51.1K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

صائمہ نے کچھ اگلا؟
کمشنر صاحب اور عفان صاحب کے جانے کے بعد عثمان نے مایا سے پوچھا۔۔۔
نہیں مانی مگر اج اسے اپنی زندگی اج انجوائے کرنے دو کل صبح اگر اس نے منہ نہیں کھولا تو موت سے تعارف کروا دینگے۔۔۔
مایا کی بات پہ مانی نے مسکرا کے نفی میں گردن ہلائ انکے ساتھ کھڑے احسان نے ایک ائیبرو اٹھا کے دلنشین کو دیکھا تو دوسری زریاب جو ان دونوں کی طرف پورا دیھان لگا کے کھڑا تھا پوچھ بیٹھا ۔
صائمہ کون ہے؟
زریاب کے کہنے پہ مایا نے کہا۔
امجد کی رکھیل کہہ لو یہ گرل فرینڈ اس وقت میرے ٹارچر سیل میں ہے ایک بار اپنی زبان کھول لے تو پھر امجد کو پکڑنا بہت اسان ہوجائے گا۔
تمہارا ٹارچر سیل بھی ہے؟
احسان کے شوکڈ انداز پہ عثمان کیساتھ ساتھ جہاں زریاب کا قہقہ گونجا وہی مایا مسکرائ اور کہا۔
ابھی تو مایا سے ملاقات ہوئ ہے اپکی ابھی دیکھتے جاؤ مایا کی دنیا ۔۔
مایا اور مانی نے ان دونوں کا اپنا ٹارچر سیل دیکھایا۔۔
احسان پولیس والا ہونے کے باوجود ان دونوں کا ٹارچر سیل دیکھ کے اچھا خاصا ہل گیا مگر زریاب نے بہت تجسس سے سب دیکھا اور کافی امپریس ہوا۔۔
ب
ایک بند کمرے کو دیکھ کے زریاب نے کہا۔
یہ کمرہ بند کیوں ہے؟
یہاں پہ صائمہ ہے اج اگر اس نے زبان کھول دی تو ٹھیک ورنہ موت سے ملن کروادینگے اسکا ۔
مایا کی بات پہ زریاب کے لب کھول کے مسکرائے اور اس نے مایا کو کے کان میں دھیرے سے کہا۔
میں پھر بھی اپنی محبت ازمانے میں ڈرونگا نہیں۔۔
زریاب کے کہنے پہ مایا اسی کے انداز میں زریاب کے کان کے پاس جھکی اور کہا۔
خوش فہمی پالنا اچھی بات ہے مگر کیا ہے نہ سامنے والے کو دیکھ کے انسان کو خوش فہمی پالنی چاہیے ایسا نہ ہو محبت تو دور کی بات نفرت سے ٹکراو ہوجائے۔۔
مایا کی بات سن زریاب نے گھور کے مایا کو دیکھا اس سے پہلے وہ اسے جواب دیتا احسان جو کسی سے کال پہ بات کررہا تھا انکی طرف ایا اور کہا۔
گھر سے کال ائ ہے فلک اپی کو اج کچھ لوگ دیکھنے ارہے ہیں ۔۔
جنت اپپو باقی سب وہاں پہچ گئے ہیں مجھے اور تمہیں بھی وہی پہنچنے کو کہا ہے ہاں مگر دلنشین میڈم کو ہسپتال سے لانے کی زمیداری تمہیں دی ہے احسان نے اپنی بات مکمل کرکے زریاب کی طرف اشارہ کیا۔۔
چلیے ڈاکٹرنی صاحبہ اپ کا بلاوا ایا ہے ۔۔
بلیک پینٹ شرٹ میں دلنشین عرف مایا زریاب کا دل کتنی دفعہ اتھل پتھل کرچکی تھی یہ کوئ زریاب سے پوچھے۔۔
احسان تم چلو میں اتی ہو زریاب کیساتھ چینج کرکے۔۔احسان کے جانے کے بعد عثمان اسی ٹارچر سیل میں اندر گرائونڈ موجود اپنے اپارٹمنٹ میں چلا گیا اور مایا چینچ کرنے ۔۔
5منٹ بعد دلنشین باہر ائ وائٹ شلوار قمیض پہ سادہ سا پنک کلر کاڈوپٹہ لیے انکھوں میں گلاسس لگائے ڈاکٹر کا کوٹ پہنے ۔
