51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

3 سال بعد اج اللہ نے جنت کو بھی ماں بننے کی خوشخبری سنائ تھی ۔گھر میں ایک خوشی کا سماں تھا حمزہ تو مانو اللہ کا شکر ادا کرتے نہیں تھک رہا تھا۔
عمر کو اللہ نے تین سال پہلے ایک بیٹے سے نوازا تھا جسکا نام حمزہ نے زریاب رکھا۔
حمزہ اور جنت کی جان تھی زریاب میں نین نقش میں وہ حمزہ اور عمر کی مشاہبت تھا ۔اقراء کی گودھ اللہ نے ایک بار پھر بھری اور اس بار بھی اللہ نے اسے بیٹے سے نوازا جسکا نام عمر نے اپنا نام سے ملتا جلتا عمیر رکھا جنت کی خالی گودھ دیکھ سب اس کیلیے دعا کرتے تھے اقراء کے دونوں بچے تقریبا جنت کے زیرسائے تھے ۔۔
نومیر اور لائبہ کو اللہ نے ابکی بار ایک بیٹے سے نوازا جسکا نام انہوں نے احسان رکھا۔۔
فلحال یہ چاروں بچے اوپر تلے کے تھے مگر اب جب کے جنت کو خوشخبری ملی تو عمر کیساتھ ساتھ اقراء بسمہ ماریہ سب نے دعا کی کے جنت کو پیاری سے بیٹی ہو ۔
اللہ نے سب کی سن لی جنت کو ایک پیاری سے بیٹی ہوئ جسکا نام عمر نے دلنشین رکھا۔۔
ہاسپٹل میں سب ہی اس پیاری سی گڑیا کو دیکھنے آئے تھے جسکی آنکھوں کا کلر جس پہ گیا تھا جنت اسکا عکس اب اپنے دل و دماغ سے مٹا چکی تھی۔۔
سارے بچوں کی گودھ میں باری باری دلنشین کو دیا گیا سب کی ہی گودھ میں جاکے دلنشین مسکرا کے اپنے ڈمپل نمایا کررہی تھی مگر جیسی ہی اسے چار سال کے زریاب نے گودھ میں لیا دلنشین نے ڈھارے مار مار کے رونا شروع کردیا زریاب نے گھور کے روتی دلنشین کو روتے دیکھا اور حمزہ کو واپس کرکے جنت کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
“تائیو یہ بہت گندی ہے آئ ہیٹ ہر”
زریاب کی بات پہ سب نے قہقہ لگایا مگر کون جانتا تھا یہ نفرت اگے جاکے ان دونوں کی زندگیاں داو پہ لگانے والی تھی۔
اففف جنت تم چیٹنگ کرتی ہو یو آر چیٹر۔۔
9 سال کے زریاب نے کیرم کی گوٹوں کو دیکھ کے کہا ۔۔
ایک بازی سے زریاب گیم جیتنے والا تھا مگر دلنشین نے چیٹنگ سے اہم گوٹ غائب کردی۔
ہاوووو ہائے زریاب جب تم ہارنے والے ہوتے ہو ایسے ہی بولتے ہو۔۔
دلنشین کی زبان پانچ سال میں بھی کافی صاف تھی اسکی اسکول ٹیچر نے کھلے الفاظوں میں عمر کو کہہ دیا تھا یہ بچی بہت تیز دماغ کی مالک ہے اور اسکا ائ کیو لیول بھی کافی ہائ ہے ۔۔۔
جنت کی ساری زمیداری عمر پوری کرتا تھا تو ادھر عمیر اور جنت کی چھوٹے بہن بھائ جو دلنشین سے دو سال چھوٹے تھے تاشہ اور تیمور ۔۔وہ حمزہ کی اور اقراء کی۔جان تھے۔۔۔
