Mafi Season 2 By Maryam Khan Readelle50213 Episode 42
Rate this Novel
Episode 42
دلنشین کے بولنے پہ عمر نے کتاب سے نظریں ہٹا کے غور سے اسے دیکھا اور کہا۔۔
آئ ایم ناتھ انٹرسڈد ٹاکنگ تو یو۔۔۔
عمر کی بات پہ دلنشین کی آنکھوں میں آنسوؤں چمکنے لگے جیسے دیکھ کے عمر نے کتاب سائیڈ پہ رکھی اور سیدھا ہوکے روبرو دلنشیں کے بیٹھ گیا ۔
تم غلطی کرو تو تم سے ناراض بھی نہیں ہوسکتے فورا رونا شروع کر دیتی ہو واہ بھی واہ۔۔
تو میں سوری بولنے تو آئ ہوئ آپکو ۔۔
دلنشین تمہیں اندازہ ہے آج تم نے کیا کیا ہے بھابھی موت کے منہ تک پہنچ چکی تھی تم اتنی بدتمیز تو نہیں تھی۔۔۔؟
زریاب تمہیں نہیں پسند کوئ بھی ایشو تھا ؟مجھے بتاتی دلنشین مگر یو سب کے سامنے تمہیں اندازہ ہے اگر بھابھی کو کچھ ہوجاتا تو تم اپنے پاپا کو بھی کھو دیتی وہ دونوں دو جسم ایک جان ہیں ۔۔۔
آئ ایم سو سوری بڈی مجھے معاف کردیں مجھے اندازہ نہیں تھا کے ماما اتنی ہرٹ ہونگی آئ ایم سو سوری ۔۔۔
دلنشین عمر کے گلے لگ کے روتے روتے کہنے لگی۔
بڈی مجھے زریاب کے رشتہ پہ۔کوئ۔اعتراض نہیں قسم سے بس وہ ماما ۔۔
ابھی بات مکمل ہوتی کے دروازہ کھول کے زریاب اندر آیا دلنشین کو بلکل اگنور کرکے اس نے عمر سے کہا۔۔۔
پاپا حمزہ بڈی آپکو بلا رہے ہیں ۔۔۔
یہ بول کے زریاب جیسے آیا تھا ویسے چلا گیا۔۔
زریاب کا اگنور دلنشین کیساتھ ساتھ عمر بھی نوٹ کرچکا تھا۔۔
زریاب کے جاتے ہی دلنشین عمر نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔
عمر نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا ۔۔۔
یہ کیس تمہارا ہے اتنا تو حق بنتا ہے ناراض ہونے کا اور ایک اور بات مجھ سے زرہ برابر بھی امید نہیں رکھنا سوئیٹئ اوکے۔۔
عمر نے آخری جملہ دلنشیں کا گال تھپتھپا کے کہا۔۔
!!!!!!!!!!!!!!
ارے واہ مہناز تم نے تو بہت اچھے کباب بنائے ہیں ۔
مہناز اور رابعہ کچن میں تھے ۔
بونڈنگ تو دونوں میں شروع سے اچھی تھی ۔اسلیے آج بھی وہ دونوں پہلے جیسی تھی۔۔۔
پھپھو ابھی تو اپنے میرے ہاتھ کہ بریانی نہیں کھائ۔۔
تو پھر کب کھلا رہی ہو؟
کچن میں جو عثمان کی آواز گونجی مہناز جو رابعہ سے ابھی چہک چہک کے باتیں کررہی تھی ایک دم خاموش ہوگئ۔۔
رابعہ نے ایک نظر عثمان کو دیکھا اور پھر مہناز کو جو کچن سے بھاگنے کیلیے پر ٹول رہی تھی۔۔۔
مگر آج عثمان نے بھی اسکے روبرو آنے کا سوچا شاید دلنشین کی باتوں کا اثر تھا جس نے صاف صاف کہا تھا اب وہ مزید مہناز کی دلجوئی نہیں کرے گی کزن وہ تمہاری ہے میری نہیں۔
ایسا دلنشین نے اس لیے کہا تھا تاکے اس بار اس کے پیارے دوست ایک ہوجائے۔۔
ماما آپکو ممانی بلا رہی ہیں۔۔۔۔۔
اچھا ہاں انہیں مارکیٹ تک جانا تھا۔چلو تم دونوں باتیں کرو ۔۔
رابعہ کے جاتے ہی مہناز بھی کچن سے جانے لگی جب عثمان ایک دم اسکے آگے اگیا۔۔
راستہ چھوڑو میرا مان۔۔اگے کا لفظ مہناز کہتے کہتے رکی اور فورا عثمان کہا۔۔
مجھ سے بھاگتی کیوں ہو تم ؟
عثمان نے دھیرے دھیرے اسکی طرف بڑھتے ہوئے کہا ۔
میں کیوں بھاگو گی تم سے غلط فہمی ہے تمہاری۔۔۔
عثمان کو آگے بڑھتا دیکھ مہناز اور پیچھے ہوتی گئ اور سلپ سے لگ گئ۔۔
عثمان اسکے قریب آچکا تھا بہت قریب ۔۔
عثمان نے سلپ کے دونوں طرف ہاتھ رکھ کے اسکے جانے کے راستے فرار کردیے ۔
عثمان کے اتنے قربت پہ مہناز کی سانسیں اتھل پتھل ہونے لگی عثمان اسکی طرف جیسے ہی جھکنے لگا مہناز نے ڈر کے مارے فورا اپنی آنکھیں بند کرلی مہناز کی اس حرکت پہ عثمان کے لب مدت بعد دل کھول کے مسکرائے تھے ا اس نے مہناز کے پیچھے سے کباب اٹھایا اور مہناز سے پیچھے ہوتے ہوئے کہا۔۔
“ویسے کباب تو واقعی اچھے بنالیتی ہو”
عثمان کی آواز پہ مہناز نے آنکھیں کھولیں اور غصہ سے عثمان کو دیکھ کے کچن سے تقریبا بھاگتے ہوئے باہر نکلی۔۔۔
مہناز کے نکلتے ہی عثمان نے پورا کباب منہ میں رکھا اور کہا ۔
“ویسے یہ پاگل آج بھی جھلی ہے اور خوبصورت بھی”
!!!!!!!!!!!