زریاب یہ دیکھ کے کافی حیران ہوا کے وہ منٹوں میں اپنی پہچان،اپنا حلیہ بدل چکی تھی ۔۔۔۔۔
حاشر اپنے ماں باپ کیساتھ فلک کے گھر کے ڈرائینگ روم میں بیٹھا تھا۔۔
حاشر اتنا خوبصورت تھا مگر اسکے ماں باپ کی کوئ جھلک نومیر حمزہ عمر کو حاشر میں نہیں دیکھی اسکی لائٹ براؤن انکھیں دیکھ حمزہ کئ بار چونکا تھا عمر بھی حاشر کی شکل دیکھ کے کافی ڈسٹرب تھا چاہ کربھی عمر کے دماغ میں نہیں ایا کے حاشر کی شکل کس میں ملتی ہے ۔۔
اسی دوران وہ تینوں بھی اچکے تھے احسان اور زریاب نے اپنا انٹروڈیوس حاشر سے کروایا تو وہ کافی ایمپریس ہوا مگر دلنشین چاہ کر بھی حاشر کیلیے اپنا گرین سگنل نہیں دے پائ جنت اقراء لائبہ تقریبا سارے ہی گھر والوں کو حاشر پسند ایا تھا حاشر کے والدین ایک مہینے بعد عمرے پہ جا رہے تھء جبھی 15 دن بعد کی ڈیٹ رکھی گئ فللک کی شادی کی ۔۔
نومیر کو حاشر رتی برابر پسند نہیں ایا اسکی چھٹی حسس اسے بار بار کہہ رہی تھی اس رشتہ کو منع کرنے کو۔۔
تھوڑی دیر بعد حاشر ڈیٹ فکس کرکے چلا گیا جب زارا ائ تو سب ہی بڑے کمروں میں تھے صرف ینگ جنریشن باہر تھی زارا نے فلک کو دیکھ کے دروازے کے پاس سے ہی اواز لگائ ۔۔
ا
لو بھئ چلے بھی گئے مہمان میرے لیے رکے بھی۔۔۔
ہاں تم تو کوئ بڑی شہزادی ہونہ جو تمہارے دیدار میں بیٹھتے فلک نے بھی سڑا ہوا منہ بناکے کہا۔۔
بولا تھا جلدی اجانا مگر تم تو ٹہری مہارانی اخر اینڈ ٹائم پہ ہی ائ نہ۔۔
فلک نے اپنا غصہ صحیح طریقے سے زارا پہ اتارا تو وہ فلک کے غصہ کی پرواہ کیے بغیر ارام سے صوفے پہ اکے بیٹھ گئ ۔
احسان اسے مسلسل گھور تھا زریاب جا چکا تھا اسلیے دلنشیںن بھی انکے درمیان بیٹھی تھی مگر اسکا دماغ حاشر پہ اٹکا ہوا تھا ۔۔
عمیر اور تاشہ تاشہ کی فرینڈ کی برتھ ڈے پارٹی میں گئے تھے ۔
اور تم جو مجھ پہ اتنا غصہ کررہی ہو میں نے تمہیں بتایا تھا نہ کے میری ڈیفینس والی خالہ ارہی ہیں اپنے بیٹے کیساتھ وہی جو لندن سے ایا ہے اپنی ڈاکٹری مکمل کرکے۔۔
زارا نےیہ بات احسان کو کافی جتاتی نظروں سے دیکھ کے کہی ۔۔
احسان جو زارا کو مزے سے اپنی انکھوں میں سما کے چائے پی رہا تھا زارا کی بات سن کے ایک دم ہڑبڑایا ۔۔
ارے ہاں کیا بول رہی تھی تمہاری خالہ۔۔
فلک کے پوچھنے پہ زارا نے ایک طنزیہ مسکراہٹ احسان کی طرف اچھالی اور کہا ۔
پتہ نہیں میں اور خرم تو سی ویو چلے گئے تھے اس نے اتے ہی مجھ سے کہا کے تم شرافت سے میرے ساتھ سی ویو چل رہی خبردار اگر منع کرا تو اور پھر ابو نے بھی اجازت دے دی تھی۔۔
زارا کی بات سن کے احسان کا غصہ اسمان کو چھونے لگا اسے وہی غصہ میں اپنا چائے کا کپ رکھا اور وہاں سے اٹھ گیا۔۔
زارا کی نظروں نے اسکا دور تک پیچھا پھر گردن جھٹک کر فلک سے حاشر کی تصویر دیکھنے کی ضد کرنے لگی ۔۔۔
فلک نے جنت سے بھی اپنے رویے کی معزرت کری جو جنت نے کھلے دل سے قبول کرلی۔سب ہی خوش تھے اس رشتہ سے سوائے نومیر اور دلنشین کے۔۔
