی کلاس لینے چلی گئ دوبارہ وہ اسی کلاس میں گئ جہاں اسکی تذلیل ہوئ تھی رابعہ خاموشی سے کلاس کے اندر داخل ہوئ اور بنا کسی پہ نظر ڈالے سیٹ پہ جاکے بیٹھ گئ۔
عفان بھی کلاس میں موجود تھا وہ رابعہ کے سامنے نہیں ایا۔۔
اگلے دن رابعہ جلدی یونی پہنچ گئ جیسی ہی کلاس میں اینٹر ہوئ بے تحاشہ اس پر گلاب کی پتیاں گری۔
بے ساختہ رابعہ نے نگاہ اٹھا کے دیکھا تو عفان اور اسکے وہ سارے دوست جو ریگنگ میں شامل تھے رابعہ کے اوپر پھول پھینک رہے تھے اور سوری بھی بول رہے تھے۔۔
رابعہ نے غصہ میں اپنے اوپر سے پھول کی۔پتیاں ہٹائ اور خاموشی سے اپنی جگہ پہ جاکے بیٹھ گئ اچانک اسکی نظر وہاں رکھے سوری کے کارڈ پہ پڑی رابعہ نے ایک نظر کارڈ کو دیکھا اور پھر گیٹ کے پاس کھڑے عفان کو مگر اسکے بعد جو رابعہ نے کارڈ کے ٹکڑے کرے عفان کو پکا یقین ہوگیا تھا کے اتنی اسانی سے سوری نہیں ملے گی۔۔۔۔
اب تو ایسا ہونے لگا جہاں جہاں رابعہ جاتی وہاں وہاں اسے کوئ نہ کوئ سوری کا کارڈ دیتا عائشہ کو بھی رابعہ سارا معملہ بتا چکی تھی عفان کے اس عمل سے عائشہ نے بھی رابعہ کو عفان کو معاف کرنے کو کہا مگر رابعہ کا غصہ اور عروج پہ چڑھنے لگا عفان کی اس حرکت کی وجہ سے پوری یونی اسکو عجیب نظروں سے دیکھنے لگی تھی۔۔۔
آج عائشہ کو اپنے گھر جانا تھا رابعہ اور عائشہ دونوں ہاسٹل میں روم میٹ تھی ایک ساتھ رہتی تھی عائشہ نے رابعہ کو بھی بولا وہ بھی دو دن کے لیے اپنے گھر ہو ائے اکیلے کمرے میں کیا کرے گی مگر اس نے کہا اس کا اسائینمنٹ باقی ہے جسے اسے ہر حال میں دو تین دن میں یونی میں جمع کروانا ہے ویسی ہی یونیورسٹی میں ایڈمیشن کے بعد میں نے کافی لیٹ کلاسس جوائن کی ہے کافی کام پینڈنگ ہے ابھی تو میں ویسے بھی نہیں جاسکتی تم جاو میں مینج کرلونگی۔۔۔
رابعہ کو اج لائبریری میں کافی ٹائم لگ گیا اسے وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوا وہ باہر نکلی تو اسے اندازہ ہوا یونی کا ٹائم بھی ختم ہونے والا ہے وہ جلدی جلدی چلنے لگی جب اچانک سامنے عفان اگیا۔۔
رابعہ اگر بروقت اپنے قدم نہیں روکتی تو یقینا عفان کے سینے سے ٹکرا جاتی۔۔
عفان کو دیکھتے ہی رابعہ کو اپنی تذلیل کا دن پھر یاد اگیا اور اس نے غصیلے لہجے میں کہا۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے میرا راستہ کیوں روکا؟
ہٹو سامنے سے میرے۔۔
یہ بول کے رابعہ جانے لگی جب عفان دوبارہ اسکے راستہ میں حائل ہوا اور کہا۔۔
رابعہ میں تم سے کئ بار اپنے مذاق کی معافی مانگ چکا ہو میں شرمندہ ہو اپنی غلطی پر رابعہ بس کر دو پلیز ۔۔
میں نے تمہیں کہا تھا کہ میرے سامنے نہیں آنا ۔۔
یہ بول کے رابعہ جانے لگی جب عفان نے غصے میں اپنی مٹھی بیھنچی اور اس کا ہاتھ پکڑ کے اس کو دیوار سے لگایا اور زور سے دیوار پر ہاتھ مار کر کہا ۔۔
سمجھتی کیا ہو خود کو تم۔
تمہیں پتا ہے عفان خان نے کبھی کسی سے معافی نہیں مانگی ۔۔
مانتا ہوں میری غلطی ہے میں نے مذاق کیا تھا نہیں کرنا چاہیے تھا کب سے معافی مانگ رہا ہوں تمہاری سمجھ میں نہیں آتی بات ۔
۔
رابعہ نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کے اس کو خود سے دور کیا اور کہاں کس نے کہا تم سے مجھ سے معافی مانگنے کو مجھے تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنی ہے آج کے بعد اگر میرے سامنے ائے تو یہ بات یاد رکھنا پرنسپل سے جاکے تمہاری شکایت کرونگی کہ تم مسلسل تنگ کر رہے ہو مجھے ۔۔۔
یہ بول کے رابعہ تھوڑی دور گئی ہو گی کے پیچھے سے عفان کی آواز آئی اگر تم نے مجھے معاف نہیں کیا تو میں اپنی جان دے دوں گا ۔۔
عفان کے کہنے پر رابعہ کے بڑھتے قدم دو منٹ کے لئے تھمے اور اس نے مڑ کے ایک نظر عفان کو غصہ سے گھور کے دیکھا اور کہا۔۔
میری بلا سے بھاڑ میں جاؤ ۔۔۔
اگلے دو دن رابعہ کا عفان سے سامنا نہیں ہوا اور نہ ہی رابعہ کو سوری والے کارڈ ملے اور نہ کوئ سوری کے پھول ملے رابعہ کو بھی سکون ہوا کے چلو جان چھوٹی ۔۔۔
تیسرے دن سر لیکچر سمجھا رہے تھے کہ اچانک انکے نمبر پے کال آئی کال سننے کے بعد سر نے کہا اگر کسی اسٹوڈینٹ کا بلڈ o نیگیٹو ہے تو آپ کی کلاس کے اسٹوڈنٹ عفان کو اس کی سخت ضرورت ہے ان کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ۔ ۔۔
اگر تم نے مجھے معاف نہیں کیا تو میں اپنی جان دے دوں گا ۔۔۔
رابعہ کے کانوں میں عفان کے تین دن پہلے کہے الفاظ اسکے کانوں میں گونجنے لگے اور اس کے ہاتھ سے پین چھوٹ کے نیچے گرگیا۔۔
جاری۔ ہے