ایک کام نہیں ہوتا تم سے جاؤ ڈھنگ کی چائے بنا کے لاو سر میں درد ہو رہا ہے میرے۔۔۔
زریاب نے ماسی کی اچھی خاصی درگت بنا ڈالی دلنشین اوپر کھڑی لانج میں ہورہا یہ سارا ڈرامہ دیکھ رہی تھی اچھے سے جانتی تھی وہ کے کسکا غصہ کس پہ اتر رہا تھا۔۔
دلنشین نے کچن میں آکے ماسی کو منع کیا اور خود چائے بنا کے زریاب کے کمرے میں لے گئ۔۔
زریاب جو احسان سے کال پہ بات کررہا تھا ۔دلنشین کو دیکھ کے پل بھر کیلیے چونکا ۔۔
کال رکھ کے اس نے بنا دلنشین کو دیکھے کہا۔۔
تمہیں زحمت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔
اسمیں زحمت کی کیا بات ہے ہم اچھے۔ دوست ہیں کزن بھی ہیں۔۔
دلنشین کی بات پہ زریاب نے اس گھور کے دیکھا اور کہا۔۔
دلنشین کم از کم میرے سامنے یہ اوور ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں دوست نہیں دشمن ہو تمہارا بچپن سے اور کزن بھی وہ کزن جو بچپن سے تمہارا حق چھینتے آیا ہو۔
زریاب ایسی بات نہیں ہے تم غلط سمجھ رہے ہو۔۔۔
اوہ رئیلی میں کتنا غلط ہو اس بات کا اندازہ مجھے ہوگیا ہے ایک ہفتہ پہلے کے کیسے میرے ساتھ خالی تعلق جوڑنے کی بات پہ تم نے اپنی ماں کو موت کے منہ تک پہنچا دیا۔۔
زریاب میں اس ٹوپک پہ بات کرنا نہیں چاہتی۔۔۔
یہ بول کے دلنشین جانے لگی جب زریاب نے ایک دم اسکا ہاتھ پکڑ کے اس دیوار سے لگا کے کہا ۔
کیا قصور ہے میرا دلنشین ۔۔
کیوں تمہیں مجھ سے اللہ واسطہ کا بیر ہے تم سے پہلے میں دنیا میں ایا تایو مجھے زیادہ چاہتی ہیں اسمیں میرا کیا قصور ۔۔
پاپا بھی تو تمہیں مجھ سے زیادہ چاہتے ہیں میں نے تو کوئ شکوہ نہیں کیا بلکہ الٹا تم سے بچپن سے محبت کرتا آیا ہو۔۔
دلنشین جو زریاب کی اس حرکت پہ ڈر گئ تھی وہ لڑکی جو ہزاروں لڑکوں کو ہزاروں مجرموں کی سروس لاتوں گھونسوں سے کرچکی تھی جسکے نام سے بڑے سے بڑا مجرم ڈرتا تھا آج وہ ایک لڑکے کی قربت سے ڈر گئ ۔
زریاب میںںںںںں۔می۔ری۔۔
چپ ایک دم چپ آج میری سنو۔۔
زریاب نے ایک دم اسکی لبوں پہ انگلی رکھ دی وہ دونوں قریب تھے دونوں ایک دم قریب۔۔۔
میری محبت نہیں دیکھتی تمہیں میری آنکھوں میں اپنا عکس نہیں دیکھتا تمہیں ۔؟؟
کیا برائ ہے مجھ میں بتاؤ مجھے میں وہ برائ ٹھیک کرلو گا اپنے اندر دلنشیں تم میری محبت کیساتھ ساتھ اب جنون بنتی جارہی ہو پلیز مجھے نہیں ٹھکراؤ ۔۔
دلنشین تو زریاب کے اظہار پہ ساکن رہ گئ تھی وہ بھی کسی محبت اور چاہت ہو سکتی ہے یہ تو کبھی اس نے نہیں سوچا تھا۔۔
میں تمہارے بنا ادھورا ہو جس دن تمہیں کسی اور کا دیکھا مرجاؤ گا دلنشین ۔۔۔
زریاب کے لہجہ ہکلانے لگا اور بولتے لب پھرپھڑانے لگے تھے دلنشین کو لگا جیسے وہ ابھی رونے لگے گا۔۔
دو منٹ تک زریاب دلنشین کو دیکھا رہا اور پھر کمرے سے باہر چلا گیا۔
زریاب کے جاتے ہی دلنشین نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھا جسکے ڈھرکنے کی آواز دلنشین کو باہر تک سنائ دے رہی تھی۔۔
دلنشین نے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کیا اور تیزی سے روم سے نکل۔کر بھاگی۔۔۔
جاری ہے