خاص تو حاشر عمر اور حمزہ کو بھی نہیں لگا مگر وہ فلک کی خوشی خاطر خاموش تھے۔۔۔۔۔
نومیر ٹیرس پہ کھڑا تھا جب کسی کی موجودگی محسوس کرکے پیچھے مڑا تو فلک کو کھڑا پایا ۔
نومیر باپ تھا اسکا جانتا تھا اسکے انے کی وجہ مگر اس سے پہلے فلک بولتی نومیر بول پڑا۔۔
فلک اگر تم اپنے پاپا کی رائے حاشر کیلے بارے میں جاننے ائ ہو تو بیٹا میں صرف اتنا کہونگا میرے دل کیساتھ ساتھ دماغ بھی اس رشتے کیلیے راضی نہیں مجھے بار بار ایسا لگتا ہے حاشر جیسا ہے ویسے دیکھتا نہیں ۔
مگر پاپا مجھے برائ تو بتائے اس میں۔
فلک کا موڈ ایک دم خراب ہوگیا نومیر کی بات سن کے ۔۔۔
پاپا صاف بولے نہ کے حاشر کو دیکھ کے اپکی بولتی بند ہوگئ ۔
فلک زبان سنبھالو اپنی ۔۔
پیچھے سے اتی لائبہ کی اواز پہ فلک ایک دم چپ ہوئ۔۔
میں تمہارا دشمن نہیں ہو فلک ۔۔۔
تمہارا پاپا ہو تم سے ذیادہ میں نے دنیا دیکھی ہے حاشر سے تم محبت کرتی ہو باخدا مجھے تمہاری محبت سے کوئ اعتراض نہیں میں کوئ پرانے خیالات کا انسان نہیں تم سے زیادہ تجربہ ہے میرا میں نے بھی تمہاری ماما سے محبت کری ہے مجھے دیکھ کے تمہارے نانا نانی نے اس لیے ہاں نہیں کری تھی کے میں انکے گھر کا بچہ ہو یہ پھر میرے پاس بہت پیسہ ہے انہوں نے میری سچائ دیکھی میری انکھوں میں اپنی بیٹی کیلیے سچائ دیکھی محبت دیکھی ۔۔۔
کہتے ہیں انکھیں انسان کے دل کا حال بیان کرتی ہیں فلک حاشر کی انکھیں بلکل ویران ہیں جس شخص کو اسکا من پسند ساتھی ملنے والا ہو زندگی بھر کے ساتھی کے روپ میں اسکی انکھیں کی خوشی اسکی انکھوں کی چمک ہر انسان کو دیکھائ دیتی ہے مگر حاشر کی انکھیں ہر احساس سے خالی تھی فلک۔۔
یہ اتنا بڑا اپنے جو مجھے لیکچر دیا ہے یہ اس لیے نہ کیوں میں نے اپکی بہن کا لایا ہوا رشتہ ٹھکرایا ۔۔
پاپا بھلے اپ میرے باپ ہیں مگر اپ جو اتنا بول رہے ہیں صرف اس لیے کیونکہ اپکی محبت اپکے ساتھ ہے خود تو اپنے اپنی محبت کی شادی کرلی میری باری میں اپکو انکھیں یاد اگئ۔
فللک ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے لائبہ ایک بار اسکے منہ پہ تھپڑ مارتی نومیر نے اگے بڑھ کر اسکا ہاتھ پکڑ کے نفی میں گردن ہلائ اور کہا۔۔۔
جب اولاد کا قد ماں باپ کے قد سے اونچا ہوجائے نہ لائبہ پھر اولاد پر ہاتھ نہیں اٹھاتے ۔۔
صحیح ہے فلک تم نے حاشر سے شادی کرنی ہے کرو اب تمہیں کوئ منع نہں کرے گا نہ سمجھائے مگر یہ یاد رکھنا اس گھر کی دہلیز پار کرنے کے بعد تمہارا تمہارے باپ سے کوئ واسطہ نہیں۔۔
یہ کہتے ہوئے جہاں نومیر کی اواز رندھ گئ وہی نومیر کی بات سن کے لائبہ کے انسو گرنے لگے۔۔
مگر اگے سے جو فلک نے کہا وہ نومیر اور لائبہ کے زہن و گمان میں بھی نہیں تھا۔۔