عمیر اور تاشہ تم بتاو اس نے چیٹنگ کی ہے یہ نہیں۔۔
ہاں ہاں بتاو تم دونوں تاشہ اور عمیر دونوں معصومیت سے ان دونوں کو لڑتا دیکھ رہے تھے ۔جب دلنشین نے دیکھا کے زریاب کی پلہ بھاری ہے دلنشین نے اگے بڑھ کے کیرم الٹ دیا ۔۔زریاب کیساتھ ساتھ عمیر اور تاشہ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ گیا جبکہ تیمور نے صرف اتنا کہا۔۔
لو بتی اب تو تھیل لو تیرم۔۔(لو بھی اب کھیلو کیرم)۔۔
پھر ایسا کئ بار ہوا جو چیز دلنشین کو پسند اتی وہی زریاب کو کوئ کھیل ہوتا تو کبھی زریاب چینٹنگ کرکے کھیل ختم کردیتا تھا کبھی دلنشین ۔تاشہ ،عمیر، تیمور بس کٹھ پتلی بن کے دونوں طرف ناچتے رہتے۔۔
کئ بار دلنشین زریاب کے پیچھے حمزہ سے اور جنت سے ڈانٹ کھا چکی تھی۔۔ایک نفرت سے دلنشین کے دل میں زریاب کو لے کے پلنے لگی تھی
بسمہ پھپھو اپ بتائے میں کسی لگ رہی ہو؟؟
13 سال کی دلنشین ریڈ اور پرپل کلر کا شرارہ پہنے اپنے لمبے گولڈن بال پیچھے پشت پہ چھوڑے اتنی سی عمر میں بھی سب کو شوک کرنے کی ہمت رکھتی تھی۔۔
اج بسمہ کی منگنی تھی عمر اور حمزہ کے بزنس پارٹنر کے بیٹے سے شادی کرکے وہ امریکہ جانے والی تھی 2 مہینے کا وقت لیا تھا منگنی کے بعد شادی کا۔۔
ارے میری جان تو ہمیشہ پیاری لگتی ہے۔۔
پتہ ہے پھپو فلک اپی بھی یہ ہی بولتی ہے۔میری فیورٹ ہیں فلک اپی ۔۔
ہاں اب فلک اپی اتنی معصوم ہیں انہیں کیا پتہ فرق پچھل پیریوں اور انسانوں میں۔۔
زریاب اپنی پوری شان سے چلتا ہوا دلنشین کے سامنے اکے کھڑا ہوا۔
زریاب اب جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ چکا تھا اور دو دن بعد پولیس ٹرینگ کیلیے کوئٹہ جانے والا تھا۔۔۔
ہاں بھئ پھپھو بتائے زرا میں کیسا لگ رہا ہو۔زریاب نے اپنے سامنے کھڑی دلنشین کے ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے اسے اپنے سامنے سے ہٹایا اور کہا۔۔
ارے بس کرو تم دونوں پلیز ماریہ نے اندر اتے ہوئے کہا۔
جو بسمہ کو دیکھنے آئ تھی اور ان دونوں کو روبرو لڑتے دیکھ بول پڑی۔۔
ماریہ آنی یہ ہی چمکاڈر ہر جگہ اڑتا ہوا اجاتا ہے شکر ہے دو دن بعد دفعہ ہوجائے گا جان چھوٹے گی۔۔۔
اس سے پہلے زریاب جواب دیتا ایک دم جنت کی غصیلی آواز ابھری۔۔
زبان سنبھالو اپنی دلنشین یہ کس طرح بات کررہی ہو تم تمیز نہیں۔
جنت نے اچھی خاصی دلنشین کو سنا ڈالی زریاب جو اپنی ہنسی روک رہا تھا دلنشین کو ڈانٹ پڑنے کی۔وجہ سے ایک دم دلنشین کی آنسووں سے لبریز آنکھیں دیکھ کے اسکا دل پل بھر کیلیے تیز ڈھرکا۔۔
جاری ہے۔۔