مجھے حاشر مل رہا ہے پاپا مجھے اور کسی کے ساتھ کی ضرورت نہیں ۔
یہ کہہ کے فلک وہاں سے چلی گئ ۔
فلک کے جاتے ہی نومیر لائبہ کے گلے لگ کے بچوں کی طرح رونے لگا۔۔
کیوں بلایا ہے مجھے جانتے ہو نہ اس وقت انا مشکل ہوتا ہے اور اس وقت تو اور مشکل تھا انا کیونکہ گھر میں مہمان ائے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔
زارا جو احسان کے بلانے پہ اسکی چھت پہ ائ تھی اسکے روبرو اکے کہنے لگی۔۔
میری سامنے نہ زرا اپنی ٹون صحیح رکھا کرو۔احسان نےا سکا بازو ڈبوچتے ہوئے کہا۔
زارا نے تیزی سے اپنا بازو اسسے چھڑوایا اور کہا ۔
۔
کیوں تم ہو کون میرے ؟؟
زارا بھی اج احسان کا دماغ ٹھکانے لگانے کا ارادہ کرچکی تھی۔۔
اچھا جب میں کوئ نہیں ہو تو کیوں ائ ہو یہاں میرے بلانے پہ۔۔۔
اس لیے ائی ہو تاکے اج تمہیں میں ہر بات کلئر کردو کے اب میں تمہارے بلانے پہ اس طرح چوری چھپے نہیں اونگی اپنے ماں باپ کو دھوکا نہیں دونگی۔۔
اوہ اج 5 سال بعد تمہیں یاد ایا کے تم اپنے ماں باپ کو دھوکا دے رہی ہو ۔۔
احسان نے بھی طنز کے تیر چلائے۔۔
چلو دیر ائے درست ائے مگر تمہیں تو اج بھی خیال نہیں ایا کے کسی کو تم نے محبت کے نام پہ بیٹھایا ہوا ہے پانچ سالوں سے۔۔
یہ اچانک تمہیں محبت کی قیمت وصول کرنا جو یاد ارہی ہے سمجھ رہا ہو سب یہ تمہارے خالہ کے بیٹے کی وجہ سے ہے نہ جسکی ساتھ اج تم سی ویو گھوم کے ائ ہو شرم تو نہیں ائ تمہیں ۔۔
کیوں شرم کیسی جب تم سے ملنے ا سکتی ہو رات کی اس تنہائ میں تو وہ تو پھر سب کے سامنے سب کی اجازت سے لرم مجھے لے کر گیا تھا۔
کل کا ایا ہوا تمہارا مہمان میری پانچ سال کی محبت پہ بھاری پڑ گیا ۔۔
کہاں ہے محبت کونسی محبت کس محبت کی بات کررہے ہو ؟؟
کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کے تم مجھ سے محبت کرتے ہو بتاو مجھے ۔۔
میری ہاتھ میں کوئ انگھوٹی ارہی ہے نظر ۔
زارا نے اپنے ہاتھ اگے کیا۔۔
اچھا چلو نکاح نامہ ہوگا ہم دونوں کا تمہارے پاس یہ چلو وہ مٹھائ کھلاو جو ہماری بات پکی ہونے پہ تم نے باٹی۔۔
زارا کی کسی بات کا جواب احسان کے پاس نہیں تھا۔۔
اسے محبت نہیں حرام کاری کہتے ہیں احسان میں تمہارے پاس چھت پہ اتی ہو ہم دونوں ایک دوسرے سے فاصلہ پہ کھڑے ہوتے ہیں ہمارے درمیان کوئ غلط کام نہیں ہوتا یہ ہمارا اللہ جانتا ہے یہ دنیا والے نہیں۔۔۔
کسی دن اگر کسی نے دیکھ لیا تو میرے پاپا جیتے جی مرجائینگے۔۔
کبھی بھی خالہ میرے رشتے کی بات پاپا سے کرلینگی کیونکہ خرم مجھے پرپوز کرچکاہے۔۔
ایک بار اگر پاپا نے میری بات پکی کردی تو میں انکے فیصلہ کی لاج رکھونگی یہ یاد رکھنا احسان بھلے مجھے ان کیلے اپنی محبت کا گلا بھی گھوٹنا پڑے اب تم دیکھ لو تمہیں کیا کرنا ہے۔
یہ بول کے زارا چلی گئ اور ادھر احسان زارا کی باتوں سے کافی حد تک شرمندہ ہوچکا تھا۔۔
جاری ہے ۔